Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16
حسن صاحب سہی غصے میں گھر میں داخل ہوئے تھے اور آتے ہی لاؤنج میں پڑے خوبصورت سے واز کو اٹھا کر زور سے زمین پہ پھینکا تھا جیسے اپنا غصہ ٹھنڈا کر رہے ہوں لیکن وہ کسی صورت کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا
کچھ ٹوٹنے کی آواز پہ سائستہ بیگم فوراً اپنے کمرے سے گھبرائی ہوئی باہر آئی تھیں
اور سامنے زمین پہ پڑے واز کو دیکھا جو کہ ٹکڑے ٹکڑے ہوا وا تھا ۔۔۔ یہ ان کا سب سے مہنگا اور جان سے عزیز واز تھا اور اس کے ٹکڑے ہوا دیکھ ان کے دل کو کچھ ہوا تھا
ابھی وہ یہی صدمہ لیے کھڑی تھیں کہ ان کی نظر سامنے حسن صاحب پہ پڑی جن کا غصے سے برا حال ہو رہا تھا
“کک کیا ہوا ہے حسن ؟؟؟ آپ تو آسیہ کی طرف گئے تھے نا” شائستہ بیگم نے ڈرتے ہوئے کہا تھا مبادا وہ انہیں ہی نا مار دیں
“نام مت لو ان کا اب میرے سامنے۔۔۔ سارے رشتے ناطے توڑ آیا ہوں میں ۔۔ اب میرا کوئی واسطہ نہیں ان سب سے اور وہ حرا اسے تو میں نہیں چھوڑوں گا ” وہ غصے سے پھنکارے تھے
“ہوا کیا ہے بتائیں تو ” اسے ایک طرف خوشی ہو رہی تھی کہ چلو ان لوگوں سے جان چھوٹی لیکن ایک طرف تجسس بھی تھا کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ حسن غصے میں تھا
“وہ آسیہ۔۔۔۔ اس نے حرا کی شادی کروا دی ہے وہ بھی مجھ سے پوچھے بغیر چھپ چھپا کے ۔۔۔ اگر میں نا جاتا تو وہ مجھے کبھی بھی نا بتاتی ۔۔۔ “
“کیااااااااا ؟؟ حرا کی شادی ؟؟؟ لیکن وہ تو سہیل سے ؟؟” اسے دھچکا لگا
“حرا نے سہیل سے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اپنے کسی عاشق کو بلا کر اس سے شادی کر لی۔۔۔۔ ” حسن غصے کی انتہا پہ تھا
“دیکھا میں نا کہتی تھی اس لڑکی کے چال چلن ٹھیک نہیں ہیں ۔۔۔ دیکھا کر لی نا شادی اب ” شائستہ بیگم کو تو اب موقع ملا تھا جلی کٹی سنانے کا
“بس اب میں اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔ مجھے کچھ دیر اکیلا چھوڑ دو ۔۔” حسن صاحب کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے تھے جبکہ شائستہ بیگم ایک طرف خوش تھی کہ چلو سہیل کے ساتھ نا سہی لیکن کم سے کم اس کی شادی تو ہوئی نا ۔۔ جان چھوٹی اس سے۔۔۔ اور دوسری طرف اپنے پسندیدہ واز کے ٹکڑے دیکھ ان کا دل جلا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا کو تھوڑی دیر پہلے ہی ہوش آیا تھا مریم اور مومنہ بیگم دونوں ہی اس کے پاس بیٹھی غازیان کی صحت یابی کی دعائیں کر رہی تھیں کہ حرا ہوش میں آئی اور ان دونوں کو پاس بیٹھے دیکھ ایک دم اٹھ کہ بیٹھی تھی
“حرا بچے تم ٹھیک ہو ؟؟” مومنہ بیگم نے اس سے پوچھا
“غ غازیان ؟؟؟ وہ ک کیسا ہے ؟؟” حرا نے ہکلاتے ہوئے پوچھا
“ابھی کچھ پتہ نہیں چلا ۔۔۔ سب گئے ہوئے ہیں ہسپتال تم فکر نہیں کرو۔۔۔ انشاءاللہ وہ ٹھیک ہو گا ” مریم بیگم نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دلاسہ دیا تھا
“سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔ سب میری غلطی ہے ۔۔۔۔۔۔ سہی کہتے ہیں میرے بابا میں ہوں ہی منحوس۔۔۔۔۔ پہلے اپنے گھر میں کسی کو خوش نہیں کیا اور اب غازیان کو بھی۔۔۔۔۔” حرا کہتے کہتے رو پڑی تھی پہلے ہی باپ کی باتیں دماغ سے نہیں نکلی تھیں اور اسکے بعد غازیان کیساتھ حادثہ اسے حسن صاحب کی باتیں سچ لگی تھیں
“کوئی منحوس نہیں ہو تم۔۔۔ آئندہ یہ فضول بات میں نا سنوں تمہارے منہ سے۔۔۔۔ غازیان کے ساتھ جو بھی ہوا وہ اس کے ساتھ ہونا ہی تھا پھر چاہے تم اس کی زندگی میں آتی یا نا آتی۔۔۔ اس کا اکسیڈنٹ لکھا تھا سو ہو گیا کیسی جاہلوں والی باتیں کر رہی ہو حرا ” عائشہ بیگم ابھی ابھی گھر آئی تھیں اور سیدھا حرا کے کمرے کی طرف آئی اور آتے ہوئے انہوں نے حرا کی سارے بات سن لی تھی اور غصے سے اندر آتے ہوئے کہا تھا
“لیکن خالہ …..”
“بس میں نے کہا نا ۔۔۔۔۔ اب میں کچھ نا سنوں “
“عائشہ غازیان کیسا ہے اب ۔۔؟؟” مریم بیگم نے پوچھا تو عائشہ بیگم نے بھی ڈاکٹر کی کہی بات دہرائی تھی اور اب کمرے میں بیٹھے سبھی کی آنکھیں نم تھی اور سب کے دلوں سے بس غازیان کی صحت یابی کی دعا تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح صبح آسیہ بیگم کو بھی فون کر کے غازیان کے ایکسیڈنٹ کا بتا دیا تھا رات کو نہیں بتایا تھا کہ وہ پریشان ہوتی اس لیے انہیں صبح بتایا اور اب وہ سارے بھی حرا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔۔۔۔ غازیان کو ابھی تک ہوش نہیں آیا تھا کیا پتہ اسے اور جینا تھا بھی یا نہیں ؟؟؟؟
“ہائے ہائےےےے اے میں کی سنیا ؟؟؟ حرا دی شادی غازیان نال او وی چھپ چھپا کے ؟؟؟ تے غازیان دا ایکسیڈنٹ وی ؟؟؟ ” اور یہ ہوئی شینو کی انٹری ۔۔۔ نا جانے کہاں سے انہیں یہ خبر ملی تھی اور اب آسیہ ، عائشہ بیگم اور حرا کے پاس آ کر لاؤنج میں بیٹھی تھیں
“جی بس ۔۔۔۔ جو اللہ کو منظور ” عائشہ بیگم نے اداسی سے کہا
“ہائےےےے کیسے نصیب ہیں بچاری کے۔۔۔۔ پہلے باپ ناراض تھا اور اب شوہر ۔۔۔۔خوشیاں تو راس ہی نہیں اسے۔۔۔۔۔ ویسے دیکھ عائشہ کیسے قدم ہیں اس حرا کے آتے ساتھ ہی تیرے بیٹے کو یہ منح۔۔۔۔” اس سے پہلے کہ شینو اور کچھ جلی کٹی باتیں سناتی حرا کو ۔۔۔
حرا کو سب نے بہت مشکل سے سنبھالا تھا اب وہ کچھ بہتر تھی اور اب وہ لوگ شینو کی اور باتیں اسے سنا کر مزید پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے آسیہ بیگم کا دل دکھا تھا ان کی باتیں سن کہ
“بسسسسس !!!! اب ایک اور لفظ نہیں ۔۔۔ ایسا ویسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ اس دنیا میں جس کے ساتھ جو بھی ہوتا ہے اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔۔۔ اس میں کوئی نا کوئی اللہ کی مصلحت ہوتی ہے ۔۔۔۔ انسان کا کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ پتا نہیں انسان کیسی جاہلوں جیسی سوچ رکھتے ہیں یہ” عائشہ بیگم نے کھری کھری سنائی تھی
ان کی باتیں سن کر حرا کو کچھ سکون ملا تھا کہ کوئی تو ہے اس دنیا میں جو اسے عزت اور اس کے حق میں لڑ سکتا تھا وہ عائشہ بیگم کی باتیں سنتی جا رہی تھی اور خود کو وہ جو غازیان کا قصور وار سمجھ رہی تھی اب کافی حد تک نارمل ہو چکی تھی اور حرا کو پرسکوں دیکھ آسیہ بیگم نے بھی گہرا سانس لیا تھا کی چلو کم سے کم عائشہ بیگم اسے سہارا دیے ہوئے تھیں
“چلو اٹھو حرا ہسپتال چلیں ” عائشہ بیگم کہتی ہوئی اٹھی تھیں اور حرا کو بھی اٹھنے کا کہا تھا وہ نہیں چاہتی تھیں کہ حرا شینو کے سامنے بیٹھے ۔۔۔۔ عائشہ بیگم کی بات سن کر حرا فوراً کھڑی ہوئی تھیں اور پھر عائشہ بیگم حرا اور آسیہ بیگم تینوں غازیان سے ملنے چلے گئے تھے جبکہ شینو منہ کی کھاتی ہوئی اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حرا جب ہسپتال پہنچی تو اسے بہت گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا تھا اس کے ساتھ ۔۔۔ ایک طرف وہ غازیان کے لیے پریشان تھی تو دوسری طرف وہ خود کو اس کا قصور وار سمجھ رہی تھی۔۔۔ اسے نہیں سمجھ آ رہا تھا کہ آخر وہ اس کا سامنا کیسے کرے گی ؟؟؟ عائشہ بیگم کی باتوں سے وہ کچھ مطمئن تھی لیکن پھر بھی اسے فطری جھجھک محسوس ہو رہی تھی کہ آخر غازیان کا کیا ردعمل ہو گا اسے دیکھ کے؟؟؟
حرا سست رفتاری سے چل رہی تھی اسے اپنے پاؤں من من بھر لگ رہے تھے جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہی تھی جبکہ عائشہ بیگم تقریباً بھاگتی ہوئی پہنچی تھی ان سب کے پاس جہاں سلیم صاحب مصطفی ، جاوید ، ابراہیم صاحب اور ارقم اسامہ بیٹھے ہوئے تھے
رات سے وہ سب ادھر ہی تھے لیکن غازیان سے ابھی تک نہیں ملے تھے۔۔۔۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ اس کا اپریشن کیاجائے گا ہاتھ اور ٹانگ کا لیکن اسے ہوش کب آئے گا یہ کسی کو نہیں معلوم تھا
“بے شک زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے “
“کدھر ہے میرا بچہ ؟؟ وہ ٹھیک تو ہے نا ؟؟” عائشہ بیگم پریشانی سے بولی تھیں
“پریشان نہیں ہو بیگم ۔۔۔ انشاءاللہ غازیان بلکل ٹھیک ہو جائے گا۔۔ ڈاکٹرز اپریشن کر رہے ہیں اس کا ۔۔۔۔ ابھی آیا ہے سرجن ۔۔۔ تم لوگ بس دعا کرو ” مصطفی صاحب نے انہیں سمجھایا
“ہمممم” وہ بس اتنا ہی کہ سکی تھیں اور پھر حرا کو لے کر پاس پڑے بینچ پر بیٹھ گئی تھیں
آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آئے اور اپریشن کامیاب ہونے کی نوید سنائی تھی سب نے جیسے سکھ کا سانس لیا تھا ڈاکٹر کی بات سن کر
“ان کا آپریشن تو کامیاب ہو گیا ہے لیکن اگلے بارہ گھنٹے بہت اہم ہیں ان کے لیے۔۔۔ انہیں جلد ہوش آنا چاہے۔۔۔ ورنہ وہ قومہ میں بھی جا سکتے ہیں۔۔۔۔ آپ لوگ دعا کیجئیے سر کی چوٹ زیادہ گہری تو نہیں ہے لیکن ابھی پھر بھی کچھ کہا نہیں جاسکتا”
“ہم ان سے کب مل سکتے ہیں ؟؟” اسامہ نے بے چینی سے کہا تھا
“ابھی انہیں روم میں شفٹ کر دیں گے پھر ایک ایک کر کے آپ لوگ مل سکتے ہیں ” ڈاکٹر کہتے ہوئے چلا گیا تھا جبکہ وہاں کھڑے سب نفوس کی جان میں جان آئی تھی کہ کم سے کم آپریشن کامیاب ہوا اب بس اس کے ہوش میں آنے کی دیر تھی
………………….
غازیان کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا اور اب سب اس سے ملنے کے لیے بےچین تھے چونکہ ایک ایک کر کے ملنے کا کہا گیا تھا تو عائشہ بیگم نے حرا کو پہلے جانے کا کہا تھا لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا تھا
“خالہ پہلے آپ چلی جائیں میں بعد میں چلی جاؤں گی پلیز “
آخر عائشہ بیگم اس سے ملنے چلی گئی تھی اور اندر کا منظر دیکھ کہ ان کے دل کو کچھ ہوا تھا جہاں سامنے پڑے بیڈ پہ غازیان پٹیوں میں جکڑا ہوا بے سود سو رہا تھا
عائشہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے اپنے بیٹے کی یہ حالت دیکھ کہ ۔۔۔ وہ اس کے پاس آ کر کھڑی ہوئی
“مجھے معاف کر دو میرے بچے !!! میں نے ہمیشہ تم پہ غصے کیا ہمیشہ تمہیں برا بھلا کہا۔۔۔ میرا مقصد ہر گز تمہارا دل دکھانا نہیں تھا میرے بچے ۔۔۔۔ تم اتنے بڑے ہو گئے لیکن عقل بلکل بھی نہیں ہے اور شرارتیں دیکھی ہیں اپنی۔۔۔ مجھے ہمیشہ ڈانٹنے پہ مجبور کیا ہے تم نے۔۔۔۔ اور اب بھی مجھے تم پہ بہت غصہ آرہا ہے۔۔۔ اب کوئی ایسا کرتا ہے بھلا ؟؟؟؟ مجھ سے ناراض ہو کر یہ حالت بنا لی ہے تم نے اپنی۔۔۔اور اب دیکھو کیسے مجھے دکھ دے کر خود مزے سے سو رہے ہو ۔۔۔ چلو اٹھو فوراً بس بہت ہو گیا آرام اب۔۔۔ اٹھو اور سنبھالو اب اپنی زمہ داری کو ۔۔۔۔ ایک عدد بیوی بھی ہے اب تمہاری ۔۔۔ اگر اسے تنگ کیا نا تو دیکھنا جوتے کھاؤ گے مجھ سے پھر۔۔۔۔۔۔” عائشہ بیگم ہر چیز سے انجان غازیان پہ گویا برس پڑی تھی لیکن ان کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے لیکن خود اپنی ہی باتیں سن کر ہنسی بھی تھی ۔۔۔ پھر آگے ہو کر غازیان کے ماتھے پہ اپنے لب رکھے تھے اور ایک گہرا سانس لیا تھا ۔۔۔۔۔ کافی دیر وہ اسی طرح کھڑی رہی تھیں اور پھر غازیان کی طرف دیکھے بغیر باہر چلی گئی تھیں یہ جانے بغیر کہ غازیان کو ہوش آگیا تھا
“حد ہے اماں ابھی بھی غصہ کر کے گئی ہیں لیکن خیر پیار بھی بڑا کرتی ہیں. ہائے صدقے … ” وہ دل ہی دل میں سوچ کر مسکرایا تھا
عائشہ بیگم باہر آئی تو سب نے اصرار کر کے حرا کو اندر بھیجا تھا ۔۔۔ حرا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر چلی گئی تھی
غازیان نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں سے حرا اندر آ رہی تھی۔۔ غازیان نے حرا کے دیکھنے سے پہلے ہی اپنی آنکھیں بند کر دی تھی تاکہ اسے لگے کہ وہ ابھی تک بےہوش ہے
حرا کی نظر غازیان پہ پڑی تو اس سے دیکھا نا گیا تھا وہ نظریں جھکائے غازیان کے بیڈ کے پاس پڑے سٹول پہ جا بیٹھی تھی
اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو گھورتی ہوئی وہ بات کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈ رہی تھی اسے نہیں سمجھ آ رہا تھا کہ آخر غازیان سے کیا بولے. ؟؟؟
جبکہ غازیان نے حرا کو مسلسل چپ دیکھ ہلکی سی آنکھیں کھول کر دیکھا تو حرا نظریں جھکائے بیٹھی تھی اور اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مڑور رہی تھی
“ویسے تو میڈم چپ نہیں کرتی تھیں اور اب دیکھو کیسے معصوم سی شکل بنائے چپ بیٹھی ہے ” غازیان نے سوچا تھا
“بی بی کچھ تو بولو ……. تمہارے بھی تو دل کی بات سنوں نا میں….” اس حالت میں بھی اسکی شرارتی رگ پھڑکی تھی
“غازیان دیکھو نا تمہیں میری نحوست نے یہاں تک پہنچا دیا ۔۔۔۔۔۔ میرے اپنے والد محترم کا کہنا ہے کہ میں بچپن سے منحوس ہوں۔۔۔ آخر مجھے سمجھ نہیں آتا میں نے ایسا کیا کیا ہے بچپن سے لے کر اب تک جو مجھے منحوس قرار دیا جاتا ہے ؟؟؟؟ صرف یہ کہ میں بہت بولتی ہوں یا اپنا حق مانگتی ہوں ؟؟؟؟ آج صبح شینو خالہ بھی آئی تھیں وہ بھی یہی سب کہ کے گئی تھیں کہ تمہاری حالت کی زمہ دارمیں ہوں ؟؟ کیوں آخر کیوں ہر برے کام کی زمہ دار میں ہوتی ہوں ؟؟؟ عائشہ خالہ نے مجھے بہت سمجھایا کہ جو انسان کے نصیب میں ہوتا ہے وہی ہوتا اس کے ساتھ لیکن پھر بھی ان سب باتوں کو سوچ کر میں خود کو ہی قصور وار ٹھہراتی ہوں ۔۔۔۔ کیا تم بھی مجھے اپنا مجرم سمجھتے ہو ؟؟ تم بھی سب کی طرح مجھ سے بد گمان ہو گے ؟؟؟ کاش اس سہیل سے ہی شادی ہو جاتی کم سے کم تمہیں تو کچھ نا ہوتا نا ” حرا روتے ہوئے اپنے دل کا حال غازیان کو سنا رہی تھی یہ سمجھ کر کہ غازیان ہوش میں نہیں تھا تو اپنا دل ہلکا کر لے لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنا دل اپنے ہی محرم کے سامنے ہلکا کر رہی تھی جس نے اس کی ایک ایک بات سنی تھی۔۔۔ حرا نے روتے ہوئے سر اپنے ہاتھوں پہ گرا لیا تھا
“ہاہہ … ہاائے.. وہ سہیل وہ… چھیلا ہوا آلو …. ” غازیان کی زبان پھسلی تھی غازیان کو تو اب پتا چلا تھا کہ حرا کی شادی کس سے ہو رہی تھی
“فٹے منہ غازی تیرا … ” غازیان کی بات پہ حرا اچھل کر رہ گئی تھی پتا نہیں کیوں یہ جنوں والی حرکت کرتا تھا لیکن پھر اور زوروں سے رونا شروع کر دیا تھا
“ائےےے بس چپ۔۔۔ چپ ہو جاؤ ۔۔۔۔ مت رو اتنا ۔۔۔۔۔ میرا ایکسیڈنٹ میری اپنی وجہ سے ہوا تھا نا کہ تمہاری وجہ سے۔۔۔۔ تم خود کو کیوں قصور وار سمجھتی ہو؟؟ اب کیوں رو رہی ہو ” غازیان کی آواز پہ حرا چونکی اور ایک دم سر اٹھا کر دیکھا تھا
“تم تمہیں ہوش آگیا … ” حرا نے روتے ہوئے پوچھا
“ہاں جی ہوش آ گیا اور بہت اچھے ٹائم پہ آیا ہے ورنہ میں یہ سب مس کر دیتا اور تم اسلیے رو رہی ہو کہ مجھے ہوش آگیا ” غازیان نے ہلکا کا مسکرا کر کہا
“دفع ہو جاؤ یہاں میں رو رہی ہوں پریشان ہوں اور تم ہو کہ ہنس رہے ہو ۔۔۔۔۔ شرم کرو سب کو پریشان کیا ہوا ہے کل سے ” حرا تو اس پہ ہی چڑ دوڑی تھی اپنی جھجھک مٹانے کے لیے
“کوئی بات نہیں سب نے مجھے بھی تو پریشان کیا تھا جس کی بدولت آج میں اس حال میں ہوں۔۔۔۔ آخر انہیں بھی تو تھوڑا پریشان کرنا تھا نا ” اس نے حرا کو آنکھ مارتے ہوئے کہا
“شرم کرو ۔۔۔۔۔ مجھے آنکھ مار رہے ہو “
“اس میں شرم کیسی۔۔۔ بیوی ہو میری ” غازیان نے اسے پھر آنکھ ماری
“افففففففف۔۔۔۔۔ میں سب کو بلا کر لاتی ہوں ۔۔۔” حرا کہتے ہوئی دروازے کی طرف بڑھی اور باہر جا کر سب کو غازیان کے ہوش میں آنے کا بتایا تھا سب نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا تھا اور پھر غازیان سے ملنے کے لیے گئے تھے ساتھ ہی ڈاکٹر کو بھی اطلاع دے دی گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف خوشی کا سا سماع تھا سب غازیان کے ٹھیک ہو جانے سے بہت خوش تھے۔۔۔ غازیان سے ملنے سب آتے تھے روز ۔۔ اسے ہسپتال میں دو دن ہو گئے تھےاور اب نیلم لائبہ حرا اسامہ اور ارقم اس کے پاس بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ منان روم میں آیا
“بہت بہت مبارک ہو تم سب کو ” منان نے خوشی سے بولا
“کس چیز کی مبارک دے رہے ہیں بھائی ؟؟ یہ یہ اس نالائق کے ٹھیک ہونے کی جس نے بدلا لیا سب سے ۔۔۔ ہمارا بھی نہیں سوچا اس بغیرت نے ۔۔۔۔ بھئی اب اس سب میں ہم دونوں کا کیا قصور تھا ایویں ہمارے آنسو ضائع کیے اس نا لائق نے” ارقم نے اسامہ کے کندھے پہ سر رکھتے ہوئے فرضی آنسو صاف تھے
“ارے تم سب پاس ہو گئے ہو ٹیسٹ میں ۔۔۔اب یونی کی تیاری پکڑو سب۔۔۔۔ ایک مہینے بعد کلاسس سٹارٹ ہیں اور ارقم جسے تم نالائق کہ رہے ہو نا اسی نے زیادہ نمبر لیے ہیں تم سے ” منان نے گویا بم پھوڑا تھا ان پہ اور ان سب کی آنکھیں حیرت سے کھلی تھی
یعنی کہ پھر سے دھوکا ………… ارقم اسامہ ساتھ بولے تھے
” کمینے … تو نے پھر زیادہ نمبر لے لیے ہم سے۔۔۔۔۔۔ ” اسامہ نے تو باقائدہ اس کا گلا پکڑ لیا تھا
“ارے ارے کیا کر رہے ہو “اسامہ درد ہو گا اسکو … حرا ایک دم بولی اور پھر شرمندہ ہوئی کہ ان سب کے سامنے کیا بول گئی تھی وہ
“اوے ہوئےےےےے !!! بڑی فکر ہو رہی ہے ؟؟؟” نیلم اور لائبہ دونوں ایک ساتھ شرارت سے بولی تو حرا نے نظریں جھکا لی تھی جبکہ غازیان نے حرا کی طرف ایک نظر ڈالی تھی جو کہ سرخ چہرہ جھکائے کھڑی تھی ۔۔۔ نا جانے کیوں اسے دو دنوں میں ہی اس سے اپنایت محسوس ہونا شروع ہو گئی تھی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے وہ اسے پکارتا تھا اور حرا بھی چپ چاپ کر دیتی تھی ۔۔۔ غازیان اسے نارمل لائف کی طرف لانا چاہتا تھا تا کہ وہ اس کے کاموں میں مصروف رہے اور ہر منفی سوچ کو بھول جائے
“کمینے چھوڑ میرا گلا ۔۔۔۔۔ دیکھ صرف میرے ہی نہیں بلکل نیلم کے بھی زیادہ نمبر ہونے ہیں ۔۔۔ لکھوا لے مجھ سے ” غازیان نے حرا پر سے نظریں ہٹا کر اسامہ کو حقیقت بتائی بلکہ اپنے اوپر کا ملبہ نیلم پہ پھینکا تھا
“کیااااا ؟؟؟ نیلم کے بھی ؟؟؟” اسامہ نے منان سے پوچھا تھا
“ہاں جی ۔۔۔ غازیان اور نیلم کے سیم مارکس ہیں جبکہ تم سب کے سیم ان دونوں سے پانچ نمبر پیچھے ہو …. ویسے تمہیں کیسے پتہ غازیان کے نیلم کے بھی زیادہ مارکس ہوں گے ؟؟؟”. منان نے تجسس سے کہا
“وہ وہ۔۔۔ وہ نا بھائی اصل میں ہم دونوں کی لکھائی بہت اچھی ہے تبھی بس زیادہ نمبر مل جاتے ہمیں ” نیلم کی طرف سے جواب آیا تھا کہیں بھانڈا نا پھوٹ جائے لیکن نہایت ہی بونگا بہانہ ڈھونڈا تھا اسکا اندازہ اسے بعد میں ہوا تھا
“دفع ہی ہو جاؤ میسنوں !!! اللہ پوچھے تم لوگوں کو۔۔۔ حد ہے ۔۔۔ ہر کام ہم ساتھ کرتے ہیں پھر بھی تم لوگ زیادہ نمبر لے لیتے ہو ” ارقم نے منہ پھولاتے ہوئے کہا تھا
“بس دیکھ لو پھر ” نیلم نے اسے چڑایا
“ایک منٹ ایک منٹ…..ویسے ایک بات تو بتاؤ ۔۔۔۔ ” حرا کچھ سوچتے ہوئے بولی
“ہاں بولو ” سب نے یک دم کہا
“یہ لکھائی کہاں سے آئی ؟؟؟ جہاں تک مجھے یاد ہے ٹیسٹ میں تو MCQ’s تھے نا اور دو سوال تھے بس ؟؟؟ تو کیا صرف ان دو سوالوں پہ پاس ہوئے ہو تم دونوں اور ایک سوال تو ہمیں آتا ہی نہیں تھا تم لوگ پیچھے تھے تم نے بھی کہا تھا کہ نہیں آتا ؟؟؟” حرا نے کہا تو سب کو ایک دم یاد آیا ۔۔۔
“اوئےےے ہاں !!!” لائبہ نے کہا اور فوراً نیلم کی طرف دیکھا تھا
“ہیلو ؟؟ جی امی .. امی آواز نہیں آ رہی رکیں میں کمرے سے باکر جاتی ہوں!!!” نیلم جھوٹی کال اٹھاتی ہوئی ان سب کی توپوں کا رخ اپنی طرف دیکھ روم سے باہر چلی گئی تھی جبکہ اب باری تھی غازیان کی۔۔۔ جو کہ سب کی نظروں کا تعاقب بنا ہوا تھا
“ہاں جی!!بتائیں گے آپ یا آپ کو بھی کوئی کال آرہی ہے ؟؟؟ نی نی دیکھ لو شاید مامی کال کر رہی ہوں تجھے ” اسامہ نے غازیان کے گال کھینچ کر کہا
“دفع ہو۔۔۔۔۔۔۔ اتنی زور سے کون گال کھینچتا ہے ؟؟ الووو” غازیان نے اپنا گال سہلاتے ہوئے کہا
سچ سچ بتا تو نے وہ والا سوال بھی لکھا تھا کیا … غازی سے ارقم نے پوچھا .
لیکن اس کے جواب دینے سے پہلے ہی ڈاکٹر روم میں داخل ہوا تھا غازیان نے گویا سکھ کا سانس لیا تھا کہ
“شکر اس کی جان چھوٹی ان سے ” کیا بتاتا انکو کہ دونوں نے خود سے کہانیاں لکھی تھی اب انکو نمبر مل گئے تو اس میں انکی کیا غلطی
ڈاکٹر نے اس کا چیک آپ کرنا تھا تو سب کو باہر بھینج دیا تھا اور پھر غازیان کے زخموں کو دیکھنے لگا تھا جبکہ وہ سب باہر آ گئے ۔۔۔ سب بڑوں کو گھر آرام کرنے بھیج دیا گیا تھا جبکہ بچہ پارٹی غازیان کے سر پہ مسلط کر دی گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے غازیان کا فل چیک آپ کیا تھا اس کے زخم کافی حد تک بہتر تھے اب اور باقی کی رکورری آہستہ آہستہ ہونی تھی تو اسے ڈاکٹر نے ڈیسچارج کر دیا تھا اور اب وہ سب گھر جانے کی تیاریوں میں تھے ۔۔۔ بڑوں کو غازیان کے ڈسچارج کا بتا دیا گیا تھا اور اب گھر میں بھی اس کے استقبال کی تیاریاں چل رہی تھیں
غازیان کے ہاتھ اور پاؤں کا آپریشن ہوا تھا تو ڈاکٹر نے ڈھیر ساری ہدایات بتائی تھی اسامہ اور ارقم نے وہاں سے رفو چکر ہو گئے تھے تو لاچار حرا کو ہی سب سننا تھا ۔۔۔۔ ڈاکٹر کے جانے کے بعد حرا تپی ہوئی اسامہ اور ارقم کے پاس آئی . وہ دونوں جان کر اس سے غازیان کے سارے کام کروا رہے تھے
“بدتمیزوں مجھے ڈاکٹر کے پاس چھوڑ کر آگے دونوں “
“ہاں تو اب اپنے لنگڑے شوہر کو خودی سنبھالو نا ہم سے تو یہ کام نہیں ہوتا۔۔۔ سوری ” ارقم نے تو فل ہری جھنڈی دکھائی تھی
حرا نے اسامہ کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا
“دیکھو۔۔۔۔ اب جو بھی ہے ۔۔ ہے تو تمہارا ہی شوہر نا ۔۔ سو اب سارے کام خودی کرو اس کے ۔۔۔ اب ہم تو کرنے سے رہے ” اسامہ نے غازیان کو آنکھ مارتے ہوئے کہا تھا جو کہ کب سے ان تینوں کے بحث سن رہے تھا۔۔۔ اسامہ کی بات سن کر مسکرایا
“کچھ نہیں ہو سکتا تم لوگوں کا ” حرا غصے سے کہتی ہوئی چل پڑی
“بیوی بنا کر لائے ہو یا نوکرانی ؟؟؟ ہنن” حرا غصے سے پھنکاری۔۔۔ جب سے ان کی شادی ہوئی تھی غازیان صاحب کا تو خیر سے ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا اور تب سے ہی وہ ہسپتال میں تھی اس کے ساتھ کبھی کچھ کرتی تو کبھی کچھ ۔۔۔ لیکن پھر بھی ہسپتال میں باقی بھی مدد کر دیتے تھے لیکن اب گھر میں ۔۔۔ اففففففف کیسے کروں گی میں “
“حرا پریشان نا ہو۔۔۔ بیویوں کو ہی سنبھالنا ہوتا ہے نا آخر اپنے شوہروں کو ۔۔۔۔۔ توبس اسے کچھ دن کی آزمائش ہی سمجھ لو اور غازیان کو ٹھیک ہونے میں مدد دو۔۔۔ تمہارا ہی فائدہ ہے ” نیلم نے اسے تنگ کرتے ہوئے کہا
“اچھا جی۔۔۔ آپ کو بہت پتہ ہے اس سب کا۔۔۔ سب جانتی ہوں میں تمہاری حرکتیں ۔۔۔ تم جو ہوں گھور گھور کہ دیکھ رہی تھی نا اسامہ کو۔۔۔ شکر کرو کسی بڑے نے نہیں دیکھ لیا ورنہ اپنی خیر مناتی تم۔۔۔۔ بڑی آئی مجھے سمجھانے۔۔۔ خود کبھی بات کی ہے گھر میں اسامہ کی ؟؟؟ “حرا نے تو نیلم کے چھوکے اڑا دیے تھے۔۔ وہ جو سمجھ رہی تھی کہ وہ چھپ چھپ کہ اسامہ کو دیکھتی تھی اس حرا کو سب معلوم تھا
“یار میں کیسے بات کر سکتی ہوں گھر میں ۔۔۔۔” نیلم کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اسے سامنے سے اسامہ اور ارقم نظر آئے تھے جو کہ غازیان کو ویل چیئر کی مدد سے گاڑی تک لا رہے تھے
“اب بھی یہ کام کرنے کی کیا ضرورت تھی .؟؟ میں کر لیتی !!! اتنا احسان کر دیا تم لوگوں نے مجھ پہ میرا شوہر ہے میں خود ہی سنبھال لوں گی تم لوگ نا اپنی جانوں کو استعمال کرو بلکہ سنبھال کر زنگ لگنے کیلیے رکھ دو ” حرا نے طنز اور غصے سے کہا جبکہ غازی مسلسل اسکی باتیں سن کر مسکرا رہا تھا اور باقی سب کا ارقم کو اسامہ کی عزت افزائی پہ قہقہہ گونجا تھا
“وہ ہم نے سوچا کیوں نا تھوڑا ترس کھا لیا جائے تم پہ۔۔۔تو بس۔۔۔۔ لیکن زیادہ پھیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ صرف ابھی کر رہا ہوں سب ” اسامہ نے کہا اور ساتھ ہی ساتھ غازیان کو آرام سے گاڑی میں بھی بیٹھایا تھا
اور پھر حرا بھی ناک منہ چڑھاتی ہوئی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی
پھر سب گھر کے لیے روانہ ہوئے تھے.
جاری ہے
