Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33
آج ایمن اور منان کے نکاح کا دن تھا ۔۔۔ ہر طرف گہما گہمی تھی چنچل محلہ کی یہی تو خاصیت تھی خوشیاں دو گھروں میں تھیں لیکن پورا محلہ انکی خوشیوں میں شامل تھا
“حرا جلدی سے آجاؤ باہر بارات آگئی ہے ” آسیہ بیگم نے جلدی سے حرا کو بلایا تھا جو ایمن کے پاس بیٹھی تھی ایک دم بھاگ کر باہر آئی تھی جبکہ سامنے سے آتی نیلم اور لائبہ اس سے مل کر جلدی سے اندر کی طرف بڑھی تھیں
“ایمن آپی بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ ماشاء اللہ ” لائبہ نے جلدی سے ایمن سے ملتے ہوئے کہا تھا تو ایمن کی آنکھیں جو صبح سے بار بار بھیگ رہی تھی ایک دفعہ پھر نم ہوئی تھی
“ارے آپی آپ رو کیوں رہی ہیں کونسا بہت دور جا رہی ہیں یہیں پاس میں تو ہوں گی” نیلم اسکو روتا دیکھ ایک دم اداس ہوئی تھی بے شک اسکے بھائی کی شادی تھی لیکن ایمن اسے بلکل اپنی بہنوں کی طرح عزیز تھی
“دور جانے کی بات نہیں ہے پاگل لڑکی . چاہے جتنا پاس جا رہے ہو لیکن ماں باپ کو چھوڑ کر جاتے ہوئے آنکھیں نم ہو ہی جاتی ہیں ” مومنہ بیگم نے اندر آتے ہوئے نیلم کی بات سن کر کہا تھا اور پھر بیڈ پر تیار بیٹھی ایمن کو پیار کیا تھا جس پہ آج خوب روپ آیا تھا
پھر تھوڑی دیر کے بعد نکاح کی رسم ادا ہوئی تھی تب ایمن کا ضبط ٹوٹا تھا اور وہ حسن صاحب کے ساتھ لگ کر خوب روئی تھی تو وہاں سب کی بھی آنکھیں نم ہو گئی تھیں.
لاؤنج میں ہی سجاوٹ کی گئی تھی چھوٹا سا اسٹیج بنایا گیا تھا
ایمن حرا اور لائبہ کہ تقلید میں چلتی ہوئی آئی تھی . جبکہ منان نے جی بھر کر اسکو دیکھا تو دل میں سکون کی لہر دوڑی تھی جس سے اسنے پیار کیا تھا وہ آج اسکی محرم تھی اس کی زندگی میں شامل تھی اسکی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا تھا جب ایمن کو اسکے پہلو میں لا کر بٹھایا گیا تھا …
“نکاح مبارک بیگم !!!” منان نے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی جبکہ ایمن کے ہونٹوں کو بھی مسکراہٹ نے چھووا تھا
“آپکو بھی نکاح مبارک ” دھیمی سی آواز میں جواب دیتی وہ منان کے ہونٹوں پہ جاندار مسکراہٹ بکھیر گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“دیکھو آسیہ میں چاہتی ہوں کہ آج ہی ایمن کی رخصتی بھی ہوجائے ” مشال بیگم آسیہ بیگم کے پاس کمرے میں آئی
“لیکن ایسے کیسے اتنی جلدی میں نے تو کچھ لیا بھی نہیں ایمن کے لیے ابھی ” آسیہ بیگم حیران ہوئی
“مجھے کوئی جہیز وغیرہ نہیں چاہیے آسیہ ۔۔۔ مجھے بس ایمن چاہیے تھی وہ مل گئی بس اب میں آج ہی رخصتی بھی چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔ جہیز چاہیے نہیں تو بس ایمن اب ہماری ہوئی ” مشال بیگم نے کہا تو آسیہ بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے
“شکر ان کی دونوں بیٹیوں کو سسرال اچھا ملا تھا اللہ اس دنیا میں ہر لڑکی کا نصیب اچھا کرے آمین ” آسیہ بیگم نے دل میں دعا دی اور مشال بیگم کے گلے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بیگم تم کم ہی بھاگ دوڑ کرو پھر کہو گی تھکاوٹ کی وجہ سے چکر آرہے ہیں” غازیان نے حرا کو مسلسل کام کرتے دیکھ کہا تھا پچھلے کئی دنوں سے حرا کی طبیعت خراب تھی لیکن وہ پیپرز اور ایمن کی شادی کی تیاریوں کی وجہ سے چیک اپ نہیں کرا سکی تھی
“غازیان کام بھی تو کرنا ہے نا میں نے اب ۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد میں پتہ ہے نا مہمانوں کا باتیں بنائیں گے ” حرا کچن میں جاتے ہوئےبولی تھی تو غازیان بھی اسکے ساتھ گیا تھا پھر پورا وقت وہ حرا کی نا نا کرنے کے با وجود اسکی مدد کرواتا رہا تھا اور پھر وہ وقت آیا تھا جو ہر لڑکی کیلیے بہت مشکل ہوتا ہے .
ایمن بھی سب کی آنکھیں نم کرتی اور سب کی دعائیں لیکر رخصت ہوئی تھی بہنوں سے اور ماں سے لپٹ کر وہ اتنا روئی تھی کہ سب کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند رسموں کے بعد ایمن کو منان کے کمرے میں بھیج دیا گیا تھا ۔۔۔ منان نے کمرے کو بہت خوبصورتی سے سجوایا تھا ہر طرف گلاب کے پھول ہی پھول تھے
ایمن کمرے میں داخل ہوئی تو اسے گلاب کی خوشبو آئی جو کہ اسے بہت بھلی لگ رہی تھی لیکن اسے اپنے سحر میں قید کیے ہوئے تھی ۔۔۔۔ ماحول اور حالات ہی ایسے تھے کہ ایمن کو گھبراہٹ ہوئی تھی
“آپ یہاں بیٹھیں بھائی آتے ہوں گے ” نیلم نے اسے بیڈ پہ بیٹھایا اور ایمن کو شرارت سے کہتے ہوئے کمرے سے نکل آئی جبکہ ایمن گھبراہٹ سے اب اپنے ہاتھ مسل رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان کمرے میں آیا تو اس کی نظر سامنے بیڈ پہ لیٹی حرا پہ پڑی جو کہ آڑی ترچھی ہو کر لیٹی ہوئی تھی
“حرا ۔۔۔ حرا ایسے کیوں لیٹی ہوئی ہو سہی ہو کر لیٹو نا ۔۔۔ میں کہاں سوؤں گا اب ۔۔ اٹھو ” غازیان اپنے ہی دھن میں حرا سے باتیں کر رہا تھا لیکن جب کافی دیر حرا نا بولی تو آخر غازیان حرا کے پاس آیا اور اسے ہلایا تو حرا نے بمشکل آنکھیں کھولی تھیں
“کیا ہوا حرا تم تمہاری طبیعت ٹھیک ہے ؟؟” غازیان نے گھبرا کر حرا سے پوچھا تھا اسکا چہرہ پورا ہلدی کی ماند ہو رہا تھا آنکھیں بھی اسنے بمشکل کھولی تھیں
“چکر آرہے ہیں غازیان سر گھوم رہا ہے میرا ” حرا نے کہہ کر پھر سے آنکھیں موند لی تھیں
غازیان نے جلدی سے اسے سنبھال کر اٹھایا تھا اور اس کے سر پہ چادر لپیٹی تھی اور پھر اسے اٹھا کر باہر کی طرف بڑھا تھا حرا نے بھی کوئی مزاحمت نہیں کی تھی اب وہ بھی گھبرا گئی تھی اپنی طبیعت کی وجہ سے
عائشہ بیگم جو کچن سے نکل رہی تھیں غازیان پہ نظر پڑی جو کہ حرا کو اٹھائے تیزی سے کمرے سے نکلا تھا تو ایک دم گھبرائی تھیں
“اللہ خیر .اسے کیا ہوا غازیان ” عائشہ بیگم گھبراہٹ سے بولی
“پتہ نہیں امی طبیعت زیادہ خراب ہے اسکی چکر آرہے ہیں میں اسے ڈاکٹر کے لے جارہا ہوں ” غازیان سیڑھیاں نیچھے اترتے ہوئے بولا
“اچھا رکو میں بھی آئی ” عائشہ بیگم نے جلدی سے چادر لی اور غازیان کے ساتھ حرا کو لے کر ڈاکٹر کے چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمن کو رخصت کرنے کے بعد اب لاؤنج میں غزالہ بیگم کے ساتھ حسن صاحب اور آسیہ بیگم بیٹھی ایمن کو یاد کر رہی تھیں اور اسے ڈھیروں دعائیں دے رہی تھیں کہ شائستہ بیگم ایک دم آسیہ بیگم کے پاس آئیں اور ان کے گلے لگ کر رو دی تھیں
شائستہ بیگم کے اس طرح رونے اور گلے لگنے سے آسیہ بیگم حیران ہوئی تھیں کہ یہ اچانک شائستہ بیگم کو کیا ہوا ۔۔۔۔ غزالہ بیگم نے انہیں دیکھ ایک لمبا سانس خارج کیا تھا جبکہ آسیہ بیگم نے سامنے بیٹھے حسن صاحب کو دیکھا جو کہ سر جھکائے بیٹھے تھے
“حوصلہ کریں شائستہ اللہ کی امانت تھی اسنے لے لی آپ اسکے لیے دعا کیا کریں ” آسیہ بیگم نے انہیں خود سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا وہ جانتی تھی وہ زارون کو یاد کر رہی ہوں گی. ہفتہ پہلے یہ خبر ان سب پہ ہی قیامت بن کر گری تھی سب نے کہا تھا کہ وہ ایمن کا نکاح دیر سے کر دیتے ہیں لیکن شائستہ بیگم نے یہ کہہ کر منع کر دیا تھا کہ وہ اب اور ان لوگوں کی خوشیاں خراب نہیں کرنا چاہتیں
“مجھے۔۔۔ مجھے معاف کر دو آسیہ۔۔۔ میں نے تمہارے اور تمہاری بچیوں کے ساتھ بہت برا کیا ہے آسیہ ۔۔۔ تبھی اللہ نے مجھے ایسی سزا دی ۔۔۔۔۔۔ ” شائستہ بیگم روتے ہوئے بمشکل بولی تھیں پچھلے ایک ہفتے سے انکی زبان سے بس یہی الفاظ نکل رہے تھے وہ کہی سے بھی وہ شائستہ نہیں لگ رہی تھی جسکے غرور کی وجہ سے پاؤں ہی نہیں ٹکتے تھے
“حوصلہ رکھو شائستہ اللہ تمہیں صبر دے” آسیہ بیگم نے پھر بے بسی سے کہا تھا جوان اولاد کھونے کا دکھ تھا اسی لیے وہ سنبھل نہیں پارہی تھی
“میں جو اتنا غرور کرتی تھی نا اپنے بیٹوں پر اور تمہاری بچیوں کو ہمیشہ کمتر سمجھتی تھی ہمیشہ انہیں دھتکارتی تھی اور خود کو نا جانے کیوں میں نے آسمان پہ بیٹھا لیا تھا اور اب دیکھو اللہ نے مجھے زمین پہ لا پھینکا اور مجھ سے میرا زارون چھین لیا ……” شائستہ بیگم نے کہا تو آسیہ بیگم اور غزالہ بیگم دونوں کی آنکھیں ایک بار پھر سے نم ہوئی تھیں
“بس شائستہ روئیں مت ۔۔۔ اللہ آپ کو صبر دے ابھی ہارون ہے نا آپ اس پر توجہ دیں . اسے بھی آپکی ضرورت ہے ” آسیہ بیگم نے کہا تو شائستہ بیگم نے اپنے آنسو صاف کیے وہ واقعی ایک ہفتے سے ہارون کو بلکل ہی فراموش کیے بیٹھی تھیں
“مجھے معاف کر دو آسیہ میں نے بہت برا کیا تمہارے ساتھ اور تمہاری بچیوں کے ساتھ خاص طور پہ حرا کے ساتھ جس کی کبھی کوئی غلطی تھی ہی نہیں ۔۔۔ہر چیز کا الزام میں نے حرا پہ لگایا جو کہ کبھی اس نے کیا ہی نا تھا ” شائستہ بیگم نے کہا تو سب ان کی بات پہ حیران ہوئے تھے جبکہ حسن صاحب کو دھچکا لگا تھا کہ آخر وہ اپنی ہی بیٹی کو شروع سے دھتکارتے آئے تھے کبھی اس کے سر پہ ہاتھ تک نا رکھا تھا جبکہ اس کی کبھی کوئی غلطی تھی ہی نہیں
“حسن میں آپ سے بھی معافی مانگتی ہوں میں نے آپ کے ساتھ بھی بہت برا کیا ہے۔۔۔۔ ہمیشہ آپ کا دل ان سب کی طرف سے برا کرنا چاہا تھا تا کہ آپ صرف اور صرف مجھ پہ اور میرے بیٹوں پہ دیہان دیں۔۔۔ مجھے معاف کر دیں ” شائستہ بیگم نے اب حسن صاحب سے معافی مانگنی چاہی تھی
“نکل جاؤ اس گھر سے شائستہ ۔۔۔ فلحال مجھے یہ اپنی منحوس شکل مت دکھانا ” حسن صاحب غصہ سے دھاڑے تھے آج تک یہ لفظ جب وہ حرا کو کہتے تھے تو انہیں کبھی برا نہیں لگا تھا لیکن آج خود کیلیے یہ لفظ سن کر انکا دل ڈوبا تھا
“حسن پلیز مجھے معاف ۔۔۔۔” شائستہ بیگم نے منت کرنا چاہی
“میں نے کہا نکلو اس گھر سے ” حسن صاحب غصے سے کھڑے ہوئے اور شائستہ بیگم کا ہاتھ پکڑا
“نہیں حسن ۔۔۔۔ آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ۔۔۔ شائستہ میں نے آپ کو معاف کیا ۔۔۔ دل سے ۔۔۔ اور جہاں تک میری بچیوں کا سوال ہے تو ان کی طرف سے بھی میں نے آپ کو معاف کیا ” آسیہ بیگم نے حسن صاحب کو روکنا چاہا اور شائستہ بیگم سے کہا
“تم۔۔ تم اسے معاف کر رہی ہو ۔۔۔ یہ معافی کے لائق ہے ؟؟؟ کیا کچھ نہیں کیا اس نے تمہارے اور حرا کے ساتھ۔۔۔ تم پھر بھی اسے معاف کر رہی ہو ” حسن صاحب نے آسیہ بیگم سے پوچھا
“ہاں حسن میں نے معاف کیا۔۔۔ معاف کرنے والا ہی اللہ کی بارگاہ میں سب سے افضل ترین انسان ہے ۔۔۔ میں نے انہیں معاف کیا اور غلطی صرف انکی نہیں آپکی بھی ہے اگر میں آپکو معاف کر سکتی ہوں تو انہیں بھی معاف کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔۔۔ ” آسیہ بیگم اٹل لہجے میں بولی تھی حسن صاحب کو آئینہ دکھایا تھا سچ ہی تو کہہ رہی تھیں وہ حسن صاحب کوئی بچے تو نہیں تھے جو وہ شائستہ بیگم کی باتوں میں آکر انکے ساتھ برا کرتے تھے خود بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے پھر وہ کیسے صرف شائستہ بیگم کو قصور وار ٹھہرا دیتیں
“تمہارا بہت بہت شکریہ آسیہ ” شائستہ بیگم کہتے ہی ان سے لپٹ گئی تھیں جبکہ حسن صاحب اب اپنے کمرے میں چلے گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر گزری تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھی ایمن نے نگاہیں نہیں اٹھائی تھی لیکن اسے معلوم تھا کہ اندر آنے والا شخص اس کا شوہر اس کا محرم ہے
منان کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کرتا ہوا ایمن کے پاس بیڈ پہ آ کر بیٹھا
“السلام علیکم ” گھمبیر آواز میں بولتا وہ ایمن کو اور سہما گیا تھا وہ جو اپنے باپ کا روپ دیکھتی آئی تھی اپنی بہن اور ماں کیساتھ تو اسے ڈر ہی تھا کہ منان بھی ایسا ہی نکلے گا . اسنے محض سر ہلا کر جواب دیا تھا
“یہ تمہاری منہ دکھائی ” منان نے اپنا ہاتھ آگے کیا اور ایمن کا ہاتھ تھاما جو کہ گھبراہٹ سے کانپ رہا تھا منان کو اس کی گھبراہٹ صاف محسوس ہوئی تو وہ مسکرایا اور ایمن کے ہاتھ میں خوبصورت ڈائنمڈ رنگ اسے پہنائی
“کیسی لگی ” منان نے انگوٹھی پہنا کر ایمن سے سوال کیا وہ اسکو ریلیکس کرنا چاہتا تھا
“بہت خوبصورت ہے ” ایمن نے بھی بمشکل مسکرا کر کہا تھا
“آؤ نکاح کے دو نفل ادا کر لیں ” منان نے ایمن سے کہا اور اس کا ہاتھ پکڑے اسے اٹھنے کا کہا تو ایمن تو پہلے حیران ہوئی تھی اس کی اس بات سے لیکن پھر مسکرا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور منان کے ساتھ دو نفل نکاح ادا کیے تھے
ایمن جو پہلے گھبرا رہی تھی کہ نا جانے منان کیسا نکلے گا لیکن اب اسے تسلی ہوئی تھی کہ اس کی زندگی منان کے ساتھ انشاءاللہ بہت اچھی اور خوبصورت گزرے گی
“آمین ” ایمن نے آنکھیں بند کرتے دعا کی تھی لیکن آمین کی آواز سن کر اس نے آنکھیں کھولی تو منان اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اس کی کی گئ دعا پہ آمین کہا تو ایمن مسکرا اٹھی تھی
اور پھر منان نے ایمن کی مرضی سے اسے اس کا حق دیا تھا اور ایک حسین رات گزاری تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر نے حرا کو چیک کیا اور انہیں خوشخبری سنائی تھی جسے سن غازیان چونکہ تھا اور عائشہ بیگم کی طرف دیکھا تھا
“اماں ۔۔۔ میں تو خود ابھی چھوٹا ہوں میں باپ کیسے ؟؟؟؟؟” غازیان نے اتنا ہی کہا تو عائشہ بیگم نے اسے چپٹ لگائی تھی
“بے وقوف انسان ۔۔۔ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ تمہیں اولاد جیسی نعمت سے نواز رہا ہے ۔۔۔ اس کا شکر ادا کرو بے وقوف انسان گدھے جیسے ہو گئے ہو اور ابھی بھی تم خود کو چھوٹا کہ رہے ہو ” عائشہ بیگم نے اپنے بیٹے کی عقل پہ ماتم کیا تھا اور پھر خوشی خوشی حرا کی طرف بڑھی تھیں جسے کمزوری کی وجہ سے ڈرپ لگی ہوئی تھی
“بہت بہت مبارک ہو میری بچی ” عائشہ بیگم نے کہ کر حرا کے ماتھے پہ پیار کیا تھا جبکہ حرا شرم سے نظریں جھکا گئی تھی اور دل میں اللہ کا شکر ادا کیا تھا کہ اللہ اسے بھی اولاد جیسی نعمت سے نوازنے والا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“حرا مجھے بلکل یقین نہیں آ رہا کہ میں باپ بننے والا ہوں اور تم ماں۔۔۔۔ آئے ماشاءاللہ اتنی اچھی فیلینگز آرہی نا کہ بس پوچھو مت ” غازیان خوش ہوتا ہوا حرا سے بولا جو کہ صبح گھر واپس آتے ہی سو گئی تھی اور اب اٹھی تو غازیان صاحب بیڈ پہ اندھے منہ لیٹے دونوں ہاتھ تھوڑی پہ ٹکائے کسی معصوم بچے کی طرح اسے ہی دیکھ رہا تھا
حرا اس کے اس طرح خوش ہوتے ہوئے مسکرائی اور آنکھیں بند کر کے اللہ کا شکر ادا کیا
“یار تم بھی تو کچھ بولو نا کیسا لگ رہا ہے ؟؟؟ کچھ چاہیے لا کر دوں ؟؟؟” غازیان کہتے ہوئے ایک دم اٹھ کھڑا ہوا
اس سے پہلے کہ حرا اسے کچھ کہتی کمرے کا دروازہ ایک دم کھلا اور ارقم صاحب کمرے میں داخل ہوئے
“کمینے میسنے تجھے زرہ شرم نا آئی ۔۔۔۔ تو مجھے نہیں بتا سکتا تھا بس اتنی سی دوستی تھی ہماری ؟؟؟ ایک پل میں ہی پرایا کر دیا تو نے۔۔۔ جا آج سے ہماری دوستی ختم ۔۔۔ طلاق طلاق طلاق ” ارقم اپنے جھوٹے آنسو بہاتا ہوا کچھ زیادہ ہی کریکٹر میں چلا گیا تھا
“پہلے تو یہ بتا کہ تجھے زرہ تمیز نہیں ہے اس طرح کسی کے کمرے میں بغیر اجازت آتے ہوئے کمینے ” غازیان نے اس کی بات کا جواب دیے بغیر اس سے سوال کیا جس پر ارقم نے پہلے تو حیرت سے آنکھیں کھولی پھر اپنے سر پہ چپٹ لگائی اور حرا کو دیکھ کر معصوم سی شکل بنائے اپنے کان پکڑے
“خیر یہ میں کیا سن رہا ہوں ۔۔۔۔ اب مجھے اپنے چاچا بننے کی خبر بھی دوسروں سے ملے گی ؟؟؟؟ کمینے بتا نہیں سکتا تھا تو وہ تو شکر ہے کہ میں نے تائی کی باتیں سن لی امی کو بتا رہی تھیں وہ ورنہ تو تو نے بتانا ہی نہیں تھا ” ارقم نے پھر سے کہا تو غازیان حرا کی طرف دیکھ مسکرایا
“پتہ کیا ۔۔۔۔۔ تیرے جو یہ خالہ شینو والی عادت ہے نا کان لگا کر ہر بات سننے کی ۔۔۔ مجھے پتہ تھا کہ تو سن لے گا ساری بات کسی نا کسی سے اسی لیے نہیں بتایا میں نے تجھے ” غازیان نے اچھی خاصی عزت افضائی کر دی تھی جس پہ ارقم نے اسے دیکھ ایک ادا سے منہ پھیرا
“بس دفع ہو جا تو اب میں تیرے جونیئر کو ہی دوست بناؤں گا اب اپنا ۔۔۔۔ کون غازیان کیسا غازیان میں نہیں جانتا کسی غازیان کو ” ارقم اسے سناتے ہوئے کمرے سے جانے لگا
“اچھا بھابھی ماں اپنا خیال رکھیے گا اور کچھ بھی چاہیے ہو مجھے بتانا میں تمہارے شوہر سے پیسے لے کر لا دوں گا ” ارقم اسے سناتا ہوا بھاگ کر کمرے سے باہر نکلا تھا کیونکہ اسے اب اندازہ ہو چکا تھا کہ غازیان عائشہ بیگم کی طرح اپنا جوٹا اتار چکا ہے اس سے پہلے کہ ارقم کو جوٹا پڑتا اس نے کمرے سے بھاگ جانے میں ہی آفیت جانی
جبکہ غازیان اور حرا اس کی حرکتوں سے مسکرائے تھے
“کیا چیز ہے یہ ” حرا نے مسکراتے ہوئے سر نفی میں ہلایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسین رات کے بعد ایک خوبصورت صبح کا آغاز ہوا تھا ایمن کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو منان کے سینے پہ سر رکھے ہوئے پایا تھا اس نے منان کی طرف دیکھا تو وہ سویا ہوا تھا ایمن اسے سوتا دیکھ مسکرائی اور رات کے حسین لمحات اس کی آنکھوں کے سامنے آئے تھے
“گڈ مارنینگ ڈارلنگ ” منان نے آنکھیں کھولی تو ایمن کو اپنے حصار میں مسکراتے ہوئے پایا اور ایک دم اسے کہا جبکہ ایمن کی مسکراہٹ ایک دم سمٹی تھی شرم اور گھبراہٹ سے منان کو نا دیکھ پائی تو ایک دم اس کے سینے سے اٹھنا چاہا تھا لیکن اٹھ نا پائی تھی کیونکہ وہ منان کے مکمل حصار میں تھی اس کا بازو ایمن کی کمر پہ تھا
“مم مجھے اٹھنا ہے ” ایمن نے نظریں جھکائے کہا تو منان نے ایمن کا سر اٹھا کر تکیے پہ رکھا اور خود اس کے اوپر جھکا
“میری زندگی میں شامل ہونے کے لیے شکریہ اور میری صبح کا اپنی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ آغاز کرنے کا بھی بہت بہت شکریہ ” منان اسے جزبات سے چور لہجے میں بولتا ہوا اس کے چہرے پہ جھکا تھا اور چھوٹی سی شرارت کی تھی
“مجھے جانے دیں اب۔۔۔ تیار بھی ہونا ہے دیر ہو گئی ہے باہر سب کیا سوچ رہے ہوں گے ” ایمن منان سے ڈرتے ڈرتے بولی تھی کہ کہیں اسے برا نا لگ جائے جو کہ منان نے اس کی بات سنتے ہوئے منہ بنایا تھا لیکن ایمن کے اوپر سے ہٹ بھی گیا تھا
“اچھا جاؤ ” منان نے اسے کہا تو ایمن فوراً بیڈ سے اٹھی
“ویسے باہر سب جو بھی کچھ سوچ رہے ہوں گے بہت اچھا ہی سوچ رہے ہوں گے اس لیے فکر مت کرو ” منان نے کہا تو ایمن نے اسے مڑ کر دیکھا تو منان نے اسے دیکھ کہ ایک آنکھ دبائی تو ایمن مسکراتی ہوئی باتھ میں گھس گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ایمن اور منان تیار ہو کر باہر آئے تو سامنے آسیہ بیگم اور مشال بیگم بیٹھی ہوئی تھیں اور نیلم حرا بھی ان کے پاس والے صوفہ پہ بیٹھی تھی
صبح ہی عائشہ بیگم نے آسیہ بیگم کو حرا کی ایکسپیکٹ کرنے کی خوشخبری انہیں سنائی تھی اور پھر آسیہ بیگم حرا سے مل کر اسے ایمن کے طرف لے آئی تھی ناشتہ لے کر
ایمن کو منان کے ہمراہ آتا دیکھ آسیہ بیگم اور مشال بیگم نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اور بہت کچھ ان دونوں کے دماغ میں آیا تو دونوں ہی مسکرا اٹھی تھیں اور دونوں نے ایمن اور منان کو ایسے ہی ہمیشہ خوش رہنے کی ڈھیروں دعائیں دی تھیں
“السلام علیکم ” ایمن اور منان نے لاؤنج میں ان سب کے پاس آتے ہوئے سلام کیا اور پھر ان سے ملے تھے
منان تو ان سے مل کر صوفہ پہ بیٹھ گیا تھا جبکہ ایمن حرا کی طرف آئی تھی اور اسے گلے ملی
“مبارک ہو آپی آپ خالہ بننے والی ہو ” حرا نے ایمن کے کان میں شرماتے ہوئے سرگوشی کی تو ایمن تو یہ بات سن کر ایک دم چونکی تھی اور اس سے الگ ہوئی
” کیااااااااا ؟؟؟ سچیییی ؟؟؟ اہہہہہ میری جان ” ایمن نے پہلے اپنے سننے کی تصیح کرنا چاہی تھی اور نیلم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ آیا یہ سچ ہے یا جھوٹ پھر جب نیلم اور حرا نے اپنا سر اثبات میں ہلایا تو ایمن بچوں کی طرح خوش ہوئی تھی اس کے گلے لگی
سب ان دونوں کو دیکھ کر ہنسے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارقم ۔۔۔ ارقمم۔۔۔۔۔” مومنہ بیگم ارقم کے روم سے نکلتے ہوئے چلائی تھیں اور جب لاؤنج میں پہنچی تو ارقم صاحب مزے سے ٹہلتے ہوئے گھر میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔ لیکن اپنی ماں کو غصے میں کھڑا دیکھ ارقم ایک دم سیدھا ہوا
“کیا بات ہے امی ؟؟؟” ارقم معصومیت سے بولا
“کہاں تھے تم ؟؟؟ پتہ ہے کب سے تمہیں ڈھونڈ رہی ہوں میں کدھر سے آوارہ گردیاں کرتے ہوئے آئے ہو تم کبھی گھر میں نہیں ٹک سکتے ؟؟؟؟” مومنہ بیگم غصے سے بولی
“اچھا آ تو گیا ہوں میں ۔۔۔۔ کیا بات ہے بتائیں تو ” ارقم انہیں کہتا ہوا صوفہ پہ بیٹھا تھا اب انہیں کیا کہتا کہ کچن میں آلو پکے دیکھ یہ منہ برگر والے سے پیٹ پوجا کر کے آیا ہے
“دوا مانگوانی تھی تم سے میں نے اپنی ۔۔۔۔ تم ہو گے گھر میں تو نا ۔۔۔۔ کرتی ہوں میں تمہارا علاج اب ” مومنہ بیگم اسے کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ ارقم اب لاؤنج میں حیران بیٹھا تھا
“یہ آج امی کو کیا ہوا ہے ؟؟؟ شاید بی پی کی گولیاں ختم ہو گئی ہیں آج نہیں نا کھائی ہو گی تبھی غصہ کر رہی ہیں ۔۔۔ ” ارقم خود سے سوچتا ہوا ٹی وی آون کر کے بیٹھ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“جاوید صاحب میں تنگ آ گئی ہوں اس لڑکے سے۔۔۔۔ جب دیکھو گھر سے غائب ہوتا ہے اسامہ کے یا کبھی اپنے کسی اور آوارہ دوست کے ساتھ ۔۔۔۔ جو بھی کھانا بناؤں اس کے حلق سے نہیں اترتا ۔۔۔ ناک میں دم کیا ہوا ہے اس لڑکے نے میرے ۔۔۔۔ مجھے نہیں پتہ بس اس کی شادی کا سوچیں آپ ۔۔۔۔ میں کل ہی لائبہ کے گھر جاتی ہوں ۔۔۔ وہی آئے اور سنبھالے اسے ” مومنہ بیگم جاوید صاحب کو سناتی ہوئی باتھروم گھس گئی جبکہ جاوید صاحب مومنہ بیگم کی حرکت پہ پہلے تو چونکہ پھر خود سے ہنس دیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا بات ہے بیگم ؟؟؟؟” تھوڑی دیر بعد جب مومنہ بیگم باتھروم سے نکلی تو جاوید صاحب نے انہیں اپنے پاس بیٹھا کر پوچھ
“کچھ نہیں ہوا مجھے۔۔۔ بس ارقم کی شادی کریں آپ ” مومنہ بیگم نے کہا تو جاوید صاحب مسکرائے
“بس اتنی سی بات ہے۔۔۔ اسے پہلے پڑھائی تو مکمل کر لینے دو پھر کر دیں گے جلدی کیا ہے آپ کو ؟؟؟” جاوید صاحب نے کہا تو مومنہ بیگم نے انہیں گھورا
“مجھ سے اس کی روز روز کی یہ حرکتیں نہیں برداشت ۔۔۔۔ کھانا بھی نہیں کھاتا ہو تو اب گھر میں ۔۔۔ آپ پڑھائی کو چھوڑیں اسے کسی کام پہ لگائیں۔۔۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ کام بھی کرے وہ جیسے غازیان کر رہا ہے ۔۔۔ ویسے بھی پڑھ کر کون سا اس نے تیر مار لینا ہے ” مومنہ بیگم انہیں کہتی ہوئی اٹھی اور بیڈ پہ اپنی جگہ پہ جا بیٹھی
“اچھا چلیں میں بات کرتا ہوں صبح بابا اور ابراہیم سے پھر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ۔۔۔ ابھی آپ آرام کریں ” جاوید صاحب نے کہا تو وہ آنکھیں موندھے لیٹ گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
