Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

کشوہ کے لیے وہ سب برداشت کرنا واقع مشکل تھا
اس نے کیا کچھ نہیں کیا داؤد کے لیے
اپنی پڑھائی تک چھوڑ دی اس کی فکر میں اس وقت وہ برآمدے میں لگے جھولے پر بیٹھی تھی
ہلکی ہلکی میٹھی ہوا بھی اس کے اعصاب کو پر سکون نہیں کر پارہے تھے
تب ہی وہاں علیم کاظمی آئے تھے
کشوہ نے اپنی چادر کو نا محسوس انداز میں سر پر درست کیا
علیم کاظمی کچھ فاصلے پر کھڑے تھے ۔۔۔۔
اسلام علیکم
کشوہ نے سلام کیا

وعلیکم السلام
وہ کچھ پیشمان سے تھے تھکے تھکے لہجے میں سلام کا جواب دیا تھا

بيٹا جتنا کچھ میں نے اور میری بیوی نے آپ کے شوہر کے ساتھ کیا اس کے بعد ہم آپ سے کسی بھی قسم کی درخواست کرنے کا حق نہیں رکھتے
مگر میں بے بس اور مجبور ہو کر آیا ہوں۔ کشوہ نے نا سمجھی سے اسے انہیں دیکھا بیٹا داؤد کو اکیلا مت چھوڑنا
میرا بیٹا ٹوٹ جائے گا ، آپ کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھنے کے بعد جو تڑپ اس کے وجود میں پھیلی تھی میں نے دیکھا

وہ کہیں سے بھی فریب اور دھوکا نہیں تھی
یہ میرا اور میرے شوہر کا معاملہ نے کشوہ نے دھیمے مگر سرد لہجے میں کہا تھا

علیم کاظمی شرمندہ ہوئے تھے ہمم بے شک میرے جیسا باپ کبھی اپنے بیٹے کی زندگی سہل نہیں کر سکتا

میں نے اس کی ماں کے ساتھ ساتھ اس پر بھی ظلم کئیے پانچ سال کے روتے بلکتے بچے کو گھر سے نکال دیا اور پھر اتنے عرصے
بعد اسے بلایا تو اس پر یقین نہ کر سکا اپنی نیک بیوی کی پرورش
پر بھی یقین نہیں کرسکا

اس پر چوری کا الزام لگایا زانی کا الزام لگایا اس کے بعد بھی اسے جب اپنے مقصد کے لیے لینے گیا اس کی حالت دیکھ کر میں اسے چھوڑ گیا
میں ایک پاگل کی زمہ داری لینے سے ڈرتا تھا

دانیہ کے بعد اس کے کیا سلوک ہوتا ہے یہ جانے کے باوجود میں اپنی زمہ داری سے غافل رہا
اللہ نے مجھ سے میری دوسری اولادیں چھین لیں شاہد میں اسی قابل تھا

جو داؤد کے بعد میرا کوئی بیٹا نہیں ہوا ۔

میں ہاتھ جوڑتا ہوں بیٹا میرے بچے سے اس کی آخری خوشی نہیں چھیننا علیم کاظمی کے ہاتھ جوڑنے پر کشوہ ہوش میں آئی اس نے اپنا انسو سے تر چہرا صاف کیا

پلیز انکل کشوہ نے نم لہجے میں کہا
آپ فکر مت کریں میں بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں

وہ وہاں سے اٹھ کر اندر چلی گئی وہ داؤد کے قصور وار تھے
تو معاف بھی انہیں داؤد ہی کرے گا ۔۔۔۔

وہ حویلی کے اندر چلی گئی رات کا وقت تھا وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی تھی
جب امن اور ثمن دونوں اس کے پاس آئی تھی
بھابھی آپ یہاں پر کیا کر رہی ہیں
ثمن نے اس کے ساتھ لگ کر بیٹھ کر کہا تھا
کچھ نہیں بچے بس ویسے ہی آپ لوگوں کا کالج کیسا جارہا ہے ؟؟
کشوہ نے محبت سے کہا
بہت اچھا آپ کو پتا ہے بھابھی میرا آرٹ پروجیکٹ ایکزیبیشن کے لیے سلیکٹ ہوگیا امن نے چہک کر کہا تھا

واو آپ کو سکیچنگ وغیرہ آتی ہے کشوہ نے سوالیہ لہجے میں کچھ سوچ کر کہا

جی بھابھی آرٹس اینڈ فیشن ڈیزائننگ میں کورس کر رہیں ہم دونوں اور ثمن کو مہندی لگانی بھی آتی ہے

آپ کو ہیر کٹنگ کرنی آتی ہے کشوہ اب پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوگئی
جی بھابھی امن کو آتی ہے بلکہ میں مہندی لے کر آتی ہوں آپ کو لگائے گے آپ کے ہاتھوں پر بہت پیاری لگے گی

وہ دونوں آندھی طوفان کی طرح وہاں سے غائب ہوئی تھیں
داؤد صاحب بہت ہوگیا آپ کا معصوم معصوم والا کھیل اب اپنی کشف کا سامنا کرکے دیکھائیں
پراسرار سوچ کے ساتھ پیاری سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آئی تھی ۔۔۔


واو بھابھی اتنے پیارے بال امن نے رشک سے اس کے لمبے خوبصورت بالوں کو دیکھ کر کہا
ماشاءاللہ بولو بے وقوف ثمن نے اس کے سر چپت لگائی تھی
ماشاءاللہ ماشاءاللہ
بھائی کو تو بہت پسند ہوں گے بھابھی کے بال
ثمن نے شرارت سے کہا
کشوہ کی آنکھوں کے سامنے چند منظر لہرائے
کشف آپ کے بال
وہ اس کے بالوں کے ساتھ کھیل رہا تھا
کبھی اسے کام نہیں کرنے دے رہا تھا
مجھے آپ کے بال بہت پسند ہیں اس کے بالوں کے ساتھ ہاتھ مس کیا
کشوہ کے گال لالی چھلکانے لگے
یہ بات اسے اور ہی سرخ کر رہی تھی کہ داؤد اس کی تعریف مکمل ہوش و حواس میں کرتا تھا
اوو بھابھی آپ کے گال ہاہاہاہا ۔۔۔۔
امن کشوہ نے خفا ہوکر کہا
اچھا اچھا سوری سوری
کیسے کٹنگ کرنی ہے بھابھی ؟؟
شولڈر کٹ کشوہ نے لب کاٹ کر کہا اپنے لمبے بال تو اسے بھی بہت پسند تھے مگر کوئی بھی پھر بڑے ہوجائیں گے
واٹ؟!!
بھابھی اتنے چھوٹے کروانے
پلیز امن مجھے چھوٹے کروانے گرمی لگتی ہے میں نے حجاب لینا ہوتا ہے
کشوہ نے بے چارگی سے کہا
اوکے اب وہ اس کے بال کاٹ رہی تھی جبکہ
ثمن اس کے ہاتھ پر مہندی لگا رہی تھی ۔۔۔۔۔


تمنا بھی باہر آئی تھی مگر اس کی نظر حسنہ کی بجائے عنصر کا ہاتھ تھامے کھڑی لڑکی پر تھی
نیلی آنکھوں والی لڑکی جس کا چہرہ حجاب میں مقید تھا
تمنا کے قدم ان کی جانب اٹھے تھے ۔۔۔۔۔
تو تم ہو وہ لڑکی جس سے میرا شوہر خاندانی بیوی ہونے باوجود شادی کررہا ہے
حقارت تھی اس کے لہجے میں
حسین ہو
تمنا عجیب انداز میں فاطمہ کو اوپر نیچے دیکھا
فاطمہ نا محسوس انداز میں عنصر کے پیچھے چھپی ہاتھ پر گرفت مضبوط ہوئی تمھیں معلوم ہے تم جیسی لڑکی کو مہزب لفظوں طوائ۔۔۔۔
تمنااا۔۔۔۔
عنصر کا ہاتھ اٹھ گیا تھا
تمنا ہنسنے لگی بہت بڑے حسن پرست نکلے تم عنصر جتوئی
اور مجھے تم سے ہمدردی ہے کیونکہ جہاں آج میں کھڑی ہوں بہت جلد تم ہو گی جب تم سے زیادہ خوبصورت چہرہ عنصر جتوئی کے پہلو میں ہوگا
فاطمہ نے دکھ اور تاسف سے لڑکی کو دیکھا وہ اسے کہنا چاہتی تھی کہ عنصر جتوئی کے کردار کی گواہ وہ خود ہے اگر عنصر حسن پرست ہوتا تو سالوں جب وہ اس پر تن من وارنے کو تیار تھی تو عنصر اس کو چھورنے کی بجائے موقع کا فائدہ اٹھاتا


کشوہ کا تو جیسے اپنے کمرے میں جانے کا دل ہی نہیں کر رہا تھا جو وہ ابھی بھی امن اور ثمن کے ساتھ ہی تھی

امن کشوہ سے باتوں میں لگی ہوئی تھی جبکہ ثمن نیند کے سمندر میں جھول رہی تھیں
اچھا میں اب چلتی ہوں میری وجہ سے تم دونوں کو بھی جاگنا پڑ رہا ہے
کشوہ نے شرمندہ ہو کر کہا
نہیں بھابھی ایسی بات نہیں ہے ثمن تو ہے ہی سست اسے جلدی نیند آجاتی ہے
امن نے اس کی شرمندگی دور کرنی چاہی تھی ۔۔۔۔

نہیں کوئی بات نہیں بچے آپ دونوں آرام کرو کشوہ نے محبت سے امن کی تھوڑی چھو کر کہا

چلو بچے آرام کرو اور مہندی اور بالوں کی لیے شکریہ
کوئی بات نہیں بھابھی


حسنہ کو یقین نہیں آرہا تھا وہ اپنے کمرے کھڑی ہے وہ ہر چیز چھو رہی تھی
محسوس کر رہی تھی
اسے یقین نہیں تھا کہ گھر والے اسے گھر میں بھی گھسنے دیں گے
اسے مما نے تو معاف کردیا تھا وہ پر سکون ہوئی تھی
کہا توگھر والوں نے بھی کچھ نہیں کہا اسے پورا یقین باقی سب بھی اسے معاف کردیں گے

ابھی وہ انھیں سوچوں میں گم تھی جب ڈریسنگ پر پڑا فون بجا
یہ فون حسنہ کو عنصر نے ہی گاڑی میں پکرایا تھا
فون بج بج کر بند ہوا تھا
تھوڑی بعد پھر فون بجا حسنہ نے ڈرتے ڈرتے فون اٹھایا
بیوی!!۔۔۔۔۔
مقابل کی گھمبیر آواز پر فون ہاتھ چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا
بیوی۔۔۔ عبیر نے پھر سے پکارا تھا
مگر وہ خاموش رہی
عبیر اسے بتانا چاہتا کہ اس نے گھر میں رخصتی کا کہہ دیا ہے مگر اس کی ذہنی کیفیت محسوس کیئے وہ فون ایسے ہی کان کے ساتھ لگائے اس کی خاموشی محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔۔


کشوہ کمرے میں آئی تو داؤد پیر بیڈ کی طرف لٹکائے اوندھے منہ سویا ہوا تھا
وہ واقعی ہی سو گیا تھا کیونکہ کشوہ کے دروازہ کھولنے پر بھی اس کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی

کشف کتنے ہی لمحے داؤد کے چہرے کو دیکھتی رہی پھر واشروم کی جانب نہا کر وضو کرنے کی غرض سے چلی گئی


داؤد کی آنکھ کمرے میں گونجتی سسکیوں کی آواز پر کھلی
وو ہڑبڑا کر اٹھا اس نے دیکھا کشوہ سجدے میں جھکی سسکیاں لے رہی تھی
داود کا پورا وجود کانپ گیا
تھوڑی دیر بعد نماز سے فارغ ہوکر کشوہ اٹھ کر بیڈ کے پاس آئی وہاں سے تکیہ پکرا اب وہ صوفے کی جانب بڑھی اپنا تکیہ رکھ کر وہاں پر لیٹ گئی

آپ اللّٰہ سے میری شکایت کر رہی تھی

خاموش کمرے میں داؤد کی آواز گونجی جس پر آنکھیں بند کیے لیٹی کشوہ نے ایک دم سے تڑپ کر آنکھیں کھولیں تھیں
اس کے لہجے کا خوف کشوہ کو لرزا گیا

پھر خود کو کمپوز کرتی آنکھیں دوبارہ موند گئی

داؤد شدید دکھی ہوا نہ آج اس کے پاس کشوہ کی دعاؤں کا حصار تھا اور نہ ہی اس کا ہاتھ

بے چینیاں پورے وجود میں گردش کرنے لگی اور رات کے پہر شدید بخار نے اس کے گرد گھیرا باندھ لیا ۔۔۔


رات کے آخری پہر اس نے آنکھیں کھولی جو نہ سونے کی وجہ سے لال ہورہی تھی
کشوہ اٹھ کر داود کے پاس آئی اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر معمول کے مطابق دعاؤں کا حصار باندھا

اس نے ہمیشہ داؤد کے ٹھیک ہونے کے لیے دعا کی تھی آج اس نے داؤد کی ہدایت کے لیے دعا مانگی تھی

یہ کیسے ممکن تھا کہ داؤد ساری رات بے چین رہے اور اس کی کشف پرسکون ہوکر سوئے
اس کا بخار محسوس کیئے کشوہ اس کے سر پر ٹھنڈی پٹیاں رکھنے لگی۔۔۔۔


صبح داؤد کی آنکھ کھلی اس نے دیکھا کشوہ ابھی بھی صوفے پر سمٹ کر لیٹی ہوئی تھی

داؤد کو آپ اپنے جسم میں عجیب سی درد محسوس ہوئی وہ فریش ہونے کا سوچ کر واشروم کی جانب بڑھ گیا
داؤد کے اٹھتے ہی کشوہ کی آنکھیں کھلی
وہ اٹھ کر بیٹھی
اب اس نے سوچ لیا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے
وہ شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجائے دراز میں سے اپنی مطلوبہ شہ تلاش کرنے لگی


وہ شاور لے کر جیسے ہی واشروم باہر آیا کشوہ کو دیکھ کر اس کے قدم تھمے تھے کمرے کے موجود کی نکر پر سر جمائے بال کے ساتھ کھیل رہی تھی
کشف !!! اس نے پہلے تو بے یقینی سے اس کے آدھے سے زیادہ کٹے بالوں کو دیکھا
یہ کیا بال
مگر داؤد کے قریب آتے وہ اپنا رخ موڑ گئی
کشف !!! داؤد نے پھر پکارا کشوہ نے ہاتھ میں پکڑی بال کو زرا زور سے دیوار پر مارا نتیجتاً وہ بال دیوار سے ہٹ ہوکر کشوہ کے ہاتھ میں آنے کی بجائے عین پیچھے کھڑے داؤد کے سینے پر لگی تو وہ کراہ کر رہ گیا ۔۔۔
ایک پل کو کشوہ بھی پیشمان ہوئی مگر ناراضگی ہنوز قائم رکھتی
پائینے کی طرف جھک کر بال اٹھا لی
کشف آپ نے بال کیوں کاٹے
داؤد درد بھلائے افسوس سے بولا
کشف مگر وہ تو جیسے نا ماننے کا تحیہ کرکے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
کشوہ!!!! اس بار بال داؤد کے منہ پر لگتی اگر وہ اسے برقت تھام نہیں لیتا
آپ کوئی بچی ہیں جو بال سے کھیل رہی ہیں
بال سے ہی کھیل رہی ہوں کسی کے دل اور فیلنگز کے ساتھ تو نہیں نہ اس نے آنکھیں پٹپٹا کر معصومیت سے کہا
داؤد نے اسے تھامنا چاہا مگر وہ تھوڑا دور ہوئی تھی
داؤد تڑپ اٹھا ایک موقع
تاکہ آپ پھر سے دل توڑ دیں داؤد کاظمی وہ مسکراتی جارہی تھی
وہ سچ نہیں ہے کشف جو تمہیں معلوم ہے
اور کچھ بھی باقی ہے کشوہ ہنسی تھی داؤد نے بے بسی کے مارے اسے ساتھ لگایا تھا
کشوہ نے پچھلی بار کی طرح اس بار بھی مزاحمت نہیں کی
تھی

داؤد کی نظر اس کے مہندی سے سجے خوبصورت ہاتھوں پر گئی تھی
جس پر مہندی کا ٹوٹ کر رنگ آیا تھا
میڈم پوری تیاری کے ساتھ اسے آزما رہی تھیں

داؤد نے اس کے ہاتھ تھامنے چاہے مگر کشوہ نے ہاتھوں کو اس کی پہنچ سے دور کیا۔ ۔

ناشتہ کرلیں مسٹر کاظمی یقیناً ہاتھ سے کھانا کھانہ نہیں بھولیں ہوں گے آپ
وہ پھر طنز کر گئی ۔۔۔

کشف وہ اس کے پیچھے ہوا
مگر وہ مکمل اگنور کر رہی تھی شیشے کے آگے کھڑی اپنے بالوں پر برش پھیرنے لگی

داؤد کی نظریں اس کے ہاتھوں کے بعد بالوں میں اٹک کر رہ گئی ۔۔۔۔
خوب انتقام لے رہی ہیں کشف
پہلے جب نا سمجھ تھا تب ہر وقت بال باندھ کر حجاب کے لیتی تھی اب معلوم ہیں ان کے بال میری کمزوری ہے انہیں بے خبر پھیلایا ہوا ہے

وہ دل ہی دل میں بڑبڑا سکا منہ سے بول دیتا تو ناراضگی کا دورانیہ ذیادہ ہونے کا ڈر تھا

مسٹر کاظمی اسے مسلسل خود کو دیکھتے پا کر کشوہ نے مسکراہٹ دبائی تھی

داؤد کی جان سے متوجہ ہوا
جی مسز داؤد کاظمی دو قدم کی دوری ختم کی

کشوہ اس کی دیدہ دلیری دیکھ کر رہ گئی
داؤد اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا
کشوہ کا دل بھی دھڑکا نظریں اس نشان پر اٹکی وہ اسے چھونا چاہ رہی تھی
ٹرانس کی کیفیت میں وہ اسے چھو بھی چکی تھی

داؤد نے جب اس ہاتھ پر ہاتھ رکھا تو
کشوہ سٹپٹائی

ناشتے کے لیے بلا رہیں ہیں
کشوہ نے ہاتھ پیچھے کرکے منہ بناتے ہوئے کہا

داؤد اس حرکت پر پرسکون ہونے کے ساتھ ساتھ چور بھی ہوا تھا

باہر سب کے سامنے مجھے کھلا سکتی ہیں تو میں ناشتے کے لیے تیار ہوں
بھوک تو بہت لگ رہی تھی مگر اب کشوہ سے زیادہ ضروری بھی نہیں تھی

تو کوئی بعد نہیں بھوکا رہ لیں مسٹر کاظمی
اب اتنی طاقت تو ہوگی آپ میں آخر کار اتنے واٹمنز لئیے ہیں

طاقت تو بہت ہے مسسز داؤد کاظمی آپ کو اٹھا کے دیکھا ۔۔۔۔
مگر اس کے بولنے سے پہلے ہی کشوہ اس کے شانے پر چٹکی کاٹ چکی تھی
بدتمیز
بالوں کو جھٹک کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔

اففف کشف اس کی ادا پر اس نے دل تھاما
لگتا ہے جلد ہی منانا پرے گا

جاری ہے۔۔۔۔۔