Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26

Chanchal Muhalla by Nashra Khan Episode26

“کیا کروں میں بابا کیوں نہیں سمجھ رہے میری بات میں کیسے لائبہ سے شادی کر سکتا ہوں کوئی کیوں نہیں سمجھ رہا مجھے” . اسامہ سر جھکائے اپنے بیڈ پہ بیٹھا سوچ رہا تھا پہلی دفعہ شاید ابراہیم صاحب نے اسے کسی چیز کیلیے منع کیا تھا وہ نہیں سمجھ پا رہا تھا کیسے اپنی بات سمجھائے سبکو
“اسامہ !!!” مریم بیگم نے اسے پکارا تھا تو اسنے اپنے آنسو صاف کیے تھے اور سیدھا ہو کر بیٹھا تھا
“بیٹا رونا کوئی مسئلے کا حل تو نہیں ہے نا اور اگر ہم نے فیصلہ کیا بھی ہے تمہارے لیے غلط تو نہیں ہو گا نا۔۔۔۔ تم ایک بار لائبہ کے بارے میں سوچو تو سہی وہ اچھی لڑکی ہے ..” انہوں نے پیار سے اسکے بال سنوارتے ہوئے کہا تھا
“ماما آپ سمجھیں نا ۔۔۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے لائبہ اچھی لڑکی ہے لیکن میں نیلم سے پیار کرتا ہوں نا ماما میں کیسے سمجھاؤں آپکو” . اسامہ نے بے بس سا ہو کر کہا تھا جبکہ مریم بیگم بھی بے بسی سے اسے دیکھے جا رہی تھیں
“اسامہ رشتہ ہو گیا ہے…. ہم ان لوگوں کو منع کیسے کر سکتے ہیں بچے اگر لڑکی کا رشتہ بلا وجہ ٹوٹ جائے نا تو اس کے کردار پہ انگلیاں اٹھتی ہیں تم لائبہ کے بارے میں سوچو تو صحیح اور نیلم کو بھول جاؤ تم وہ بھی کسی کی امانت ہے “. مریم بیگم نے پھر اپنی سی کوشش کی تھی جب اسامہ نے پھر شکوہ بھری نگاہیں ان پہ ڈالی تھیں کہ شاید وہ اسکی آنکھوں میں دکھ دیکھ کر اسکی بات مان لیں
“ایسے مت دیکھو اسامہ تم جانتے ہو تمہارے ایسا کرنے سے میری تربیت پر انگلیاں اٹھیں گی اور اگر تم یہی چاہتے ہو تو میں بات کرتی ہوں تمہارے ابو سے “. اب مریم بیگم نے آخری حربہ آزمایا تھا جانتی تھی وہ یہ بات کبھی بھی نہیں چاہے گا
“امی . ” اسنے تڑپ کر انکی طرف دیکھا تھا جو فیصلہ اسکا دل نہیں مان رہا تھا ماں کی بات سن کر ایک پل میں ہو گیا تھا اب محبت انکی اہم نہیں تھی کہ وہ ماں کی تربیت پر انگلیاں اٹھنے دیتا
“جیسے آپ کی مرضی… میں … “آواز ایک دم حلق میں اٹک گئی تھی نمکین پانی آنکھوں سے بہنے کو بے تاب ہوا تھا مریم بیگم نے اسکی حالت دیکھ کر دل ہی دل میں خود کو کوسا تھا کہ کاش وہ اسامہ کو پہلے لڑکی کانام بتا دیتی انکی نظریں اسامہ کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں جہاں تکلیف حد سے زیادہ تھی کہ وہ.خود کے آنسو بھی نہیں روک پا رہا تھا
“میں کچھ نہیں بولوں گا اب “. اسنے بمشکل اپنی بات مکمل کی تھی مریم بیگم نے اسے اپنے آغوش میں لیا تھا تو وہ ہچکیوں سے رو دیا تھا کچی عمر کا پیار تھا لیکن کچا نہیں تھا جسطرح کچی عمر میں نشہ کی لت لگ جائے وہ نہیں چھوٹتی اسی طرح پیار ہو جائے تو وہ بھی نہیں بھولتا
“شش اسامہ بچے چپ بس چپ . اللہ سے دعا کرو بیٹا جوڑے تو آسمانوں پہ بنتے ہیں نا تو ہم انسان کون ہوتے ہیں اللہ سے شکوہ کرنے والے اگر لائبہ ہی تمہارے نصیب میں لکھی ہے تو اللہ سے دعا کرو کہ وہ اسے تمہارے لیے بہتر ساتھی بنائیں . بسس چپ .” انہوں نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تھا اس نے جواب نہیں دیا تھا آنسو رک گئے تھے لیکن سسکیوں کی آواز باہر کھڑے ابراہیم صاحب کے کانوں تک بھی بخوبی پہنچ رہی تھی لیکن پھر بھی وہ اس معاملے میں اسکی بات سن نہیں رہے تھے شاید انہیں اپنی عزت کی پرواہ تھی
————————————–
“اوئے ارقم آجا نا زرا مارکٹ تک چلیں مجھے کچھ کام ہے “. آج غازیان اکیڈمی سے زرا جلدی ہی آگیا تھا اور اوپر جانے کی بجائے سیدھا ارقم کے پاس ہی آیا تھا جو اپنے کمرے میں بیٹھا گیم کھیل رہا تھا اسکی بات سن کر موبائل سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا
“کیوں جانا ہے اور تو جلدی کیوں آیا ہے .؟؟ اسامہ کو ساتھ لیکر چلا جا نا ..” ارقم صاحب نے تو سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تھی اور پھر آخر میں مشورے سے بھی نوازا تھا … وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی گیم نہیں بند کرنا چاہ رہا تھا
“اسامہ سو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ گیا تھا میں پھپھو نے کہا کہ مت جگاؤ اسے تو میں آ گیا ۔۔۔۔ سونے دے شہزادے کو ابھی اسنے بات بھی کرنی ہے نا گھر میں نیند پوری کر کے کرے گا . اور بازار اسلیے کہ وہ حرا کیلیے گفٹ لینا ہے نا تنخواہ ملی ہے مجھے …” بات کرتے کرتے آخری بات غازیان نے آہستہ سے بتائی تھی جبکہ ارقم ایک دم موبائل چھوڑ کر اسکی طرف متوجہ ہوا تھا
“ارےےے واہہ گھنے میسنے تنخواہ ملی تو بیگم کیلیے تحفہ اور ہم یاروں کو بھول گئے تم . زن مرید …” ارقم کی زبان تو پٹر پٹر چلتی تھی ابھی بھی نئے لقب سے نوازا تھا
“یار آہستہ بول نا اور ابھی چل تو اگلی تنخواہ میں تم سب کیلیے لاؤں گا پکا لیکن ابھی تو چل نا …” اسنے کہتے ہوئے اسے زور سے پکڑ کر اٹھایا تھا اور گھسیٹتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھا تھا
“ابے رک جا بے منحوس….. بازو نکل جائے گا میرا …” ارقم نے بچوں کی طرح بازو چھڑایا تھا جبکہ اسکی بات پہ غازیان کی ہنسی نکلی تھی
“اچھا نا آجا دیر ہو رہی ہے ….” غازیان اسے ساتھ لیکر خوشی خوشی باہر نکلا تھا لیکن کون جانتا تھا کہ اسکی یہ خوشی کب تک رہتی ہے
————————————–
“حرا بیٹی اٹھ کر چائے تو پی لیتی شام سے لیٹی ہو سب ٹھیک ہے ؟؟؟؟؟”. عائشہ بیگم بولتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی تھی جہاں وہ چادر منہ سر لپیٹے سو رہی تھی
“حرا .. ” انہوں نے آہستہ سے اسے پکارا تو وہ جو سونے کا ناٹک کر رہی تھی مجبوری میں آنکھیں کھولنا پڑی تھی
“جی امی “. اسنے بولا تھا جبکہ آواز بھاری ہو رہی تھی عائشہ بیگم بھی ٹھٹکی تھی اندر آکر اسکے ساتھ بیڈ کے کنارے ٹکی تھی
“کیا بات ہے حرا طبیعت ٹھیک ہے تمہاری آواز کو کیا ہوا ہے ؟؟؟” انہوں نے پوچھتے ہوئے اسکے ماتھے کو چھووا تھا
“کچھ نہیں ہوا امی وہ کپڑے دھوئے نا تو ٹھنڈ کی وجہ سے زکام ہو گیا .” وہ اٹھ کر بیٹھی تھی اور بروقت بہانہ بنایا تھا جو کام بھی کر گیا تھا عائشہ بیگم تھوڑی مطمئن ہوئی تھیں
“اچھا .. وہ میں اور عاکف اور مصطفی صاحب نا جا رہے ہیں آج سمیعہ ( عائشہ بیگم کی بہن) کی طرف . کافی دنوں سے بلا رہی ہے تو رات کو ادھر ہی رکیں گے . تمہیں بھی ساتھ لیجاتی لیکن پھر سوچا سارا گھر خالی چھوڑ کر تو نہیں جا سکتے نا تم اور غازیان اگلے ہفتے چلے جانا ٹھیک ..” انہوں نے اسکو بتایا تھا سمیعہ بیگم انکی ایک ہی بہن تھی جو کہ اسلام آباد میں رہتی تھی
“جی ٹھیک ہے امی کوئی بات نہیں آپ لوگ آرام سے جائیں ” حرا نے سعادت مندی سے جواب دیا تھا
“ہاں ٹھیک ہے کھانا بنا ہے بس جب غازیان آئے تو اسے گرم کر دینا اور خود بھی کھا لینا ٹھیک ہے ہم نکل رہے ہیں… اور ہاں دوائی بھی پی لینا تم .. ” عائشہ بیگم اسے ہدایت دیتی کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ حرا نے ایک دفعہ پھر تکیے پر سر گرایا تھا
“آنے دیں آپکے بیٹے کو آج ضرور کھلاؤں گی اسکو کھانا بلکہ آج تو وہ سکون سے کھائے گا جب میں طلاق مانگوں گی تو راستے سے پتھر جو نکل جائے گا..” وہ سوچتی سو چتی پھر سے رو دی تھی آنسو کنپٹیوں سے بہہ کر تکیے میں جزب ہو رہے تھے
———————————
“اسامہ … تم میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے “. نیلم اسے کب سے کال کر رہی تھی لیکن وہ فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا اب کہیں جا کر اسنے اسکی کال اٹھائی تھی نیلم اپنے کمرے کی کھڑکی پہ کھڑی تھی باہر رات چھا چکی تھی
“سو رہا تھا میں .” اسامہ نے جھوٹ بولا تھا اصل بات تو یہ تھی کہ وہ خود کو مضبوط کر رہا تھا تا کہ سب کے سامنے اپنا فیصلہ رکھ سکے کہ وہ لائبہ سے شادی کیلیے تیار ہے
“حد ہے تم نیندیں پوری کر لو. گھر بات کب کرو گے تم ..” نیلم جھنجھلا کر بولی تھی
کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا تو اسنے سوچا تھا کہ وہ.خود ہی اسامہ سے بات کرے گی اور اگر ضرورت پڑی تو اس سے اپنی محبت کا اظہار بھی کر دے گی
“کس بارے میں بات کرنی ہے مجھے گھر … ؟؟؟” اسامہ بلکل انجان بنا تھا لیکن ہاتھ کی مٹھی سختی سے بھینچی تھی اور آنکھیں بھی زور سے میچ کر کھولی تھی شاید وہ جانتا تھا آج نیلم کیا بات کرنیوالی ہے دل سے دعا نکلی تھی کہ نیلم اس بارے میں کوئی بات نا کرے لیکن شاید یہ دعا قبول نہیں ہوئی تھی
“اسامہ تم کیوں مزاق کر رہے ہو ابھی پلیز یار سیریس ہو جاؤ گھر بات کرو ہمارے رشتے کی” . نیلم نے بہت بے بس ہو کر کہا تھا اسے لگ رہا تھا کہ اسامہ مزاق کر رہا ہے لیکن وہ اس وقت مزاق کے موڈ میں نہیں تھا
“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے نیلم دماغ ٹھیک ہے کیا بول رہی ہو رشتہ طے ہو چکا ہے تمہارا بھی اور میرا بھی کیا کوئی نیا ایڈونچر سوجھا ہے تمہیں….رشتے کوئی مزاق نہیں ہوتے نیلم!!!!” اسامہ نے لہجے کو سخت بنا کر کہا تھا دل جانتا تھا کہ اسنے کیسے یہ الفاظ ادا کیے تھے آنکھوں میں پھر مرچیں سی بھر گئی تھیں جبکہ دوسری طرف تو نیلم اسکا سخت لہجہ اور الفاظ سن کر ہی ساکت ہو گئی تھی اگر تو اسامہ مزاق کر بھی رہا تھا تو نہایت ہی برا مزاق تھا
“اسامہ . تم.. کیا کہہ. رہے ہو.. تم تو مطلب…” حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹک گیا تھا وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اسامہ سے کیا بات کرے الفاظ ہی نہیں مل رہے تھے یہاں وہ سرے سے ہی انجان بن رہا تھا
“کیا میں.. جلدی بولو نیلم ..” اسنے غصے سے کہا تھا لیکن لہجے سے بے چینی عیاں تھی شاید وہ خود بھی جاننا چاہ رہا تھا نیلم کیا کہے گی جانتا تھا آنکھیں اسکی بھی آنسوؤں سے لبریز ہوں گی
“اسامہ دیکھو اگر تو تم مزاق کر رہے ہو نا تو انسان بن جاؤ پلیز پیار کرتی ہوں میں تم سے .. اور تم بھی کرتے ہو نا تو گھر میں بتاؤ کہ یہ رشتے غلط فہمی کی وجہ سے ہوئے ہیں تمہارا لائبہ کیساتھ اور میرا ارقم سے ..” نیلم نے تیزی سے اپنی.بات مکمل کی تھی مبادا کہیں وہ کچھ اور ہی نا بول دے ویسے بھی آج اسے اسامہ کی آواز میں سختی محسوس ہو رہی تھی
جبکہ اسامہ نے بے ساختہ دل پہ ہاتھ رکھا تھا یہ الفاظ اسکو زندگی بخش دیتے اگر حالات اور ہوتے لیکن ابھی وہ نیلم کو کوئی امید نہیں دینا چاہتا تھا اسکے لیے اپنی ماں کی تربیت زیادہ اہم تھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی ان پہ انگلی اٹھائے
“بی بی ہوش میں تو ہو بھنگ ونگ تو نہیں پی لی تم نے . جانتی ہو کیا بکواس کر رہی ہو . تمہیں کس نے کہ دیا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں میرا رشتہ میری مرضی سے ہوا ہے “
اور یہ ایک اور وار ہوا تھا اور اسامہ نے اپنے ہاتھوں سے اپنی محبت کا گلا گھونٹا تھا دل نے بین کیا تھا لیکن اسنے نہیں سنا تھا دھڑکنوں نے بھی شور مچایا تھا لیکن اسنے کان نہیں دھرے تھے جبکہ دوسری طرف نیلم یکدم ہی دیوار کا سہارا لیکر زمین پہ بیٹھتی چلی گئی تھی اب صحیح معنوں میں اسکا دل خوف سے دھڑکا تھا تو کیا وہ یکطرفہ محبت کر بیٹھی تھی کیا اسے غلط فہمی ہوئی تھی
“ا اسامہ ..پ پلیز.. ایسا . مزاق مت ک.کرو تم ” اسنے کپکپاتی ہوئی آواز میں آخری دفعہ امید سے کہا تھا کہ شاید وہ قہقہہ لگا کر بولے کہ میں تو مزاق کر رہا تھا نیلم کی ساری حسیات اس وقت فون پر تھی اسکی آواز سننے کی منتظر تھیں کہ وہ کیا کہتا ہے
“مزاق تو تم نے اپنا بنا دیا ہے کیسی لڑکی ہو تم جو یوں ایسے کسی لڑکے سے اظہار محبت کر رہی ہو مجھ سے پہلے بھی کسی سے کر چکی ہو گی … معاف رکھو بی بی مجھے ….تمہیں اپنی عزت پیاری نہیں ہے لیکن مجھے ہے .. ” اور الفاظ تھے کہ پگھلا ہوا سیسہ محبت کی آخری سانسیں بھی ختم ہو گئی تھی نیلم کی زبان بھی انکاری ہو گئی تھی کہ وہ کچھ کہتی موبائل اسکے ہاتھ سے جا کر نیچے گرا تھا اسنے بمشکل منہ پہ ہاتھ رکھ کر خود کو چیخنے سے روکا تھا
آنسو کا سیلاب جاری ہوا تھا وہ جسے اپنا دل دے بیٹھی تھی اسنے اسکی عزت کی دھجیاں اڑا دی تھیں جبکہ دوسری طرف اسامہ فون بیڈ پہ پھینک کر فوراا کھڑکی کی طرف آیا تھا اور دونوں پٹ کھول کر لمبے لمبے سانس لیے تھے بمشکل لمبے لمبے سانس لیکر خود کو قابو کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ناکام ہوا تھا دل کا درد حد سے سوا تھا جانتا تھا ان الفاظ نے نیلم کے دل میں محبت کی جگہ نفرت پیدا کر دی ہو گی دونوں ہاتھوں سے سر کے بال جکڑے تھے اور وہیں زمین میں گھٹنوں کے بل گرا تھا . دل کر رہا تھا چیخ چیخ کر روئے . دونوں ہی اہنی محبت کا ماتم بنا رہے تھے ایک نے تو خود اپنی محبت کو تباہ کیا تھا جبکہ دوسری کو تو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ اسکے ساتھ کیا ہوا تھا آنسوؤں کی برسات دونوں طرف جاری تھی شاید چنچل محلہ کی خوشیوں کو کسی کی نظر لگ گئی تھی
——————————————————
“حرا کدھر ہو یار جلدی سے باہر آئو. ” رات کے سات بجے وہ واپس گھر آیا تھا دو گھنٹے بازار گھومنے کے بعد آخر اسکو حرا کیلیے تحفہ پسند آ ہی گیا تھا وہ چاہتا تھا کہ آج حرا سے اپنے دل کی بات بھی کہہ دے لیکن اسے کون بتاتا یہاں اسکی بیوی ہی اسکی خواہشات کا قتل کرنے بیٹھی ہے
وہ لاؤنج میں صوفے پہ بیٹھا جب وہ کمرے سے نکل کر اسکے سامنے آکر کھڑی ہوئی تھی بکھرے بال سوجھی آنکھیں چہرہ بھی رونے کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا غازیان یکدم کھڑا ہوا تھا اسے تشویش ہوئی تھی
“کیا ہوا حرا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟؟” وہ یکدم آگے بڑھا تھا ابھی ہاتھ اسکے ماتھے پر رکھتا کہ حرا نے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا
“مجھے طلاق چاہیے “. یہ ہوا تھا غازیان پہ پہلا دھماکہ اس نے حیرت سے حرا کی طرف دیکھا تھا جیسے اسکی دماغی حاکت ٹھیک نا ہو
“کیا بول رہی ہو حرا . ایسی فضول بات نہیں کرتے ..” اسنے پیار سے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی آواز میں نرمی تھی
“میں فضول بات نہیں کر رہی ہوں غازیان مجھے طلاق چاہیے میں نہیں رہنا چاہتی تمہارے ساتھ .” حرا کی آواز اونچی ہوئی تھی جب غازیان کے ماتھے پہ بل پڑے تھے
“آواز آہستہ رکھو تم نیچے کوئی سن لے گا . ” اب وہ بھی تھوڑا غصے سے بولا تھا اور اسے بازو سے پکڑتا کمرے تک لیکر گیا تھا اور اسے چھوڑ کر دروازہ بند کیا تھا
“کیا دماغ خراب ہو گیا ہے جو ایسی فضولیات بول رہی ہو کیا نیا دورہ پڑا ہے تمہیں. ؟؟؟” غازیان نے اب آہستہ مگر سخت آواز میں اس سے پوچھا تھا
“ہاں ہو گیا ہے میرا دماغ خراب خود جو باہر جا کر گل چھرے اڑاتے ہو اس سے پہلے کہ تم مجھے طلاق دو میں خود مانگ رہی ہوں اور تم کیوں اتنا حیران ہو رہے ہو کرنا تو تم نے بھی یہی تھا تو اب کیوں تکلیف ہو رہی ہے دو مجھے طلاق اور چھڑواؤ اپنی جان ….. پھر تمہیں شام کو اس سے نہیں ملنا پڑے گا … “حرا نے تو جیسے اپنے سارے نیک خیالات آج غازیان کے گوش گزار کرنے تھے جبکہ غازیان تو جیسے سکتے میں تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا حرا یہ کیا بول رہی ہے .
“حرا کوئی غلط فہمی ہوئی ہے آؤ ہم بیٹھ کر بات کرتے ہیں “. اسنے حرا کو بازو سے پکڑ کر بٹھایا جبکہ حرا نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑایا تھا
“ہاتھ مت لگاؤ مجھے زلیل گھٹیا انسان کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی مجھے . پتا نہیں کتنی لڑکیوں کیساتھ رنگ رلیاں…. “
“حرا …. “غازیان کا ہاتھ اٹھا تھا جبکہ حرا ڈر کر پیچھے ہوئی تھی لیکن اسنے یکدم مٹھی بھینچ کر ہاتھ روکا تھا پل میں غازیان کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے تھے
“بند کرو اپنی بکواس دماغ ٹھیک ہے کیا بکواس کر رہی ہو کب سے . کیا جھول دیکھ لیا تم نے میرے کردار میں جو یہ بکواس کر رہی ہو کہاں جاتا ہوں میں شاموں میں . تمہارے لیے ہی کمانے جاتا تھا تا کہ تمہاری ضروریات میں خود پوری کر سکوں تم کیا بول رہی ہو اتنا شک کرتی ہو تم مجھ پہ اکیڈمی جاتا تھا پڑھانے کہیں رنگ رلیاں منانے نہیں “. غازیان غصے سے دھاڑا تھا
جبکہ حرا آخری بات پہ شاک ہوئی تھی حیرت سے غازیان کے چہرے کی طرف دیکھا تھا
“یہ یہ لینے گیا تھا میں تمہارے لیے اور تمہیں ادھر طلاق چاہیے .” جیب سے پایل نکال کر اسے دکھائی تھی اور پھر پوری قوت سے اسے زمین پہ مارا تھا وہ ساری باتیں برداشت کر سکتا تھا لیکن اپنے کردار پہ نہیں جبکہ حرا ڈر کر پیچھے ہوئی تھی دل خوف سے دھڑک رہا تھا غازیان کی ایک بات نے ساری خرافات دماغ سے باہر نکال دیے تھے
“تم جھوٹ بول رہے ہو ارقم ارقم نے خود کہا تھا کہ تم میری سوتن سے ملنے جاتے ہو “. وہ دور کی کڑی لائی تھی اور غازیان کا دماغ اور گھوما تھا
“دماغ خراب تھا اسکا جو اسنے تم جیسی جاہل لڑکی کیساتھ مزاق کیا . تم ابھی نکلو یہاں سے .” ابھی غازیان دھاڑا تھا
اب حرا کو واقعی اسکی باتیں سمجھ آئی تھیں کہ ارقم واقعی مزاق کر رہا تھا
“غ غازیان ” . حرا نے اسے پکارنا چاہا تھا
“حرا میں نے کہا کہ جاؤ یہاں سے ورنہ ایسا نا ہو میں تمہاری خواہش پوری کر ہی دوں جو تم تھوڑی دیر پہلے کہہ رہی تھی . “
غازیان کے جملے نے حرا کو بلکل گنگ کر دیا تھا وہ الٹے قدموں سے ہی چلتے چلتے پیچھے ہوئی تھی جب زور سے لڑکھڑائی غازی تب بھی اسے سنبھالنے آگے نہیں بڑھا تھا وہ بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تھی اور لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ کر لمبے لمبے سانس لیے تھے جب دروازہ دھاڑ سے بند ہوا تھا وہ ایک دفعہ پھر اچھل کر رہ گئی تھی
“امی اب میں کیا کروں . یہ یہ میں نے کیا کر دیا میں نے کیسے غازیان پہ شک کیا .” اب دماغ اسکا ٹھکانے آیا تھا لیکن اب بھی کیا فائدہ سب کام تو خراب ہو ہی چکا تھا اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ کمرے میں جاتی کہیں غازیان اسے سچ میں ہی طلاق نا دے دے اب سوائے آنسو بہانے کے وہ کر بھی کیا سکتی تھی
“حرا جاہل زلیل کمینی انتہا کی بے غیرت ہو تم . اب میں کیا کروں اب غازیان مجھے سچ میں طلاق دے دے گا ………
اللہ جی پلیز معاف کر دیں آئندہ کبھی ایسا نہیں کروں گی . ” وہ روتے روتے خود سے بڑبڑائی تھی اور پھر یکدم اسے خیال آیا تھا ایک دم سے آنسو صاف کر کے اٹھی تھی
“میں امی کے گھر چلی جاتی ہوں یہاں ہوں گی نہیں تو اسے اور غصہ بھی نہیں آئے گا . … “خود سے ہی فیصلہ کیا تھا پہلے بھی غلطی اسی کی تھی اس کے بعد یہ فیصلہ شاید حرا کو مہنگا پڑ سکتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہارون زارون دونوں اپنے بیڈ پہ لیٹے ہوئے تھے کہ ایک دم زارون اٹھ کر بیٹھا تھا
“کیا ہوا تجھے ؟؟؟” اسے اٹھتا دیکھ ہارون نے کہا تھا
“کچھ نہیں یار ۔۔۔۔ بس کچھ عجیب سا ہو رہا ہے مجھے۔۔۔۔۔ جیسے کسی چیز کی طلب ہو ” زارون نے بےبسی سے کہا تو ہارون بھی اچانک اٹھ بیٹھا تھا
“ہاں یار میرا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے دل بے چین ہے ۔۔۔ سر میں بھی درد ہے شدید ” ہارون نے بھی اپنی حالت بتائی تو دونوں خاموش بیٹھے رہے
“کھانا بھی ہم نے کھایا ہوا ہے کہ بھوک سے ہو رہا ہو ۔۔۔ نیند بھی پوری ہے پھر کیا ہو رہا ہے یار ” وہ بے چارگی سے بولا تھا اور کڑی سے کڑی ملائی تھی
“یاد آیا ۔۔۔۔ کل فائق بھائی نے ہمیں کچھ دیا تھا یہ کہیں اس سے تو ؟؟؟؟” زارون کو ایک دم یاد آیا تو فوراً بیڈ سے اترا تھا
“فائق بھائی کے پاس جائیں کیا ؟؟؟؟؟؟” ہارون نے اسے کھڑے ہوتے دیکھ پوچھا تھا
“ہاں تو اور کیا یہاں پڑے مرتے رہیں ہم ۔۔۔۔۔ ابھی کے ابھی جانا ہے مجھے ادھر ” زارون اسے کہتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا تو ہارون بھی نا چار اس کے پیچھے گیا تھا آخر کو دونوں کو اس نشے کی لت جو لگنے والی تھی
آدھے گھنٹے بعد جب وہ دونوں فائق کے گھر کے پاس پہنچے تو وہ انہیں گھر کے باہر ہی کھڑا ملا تھا جو کہ اپنے اسی دوست کے ساتھ تھا جس نے ان دونوں کو نشہ دینے میں فائق کی مدد کی تھی
ان دونوں کو اپنی طرف آتا دیکھ فائق نے اپنے دوست کی طرف دیکھا اور خباثت سے مسکرایا تھا
“دیکھو شکار آگیا خود ہی شکاری کے پاس۔۔۔۔۔ تو ایویں پریشان ہو رہا تھا آج کا نشہ ان کی طرف سے ” فائق نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا تو اس نے بھی قہقہہ لگایا تھا
“سلام فائق بھائی ” ہارون نے اسے سلام کیا تھا لیکن اس نے اسے جواب تک نا دیا
“کہو کیا کہنے آئے ہو ” فائق سنجیدہ ہو کر بولا تھا
“بھائی آپ نے جو ہمیں کل دیا تھا وہ کیا تھا ؟؟؟؟ زارون نے فوراً اپنے مطلب کی بات کی تو فائق نے اپنے دوست کی طرف دیکھا تو اسے آنکھ ماری جیسے کہ رہا ہو کہ
” دیکھا کیا کہا تھا میں نے “
“کیوں کیا چاہیے وہ ؟؟؟ چھوڑو کیا کرو گے یار ایویں پھر مجھے کوسو گے کہ میں نے اس کام پہ لگایا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ جاؤ یار اپنا کام کرو ” فائق کو پتہ تھا ایک بار زیادہ ڈوز دینے سے انہیں اس کی مکمل طور پہ لت لگ جائے گی اور یہ کسی بھی حال میں اسے لیں گے
“نہیں نہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا پکا۔۔۔۔۔ آپ بس ہمیں وہ دے دیں ” ہارون نے بھی منت کی تھی
“دیکھ لو بہت مہنگا ہوتا ہے یہ۔۔۔۔ افورڈ کر لو گے ؟؟؟؟” فائق کے دوست نے کہا تو ہارون زارون نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا اور پھر سوچے سمجھے بغیر انہیں ہاں کر دی تھی
“یہ ایک چھوٹا سا پیکٹ ہے میرے پاس ۔۔۔۔ تم دونوں کے لیے تو پورا ہو جائے گا لیکن ہمیں تو یہ ایک آنکھ نہیں بھاتا۔۔۔۔ خیر یہ لو اور اس کے بدلے ہمیں ایک ہزار روپے دو دو۔۔۔۔ ” فائق کے دوست نے کہا تو وہ دونوں حیران ہوئے تھے
“کیا ؟؟ اتنی مہنگی ؟؟” ہارون نے بےاختیار کہا تو ان دونوں کا قہقہہ گونجا تھا
“بیٹا جی۔۔۔ کہا تھا نا یہ بہت مہنگی ہے۔۔۔ اور یہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ لاکھوں لگتے ہیں اس کو خریدنے میں ” فائق نے انہیں سمجھانا چاہا تھا لیکن جب نشے کی ضرورت ہو تو انسان روپہ پیسہ نہیں دیکھتا
“اچھا ٹھیک ہے یہ لو ۔۔۔۔۔۔ (شکر ہے میں آتے ہوئے لے آیا تھا کچھ پیسے ورنہ اب کیا کرتا )” زارون نے اسے ہزار کا نوٹ پکڑایا اور اس. سے وہ پیکٹ لیا اور ہارون کو ساتھ لیے گھر کی طرف چل دیا جبکہ فائق اور اس کے دوست کے قہقہہے گونجے تھے
“چل یار اب سے ہمارا نشہ تو فری ہوگیا نا ” اس کے دوست نے خباثت سے کہا تھا اور پھر وہ دونوں بھی اپنا نشہ کرنے کے لیے چلے گئے تھے.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *