Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29
“ششش ارقم شش کوئی رونا نہیں ہے بس چپ .. یار کونسا تجھے لائبہ سے بہت کوئی محبت تھی بس پسند تھی نا اور پسند تو نیلم بھی آجائیگی یار … اور اور.. ” خود کو ہی تسلی دیتے دیتے حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکا تھا … اوپر کی طرف دیکھ کر لمبے لمبے سانس لیکر خود کو قابو کرنیکی کوشش کی تھی
“دوست کیلیے جان بھی حاضر ارقم یہ تو صرف پسند تھی” خود کو ہی تسلی دیتے ہوئے وہ بستر پہ بیٹھا تھا اب پتا نہیں اسکا دل سمجھا تھا یا نہیں لیکن کوشش اسنے ضرور کی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“محبت ہی تو تھی نا یار لائبہ کون سا کوئی دھواں دھار قسم کا عشق تھا تجھے ارقم سے اور نیلم ارقم سے پیار کرتی ہے نا تو بس دوست سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا چھوٹی سی قربانی ہی ہے نا تو دے دیتے ہیں …” وہ خود سے ہی کہتے ہوئے چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر رودی تھی
دونوں ہی اپنے دوستوں کی خوشی کیلیے قربانی دے رہے تھے لیکن خوش تو وہ لوگ بھی نہیں تھے قہقہے کھکلاہٹیں آجکل آہوں اور سسکیوں میں بدل گئے تھے کچھ بھی تو صحیح نہیں ہو رہا تھا اور اب پتہ نہیں سب صحیح ہو گا بھی کہ نہیں
اداس پھرتا ہے اب محلے میں عشق کا پانی
کشتیاں بنانے والے بچے اب عشق کر بیٹھے
———————————
“اسامہ ادھر دیکھ میری طرف … مجھے سب سچ سچ بتا ؟؟” غازیان نے اسامہ کو کہا تھا جو سر جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہا تھا
“سچ بتا تو دیا ہے یار غازیان .. ” وہ جھنجھلایا تھا
“اسامہ مجھ سے جھوٹ مت بولو وہ جو اتنی آسانی سے کہہ کر گیا ہے نا کہ کوئی مسئلہ نہیں تو کر لے لائبہ سے شادی صرف تیری وجہ سے .. اور تو بھی یہ بات دل سے تو نہیں کہہ رہا دیکھ مجھے سچ سچ بتا بھائی ہے نا میرا ..” غازیان نے پھر سے اسامہ سے پوچھا تھا جبکہ ارقم کی بات سن کر اب اسکا ضبط ٹوٹ گیا تھا جانتا تو وہ بھی تھا کہ ارقم صرف اسکی خاطر چپ ہو گیا تھا
“دوستی کیلیے محبت قربان کر کے گیا ہے “
اسنے سرخ آنکھیں اٹھا کر غازیان کی طرف دیکھا تھا اور ساری بات بتا دی تھی کہ بابا نے اسے کیا کہا تھا اور پھر مریم بیگم کی بات
“غازیان !!!! .میں کیسے ماں کی تربیت پہ بات آنے دے سکتا ہوں اور میں جانتا ہوں اگر میں کوئی غلط قدم اٹھاتا ہوں تو بابا اور ماما کا بھی رشتہ خراب ہو گا میں یہ سب نہیں چاہتا … ” آنسو سے بھرے لہجے میں بات کرکے اسنے غازیان کو بھی چپ کرا دیا تھا اسنے بس اسے بھینچ کر گلے سے لگایا تھا لبوں سے ایک لفظ نہیں نکلا تھا ایک شکوہ کناں نظر دروازے پہ کھڑی مریم بیگم پر ڈالی تھی لیکن وہ بھی غازیان کو دیکھ کر نظریں جھکا گئی تھیں
—————————-
حرا نیلم کے گھر سے ہو کر آئی تو اپنے بیڈ پہ بیٹھی ان دونوں کی باتیں سوچ ہی رہی تھی کہ ایک دم غازیان کمرے میں داخل ہوا تھا لیکن حرا کو اس کی آمد کا نا پتہ چلا تھا وہ اتنا کھوئی ہوئی تھی
“کیا بات ہے حرا ؟؟؟ پریشان ہو ؟ ” غازیان حرا کے پاس آ کر بیٹھا تو اسے کھوئے پریشان دیکھ اس سے پوچھا تو حرا ایک دم ڈری تھی
“اوففف غازیان ڈرا دیا مجھے …. ایسے کوئی آتا ہے بھلا کمرے میں چپ چاپ ؟؟؟؟؟” حرا نے غازیان کے کندھے پہ ہلکا سا مکا مارا تو غازیان مسکرا دیا تھا
“بیگم آپ ہی کھوئی ہوئی تھی میرا کیا قصور۔۔۔۔ کس بات پہ پریشان ہو ؟؟؟” غازیان نے پریشانی کی وجہ پوچھنی چاہی تھی
“نیلم اور لائبہ کے لیے پریشان ہوں وہ دونوں اس رشتے سے خوش ہیں ” حرا نے کہا تو غازیان بھی چونکہ تھا
“یہی حال ارقم اسامہ کا بھی ہے۔۔۔۔ ہم دونوں اچھے سے جانتے ہیں کہ وہ نیلم اسامہ جبکہ لائبہ ارقم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں لیکن اپنے والدین کی وجہ سے وہ کچھ نہیں کر پا رہے “
“ہمیں کچھ کرنا چاہیے ان کے لیے غازیان۔۔۔ یہ لوگ کبھی ایسے خوش نہیں رہ پائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ تم دادا جان سے کیوں نہیں بات کرتے ” حرا نے پریشانی کا حال بتایا تو غازیان نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا تھا
“میں بات کرتا ہوں ان سے۔۔۔۔ شاید وہ اس مسلے کا حل نکل سکیں۔۔۔۔ ان چاروں سے تو کچھ ہونا نہیں ۔۔۔ بڑوں کو سمجھانا ہو گا اور ان کی پسند بھی بتانی ہو گی ” غازیان نے کہا تو حرا کچھ ریلیکس ہوئی تھی لیکن پھر کچھ دیر کی خاموشی کے بعد حرا نے نوٹ کیا کہ اس کا ہاتھ غازیان کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔ اس نے چھڑانا چاہا تھا لیکن گرفت اتنی سخت تھی کہ وہ چھڑا نا پائی تھی
“میرا ہاتھ چھوڑو مجھے کام کرنے ہیں بہت سے۔۔۔ امی لوگ آتے ہی ہوں گے ” حرا کہتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی لیکن اس کا ہاتھ ابھی بھی غازیان کی گرفت میں تھا
“تم ہمیشہ کام ہی کرتی رہنا میری تو کوئی پرواہ ہی نہیں ہے نا !!!” غازیان نے منہ بسورتے ہوئے کہا تو حرا کی ہنسی نکلی تھی
“اچھا چلی جانا پہلے مجھے سونے دو …” وہ یہ کہتا حرا کے پاس آ کر لیٹا تھا جبکہ حرا کا ہاتھ اٹھا کر اپنے سر پر رکھا تھا مطلب صاف تھا کہ وہ اسکا سر سہلائے . جبکہ حرا بھی اسکی بچوں جیسی حرکت پہ مسکرائی تھی پھر کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایمن کا نمبر لینے کے بعد منان اپنے کمرے میں آیا تھا اور اسے کال کی تھی
ایمن جو کچن میں کھڑی کھانا بنا رہی تھی اس کا فون بجا تو دیکھا کہ کوئی نمبر تھا۔۔ ویسے تو ایمن کوئی اننون نمبر نہیں اٹھاتی تھی لیکن سکول کی طرف سا فون نا ہو یہ سوچ کر فون اٹھا لیا گیا تھا
“السلام علیکم !!!! “
“وعلیکم السلام ایمن کیسی ہیں ؟؟؟” منان کی آواز ابھڑی تو ایمن چونکی تھی
“آپ ؟؟؟ آپ کو میرا نمبر کیسے ملا ؟؟؟” ایمن نے سوال کیا
“وہ ایمن میں ابھی باہر گیا تھا تو زمین پہ نظر پڑی تو آپ کا نمبر لکھا ہوا تھا تو سوچا آپ کو کال کر لوں ” منان نے سنجیدگی سے جواب دیا تھا لیکن اس کا جواب سن ایمن کا قہقہہ گونجا تھا
“آپ بھی نا “
“میں بھی کیا ؟؟؟؟؟؟”
“کک کچھ نہیں ۔۔۔۔ آپ نے فون کیوں کیا ؟؟؟
“ویسے ہی سوچا اپنی ہونے والی بیوی کی آواز سن لوں ۔۔۔ دیدار تو کرواتی نہیں آواز ہی سنا دیں ” منان نے بیڈ سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا تھا جبکہ اس کی بات سن ایمن ایک دم سرخ ہوئی تھی
“ابھی بزی ہوں بعد میں بات کرتی ” ایمن بمشکل بولتی فون کاٹ گئی تھی جبکہ منان اس کی گھبراہٹ محسوس کرتا مسکرایا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا یار فائق بھائی آپ ہمیشہ مجھے دو تین پیکٹ ہی دیتے ہیں۔۔۔ زیادہ دیا کریں نا اس سے اب میرا کچھ نہیں بنتا ” زارون آج خود فائق کے پاس آیا تھا ہارون نے نشہ چھوڑ دیا تھا اور زارون کے لیے پیکٹس لانے بھی چھوڑ دیے تھے اسے لاکھ سمجھانے کے باوجود زارون نشہ نا چھوڑ سکا تھا اور اب تو رات گئے گھر لوٹتا تھا
“تم جتنے پیسے دیتے ہو اس کے دو تین پیکٹ ہی آتے ہیں۔۔۔۔ لاکھوں دو گے تو زیادہ پیکٹ ملیں گے۔۔۔۔ سمجھے ” فائق نے اپنے مطلب کی بات بولی تھی
“میرے پاس اب لاکھوں نہیں۔۔۔ سب دے دیے آپ کو۔۔۔۔ اور میں گھر والوں سے بھی نہیں مانگ سکتا اتنے زیادہ پیسے ” زارون اس وقت فل نشے کی حالت میں تھا
“تو یار اگر تو نشہ کرنا ہے تو کچھ نا کچھ کر کے پیسوں کا انتظام کر تو ۔۔۔۔ چاہے تو مانگ گھر والوں سے یا تو چوری کر۔۔۔۔اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں ” زارون نے جب کہا کہ اس کے پاس پیسے ختم ہو گئے تو فائق کو اپنی فکر پڑی تھی کہ اب وہ کہاں سے نشہ کرے گا اس لیے اسے چوری کا مشورہ دیا جو کہ زارون کو اچھا بھی لگا تھا
“چلو پھر کچھ کرتا ہوں میں ” زارون سوچ میں پڑ گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان تو سو چکا تھا لیکن حرا نہا کر تیار ہو گئی تھی کیونکہ عائشہ بیگم وغیرہ کسی بھی وقت آ سکتے تھے اور اس نے ابھی کھانا بھی پکانا تھا
لائٹ پنک شاڑٹ شرٹ کے ساتھ لائٹ پنک کیپری پہنے جس سے غازیان کی پہنائی ہوئی پائل بہت جج رہی تھی گلے میں ڈوپتہ ڈالے اور ہلکا سا پیک آپ کیے وہ تیار شیشے کے سامنے کھڑی تھی اور شیشے سے ہی اس نے غازیان کو دیکھا تھا جو کہ خود مزے سے معصوم سی شکل بنائے سو رہا تھا اور اسے سوتا دیکھ حرا مسکرائی تھی
اسے سوتا چھوڑ حرا کمرے سے باہر آ گئی تھی اور کچن کا رخ کیے کھانا پکانے لگی تھی
ایک گھنٹہ بعد وہ کھانا بنا کر کچن سے نکلی ہی تھی کہ سامنے سے عائشہ بیگم آتی ہوئی نظر آئی تھیں ۔۔۔۔اور انہیں دیکھ خوش ہوئی تھی
“السلام علیکم امی !!!!” وہ چہکتے ہوئے عائشہ بیگم سے ملی تھی
“وعلیکم السلام !!! کیا بات ہے بہت چہک رہی ہے میری بیٹی ماشاءاللہ ” عائشہ بیگم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
“وہ آپ لوگوں کے بغیر گھر بہت اداس ہو گیا تھا تو اس لیے ۔۔۔۔۔۔۔ اب آپ لوگ آ گئے نا تو اب ٹھیک ہے ” اس نے جلدی سے کہا تھا
اور ان کے لیے پانی لانے کچن کے طرف بڑی تھی
“اچھا اچھا ۔۔۔۔میں تو ویسے ہی کہ رہی تھی “
حرا پانی لے کر آئی تو عائشہ بیگم کی نظر اس پہ پڑی تھی اور پھر اس کی پائل پہ
“ارے واہ اتنی خوبصورت پائل۔۔۔۔۔ غازیان نے دی ہے ؟؟؟ ” عائشہ بیگم نے سرگوشی کی تو حرا نے مسکراتے ہوئے سر اثنات میں ہلایا تھا
“السلام علیکم امی۔۔۔۔ آپ لوگ آ گئے ” اتنی دیر میں غازیان بھی اٹھ کر لاؤنج میں آ گیا تھا اور عائشہ بیگم کے پاس آ کر بیٹھ گیا تھا
“وعلیکم السلام ۔۔۔ جی بس ابھی ابھی آئے ہیں ” عائشہ بیگم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا تھا
“بابا اور عاکف کہاں ہیں ؟؟؟” حرا نے پوچھا تو غازیان کی نظر اس پہ پڑی تھی پھر وہ اپنی نظر ہٹانا بھول گیا تھا
“نیچھے ہیں بھائی صاحب کے پاس۔۔۔ آتے ہوں گے بس اوپر ” عائشہ بیگم نے جواب دیا تو حرا کی نظر غازیان کی طرف اٹھی تھی جو کہ اسے ہی گھوری جا رہا تھا حرا اس کی نظروں سے پزل ہوئی تھی اور غازیان کو آنکھیں دیکھائی تھی کہ
“امی کا ہی خیال کر لیں ” غازیان حرا کے اس طرح کہنے پہ مسکرایا تھا جبکہ حرا نظریں جھکائے بیٹھی تھی
“اچھا میں زرا آرام کر لوں پھر کھانا کھاتے ہیں ” عائشہ بیگم ان دونوں کی حرکت بخوبی دیکھی تھی تو انہیں وہاں بیٹھنا مناسب نا لگا تو اٹھ کر اپنے کمرے میں آ گئی تھی
“اللہ میرے بچوں کو ہمیشہ ایسے ہی ہنستے مسکراتے ہوئے رکھنا ” عائشہ بیگم نے دل سے انہیں دعا دی تھی
“کیا بات ہے بیگم۔۔۔ آج لگتا ہے فل بجلیاں گرانی ہیں مجھ بچارے پہ ” عائشہ بیگم کے جانے کے بعد غازیان حرا کی طرف آتا ہوا بولا تھا
“ہیلو بھائی ” غازیان حرا کے پاس پہنچتا کہ اسے ایک دم اپنے پیچھے سے عاکف کی آواز آئی تھی اور اپنے منہ کے زاویے بگاڑے تھے
“کیسا ہے میرا شیر ” غازیان کا موڈ بلکل آوف ہو چکا تھا جبکہ حرا کو اس کی حالت دیکھ ہنسی آئی تھی اور پھر وہ عاکف کے ساتھ باتوں میں لگ گئی تھی جبکہ غازیان وہاں بیٹھا ان دونوں کی باتیں سن رہا تھا اور عاکف کو دل میں کوسا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن صاحب کو ابھی گھر آنے میں وقت تھا جبکہ شائستہ بیگم کسی پاڑٹی میں گئی ہوئی تھیں اور ہارون اپنے کمرے میں تھا ۔۔۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے زارون فائق کے کہنے پہ حسن صاحب کے کمرے میں آیا تھا اور کچھ ڈھنڈنے لگا تھا
الماری کھولی تو سامنے پانچ پانچ ہزار کے ہزاروں نوٹ پڑے تھے اس نے فوراً اٹھا کر اپنی جیب میں ڈالے تھی ۔۔۔ چونکہ اس نے جیکٹ پہنی ہوئی تھی تو سارے پیسے جیکٹ کی مختلف جیبوں میں ڈالے وہ کمرے سے نکلنے ہی والا تھا کہ اسے حسن صاحب کی آواز آئی تھی جو کہ اپنے کمرے میں ہی آ رہے تھے
زارون ان کی آواز سنتا فوراً ان کے بیڈ کے نیچے چھپا تھا
“جی جی خان صاحب آپ بے فکر رہیے۔۔۔ مجھے آج پیسے مل گئے ہیں میں آپ کو کل صبح صبح ہی پیمنٹ کرتا ہوں مال کی۔۔۔۔۔ جی جی ۔۔۔ صبح ملتے ہیں ۔۔۔۔ اللہ حافظ ” حسن صاحب فون پہ باتیں کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے تھے۔۔ زارون ان کی ساری باتیں سن چکا تھا
حسن صاحب نے کال بند کی اور پیسوں سے بھرا بیگ بیڈ پہ رکھا اور باتھ میں گھس گئے تھے جبکہ زارون آہستہ سے بیڈ کے نیچھے سے نکلا اور بیڈ پہ پڑے بیگ کو دیکھنے لگا تھا
ایک دم اس نے بیگ کی زب کھولی تو اندر پیسے دیکھ زارون کی رال ٹپک پڑی اور اس نے جلدی سے اپنی جیکٹ کی زپ کھولی اور پیسے اٹھائے سب اپنی جیکٹ میں ڈالے گیا تھا ۔۔۔۔ جب جیکٹ بھر گئی تو اس نے زپ بند کی اور بیگ کو بھی بند کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارون اپنے کمرے میں گیا تو دیکھا کہ ہارون کمرے میں نہیں تھا باتھ سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی یعنی وہ نہا رہا تھا۔۔۔ زارون نے فوراً اپنا سکول بیگ خالی کیا اور پیسے اس میں بھر کر فائق کی طرف چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غازیان کھانے کے بعد مصطفیٰ صاحب کے پاس بیٹھا تھا جبکہ عائشہ بیگم اور حرا نیچے مومنہ بیگم کے پاس گئی ہوئی تھیں۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد مصطفیٰ صاحب اپنے کمرے میں چلے گئے تو غازیان بھی اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔۔ فریش ہو کر وہ بیڈ پہ بیٹھا حرا کا انتظار کرتا رہا تھا اور کافی دیر انتظار کرتا وہ اکتایا تھا اور پھر آخر سلیم صاحب کو کال ملائی تھی
“سلام شہزادے !!!” غازیان نے سنجیدگی سے کہا تھا
“وعلیکم ۔۔۔۔ یہ تمہارا لہجہ اتنا بجھا بجھا سا کیوں ہےکیا ہوا ہے ؟؟؟ ” انہوں نے اس کی آواز سے پہچانا تھا
“ہائےےےے بس نا پوچھو یہاں کیا ہو رہا “
“کیوں اب کیا ہو گیا بھئ؟؟؟ ان ڈنگروں کی شادی کی بات بھی کر دی میں نے اور غالبً میں نے ان کے رشتہ پکا ہونے کی خبر بھی سنی ہے۔۔۔ پھر کیا مسلہ ہے ؟؟ ارقم اور اسامہ کی کافی دنوں سے مجھے کال نہیں آئی ۔۔ آخر چل کیا رہا ہے ؟؟” سلیم صاحب نے پوچھا
“آپ نے گھر میں شادی کی بات تو کی لیکن یہ نہیں بتایا کہ کون کس سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ “
“کیا مطلب ؟؟؟” ان کو اس کی بات سمجھ میں نا آئی تو غازیان نے انہیں ساری بات بتا دی تھی جسے سن سلیم صاحب نے اپنا سر پکڑا تھا
“کتنی نکمی اولاد ہے میری۔۔۔۔ بندہ پوچھ ہی لیتا ہے کہ کس سے کرنی ہے شادی۔۔۔ ایسے ہی بس جا کر رشتہ پکا کر آئے یہ لوگ اپنے بچوں کی پسند کے بغیر ۔۔۔۔ آتا ہوں میں کل دیکھتا ہوں انہیں” سلیم صاحب نے غصے سے کہ کر فون بند کر دیا تھا جبکہ غازیان اب لیٹ چکا تھا اور پھر کافی دیر بعد نیند اس پر مہربان ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“بابا آپ ….؟؟” صبح آٹھ بجے بیل ہوئی تو مریم بیگم نے گیٹ کھولا سامنے سلیم صاحب کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی
“جی ہاں میں؟؟” وہ کہتے ہوئے اندر آئے تھے اور انکے سر پر ہاتھ رکھا تھا جبکہ ابراہیم اور اسامہ بھی اٹھ کر ان سے ملے تھے انہوں نے بغور اسامہ کے چہرے کو دیکھا تھا سنجیدگی ہی سنجیدگی تھی وہ شوخی تو غائب تھی جو اسکی شخصیت کا خاصہ تھی انہیں سخت غصہ آیا تھا اپنے سپوتوں پر .
” اسامہ بچے یونی نہیں جانا ..؟؟؟” انہوں نے بھی ناشتے کیلیے بیٹھتے ہوئے اسامہ سے پوچھا تھا جو کہ اب اٹھ کھڑا ہوا تھا
“جی دادا جا رہا ہوں …” اس نے شہزادے کی بجائے دادا کہا تھا اور پھر اپنے کمرے سے بیگ لیکر نکل گیا تھا جبکہ سلیم صاحب باقیوں کی طرف متوجہ ہوئے تھے
“مریم سب کو بلاؤ یہاں مجھے بات کرنی ہے … ” وہ مریم بیگم سے مخاطب ہوئے تھے اور ابراہیم صاحب نے اچھنبے سے انہیں دیکھا تھا
“صبح صبح بابا سب خیریت ہے … ” انہیں واقعی نہیں سمجھ آرہا تھا
“ابراہیم مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے پتہ چل جائے گا جاوید کو بھی آنے کا کہو … مریم مصطفی کو بھی بلانا” انہوں نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے ابراہیم صاحب کو بتایا تھا پھر مریم بیگم کو کہا تھا
——————————————–
وہ سب اب سلیم صاحب کے سامنے بیٹھے تھے بچے تو سب یونی چلے گئے تھے کیونکہ اب انکے فائنل شروع ہونے والے تھے تو زیادہ چھٹیاں نہیں کر سکتے تھے
“تم لوگوں نے بچوں کے رشتے طے کیے ان سے پوچھا ؟؟” سلیم صاحب اب مدعے پہ آئے تھے انکی بات پہ اب ابراہیم صاحب کو کچھ کچھ اندازہ ہوا تھا کہ وہ کیا بات کرنے والے ہیں
“جی بابا .. ” سب سے پہلے مریم بیگم نے جواب دیا تھا
“مریم اسامہ اس رشتے سے خوش ہے؟؟ ” اگلے سوال پہ انکی نظریں جھکی تھی
“بابا جب ہم نے پوچھا تھا تو اسنے ہاں کر دی تھی لڑکی کا نام سنے بغیر اب ہم کچھ نہیں کر سکتے کیونکہ یہ بچوں کا کھیل تو نہیں ہے نا آج ہم جا کر انکو منع کر دیں کہ اسامہ.کو لائبہ پسند نہیں ہے ..” ابراہیم صاحب نے سنجیدگی سے کہا تھا جبکہ وہاں جاوید اور مصطفی صاحب بھی حیران ہوئے تھے کیونکہ انہیں اس بارے میں کوئی خبر نہیں تھی
“جاوید ارقم اس رشتے سے خوش نہیں ہے تمہیں پتہ ہے یہ بات؟؟؟” اب وہ جاوید صاحب کی طرف مڑے تھے جنہیں انکے منہ یہ بات سن کر حیرت ہوئی تھی
“بابا وہ خوش ہے اسنے کچھ کہا نہیں ..” وہ بھی کشمکش میں تھے کیونکہ ارقم نے انہیں کچھ نہیں کہا تھا جبکہ خواتین تینوں چپ بیٹھی تھیں
“وہ دونوں خوش نہیں ہیں جاوید ۔۔۔۔ ابراہیم۔۔۔۔ اور میرے خیال سے تمہارے لیے سب سے پہلے اپنے بچے کی خوشی ہونی چاہیے۔۔۔۔ تم نے اسامہ کی حالت دیکھی ہے کیسے مرجھا گیا ہے میرا بچہ یہ اتنا بڑا مسئلہ تو نہیں تھا سب ساتھ بیٹھتے تو حل ہو سکتا تھا ابھی ارقم کو تو میں نے دیکھا ہی نہیں ہے پتہ نہیں اسکا کیا حال ہو گا. میرے بچوں کا کیا حال کر دیا ہے تم لوگوں نے “
اب کی بار سلیم صاحب غصے سے بولے تھے جبکہ ابراہیم صاحب نے بات کرنے کی ہمت کی تھی
“بابا اب تو کچھ نہیں ہو سکتا نا .. ” ابراہیم صاحب نے ہلکی آواز میں کہا تھا
“کیوں نہیں ہو سکتا ابھی ہم جائیں گے ان لوگوں کے گھر سارا مسئلہ حل ہو جائے گا چھوٹی سی غلط فہمی ہی ہوئی یے نا اور تم تینوں بھی میرے ساتھ چلو گے . اپنی انا میں بچوں کی خوشیوں کیساتھ کھیلنا کہاں کی عقلمندی ہے ابراہیم تمہیں تو اسامہ نے سب بتایا بھی تھا پھر بھی تمہیں اسکی خوشی کا پتا نہیں چلا “. اب کی بار انہوں نے سنجیدگی سے حل بتایا تھا اور پھر ابراہیم صاحب کی طرف متوجہ ہوئے تھے جنہوں نے سر جھکا لیا تھا بات تو وہ صحیح کر رہے تھے لیکن اب بھی اگر سب ٹھیک ہو سکتا تھا تو اس میں کیا حرج تھی
“ہم ابھی چلے جائیں گے بابا اگر سب ٹھیک ہو سکتا ہے تو اچھی بات ہے …” ابراہیم صاحب نے کہا تھا پھر وہ چاروں اٹھ کر چلے گئے تھے اور پیچھے مریم بیگم نے ان دونوں کو ساری بات بتائی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حامد صاحب گھر سے نکل ہی رہے تھے کہ سلیم صاحب کے ہمراہ ابراہیم صاحب جاوید اور مصطفیٰ صاحب کو اپنی جانب آتا ہوا پایا تھا ایک پل کو وہ حیران ہوئے تھے
“السلام علیکم آپ لوگ یہاں ؟؟؟” انہوں نے رسانیت سے سلام کرتے ہوئے آنے کا مقصد پوچھا تھا اور انہیں گھر میں آنے کا کہا تھا
“جی آپ لوگوں سے بات کرنی ہے ضروری۔۔۔ جاوید جاؤ فاروق کو بلاؤ ادھر “
کچھ دیر بعد سب لاؤنج میں اکٹھے بیٹھے تھے تو سلیم صاحب نے بات شروع کی تھی اور انہیں سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا جسے حامد صاحب اور فاروق صاحب سن کر حیران ہوئے تھے
“دیکھیں یہ سب صرف ایک غلط فہمی کے تہت ہوا ہے۔۔۔۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسامہ کی نیلم سے جبکہ لائبہ کی ارقم سے شادی ہو۔۔۔ اور ہمیں پتہ ہے کہ دونوں لڑکیاں بھی اس فیصلے سے خوش ہوں گی ۔۔۔۔ امید ہے آپ ہماری بات کو سمجھیں گے ” ابراہیم صاحب نے سنجیدگی سے کہا تھا
“ہم آپ کی بات کو سمجھ رہے ہیں ۔۔۔ ہمیں اس سے کوئی اعتراض نہیں ہے اسامہ ارقم دونوں ہمارے ہی بچے ہیں چاہے ان کی شادی لائبہ سے ہو یا نیلم سے۔۔۔ ہم بس ایک بار اپنی بچیوں سے پوچھنا چاہیں گے۔۔۔ پھر آپ کو بتاتے ہیں ” حامد صاحب نے کہا تو فاروق صاحب نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملائی تھی اور پھر وہ لوگ اپنے اپنے کاموں پہ چلے گئے تھے جبکہ سلیم صاحب اب مریم بیگم کے پاس آ گئے تھے.
جاری ہے
