Chanchal Muhalla by Nashra Khan NovelR50790 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11
Rate this Novel
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode01 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode02 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode03 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode04 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode05 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode06 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode07 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode08 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode09 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode10 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11 (Watching)Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode12 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode13 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode14 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode15 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode16 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode17 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode18 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode19 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode20 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode21 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode22 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode23 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode24 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode25 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode27 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode28 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode29 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode30 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode31 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode32 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode33 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode34 Chanchal Muhalla by Nashra Khan Last Episode
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11
Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode11
” امی میں ابھی فاروق بھائی کے پاس جاتی ہوں شاید وہی کچھ سمجھا دیں انہیں۔۔۔۔۔ ہماری تو یہ نہیں سنیں گے ” آسیہ بیگم نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔ وہ کیا کر سکتی تھی شوہر انکا کب تھا نا اسنے پہلے کبھی انکی سنی تھی اور نا ہی آج . لیکن اس بار تو بیٹی کا معاملہ تھا خود کیلیے تو وہ چپ رہ بھی گئی تھی لیکن حرا کیلیے کیسے چپ رہتیں
” اس سے کیا ہو گا آسیہ ؟؟؟ حسن نے جو کہ دیا وہ کر کے دیکھائے گا۔۔۔ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔۔۔۔” غزالہ بیگم نے انہیں سمجھانا چاہا-
” لیکن امی ایک کوشش تو کر لینے دیں کیا پتہ کوئے حل نکل آئے میں اپنی حرا کے ساتھ اب ایسے تو نہیں ہونے دے سکتی نا …..” آسیہ نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
” ٹھیک ہے اپنی تسلی کر آؤ پھر ۔۔۔” ان کے کہنے کی دیر تھی کہ حرا اور ایمن جو ابھی ابھی سو کر اٹھی تھیں لاؤنج میں آئی تو ان دونوں کی بات سن کر حیران ہوئی
” کس بات کی تسلی امی ؟؟؟؟ اور آپ کہاں جا رہی ہیں ؟؟؟ ” حرا نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا
” امی آپ رو رہی ہیں ؟؟؟؟؟” ایمن نے آسیہ بیگم کو آنسو صاف کرتے دیکھا تو پوچھا
” آخر آپ چاہتی کیا ہیں ہم سے ؟؟؟ کیا کہا ہے آپ نے امی کو جو وہ یوں رو رہی ہیں ۔۔۔۔۔ اتنے عرصے سے ہم سکون میں تھے اور۔۔۔۔” حرا کو لگا تھا کہ غزالہ بیگم نے پھر سے انہیں کچھ کہا ہے . ابھی حرا اور کچھ کہتی آسیہ بیگم ایک دم بولی
” حرا !!! تمیز سے بات کرو دادی ہیں تمہاری۔۔۔ انہوں نے کچھ نہیں کہا مجھے۔۔۔۔ تمہارے بابا آئے تھے ابھی وہی ایک فیصلہ سنا کر گئے ہیں ” آسیہ بیگم نے بمشکل آنسو روکے
” کیاااااا ؟؟؟؟ اب کیا کیا ہے ہم نے ؟؟؟؟” ایمن نے کہا
” کچھ نہیں تم دونوں جاؤ کچن میں ناشتہ کرو میں آ کر بتاتی ہوں سب۔۔۔۔” آسیہ بیگم کہتی ہوئی گھر سے چلی گئی جبکہ ان دونوں نے ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھا اور پھر اپنی دادی کو
” کیا ہوا ہے دادو آپ ہی بتا دیں !!!!!” ایمن نے ان سے پوچھا تو غزالہ بیگم نے بھی ان دونوں کو ساری بات بتا کہ گویا حرا پہ تو پہاڑ ہی گرا دیا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح مریم بیگم جب اسامہ کے کمرے میں آئی تو اسامہ کو دیکھ کہ حیران ہو گئی تھی کہ اسامہ اتنی جلدی اٹھ گیا تھا اور وہ بھی بنا کسی کے اٹھائے۔۔۔۔ ورنہ مریم بیگم کو اتنے چکر لگا کر اسامہ کو اٹھانا پڑتا تھا لیکن آج اسے خود ہی جاگا دیکھ کہ مریم بیگم بہت خوش ہوئی
“ارےےے آج میرا بچہ خود ہی اٹھ گیا ” انہوں نے اسامہ کے قریب آکر اس کے ماتھے پہ پیار کیا تو اسامہ مسکرا دیا اور مریم بیگم کے گلے لگ گیا۔۔۔۔۔ مریم بیگم کی نظر اچانک بیڈ پہ پڑے بیگ پہ پڑی جس میں اسامہ کے کمرے پڑے تھے
” یہ یہ سب ؟؟؟ تم کہیں جا رہے ہو ؟؟؟”
” ارے ماما آپ کو نہیں پتہ ؟؟؟ کل ہی تو دادا جان نے کہا مجھے ارقم اور غازیان کو کہ ہم تینوں اب ان کے ساتھ رہیں گے ۔۔۔۔ بابا نے بھی اجازت دے دی۔۔۔۔ آپ کو نہیں پتہ کیا ؟؟؟ ” اس نے حیران ہوتے ہوئے کہا جب کہ مریم بیگم نے بھی حیرت سے دیکھا
” بلکل نہیں !!!! کہیں نہیں جا رہے ہو تم۔۔ مجھے کسی نے پوچھنا تو دور بتانا بھی گوارا نہیں کیا ۔ ارقم اور غازیان کو جانے دو مگر تم ہر گز نہیں جاؤ گے کہیں بھی …. میں نہیں جانے دوں گی تمہیں سمجھے ۔۔۔۔۔ نکالو یہ سب کپڑے باہر۔۔۔۔ مجھے بتائے بغیر تم لوگوں نے فیصلہ کر دیا۔۔۔ ” مریم بیگم تو اس کے جانے کا سن کر بپھر ہی گئی تھی .
“حد ہے بھائی انکے بیٹے کے بارے میں فیصلہ ہوا اور وہ بھی انہیں بتائے بغیر “
” لیکن ماما !!!! ” اس نے مزاحمت کرنا چاہی لیکن مریم بیگم نے ایک نا سنی اور اس کے سارے کپڑے بیگ سے نکال کر الماری میں رکھ دیے اور کمرے سے باہر نکل گئی
کل جب سلیم صاحب نے ابراہیم ، جاوید اور مصطفیٰ صاحب کو اپنے پاس بلایا تھا تب مریم، مومنہ اور عائشہ بیگم تینوں بازار چلی گئی تھی اور ان کی غیر حاضری میں ہی ان تینوں کے جانے کا فیصلہ ہوا تھا ۔۔۔۔ اور پھر سلیم صاحب کی بات سن کر وہ تینوں اپنی اپنی دکانوں پہ چلے گئے تھے اور رات کو آنے تک ان تینوں کو خیال ہی نا آیا کہ اپنی اپنی بیگمات کو سلیم صاحب کا حکم سناتے
اسامہ ان کو جاتا دیکھ فوراً فون کی طرف بڑھا اور غازیان کو کل ملائی
” یار بہت بڑا مسلہ ہوگیا ہے ” اسامہ نے کہا
” ہاں یار یہاں بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں ” غازیان نے منہ بنا کر کہا
” کیوں وہاں کیا ہو رہا ہے ؟؟؟” اسامہ نے حیران ہو کر پوچھا
” یار چچی نے شور مچایا ہوا ہے گھر میں کہ ارقم کو وہ نہیں جانے دیں گی ہمارے ساتھ ۔۔۔۔۔ جبکہ میری اماں کو دیکھو خوشی سے لڈیاں ڈال رہی ہیں کہ مجھ سے جان چوٹ رہی ۔۔۔۔۔۔ خیر تو بتا وہاں کیا ہوا ” غازیان نے منہ بناتے ہوئے بولا
” یہاں بھی ایسا ہی کچھ کیا امی نے.۔۔۔ میں پیکینگ کر رہا تھا اور امی نے میرے سارے کپڑے واپس لٹکا دیے الماری میں کہ نہیں جانے دوں گے تمہیں ” اسامہ نے کہا
” اچھا چل ایسا کر ادھر آجا ” غازیان نے کہا تو اسامہ نے بھی فون بند کر دیا اور غازیان کے گھر کی طرف چل دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آسیہ بیگم نے فاروق صاحب کے گھر آ کر بیل کی تو انعم نے آکر دروازہ کھولا تھا
” السلام علیکم خالہ !!”
” وعلیکم السلام !! بیٹا بابا گھر ہیں ؟؟؟”
” جی خالہ آجائیں ” انعم کہتی ہوئی ایک طرف ہوئی تو آسیہ بیگم گھر میں داخل ہوئی ۔۔ لاؤنج میں آئی تو دیکھا کہ فاروق صاحب اور ارم بیگم دونوں چائے پی رہے تھے ان کو دیکھ کہ دونوں چونکہ تھے کیونکہ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے تو ارم بیگم نے فوراً انعم کو اندر ردا کے پاس بھیج دیا۔۔۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ ضرور کوئی نا کوئی بات ہوئی ہے جس کی وجہ سے وہ یوں روتی ہوئی ان کے پاس آئی ہیں
” بیٹھیے بہن !!” فاروق صاحب نے انہیں مسلسل کھڑا دیکھ بیٹھنے کو کہا تو آسیہ بیگم بیٹھ گئی
” بھائی میں آپ کے پاس بہت امید سے آئی ہوں شاید آپ ہی میری مدد کر سکتے ہیں۔۔۔۔ پلیز میری مدد کریں اور حسن کو کچھ سمجھائیں ” وہ روتے ہوئے بولی تو ارم بیگم اور فاروق صاحب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر ارم بیگم آسیہ بیگم کے پاس آکر بیٹھ گئی اور ان کے کندھے پہ ہاتھ رکھ دیا
” کیا بات ہے بہن ؟؟ کیا کیا ہے اب حسن نے ؟؟”
” حسن نا جانے کون سے نا کردہ گناہ کی سزا حرا کو دے رہیں ہیں۔۔۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ حرا اب اگے نا پڑھے بلکہ اس کی شادی کر دی جائے ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹی جوان ہو گئی ہے اس کی شادی کر دی جانی چاہیے لیکن ایک پان والے سے جس نے آج تک سکول کی شکل بھی نا دیکھی ہوگی اسے میں کیسے اپنی بیٹی دے دوں ؟؟؟؟ ایمن بیٹھی ہے ابھی گھر میں کیسے حرا کی شادی کا سوچوں ؟؟؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے بھائی پلیز آپ ہی کچھ سمجھائیں اسے شایر آپ کی سن لے ؟؟؟” انہوں نے بہت امید سے کہا وہ یوں کسی کے اپنی گھر کے مسئلے کبھی نہیں رکھتی تھیں لیکن اس بار معاملہ انکی ذات کا نہیں انکی بیٹی کا تھا
” دیکھیں بہن مانا کہ حسن غلطی پہ ہے لیکن اسے کوئی بھی نہیں سمجھا سکتا وہ صرف اپنی دوسری بیوی کی سنتا ہے لیکن اگر آپ کہتی ہیں تو میں بات کر لیتا ہوں اس سے ۔۔۔۔ شایر مان جائے ورنہ پھر اس کا کوئی حل نکالتے ہیں ….. آپ پریشان نا ہوں میں کرتا ہوں کچھ ” فاروق صاحب انہیں دلاسہ دے کر باہر چلے گئے جبکہ آسیہ بیگم ایک بار پھر رو دی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” ہاوووو ۔۔۔۔ فر کی ہویا ؟؟؟؟” پینو نے تجسس سے کہا
” پھر کیا ہونا تھا ۔۔۔۔ دونوں ہنس ہنس کہ باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔ جب بڑھے ایسا کریں گے تو جوان بچوں نے بھی تو انہیں سے سیکھنا ہے نا فر ۔۔۔۔۔ ” شینو نے گیارہ بجے آخر پینو کو کال کر ہی دی تھی اور اسے صبح والا واقعہ سنایا تب جا کر ان کے پیٹ کا درد ٹھیک ہوا ورنہ شینو کی تو جان پہ بن گئی تھی صبح سے پیٹ میں مڑوڑ اٹھ رہے تھے
“ہائےےےے ہن ایسا کر جا اور جا دس اناں نوں کہ نظر رکھن ایناں تے ورنہ سلیم صاحب لے جان گے غزالہ بیگم نو۔۔۔۔ میں دس ری آں ۔۔۔ ” پینو نے کہا تو شینو بھی سوچ میں پڑ گئی کہ اب کیا کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسامہ غازیان کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ مریم بیگم پہلے سے ہی وہاں موجود تھی اور سلیم صاحب کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں
” ابو آپ کیسے میرے بچے کو مجھ سے الگ کر سکتے ہیں۔۔۔ ایک ہی تو بیٹا رہ گیا ہے میرے پاس اور آپ اسے لے کے جا رہے ہیں ” وہ روتے ہوئے بولی
” بچے وہ میری دکان سمبھالے گا نا۔۔۔۔ اب میری بڑھی ہڈیوں میں طاقت نہیں کہ دکان پہ بیٹھ سکوں” انہوں نے مصنوعی انداز میں کہا تھا .
” انہیں دیکھ زرہ !!!! کیا ائکٹینگ کر رہے ہیں ” ارقم نے اسامہ کے کان میں سرگوشی کی تو اسامہ مسکرا دیا
” دیکھیں ابو۔۔۔ آپ کی دکان پہ یہ یہاں سے بھی تو جا سکتے ہیں نا ۔۔۔۔ ہاں مانا کہ راستہ زیادہ ہے لیکن جوان ہیں کیا ہوا اب اتنی محنت تو کریں نا ۔۔۔۔ لیکن گھر سے اور ہم سے دور تو نا کریں نا ” مومنہ بیگم نے اداس ہو کر مشورہ دیا جبکہ ارقم کی آنکھیں حیرت سے کھل گئی
” واہ امی واہ !!!! آپ اس کے لیے ہمیں اتنی دور بھیجیں گی ؟؟؟؟؟؟ اس سے تو بہتر ہے کہ ہم یونی میں اڈمیشن لے لیں ۔۔۔۔ کوئی حاصل وصول تو ہو گا ہمیں ” ارقم نے اپنے دل کی بات کی
“ارے ابو آپ میری بات سنیں دکان پہ ہی بٹھانا ہے نا تو ایسا کریں اس غازیان کو لیکر جائیں . اچھا ہے آپکی دکان سنبھال لیگا . اور ارقم اور اسامہ بےشک یہیں رہیں”
یہ غازیان کی اماں جان تھی جو اپنے بیٹے کو اتنے پیار سے دور بھیج رہی تھی جیسے پڑوسیوں سے مانگ کر لایا ہو
“واہ واہ واہ مسز مصطفی . اور عاکف کی اماں. مجھے تو کبھی کبھی لگتا ہے میں آپکا ہوں ہی نہیں کیسے بھیج رہی ہیں آپ مجھے . جس سن میں چلا گیا نا پھر روتی رہیے گا میں نہیں واپس آؤں گا ” اس نے بھرپور ڈرامہ کرتے ہوئے کہا تھا جب عائشہ بیگم کی آنکھوں کی گھوری اور جوتے کی طرف جاتا ہاتھ دیکھ کر اسکی زبان کو بریک لگی تھی
یار غازی تو چپ کر!!! دادا جان آپ میری بات کا جواب دیں یونی جانا ہی تھیک رہے گا کوئی فائدہ تو ہو “. ارقم نے غازیان کو چپ کروایا تھا جو اپنا ڈرامہ ہر جگہ شروع کر دیتا تھا
” ہاں تو ٹھیک ہے نا جاؤ نا ۔۔۔۔ ” سلیم صاحب نے کہا
” ہاں نا ابو آپ اسامہ اور ارقم کیلیے بات کریں نا دونوں ماشاء اللہ سلجھے ہوئے ہیں پڑھ لیں گے . غازیان کی طرح نکمے اور بدتمیز تو نہیں ہیں نا . یہ تو آپکے ساتھ دکان پہ ہی جائیگا بیٹھے بیٹھے دیکھیں زرا غازیان کو پیٹ نکل آیا ہے اس کا ” عائشہ بیگم نے کہا تو سب نے غازیان کی طرف دیکھا اور مسکرانے لگے جبکہ غازیان کو تیوری چڑھی
” امیییی کہاں سے موٹا لگ رہا ہوں آپ کو ۔۔۔ دیکھیں زرا کوئی پیٹ نہیں نکلا میرا آپ تو نا بس ۔۔۔ آپ ہمیشہ ایسے ہی کرتی ہیں میرے ساتھ . ۔۔ ” غازیان منہ پھولا کر بیٹھ گیا اب اسے واقعی برا لگا تھا سب کی مائیں اپنے بیٹوں کی سائڈ لے رہی تھی ایک اسکی اماں تھئ جو اسے دور بھیج رہی تھی
” اچھا چلو ایک حل ہے میرے پاس ۔۔۔۔اگر تم تینوں مانو تو ” سلیم صاحب نے کہا
” جی کیا ؟” مریم اور مومنہ بیگم دونوں ایک ساتھ بولی
” اگر تم تینوں اپنے اپنے خاوند کو منا سکو تو ان تینوں کا یونی میں آڈمیشن کروا دیتے ہیں۔۔۔۔ اس سے یہ بھی خوش اور تم تینوں بھی خوش۔۔۔ اور عائشہ اگر یہ دو یونی جائیں گے تو غازی بھی جائیگا اور اپنے شوہر کو تم مناؤگی ۔۔ اسامہ اور ارقم بھی اپنے اپنے گھروں میں اپنے ماؤں کے ساتھ ہوں گے اور غازیان بھی پتلا ہو جائے گا یونی کی بھاگ دوڑ میں۔۔۔۔۔۔ کیا کہتی ہو پھر ؟؟؟؟ ” انہوں نے رائے لینا چاہی جبکہ لہجہ سنجیدہ اور آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی
” ویسے آئیڈیا برا نہیں ہے۔۔۔ ” دونوں ایک ساتھ بولی جبکہ عائشہ بیگم نے ایک نظر غازیان پہ ڈالی جو کہ عائشہ بیگم کو معصوم سی شکل بنا کر دیکھ رہا تھا تو آخر انہیں اس بچارے پہ ترس آہی گیا اور پھر ان تینوں نے شام کو اپنے اپنے خاوند سے ان تینوں کی بات کرنے کی ٹھان لی تھی اور ارقم اسامہ اور غازیان خوش ہوئے تھے . دل تو کر رہا تھا کہ ناچیں اور جلد ہی انہوں نے دل کی خواہش پہ عمل بھی کیا تھا جس میں اب سلیم صاحب بھی شامل تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
آسیہ بیگم جب گھر واپس آئی تو سامنے ہی لاؤنج میں غزالہ بیگم کے ساتھ حرا اور لائبہ بیٹھی ہوئی تھیں۔۔۔ انہیں دیکھ کہ حرا فوراً اٹھی اور ان کے گلے لگ کہ زور زور سے رو دی تھی کب سے آنسو روک کر رکھے تھے اور اب ماں کو دیکھ کر پھر بہہ نکلے تھے
“امی ایسا کیوں کرتے ہیں یہ …. میں نے ایسا کیا کیا ہے کہ وہ مجھ سے یوں بدلا لے رہے ہیں ۔۔ اگر اتنی ہی برے لگتی تھی تو بچپن میں آپ ہی زہر دے دیتی مجھے کم سے کم اب تو یہ عذاب نا دیکھنا پڑتا ۔۔ ” حرا نے روتے ہوئے کہا تو آسیہ بیگم اس کی بات پہ تڑپ اٹھی تھی
” کیسی باتیں کر رہی ہو حرا . جان ہو تم میری . کیسے تمہیں کچھ کر دیتی … بس غلطی تمہاری نہیں ہے بیٹا شاید مجھ سے ہی کوئی گناہ ہو گیا ہو گا جو ہی سب ہو رہا ” آسیہ بیگم اسے اپنے ساتھ لیکر صوفے پہ جا کر بیٹھی
“کیا کہا فاروق نے ؟؟؟” غزالہ بیگم نے پوچھا
” کہتے ہیں کہ اسے سمجھانا مشکل ہے لیکن ایک بار بات ضرور کریں گے ان سے ” وہ اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی
” امی مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ” حرا روتے ہوئے بولی
“میں کوشش کر رہی ہوں نا ۔۔۔۔ اور میں کیا کروں اب ۔۔۔۔” آسیہ بیگم ہار مانتے ہوئے بولی
” امی بابا کیوں ایسا کرتے ہیں میرے ساتھ . میں کیا انکی بیٹی نہیں ہوں وہ ایمن زرنش اور مناہل کے ساتھ اچھے سے پیش آتے ہیں انکے سر پہ دلاسہ دے دیتے ہیں آپکو پتا ہے انہوں نے 4 سالوں سے میرے سر پہ ہاتھ نہیں رکھا وہ جب بھی آتے تھے میں انکے سامنے جا کر کھڑی ہوتی تھی لیکن ایک ہاتھ اٹھا کر وہ میرے سر پہ نہیں رکھ سکتے . ہر عید پہ میں انتظار کرتی ہوں کہ وہ ایک بار تو مجھے سینے سے لگائیں ۔۔۔۔۔۔۔. امی وہ پھر بھی منہ موڑ دیتے ہیں . بچپن میں بھی ایک دفعہ ان سے گڑیا کیلیے ضد کی تھی بدلے میں مجھے تھپڑ ملا تھا … کیا کروں بہت ڈھیٹ ہوں ۔۔۔۔۔۔ پتا ہے بہت بری ہوں بد تمیز ہوں . لیکن پھر بھی مجھے انکا پیار تو چاہیے ہے نا لیکن وہ ہمیشہ مجھے دھتکارتے تھے اور ابھی بھی ایسا ہی کرتے ہیں. کبھی بھی میں انسے نفرت نہیں کر پائی تھی ہاں ناراض تھی لیکن وہ منا بھی تو سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔ امی آج مجھے لگ رہا ہے کہ بہت جلد مجھے ان سے نفرت ہو جائیگی امی جو کہ میں بلکل نہیں چاہتی …. آپ دعا کریں ایسا کچھ نا ہو ورنہ میں زہر کھا کر مر جاؤں گی پھر سب کے سر سے بوجھ اتر جائیگا . آپ کا بھی ایک بیٹی کا بوجھ ہی ختم ہو گا . اور بابا کو بھی میری شکل نظر نہیں آئیگی تو وہ بھی خوش رہیں گے . اور انکے سر سے بھی ایک پوتی کا بوجھ ختم ہو گا “
وہ خود ترسی کی انتہا پہ تھی بچپن سے لیکر اب تک کا غبار دل سے نکالا تھا وہ بہت کم کسی کے سامنے روتی تھی بہت چھوٹے ہوتے سے ہی خود پہ بدتمیزی اور بے حسی کا خول چڑھا لیا تھا لیکن تھی تو وہ بہت نازک اندر سے بلکل کرچی کرچی ہوئی وی . وہ ہچکیوں سے روتے ہوئے اندر کمرے کی طرف بڑھ گئی تھی جبکہ وہاں بیٹھے تینوں نفوس بلکل خاموش تھے . وہ نازک سی لڑکی کتنی ترستی تھی باپ کے پیار کیلیے . لیکن اسنے زیادہ محسوس تو کبھی نا ہونے دیا تھا . وہ تینوں اپنی اپنی جگہ پہ سوچ میں گم بیٹھی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شینو جو آسیہ سے صبح والی بات کرنے آئی تھی اس نے دروازے میں کھڑے ہو کر آسیہ اور حرا کی ساری باتیں سن لی تھیں
“ہائےےےےے !!!! آئے کی ہو گیا ؟؟؟؟؟؟” شینو نے سوچتے ہوئے کہا اور پھر جا کر سامنے اسامہ کے گھر کی بیل بجائی
مریم بیگم جو ابھی ابھی سلیم صاحب کے پاس سے ہو کر آئی تھیں .. ابھی آ کر اپنے کمرے میں بیٹھی ہی تھیں کہ بیل بجی
“آئے ہائے ۔۔۔۔ اس وقت کون آ گیا۔۔۔ آرام بھی نہیں کرنے دیتا کوئی۔۔۔۔ اسامہ کبھی گھر میں تک بھی جایا کرو ۔۔۔۔۔ ” مریم بیگم کو لگا تھا کہ شاید اسامہ آیا ہو گا لیکن یہ کیا شینو کو دیکھ کہ ان کے منہ کا زائقہ بدلا
” آ گئی پھر کوئی چگلی لگانے ” مریم بیگم نے دل میں سوچا اور شینو کو دروازہ کھولا
“السلام علیکم !!!”
” وعلیکم اسلام !!! آؤ نا شینو اندر “
“ہاں ہاں ۔۔۔ اتنی ضروری بات بتانے آئی ہوں کہ ….”
” اچھا اب کیا ہو گیا ؟؟؟ “
” ارے اتنا بڑا مسلہ ہو گیا ہے کہ۔۔۔۔۔ تمہیں تو معلوم ہی نہیں ہوتا کچھ۔۔۔ “
“ہاں بس مصروف رہتی ہوں ۔۔۔ خیر تم بتاؤ کیا ہوا”
” میں ابھی آسیہ کے گھر گئی تھی ۔۔۔ ابھی دروازے پہ ہی تھی کہ اندر سے اونچی اونچی حرا کے رونے کی آواز آرہی تھی ۔۔۔ آسیہ سے کچھ کہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ تم پتہ کرو جا کر۔۔۔۔ پڑوسی ہی پڑوسی کے کام آتا ہے ۔۔۔۔ ” شینو نے مریم بیگم سے کہا تو مریم بیگم پہلے تو جھوٹ سمجھی لیکن پھر آخر سوچا کہ جا کر پوچھ ہی لیتی ہوں کیا پتہ کوئی مسلہ ہوا ہو ….
” اچھا بہن میں چلتی ہوں زرا کام ہے کچھ ” شینو کہتی ہوئی چلی گئی جبکہ مریم سوچ میں پڑ گئی کہ آخر ان کی طرف جائے یا نا جائے ؟؟؟؟؟”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مریم بیگم نے مومنہ اور عائشہ بیگم کو کال کر کے شینو کی کہی بات بتائی تو ان دونوں نے بھی افسوس کیا اور کہا کہ
“ہمیں جانا چاہیے اصل بات پتہ لگوانے “
” تو پھر ایسا کرتے ہیں کہ کل چلتے ہیں ۔۔۔ آج جانا مناسب نہیں لگتا ” مریم بیگم نے کہا
“ہاں ٹھیک ہے پھر بارہ بجے تک آجائیں گے ہم “عائشہ بیگم نے کہا اور پھر ایک دو اور باتیں کرتی انہوں نے فون بند کر دیا تھا
چونکہ شام ہو گئی تھی اور اب ان تینوں کے شوہر حضرات کا گھر آنے کا ٹائم تھا تو وہ ان کے لیے چائے بنانے لگیں آخر اب اپنے بچوں کے آڈمیشن کی بات جو کرنی تھی تو ان کا موڈ بھی ٹھیک کرنا تھا تا کہ وہ انکار نا کر سکیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھ بجے ابراہیم صاحب گھر آئے تو گھر میں اسامہ کو دیکھ کہ چونکہ
“ارے برخودار آپ گئے نہیں ابا کے ساتھ ؟؟” ابراہیم صاحب بہت اچھے موڈ میں اسامہ کے پاس لاؤنج میں آ کر بیٹھے تھے
“جی ابو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے کہ اسامہ کچھ کہتا مریم بیگم لاؤنج میں آئی اور اس کی بات کاٹی
“جی میں نے منع کیا ہے اسے جانے سے “
“کیوں ؟” وہ حیران ہوئے
“لو دسووو !!! ہن ایک کو ایک بچہ تے رہ گیا سی میرے کول ۔۔۔ اس کو بھی بھیج دوں ؟؟؟ پہلے ہی میرے دونوں بچے مجھ سے دور ہیں۔۔۔ اسامہ کو نہیں بھیجنے والی میں کہیں بھی۔۔۔ سن لیں آپ۔۔۔۔ ” مریم بیگم کی آدھی اردو اور آدھی پنجابی میں کہی بات پہ ابرہیم صاحب مسکرا دیے اور ان کو مسکراتا دیکھ مریم بیگم نے اپنی بات مکمل کی
“اور میں نے سوچا ہے کہ اسامہ کو یونیورسٹی میں آڈمیشن بھی کروا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہر وقت گھر بیٹھ کہ میرا سر کھاتا رہتا ہے یہ اور اگر دکان پہ آپ کے ساتھ جائے تو وہاں آپ کو تنگ کرتا ہو گا ۔۔۔ اس سے اچھا ہے اسے پڑھنے بھیج دیتے ہیں ۔۔۔۔ سکون ہو گا گھر میں کچھ دیر ۔۔۔۔ ” مریم بیگم نے اسامہ کو دیکھ کہ کہا جو کہ معصوم سی شکل بنا کر ان دونوں کی بات سن رہا تھا
” واہ بیگم واہ ۔۔۔۔ کمال ہے بچے کو دور نہیں بھیجنا کہ گھر میں رہے آپ کے سامنے اور اب اس سے جان چھوڑانے کے لیے اسے یونیورسٹی بھیج رہی ہیں ؟؟؟؟؟” ابراہیم صاحب ان کی اس بات پہ ہنس پڑے اور اسامہ نے دکھ سے اپنی ماں کی طرف دیکھا
“ویسے تم نے کیا تیر مار لینا ہے یونی جا کر ؟؟؟” ابراہیم صاحب نے اب اسامہ سے کہا جو کہ مدد طلب نظروں سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا ان کی بات پہ چونکا
“جی وہ۔۔۔ ” اسامہ نے پھر بولنا چاہا لیکن مریم بیگم نے پھر اس کی بات کاٹی ۔۔۔
” ارے آپ کیا اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔۔۔ رہنے بھی دیں اب بچارے کو۔۔۔ جانے دیں نا یونیورسٹی اسے ۔۔۔۔۔ اس بار سہی سے پڑھے گا سچی ۔۔اور ہاں وہ منان ہے نا ۔۔ وہ بھی مدد کر دے گا انشاءاللہ کامیاب ہو گا میرا بچہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” مریم بیگم نے اسامہ کے پاس آکر اسے پیار سے کہا
“اچھا چلیں دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ کیا تیر مارتا ہے یہ ” ابراہیم صاحب کہتے ہوئے اٹھے اور اسامہ اور مریم بیگم تو ان کے الفاظ پہ دھنگ رہ گئے ۔۔۔۔
” کیا ؟؟؟؟ کیا کہا آپ نے ؟؟؟ ” اسامہ کو ان کی بات پہ یقین نا آیا تو اٹھتے ہوئے پوچھا
” وہی جو آپ نے سنا ہے ” ابراہیم صاحب نے کہا
” اللہ تیرا شکر۔۔۔۔ تھینک یو سو مچ ابو۔۔۔۔” اسامہ نے چہکتے ہوئے کہا اور ان کے گلے لگ گیا جب کہ ابراہیم صاحب اور مریم بیگم اپنے بچے کی خوشی دیکھ کہ مسکرا دیے ۔۔۔۔ اسامہ تو خوشی سے نحال ہو رہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اب کیا کر بیٹھے جبکہ یہی کچھ حال ارقم اور غازیان کا بھی تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
تینوں کو یونی جانے کی اجازت مل گئی تھی اور اب منان کو بھی فون کر کے بتا دیا تھا
“واؤ زبردست!! یہ تو بہت اچھا ہوا ۔۔۔۔ اب تم تینوں پڑھنا شروع کر دو ۔۔۔ پرسوں ٹیسٹ ہے۔۔۔۔ اور اب سہی سے تیاری کرنا ۔۔۔۔۔ بلکہ ایسا کرو کہ میری طرف آ جاؤ پڑھا دیتا ہوں ۔۔۔ ویسے بھی کافی کم ٹائم رہ گیا ہے ۔۔۔” منان نے ان تینوں کو گھر بلایا اور تیاری کرواتا رہا اور وہ تینوں بھی خلافِ توقع سیریس ہو کر رات دیر تک پڑھتے رہے تھے.
جاری ہے
