Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32
لائبہ ردا کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی لڈو کھیل رہی تھی کہ اس کا فون بجا جو کہ کمرے میں چارج پہ لگا ہوا تھا
“اوفو ۔۔۔۔ آپی ایک تو آپ کا فون نہیں کھیلنے دیتا ہمیں۔۔۔ جب بھی گیم شروع کرتے ہیں ہم نیلم آپی یا حرا آپی کا فون آ جاتا ہے۔۔۔ انہیں کہیں کہ ہمیں کھیلنے دیں ” ردا تنگ آ کر بولی
“ہا ہا ہا ۔۔۔ اچھا سننے تو دو فون۔۔ دیکھوں تو کیا کہ رہی ہیں وہ۔۔۔ تم انتظار کرو میں آئی ” لائبہ اسے کہتی ہوئی اٹھی اور اپنے کمرے میں آ کر فون دیکھا تو ارقم کا نام جگمگا رہا تھا لائبہ کے چہرے پہ ایک دلفریب مسکراہٹ ابھری اور فون اٹھا کر کان سے لگایا تھا
“ہیلو ” لائبہ سنجیدہ ہوئی
“کیسی ہو ” ارقم نے فون تو کر دیا تھا لیکن اب بات کیا کرے اسے سمجھ نا آئی
“میرا حال پوچھنے کے لیے فون کیا ہے ؟؟؟” لائبہ مصنوعی غصے سے بولی اور اپنے بیڈ پہ آ کر بیٹھی
“ارے ارے کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔ بات کرنے کے لیے ہی فون کیا ہے میں اب حال چال بھی نا پوچھوں میں حد ہے ” ارقم بھی ناراضگی سے بولا
“اچھا تو ایسے کہو نا۔۔۔ ٹھیک ہوں ۔۔ تم سناؤ ” لائبہ نے فوراً سے موڈ سہی کیا
“میں بھی ٹھیک ہوں ……..” اور اب خاموشی
کافی دیر دونوں نا بولے
“میں فون بند کر دوں ؟؟؟” لائبہ اب اس کی خاموشی سے چڑی تھی
“ارے نہیں نہیں۔۔۔ میں نے ایک ضروری بات بتانی ہے تمہیں ” ارقم ایک دم بولا
“کیا بات جلدی بولو ردا آ جائے گی ورنہ بلانے “
“وہ وہ نا۔۔۔ لائبہ آئی لو یو ” ارقم نے ایک دم سے کہا اور چپ ہو گیا جبکہ لائبہ کو اپنے کانوں پہ یقین نا آیا کہ یہ ارقم نے کیا کہا
“کیا کہا تم نے ؟؟؟ میں نے سہی سے سنا نہیں ” لائبہ نے اپنے سننے کی تصیح کرنا چاہی
“میں نے کہااااا ۔۔۔۔۔ کہ۔۔۔۔۔ آئی۔۔۔۔۔ لو ۔۔۔۔۔۔۔ بندریا ” ارقم نے شرارت سے کہا تھا وہ یہ بات جانتا تھا کہ لائبہ بھی اسے پسند کرتی ہے اس لیے اس کو چڑایا جو کہ چڑ بھی گئی تھی
“اچھااااااا ؟؟؟ تو جا کر اسے کہو نا مجھے کیوں کہ رہے ” لائبہ سچ میں چڑ گئی
“اسے ہی کہ رہا ہوں ” ارقم نے اب کہا تو لائبہ کو کچھ عجیب سا احساس ہوا تھا
“میں فون رکھ رہی ہوں ” لائبہ مسکراتے ہوئے بولی
“رکو تو ۔۔۔ میری بندریا نے جواب نہیں دیا ۔۔۔
” ارقم اس پوچھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی ردا لائبہ کے کمرے میں آئی
“آپی آ بھی جائیں اب میں کب سے ویٹ کر رہی ” لائبہ جو کہ مسکرا رہی تھی یا شرما رہی تھی کہنا زیادہ مناسب رہے گا۔۔۔ ردا کی آواز پہ ایک دم بکھلائی
“ہاں ہاں آ رہی ہوں ۔۔ اچھا نیلم میں بعد میں بات کرتی ہوں ” لائبہ نے کہ کر فون بند کر دیا جبکہ ارقم کا جاندار قہقہہ گونجا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منان اور اس نے گھر والے اپنے گھر چلے گئے تھے اور حرا غازیان بھی۔۔۔ اب غزالہ بیگم آسیہ بیگم اور حسن صاحب لاؤنج میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے
“اماں۔۔ میں نے کافی سوچا ہے اور اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ میں اپنی ایک دکان خان کو بیچ دیتا ہوں ۔۔۔۔ دکان میں مال کو ملا کر تقریباً پچاس لاکھ تو بن ہی جائے گا تو اسے بجائے رقم دینے کے دکان ہی دے دوں اور اس مصیبت سے جان چھوڑاوں ” حسن صاحب نے کہا
“بلکل صحیح فیصلہ ہے حسن ۔۔۔۔ جلد از جلد اس مصیبت سے نکلو ۔۔۔۔۔” غزالہ بیگم نے خوش ہوتے ہوئے کہا
“لیکن حسن زارون کا کیا کریں گے آپ ؟؟” آسیہ بیگم نے حسن صاحب سے کہا جو کہ اٹھ کر اب کمرے کی طرف جا رہے تھے
“اس کا تو نام بھی مت لو میرے سامنے۔۔۔۔ ایک بار۔۔۔ ایک بار وہ میرے سامنے آ جائے ” حسن صاحب نہایت غصے میں بولے اور آسیہ کے کمرے میں چلے گئے تھے
غزالہ بیگم نے مسکراتے ہوئے آسیہ بیگم کی طرف دیکھا تھا جو کہ خود بھی حسن صاحب کی اس حرکت سے حیران تھی
“امی؟؟؟ کیا یہ سچ ہے کہ آج حسن یہاں ہمارے گھر رات رکیں گیں ؟؟؟” آسیہ بیگم نے اپنا آنکھوں دیکھا حال کی تصیح چاہی
جو کہ غزالہ بیگم نے مسکرا کر اپنا سر اثبات میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بات سنو تم سب کے سب میری !!! ہمارے فائنل ہیں اب اگر اس بار فیل ہوئے نا تو ہمارے اباؤں نے چھتر مارنے ہیں اسلیے سب لوگ کل پورا دن پڑھیں گے اور جو کچھ نا آیا شام کے وقت گروپ سٹڈی کریں گے ٹھیک ؟؟ کوئی گلی میں نظر نا آئے مجھے۔۔۔۔۔۔۔ ” یہ ایک لمبا چوڑا میسج تھا جو غازیان نے ان چھ کے واٹس ایپ گروپ میں کیا تھا
“اچھا تو کب سے اتنا پڑھاکو ہو گیا یے ؟؟” یہ میسج ارقم کا تھا جسے اسکا میسج پڑھ کر ہنسی آئی تھی کیونکہ وہ سب اور پورا دن پڑھائی ؟؟؟؟ یہ بات مزاق ہی تھی
“اچھا جی جو حکم لیکن اگر سب سے پہلے تو گلی میں نکلا نا تو ابا کا پتہ نہیں میں چھتر ضرور ماروں گا تجھے ۔۔۔ ” ارقم اور کبھی سنجیدہ ہو جائے ناممکن
“بات سنو تم دونوں بحث چھوڑو کل واقعی پڑھنا ہے اسلیے ابھی سو جاؤ” . اسامہ نے ان دونوں کو چپ کروایا تھا جبکہ لڑکیوں نے صرف انکے میسجز ہی پڑھے تھے اسکے بعد سبکے موبائلز خاموش ہو گئے تھے.
————————————-
“حرا تم کیا کر رہی ہو یار پوری شام غائب رہی ہو ابھی بھی نہیں سکون سے بیٹھ رہی . یہ کیا طریقہ ہوا .؟؟؟” غازیان اب صحیح تپا تھا جب اسنے حرا کو کپڑے لے کر استری کرنے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا تھا
“غازیان کیا ہو گیا ہے اتنا چیخ کیوں رہے ہو ؟؟”. حرا نے کپڑے ٹیبل پر پھینکتے ہوئے لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ ٹکاتے ہوئے کہا تھا
“میں چیخ رہا ہوں اور تم جو مجھے اگنور کر رہی ہو اسکا کیا ؟؟ 10 بجنے والے ہیں اور تمہیں میں دکھ ہی نہیں رہا صبح سے غائب ہو. ” غازیان نے معصوم سی شکل بنا کر کہا تھا جبکہ حرا کو اسکے اتنے صاف جھوٹ پر حیرت ہوئی تھی
“ہاہ ہائے غازیان میں صرف شام کو پہلے نیلم اور پھر امی کی طرف گئی تھی پہلے ادھر ہی تھی کتنا جھوٹ بولتے ہو شرم کر جاؤ شادی شدہ ہو پھر بھی جھوٹ … ” حرا کی بات پہ غازیان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
“کیوں شادی شدہ بندے جھوٹ نہیں بولتے .. ؟؟” اس سے سوال پوچھتے ہوئے اسے ہاتھ سے پکڑ کر بیڈ پر بٹھایا تھا جو پھر کپڑوں کی طرف مڑنے والی تھی
“غازیان کام کرنا ہے مجھے نا کیونکہ صبح میں نے بھی پڑھنا ہے ابھی تم تنگ کر رہے ہو پھر سارا کام صبح کرنا پڑے گا . تم چاہتے ہو میں فیل ہو جاؤں اور سارے نمبر تم لے جاؤ ؟؟ . بات کرتے کرتے حرا نے غازیان سے ایک ابرو اچکا کر سوال پوچھا تھا جبکہ غازیان جو بڑے پیار سے اسکی بات سن رہا تھا آخری بات سن کر اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
“استغفراللہ شکی عورت !!! کیا کیا سوچتی ہو ۔۔۔ میں یہ ہر گز نہیں چاہوں گا کہ میرے بچوں کو انپڑھ ماں ملے …” غازیان نے شرارت سے کہا تھا جبکہ حرا نے اسکو اب استری ہی دکھائی تھی جبکہ غازیان جلدی سے لیٹا تھا
“گستاخ لڑکی اب شوہر کو استری سے جلاؤ گی اللہ کبھی معاف نہیں کرے گا ” غازیان کی زبان کو پھر کھجلی ہوئی تھی کمبل سے منہ باہر نکال کر کہا تھا جبکہ حرا نےاب تنگ آکر اوپر دیکھا تھا
“اللہ آپ ہی ہمت دیں اس بندے کو جھیلنے کی یا اسکو عقل دے دیں. ” وہ آہستہ سے بڑبڑائی تھی غازیان کو آواز تو آئی تھی لیکن سمجھ نہیں کہ کیا کہہ رہی ہے وہ
“کیا بڑبڑا رہی ہو دیکھو لڑکی کہی جادو ٹونا تو نہیں سیکھ لیا جو اب مجھ پر آزماؤ گی . ؟؟ ” اور اب حرا کی بس ہوئی تھی وہ استری وہی رکھ کر غازیان کے پاس آکر کھڑی ہوئی تھی اور کمبل ہٹا کر دور پھینکا تھا جب غازیان نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
“اٹھو ابھی کہ ابھی …” اسنے غازیان کو کہتے ہوئے بازو سے پکڑ کر اٹھایا تھا اور بیڈ سے کھڑا کیا تھا جبکہ غازیان معاملہ سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کرنا کیا چاہتی ہے
“اب جو یہ سارے کپڑے ہیں نا استری کر کے بیڈ پہ آنا ورنہ یہ ٹھنڈا پانی تمہارے اوپر گرا دوں گی ” وہ مزے سے غازیان کو کہتی خود بستر پر جگہ بنا کر لیٹ گئی تھی جبکہ غازیان کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا
“تم تم تمہیں زرا شرم نہیں آتی شوہر کو ایسے کہتے ہوئے ” وہ صدمے سے بولا تھا
“وہ دراصل کیا ہے نا شوہر کی زبان بہت چلتی ہے تو اچھا نہیں ہے کہ وہ تھوڑے ہاتھ بھی چلا لے . ” حرا بڑے مزے سے کہتی ہوئی کمبل لیکر سوتی بنی تھی جبکہ غازیان نے دکھ سے پہلے اسکو پھر کپڑوں کے ڈھیر کو دیکھا تھا ابھی وہ آگے بڑھتا کہ حرا کی بات نے اسکے قدم روکے تھے
“خبردار اگر تم نے لیٹنے کی کوشش کی تو میں تمہاری جگہ پر پانی گرا دوں گی “. حرا نے کہتے ہوئے سچ میں سائیڈ سے جگ اٹھا لیا تھا جبکہ غازیان کے قدموں کو بریک لگی تھی وہ منہ بنا کر کپڑوں کی طرف مڑ گیا تھا
“ہاں کرو اب استری تمہاری زبان کو بھی آرام نہیں ہے درد ہو رہا تھا منہ میں جو بکواس کیے جا رہے تھے .” وہ خود کو مسلسل کوستے ہوئے اب کپڑے استری کر رہا تھا
—————————————–
…….”Accounting or accountancy is
“چھلی ریت آلا چھلی ……..” غازیان نے پڑھنا شروع کیا ہی تھا کہ گلی میں سے آواز گونجی تھی وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا تھا
“ریلیکس غازیان پڑھنا ہے یہ ابھی چلا جائے گا .” خود کو ریلیکس کرتا وہ دوبارہ سے کتاب کی طرف متوجہ ہوا تھا لیکن اب حرا جو الماری میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی اسکی آواز نے ڈسٹرب کیا تھا
“بی بی بات سنو جو خزانہ ڈھونڈ رہی ہو نا میرے جانے کے بعد ڈھونڈ لینا پڑھنے دے دو مجھے شام میں اکیڈمی بھی جانا ہے” وہ چڑ کر حرا سے بولا تھا جبکہ حرا اسکو آہستہ سے سوری بولتی کمرے سے باہر نکل گئی تھی
“۔۔۔۔۔Accounting”
“ٹین ڈبہ بیچ . پرانہ لویا ویچ ..”
“بیچ لو سب کچھ آج ہی بیچنا کیا پتہ بعد میں ٹائم نا ملے ” وہ کھڑکی سے ہی نیچے مڑ کر چیخا تھا
“مچھی لو تازی مچھی … مچھی لوو … ” اب مچھی والے کی آواز پوری گلی میں گونجی تھی تو غازیان کو غصہ آیا تھا کتاب پٹکتا وہ جلدی سے گھر سے باہر نکلا تھا
“بھائی رکو …” وہ کمر پہ ہاتھ ٹکاتا مچھلی والے سے بولا تھا جسنے بائک اسکے پاس لا کر روکی تھی
“جی بھائی کتنی مچھلی چاہیے ؟؟. ” وہ اپنا ڈبہ کھولتا ہوا بولا تھا
“ساری کی ساری دے جاؤ اسکے بعد پورا ہفتہ اگر تم مجھے نظر بھی آئے نا تو میں تمہارا سر پھاڑ دوں گا اور خود جیل چلا جاؤں گا تاکہ وہاں جا کر پیپر کی تیاری کر سکوں وہاں سکون تو ہو گا نا … ” غازیان غصے سے چیخا تھا جبکہ مچھلی والے بچارے کو زرا جو کچھ سمجھ آیا ہو جبکہ پیچھے کھڑے ارقم کی ہنسی کو فوارا چھوٹا تھا
“لو جی تمہاری کمی تھی .. ” غازیان اسکو دیکھ کر اور چڑا تھا
“بھائی تم جاؤ ” ارقم نے مچھلی والے کو کہا تھا جسے اب غصہ آیا تھا کیونکہ وہ فضول میں اسے روکے رکھا تھا اور مچھلی بھی نہیں لی
“بھائی اسکا علاج کرواؤ تم لوگ “مچھلی والا کہتا ہوا بائیک لیکر یہ جا وہ جا جبکہ غازیان کو اسکی بات پہ اور تپ چڑی تھی
“کیوں تپ رہا ہے یار آجا ساتھ پڑھتے ہیں آجا …. ” ارقم اسکو بہلاتا اندر لیکر گیا تھا جو کہ اب منہ بنا چکا تھا اور ارقم نے نا ہنسنے میں ہی عافیت جانی تھی
————————————————
منان اپنے کمرے میں بیٹھا ایمن کو کال کرنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ دروازے پہ دستک ہوئی اور نیلم اپنی کتابیں اٹھاتی ہوئی اس کے کمرے میں داخل ہوئی
“کیا ہوا ہے یہ چہرے پہ بارہ کیوں بجے ہوئے ہیں ؟؟؟” منان نے نیلم کو دیکھتے ہوئے کہا
“بھائی صبح پیپر ہے اور کچھ بھی نہیں آتا مجھے اور پڑھا بھی نہیں جا رہا ۔۔۔ ہیلپ کر دو نا پلیز ” نیلم روتی شکل بنا کر منان سے بولی تو منان کا ایک دم قہقہہ گونجا تھا جبکہ نیلم اسے ہنستے دیکھ حیران تھی
“کیا ہوا ہے کیوں ہنس رہے ہیں ؟؟؟” نیلم حیرت سے بولی تھی
“کچھ نہیں تمہاری بات پہ ہنس رہا ہوں۔۔۔ ” منان نے اپنی ہنسی روکنا چاہی تھی
“کیوں میں نے ایسا کیا کہ دیا “
“یہی کہ مجھے پیپر نہیں آتا اور پڑھا بھی نہیں جا رہا۔۔۔۔ نیلم بی بی پیپر سے ایک دن پہلے نہیں سر پھوڑا جاتا پہلے بھی پڑھ لینا چاہیے تو یہ جو دماغ سنبھال کر رکھا ہے نا یہ ختم نہیں ہو گا آخری دن اب کیا گھول کر تمہارے دماغ میں ڈالوں ؟؟؟؟؟؟” منان نے نیلم سے کہا تو نیلم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
” بھائی اب آپ ایسا کرو گے میرے ساتھ ” نیلم نے رونی شکل بنائی تھی اب اور کرتی بھی کیا اچھی خاصی عزت افزائی خو ہو گئی تھی
“زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے جاؤ چپ کر کے اپنے کمرے میں اور پڑھنا شروع کرو آتا ہوں میں کباب میں ہڈی بن جاتی ہے … ” منان نے کہا تو نیلم پیر پٹکتی ہوئی کمرے سے چلی گئی تھی جبکہ منان اس کی حرکت پہ ہنسا تھا
“یہ لڑکی بھی نا ” منان نے ہنستے ہوئے سر نفی میں ہلایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شائستہ شائستہ !!!!” حسن صاحب گھر میں داخل ہوتے ہوئے چیخے تھے
“کیا ہوا ہے حسن چیخ کیوں رہے ہیں ؟؟؟” شائستہ بیگم جو کمرے میں بیٹھی پیک آپ کر رہی تھیں ان کی آواز سے گھبرائی
” تمہیں پتہ ہے تمہارے لاڈ صاحب کی وجہ سے میں نے اپنی ایک دکان بیچ دی ہے خان کو۔۔۔۔ مسئلہ تو سلجھ گیا ہے لیکن میری بہت بدنامی ہوئی ہے۔۔ کہاں ہے یہ لڑکا ؟؟” حسن صاحب غصے سے بولے تھے انہیں وہ دکان بہت پسند تھی اور بہت مشکل سے خریدی تھی اور اب ان کے اپنے ہی بیٹے کی وجہ سے انہیں وہ بیچنی پڑی
” مجھے کیا پتہ حسن ہو گا یہی کہیں ۔۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے پارٹی پہ جا رہی ہوں میں ۔۔۔ ملتے ہیں بعد میں ” شائستہ بیگم نے حسن صاحب کی طرف نگاہ اٹھائی لیکن فوراً ہی نظریں پھیر کر اپنا پرس اٹھایا
“کہیں نہیں جا رہی ہو تم ۔۔۔۔ بیٹھو گھر میں ۔۔۔ تمہاری انہیں حرکتوں کی وجہ سے زارون اس مقام پہ کھڑا ہے کہ اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ۔۔۔۔ دو دنوں سے وہ گھر سے باہر ہے تمہیں کوئی فکر نہیں ہے ؟؟؟؟” حسن صاحب حیرت سے بولے تھے
“مجھے کیوں فکر ہونے لگی حسن ۔۔۔ ہو گا یہی کہیں آ جائے گا ایک دو دنوں تک وہ گھر فکر نا کریں۔۔ ابھی میں جا رہی ہوں ” شائستہ بیگم نے کہا اور یہ جا وہ جا ۔۔۔۔ جبکہ حسن صاحب اپنا سر پکڑے بیڈ پہ ڈھے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ان سب کا پہلا پیپر تھا اور سب نے عادت کے بر خلاف پیپر کی اچھی تیاری بھی کر رکھی تھی جو کہ حیرت کن بات تھی
آج سر افضال کا پیپر تھا اس لیے ارقم نے بھی خوب تیاری کی ہوئی تھی پیپر کی بھی اور چیٹینگ کی بھی لیکن ہال میں سر افضال کو کھڑا دیکھ ارقم کی حالت کچھ عجیب ہوئی تھی
“اوہ تیری!!! ” ارقم کے منہ سے ایک دم نکلا
“کیا ہوا ؟؟؟ ” اسامہ نے اس کی طرف غور سے دیکھا
“نہیں کچھ نہیں تم لوگ جاؤ بیٹھو میں آتا ہوں !!” ارقم نے اسے کہتے ہوئے ہال میں ادھر ادھر نظر دوڑائی اور پھر جا کر سامنے کونے والی کرسی پہ جا بیٹھا
” اوے یہ وہاں کیوں جا کر بیٹھا ہے؟؟؟ وہاں تو چیٹینگ بھی نہیں کر سکے گا یہ ڈفر ” ارقم کو سامنے والی کرسی پہ اکیلا بیٹھا دیکھ لائبہ ایک دم بولی
“چھوڑ نا تو ۔۔۔۔۔۔ خودی بیٹھا ہے وہ وہاں بیٹھنے دے اسے اور تو بیٹھ ادھر “حرا نے اسے کہا تو وہ بھی اپنی جگہ پہ بیٹھ گئی اور پھر دس منٹ بعد پیپر شروع کیا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مسٹر ارقم !!! “سر افضال کی آواز سے ارقم تو چونکا ہی باقی پانچ کی بھی نظر اس پہ پڑی تھی
“بہت اچھا ہوا پکڑا جائے یہ ۔۔۔۔۔۔ کیوں گیا تھا ادھر اکیلے ” لائبہ نے کہا تو ان سب نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی
“جج جی سر ” ارقم نے سر کی طرف دیکھا اور معصومیت سے اپنے دانتوں کی نمائش کی
“پیپر ٹھیک ہے کوئی مسئلہ تو نہیں ” سر نے پوچھا تو ارقم نے سکھ کا سانس لیا
“نہیں سر کوئی مسئلہ نہیں ہے ” ارقم نے نارمل لہجے میں کہا
“گڈ !!! اب زرہ کھڑے ہونا !!!” سر نے کہا تو ارقم کی مسکراہٹ سمٹی اور ایک دم کھڑا ہوا
“ہمممممم ٹھیک ہے بیٹھ جاؤ ” سر اسے چیک کرتے ہوئے باقی بچوں کی طرف مڑے جبکہ ارقم خوش ہوا تھا آخر کو اس کا کارنامہ جو سچ ثابت ہوا تھا اور وہ تھا اپنی جرابوں میں چیٹینگ رکھنا ۔۔۔۔ سر نے اسے باقی تو چیک کیا لیکن اس کی جرابیں نہیں
اور پھر باقی کا پیپر ارقم نے خوشی خوشی ہل کیا اور پیپر دے کر باہر نکلا جہاں باقی سب اس کو تیوری نظروں سے گھور رہے تھے
“کیا ہے ایسے مت دیکھو مجھے اچھا ۔۔۔۔۔ نظر لگ جائے گی مجھے ” ارقم نے شرماتے ہوئے بولا تو سب نے اسے غصے سے دیکھا تھا
“کمینے۔۔۔ میسنے۔۔۔ ڈنگر۔۔۔۔ کیوں جا کر بیٹھا تھا تو وہاں۔۔۔ کہ کہیں ہم پیپر نا پوچھ لیتے تجھ سے ؟؟؟ یا تجھے بہت آتا تھا پیپر ؟؟؟ سچ سچ بتا کیوں جا کر بیٹھا تھا تو اکیلے ہم سب سے الگ ” غازیان نے غصے سے اسے کہا
“ہاں اور آج تک ایسا ہم نے کبھی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ سکول کالج یونی ہر بار ہم سب نے ساتھ بیٹھ کہ پیپر دیا ہے ۔۔۔۔ تو دھوکہ باز نکلا غددار کہیں کا چچچچچ ” اسامہ نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے ارقم سے کہا
“ارے ارے۔۔۔۔ میں تو ویسے ہی وہاں جا کر بیٹھا تھا اب اس میں میری کیا غلطی ہے بھئ ۔۔۔ پڑھ کر آتے نا تم لوگ میرے آس پہ کیوں رہے ؟؟” ارقم نے اپنا دفع کرنا چاہا
“ہماری چھوڑو نا تم پہلے اپنا بتاؤ ہمیں کیوں جا کر بیٹھے تھے ادھر ۔۔۔۔ کہیں تم نے سر سے سیٹینگ تو نہیں کی ہوئی تھی نا ارقم دیکھو بتاؤ مجھے اب ” لائبہ نے اپنا خدشہ پیش کیا جس پہ سب کے قہقہہ گونجے لیکن ارقم کی پوری آنکھیں کھلی تھی
“توبہ کرو یار کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ دیکھو ایک تو ابھی ہم پیپر دے کر آئے ہیں اوپر سے میں نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا اور اب تم سارے میرے پیچھے پڑھ گئے ہو ۔۔۔ میں جا رہا ہوں کیفے آنا ہوا تو آجانا ” ارقم نے کہتے ہوئے کیفے کی طرف تیز تیز قدم بڑھائے اور ایک نظر پیچھے ان کی طرف دیکھا
“اوہ تیری ” اسامہ اور غازیان کو اپنی طرف آتا دیکھا ارقم بھاگا
اور اب یہ منظر تھا کہ پوری یونی میں ارقم تھا اور اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے اسامہ اور غازیان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ بعد
زارون کو گھر سے غائب ہوئے ایک ہفتہ سے زائد ہو چکا تھا اور اس کا کسی کو کوئی علم نا تھا کہ وہ کہاں گیا
” حسن میرے بچے کو ڈھونڈیں نا دیکھیں وہ ابھی تک گھر نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔” شائستہ بیگم کو ہفتہ بعد اپنے بیٹے کی یاد ستائی تھی
“میں نے اسے ہر جگہ تلاش کیا ہے شائستہ۔۔۔ مگر وہ کہیں بھی نہیں ہے ” حسن صاحب صوفہ پہ آکر بیٹھے تھے اور اپنا سر ہاتھوں میں گرا لیا تھا
“امی میں فائق بھائی سے معلوم کروں کیا پتہ انہیں پتہ ہو زارون کا ؟؟؟” زارون لاؤنج میں آتے ہوئے بولا تو شائستہ بیگم اور حسن صاحب نے فوراً اس کی طرف دیکھا تھا
“تو کرو نا پوچھ کیوں رہے ہو۔۔۔۔ پہلے کیوں نہیں بولے تم۔۔۔۔ جلدی فون کرو اسے ” شائستہ بیگم دیوانہ وار بولی تھی جبکہ آنکھوں سے آنسو تھے کہ بہے جا رہے تھے
“امی ان کا نمبر تو بند جا رہا ہے ” زارون نے فائق کو کال ملاتے ہوئے کہا
“ان کے گھر کے نمبر پہ کرو ” حسن صاحب نے کہا تو زارون نے فوراً اس کے گھر کال کی اور جو خبر اسے ملی تھی گویا پہاڑ سر پہ آگرا ہو اس سے بولنا محال ہو رہا تھا
“کیا ہوا ہے کچھ پھوٹووو بھی اب منہ سے ” حسن صاحب ہارون کو کنگ دیکھ بولے تو ہارون نے بولنا شروع کیا
“فائق۔۔۔ فائق بھائی اور ان کے ساتھیوں کو پولیس والوں نے پکڑ لیا تھا نشہ کرتے ہوئے ۔۔۔ سب جیل میں ہیں اس وقت ” ہارون اتنا کہ کر چپ ہوا
“اور اور زارون ؟؟؟ ” حسن صاحب بمشکل بولے
” پولیس والوں نے ان سب کو بہت بری حلات میں پکڑا تھا اور ان سب نے پولیس والوں کے ساتھ مار پیٹ بھی کی جس میں زارون شامل تھا اور اور اس لڑائی میں اس کا قتل ہو گیا ہے ” ہارون یہ کہتے ہی صوفہ پہ جا بیٹھا تھا جبکہ یہی کچھ حالت حسن صاحب اور شائستہ بیگم کی بھی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اوففففف۔۔۔ شکر جان چھوٹی پیپرز سے۔۔۔ مصیبت پتہ نہیں کیوں ہیں یہ ہماری زندگی میں ” سب ہال سے پیپر دے کر نکلے تو لائبہ ایک دم چڑ کر بولی تھی
“ہاں صحیح …….” حرا کہتے کہتے ایک دم چپ ہوئی اور نیلم کو ایک دم پکڑا
“کیا ہوا ہے حرا ٹھیک ہو؟؟” نیلم حرا کے اس طرح پکڑنے سے گھبرائی تھی جبکہ نیلم کی آواز سے باقی سب جو کیفے جا رہے تھے اس کی آواز پہ حرا کی طرف مڑے
“کیا ہوا ہے ؟؟؟” غازیان ایک دم بولا
“کچھ نہیں ہوا ٹھیک ہوں میں ۔۔۔۔ شاید اتنے دنوں سے نیند نہیں نا پوری اور آج تو ناشتہ بھی نہیں کیا تھا میں نے۔۔۔ تو بس شاید اسی لیے چکر آ گیا تھا ” حرا نے سنبھلتے ہوئے کہا
“اچھا اچھا ٹھیک۔۔۔ چلو اب کیفے اور پھر گھر چلتے ہیں سوجانا پھر سکون سے ” غازیان نے کہا تھا اور پھر وہ سب کیفے کی طرف چل پڑے تھے جبکہ غازیان نے حرا کا ہاتھ تھامے رکھا تھا
“غازیان میرا ہاتھ چھوڑو سب دیکھیں گے ” حرا کافی دیر بعد جب سنبھلی تو اس نے نوٹ کیا کہ اس کا ہاتھ غازیان کی گرفت میں تھا
“ہاں تو کیا ہوا بیوی ہو میری ۔۔۔۔ اور اب بس چپ کوئی بحث نہیں۔۔۔۔۔ ششش ” غازیان نے حرا کو کچھ بھی بولنے سے بعض رکھا تو حرا بھی آخر کیا کہتی چپ چاپ غازیان کا ہاتھ تھامے یونی میں گھومتی رہی.
جاری ہے
