No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
کتاب زیست کے ہر باب کا عنواں نیا دیکھے ۔۔۔۔۔
ہر اک بجھتے دیے کو شوق سے پاگل ہوا دیکھے۔۔۔۔۔
آج جتوئی ہاؤس میں خاصی گہما گہمی محسوس ہوتی تھی حلانکہ آج کشوہ فرید کی سالگرہ تھی اور اسے اپنی سالگرہ اتنی دھوم دھام سے منانا ہر گز پسند نہیں تھا اور خاص طور پر اپنے بابا کے بعد گزشتہ چھ سالوں میں وہ یہ دن اپنی ماما یا پھوپھو کے ساتھ گزارتی تھی
لیکن پچھلے سال پھوپھو کے انتقال کے بعد اس کا کوئی ارادہ تھا بھی نہیں اس بار یہ دن منانے کا ۔۔۔۔۔۔۔
مگر پھر بھی آج گھر کو ایسے سجایا گیا تھا جیسے اس کی نہیں داد جی کی لاڈلی تمنا نوید جتوئی یا ہونہار پوتے عنصر سعید جتوئی کی سالگرہ ہو ۔۔۔۔۔
وہ تلخ سوچنے پر مجبور ہوئی ۔۔۔۔
ہاں یہ بھی ہوسکتا ہے یہ ساری تیاری اس کی مما نے کی ہو اپنی ماں کی محبت پر کس بچے کو شک ہوتا ہے بھلا۔۔۔۔۔۔
اپنی ساری سوچوں کو پس پشت ڈال کر اس نے شیشے میں دیکھا
بھورے رنگ کی ڈھیلی ڈھالی فراک اس کے وجود کے نشیب و فراز بتانے سے قاصر تھی ساتھ ہی نقاب سے جھلکتی آنکھیں اور ہاتھوں کے سواہ ہر حصہ چھپا ہوا تھا
سامان سمیٹ کر وہ باہر نکلی ۔۔۔۔
سیڑھیوں کے پاس پہنچ کر وہ بری طرح ٹھٹھکی
آج پورے ایک سال بعد وہ اپنے کمرے باہر نکلا تھا اور اپنی وحشت ناک آنکھیں اس پر گاڑے کشوہ کو لرزنے پر مجبور گیا ۔۔۔۔۔
عجیب بکھرا حلیہ سرخ آنکھیں سوجھے ہوئے پپوٹے
خشک قحط زدہ ہونٹ جیسے برسوں سے پانی کی ایک بھی بوند نہ چھوئی ہو میلے سے کپڑے قدرے بھری بھری داڑھی
اس سے زیادہ نہ دیکھ پائی نظریں چرا کر آنکھیں سامنے کی
گلے میں کانٹے پھسے پھر وہ۔۔۔۔
وہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ بھاگتی گڑتی سیڑھیاں اتری اس کی ٹکڑ بری طرح سیڑھیوں کے نیچے فون پر کسی سے بات کرتے عنصر سعید کے ساتھ ہوجاتی اگر وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے گرل کو تھام کر اپنے پیروں کو روک نہ لیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔
عنصر بری طرح چونکا
اچھا میں بعد میں فون کرتا ہوں ۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو عنصر نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا
ج۔ججی ٹھیک ہو۔ ہاتھ پکڑنے کی بجائے وہ گرل کے سہارے کھڑی ہوتی وہاں سے نکلتی گئی۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم !!! کشوہ سلام کرتی ہوئی ڈائنگ روم میں آئی ۔۔۔۔
ڈائنگ ٹیبل کی سربراہی کرسی پر داد جی بیٹھے ہوئے تھے جن سے جھک کر کشوہ نے پیار لیا
سالگرہ مبارک میرے بچے
پھر تایا جی اور چاچو سے
سالگرہ مبارک ہو آپی زید اور عائد ایک ساتھ بولے
شکریہ بچے۔۔۔۔۔
جبکہ تمنا اور حسنہ اپنے اپنے فون میں لگی ہوئی تھی
اس کی ویسے بھی اپنی ان کزنوں سے بنتی بھی نہیں تھی ۔۔۔
ہیپی برتھڈے میری جان ۔۔۔۔۔
پیچھے سے آتی اپنی مما کی آواز پر کشوہ کرسی پر بیٹھتی بیٹھتی ٹھٹھکی
مما۔۔۔۔کشوہ بھاگ کر ان کے گلے لگی ۔۔۔۔
سُریہ بیگم نے اس کے ڈھکے سر پر لب رکھے ۔۔۔۔۔۔
یار یہ جو ہماری کزن ہے اسے کوئی الرجی ہے یاں سیلف اوبزیشن ہے جو گھر پر بھی چہرہ چھپائے رکھتی ہے
عنصر حسنہ اور تمنا کے درمیان والی کرسی پر بیٹھتا ہلکی آواز میں بولا
ارے برو سیلف ۔۔۔۔۔۔
ارے نہیں حسنہ عنصر کو حقیقت بتاؤ میڈیم کا چہرہ جلا ہوا ہے اس وجہ سے منہ چھپاتی ہے
حسنہ کی بات کاٹ کر تمنا نے تنفر سے کہا ۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔کیسے عنصر کو شدید ہمدردی ہوئی ۔۔۔۔
اف او کچھ نہیں تیل کی چھینٹیں گڑ گئیں تھی
جبکہ حسنہ آنکھیں پھاڑیں اسے سن رہی تھی آخر کب جلا اس کا منہ مگر بولی نہیں
چچچ ۔۔۔۔بچاری عنصر کافی کا سپ لیتا ابھی بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا جو ماں کے گلے لگی کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
آجاو میری جان آج کا سارا دن میں آپ کے ساتھ ہی گزاروں گی ۔۔۔۔۔
کشوہ خوش ہوئی۔۔۔۔
عائد۔۔۔۔۔۔۔ داد جی کی پکاڑ پر سب متوجہ ہوئے میرے کمرے میں الماری کے پہلے خانے میں ایک ڈبہ ہے لے کر او۔۔۔۔
جی داد جی ۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد عائد ہاتھ میں چھوٹا سا لکڑی کا ڈبہ پکڑے وہاں آیا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ بچے ادھر آؤ داد جی کی آواز پر کشوہ اٹھ کر ان کے قریب گئی ۔۔۔۔
جی داد جی۔۔۔۔۔ بیٹا یہ تمہاری سالگرہ کا تحفہ
اس خوبصورت سے لکڑی کے ڈبے میں وائٹ گولڈ کا بریسلٹ اور گاڑی کی چابی تھی
داد جی خوشی کے مارے اس کی آواز اونچی ہوئی
داد جی مگر ۔۔۔۔سُریہ بیگم پریشان ہوئی جب سے فرید صاحب کا انتقال کار ایکسڈنٹ سے ہوا تھا وہ ڈر گئی تھی اسی وجہ سے انہوں نے کشوہ کو اس کی ذاتی گاڑی بھی نہیں دلوائی تھی
کشوہ کو خوشی سے اچھلتا دیکھ جہاں تمنا نے پہلو بدلا وہی عنصر نے بھی پر شوق نظروں سے اپنی ڈھکی چھپی انو کھی کزن کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے تجسس ہوا تھا اپنی کزن کو دیکھنے کا
نیند میں ایک عجیب سا خواب دیکھ کر کلیم جتوئی بیدار ہوئے چہرے پر پسینہ اور سانس اکھڑ رہی تھی جب کچھ دھندلا دھندلا سا دماغ میں لہرایا اٹھ کر انھوں نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو سامنے صوفے پر زمین کو گھورتا کوئی وجود نظر آیا دادجی نے ہاتھ بڑھا کر اپنا چشمہ اٹھایا
وہ وجود واضح ہوا
داؤد۔۔۔۔۔۔ داد جی کی آواز کانپی آج پورے ایک سال بعد داد جی نے اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئے
ہمیشہ ان سے غلطیاں ہوئی ہیں وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کے ساتھ کسی دوسرے کی وجہ سے زیادتی کر جاتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سال پہلے کا منظر ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹا مشینوں سے جکڑا وجود دانیہ جتوئی کا تھا جو جاتے ہوئے بھی اپنے بیٹے کی زندگی کے لیے بھیک مانگ رہی تھیں
میرا بچہ۔۔۔۔
داؤد میرا بھی بیٹا ہے میں ہوں نہ اس کے لیے تم فکر مت کرو تم بس جلدی سے ٹھیک ہو کر گھر آؤ میری جان تمہارے بابا کو تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔۔۔
بابا میرے بعد میرے داود کا کوئی بھی نہیں ہے بابا اسے اکیلے مت ہونے دینا
میرا بچہ بہت معصوم ہے بابا
اس کے زمہ داری آپ پر ڈال کر جا رہی ہوں میں بابا
وہ بے قصور ہے وہ زاااا۔۔۔۔۔
آنکھیں بھیگ گئیں
داد جی اٹھ کر داود کے قریب گئے جو ہاتھ میں پکڑے روبیس کیوب کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔۔۔۔
داؤد داد جی نے پکارا تو اس کے چلتے ہاتھ رک گئے مگر آنکھیں زمین پر تھیں
انہوں نے داؤد کو گلے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر پہلے داد جی کے کمرے سے تمنا باہر نکلی تھی جس کے چہرے پر کچھ پا لینے کی خوشی تھی
لبوں پر دل فریب مسکراہٹ
چھوٹی تائی آپ کو داد جی اپنے کمرے میں بلا رہے ہیں
بنا اجازت سریہ بیگم کے کمرے میں آتی تمنا بولی تو انہوں نے ناگوار نظروں سے اسے دیکھا جبکہ ٹاول سے چہرہ خشک کرتی کشوہ بھی چونک گئی ابھی وہ وضو کر کے آئی تھی کہ تمنا کمرے میں آگئی ۔۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔آئندہ میرے کمرے میں بغیر اجازت کے داخل مت ہونا سرد لہجے میں کہتی وہ کمرے سے نکل گئیں ۔۔۔۔۔
کیسی ہو کزن تمنا بے ترتیب قدم لیتی کشوہ کے قریب آئی ۔۔۔۔۔
کیا فائدہ اتنے حسن کا اس کی شفاف جلد پر اپنی تراشے ناخن والی مخروطی انگلی پھیری
اپنا ہاتھ پیچھے رکھو تمنا
کشوہ نے کسمسا کر کہا وہ اس وقت وضو میں تھی کوئی غلط بات منہ سے نہیں نکالنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔
چچچچ۔۔۔۔تمہیں آگاہ کرنے آئی تھی مگر تم انٹرسٹڈ نہیں ہو لگتا ۔۔۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔
مطلب بہت جلد پتا لگ جائے گا
ویسے جوڑی اچھی رہے گی
حاجن بی بی اور پاگل ہاہاہا ۔۔۔۔
کشوہ کا دل عجیب سے خیال سے کانپا تھا
وہ بھاگتے ہوئے کمرے سے نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔
دادجی معزرت مگر ہم اپنی بیٹی کا نکاح آپ کے پاگل بدکردار نواسے سے نہیں کریں گے ۔۔۔۔۔
سریہ بیگم اپنی نفیس شال بائیں ہاتھ سے سنبھالتی
داد جی کے سامنے زندگی میں پہلی بار بولی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔
کمرے سے باہر دروازے کے ساتھ لگی سیاہ شال میں چھپی سہمی سی وہ اندر چِھڑی سرد جنگ پر تڑپی ۔۔۔۔۔۔
سُریہ آپ کو کوئی حق نہیں بنتا کسی پر بہتان لگانے کا ۔۔۔۔۔۔۔
بہتان ۔۔۔۔یہ تو آپ بھی جانتے ہیں یہ بہتان نہیں سچ ہے کراہیت آمیز سچ آپ کا لاڈلا نواسہ زانی اور پاگل ہے میں اپنی پاکیزہ بیٹی کو اس کے نکاح میں نہیں دوں گی ۔۔۔۔۔۔
لہجہ دھیما سا ہوا تھا مگر اٹل تھا ۔۔۔۔
کشوہ کو بلاؤ م مجھے اپنی پوتی پر پورا یقین ہے وہ میرا مان نہیں توڑے گی ۔۔۔۔۔
ایک بے مول سا آنسو باہر کھڑی کشوہ کی آنکھ سے گڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دفعہ پھر مان اور یقین کے بوجھ میں ایک معصوم صنف پسے گی
وہ بھی ایک عام سی لڑکی تھی اس نے بھی زندگی میں بہت سے خواب دیکھے تھے اپنے ہم سفر کو لے کر ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے تو خود کو بہت سنبھال کر رکھا تھا تو کیا اس کا
ہم سفر بد کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سیاہ شال سے اس کا سفید ہاتھ نکلا اسے لگا اس کے ہاتھوں پر موجود لکیریں اس کا مزاق اڑا رہی ہیں آنسو ہتھیلی کے بھیچو بھیچ گڑا ۔۔۔۔۔
داؤد علیم جس کے پاس سے گزرتے ہوئے بھی اس کی جان نکلتی تھی کجا کہ اس شخص کے نام اپنی پوری زندگی کرنا۔۔۔۔
وہ پلٹی مگر آخری جملے پر رُک گئی ۔۔۔۔
اگر میرا بیٹا زندہ ہوتا تو مجھے تمہاری منتیں نہ کرنا پڑتی چھوٹی بہو داد جی کی غصے اور بے بسی سے لبریز آواز پر کشوہ کا ضبط ٹوٹا ۔۔۔۔۔۔
اس کے بابا کا زکر تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا
اگر کوئی پوچھے کشوہ فرید کی کمزوری کیا ہے تو وہ بلا جھجھک فرید جتوئی کا نام لیتی
مجھے نکاح قبول ہے داد جی دونوں ہاتھوں کی مدد سے دروازہ کھولتی اپنی موت کا سامان کر گئی ۔۔۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو کشوہ ۔۔۔۔
مما آپ نے مجھے خود مختار بنایا ہے تاکہ میں اپنی زندگی کے فیصلے خود لے سکوں ۔۔۔۔
زندگی کے فیصلے لینے کی اجازت دی تھی اپنے لیے جہنم خریدنے کی اجازت نہیں
مما یہ میرا آخری فیصلہ ہے
کشوہ خدارا مجھ پر رحم کرو میں نے مرنے کے بعد تمہارے باپ کو جواب دینا ہے
جواب تو میں نے بھی دینا ہے مما
کہ میں تب خاموش کیوں تھی جب بابا کے بابا میرے آگے ہاتھ جوڑے کھڑے تھے ۔۔۔۔۔
سب کچھ اتنا آناً فاناً ہوا سریہ بیگم نے بھی اسے بہت روکا مگر جب وہ فیصلہ لے ہی چکی تھی تو منکر کیسے
ہوتی ۔۔۔۔
جہاں گھر کے آدھے افراد خاموش تھے وہی پر آدھے لوگوں کی خوشی دیکھنے لائق تھی
کشوہ بچے آپ نے بہت نیک فیصلہ کیا ہے اللّٰہ آپ کو اس کا اجر دے گا یہ اس کی تائی جان تھی جو سر پر ہاتھ رکھ کر پیار سے بولی
عنصر سعید غائب دماغی سے اس فیصلے کے بابت سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
کیا شادی نکاح یوں بھی آناً فاناً ہوتے ہیں
کیا ہوا کزن اتنے حیران کیوں تمنا اپنے چہرے پر آئی لٹ کان کے پیچھے کرتی بولی
نہیں ۔۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔
ارے پریشان کیوں ہوتے ہو
یہاں پر تو یہ سب عام سی بات ہے اور پھر بچوں کو فیصلے پر ہاں بھی کرنی پڑتی ہے ۔۔۔۔۔ کچھ باور کروا رہی تھی وہ اسے جیسے ۔۔۔۔۔۔۔
عنصر نے تعجب سے سامنے بھورے حجاب میں سرخ رنگ کی چنری اوڑھے بیٹھی کشوہ پر ڈالی
کاش وہ جلدی فیصلہ کر لیتا لب کاٹ کر سوچ کر رہ گیا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ فرید جتوئی آپ کا نکاح داؤد علیم کاظمی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔۔؟؟
قبول ہے ۔۔۔!!!
نکاح کے چند منٹ بعد چہ مگوئیاں اور سرگوشیاں صاف سنائی دے رہی تھیں ۔۔۔۔۔
بڑی حاجن بی بی بنتی تھی ۔۔۔۔ہننہہ ایک زانی سے نکاح ہورہا ہے اس کا ۔۔۔۔
پاگل بھی ہے وہ ۔۔۔۔۔
پتا نہیں کیا ہوگا بچاری کا
دادا نے ظلم کردیا ۔۔۔۔۔
چہرہ چھپاتی تھی سنا ہے چہرہ جلا ہوا ہے اس
طنز سے لبریز آواز اس کے قدم ڈگمگا گئے اس نے چونک کر اپنے ساتھ بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھا جو مسلسل زمین کی طرف خوفناک آنکھوں سے گھور رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
اس کے روح پر بے شمار زخم لگے تھے بے شک اس کی اپنی کزنز سے نہیں بنتی تھی مگر ان کا کوئی حق نہیں بنتا تھا کہ وہ اس کی زاتی زندگی پر کمنٹ پاس کریں ۔۔۔۔۔
نکاح کے بعد وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
