No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
یہ کیسی شادی تھی جس میں نہ کوئی مکمل بارات آئی تھی اور نہ دلہا پوری شان سے دلہن بیاہ کر لے کر گیا تھا ۔۔۔۔۔
نہ سہلیوں کی چھیڑ چھاڑ ۔۔۔۔
چھوٹی سی رسم۔۔۔۔۔۔۔
گھر کے لوگ ۔۔۔۔۔۔۔ شریکوں کے طعنے
ماں کی ناراضگی ۔۔۔۔۔
دادا کی بے بسی ۔۔۔۔۔۔
اور دلہن کا کامل صبر ۔۔۔۔۔۔
وہ خوفناک خواب جو وہ نکاح کے بعد سے ہر روز سوتے جاگتے دیکھتی آرہی تھی اب سچ ہونے کے قریب تھا دل معصوم پرندے کی طرح سینے میں کہیں پھڑپھڑا کر رہ گیا۔۔۔۔
اللّٰہُ کا ورد کرتی وہ سر جھکا کر بیٹھ گئی بہت عجیب لگ رہا تھا اسے چہرے پر نقاب نہیں تھا مگر سرخ گھونگھٹ میں ڈھکا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
کمرے کے ارد گرد اس کے بچے کی طرح ہی سیاہی پھیلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
ایک بھی شیشہ موجود نہیں تھا کمرے میں۔۔۔۔۔
اسے پورا یقین تھا چند لمحوں میں اس کا نائٹ میئر پورا ہوجائے گا وہ پاگل اندر آئے گا اور آتے ساتھ ہی اس کی گردن دبا دے گا اور وہ بڑوں کے مان رکھنے کے چکر میں آج اس کے ہاتھوں ماری جائے گی اور اسے تو جیل یا سزا بھی نہیں ہوگی ۔۔۔۔
ہائے اسے یہ دکھ مار رہا تھا کہ اسے مارنے کے بعد بھی داؤد کو سزا نہیں ملے گی ۔۔۔۔۔وہ خیالی پلاؤ پکاتی جانے کہا کھو گئی تھی
جب اپنی کلائیوں پر ٹھنڈا لمس محسوس ہوا تھا
توقع کے عین مطابق وہ اچھل اس کی اچھلنے کی عادت ۔۔۔۔۔۔۔
داؤد کو اس کی کلائیوں کی چوڑیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہا تھا اس کے اچھلنے پر سہم کر دوڑ ہوا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ کے گلے کی ہڈی ابھر کر معدوم ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
د۔۔۔د۔۔داؤد ۔۔۔۔۔ آواز پھڑپھڑا گئی تھی
وہ اونچا لمبا مگر سا شخص کریم رنگ کی شیروانی میں آنکھوں میں خوف لئیے اس کے سامنے تھا
مگر وہ دوبارہ اس کے قریب ہوکر اس کی چوڑیاں چھیڑنے لگا ان کے ارتعاش سے پیدا ہونے والی آواز کشوہ کا دل بہت زور سے دھڑکا گئی
دل کی حالت عجیب کشمکش میں تھی وہ تو بہت سوچ چکی تھی مگر یہ تو سب کچھ الٹا ہوگیا ۔۔۔۔۔
نہ تو داؤد نے اسے مارا نہ گلا دبایا نہ کوئی ڈراؤنی حرکت کی ۔۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آئی وہ کیا ری ایکشن دے ۔۔۔۔۔۔
داؤد۔۔۔۔۔۔لہجے میں ملائمت تھی
کشوہ کے پکارنے پر داؤد نے اس کی طرف دیکھا آنکھوں میں بلا کی معصومیت مگر ایک لکیر تھی اس کی آنکھ کے نیچے جیسے کوئی پرانا بھرا ہوا زخم۔۔۔۔۔۔
یاں پیدائشی نشان ۔۔۔۔۔۔۔
جو بھی تھا کشوہ کی توجہ بری طرح اپنی طرف کھینچ گیا ۔۔۔۔
دوائی۔۔۔۔دوائی لی آپ نے ۔۔۔؟؟
یک دم ہی داؤد کے ماتھے پر لکیریں پڑیں تھیں
اس نے ہاتھ بڑھایا کشوہ نے ڈر کر اپنا چہرہ تھپڑ سے بچانے کے لیے اپنے بازو کی کہنی آگے کی تھی مگر جب داؤد کا ہاتھ گال کی بجائے حجاب کی طرف جاتا دیکھا تو چونکی
وہ گلاب کی پتی تھی جسے داؤد نے پکڑا تھا ۔۔۔۔۔
کشوہ کو افسوس ہوا وہ کتنا کچھ غلط سمجھے بیٹھی تھی
داؤد کو دوائی دے دو پھر نماز پڑھ لیتی ہوں دل ہی دل میں سوچتی وہ اٹھی خاموش کمرے میں کھنکھناہٹ ہوئی اپنا لہنگا سنبھالتی ابھی کشوہ نے ایک ہی قدم لیا تھا
جب اس کے سفید بازو مقابل کی گرفت میں آیا ۔۔۔۔
اتنی دیر میں پہلی بار کشوہ نے مردانہ گرفت کے لمس کو جی جان سے محسوس کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
بے شک وہ اس وقت دماغی طور پر سٹیبل نہیں تھا مگر تھا تو مرد اس کا شوہر اس کا محرم جس کے لیے اس نے اپنے وجود کے زرے زرے کو امانت کی طرح چھپا کر رکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
ج۔جی ؟؟؟ نا سمجھی سے اسے دیکھا تو داؤد نے اشارہ اس کے ہاتھ میں موجود چوڑیوں کی طرف کیا ۔۔۔۔
اس کی نظریں بازوں پر موجود تھی
کشوہ نے بغیر کسی مزاحمت کے چند چوڑیاں اس کے حوالے کر دیں ۔۔۔۔۔۔۔
خود کو زیورات سے آزاد کرتے اس کا رخ واش روم کی طرف تھا
چند لمحوں بعد وہ واپس آئی ہلکے پھلکے سوٹ میں حجاب میں مقید سفید چہرہ چمک رہا تھا
کشوہ نے دوائی پہلے داؤد کی طرف بڑھائی جسے اس نے بغیر کسی ہاں نہ کے پانی کے ساتھ نگل لی تھی ۔۔۔۔۔۔
گھر اس کے لیے نا آشنا نہیں تھا اس لیے اپنے چند سامان کے ساتھ جاہ نماز وہ اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرتے اسے ایسا لگا جیسے کوئی اسے بہت گہری نظروں سے دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔
کمرے میں سوائے داؤد کے تھا کون اس نے سلام پھیڑ کر اللّٰہ کا شکر ادا کیا ۔۔۔۔
نہیں تو جتنا وہ ڈری ہوئی تھی اور جو جو سوچ کر بیٹھی تھی اس نے جھرجھری لی تھی
اے میرے مالک مجھے ثابت قدم رکھنا ۔۔۔۔۔
میرے لیے آسانیاں پیدا فرما ۔۔۔۔۔
اے میرے مالک میرے شوہر کو صحت و تندرستی کے ساتھ شعور دے ۔۔۔۔۔
آج سے کشوہ فرید جتوئی کی ہر دعاؤں میں داؤد علیم کاظمی شامل ہو چلا تھا۔۔۔۔۔
بائیں جانب سمٹی سی لیٹی تو تھی پر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی بازو کے سہارے تھوڑا اوپر ہو کر دیکھا تو وہ آنکھیں موندیں سو چکا تھا
چہرے پر معصومیت کا پہرا تھا بے ترتیب بھری ہوئی داڑھی آنکھوں کے نیچے ہلکے بھی موجود تھے کشوہ لب کاٹنے لگی
چہرے پر نشان تھے جیسے کبھی منہ دھویا ہی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔
اگر آج پھوپھو زندہ ہوتی تو وہ اس حال میں ہوتا ۔۔۔؟؟؟؟
نہیں ہر گز نہیں ۔۔۔۔۔۔
بھورے بالوں کی نوک اس کی آنکھ کے قریب تھی جو اسے سوتے ہوئے بھی بے چین کر رہی تھی چہرے کے بگڑتے تاثرات دیکھ کر کشوہ نے بے ساختہ اپنا ہاتھ بڑھا کر بال آنکھوں سے پیچھے کردئیے
ایک دم سے داؤد نے آنکھیں کھولیں
کشوہ کا دل حلق میں آیا اور آنکھیں پھٹیں
مگر داؤد پھر آنکھیں بند کرکے سوگیا ۔۔۔۔۔۔۔
آہ ۔۔۔۔۔اس نے چکر کا سانس لے کر منہ تکیے میں چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح کشوہ کی آنکھ اپنے ہاتھ پر دباؤ محسوس کرکے کھلی
داؤد نے اس کا ہاتھ زور سے اپنی مٹھی میں قید کیا ہوا تھا جیسے کوئی بچہ اپنے من پسند کھلونے کو سختی سے پکڑ لیتا ہے
یہ بات ایک عجب سا احساس اس کے من جگا گئی۔۔۔۔
مگر وہ سر جھٹک کر اٹھی ۔۔۔۔۔۔
کپڑے بدل کر اپنے ازلی حلیے میں آئی چہرے کو مکمل ڈھکے اس کا رخ سب سے نچلی منزل یعنی ڈائنگ روم کی طرف تھا جہاں اس وقت سب اکٹھے ہوتے تھے
ابھی وہ دوسری منزل سے نیچے سیڑھیوں پر پہنچی تھی جب تمنا اسے راستے میں ملی
ارے کزن میں تمہیں ہی بلانے آرہی تھی اور یہ دیکھنے بھی کہ زندہ ہو کہ اس پاگل نے اوپر پہنچا دیا ۔۔۔۔کہیں مارا وارا تو نہیں معنی خیزی انداز میں کہتی اسے سلگا گئی ۔۔۔۔
اپنی حدود میں رہو تمنا میں نے تمہیں یہ حق نہیں دیا کہ تم منہ اٹھا کر میرے شوہر کے بارے میں کچھ بھی بولتی پھرو ۔۔۔۔۔
یہ حق تو مجھے بچپن سے ملا ہوا ہے ہمیشہ والا جملہ وہ اپنے غرور کے زعم میں بولی ۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں یہ حق تم سے بہت جلد چھین لیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔
اوپس لگتا ہے سہی جلی بھنی ہو
آخر کو جو ہوا ہے ۔۔۔۔۔ اتنا ری ایکشن تو بنتا ہے نہ ہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈائننگ روم میں آکر سب سے سلام کے کر بیٹھی تھی
وعلیکم السلام میرا بچہ داد جی تو اس کے صدقے واری جارہے تھے غفور سے کہہ کر صدقے کے بکرے بھی منگوائے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
تمنا کو کہاں پسند تھا داد جی کا اس کے سواہ کسی اور کو اتنی امپورٹنس دینا مگر وہ اس وقت بس کشوہ کے چہرے کی بے بسی سے محظوظ ہونا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔
دادجی وہ ایک رسم ہوتی ہے نہ دلہن کے گھر والے ناشتہ لاتے ہیں
حسنہ نے اشتیاق سے کہا
ہاہاہا حسنہ ایسے رسمیں کرنے کے لیے دلہن کا سسرال ہونا بھی تو ضروری ہے مزاحیہ انداز میں کہتی وہ اپنے اندر کی بھڑاس نکال رہی تھی۔۔۔
تمنا دادجی نے پہلی دفعہ اسے ڈبٹا تھا
نہیں داد جی بالکل سہی کہہ رہی ہے میری پیاری کزن ناشتہ تو ہونا چاہیے اور سسرال تو شوہر سے ہوتا ہے تو آج میں ناشتہ اپنے پورشن میں کروں گی۔۔۔۔۔
ناشتے کی پلیٹ سجا کر وہ جاتے ہوئے مڑی ۔۔۔۔
اور تمنا تم بالکل فکر مت کرو تمہاری شادی خاندان سے دور کریں گے تاکہ تمہارا سسرال اور میکہ دور دور رہے اور سارے چونچلے بھی پورے ہوجائے گے معنی خیزی سا انداز سیڑھیوں والی بات کا حساب برابر کر لیا تھا اس نے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خون آشام نظروں سے دیکھا
اوپر تیسری منزل کے کمرے میں آئی داؤد ۔۔۔۔؟؟؟
مگر نہ وہ بیڈ میں تھا اور نہ ہی کمرے میں کہیں نظر آرہا تھا
کشوہ کو پریشانی ہوئی اس نے ناشتے کی پلیٹ بیڈ پر رکھی جب اپنے دونوں بازوؤں پر سخت گرفت محسوس کرکے اسکی دباتی آنکھیں بند کر گئی
داؤد ڈرتے ڈرتے مڑی تو وہ آنکھوں میں ہمیشہ والی وحشت لئیے اسے ہی دیکھ رہا تھا
د۔داؤد ۔۔۔رات والے داؤد کی کوئی پرچھائی نہیں تھی اس میں ۔۔۔۔
داؤد کی گرفت سخت ہوئی تو کشوہ کو لگا داود کی انگلیاں اس کے بازوؤں میں دھنس جائیں گی ۔۔۔۔۔
یک دم سب ساکت ہوا تھا کشوہ کی آنکھیں بڑی ہوئی جب داؤد نے ہاتھ بڑھا کر اس کا نقاب ہٹانے کے ساتھ اسے خود سے لگا لیا ۔۔۔۔
ن۔نہی۔۔نہیں ج۔جانا۔۔۔۔۔
ٹوٹے پھوٹے الفاظ
کشوہ کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا ۔۔۔۔۔
اپنے کندھے پر آنسو محسوس کر کے کشوہ تڑپ اٹھی ۔۔۔۔۔
نہیں داؤد میں کہیں نہیں جاتی
سیدھی ہو کر کانپتے ہاتھوں سے اس کے آنسو صاف کئیے ۔۔۔۔۔۔
دل میں عجیب سے سر شاری بھری ۔۔۔۔
کھانا۔۔۔۔۔کھانا کھائیں بیڈ پر موجود ناشتے کی پلیٹ پر اشارہ کرکے بولی ۔۔۔۔
ہم۔۔سر ہلا کر بیٹھ گیا کشوہ خود ہی اسے چھوٹے چھوٹے نوالے بنا کر کھلانے لگی ۔۔۔۔۔
کشوہ کا طنز اسے بری طرح کُھلا تھا پھر چند دنوں کا واقع یاد کرتے اس کے ہونٹوں پر بے ساختہ دل نشین مسکراہٹ نے بسیرا کیا ۔۔۔۔۔
داد جی آپ اتنے خاموش سے کیوں ہیں کوئی پریشانی ہے ۔۔۔۔۔
آج داد جی کی لاڈلی اپنا وقت داد جی کے ساتھ گزارنے آئی تھی ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں بچے ہمیشہ والی مخصوص مسکراہٹ شفقت سے لبریز جو صرف تمنا کے لیے تھی ۔۔۔۔۔
نہیں داد جی کوئی تو بات ہے ان کے ہاتھ سے کتاب پکڑ کر بند کرتی اپنی بات پر باضِد تھی ۔۔۔
مجھے داؤد کی فکر ہے مجھے لگتا ہے میں نے بہت غلط کیا اپنے بچے کے ساتھ رانیہ کے بعد میں داؤد کو وقت نہیں دے سکا ۔۔۔۔بلآخر داد جی نے اپنے دل کی بات اس کے سامنے رکھی تھی ۔۔۔۔۔
تو اس میں ٹینشن کی کیا بات ہے داد جی آپ داؤد میرا مطلب داود بھائی کی شادی کروا دیں اس طرح ان کو سنبھالنے والی کوئی آجائے گی تو آپ کی فکر بھی ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔
کون۔۔۔۔مطلب کون کرے گا داؤد سے شادی کس پر اعتبار کرو وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔
کشوہ ۔۔۔۔۔!!!!
داد جی چونک گئے۔۔۔۔۔
کشوہ ؟؟؟
جی داد جی آپ بھول گئے کشوہ آپی اور پھوپھو کا آپس میں کتنا پیار تھا مجھے پورا یقین ہے اگر پھوپھو آج زندہ ہوتی تو کشوہ آپی سے ہی داود بھائی کی شادی کرواتی اور ویسے بھی داد جی کشوہ آپی خاندان کی سب لڑکیوں سے بڑی ہیں اور چھوٹے تایا جی کے بعد ان کی زمہ داری بھی آپ پر ہی آتی ہے تو آپ ان سے بات کریں نہ مجھے پورا یقین ہے وہ آپ کی بات کبھی نہیں ٹالیں گی ۔۔۔۔
داد جی کے دماغ میں اپنی مرضی کی بات ڈال کر وہ اٹھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ وہ کیچن کی طرف بڑھی جب وہاں کھڑے عنصر کو دیکھ کر ماتھے پر بے ساختہ بل پڑے ۔۔۔۔۔
ہائے کزن ۔۔۔۔۔ عنصر نے عام سے لہجے میں کہا
ہائے عنصر ۔۔۔۔۔فریج سے پانی نکال کر گلاس میں ڈال کر میٹھے سے انداز میں جواب دیا تھا ۔۔۔
کیا ہورہا ہے آج کل ۔۔۔؟؟؟
عنصر نے خاموشی محسوس کر کے سوال کیا ۔۔۔
کچھ خاص نہیں بس کچھ بگڑے کام ہیں انہیں سنوار رہی ہوں پر اسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہتی وہاں سے۔ نکلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
کہاں کھو گئی تمنا اسے پلیٹ پر مسلسل چمچ چلاتے دیکھ حسنہ نے ٹوکا تو وہ ہوش میں آئی ارد گرد سے تقریباً سب ہی ناشتہ کرکے اٹھ گئے تھے ۔۔۔۔۔
آہ ہممم میرا ناشتہ ہوگیا مجھے آج ضروری کام سے نکلنا ہے چلو گی میرے ساتھ شوپنگ کرنے ۔۔۔؟؟؟
آنکھ دبا کر کہا کچھ سوچ رکھا تھا اس نے ۔۔۔
تمنا اور حسنہ کو آفر کروا رہی تھی نا قابلِ یقین تھا مگر آج کل سب کچھ نا قابل یقین ہی تو ہورہا تھا ایک اور کام سہی ۔۔۔۔۔میں چینج کر کے آئی ۔۔۔۔۔۔
تمنا یہ تو کشوہ کی گاڑی کی چابی ہے نہ ۔۔۔۔
بے یقینی سے اس کی نازک انگلیوں کے گرد گھومتی چابی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔۔
تمنا تم کیا کرنا چاہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
ششش بے بی ویٹ اینڈ واچ آنکھ دبا کر تیکھی مسکراہٹ سے بولی ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
