Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

آج ان کا آخری دن تھا سعودیہ میں صبح سے ان گنت بار کشوہ کی آنکھیں یہ سوچ کر بھیگیں تھیں
کبھی کبھی تو سانس ہی رک جاتا یہ سوچ کر
افسردہ تو داؤد علیم کاظمی بھی تھا یہ جگہ یہ کعبہ کی رونق یہ مناظر کس کا دل چاہے گا انہیں چھوڑ کر الوداع کہہ کر جانے کا
نمازِ فجر ادا کرتے آج تو داؤد کی بھی ہچکیاں بندھ گئیں وہ اللّٰہ کا شکر گزار تھا اللّٰہ نے اسے اس قابل سمجھا تھا کہ آج وہ یہاں پر موجود تھا وہ شکر گزار تھا کہ وہ منکر میں شریک نہیں ہوگا وہ شکر گزار تھا کہ اللّٰہ نے اسے اتنی نیک اور صابر بیوی سے نوازا تھا
اللّٰہ نے اسے اندھیروں سے نکال کر اجالوں میں بیٹھا دیا اور وسیلہ اس کی شریکِ حیات کو بنایا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ اللّٰہ سے ایک دعا کر رہے تھے کہ اللّٰہ اپنے اور اپنے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گھر بار بار ان کی حاظری منظور کرے ۔۔

کعبے کی رونق
کعبے کا منظر
اللّٰہُ اکبر اللّٰہُ اکبر

ان کا جہاز پہلے دوبئی میں لینڈ کرنا تھا پھر تین گھنٹے کی ریسٹ کے بعد سیدھا پاکستان
کشوہ کا سر اس کے بازو پر ٹکا ہوا تھا
داؤد کا بازو کشوہ کے آنسوؤں سے مکمل بھیگ چکا تھا
ان شاءاللہ ہم پھر ضرور آئیں گے اس کے گرد اپنی حفاظت کی چادر مضبوط کرے وعدہ کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور اگلی بار اپنی اولاد کو لے کر آئیں گے
ان شاءاللہ بھاری بھیگی آواز آئی
داؤد نے جہاز میں اپنی اور کشوہ کی نشست کے ساتھ والا شیشہ اوپر کرکے پردہ کھول دیا تھا جس سے وہ دونوں اب مکمل چھپ چکے تھے باہر سے کوئی بھی اندر دیکھنے سے قاصر تھا
داؤد نے کشوہ کا نقاب کھولا آنکھوں کے ساتھ گال بھی سرخی مائل ہوگئے جبکہ چہرہ تھوڑی تک بھیگا ہوا تھا
داؤد نے بے ساختہ آنکھوں کو چھوا
میں وعدہ کرتا ہوں کشوہ اگر زندگی رہی اور اللّٰہ نے چاہا تو ہم ضرور اللّٰہ اور اس کے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گھر حاظری لگائیں گے اب خوشی خوشی ان پاک گلیوں کو وداع کرو دوبارہ آنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔
مسکراہٹ کے ساتھ اسبات میں سر ہلاتی کھڑکی کے ساتھ پیشانی ٹکا لی ۔۔۔۔۔۔۔
داؤد بھی سیٹ کے ساتھ سر لگا کر آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔۔

دبئی ائیر پورٹ میں جہاز لینڈ کرنے کے بعد وہ لاونج میں رکے تھے داؤد نماز پڑھنے میل سیکشن کی جانب چلاگیا تھا
کشوہ کا ارادہ بھی نماز ادا کرنے کا تھا
کشوہ ؟!!!
جب جانی پہچانی آواز پر کشوہ مڑی تھی
زینی کشوہ کے عبائے میں ملبوس ہونے کے باوجود بھی اس کی آنکھوں سے اسے پہچان چکی تھی
زینی !!! کشوہ اس کے گلے لگی تھی
تم نے تو سارے رابطے ہی ختم کردیے تھے کشوہ میں نے کتنا مس کیا تمہیں اکلوتی دوست تھی تم زینی کی آواز نم ہوئی تھی اس نے شکوہ کیا کشوہ نے اسے پھر سے گلے لگایا
ہاں ہم لوگ دبئی آئے تھے تم ۔۔؟؟!! یہاں کیسے کیا داؤد بھائی بھی آئے ہیں ؟؟
ہاں داؤد اور میں عمرہ کے لیے آئے تھے آج پاکستان واپسی تھی پہلے دوبئی سٹے ہے آج کا رات کو فلائٹ ہے ہماری کشوہ نے تفصیل سے بتایا
مطلب تم ادھر ہو رات تک زینی کی خوشی دیدنی تھی ۔۔۔۔

جتوئی ہاؤس !!!
گزرے چند ہفتوں میں بہت کچھ بدلا تھا
حسنہ کی رخصتی کے ساتھ ساتھ گھر والوں کا رویہ فاطمہ کے ساتھ مثبت انداز میں تبدیل ہوا تھا ..
وہی تمنا اپنی زندگی میں آزاد تھی اب ..ہاں عنصر کا نام اس کے نام کے ساتھ نہیں ہٹا جس کی چاہ اسے تھی بھی نہیں وہ دوبارہ اپنی سوشل لائف میں آ چکی تھی ڈیلی وی لاگنگ شاپنگ شوٹس
عنصر چاہ کر بھی اسے انکار نہیں کر پایا تھا
شام کو جب کام سے وہ گھر آتا فاطمہ ہی اس کے انتظار میں وہاں موجود ہوتی
ان سب کے باوجود جب بھی عنصر بازار سے فاطمہ کے لیے کچھ خریدتا بالکل سیم چیز تمنا کے لیے خریدتا پھر وہ پہنے یاں الماری میں پھینک دے یہ تمنا کی مرضی تھی
ایک دن فاطمہ اور دوسرے دن تمنا کے کمرے میں
عنصر اپنی طرف سے پوری کوشش کررہا تھا کہ وہ کوئی کوتاہی نہ برتے عنصر کو اپنے کمرے میں دیکھ تمنا نے شروع میں احتجاج کیا مگر پھر اس نے بھی مزاحمت چھوڑ دی تھی

کچن میں کھڑی اس وقت وہ ناشتہ بنا کر رہی تھی انڈہ گرم پین میں ڈالتے گرم تیل کی چند چھینٹے اڑ کر حسنہ کے سفید بازو پر گرتی بازو کو سرخ کرگئی وہ سسکی دبا گئی تھی مگر اس کے پیچھے کھڑے عبیر نے فوراً سے پہلے ہی اس ہاتھ سے پکڑ کر بازو کو کیچن میں بنے سنک کی جانب کیا ٹوٹی چلاتے ہی اس کا بازو پانی کے آگے کیا
حسنہ کو سکون محسوس ہوا
اس نے ایسے ہی گردن موڑ کر دیکھا تھا مکمل پولیس یونیفارم میں عبیر تراب بلا شبہ اس کی دھڑکن تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا
وہ بہت دل جمی اے دھیرے دھیرے بازو کے سرخ نشان پانی کے نیچے کئیے سہلا رہا تھا
ایک دفعہ پھر اپنے ماضی کی سیاہی آنکھوں کے آگے آئی تھی آنکھ سے آنسو کا قطرہ نکلا تھا جسے بہہ جانے سے پہلے ہی عبیر نے اپنی پور سے صاف کردیا کیا زیادہ درد ہے؟؟؟ برنال لگا دیتا ہوں تم بھی دھیان نہیں دیتی
وہ اسے چئیر پر بٹھا کر اٹھتا کہ حسنہ نہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے روک دیا تھا
وہ اپنی پیشانی اس کے مضبوط کاندھے پر رکھ گئی تھی رخصتی کو دو ہفتے ہوگئے تھے حسنہ روزِ اول سے ہی خاموش تھی جیسے عبیر کہتا بنا چوں چراں کے ویسے کر دیتی یہ پہلی دفعہ تھا کہ اس نے کوئی خود سے پہل کی تھی
عبیر نے اس کی دلی کیفیت کو محسوس کئیے ہاتھ اس کے سر پر رکھ دیا تھا
مانتا ہوں بہت ہینڈسم ہوں تمہارا دل نہیں کرتا اپنی نظروں سے دور کرنے کا مگر مادام یہ نا چیز کام کاج والا بندہ ہے اپنی بیوی کے بھی تو نخرے اٹھانے ہیں اور پھر اپنے آنے والی نسل کے لیے کچھ بنانا ہے
جہاں اس کی پہلی بات پر حسنہ روتے مسکرائی تھی اس کی دوسری بات پر چہرہ سرخ ہوا

ایسے مت گھور و میڈیم میں بس اپنی بیوی کا ہوں اور بہت معصوم اور پیاری ہے میری بیوی اس کے گال زور سے کھینچ کر اٹھا
عبیر !!! وہ چیخی
قسم سے آج سے پہلے اپنا نام اتنا شیری نہیں لگا
ایک دفعہ پھر تو بولنا جان آنکھ دبا کر بے باکی سے بولا تھا
عبیر پتر امی کی آواز کے ساتھ ساتھ قدموں کی آواز پر حسنہ ایک دم رخ موڑ کر انڈا تلنے لگی تھی
عبیر پتر آج جانا نہیں تھانے ؟؟
ارے ہاں ماں جی جانا ہے بس آپ کی بہو جانے نہیں دے رہی مطلب ناشتہ بنایا نہیں کئیے بغیر ناشتے کہ کیسے جاؤں اسے آنکھ مارتا وہ ماں جی کے کندھے پر بازو پھلائے شریر لہجے میں بولا
اچھے سے سمجھتی ہوں تیری چالاکیاں اب تنگ نہ کر میری دھی کو باہر چل میں لاتی ہوں ناشتہ تیرے لئیے

آنٹی آپ بھی بیٹھیں میں لے آتی ہوں ناشتہ پلیز مجھے اچھا نہیں لگے گا میرے ہوتے ہوئے آپ کام کریں حسنہ نے بہت پیار سے کہا تھا ماں جی بھی باہر چلی گئی جب ایک دفعہ پھر ہاتھ دھونے کے بہانے عبیر کیچن میں آتا اسے کچھ کہتا سٹپٹانے پر مجبور کر گیا تھا
حسنہ اپنے شوہر کی پشت دیکھتی اللّٰہ کا شکر ادا کرتی نہیں تھکتی تھی اللّٰہ نے اسے معاف کردیا تھا اس کا شوہر اس کا راز دار تھا
جس کی وجہ سے وہ واپس زندگی کی جانب لوٹ رہی تھی

حالات کو ہر ہر موقع پر اک بھیس بدلنا لازم ہے۔۔۔۔۔۔
کانٹوں میں دامن بن جائیں پھولوں پر شبنم ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔

کچھ دن سکون سے گزرے تھے ۔۔۔۔
داؤد اور کشوہ بھی عمرے میں جانے سے پہلے جتوئی ہاؤس چکر لگا کر گئے داد جی سمیت دونوں ماموؤں نے داؤد اور کشوہ سے معافی مانگی جس پر دونوں نے ہی بلاجھجک انہیں معاف کیا کشوہ سب سے مل کر حتیٰ کہ وہ تمنا کہ گلے لگ کر گئی

سب ٹھیک ہورہا تھا حالات بہتر ہورہے تھے مگر تمنا میں خود سری آتی جا رہی تھی وہ سب سے بدتمیزی کرتی تھی فاطمہ کے ساتھ اس کا رویہ لیا دیا تھا اس کی نظروں میں فاطمہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی

حد اس دن ہوئی جب تمنا نے وی لاگ میں فاطمہ کو لا کر اول تو اس کے پردے کی بے حرمتی کی پھر اسے سوتن کہہ کر عوام کے ہاتھوں برا بھلا کہلوایا تھا

ٹھیک پندرہ منٹ کے اندر اندر عنصر نے تمنا کی ویڈیو ڈیلیٹ کروائی نہ صرف ڈیلیٹ کی وہ اس پر بھڑکا بھی تھا
آخر تم چاہتی کیا ہو ؟؟؟
مجھے بتا دو تمنا کیا چاہتی ہو تم عنصر غصے میں تھا مگر ضبط کئیے بیٹھا رہا
تمنا نے اپنا سوکھتا حلق تر کیا
دیکھو تمنا یہ سب کرکے کیا ہوگا عنصر نے تمنا کے دونوں ہاتھ تھامے انداز صلح جو تھا
تمنا اس کے ہاتھ تھامنے پر گھبرا سی گئی
دل میں عجیب سے خیال گردش کرنے لگے تھے

اگر مجھ سے علیحدگی….. ابھی عنصر کی بات پوری بھی نہیں ہوئی تھی تمنا کمرے سے باہر نکل گئی تھی
جانے وہ کس چیز سے بھاگ رہی تھی
عنصر سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔

دروازہ بجنے پر داد جی ہوش میں آئے تھے
حالات کتنے عجیب ہوگئے تھے داد جی کی لاڈلی جو بے دھڑک ان کے کمرے میں آجایا کرتی تھی اس کو اب اندر آنے کے لیے دروازہ کھٹکھٹانے کی نوبت محسوس ہوتی تھی

تمنا اندر آئی داد جی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے گہری سوچ سے چونکے تمنا ان کے پاس ہی ٹک گئی اپنا سر ان کے ضعیف سے بازو پر ٹکایا

آپ دادو سے بہت محبت کرتے تھے نہ داد جی تمنا نے جانے کس رو میں پوچھا تھا
آپ کو معلوم ہے داد جی میری اور دادو دونوں کے نصیب کتنے ملتے ہیں دونوں ہی بلا کی لاڈلی دونوں کو ہی منہ سے نکلنے سے پہلے ہی ہر شہ ملی مگر دونوں کی زندگی کا سب سے اہم فریق بٹا ہوا ملا فرق بس اتنا تھا دادو نے خود آپ کو بانٹا تھا اور میں نے اپنی خود سری میں اپنے شوہر خود سے دور کیا
مگر آپ نے تو دادو اور بڑی دادو میں فرق کیا تھا مگر عنصر نہیں کرتے بہت کوشش کرتے وہ ہم دونوں میں برابری رکھیں
تمنا نے ہچکی لی پھر ہنسی مگر میں پھر عنصر کا سارا کیا دھرا مٹی میں ملا دیتی ہوں
میں کیا کروں دادجی مجھ سے نہیں برداشت ہورہا عجیب سی طبیعت ہوتی ہے
عنصر مجھ سے پوچھتا ہے اگر میں اس سے الگ ہونا چاہتی ہوں تو اسے بتا دوں داد جی میں نہیں الگ ہونا چاہتی میں اسے ۔۔۔۔
وہ رکی
داد جی ۔۔۔۔
داد جی
تمنا نے گردن زرا سی موڑی داد جی کے وجود میں کوئی جنبش محسوس نہ کرتے اس کا دل غلط خیال کے آتے ہی شدت سے دھڑکا تھا

داد جی !!!
مگر داد جی کا سر ڈھلکا تھا داد جی تمنا کی چیخ پر سب نے دہل کر داد جی کے کمرے کی جانب رخ کیا تھا

دادجی کیا ہوا طبیعت کیوں خراب کرلی آپ نے
تھوڑی دیر پہلے ہی کشوہ اور داؤد واپس آئے تھے پاکستان آتے ہی داد جی کی طبیعت خرابی کی خبر نے انہیں جتوئی ہاؤس آنے پر مجبور کردیا تھا

داد جی نے پیار سے کشوہ کے سر پر اپنا ہاتھ رکھا تھا
بس اپنے سب بچے یاد آرہے تھے
داؤد نے بھی آگے بڑھ کر داد جی کے کندھے پر ہاتھ جمایا

دادجی کے ہارٹ اٹیک کے بعد سے تمنا انہیں واپس نہیں دِکھی تھی
وہ ہر وقت کمرے میں بند رہنے لگی تھی جانے کون سا خوف تھا جو اس کے دل میں پنجے گاڑ کر بیٹھا تھا داد جی کے بارہا بلانے پر بھی وہ داد جی کے کمرے میں نہیں گئی ۔۔۔۔
وہ بیڈ پر کہنی منہ پر رکھے لیٹی ہوئی تھی
جب اسے دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی تھی
تمنا !!!
عنصر کی آواز پر تمنا گھبرا کر اٹھی تھی
میں نے داد جی کو کچھ نہیں کہا
میں نے نہیں ۔۔۔۔
وہ ہچکیاں بھر کر رونے لگی
شش تمنا عنصر اس کی داد جی سے محبت کو اچھے طریقے سے جانتا تھا اس کی دلی کیفیت کو اچھے سے محسوس کئیے وہ اسے سہارا دے گیا

تمنا بھی تمام آنا بھلائے اس کے ساتھ لگی روتی چلی گئی تھی ۔۔۔۔
داد جی کے پاس جاؤ تمنا وہ بے چین ہیں تم اچھے سے جانتی ہو تمہیں دیکھے بغیر داد جی دوائی بھی نہیں کھاتے
اس کے آنسو صاف کئیے اس نے تمنا کو داد جی کے کمرے کی طرف بھیجا تھا

تمنا نے آج عنصر کے کندھے پر سر رکھ کر صرف آنسو نہیں نکالے تھے اپنے دل سے عنصر کے لیے تمام میل بھی نکال دی تھی ۔۔۔۔۔

آنا کا بت پاش پاش ہوا تو عنصر کا وجود بھی اچھا لگنے لگا تھا
مگر اس سے الگ ہونے کا خوف اسے کسی صورت جینے نہیں دے رہا تھا
خاص طور پر داد جی کے ہارٹ اٹیک کے بعد وہ ڈر گئی تھی وہ انہیں کسی قسم کا کوئی دکھ نہیں دینا چاہتی تھی جس کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوتی
داد جی اس کے لیے اس کے صرف دادا نہیں تھے اس کے ماں باپ دوست ساتھی راز دار سب کچھ تھے جن سے بے جھجھک وہ کچھ بھی کہہ لیتی تھی
جس کا اسے کامل یقین تھا جو ذات اسے کبھی تنہا نہیں ہونے دے گی ۔۔۔۔
داد جی کے لیے سوپ بنانے وہ خود کچن میں آئی تھی وہاں فاطمہ بھی موجود تھی
تمنا کو گھٹن ہوئی عجیب سی کیفیت جو پچھلے کچھ دنوں۔ سے اس کے ساتھ تھی
ع۔۔عنصر پیار کرتا ہے نہ تم سے ۔۔۔۔
تمنا مسکرا کر بولی در حقیقت اس کے چہرے پر خوف تھا
مگر فاطمہ کو اس کی مسکراہٹ عجیب سی لگی
اسے کہنا وہ مجھے نہ چھوڑے۔۔۔۔
ڈر تھا تمنا کے لہجے میں ۔۔۔۔
وہ آپ سے بھی پیار کرتے ہیں تمنا فاطمہ نے دھیمی سے لہجے میں پریقینی سے کہا
ہاہہا نہیں تمہیں نہیں معلوم ہماری شادی کس سچویشن میں ہوئی ہماری شادی ایک زبردستی کا رشتہ تھا ۔۔۔۔

ایک بات یاد رکھئیے گا تمنا مرد کبھی بھی مجبور نہیں ہوتا ہے اس پر زبردستی مسلط نہیں کی جا سکتی اگر انھوں نے آپ کو چھوڑنا ہوتا تو ان کے پاس بہت سارے موقع تھے وہ آپ کے ساتھ نبھا کرنا چاہتے تھے
اور تم ؟؟ تم کیوں عنصر کی زندگی میں اگر وہ مجھ سے محبت کرتا ہے تو
اس کے پیچھے کی کہانی سے آپ بے خبر ہیں تمنا اور میں نے عنصر سے وعدہ کیا تھا کہ میں کبھی وہ کہانی نہیں دھراوں گی

بس اتنا جان لیں عنصر جتوئی جیسا مضبوط کردار کا مالک اپنی محرم کا محافظ میں نے آج تک نہیں دیکھا ان کے کردار کی گواہ دینے کے لیے اگر فاطمہ عنصر کو جان بھی دینی پڑی تو وہ کبھی جھجھکے گی نہیں

پر عقیدت الفاظ تمنا کو کسی اور ہی جہاں میں لے گئے تھے اسے شادی کا دن یاد آیا تھا جب عنصر نے اس پر کسی قسم کا کوئی پریشر نہیں ڈالا تھا حتیٰ کہ وہ خود صوفے پر جا کر لیٹ گیا تھا
اور اس نے کتنا غلط کیا تھا عنصر کے ساتھ اس کی کہی ایک بات کی سزا دی جو شاہد عنصر کو بھی یاد نہیں ہوگی کہ اس نے ایک دفعہ اپنے ماں باپ کے سامنے تمنا کے بارے میں کچھ کہا تھا

عنصر فاطمہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھی عنصر کو مخاطب کرنے لگی جو لیپ ٹاپ پر جھکا ہوا تھا
ہاں ؟؟ عنصر آپ سے ایک بات کہو ؟؟ فاطمہ نے اپنے ہاتھوں کو مسلا جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ وہ پریشان ہے
عنصر نے لیپ ٹاپ سائیڈ پر رکھا تھا
ہمم بولو ؟؟
تمنا کو آپ کی ضرورت ہے …
فاطمہ نے نظریں چُرائیں
تمنا کو میری ضرورت ؟؟؟ اسے تو شاہد یہ رشتہ بھی نہیں رکھنا اور تم کہہ رہی ہوں
تمنا نے اپنے منہ سے بولا ہے مجھے کہ میں آپ کو کہوں کہ آپ اسے مت چھوڑیں
عنصر چونکا
میں نے تمنا کی آنکھوں میں آپ کے لیے محبت دیکھی ہے آپ سے دور ہونے کا خوف دیکھا ہے
وہ آپ کی بیوی ہے عنصر اسے آپ کی ضرورت ہے اس وقت مجھ سے زیادہ
جائیں عنصر فاطمہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اجازت دی تھی
عنصر اسبات میں سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
اسے تمنا کو احساس دلانا تھا ۔۔۔۔۔۔


چند مہینوں بعد

میں نے کوشش کی کہ مجھے تم سے محبت نہ ہو عنصر جتوئی کیونکہ مجھے خود کا معلوم تھا اگر مجھے تم سے محبت ہو جاتی تو میں کبھی فاطمہ کو برداشت نہ کر پاتی
میں نے بہت کوشش کی میں خود کو بچا لوں مگر تمہارے احسن سلوک نے میری ساری کوششوں کو ناکام کردیا
تمہیں پتا ہے عنصر فاطمہ تمہارے کردار کی گواہی دینے کے لیے میرے سامنے اپنی جان دینے کے لیے بھی تیار تھی اسے کیسے بتاتی تمہارے کردار کی سب سے بڑی گواہ مجھ سے بھر کر کون ہوتا جس شخص نے ایک لڑکی کے تمام جملہ حقوق اپنے نام کروانے کے باجود کبھی اس کے ساتھ زبردستی نہیں کی ہو۔
مجھے تم سے محبت ہوگئی
محبت ہوئی تو فاطمہ بری لگنے لگی
شراکت داری بری لگنے لگی
دل کرتا اس کو ختم کردوں
یاں خود کو
یاں پھر تمہیں ہی تم ہی مصیبت کی جڑ ہو وہ ہنسی تھی

کیوں میری بد تمیزیوں پر مجھے تھپڑ نہیں مارا
کیوں مجھے میرے کہنے پر غیرت میں آکر چھوڑا نہیں
کیوں عنصر کیوں ؟؟؟
تم چاہتے تو فاطمہ سے شادی کے بعد اپنی الگ زندگی آباد کر سکتے تھے مجھے میرے حال پر چھوڑ سکتے تھے تو کیوں مجھے سہارا دیا کیوں میرے دل میں اپنے لیے محبت جگائی عنصر جتوئی آج مجھے جب خبر ہوئی کہ مجھے کینسر ہے تو مجھے رونا آرہا ہے تم سے محبت سے پہلے اگر مجھے یہ بیماری لاحق ہوتی تو میں شکر ادا کرتی مگر ابھی مجھے جینا تھا تمہارے ساتھ ابھی تو میں نے محبت کو محسوس کرنا شروع کیا تھا
یہ تم نے میرے ساتھ کیا کردیا عنصر کیوں ؟؟؟
لوگ کہتے ہیں کینسر خطر ناک بیماری ہے مگر کوئی تمنا جتوئی سے پوچھے تو وہ کہے گی محبّت سب سے بڑی بیماری ہے اس سے زیادہ موذی کوئی مرض نہیں ۔۔۔

اس دن ڈاکٹر کے پاس سے آنے بعد میرا دل کیا خود کو ختم کرلوں مگر اتنی ہمت نہیں تھی مجھ میں کہ اپنے ہاتھوں سے اپنے اندر پلتی جان کی جان کے لوں میں شاہد خود غرضی میں ایسا کر بھی لیتی اگر میں فاطمہ کی ہچکیاں نہ سنتی اس کی تڑپ نہ دیکھتی
اس کی نیگٹیو ریپورٹس نہ دیکھتی
فاطمہ تم اس دن رو رہی تھی نہ کہ تم ماں نہیں بن سکتی
میرا تم سے سوال ہے کیا تم میری اولاد کی ماں بنو گی ؟؟
کیا تم اسے پالو گی اس کی پرورش کرو گی ؟؟
اسے خود سر بنانے کی بجائے اپنی طرح نیک اور سلجھی ہوئی بنانا اس کی پرورش پر لوگ رشک کریں
جو سب کا دل جیت لے ۔۔۔۔
میں جو باتیں کر رہی ہوں اس کی سمجھ تمہیں

اس وقت لگے گی جب یہ ویڈیو تم دیکھ رہی ہو گی
میری اللّٰہ سے دعا ہے اللّٰہ مجھے بیٹی دے جس کی پرورش فاطمہ کرے تمنا نے نظریں جھکا کر کہا تھا

فاطمہ کے ساتھ بیٹھے عنصر کا چہرہ بھی گیلا تھا وہ دونوں اشک بار تھے یہ ویڈیو پہلی بار فاطمہ کے ہاتھ لگی تھی جب تمنا ہاسپٹل میں ایڈمٹ تھی طبیعت کے اچانک خراب ہونے پر اسے ہسپتال لے جایا گیا ڈاکٹر نے آپریشن کا کہا تھا
بچی کی پیدائش کی خبر اس تک پہنچی تھی وہ اللّٰہ کا شکر ادا کر رہی تھی تمنا اور اس کی اولاد دونوں ہی ٹھیک ہیں
مگر گھر والوں پر بجلی تب گری تھی جب ڈاکٹرز نے انہیں تمنا کی بگڑتی حالت کے ساتھ یہ بتایا کہ اس کا کینسر اس کے جسم میں کافی حد تک پھیل گیا ہے یہ تو اللّٰہ کا کرم تھا کہ اس کی بچی بالکل ٹھیک تھی

عنصر کا دل جیسے کسی نے مسل دیا ہو وہ کمرے میں آیا تو تمنا بچی کو گود میں اٹھائے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی
عنصر نے اس کے ہاتھ سے بچی کو پکڑا تھا
دے دیں مجھے عنصر پتا نہیں کتنے دن اسے اٹھانا میرے نصیب میں لکھا ہے وہ روئی نہیں تھی بلکہ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ بولی تھی
اچھا نہیں کیا تمنا عنصر کرب سے بس اتنا ہی بول سکا
اب اس میں میرا کیا قصور عنصر
تمنا وہ رونے لگا تھا تمنا گھبرا گئی
خدا کے لیے عنصر آپ کیا چاہ رہے ہیں وقت سے پہلے ہی میری سانسیں بند ہو جائیں

تناوش بے بی دیکھو بابا کے کام آپ تو روئی نہیں خود بچوں کی طرح رو رہے ہیں
وہ بچی کو نام دیتے تھپکنے لگی تھی

کچھ نہیں ہوگا ہم علاج کروائیں گے سب ٹھیک ہو جائے گا عنصر نے عزم کے ساتھ کہا

ایک رات کے بعد تمنا نے ضد کی تھی کہ وہ گھر جانا چاہتی ہے اس کی ضد پر بلاخر اس کے ساتھ تناوش کو ڈسچارج کردیا گیا تھا کیونکہ تناوش بالکل ٹھیک تھی تو ڈاکٹرز نے بھی کوئی مسئلہ نہیں کیا مگر وہ تمنا کی حالت پر خاصے متفکر تھے

ایک ہفتہ فاطمہ نے کوئی کثر نہیں چھوڑی تھی تمنا کا خیال رکھنے میں تناوش کی دیکھ بال تمنا کی طبیعت اس کی دوائیاں سب کچھ بھلائے وہ بس تمنا میں لگی تھی اور پھر اپنی بیماری سے نہیں لڑ سکی تھی

تم اپنے چاند تارے کہکشاں چاہے جسے دینا ۔۔۔۔۔۔۔
مری آنکھوں پہ اپنی دید کی اک شام لکھ دینا۔۔۔۔۔۔۔

چند سالوں بعد !!!..
کششش!!!
شش!!
داؤد حسب معمول کشف کو پکارتا کمرے میں آیا تھا
مگر اندر کا منظر دیکھ کر ایک دم خاموش ہوا
دائم کشوہ کا سر اپنی ننھی سی گود میں رکھے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا تھا جبکہ کشوہ پر سکون سی سوتی داؤد کو اس وقت حسین تر لگی تھی
داؤد کے بعد اگر کوئی کشوہ کے بالوں کا دیوانہ تھا تو پانچ سال کا دائم
وہ کشوہ کے بالوں کا کیا پوری کشوہ کا دیوانہ تھا اسے بھی اپنے بابا کی طرح سونے کے پہلے اٹھنے کے بعد کشوہ ہی چائیے کھانا تو کشوہ کے ساتھ
اپنے بابا کے دیکھا دیکھی اپنے کھانے کا پہلا نوالہ وہ کشوہ کے منہ میں ڈالتا تھا ۔۔۔۔۔

ان گزرے سالوں میں بہت کچھ بدلا تھا کاظمی ہاؤس میں ننھے دائم کی کلکاریاں گونجتی تھیں اپنے دادا دادی اور پھوپھو کا چہیتا دائم داؤد کاظمی
کشوہ نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی تھی آگے جوب کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا حالانکہ سریہ بیگم نے ایک دو دفعہ اسے کہا تھا مگر پھر کشوہ کے انکار پر انھوں نے اس ے نہیں چھیڑا تھا کشوہ دل جمعی سے داؤد اور دائم کی زمہ داریاں سر انجام دے رہی تھی
داؤد اپنے بابا کے ساتھ زمینوں کو سنبھال رہا تھا اسے ایک دکھ تھا کہ وہ پڑھ نہیں سکا مگر اب اس کی خواہش اپنے بچوں کو بہت پڑھانے کی تھی
وہی دوسری جانب جتوئی ہاؤس میں بھی حالات خاصے بدل گئے داد جی تمنا کے بعد زیادہ دیر اس دنیا میں نہیں رہے
وہ ہر چیز کے باوجود ان کے لیے خاص تھی جتوئی خاندان والے اس بات کو بہت اچھے سے جان چکے تھے
چھوٹے عائد اور زید بھی جوان مرد بن گئے تھے
عائد کی منگنی ثمن کے ساتھ بچوں کی رضامندی کے ساتھ تہہ کردی گئی تھی
حسنہ بھی اپنے 3 سال کے بیٹے کے ساتھ جس دن جتوئی ہاؤس کا چکر لگاتی گھر بھر میں رونق لگ جاتی تھی
عابس اپنے باپ کی طرح بے حد شرارتی تھا
اس کی نسبت عنصر اور فاطمہ کی بیٹی تناوش دھیمے مزاج کی تھی ہوبہو تمنا جیسے نقش کے ساتھ وہ بچی تمنا کی طرح شرارتی نہیں تھی

فاطمہ فاطمہ !!!!

معمول کے مطابق کمرے میں داخل ہوتے ہی عنصر نے فاطمہ کو آواز لگانے کے ساتھ بیڈ پر اپنے کھلونوں کے ساتھ آرے لگی تناوش کو اٹھا کر اچھالا تھا جو عنصر کو دیکھ کر کھلکھلائی تھی
بابا کی جان عنصر نے اس کے گال پر پیار کیا
تناوش نے عنصر کی تھوڑی بھری داڑھی کھینچی
بری بات مما کی جان فاطمہ نے تناوش کی مٹھی میں بھیجنے عنصر کی داڑھی کے بالوں کو نکال کر تناوش کی ننھی سی مٹھی پر لب رکھے تھے
پانی پی لیں عنصر میں آپ کے کپڑے نکالتی ہوں فریش ہو جائیں
فاطمہ عنصر نے اسے کلائی سے تھاما
جی ؟؟!!!
میرا سفید سوٹ نکال دو اور تانی کو تیار کر کے خود بھی تیار ہوجاؤ میں پہلے قبرستان جاوں گا پھر وہاں سے ہم کہیں گھومنے چلیں گے آفس کی مصروفیات کی وجہ سے میں تم دونوں کو ٹائم نہیں دے سکا تھا
چلے گی نہ تانی بابا کے ساتھ عنصر نے اسے ایک دفعہ پھر اچھالا وہ اچھلتی کھلکھلاتی ہنستی اس کے گود میں واپس آئی ۔۔۔

فاطمہ نے دل میں اللّٰہ کے بعد تمنا کا شکر ادا کیا تھا

عبیر !!!
عبیر
جی عبیر کی جان
عبیر اٹھ کر بھاگا تھا اسے پتا تھا اس کے سپوت کے ہاتھ میں اس کی بیوی کے بال پھر سے آگئے ہوں گے
آپ کی جان کی جان کا عذاب بنا ہوا ہے یہ حسنہ روہانسا ہوئی تھی عابس ایک دفعہ اس کے بال پکڑ لیتا تو جیسے جڑ سے نکالنے کی حد تک پہنچ جاتا تھا
ارے میرے شیر
بابا کے بال پکڑ لے مما کے پکڑے گا تو وہ دونوں کو گنجا کردے گی
عبیر اس کے ترلے کرنے لگا جو اپنے بابا کو ترلے کرتے دیکھ خوشی سے اچھلنے لگا تھا
افف اللّٰہ لگتا ہے دنیا کے گناہوں کا بدلا دنیا میں ہی مل جانا وہ بڑبڑایا تھا
مگر حسنہ سن چکی تھی
کیا مطلب آپ کا آپ کے گناہوں کی سزا حسنہ نے غصے سے عابس کو عبیر کی گود سے کھینچ کر اپنے سینے سے لگایا جو میسنا بنتا حسنہ کے گال کو چومنے کے بعد اس کی گردن میں منہ چھپا چکا تھا
ہیں میسنے تیرے لیے تیری ماں سے لڑ رہا ہوں اور تو نے پارٹی بدل لی
شرم کریں عبیر اور یہ تو تو کیا ہوتا ہے میں مما کو بتاتی ہوں آجاؤ مما کی جان ابھی دادو سے پٹائی لگواتے پاپا کی گندے بابا
حسنہ اسے چٹاچٹ چومتی گود میں لے چکی تھی
یار ۔۔۔یار یہ کیا ۔۔۔۔
اچھا حسی حسنہ جان
مگر کوئی ہوتا تو سنتا
انسپکٹر عبیر تراب لگتا ہے تمہاری دال گھر پر نہیں گلنے والی پولیس سٹیشن ہی نکلنا پڑے گا
باہر سے آتی حسنہ اور عابس کی کھلکھلاتی آوازوں پر عبیر کو اپنے سالوں پہلے کیے فیصلے پر فخر ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

کیسی طبعیت ہے ؟؟ داؤد نے کشوہ کو کسلمندی سے اٹھتے دیکھ فکر مندی سے کہا
کچھ نہیں بس تھوڑی سی تھکاوٹ تھی اس نے بالوں کو جوڑے میں قید کیا جب داؤد نے اپنے ہاتھ میں تھامے جوس کے گلاس کو اس کے سامنے کیا
اففف نہیں داؤد دائم نے بھی مجھے سونے سے پہلے پلایا ہے جوس
وہ روہانسا ہوئی
یہ تو بہت اچھی بات ہے میرا شیر وہ گہرا مسکرایا وہ ویسا ہی تھا اس کی مسکراہٹ آج بھی کشوہ کو معصوم لگتی تھی آنکھ اور گال کے درمیان کی وہ پرکشش لکیر جو اسے مسرمائز کرتی تھی ابھی بھی وہ دیکھ رہی تھی داؤد کو بھی معلوم تھا کشوہ اسے ہی دیکھ رہی اسی بات کا دائرہ اٹھاتے جوس کا گلاس اس کے منہ کو وہ لگا چکا تھا ۔۔۔۔
داؤد!!!!!…… بڑا سارا گھونٹ اسے زبردستی بھرنا پڑا تھا
پی لیں اسے آرام سے کشف میں نہ بات نہیں کرنی آپ سے
ابھی کشوہ نے آخری گھونٹ بھرا تھا کہ دائم بھی ٹرے میں میں جوس کا گلاس لے آیا
کشوہ نے ایک نظر گھور کر داؤد کو دیکھا تھا جو لب دبا کر بالوں میں ہاتھ پھیر گیا
جتنا آپ لوگ مجھے جوس پلا رہے ہیں اس کنڈیشن میں مجھے شوگر ہو جانی
خدا نہ کرے کشف کیسی خوف ناک باتیں کر رہیں ہیں آپ داؤد نے سخت لہجے میں کہا
کشوہ نے آنکھیں گھمائیں تھیں
مگر داؤد سخت ناراض ہوکر کمرے سے باہر نکل گیا تھا
دائم بھی اپنے بابا کو ایسے دیکھ کر جوس کشوہ کے آگے رکھ کر ناراض منہ بناتا کمرے سے باہر چلا گیا تھا اسے یہ ہی سمجھ آئی تھی اس کی مما آج بھی کھانا ٹھیک سے نہیں کھا رہی تھی جو کہ اس کے بابا کے مطابق اچھی بات نہیں تھی

جبکہ کشوہ دونوں کی ناراضگی پر منہ کھول کر دیکھتی رہ گئی
دائم مما کی جان !! مگر کوئی جواب نہیں آیا مطلب دونوں واقع ہی اس سے ناراض ہوچکے تھے
کشوہ اٹھی اب اسے دونوں کو منانا تھا

ہم اس کے آنکھ سے اوجھل ہونے کا مطلب کیا لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھ سے اوجھل ہو تو نظارے درہم برہم ہو جائیں۔۔۔۔۔

دائم مما کا بے بی کشوہ نے صوفے پر ہاتھ باندھ کر منہ پھلائے بیٹھے بیٹے کی گال پر بوسہ دیا تھا جب دائم نے پھولے منہ سمیت منہ موڑا کشوہ نے ادھر بھی اسے پیار کیا تھا کشوہ کو اس پر ڈھیروں پیار آیا وہ ہوبہو داؤد کی کاپی تھا
کشوہ نے اسے گدگدانے کے بعد گود میں اٹھا لیا
کشف کشوہ حد کرتی ہیں آپ ڈاکٹر نے وزن اٹھانے سے منع کیا ہے آپ کو داؤد نے فوراً دائم کو اس کے گود سے لے کر خود اٹھایا تھا

داؤد اب میں اپنے بچے کو پیار بھی نہ کروں کشوہ متحیر ہوئی تھی
آپ کریں پیار مگر اسے مت اٹھائیں اس کنڈیشن میں وزن اٹھانا ٹھیک نہیں ہے
داؤد کی آواز سخت تھی
آپ دونوں مجھ سے پیار نہیں کرتے میں مما کے گھر جا رہی ہوں کشوہ کی آنکھوں میں نمی چمکی وہی دونوں باپ بیٹا لائن پر آئے
نہیں کشف ۔۔۔
نہیں مما ۔۔۔۔
وی لو یو نہ
آپ کہیں نہیں جارہی یار دونوں ہی اس کے پیچھے ہولیے اب انہیں منانا تھا اپنی کشف کو

یہ طویل عرصے سفر کرنے کے بعد داؤد کو اس کی دعاؤں کا ثمر ملا کشوہ کو ایک بہترین ہمسفر ملا جس نے اس کے پردے کا مان قائم رکھا حسنہ کو نہ محرم رشتوں کی حقیقت معلوم ہوئی

اب تو جاتے ہیں بت کدے سے میرؔ ۔۔۔۔۔۔
پھر ملیں گے اگر خدا لایا ۔۔۔۔۔۔۔

ختم شد