Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01
یہ ہسپتال کے کوریڈور کا منظر تھا جہاں وہ تینوں اپنی ننھی نگاہیں دروازے کی طرف مرکوز کر کے بیٹھی تھیں. وہ نہیں جانتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے بس انہیں اتنا بتایا گیا تھا کہ ان.کی ماں انکا بھائی لیکر آئے گی
“آپی ہماری بہن نہیں ہو گی کیا …؟؟” 5 سالہ بہن نے اپنی 7 سالہ بڑی بہن سے سوال کیا تو سب سے چھوٹی بہن نے بھی اشتیاق سے دونوں بہنوں کو دیکھا جو صرف 4 سال کی تھی۔۔۔۔۔ پاس بیٹھی انکی دادی کے کانوں میں ان کی آواز پڑی تو چہرے کے تاثرات بگڑے تھے
“کیا اول فول بول رہی ہو لڑکیوں پہلے تم تین منہوس بہت ہو . خبر دار کچھ پٹھا سیدھا بولا تو ….. ” دادی نے جھڑک کر انکو چپ کرا دیا تھا
“ارے اماں کیوں خون جلا رہی ہے بیٹا ہی ہو گا میرا تو فکر مت کر …. ” بچیوں کے باپ نے اپنی ماں کو تسلی دی جب ڈاکٹر دروازہ کھول کر باہر نکلی تو وہ دونوں اسکی طرف بڑھے
“مبارک.ہو بیٹی ہوئی ہے … !!”
باپ کو لگا تھا کہ شاید اسکے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہو اسنے نا سمجھی سے ڈاکٹر کی طرف دیکھا جیسے ڈاکٹر نے کوئی غلط بات کہہ دی ہو
“ڈاکٹر صاحبہ آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے . ہمارا بیٹا ہے …” باپ نے جیسے ڈاکٹر کو سمجھانے کئ کوشش کی
“جی نہیں اللہ نے آپکو پیاری سی بیٹی سے نوازا ہے آپ جا کر دیکھ سکتے ہیں دونوں ماں بیٹی ٹھیک ہیں… ” ڈاکٹر نے اپنی طرف سے انہیں خوشئ کی خبر سنائی تھئ لیکن ان ماں بیٹے کے چہرے پر دنیا جہاں کی بےزاری کوفت اور غصہ امڈ آیا تھا
“پھر پیدا کر دیا نا ایک اور عزاب .. دیکھ لیا میں نا تمہیں کہتی تھی کہ دوسری شادی کر لو اب بھگتو ایک اور منحوس کو ….. لڑکیاں ہی پیدا کرے گی یہ بس …..” دادی نے زبان کے نشتر چلائے تھے جبکہ ماں نے بے بسی سے آنکھیں موندی تھی . یہ عجیب لوگ تھے پتا نہیں انکو کیوں لگتا ہے یہ سب عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے
“اماں اس میں میری کیا غلطی نا… ” دھیمی سے آواز سے بولنا چاہا تھا
“تو منہ بند رکھ اپنا- ” دادی غصے سے بولی
“اچھا اماں تو بھی شور نا کر … اسپتال ہے گھر چل کر بات کرتے ہیں نا . اور یہ ساری اسی کی غلطی ہے کہہ رہی تھی کہ ڈاکٹر نے بیٹا بتایا ہے . ” شوہر بھی غصے سے بولا تھا جبکہ تینوں بہنیں اس چھوٹی سی پری کو دیکھ رہی تھیں جس کے دنیا میں آنے سے اسکا باپ تک خوش نہیں تھا …
پھر تھوڑی دیر بعد ہی وہ لوگ ہسپتال سے گھر کیلیے نکلے تھے دادی اور باپ نے تو بچی کو دیکھنا تک گوارا نہیں کیا تھا لیکن ماں کیلیے تو وہ اسکے جگر کا ٹکڑا تھی جیسے باقی تینوں تھی
————————-
شام کا وقت تھا اور وہ تینوں اس وقت نیلم کے گھر بیٹھی ہوئی تھیں اور شدید بور ہو رہی تھی۔۔ موسم بھی خوشگوار تھا اور اس موسم میں بھی ان تینوں کی کوئی شرارت نا ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا تھا۔۔ ان تینوں کا روز کا معمول تھا کہ کبھی ایک کے گھر ہوتیں تو کبھی دوسری کے ۔۔۔ بچپن سے ساتھ تھیں ایک ہی محلے میں رہنے کے ساتھ ساتھ سکول اور کالج میں بھی اکٹھی تھی ۔۔۔۔۔ ہر وقت تینوں ساتھ ہوتی آخر گھر جو تینوں کے جڑے ہوئے تھے
ایک طرف لائبہ کا گھر تھا اور دوسری طرف حرا کا اور بیچ میں نیلم کا گھر تھا
اور اس وقت وہ تینوں نیلم کے گھر صحن میں خاموش بیٹھی اپنی بوریت کا علاج ڈھونڈ رہی تھیں تینوں ایک دوسرے کو مسلسل دیکھنے کے بعد اب اکتائی تھیں
“تم لوگ ایک ڈھنگ کا آئیڈیا نہیں دے سکتے . سب کچھ سوچنا میرا ٹھیکا ہے کیا ..مجھے بتاؤ نا میں بہت بور ہو رہی ہوں. ” نیلم سوچ سوچ کر اب اکتائی تھی
“ہاہ ہاہ ہم بھی تو بور ہو رہے ہیں اور اگر کوئی شرارت کی اور ہماری اماؤں کو پتا چل گیا نا چھتر ماریں گی ہمیں ” ہمیشہ کی ڈرپوک حرا نے ڈر کا اظہار کیا تو دونوں نے اسے گھورا
“اچھا اچھا میں تم لوگوں کیساتھ ہوں بیبیو ہی ہی ہی… ” حرا نے ان دونوں کئ نظریں خود پہ محسوس کر کے دانت نکالے
“ہی ہی ہی …” وہ دونوں بھی اسی کے انداز میں بولی تھیں
“آئیڈیا!!!” کافی دیر سوچنے کے بعد نیلم اچانک چیختے ہوئے بولی تو لائبہ اور حرا ایک دم اچھلی تھیں
“دفع ہو جا !!! تررا نکال دیا تو نے ہمارا ” لائبہ منہ بنتے ہوئے بولی تو نیلم نے بھی اسے منہ چڑاتے ہوئے دیکھا
“اچھا اچھا چھوڑو سب ۔۔۔ یہ بتا کہ کیا ائیڈیا آیا تیرے دماغ میں ” حرا نے نیلم سے پوچھا تو اس نے دونوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور ان دونوں کے کان میں سرگوشی کی
“ہا ہا ہا واہ یار کیا ائیڈیا ہے” دونوں نے ہنستے ہوئے بولا
“اب چلو جلدی سے ” نیلم کہتے ان دونوں کو گھر سے باہر لے
گئی اور اپنے ائیڈیا کو سرانجام دینے لگی
—————————
یہ ایک دوسرے گھر کا منظر تھا جہاں ایک شخض نے گلابی کمبل میں لپٹا ننھا سا وجود اپنے ساتھ لگا رکھا تھا وہ بار بار اسے دیکھتا اور اسکی پیشانی چومتا اسکے ہر ہر انداز سے اسکی خوشی نظر آرہی تھی
“سنیں آپکو برا نہیں لگ رہا کہ .بیٹا نہیں ہوا … ؟؟” پاس لیٹی اسکی بیوی نے سوال کیا تو اس شخص نے حیران نظروں سے اسے دیکھا تھا
“استغفراللہ پڑھو بیگم ..!!! مجھے کیوں برا لگے گا اللہ نے رحمت سے نوازہ ہے مجھے اور یہ بھی تو میرا بیٹا ہے جیسے باقی دونوں ہے .. میرے لیے میری تینوں بیٹیاں بیٹوں سے کم نہیں ہیں . میں کیوں نا شکری کر کے اللہ کو ناراض کروں تم بھی فضول کے وہم دل سے نکالو اور خوش ہو جائو اللہ نے اتنی پیاری شہزادی سے ہمیں نوازہ ہے …” اس شخص نے کہتے ہوئے پھر سے بیٹی کی پیشانی چومی تھی اور پھر پاس بیٹھی اپنی بڑی دو بیٹیوں کے ساتھ بھی ہنسی مزاق میں لگ گیا تھا . گھر میں دونوں بچیوں کی ہنسی گونجی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوے مبارکااااں کاکے !!!! شکر تیری بھی بائیک آ گئی اب میرا کم خرچہ ہوگا ورنہ تو توبہ .میری شہزادی کو تو تم.لوگ کتنا ستاتے تھے ؟؟ اب اسے بھی تھوڑا آرام ملے گا” ارقم نے مصنوعی فکر مندی سے دونوں کو کہا جبکہ اسکے شہزادی کہنے پہ دونوں نے اپنی ہنسی دبائی تھی
“وڈی تیری شہزادی وہ …!!! اتنی تجھے فکر ہے تو گلے سے لگا کر رکھا کر اس کھٹارا کو !!!” غازیان نے بھی بات میں اپنا حصہ ڈال کر ارقم کو چڑانا چاہا جبکہ ارقم بیچارے کا اپنی بائیک کیلیے کھٹارا کا لفظ سن کر ہی منہ کھل گیا تھا
“تم لوگ اس کو کھٹارا کہہ رہے ہو یاد کرو یاد کرو وہ دن …. اسکے لیے میں نے پورا ایک وقت کا کھانا نہیں کھایا تھا تب جا کر وہ میرے ابا حضور لیکر آئے تھے اور کالج بھی تم اسی پہ جاتے تھے احسان فراموش انسان …. !!” اسنے تو انہیں ساری باتیں گنوائی تھی
“اچھا اچھا ہم بہت احسان مند ہیں تیری شہزادی کے
ورنہ تو ہم کالج ہی نا جاتے ” اسامہ بھی شہزادی پہ زور دیتے ہوئے بولا تھا
“اچھا چل چھوڑ نا!! یہ بتا کہ یہ تیرے ابا جی مانے کیسے بائیک کیلیے!!” ارقم نے رازداری سے سوال پوچھا
“بھائی سے سفارش کروائی ہے یار ..ورنہ.میری تو کوئی اہمیت ہی نہیں ہائےےے میں معصوم کوئی قدر نہیں کرتا میری !!!” اسامہ نے منہ بنا کر قدرے معصومیت سے جواب دیا تھا
“اچھا اب ساری باتیں چھوڑ مجھے ٹریٹ دے بائیک لی ہے کوئی مزاق تو ہے نہیں یہ !!!” ارقم کی کھانے کی رگ پھڑکی تھی تو غازی نے اسے گھورا
“نا تو خالی تجھے ہی کیوں ٹریٹ ؟؟؟ تو کوئی اسکا سگا ہے اور میں سوتیلا … مجھے بھی ٹریٹ دے ..” غازی کو تپ ہی چڑ گئی تھی ارقم کی بات پہ
“اوہہ پائی رہن دے ایڈا واڈا اے سخی (اتنا بڑا یہ سخی) “
“مجھے دے دے ٹریٹ بڑی بات ہے تو اپنی پہ رو رہا ہے .. چل کوئی نہیں اس معاملے میں یہ آج تو کم از کم کنجوسی نہیں کریگا مجھے پورا بھروسہ ہے .. ہیں نا اسامہ … ؟؟” ارقم نے معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے کہا جبکہ اسامہ نے ان دونوں کو دیکھ کر منہ بنایا تھا اور یہ شکل وہ دونوں جانتے تھے کہ کب بنتی ہے
“اب یہ مت کہنا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں…. ” وہ دونوں ساتھ ہی بولے تھے کیونکہ جانتے تھے کہ ایسی شکل بنا کر وہ یہی ڈائیلاگ بولتا ہے
“سچ میں میرے پاس پیسے نہیں ہیں غریب بندہ ہوں کیسے ہوں گے میرے پاس پیسے… ” انکا اندازہ بلکل صحیح تھا اسامہ کے پاس کبھی پیسے ہوں ناممکن … مطلب ہوں گے بھی تو کنجوسوں کا سردار تھا وہ …..
“دیکھا دیکھا ارقم مینوں پتا سی .. اس نے یہی کہنا ہے مجھے ٹریٹ چاہیے مجھے نہیں پتا ورنہ .. میں ورنہ ورنہ …” ورنہ کے اگے غازی دھمکی ہی بھول گیا تھا کہ وہ کیا بولے
“ورنہ غازی تین دن تک کچھ نہیں بولے گا ..” غازی کی ادھوری بات ارقم نے پوری کی تھی غازی نے گندہ سا منہ بنایا تھا
“ستیاناس تیرا ارقم!!! میں تین منٹ بولے بغیر نہیں رہ سکتا . خود کے کھانے کیلیے یہ کچھ بھی کر سکتا ہے .. ” دل ہی دل میں اسے سو سلواتیں سنائی تھئ
“اچھا چل تو ہمیں صرف انڈے والا برگر ہی کھلا دے وہ منے کی دکان سے … کیسا تیرا خرچہ بھی نہیں ہوگا… ” غازی نے اسکا حل نکالا تو ناچار اسامہ کو بھی ماننا ہی پڑی .. اب ان لوگوں نے کل جانا تھا منہ برگر والے کی دکان پہ 


“اچھا چل ابھی تو گھر کا کھانا کھلا نا ۔۔ ٹریٹ بعد میں دیں ۔۔۔ قسم سے بہت بھوک لگی ہے ” ارقم پیٹ پہ ہاتھ پھیرتا ہوا بولا
“ہا ہا بھوکڑ کہی کا۔۔۔ چل کھانا تیار ہے ویسے بھی اکٹھے کھاتے ہیں ” اسامہ ان کو کہتا ہوا گھر میں داخل ہوا اور وہ دونوں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے
اسامہ ، ارقم اور غازیان تینوں بچپن سے ساتھ تھے اور اکٹھے ہی پلے بڑھے تھے۔۔۔ اور تینوں کزنز بھی تھے اور ایک دوسرے پہ جان چھڑکتے تھے –
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم، حرا اور لائبہ اپنے پلین کے مطابق گھر سے نکلی اور گھر کے بلکل سامنے نیو موٹر سائیکل کھڑی دیکھی تو اس کے قریب جا کھڑی ہوئی اور ادھر ادھر دیکھا تو گلی میں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا تو ان تینوں کو میدان صاف نظر آیا اور ایک طنزیہ ہنسی ہنسی۔۔۔۔ ان کا پلین تھا کہ یہ اسامہ کی موٹرسائیکل کے ٹائیڑ کی ہوا نکال دیں گی اور پھر بھاگ جائیں گیں
“نیلم جلدی کر اس سے پہلے کہ کوئی آجائے جلدی کر !!!” لائبہ راز داری سے نیلم کو بولی جو کہ ٹائیر کی ہوا نکالنے کے لیے نیچے بیٹھی اپنے سر پہ ہاتھ پھیر رہی تھی
“حرا پن دے مجھے .. !!” اسنے ٹائر کا جائزہ لیتے ہوئے لائبہ سے کہا جو گلی کا جائزہ لینے میں مصروف تھی
“کون سی پن … تجھے ابھی دوپٹہ سیٹ کرنے کی پڑی ہے … ؟؟” حرا کی جو سمجھ میں آیا تو اسے نیلم کی بے تکی بات پہ غصہ آیا تھا
“بہن ..!!! مجھے بالوں والی پن دے ہوا نکالوں میں…. تو اپنا دماغ مت چلایا کر… اور جلدی سے جا کر اسامہ کے گھر کے باہر کھڑی رہ .. کہیں وہ باہر نا آجائے ” اسنے چڑ کر حرا سے کہا تو اسنے جلدی سے بالوں پہ لگئ پن اسے دی تھی اور جا کر گیٹ کے پاس کھڑی ہوگئی
اور اگلے دو منٹ میں وہ اپنا کام.کر چکی تھی . بے چاری نئی بائیک کو چمکتا دھمکتا ٹائر اب پھس ہو چکا تھا
“بھاگو….اب ہوگیا کام اس سے پہلے کوئی دیکھ لے ” نیلم کہتے ہوئے اٹھی اور حرا جو اسامہ کے گھر کی بیل کے پاس ہی کھڑی تھی۔۔۔۔ جلدی سے پانچ چھ زور زور کی بیلز بجا کر تینوں وہاں سے بھاگ کر نیلم کے گھر گھس گئی اور جلدی سے دروازہ لا ک کیا اور اپنا اپنا سانس بحال کرتی ایک دوسرے کو دیکھ کر ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسامہ ارقم اور غازیان ابھی کھانے کی ٹیبل پہ بیٹھے ہی تھے کہ بیل بجی
“میں دیکھتا ہوں تم لوگ کھانا کھاؤ” اسامہ کہتا ابھی اٹھا بھی نہیں تھا کہ زور زور سے بیل بجنے لگی تو اسامہ کے ساتھ ساتھ ارقم اور غازیان بھی غصے سے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔
“رک جاؤ کس کو آگ لگی ہے دروازے میں اب چوکیدار بن کر نہیں کھڑا ہوا جاتا … ” اسامہ اونچا اونچا بولتا گیٹ کی طرف بڑھا تھا۔ وہ تینوں جلدی سے باہر آئے تو باہر گلی میں کوئی بھی نہیں تھا۔۔ تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ان کی نظر موٹرسائیکل کے ٹائیر کی طرف گئی
اسامہ بے چارے کا تو صدمے سے برا حال تھا تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو اسامہ نے نفی میں سر ہلایا
“نیلم کی بچی !!!! مجھے پتہ ہے یہ تمہارا ہی کام ہے ۔۔۔۔ اب تو تمہاری خیر نہیں !!!” اسامہ غصے سے کہتا نیلم کے گھر کی طرف بڑھا
جبکہ ارقم اور غازیان نے اسے روکنا چاہا تھا لیکن وہ نا رکا اور جا کر نیلم کے گھر کی بیل بجائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تینوں جو کھڑی اپنے کارنامے پہ ہنس رہی تھی، بیل کی آواز پہ ان کی ہنسی کو بریک لگا اور حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا
“کیا انہیں پتہ چل گیا کہ یہ ہم نے کیا ہے ؟؟؟ اب کیا ہو گا یار۔۔۔ اگر ہماری شکایت لگا دی تو۔۔۔۔۔” حرا ڈرتے ہوئے بولی
“ارے یار ڈر کیوں رہی ہے اور ہمیں کیوں ڈرا رہی ہو۔۔۔ انہیں کیسے پتہ چلے گا کہ یہ ہمارا کام ہے؟؟ کوئی اور بھی تو کر سکتا ہے نا ” نیلم حرا کو سمجھاتے ہوئے بولی
“یہاں کھڑے باتیں ہی کرتی رہو گی یا دروازہ بھی کھولو گی ؟؟ کب سے بیل بج رہی ہے ” لائبہ جو ان دونوں کی باتیں سنتے سنتے تنگ آگئی تھی اب چڑ کے بولی
“ہاں چل نا میرے ساتھ تو بھی۔۔۔!!!” نیلم لائبہ سے کہتے اس کا بازو پکڑ کر دروازے کی طرف چل دی
اور دروازہ کھولتے ہی اسے سامنے اسامہ ارقم اور غازیان نظر آئے جبکہ اسامہ کے چہرے پہ غصہ واضح تھا
ایک پل کو تو ان دونوں کی بھی جان نکلی کہ کہی سچ میں یہ شکایت ہی نا لگا دیں لیکن پھر اپنی سوچوں سے نکل کر نیلم نے سب کو سلام کیا
“نیلم یہ تمہارا کام ہے نا !!! دیکھو جھوٹ نا بولنا مجھے پتہ ہے کہ یہ کام صرف تم ہی کر سکتی ہو” اسامہ غصے سے بولا
“ہا ہائے اسامہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو ہم نے تو ابھی ٹی وی بند کیا اور واہ تم نے نئی بائیک کب لی … ؟؟” دنیا جہاں کی معصومیت لہجے میں سمائے وہ انجان بن کر بولی تھی اگر وہ تینوں اسے جانتے نا ہوتے تو ضرور اسکی اس ڈرامائی معصومیت پر یقین کر لیتے
“ہاں اتنیییییی تم چنی منی کاکی معصوم .. ڈرامے مت کرو مجھے پتا ہی یہ تم نے ہی کیا ہے … ” اسامہ نے اسے بلکل بچوں کی طرح کہا تھا لیکن آخر میں آواز اونچی کی تھی
“میں تو بچپن سے ہی معصوم ہوں کیوں بہنو … ” اسنے دونوں کو دیکھا جو اسکے سائڈوں پہ کھڑی اسکا منہ دیکھ رہی تھی اسکے دیکھنے پہ زو سے دونوں نےسر ہلایا تھا
“تم نا بہت بد تمیز ہو …” اسامہ غصہ کرنا چاہتا تھا لیکن پتہ نہیں کیوں نیلم کو دیکھ کے اس کا غصہ ہوا ہو گیا تھا لیکن پھر بھی دکھ تو تھا اسے … ہائے اسکی نئی بائیک کے ٹائیر کا بیڑا غرق کر دیا تھا اس نے
“ہاں ہوں میں بدتمیز کیا کرو گے ۔۔۔۔۔” نیلم نے بھی لڑائی میں بھرپور حصہ ڈالا جبکہ لائبہ حرا ارقم اور غازیان بس ان دونوں کی بحث سن رہے تھے
“ارے یار کیا کر رہے ہو تم دونوں !!! نیلم تم بتاؤ تم نے کیوں اسامہ کی بائیک کے ٹائیر کی ہوا نکالی ؟؟؟؟؟” غازیان ان دونوں کو لڑتا دیکھ اصل مدعے پہ آیا
“وہ وہ وہ میں !!! وہ اس سے پہلے کچھ بولتی اسامہ نے جلدی سے اسکی بات کاٹی
“ارے یہ کیا بولے گی اس کے پاس کوئی وجہ ہو گی تب نا !!!! بس فضول کی انٹرٹینمینٹ کے لیے یہ کیا ہو گا اس نے ” اسامہ چڑ کے بولا
اسامہ کی اس بات پہ تو وہ تینوں تو حیران ہی ہو گئی تھی
“ارےےے واہہ اسامہ تمہیں کیسے پتہ چلا؟؟؟” نیلم مزے سے بولی اور پھر اپنے سوال پہ زبان دانتوں تلے دبائی خود ہی اپنا بھانڈا پھوڑ دیا تھا
“یہ دیکھو … دیکھا مجھے پتا تھا … یہ ان تینوں کا ہی کام ہے اور اس کام کی ماسٹرنی یہ بنی ہو گی نیلم ۔۔۔۔۔ اب جو تم یہ میسنی بن رہی تھی نا بچپن سے جانتا ہوں تمہیں !!!۔۔۔۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور بولتا ایک دم مریم بیگم (اسامہ کی امی) کی آواز آئی
“کیا کر رہے ہو بچوں باہر ؟؟؟ جلدی گھر آؤ کھانا ٹھنڈا ہو گیا ہے !!”
“ارے کھانا !!! کیا یار تم لوگوں کے چکر میں میرا کھانا ٹھنڈا ہو گیا۔۔۔۔ آیا پھپھو !!!” ارقم انہیں کہتا گھر کی طرف بھاگا جبکہ وہاں کھڑے سب نے اپنا ماتھا پیٹا تھا ..کتنا پیٹو تھا یہ
“اس کا کچھ نہیں ہو سکتا ” لائبہ سر نفی میں ہلاتے ہوئے بولی
“میڈم اس کا جرمانہ کب بھر رہی ہو ؟؟؟ یار کل ہی تو لی ہے میں نے اور آج تم نے ۔۔۔۔ ” اسامہ اداس ہو کر بولا
“اچھا چھا زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے اب بھاگو ادھر سے کھانا ٹھنڈا ہو گیا ہو گا جا کر پہلے وہ کھاؤ ” نیلم اسے دو ٹوک الفاظ میں کہتی گھر کے اندر چلی گئی جبکہ وہاں کھڑے سب کا حیرت سے منہ کھول گیا
لائبہ نے انہیں دیکھ کے اپنےکندھے اچکائے
ابھی اسامہ اسکی کلاس لیتا کہ وہ بھی جلدی سے اندر کی طرف بڑھ گئی تھی
پھر وہ دونوں وہاں سے چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا وقت تھا جب اسے اپنے بیڈ پہ لیٹنا نصیب ہوا تھا ورنہ تو جس وقت بھی لائبہ اور حرا آتی تب سے تینوں بس اپنی شرارتوں میں مصروف ہو جاتی ۔۔۔ نا کھانے کی فکر اور نا آرام کرنے کی ۔۔۔۔ آج بھی یہی ہوا تھا لائبہ اور حرا دوپہر سے ادھر ہی تھی اور ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ دونوں اپنے اپنے گھروں کو گئی تھی
رات کا کھانا کھانے کے بعد نیلم اپنے کمرے میں آئی اور آتے ہی بیڈ پہ ڈھے گئی اور آنکھیں موندھی ہی تھی کہ اس کی آنکھوں کے سامنے آج شام والا منظر لہرایا۔۔۔ پہلے تو وہ ہنسی لیکن پھر اسے اپنا کارنامہ یاد آیا ..
“کہیں اسامہ مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گیا ہوگا ؟؟؟ میں نے اسکی نئی بائیک خراب کردی ” نیلم سوچنے لگی
“چل کوئی نی اگر ناراض ہو بھی گیا تو کل صبح صبح اٹھ کر اس کے لیے کھیر بناؤں گی پھر خوش ہو جائے گا ” نیلم سوچتے ہوئے مسکرائی اور پھر سونے کی کوشش کرنے لگی
اسامہ کو نیلم کے ہاتھ کی کھیر بہت پسند تھی جب بھی اسے بھنک پڑتی کہ نیلم نے کھیر بنائی ہے . وہ بھی منان(نیلم کے بھائی ) سے ملنے کیلیے ٹپک پڑتا … ملنا تو صرف بہانہ ہوتا تھا اصل مقصد کو کھیر کھانا ہوتا تھا.
جاری ہے
