Zaat Be Nishaan By Samreeen Sheikh Readelle50060 Last updated: 6 July 2025
No Download Link
Rate this Novel
Zaat BeNishaan By
Samreen Sheikh
پوری رات انڈر ابزرویشن میں پڑے رکھنے کی وجہ سے چنبیلی کو حسنہ کی دیکھ بال کے لیے روکا گیا جو ناک منہ چڑھائے اس کے پاس موجود تھی ۔۔۔۔ تارا بائی کو اس پر جتنا غصہ تھا اس نے سوچ لیا تھا جتنے پیسے اس پر لگے ہیں اس سے دوگنا وہ حسنہ سے وصول کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارے ڈاکٹر کچھ بتاؤ تو ۔۔۔۔ وی آر سوری!!!!!۔۔۔
کیا رے مر گئی کیا چنبیلی نے ہونٹوں پر ہتھیلی جما کر کہا ۔۔۔ نگوڑی تیرے منہ میں خاک ابھی تو چاندی چمکنی شروع ہوئی تھی تارا بائی نے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ اس کی کمر پر رسید کیا تو وہ بلبلا اٹھی ۔۔۔۔ ارے ڈاکٹر منہ کیا دیکھ رہی بتا بی ۔۔؟؟ جی بائی وہ اب خطرے سے باہر ہے مگر چوہے مار گولیوں نے اندرونی حصوں پر خاصا گہرا اثر چھوڑا ہے تو کم از کم دو ہفتوں کے لیے دیکھ بھال کرنی پرے گی ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے گلے سے ستیتھوسکوپ (دھڑکن سننے والا آلہ) اتار کر کہا ۔۔۔۔
ہائے ۔۔ہائے میں نے سوچا تھا سونے کی مرغی ہاتھ آئی ہے مگر یہ منہوس جب سے آئی ہے خرچہ کروا رہی ہے کوئی نہیں دو ہفتے ہی ہے نہ پھر دیکھ تارا بائی کرتی کیا ہے تیرے ساتھ ۔۔۔۔۔ ____
کلینک سے نکل کر اس کی گاڑی کا رخ یونیورسٹی کی جانب تھا پہلے زینب سے ملنا تھا پھر ڈاکٹر رخسانہ سے داؤد کے سلسلے میں ۔۔۔۔
گاڑی چلاتے ہوئے اس کا دھیان حسنہ کی جانب بھی تھا ۔۔۔ اللّٰہ کرے جو میں سوچ رہی ہوں ویسا کچھ نہ ہو حسنہ اپنی کسی دوست کے یہاں ہی ٹھہری ہو ۔۔۔۔ گاڑی پاکر کرتے وہ تیز تیز قدم لیتی یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔ ہاتھ میں تھامی پرچی پر دھیان دیتی وہ سامنے موجود پتھر کو نہ دیکھ سکی جس کے سبب پاؤں پر ٹھوکر لگی وہ لڑکھڑائی ۔۔۔
حسبی اللّٰہ!!! دھیان سے بیٹی ۔۔۔۔ یہ آواز ؟!!! سر عمر نے اسے پہچان لیا تھا وہ بھی اسے لڑکھڑاتا دیکھ اسی طرف چلتے آرہے تھے غفور انکل !!! کشوہ نے انہیں پہچان لیا ۔۔۔ کشوہ بی بی وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر یہاں وہاں دیکھتے بھاگنے لگے جب کشوہ بھی ان کے پیچھے بھاگی رک جائیں۔۔آپ ایسے نہیں جا سکتے ہیں رکیں ۔۔۔ سر عمر نے پہلے تشویش سے صورت حال کو دیکھا پھر معاملے کے بابت بعد میں جاننے کا سوچ کر بھاگتے ہوئے غفور کو پکڑ لیا ۔۔۔۔ سر انہیں جانے مت دیجئیے گا ۔۔۔ کشوہ نے دور سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ کیا ہوا ہے کشوہ ؟؟؟ سر عمر نے اسے اپنی پھولی سانسیں درست کرتے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
سر مجھے ان سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔ آپ کہاں تھے غفور انکل ؟؟ کشوہ نے قدرے سخت لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔ کشوہ بی بی میں نے کچھ نہیں کیا وہ ہاتھ جوڑ کر گر گرانے لگا ۔۔۔ سر آپ انہیں لے کر کسی خالی کلاس میں چلیں گے ۔۔۔ ؟؟؟ اس نے براہ راست عمر کی جانب دیکھ کر سوال کیا جس نے اسبات میں سر ہلاتے غفور کو بازو سے تھام کر چلنا شروع کردیا ۔۔۔۔ ______
دکھتے جسم کے ساتھ اس نے اپنی مندی مندی آنکھیں کھولیں تھیں کمرے کی تیز روشنی کے باعث کچھ لمحے وہ دیکھنے سے قاصر ہو گئی۔۔۔ آنکھیں جب دیکھنے کے قابل ہوئیں تو ۔۔۔۔دل سے دعا نکلی کاش یہ آنکھیں اب کبھی نہ دیکھ سکیں ۔۔ یہ دل رک جائے ۔۔۔ یہ سانسیں تھم جائیں ۔۔۔ مگر ضروری نہیں ہر دعا فوراً قبول ہو ۔۔۔
دوائی کا اثر کچھ کم ہوا تو پورا جسم پکے پھوڑے کی طرح دکھنے لگا تھا ۔۔۔ دائیں ہاتھ میں لگی ڈرپ بھی تکلیف پہنچا رہی تھی دل سے کچھ نیچے میدے میں شدید آگ سی لگی تھی ۔۔۔۔۔ ملائم گال ری ایکشن کے باعث سوجھے ہوئے تھے ۔۔۔۔ آنسوں پھر سے آنکھوں سے رواں ہوئے ۔۔۔۔ حسنہ نے آنکھیں موند لیں شاہد موت کو بھی وہ قبول نہیں ۔۔۔۔ کیا اس نے دنیاوی جہنم کو قبول کرلیا تھا..؟؟؟ کھڑکی کے دوسری جانب ہوا کی دوش میں اڑتے پرندے بھی پھڑپھڑا اٹھے۔۔۔۔ ______
داؤد کو غلط دوائی کس کے کہنے پر دی ۔۔۔؟؟ ٹیبل کے دوسری جانب ہاتھ جوڑے بیٹھے غفور کو دیکھ کر سرد لہجے میں پوچھا تھا کشوہ نے ۔۔۔۔ میں۔ ۔ میں نے نہیں دی کوئی دوائی ۔۔۔ پسینے سے تر چہرے پر ہاتھ پھیر کر وہ ابھی بھی منکر تھا۔۔۔۔ غفور صاحب مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کریں سچ بتائیں نہیں تو پولیس کو کال کرنے میں مجھے دیر نہیں لگے گی۔۔۔ کشوہ نے ہینڈ بیگ سے فون نکالا ۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کیا چھوٹی بی بی میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔ تو پھر کہاں غائب تھے آپ اور یہاں یونیورسٹی میں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟
