Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17

گھر میں غازیان کی پسند کے مطابق ہر طرف غباروں سے سجاوٹ کی گئی تھی لاؤنج کو بہت خوبصورت طریقہ سے سجایا گیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ ایک کیک بھی رکھا گیا تھا ۔۔۔ اس دن تو اس کی سالگرہ منائی نہیں تھی تو آج چونکہ وہ گھر آرہا تھا تو آج ہی اس کی سالگرہ بھی منائی جا رہی تھی
غازیان گھر پہنچا تو سب اس کے استقبال کے لیے موجود تھے
سلیم صاحب ، غزالہ بیگم ، مصطفی، عائشہ ، مومنہ ، مریم ، ابراہیم ، جاوید ، فاروق، حامد صاحب ، مشال، آسیہ ، ارم بیگم ، ایمن ، زرنش، مناہل، عاکف، انعم، ردا سب موجود تھے گویا پورا گھر بھرا ہوا تھا
“ماشاءاللہ خوب رونق لگی ہوئی ہے یہاں ” غازیان گاڑی کے اترتے ہوئے بولا
“ہاں تو میرا بچہ آج اتنے دنوں بعد گھر آیا ہے۔۔۔ رونق تو لگنی تھی نا ” سلیم صاحب اگے ہو کر اس کے گلے لگے تھے
پھر سب باری باری غازیان سے ملے اور اندر لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئے تھے غازیان کو چونکہ زیادہ بیٹھنے سے منع کیا تھا تو وہ ٹو سیٹر صوفہ پہ ٹانگ لمبی کر کے بیٹھ گیا تھا
“ارے واہ اتنا اچھا سجایا ہے گھر کیا کوئی بچہ ہوا ہے گھر میں ؟ جو یوں غبارےےے۔۔۔۔۔ ” غازیان نے ہر طرف غباروں کو دیکھتے ہوئےکہا تھا
“ارے بر خودار!!! آپ کی سالگرہ منائی جا رہی ہے آج اس لیے یہ سجاوٹ ہوئی ہے۔۔۔ اور جہاں تک بچے کی بات ہے تو وہ آہی جائے گا کچھ عرصے میں انشاءاللہ ” سلیم صاحب نے آخری بات اس کے کان میں آہستہ سے کہا تھا لیکن پھر بھی لاؤنج میں بیٹھے سبھی نفوس سے ان کی یہ بات سنی تھی سب ہی اس بات پہ مسکرائے تھے
حرا نیلم لائبہ اور ایمن کچن میں تھیں اس لیے ان سب باتوں سے انجان تھیں
تھوڑی دیر بعد کیک لایا گیا تھا اور غازیان کے آگے ٹیبل پہ کیک رکھا پھر خوشی خوشی اس کیک کو کاٹا گیا تھا غازیان نے کاٹا ہوا پیس عائشہ بیگم کے آگے کیا تھا
“اسے کھلاؤ پہلے ” عائشہ بیگم نے غازیان کے ہاتھ کو پکڑ کر حرا کے آگے کیا تھا ۔۔۔۔ سب کی نظروں کو خود پہ محسوس کر کے اس نے جھجھکتے ہوئے غازیان کے ہاتھ سے کیک کھا لیا تھا۔۔۔
“تھوڑا سا مسکرا ہی دیں بھابھیی ” اسامہ نے کہا تو یک دم لاؤنج میں سب کے قہقہہ گونجے تھے ۔۔۔سب بہت خوش تھے اور سب بڑوں نے انہیں ہمیشہ ہنستا مسکراتا رہنے کی ڈھیر ساری دعائیں دی تھی
آرام کی غرض سے غازیان کو کمرے میں لے جایا گیا تھا چونکہ اس کا کمرہ اوپر تھا لیکن ٹانگ کی وجہ سے وہ اوپر نہیں جا سکتا تھا اس لیے نیچھے ارقم کا کمرہ غازیان اور حرا کے لیے سیٹ کر دیا گیا تھا جبکہ ارقم کو اوپر غازیان کے کمرے میں
” کمینے۔۔۔۔ میرا کمرہ بھی چھین لیا تو نے۔۔۔ بچے تو ٹھیک ہو ایک دفع۔۔۔ پھر دیکھیں ” ارقم اور اسامہ اسے کمرے تک چھوڑنے آئے تھے اور اسے بیڈ پہ لیٹاتے ہوئے ارقم نے غصے سےاسے کہا تھا
“اچھا اچھا کر لیں جو بھی کرنا ہوا۔۔۔ ابھی جا چھوڑ مجھے تھوڑی دیر اکیلا ۔۔۔ آرام کرنے دے مجھے ” غازیان نے کہا تو وہ دونوں کمرے سے باہر آگئے تھے جبکہ غازیان نے اپنی آنکھیں موندھ لی تھیں
رات ہو چکی تھی اسلیے سب کھانا کھا کر اپنے اپنے گھر چلے گئے تھے جبکہ عائشہ بیگم نے یخنی کا بول حرا کو تھمایا تھا
“جاؤ حرا بچے۔۔۔ جا کر یہ غازیان کو پلا دو پھر دوائی بھی دے دینا ۔۔۔۔”
“جی اچھا ” حرا نے ان کے ہاتھ سے ٹرئے لے تو لی تھی لیکن اس کی اندر کمرے میں جانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ کیسے سامنے کرتی اس کا۔۔۔ ہسپتال کی اور بات تھی لیکن اب گھر میں اسے کچھ جھجھک محسوس ہو رہی تھی رات بھی ہو رہی تھی اور اب کوئی اور چارہ نا تھا تو اسے لازمی اندر جانا ہی تھا
دروازہ ایک بار ناک کرتی وہ کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا غازیان سامنے بیڈ پہ آنکھیں موندھے لیٹا ہوا تھا اس کے اندر آنے پر است اٹھانے کا اشارہ کیا تھا وہ جلدی سے اسکی طرف بڑھی تھی
“تمہیں دروازہ ناک کر کے آنے کی ضرورت نہیں ہے ” غازیان ایک دم بولا تھا۔۔ حرا جو اس کے پاس آکھڑی ہوئی تھی غازیان کی بات سن کر اس کے ہاتھ کانپے تھے بمشکل اسے تھوڑا سہارا دیکر تکیوں کے سہارے بٹھایا تھا اتنے میں ہی اسکے پسینے چھوٹ گئے تھے ہسپتال میں تو یہ کام ارقم اسامہ کر دیتے تھے
“اسنے ٹرے اٹھائی تھی لیکن اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ غازیان سے مخفی نہیں رہی تھی بمشکل اسنے ہنسی روکی تھی
“تم کانپ کیوں رہی ہو یارر !!! تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گا میں ؟؟؟ چلو پلاؤ اب یخنی ڈر رو ایسے رہی ہو جیسے میں بندے کھاتا ہوں ” غازیان کی بات سن کر اس نے ایک لمبا سانس خارج کیا اور پھر اپنی نظریں جھکا لی اور یخنی پلاتی رہی۔۔۔ ایک بار بھی اس نے غازیان کی آنکھوں میں نہیں دیکھا تھا جبکہ غازیان کی نظریں اسی کے چہرے کا طواف کر رہی تھی۔۔۔
یخنی پلانے کے بعد اسے دوائی دی پھر ٹرے کچن میں رکھنے چلی گئی تھی جب واپس آئی تو کمرے میں ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ اسے کچھ مل جائے جس پہ وہ سو سکے لیکن اسے کمرے میں سوائے بیڈ کے اور کوئی جگہ سونے کے لیے نا ملی تھی۔۔ لیکن چونکہ غازیان بیڈ پہ موجود تھا اس کیے اسے عجیب لگا تھا بیڈ پہ سونا۔۔۔
حرا کو مسلسل ادھر ادھر دیکھتا پا کر وہ سمجھ چکا تھا کہ حرا کیا سوچ رہی تھی
“بات سنو بی بی اتنی معصوم اور یہ جو تم کم بولنے والی لگ رہئ ہو نا . اچھے سے جانتا ہوں تمہیں اسلیے پلیز اس طرح مت کرو ورنہ میری ہنسی نکل جائیگی ” غازیان نے معصوم سی شکل بنا کر اسکے اونچا اور زیادہ بولنے پہ چوٹ کی تھی جبکہ حرا اسے گھور کر رہ گئی تھی
سچ کہتے ہیں کچھ لوگوں کو واقعی عزت راس نہیں آتی . حرا نے جل کر کہا تھا وہ بمشکل کوشش کر رہی تھی کہ کم بولے اور اسکی عزت کرے لیکن غازی جی جان لگا کر اسکی یہ کوشش ناکام بنا رہا تھا
“اچھا تم نا ہی کرو میری عزت لیکن چلو یہاں تو آ جاؤ ۔۔۔ اب کیا پوری رات وہی کھڑے رہنے کا ارادہ ہے ؟؟” غازیان نے اسے پھر سے متوجہ کیا تو وہ بھی کچھوئے کی سی چال چلتی بیڈ کے کنارے پہ ٹک گئی تھی
“آرام سے سو جاؤ۔۔۔ ہسپتال میں بھی نہیں سوئی میں نہیں چاہتا تم میرا خیال رکھنے کی بجائے خود ہی بیمار پڑ جاءو پھر گھر والوں ست گالیاں کھائیں گے ہم دونوں ” غازیان نے شرارت سے کہا جبکہ حرا اسکی باتوں پہ مسکرا دی تھی دل میں ڈھیروں شکر ادا کیا تھا کہ کوئی تو ہے اسکی قدر کرنے والا غازیان نے ایک نظر اسے دیکھا تھا اور پھر اسے مسکراتے دیکھ کر خود بھی مسکرا کر آنکھیں موند لی تھیں
شادی سے پہلے تو اس نے کبھی ایسا نا سوچا تھا لیکن اب شادی کے بعد یہ اسے کیا ہو رہا تھا ۔۔۔ غازیان کی سمجھ سے باہر تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجا پلیز آجا یار صرف دو گھنٹے سویا ہوں اور 1 گھنٹے سے تمہاری منتیں کر رہا ہوں کہ آجا لیکن تم نے نا آنے کی قسم کھا رکھی ہے آجا نا پلیز …. رات کا 1 بج رہا تھا اور غازیان صاحب اپنی نیند کو منتیں کر رہے تھے کہ وہ آجائے لیکن نا جی نیند تو ختم ہی ہو گئی تھی اور وہ بھی سیدھا لیٹے لیٹے تھک گیا تھا
معاف کرنا بیوی لیکن کیا کروں کب سے خاموش ہوں اور تھک بھی گیا ہوں نا اور تم بھی تو دیکھو گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی ہو یہ بھی نہیں کہ پاس بیمار شوہر پڑا ہے اٹھ کر حال چال ہی پوچھ لوں اسلیے مجھے یہ کرنا پڑے گا . وہ بستر کے کونے پہ ٹکی حرا کو دیکھ کر بولا تھا اور شیطانی مسکراہٹ اسکے ہونٹوں پہ آئی تھی
چل غازی ہو جا شروع … خود کو ہی داد دی تھی
آئے اماں…… وہ زور سے چلایا تھا اور یہ غازی کی ایکٹنگ شروع
ہائے مر گیا اففف اتنے زور سے لات مار دی جیسے میں سڑک پی پڑی ہوئی پلاسٹک کی بوتل ہوں.. ہائےے حرا ہڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی پہلا خیال یہی آیا تھا کہ اسنے غازیان کو لات ماری اور غازی صاحب کے الفاظ سن کر اسکا شک یقین میں بدل گیا تھا
ہائے اماں میری ٹانگ مار دیا پہلے ہی ٹوٹی ہوئی تھی اور توڑ دی . کون سا بدلہ لیا ہے تم نے مجھ سے . اب کہا جاءوں میں اپنی ہی بیوی مارنے پہ تلی ہے کس کو بتاءوں اب میں. ہائے درد ہو را ہے اماں …. لوگ کیا کہیں گے بیوی نے شوہر کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ اور توڑ دی . اس کی آہوزاری مسلسل جاری تھی جبکہ حرا منہ پہ ہاتھ رکھے ڈبڈبائی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی جو مسلسل اونچا اونچا بول رہا تھا
م مج . پتا نہیں کیسے ہو گیا … غ غازی زیادہ درد ہو رہا ہے .. اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے
ہاں لات مار کر پوچھو زیادہ درد ہو رہا ہے … وہ اب کی بار زور سے بولا تھا تو حرا کو ڈر لگا تھا
م میں خالہ کو بلاتی ہوں. وہ روتے ہوئے کہتی باہر بھاگی تھی جبکہ غازی کی سٹی اب صحیح معنوں میں گم ہوئی تھی
ابے او رکو … کیسی بیوی ملی ہے اب اماں سے پٹوائے گی
اگلے دو منٹ میں وہ عائشہ اور مصطفی صاحب کیساتھ نیچے تھے
کیا ہوا غازی . کہاں درد ہو رہا ہے .. عائشہ بیگم نے جلدی سے اسکے قریب آتے ہوئے پوچھا تھا
کچھ نہیں اماں وہ میں تو بس ویسے ہی تنگ کر رہا تھا … غازیان نے سچ ہی بتا دیا تھا اب وہ اور کیا پریشان کرتا ان لوگوں کو
کیاا… تینوں کی آنکھئں حیرت سے کھلی تھی
یہ لڑکا میرے ہاتھوں سے ضائع ہو جائے گا آپ آپ ہی سمجھائیں اسکو . ایسے بچی کو تنگ کریگا . دیکھیں زرا وہ کتنا پریشان ہو گئی ہے اور اسکو رات کو ایک بجے مزاق سوجھ رہا ہے . عائشہ بیگم نے صحیح سخت سنائی تھی اور مصطفی صاحب کو کہا تھا
غازی … انہوں نے اسے گھورا تھا
بابا تھک گیا تھا نا آپ اب بٹھا دیں مجھے .. اسنے اتنی معصومیت سے منہ بسور کر کہا تھا کہ وہ اسے کچھ اور کہہ ہی نہیں سکے آگے بڑھ کر اسے بٹھایا اور اسکی ٹانگ کے نیچے تکیہ رکھا تھا
حرا بچے آپ پریشان نا ہو بلکہ ایسا کرو تم سو جاءو میں یہاں اسکے پاس بیٹھ جاتی ہوں. تھک گئی ہو. عائشہ بیگم نے اسے کہا تھا جو پریشان سی صورت لیے کھڑی تھی
ن نہئں خالہ آپ لوگ جائیں میں ان کے پاس ہوں .. آپ سوجائیں . اسنے دھیمی آواز میں کہا تھا جبکہ اسکے ان کہنے پہ غازی کی آنکھیں پوری سے بھی زیادہ کھل گئی تھی
چلو ٹھیک ہے کچھ نھی چاہیے ہو مجھے اٹھا دینا ٹھیک وہ حرا سے کہتے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے تھے جبکہ اب اسکا قہقہہ نکلا تھا
ان ….. ہہاہاہہاہاہاہاہاہاہاہ تم جب میری عزت کرتی ہو نا لگتا ہے کوئئ مجھے گدگدی کر کے ہنساتا ہے مجھے اتنی ہنسی آتی یے . غازیان نے ہنستے ہوئے کہا تھا لیکب حرا کی آنکھوں کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اسکی ہنسئ کو بریک لگا تھا
اوئے کیا ہوا کیوں رو رہی ہو. اچھا سوری وہ میں تھک گیا تھا لیٹے لیٹے تو مزاق کرلیا … اسنے اسے سمجھانا چاہا
یہ اچھا مزاق ہے جان نکل گئی تھی میری غازی آئندہ اگر ایسا مزاق کیا نا تو میں سچ میں دوسری ٹانگ توڑ دونگی . حرا نے صحیح غصے میں کہا تھا جبکہ غازیان کو ہنسی آئی تھی
حد ادب لڑکی تمہارا مجازی خدا ہوں میں… غازیان نے رعب دار آقاز میں کہا تھا لیکن پھر دونوں کا ہی قہقہہ نکلا تھا آدھی رات کو وہ دونوں جنات کی طرح ہنس رہے تھے پوری رات انکی باتیں کرتے ہوئے گزری تھی پھر کہیں پانج بجے جا کر وہ دونوں سوئے تھے
……………………
وہ صبح سے ہی کام پہ.لگی تھی عائشہ بیگم کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ ہر کام میں انکا ساتھ دے رہی تھی پہلے ناشتہ پھر صفائی اور پھر غازیان کے جاگنے کا انتظار . صاحب رات کو سو نہیں رہے تھے اور اب دس بج رہے تھے مردوں سے شرط لگا کر سو رہا تھا شاید
“حرا بچے جا کر غازیان کو جگاؤ پھر بےشک امی کے گھر سے گھوم آنا . اس نے دوا بھی تو لینی ہے نا …” یہ عائشہ بیگم کی آواز تھی جو کچن میں دال صاف کر رہی تھی اور یہ باہر عاکف کا یونیفارم استری کر رہی تھی . انکی بات سن کر سیڑھیاں اتر کر نیچے آئی تھی جہاں ارقم سامنے ہی بیٹھا تھا
“ہوں تو بھابھی آپکے شوہر نامدار کی آنکھ نہیں کھلی اب تک کہیں غصے میں کوئی ڈنڈا تو نہیں مار دیا ؟؟” اسکی زبان میں کھجلی ہوئی تھی اور حرا نے اسے سخت غصے سے دیکھا تھا
“نہیں دیور صاحب اسکو تو ڈنڈا نہیں مارا ہاں لیکن آپکو یہ شرف ضرور بخشا جا سکتا ہے اگر اپنا منہ بند نا کیا تم نے …” ادب سے کہتے کہتے آخر میں چیخی تھی لیکن بعد میں زبان دانتوں تلے دبائی تھی کہ حرا یہ سسرال ہے جبکہ ارقم نے اسکی حرکت دیکھ کر قہقہہ لگایا تھا جبکہ وہ اسے اب نظرانداز کرتی.کمرے میں داخل ہوئی تھی
لائٹ آن کرنے پر نظر سامنے اٹھی تھی وہ سیدھا لیٹا تھا لیکن نجانے کیوں حرا کو محسوس ہوا تھا سوتے میں بھی اسکے چہرے پہ تکلیف کے آثار تھے . کھڑکی سے پردے ہٹائے تھے اور اسکی طرف بڑھی تھی
“غازی ،، غازی اٹھو …” آہستہ سے اسے پکارا تھا لیکن بے سود وہ تو گہری نیند سویا تھا
“غازیان!!!” . کندھے سے زرا سا ہلایا تو وہ اسے گرم لگا تھا جلدی سے ہاتھ ماتھے پر رکھا
اسے تو سخت تیز بخار تھا غازی نے بھی کسمسا کر آنکھیں کھولی تھی شاید حرا کے ہاتھوں کی ٹھنڈک محسوس ہوئی تھی
“یہ تمہیں تو اتنا تیز بخار ہے ” وہ پریشانی سے بولی تھی گالوں کی رنگت بھی بخار کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی
“خالہ ، ارقم ” اسنے وہیں کھڑے ہی آواز لگائی تھی
“کیا ہوا ..؟؟ ” ارقم نے جلدی سے اندر داخل ہو کر پوچھا تھا
“یہ اسے اتنا بخار ہورہا ہے “اسنے پریشانی سے ارقم کو بتایا تھا اتنے میں عائشہ بیگم بھی کمرے میں داخل ہوئی تھی حرا کی بات سن کر وہ بھی غازیان کے قریب آئی تھی
“غازیان .. ” عائشہ بیگم نے بستر پہ اسکے قریب بیٹھتے ہوئے اسے پکارا تھا
“اماں بازو میں درد ہے ” اسنے نقاہت زدہ آواز میں کہا تھا
“اچھا اٹھو !!! تھوڑا کھا لو کچھ ڈاکٹر نے درد کی گولی دی تھی وہ کھا کر آرام آجائے گا . درد کی وجہ سے ہی بخار ہوا ہے … ” انہوں نے پیار اور نرمی سے اسکے بال سنوارتے ہوئے کہا تھا
“ارقم اٹھا کر بٹھاؤ اسے”. انہوں نے ارقم سے کہا تھا
اسکی بائیں ٹانگ اور دایاں بازو ٹوٹا تھا فلحال خود سے اٹھ کر بیٹھا نہیں جاتا تھا اس سے یہ کام زیادہ ارقم اور اسامہ ہی کرتے تھے
وہ اسے سہارا دیکر باتھروم تک لیکر گیا تھا خود اکیلے میں ارقم سے بھی سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ایک تو بخار کی وجہ سے بلکل ہی اسکی جان نکل رہی تھی
“حرا زرا مدد کرو یار ” باتھروم کے دروازے سے نکلتے ہوئے ارقم نے اسے کہا تھا . وہ دونوں غازیان کو سنبھالتے بیڈ تک لیکر آئے تھے اور اتنے میں ہی حرا کے پسینے چھوٹ گئے تھے اور تب تک عائشہ بیگم بھی اسکے لیے سوپ چھوڑ کر گئی تھی
تولیے سے پہلے اسکا چہرہ صاف کیا تھا جو ارقم نے اسکا منہ.کم اور شرٹ زیادہ دھوئی تھی پھر سوپ لیکر اسکے پاس بیٹھی تھی ارقم شاید اسامہ کو لینے گیا تھا
“ویسے ایک بات کہوں؟؟؟” غازیان نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا جو مصروف سے انداز میں نہایت سگھڑ بیویوں کی طرح اسے سوپ پلانے میں مصروف تھی
“ہاں. کہو.؟” مصروف انداز میں جواب دیا گیا تھا
“یار تم اب اتنی بھی بری نہیں ہو مطلب یہ ایسے سگھڑ بیوی والے روپ میں تو ایک دممممممممممممم………”
“کیا ایک دم ..؟؟” وہ آدھی بات کہہ کر چپ ہوا تو حرا نے اسے کہا تھا کہ وہ بات مکمل کرے
“خالہ شینو لگ رہی ہو … ہاہہاہاہاہا.” اسنے شرارت سے کہتے ہوئے خود ہی قہقہہ لگایا تھا جبکہ حرا کی بھی نا چاہتے ہوئے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی
“ڈرامے باز !!!” حرا نے صرف اتنا ہی کہا تھا پھر اسے دوا کھلا کر کمرے سے باہر آگئی تھی کیونکہ اب دو نوابزادے جو آگئے تھے اگر وہ وہاں بیٹھتی تو فضول ہی اسکا دماغ کھاتے
——————————————-
وہ کھانا کھا کر عائشہ بیگم کو بتا کر آئی تھی کی تھوڑی دیر امی کے گھر جارہی ہوں ویسے بھی شادی کے بعد وہ گھر نہیں گئی تھی وجہ غازیان کا ایکسیڈنٹ .
دروازہ ایمن نے کھولا تھا اور اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگی تھی
وہ چلتی ہوئی اندر داخل ہوئی لیکن لاؤنج میں قدم رکھتے ہی اسکی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی سامنے ہی حسن صاحب صوفے پر بیٹھے تھے اسے دیکھ کر انکے ماتھے پہ شکنیں پڑی تھی
“اب کیا لینے آئی ہو یہاں پہ ؟؟؟” وہ یکدم ہی غصے میں کھڑے ہوئے تھے
“حسن کیا ہو گیا یے آپ بیٹھیں ۔۔۔۔۔۔ حرا تم اندر جاؤ میں آتی ہوں ” آسیہ بیگم یکدم بولی تھیں ایمن بھی کھڑی ہو گئی تھی
“آسیہ اگر مجھ سے تعلق رکھنا چاہتی ہو تو اسکو ابھی کے ابھی کہو کہ یہاں سے نکل جائے ورنہ میں دوبارہ اپنی شکل تک نہیں دکھاؤں گا میں اب بھی صرف اپنی بیٹیوں کی خاطر یہاں آیا ہوں اسکو بولو کہ نکلے یہاں سے ورنہ اچھا نہیں ہو گا .میں اسکی شکل تک نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔” انہوں نے دھمکی دی تھی جبکہ حرا نے حیرت سے انہیں دیکھا تھا تو کیا وہ اب اسکو اپنی بیٹی کہنا بھی پسند نہیں کرتے تھے
وہ انہیں قدموں واپس مڑی تھی کوئی جواب نہیں دیا تھا اسنے آخر کیا کہتی آج وہ . کچھ بھی نہیں کچھ بچا ہی نہیں تھا پیچھے سے اسے آسیہ بیگم اور ایمن کے پکارنے کی آوازیں آئی تھیں لیکن وہ رکی نہیں تھی
اپنے گھر کے سامنے پہنچ کر تیز تیز سانس لیے تھے اور اپنی آنکھیں صاف کر کے خود کو نارمل کرنا چاہا تھا
دروازے پہ بیل دی تو عاکف نے دروازہ کھولا تھا شکر کہ عائشہ بیگم نہیں تھیں ورنہ وہ یکدم اسکی صورت دیکھ کر پہچان لیتی
“ارے بھابھی!!! آپ اتنی جلدی آگئیں امی تو کہہ رہی تھی کہ آپ آرام سے آئیں گی . اسی لیے میں جاگ رہا تھا باقی سب تو اپنے کمروں میں چلے گئے ” عاکف نے دروازہ بند کرتے ہوئے اسے بتایا تھا
“ہاں عاکف وہ بھی سب سونے لگے تھے نا اب تم بھی سو جاؤ” . وہ بمشکل کہتے ہوئے کمرے کی طرف بڑھی تھی جبکہ عاکف سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیا تھا
جلدی سے اندر داخل ہو کر کمرہ بند کیا تھا غازی جو آنکھوں پہ بازو رکھے ٹیک لگا کر لیٹا ہوا تھا دروازے کی آواز سن.کر بازو ہٹا کر اسے دیکھا تھا ابھی اسے کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ وہ جلدی سے باتھروم کی طرف بڑھی تھی
کافی دیر تک جب وہ باہر نا آئی تو مجبوراً غازیان کو اسے بلانا پڑا تھا
“حرا کیا ساری رات ادھر ہی گزارنے کا ارادہ ہے یا باہر آؤ گی ؟؟” اسنے شرارت سے اسے کہا تھا جب وہ دروازہ کھول کر باہر آئی تھی
“کیا ہوا تم تو گھر گئی تھی تو کیا خالہ نے گھر سے نکال دیا کہ جاؤ بھئی اب اپنے گھر ہمارا پیچھا چھوڑو ” اسنے مزاق میں کہا تھا لیکن یہ بات حرا کے دل پہ لگی تھی آنسو جو روکے تھے پھر بہہ نکلے . لیکن خاموش ہی رہی تھی
نہیں بات کرنا چاہ رہی تھی وہ کسی سے بھی دل میں عجیب ہی درد تھا
وہ خاموشی سے دوسری طرف آکر لیٹ گئی تھی غازی کی طرف اسکی پشت تھی . اب غازیان کو بھی صحیح معنوں میں پریشانی ہوئی تھی
“حرا سب ٹھیک ہے؟؟؟” اسنے ایک دفعہ پھر نرمی سے اسے پکارا تھا جبکہ اس نرمی پہ حرا کی سسکیاں تیز ہوئی تھی
“حرا کیا ہوا ہے اٹھو ادھر مڑو میری طرف ” وہ یکدم بے چین ہوا تھا جبکہ حرا ٹس سے مس نا ہوئی تھی
“حرا کیا چاہتی ہو اسطرح اٹھوں اب میں. کیا کہہ رہا ہوں اٹھو اور ادھر مڑو میری طرف ” ابکی بار وہ غصے سے بولا تھا کب سے بس وہ اسکے ہچکیوں سے ہلتے وجود کو ہی دیکھ رہا تھا اسکی بات سن کر اسنے جلدی سے آنسو صاف کیے تھے اور اٹھ کر بیٹھی تھی
“غازیان وہ .. ا. ابو ..” اس سے بات ہی مکمل نہیں ہوئی تھی سسکیوں کے بیچ میں بس وہ اتنا ہی کہہ پائی تھی
“کیا ہو انکل کو .؟؟” اسنے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا اور ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا تھا
“وہ وہ کہتے ہیں کہ……. وہ میری .. شکل نہیں… دیک…دیکھنا.چاہتے.. غازی کیوں… می.میں.نے کیا …کیا ہے .. وہ وہ .. ہمیشہ…ایسے.کر.کرتے ہی…وہ کہتے ہیں..کہ.وہ.اپنی..بی.بیٹیوں..س.سے ملنے آئے ہیں…. کیا..میں.ن.نہیں.ہوں.انکی..بیٹی ..؟؟” بمشکل روتے ہوئے اسنے اپنی بات مکمل کی تھی جسے سن.کر اب غازیان کو حسن صاحب پہ غصہ آیا تھا ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے پاس کیا تھا اور اسکے آنسو صاف کیے تھے پھر اسکے بال پیچھے کیے تھے
“تم آئندہ وہاں نہیں جاؤ گی۔۔۔۔۔ حرا میں یہ کبھی برداشت نہیں کروں گا کہ کوئی میری بیوی کی بے عزتی کرے “. وہ سختی سے بولا تھا جبکہ حرا کو اور رونا آیا تھا . نرمی سے اسنے حرا کا سر اپنے کندھے پہ رکھا تھا اور اسکے بال سہلائے تھے
“چپ کرو یار . رو رو کر آنکھیں سجا لو گی نا تو تمہارے سسر صاحب میرے کان کھینچیں گے کہ میں نے انکی بیٹی کو کچھ کہا ہے چپ کرو بس… ” اسنے اسے خود سے الگ کر کے تھوڑا سختی سے کہا تھا جبکہ وہ روتے میں مسکرائی تھی جبکہ غازی کا دل فدا ہوا تھا اس ادا پہ
کافی دیر اسے سمجھانے کے بعد وہ کہی جا کر چپ ہوئی تھی
“اچھا اب مہربانی کرو مجھے لٹا دو تھک.گیا ہوں میں. ” غازی نے مسکینوں والی شکل بنا کر کہا تھا تو وہ اسے لٹا کر خود بھی بیڈ کے کنارے پہ ٹک گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ماہ بعد
“نیلم …. نیلم !!!” مشال بیگم نیلم کو آوازیں دیتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی تھیں اور کمرے کا دروازہ کھولتے ہی انہیں نیلم سامنے کھڑی نظر آئی تھی
کالے رنگ کی گھٹنوں تک آتی شارٹ شرٹ ساتھ کالی پٹیالہ شلوار پہنے ۔۔۔ گلے میں لال جالی دار ڈوپٹہ ڈالے۔۔۔۔ آنکھوں میں کاجل جبکہ ہونٹوں پہ لال لیپ سٹک لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو سنوار رہی تھی
“شاباش !!! ابھی تک تیار ہو رہی ہو ۔۔۔ اور منان کب سے تمہارا انتظار کر رہا ہے گاڑی میں ۔۔۔۔ دیر ہو جائے گی جلدی کرو ” مشال بیگم نے اندر آتے ہوئے کہا
“جی بس بس امی ہو گیا ” نیلم جلدی جلدی بال بناتے ہوئے بولی
“یہ ادھر دیکھو زرہ ۔۔۔۔۔۔ یہ لال لیپ سٹک کس خوشی میں لگائی ہے؟؟؟ ہلکا کرو اسے ورنہ ابھی کہ ابھی صاف کرو ۔۔۔۔ ” مشال بیگم نے اس کو اوپر سے نیچیے تک دیکھا تھا اور پھر لیپ سٹک پہ چوٹ کی تھی
“امی کیا ہے۔۔۔ لگانے دیں نا ۔۔۔ اتنی اچھی تو لگ رہی ہے اور یہ فیشن بھی ہے “
“دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ۔۔۔۔ صاف کرو اسے فوراً۔۔۔۔۔ ورنہ میں خود کرو گی ” وہ غصے سے بولی تو نیلم نے بھی منہ بسورتے ہوئے لیپ سٹک ہلکی کر دی تھی
“بس اب ٹھیک ہے ؟؟؟ ” نیلم چڑ کہ بولی
“ہاں ٹھیک ہے چلو جاؤ اب جلدی سے۔۔۔ بھائی انتظار کر رہا ہے ” مشال بیگم کے کہتے ہی نیلم نے لال کھوسے پہنے جو کہ بیڈ کے پاس پڑے تھے اور بیڈ سے اپنا بیگ اٹھاتی ہوئی مشال بیگم کو اللہ حافظ کہتی ہوئی گھر سے باہر چلی گئی…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *