Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05

ہارون اور زارون دونوں نے نویں جماعت کے امتحان دیے ہوئے تھے اور انہوں نے گھر میں کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ آج ان کا رزلٹ آنا ہے ۔۔۔۔ سائستہ بیگم تو باہر شوپینگ پہ چلی گئی اور حسن صاحب بھی اپنی دکان پہ گئے ہوئے تھے اور گھر میں اس وقت دادی ، ہارون اور زارون تھے
حسن صاحب کی کپڑوں کی دکان تھی اور جب سے ان کے بیٹے آئے تھے تب سے ان کا کاروبار ایسا بڑھا کہ ان کی اب تین دکانیں ہو گئی تھی
گھر میں ہارون اور زارون دونوں لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ دادی جو کچن میں جانے کے لیے اپنے کمرے سے باہر نکلی تھی ان دونوں کی ساری باتیں سن لی تھی ۔
“یار زارون!!! امی کو کیسے بتائیں گے کہ ہم فیل ہو گئے ہیں !!” ہارون نے زارون سے کہا جو کہ موبائل پہ نا جانے کیا کر رہا تھا.۔۔۔ اس کی بات پہ ایک دم بولا
“ارے کچھ نہیں ہوتا ہم لڑکے ہیں پھر سے پڑھ کر پیپر دے دیں گے اس میں ٹینشن والی کیا بات ہے اور جہاں تک گھر کی بات ہے تو تو فکر مت کر کوئی کچھ نہیں کہے گا ہمیں۔۔۔ بتائیں گے تو نا ” زارون نے مسکراتے ہوئے بولا
“بد تمیزوں تم دونوں فیل ہو گئے ہو اور بتایا بھی نہیں گھر میں کسی کو ،،، ہمارے لاڈ پیار نے بلکل بگاڑ دیا ہے تم دونوں کو۔۔۔۔ زرہ شرم نہیں آئی ؟؟؟ آنے دو حسن کو بتاتی ہوں اسے میں ” دادی غصے سے بولی
“بس کریں دادی آپ کی سنتا ہی کون ہے اس گھر میں ؟؟؟” زارون بھی غصے سے بولا
زارون کی یہ کہنے کی دیر تھی کہ دادی غصے سے آگے بڑھی اور زارون کے منہ پہ ایک چانٹا دے مارا
سائستہ بیگم جو کہ گھر میں داخل ہو رہی تھی انہوں نے صرف اپنی ساس کو چانٹا مارتے ہوئے دیکھا اور یہ منظر دیکھتے ہی وہ بھڑک پڑی
“ماں جی !!!! آپ کی ہمت بھی کیسے ہوئی میرے بیٹے پہ ہاتھ اٹھانے کی ؟؟؟؟ کیسے کر سکتی ہیں آپ یہ ؟؟؟؟ کون سا بدلا لیا ہے آپ نے ہم سے ۔۔۔۔۔۔ پوتا چاہیے تھا نا آپ کو ؟؟؟ ایک نہیں بلکہ دو دو پوتے دیے اور اب آپ یہ کر رہی ہیں ان کے ساتھ” سائستہ بیگم نے تو کوئی لحاظ نہیں کیا تھا ان کا اور صحیح کھری کھری سنائی تھی انہیں اور وہ بلکل خاموش سب سنتی رہی کیونکہ وہ سب سچ ہی تو کہ رہی تھی۔۔۔۔۔ سب ان کے لاڈ پیار کا ہی تو نتیجہ تھا۔۔۔۔۔
“کمرے میں چلی جائیں اب آپ ” سائستہ دو ٹوک الفاظ میں کہتی اپنے بچے کی طرف آئی جس نے رو رو کر اپنا برا حال کر دیا تھا
اور غزالہ بیگم سست قدم اٹھاتی کمرے میں آ گئی تھیں. اپنی پوتیوں اور بہو کی ہر ایک بات انکو یاد آتی تھی وہ تو انکے سامنے اونچی آواز میں بات تک نا کرتی تھیں اور نہ ہی بیٹیوں کو کرنے دیتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے آٹھ بجے تھے اور شینو کی انٹری ہوئی اسامہ کے گھر جہاں ابراہیم صاحب اور مریم بیگم چائے پی رہے تھے جبکہ اسامہ حسبِ معمول ابھی تک سویا ہوا تھا
شینو صبح اٹھتے ہی اسامہ کی طرف آئی تھی رات والا قصہ انہیں بتانے کیونکہ یہ پوری رات نہیں سوئی تھی کہ کب صبح ہو اور وہ اسامہ اور باقیوں کے گھروں میں جا کر ان کی حرکتیں بتائیں آخر پیٹ میں سخت مڑور جو تھا جو کہ فساد ڈالے بنا کہاں جانا تھا ۔۔۔۔۔۔ پھپھے کٹنی جو ٹھہری
“اللہ خیر صبح صبح آگئیں یہ!!!! ضرور کوئی بات پتہ چلی ہو گی انہیں جو کہ پورے محلے کو بتائے بغیر ان کو ہضم نہیں ہونی ” ابراہیم صاحب اپنی بیگم کو بولے تو وہ ان کی بات پہ ہنس دی
“ارے ارے تم دونوں یہاں بیٹھے مزے سے چائے پی رہے ہو۔۔۔ اپنے بچے کا کوئی ہوش ہے کہ نہیں ؟؟؟” شینو بیگم بولی
“ارے اب کیا کر دیا اسامہ نے ؟؟؟” مریم بیگم نے کہا
“توبہ توبہ ہن کی دساں تنو مریم !!!! تیرا پتر تے تیرے ہتھوں نکل گیا جے !!!” شینو بولی
“ارے ہوا کیا ہے بتائیں تو “
“وہ نا کل رات کو میری آنکھ کھلی تو پانی پینے اٹھی تو باہر دیکھا کہ اسامہ اور نیلم دونوں اکیلے بیٹھے باتیں کر رہے تھے اور ایک ساتھ ایک چارپائی پہ بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ توبہ توبہ زرہ شرم نا آئی دونوں کو ” شینو بیگم نے ادھا سچ اور ادھا جھوٹ بتایا جو کہ ان کی عادت تھی اور سب ان کی اس عادت کے بارے میں جانتے تھے
“ہو ہائے !!! اٹھ لینے دو زرہ اس میسنے کو دیکھتی ہوں میں اسے کمینہ نا ہووے تے !!! ادی راتی بار بیٹھا رہنا وے ۔۔۔۔۔۔ لو جی تک لو ہنن ابراہیم صاحب اے منڈا ساڈے ہتھوں نکل گیا جے میں دس ری یاں …” مریم بیگم نے انکی ہاں میں ہاں ملائی تھی
“چلو میں چلنی آں ” شینو آگ لگانے آئی تھی اور اس کے مطابق آگ لگ چکی تھی تو وہ بھی اب اپنا کام کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
“ارے ایسے کیسے بہن !! چائے تو پیتی جائیں ” ابراہیم صاحب بولے
“ارے نہیں شکریہ بھائی صاحب اب میں چلوں گی ۔۔۔۔ مجھے زرا ضروری کام ہے وہ تو بس میں نے سوچا کہ تم.لوگوں کو بتا دوں بچے کا … آج کل کے حالات بھی تو ٹھیک نہیں ہیں اور پھر اسامہ تو میرا اپنا بچہ ہے ” انہوں نے جھوٹی ہمدردی ظاہر کی تھی اور مریم بیگم نے زور و شور سے سر ہلایا تھا جیسے انکی ہر بات سو فیصد سچ ہو
“سچ کہہ رہی ہو شینو .. تمہارا بہت شکریہ تم آئی اس کے کرتوت بتانے ورنہ ہمیں کہاں پتہ چلنے دینا تھا اس کم بخت نے ۔۔۔۔۔ بس میں تو اسامہ پہ اب پکے پہرے دوں گی تم فکر مت کرو … انہوں نے شینو کے دل کئ بات کی تو وہ بھی اٹھ کر چلی گئی تو مریم بیگم نے چہرے سے مصنوعی غصہ ہٹایا اور قہقہہ لگا کر ہنسی تھی
ان کی اس حرکت پہ ابراہیم صاحب کا بھی قہقہہ نکلا
“ویسے آپ آیکٹینگ اچھی کر لیتی ہیِں “
“بس کبھی غرور نہیں کیا ” اور پھر دونوں کے قہقہہ اس گھر میں گونجے
“ویسے اگر یہ بات سچ ہوئی تو ؟؟؟ “
“آپ فکر نا کریں میں اسامہ سے بات کر لوں گی یقینً ایسا نہیں ہوا ہو گا ۔۔۔۔ سارے بچے اکٹھے ہی ہوتے ہیں ہر وقت اسے تو عادت ہے لگائی بجھائی کی “
“ہممم” ابراہیم صاحب کچھ سوچتے ہوئے بولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“امی میں پاس ہو گئی !!!!” ردا چہکتے ہوئے ارم بیگم کے گلے لگی اور انہیں اپنے نمبر بتائے
“ارے واہ مبارک ہو !!!! اور زرنش ؟؟؟ اس کا کیا رزلٹ آیا ؟؟؟ انعم نے ردا سے پوچھا ۔۔۔ زرنش اور ردا دونوں نے نویں جماعت کے پیپرز دیے تھے اور اب اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی تھی
“جی آپی وہ بھی پاس ہے اچھے نمبروں سے ” ردا پھر انعم کے گلے لگی
“واہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے بغیر ؟؟؟؟ ایسی بھی کیا بات ہے کہ گلے لگے جا رہا ہے ؟؟؟” لائبہ جو صبح سے نیلم کے گھر تھی اب گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولی
“تمہارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے !!!” ارم بیگم سختی سے بولی
“ہیں ؟؟؟ اب کیا کر دیا میں نے ؟؟” لائبہ کو سمجھ نا آئی کہ یہ اچانک کیا ہوا ہے گھر میں
“ارے آپی میں پاس ہو گئی وہ بھی اچھے نمبروں سے !!!!!!” ردا اسے کہتی ہوئی اس کے گلے لگی تو لائبہ کو سمجھ آئی کہ اصل ماجرہ کیا ہے
“او اچھا مبارک ہو ” لائبہ مسکراتے ہوئے بولی
“آپی آپ خوش نہیں ہو ؟؟” ردا نے اسے دیکھ کر کہا
“نہیں خوش ہوں میری گڑیا !!” لائبہ ہلکا سا مسکرائی اور ردا کے گال پہ پیار کیا
“بس رہنے دو تم تو ۔۔۔۔ چھوٹی بہن کی بھی خوشی میں خوش نہیں ہوئی تم ۔۔۔۔ تم سے زیادہ نمبر لیے ہیں اس نے اور تم اس دن صرف پاس ہو کر لڈیاں ڈال رہی تھی ” ارم بیگم چڑ کر بولی تو ردا اور انعم امی کی اس بات پہ مسکرائی
“اور ہاں یہ لوفریاں چھوڑوں اور جاؤ آسیہ کی طرف جا کر سلائی سیکھو ” ارم بیگم اسے دو ٹوک الفاظ میں کہتی کچن میں چلی گئیں
“امی آپ لوگ کون سے جنم کا بدلہ لے رہے ہیں مجھ سے ؟؟؟ میں نے نہیں سیکھنی کوئی سلائی کڑھائی ۔۔۔۔۔ پاس تو ہو گئی ہوں نا کون سا فیل ہوئی ہوں جو اس طرح کر رہے ہیں آپ لوگ اور ہر کسی کا اپنا دماغ ہوتا ہے اچھی بات ہے ردا کے اچھے نمبر آئے ہیں اب میں سر نہیں پھاڑ سکتی اپنا ” لائبہ روہانسی ہوکر بولی اور فاروق صاحب جو ابھی ابھی گھر آئے تھے اس کی بات پہ چونکے
“تو بیٹا سر پھاڑنے کو تو کہا بھی نہیں ہے کسی نے لیکن اچھی یونی میں اڈمیشن کے لیے نا اچھے نمبر بھی چاہیے ہوتے ہیں اور اچھا خاصا پڑھ کر انٹری ٹیسٹ دینا پڑتا ہے جو کہ آپ کی بس کی بات نہیں ہے !!!!” فاروق صاحب نے اس کی طرف دیکھا اور بمشکل اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بولے
“ابوووووو آپ بھی اب ایسے کریں گے میرے ساتھ ” لائبہ روتے ہوئے بولی تو فاروق صاحب کہاں اپنی بیٹیوں کی آنکھ میں آنسو دیکھ سکتے تھے فوراً اس کے پاس آئے اور اسے گلے سے لگایا
“ارے ارے مزاق میں کہا ہے میں نے۔۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے میری بیٹی یونی جا کر ہی دم لے گی اور اس کے لیے بیٹا اب آپ کو بہت اچھی تیاری کرنی ہو گی اور خوب اچھے سے پڑھنا ہو گا ٹھیک ہے ؟؟؟” فاروق صاحب اسے پچکارتے ہوئے بولے تو لائبہ بھی خوشی سے مسکرانے لگی
“ارے ایسے کیسے فاروق صاحب ” ارم بیگم نے احتجاج کرنا چاہا
“کچھ نہیں ہوتا بیگم !!!! میری بیٹی ہے مجھے پتا ہے پڑھ لے گی اور دیکھنا اس کا اڈمیشن بھی ہو جائے گا “
“ہاں وہ بھی پاسینگ مارکس میں !!!” ردا اور انعم جو کچن کے دروازے کے پاس کھڑی تھی دونون ایک ساتھ بولی تو سب کے اکٹھے قہقہہ گونجے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوئےےےےے اٹھ نا کمینے ” ارقم جو نا جانے کب سے غازیان کے سر پہ کھڑا اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا اب اکتا گیا تھا
“کیا ہے ؟؟؟ میری نیند کے دشمن کیوں ہو سب ؟؟؟؟” غازیان نیند سے بھری آواز میں بولا
“یار اٹھ نا پلیز !!!!” ارقم اب مرجھا کر بولا اور غازی کے ساتھ ہی بیڈ پہ بیٹھ گیا
“کیا کروں اٹھ کر ؟؟؟” غازیان نے کہا
“اوے تو نے رات کو کیا آئڈیا سوچا تھا ؟؟؟؟ہمارے ابا کیسے مانیں گئیں یونی اڈمیشن کے لیے ؟؟؟ یار اٹھ نااااا ورنہ ابھی نیچھے سے آواز آجانی ہے کہ چلو دکان پہ ۔۔۔۔۔ میں نہیں جانا چاہتا یار !!!” ارقم کی صحیح رونے والی حالت ہوئی وی تھی اور اس کی بات سے غازیان کو یاد آیا کہ اس نے رات کو جو سوچا تھا اب وہ کام جلد سے جلد کرنا تھا تو غازیان فوراً اٹھ کر بیٹھا اور فون پہ کسی کا نمبر ملانے لگا
“تو کسے فون کر رہا ہے ؟؟؟” ارقم حیران ہوا
دوسری طرف سے شاید کال پک کر لی گئی تھی اور اب غازیان نے فون کو سپیکر پہ ڈالا
“السلام علیکم !!! کیسا ہے میرا یارررر” غازیان نے چہکتے ہوئے بولا تو ارقم بھی مسکرا اٹھا ۔۔۔
“وعلیکم السلام !!! میں ٹھیک ہوں اپنی سناؤ” دوسری طرف سے آواز آئی
“ہمارے بہت برے حال ہیں شہزارے !!!” ارقم نے کہا
“ہا ہا ہا ہاں پتہ چلا ہے مجھے مر مر کے پاس ہوئے ہو سارے ” دوسری طرف سے قہقہہ گونجا
“یار ہماری مدد کر نا آکر ۔۔۔۔ ہمیں دکان پہ نہیں بیٹھنا بلکہ یونی جانا ہے تو آپ آ کر سفارش کر دو نا پلیزززززز !!!!” غازیان معصومیت سے بولا
“میرا آنا مشکل ہے یار ۔۔۔۔۔ پتہ تو ہے تم دونوں کو ۔۔۔۔ اور یہ تیسر نالائق کہاں ہے ؟؟؟؟ بڑی بات ہے آج اس کے بغیر مجھے فون کیا !!!”
“ہاں بس اس کا بھی ہمارے جیسا ہی حال ہے۔۔۔۔ شہزادے آجا نا پلیز ورنہ ہم تینوں کا آپ کو پتہ ہے کیا ہوگا ” ارقم منہ بنا کر بیٹھا
“تھوڑا مشکل ہے لیکن دیکھتا ہوں ” دوسری طرف سے آواز آئی اور پھر تھوڑی بہت ادھر ادھر کی باتیں کر کے فون رکھ دیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سلام مشال بہن !!” اور یہ ہوئی شینو کی انٹری نیلم کے گھر
“وعلیکم السلام !! کیسی ہیں ؟؟؟ بڑے دنوں بعد چکر لگایا ” مشال بیگم جو لاؤنج میں بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھی اب ان کی طرف متوجہ ہوئی
“میں ٹھیک ہوں لیکن لگتا ہے کہ تم ٹھیک نہیں ہو !!!” شینو صوفہ پہ بیٹھتے ہوئے بولی
“ارے کیوں ایسا بھی کیا ہو گیا آپ کے سامنے بیٹھی ہوئی ہوں بلکل صحیح” مشال تو اس بات پہ پریشان ہی ہو گئی تھی
“ارے اگر تم صحیح ہو تو اپنی بیٹی کو بھی ٹھیک کرو نا ۔۔۔۔ توبہ توبہ آج کل تو یہ بہت غلط کاموں میں پڑی ہوئی ہے ۔۔۔۔ نظر رکھا کرو اس پہ جوان جہاں ہے کچھ الٹا سیدھا کر دیا تو کیا منہ دکھاؤ گی دنیا کو !!!!” شینو نے صحیح آگ لگانا چاہی تھی اور ان کی اس بات سے مشال بیگم کو حیرانگی ہوئی
“کیااااااا ؟؟؟ ارے بہن تم نے کسی اور کو دیکھ لیا ہو گا نیلم ایسی نہیں ہے !!!” مشال بیگم نے کہا
“ارے اللہ جھوٹ نا بولوائے !!! تم بے شک جا کر اسامہ سے پوچھ لو ۔۔۔۔ نیلم ادھی رات کو اسی کے ساتھ ہی تو بیٹھی ہوئی تھی تن تنہا۔۔۔۔۔!!!” اور یہ کہتے ہی وہ چل پڑی جبکہ مشال بیگم تو سکتے میں چلی گئی تھی انہیں کچھ سمجھ نا آئی کہ کب شینو اٹھ کر گئی ۔۔۔۔۔ ان کا سکتہ تو تب ٹوٹا جب منان لاؤنج میں آیا اور ان کو کھوئے ہوئے پایا تو ان کے پاس صوفہ پہ آکر بیٹھا تھا اور ان کو کندھوں سے پکڑ کر ہلایا
“کہاں کھوئی ہوئی ہیں امی؟؟؟ کب سے آوازیں دے رہا ہوں !!! اور ابھی گھر میں کون آیا ہوا تھا ؟؟؟ ” منان نے کہا
“کوئی نہیں …. یہ نیلم کہاں ہے ؟؟؟” مشال بیگم نے اس سے پوچھا تو منان کو ایک سیکنڈ نا لگا یہ سمجھنے میں کہ ضرور شینو آنٹی آئی ہوں گی تبھی امی نیلم کا پوچھ رہی کیونکہ انہوں نے غصے سے پوچھا
“پتہ نہیں امی !!! یہی کہی ہو گی !! کیوں ؟؟
“کچھ نہیں بس ایسے ہی “
“امی سچ سچ بتائیں نا کیا بات ہے ؟؟ ابھی کیا شینو آنٹی آئی ہوئی تھی ؟؟منان نے اپنی سوچ کی تصیح چاہی
“ہاں اور اس نے ناااا ……..” انہوں نے بات ادھوری چھوڑی اور کھڑی ہوئی اور اپنا رخ نیلم کے کمرے کی جانب کیا
” چلو جی ۔۔۔ مطلب وہ اپنا کام کر گئی !!”
“کیا مطلب ؟؟” مشال بیگم نا سمجھی سے بولی
“مطلب یہ کہ امی آپ آنٹی کی باتوں کو سیریس نا لیا کریں ۔۔۔۔ ان کا کام صرف گھر گھر جا کر آگ لگانا ہوتا ہے اور کچھ نہیں. ۔۔۔ اور آپ کو بھی لازمی جھوٹ ہی کہ کر گئی ہوں گی !!!!” منان نے کہا تو وہ بس حیرت سے اسے دیکھے گئی
“لیکن منان انہوں نے کہا کہ نیلم آدھی رات کو اسامہ کے ساتھ اکیلی باہر بیٹھی تھی ” مشال بیگم نے اسے کہا تو وہ ہنس دیا
“بس یہی کہا ؟؟؟”
“تم ہنس کیوں رہا ہے ؟؟؟ تمہیں پتا ہے یہ غیرت کی بات ہے اگر میری برادری میں کسی کو یہ بات پتا چلی تو تھو تھو ہو گی اور تمہاری بہن کے بارے میں بات ہو رہی ہے ” حامد صاحب نے ان کی باتیں سن لی تھیں تو آگ بگولا ہوئے اور کہا
“ابو۔۔۔۔ جھوٹ کہ رہی ہیں وہ۔۔ رات کو وہ دونوں ہی صرف باہر نہیں تھے بلکہ میں بھی تھا وہاں اور باقی سب بھی تھے۔۔۔۔ لائبہ حرا غازیان اور ارقم !!۔۔۔۔ شینو آنٹی نے آپ کو جھوٹ کہا ہے ان کی بات نا سنیں !!!” منان دو ٹوک الفاظ میں بولا تو ان دونوں کے بھی اعصاب ڈھیلے پڑے
“اووو اچھا اچھا پھر ٹھیک ہے !!! لیکن یہ اس شینو کو سمجھاؤ یہ حرکت ہمارے گھر آکر نا کرے . پٹھان ہیں ہم اپنی بیٹیوں کے بارے میں ایسی بات نہیں سنیں گے ” حامد صاحب کی بات پہ مشال اور منان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا …. ایک تو انکے اندر کا پٹھان جلدی جاگ جاتا تھا۔۔۔ تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ نیلم کمرے سے باہر آئی اور منان کو ابو کے پاس بیٹھا دیکھ اسے اشارہ کیا کہ وہ بات شروع کرے
منان نے نیلم کا اشارہ سمجھ کر اور ابو کا موڈ صحیح دیکھ کر بات کا آغاز کیا
” ابو ۔۔۔۔۔ ایک بات کرنی ہے آپ سے “
“ہاں کہو !!” حامد صاحب جو چائے پی رہے تھے کپ سے آخری گھونٹ لے کر بولے اور خالی کپ سامنے پڑے ٹیبل پہ رکھا
“ابو میں چاہتا ہوں کہ نیلم کا اڈمیشن میں اپنی ہی یونی میں کروا دوں ۔۔۔۔ اس طرح آسانی رہے گی نا آرام سے آنا جانا بھی ہم دونوں کر لیا کریں گے ” منان نے ڈرتے ڈرتے بات کی
” بلکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔ اب نیلم نہیں پڑھے گی اب صرف اس کی شادی ہو گی۔۔۔ شادی کے بعد اپنے شوہر کی مرضی لے اور پڑھے جتنا مرضی پڑھنا ہے اسے۔۔۔۔۔ شاید تب اچھے نمبر لے کے پاس ہوجائیں ورنہ یہاں تو ۔۔۔۔۔ ۔ ” انہوں نے نیلم کی طرف دیکھا اور بات ادھوری چھوڑی
“کیاااااا ؟؟؟ ابو اب بس بھی کر دیں ۔۔۔ پاس تو ہو گئی ہوں نا میں فیل تو نہیں ہوئی نا کہ آپ میری شادی کر دیں گے!!!” نیلم روہانسی ہو کر بولی
“بس اب مجھے کچھ نہیں سننا ۔۔۔۔ میں نے ایک رشتہ دیکھا ہے تمہارا کل لڑکا آئے گا تمہیں دیکھنے ۔۔۔۔ویسے بھی ہمارے خاندان میں تم سب سے پڑھی لکھی لڑکی ہو .. چپ کر کے شادی کے لیے ہاں کر دینا مجھے کوئی تماشا نہیں چاہیے یہاں اور ہاں یہ یونی شونی بھول جاؤ !!!” حامد صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں کہا اور گھر سے باہر چلے گئے
جبکہ وہ تینوں حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے
“یہ رشتہ کہاں سے آگیا بیچ میں ؟؟؟” منان حیرانگی سے بولا
“پتہ نہیں ہو گا کوئی ان کی برادری کا پٹھان !!!” مشال بیگم کی یہ کہنی کی دیر تھی کہ نیلم اپنے کمرے کی طرف بھاگی ۔۔۔۔ آنسو اس کی آنکھوں سے بہ نکلے تھے
……………….
آسیہ بیگم اپنی بیٹی کی کامیابی پہ بہت خوش تھیں کہ چلو زرنش بھی خیر سے اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی تھی۔۔۔ انہوں نے حسن صاحب کو فون کر کے بتانا چاہا تھا تاکہ وہ بھی اپنی بیٹی کی خوشی میں خوش ہوتے لیکن یہ کہاں ممکن تھا لیکن اپنی بچیوں کی خاطر آسیہ بیگم نے حسن صاحب کو فون کر ہی دیا
“السلام علیکم حسن کیسے ہیں ؟؟؟” آسیہ نے کہا تو حسن صاحب نے مصروف انداز میں جلدی جلدی ان کے سوال کا جواب دیا
“ہاں ٹھیک ہوں میں !!! زرا مصروف ہوں جلدی بولو کیا کام ہے ؟؟؟” حسن صاحب روکھے انداز سے بولے
“وہ آپ کو بتانا تھا کہ ہماری رزنش کا رزلٹ آگیا ہے ماشاءاللہ بہت اچھے نمبروں سے پاس ہوئی ہے ” آسیہ بیگم خوشی خوشی بولی
“کیا نویں کا رزلٹ آگیا واہ۔۔۔۔ اچھا میں تم سے کچھ دیر میں بات کرتا ہوں ” حسن صاحب نے گرم جوشی سے فون بند کیا اور گھر میں شائستہ بیگم کو کال کی
جبکہ آسیہ نے بغور فون کو دیکھا کہ کب یہ شخص اپنی بیٹیوں کی خوشی میں خوش ہو گا۔۔۔ سوچتے ہوئے ہی انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کیے اور کمرے سے باہر چلی گئی جہاں سب بچیاں بیٹھی ہنسی مزاق میں لگی ہوئی تھی
حسن نے شائستہ کو کال کی اور بغیر اس کی سنے خود بولنا شروع ہو گئے
“ہاں شائستہ تم نے بتایا ہی نہیں کہ آج ہمارے بیٹوں کا رزلٹ تھا …….” حسن صاحب کی بات ابھی مکمل بھی نا ہوئی تھی کہ شائستہ بیگم نے ان کی بات کاٹی اور جو انہوں نے سنا تھا حسن صاحب کو تیش دلانے کے لیے کافی تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار اب بتا بھی دو کیا مسئلہ ہے ایسا جو مجھے صبح سے یہاں بیٹھایا ہوا ہے ” اسامہ کو ان دونوں نے صبح ہی اپنے گھر بلا لیا تھا لیکن اسے وجہ نہیں بتائی تھی اور وہ اب اکتا گیا تھا
تینوں نے اپنے اپنے ابا کو کوئی بہانا کر دیا تھا جس کی وجہ سے آج وہ تینوں ہی دکان پہ نہیں گئے تھے اور اب اس وقت وہ تینوں اپنی محفل جمائے غازیان کے کمرے میں بیٹھے تھے
“ارے میری جان صبر کر صبر !!!!” ارقم بولا تو اسامہ نے اپنا سر پیٹا
“یار میرے بھائی پلیز بتا دے نا کیا مسلہ ہے کوئی آ رہا ہے کیا ؟؟؟ یا کوئی بات ہوئی ہے ؟؟” اسامہ نے ان سے پوچھنا چاہا تو ان دونوں کو بھی اب اس پہ ترس آیا تھا اور غازی نے ارقم کو دیکھا
” بتا دیتے ہیں بچارے کو …کہیں اس غم سے مر ہی نا جائے بچارا ” ارقم نے اسامہ کی حالت دیکھتے ہوئے بولا
“یار اب بتا بھی دو ایسا کون سا گناہ کیا ہے میں نے جو تم دونوں یوں میرے سر پہ کھڑے ہو ۔۔۔۔” اسامہ جھنجھلا کہ بولا کیونکہ کب سے غازیان اور ارقم اس کے پاس کھڑے کمرے میں چکر لگاتے تو کبھی اسامہ کے سامنے کھڑے ہو جاتے
” گناہ تو کیا ہے ۔۔۔۔ اور وہ بھی صرف تو نے نہیں بلکہ ہم سب نے۔۔۔۔ اور اسی گناہ کی سزا سے بچنے کے لیے ہم نے ۔۔۔۔۔۔۔ شہزارہ سلیم کو بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔” غازیان سنجیدہ ہو کر بولا لیکن اسامہ کو حیرت ہوئی
“کیااااااا وہ آ رہا ہے ؟؟؟؟؟؟ سچی ی ی ؟؟ یا ہووووو اب آئے گا مزہ ہ ہ !!!” اسامہ تو جیسے دنیا میں واپس آگیا تھا اس ایک خبر نے اسے لڈیاں ڈالنے پہ مجبور کر دیا تھا اور اب غازیان کے کمرے کا یہ سماں تھا کہ وہ تینوں خوشی سے اب کمرے میں ناچ رہے تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *