Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

زندگی کے حسین ترکش میں۔۔۔۔۔۔۔
کتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

نکاح کے سرخ جوڑے میں ملبوس وہ اس اندھیر کمرے میں بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی
اسی اندھیر کمرے میں جہاں سے گزرتے ہوئے وہ سو بار سوچتی تھی
کانوں میں ابھی بھی تمنا اور حسنہ کی تمسخر اڑاتی
سر گوشیاں
لوگوں کی ہمدردی سے لبریز آنکھیں
زانی ہے وہ ۔۔۔۔۔
پاگل ہے وہ ۔۔۔۔۔۔
کانوں میں ہتھوڑے بجاتی آوازیں
ٹھک سے دروازہ کھلا
وہ اچھلی تھی
جب دروازہ کھول کر وہ اندر آیا سرخ لہو چھلکاتی آنکھوں سمیت اس کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔۔۔
مجھے ۔۔مجھے کچھ مت کہنا ۔۔۔۔
مگر وہ بڑھتا چلا جا رہا تھا پھر اپنے ہاتھوں میں اس کی گردن دبوچی
اس کی آنکھیں بند ہوئی
اس کے قریب بہت قریب ہے اس کا گلا دبا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
نہیں کرو داؤد نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

ایک دم سے اس کی آنکھ کھلی پسینے سے شرابور چہرہ ہلق میں جیسے ان دیکھے زخم ہوگئے تھے
آنسو پھر پھسلنے لگے یک دم ہی وہ بیڈ سے اٹھی گھڑی کی طرف نظر گئی تو بارہ بجنے میں پینتیس منٹ تھے

جب اسے یاد آیا نکاح کے بعد وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی کمرے میں چلی آئی تھی ۔۔۔۔۔
روتے ہوئے اس کی آنکھ لگی تھی اسے پتا نہیں لگا۔۔۔۔۔

جب سے وہ ہدایت کے راستے میں آئی تھی یہ اس کی پہلی مغرب کی نماز تھی جو قضاء ہونے کے بعد چھٹ گئی

وہ فوراً وضو کرکے نماز بچھا کر اپنی عیشاء کی نماز ادا کرنے لگی
دل میں بہت ملال جاگا اپنی مغرب کی نماز کے چھوٹ جانے پر وہ کتنی نا شکری ہوگئی تھی اسی سبب اس کی نماز رہ گئی دل تڑپا تھا روح تک ملال ہوا تھا اسے ۔۔۔۔۔۔
قرآن پاک کی تلاوت کرتے حلق میں آنسووں کا گولہ بنا تھا ۔۔۔
تلاوت کے بعد
وہ بیان۔ نکال کر بیٹھ گئی
جب کانوں میں یہ الفاظ گونجے ۔۔۔۔
تو اسے لگا اس کے اندر کا سارا غم نمی کے قطرے بن کر بہتے چلا جارہا ہے ۔۔۔۔
اے ابن آدم !!
ایک میری چاہت ہے
اور ایک تیری چاہت ہے
ہوگا تو وہی
جو میری چاہت ہے
پس اگر تو نے
سپرد کر دیا اپنے آپ کو اس کے
جو میری چاہت ہے
تو وہ بھی تجھے دوں گا
جو تیری چاہت ہے
اگر تو نے مخالفت کی اس کی
جو میری چاہت ہے
تو میں تھکا دوں گا تجھ کو اس میں
جو تیری چاہت ہے
پڑھ پھر بھی ہوگا وہی
جو میری چاہت ہے

اے اللّٰہ میں تیری عاجز سی بندی تیرے ہر فیصلے کے آگے بے بس ہوں مجھ پر رحم کر مجھے ثابت قدم رکھ مجھے اپنی چاہت کی طرف موڑ لے مجھے گناہوں سے بچا کر رکھی مجھے اس رشتے کو نبھانے کی توفیق عطا فرما مجھے بخش دے مجھے معاف کردے مجھے پانچ وقت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرما مجھے دنیاوی فتنوں سے بچا لے یا رب مجھے دنیا کی رنگینیوں سے زیادہ آخرت کی ابدی زندگی کی چاہت ہے اے اللّٰہ میرے ۔۔۔۔۔میرے شوہر زبان لرزی۔۔۔۔یا اللّٰہ تو تو رازوں سے واقف ہے نہ انہیں ٹھیک کردے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


نکاح کے بعد غفور داؤد کو کمرے میں لے آیا ہاتھ میں پکڑا چھوٹا سا کھلونا جو داود کو اپنی جانب کرتا تھا غفور نے لینا چاہا تو داؤد نے اسے زور سے دھکا دیا غفور لڑکھڑایا تھا
چھوٹے صاحب آپ نے سونا نہیں دوائی کھا کر سوجائیں
وہ تھکا ہوا لگتا تھا تبھی بے زار سا اس کے آگے آیا
دوائی نکال کر اس کے سامنے کی جسے اسنے ہاتھ مار کر پھینک دی
خود دوڑتا ہوا واشروم میں بند ہوگیا
غفور پریشان ہوا اگر داؤد نے اپنے ساتھ کچھ کرلیا تو اس کی تو خیر نہیں داد جی سے
چھوٹے صاحب دروازہ کھولیں چھوٹے صاحب دروازہ کھولیں چھوٹے صاحب مگر وہ سر جھٹک کر ابھی بھی کھلونے سے کھیل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
کبھی ہوا میں لہراتا تو کبھی فرش میں کبھی خود سے باتیں کرتا ۔۔۔۔
غفور فوراً سب سے نیچے داد جی کے کمرے کی طرف بھاگا
داد جی دادجی غفور نے دروازہ کھٹکایا
آجاو غفور ۔۔۔۔اتنے پریشان کیوں ہو داد جی چھوٹے صاحب دروازہ نہیں کھول رہے
ہانپتا ہوا انہیں بتاتا اٹھنے پر مجبور کرگیا
تیسری منزل تک سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے داد جی بھی ہانپ چکے تھے مگر پھر بھی حوصلہ کرتے داؤد کے کمرے میں گئے کمرے کا حال دیکھ کر ان کا دل بیٹھا کمرے کا ہر شیشا ٹوٹا ہوا تھا کوئی بھی چیز اپنی اصلی حالت میں نہیں تھی
داؤد پتر دروازہ کھول نہ
داؤد بچے دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔
داؤد دروازہ چوتھے سے پانچوی دفعہ دروازہ کھٹکھٹانے پر وہ سر ہلاتا باہر نکلا
داد۔۔۔۔داد جی
داؤد داد جی نے اسے خود میں بھینج لیا ۔۔۔۔۔
داؤد کے آنسو اپنے نا تاوان کندھوں پر محسوس کرتے اس کی پیٹھ سہلانے لگے ۔۔۔۔۔۔
کتنی ہی دیر اس کمرے میں اس کے پاس بیٹھے رہے رات کے پہر اسے سلا کر ایک بہت بڑا فیصلہ لے کر وہ کمرے سے نکلے تھے


ابھی وہ دوبارہ بستر پر لیٹی تھی جب دروازہ کھٹکا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ چونک گئی رات کے اس پہر ۔۔۔شاہد ماں ہو گی ماں آخر کب تک اولاد سے ناراض رہ سکتی ہے ۔۔۔۔۔
حسب معمول چہرہ ڈھانپ کر دروازہ کھولا تو سامنے توقع کے متضاد عنصر سعید جتوئی کھڑا تھا
کشوہ کی پکڑ اپنے ڈوبٹے پر مضبوط ہوئی ۔۔۔۔
جی کوئی کام ۔۔۔۔۔؟؟ ازلی پر اعتماد لہجے میں پوچھا ۔۔۔
نہیں کام نہیں مجھے دکھ ہوا داد جی نے جو کیا اور سب سے بھر کر جو داؤد کے بارے میں سننے کو ملا ۔۔۔۔۔
آپ رات کے اس پہر ایک غیر محرم سے اس کے شوہر کی بابت ہمدردی کرنے آئیں ہیں
آواز اور الفاظ دونوں ہی بہت سرد تھے
البتہ نظریں زمین پر تھیں
عنصر خاموش ہوا
مگر اس کی جزباتی حالت سمجھ کر اس کا لہجہ فراموش کرگیا ۔۔۔۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں تمہاری کنڈیشن ۔۔۔۔
ڈاکٹر ہیں آپ ۔۔۔؟؟؟
ن۔۔نہیں
تو پھر۔۔۔۔؟؟؟
وہ لاجواب ہوا
کشوہ نے دروازہ بند کردیا ۔۔۔۔۔


دروازہ پھر سے کھٹکا تھا کشوہ کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے ۔۔۔۔۔۔
دروازہ پھر سے بجا
چہرہ ڈھکے دروازہ کھولا ابھی منہ سے کچھ نکالتی سامنے کھڑے داد جی کو دیکھ کر وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔
شاہد اس سے معافی مانگنے آئے ہوں ۔۔۔۔۔
لب کاٹے وہ کھڑی تھی
دادجی آپ مجھے بلا لیتے آپ کے لیے اتنی سیڑھیاں چڑھنا مناسب نہیں
لہجے میں فکر مندی تھی ۔۔۔۔۔
دادجی کو اپنے فیصلے پر ملال آرہا تھا ۔۔۔۔۔
صحیح کہہ رہی ہو بچے مجھ بڑھے میں اتنی جان نہیں کہ میں بار بار سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آؤں شکست خوردہ لہجے میں بولتے اسے چونکنے پر مجبور کر گئے ۔۔۔۔
داد جی میں سمجھی نہیں خطرہ اسے ارد گرد اچھے سے محسوس ہورہا تھا ۔۔۔۔۔
یا اللّٰہ ۔۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔۔
کشوہ کی سانس اٹکی وہ پھر اس کی بات کرنے یہاں آئیں ہیں ۔۔۔۔
ایسی بھی کیا بات تھی جو اس پہر داد جی داؤد کے لیے پھر سے اس کے سامنے کھڑے تھے ۔۔۔۔
داد جی نے ابھی تھوڑی دیر پہلے کا سارا منظر کشوہ سے سامنے من و امن کھول کر رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔
شدید ہمدردی کا احساس جاگا تھا کشوہ کے دل میں شاہد اپنے اور اس کے درمیان پاکیزہ رشتے کا اثر تھا ۔۔۔۔۔
اب آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں داد جی۔۔۔؟؟؟
ان کی آنکھوں کی بے بسی اور جھکے کندھوں نے اسے پہلے ہی سب کچھ سمجھا دیا تھا۔۔۔۔۔
مگر پھر بھی دل کو تھپکی دے کر اس نے اپنے شک کو مٹانا چاہا۔۔۔۔
میں تمہاری رخصتی چاہتا ہوں ۔۔۔۔
انہوں نے ہاتھ جوڑ دئیے ۔۔۔۔۔
مجھے قبول ہے داد جی ۔۔۔۔
اب جب نکاح ہوچکا تھا تو کیا فرق پڑتا اب رخصتی ہوتی یا بعد میں اور سب سے بھر کر اس نے اپنی چاہت کو اللّٰہ کے آگے سپرد کردیا ۔۔۔۔۔
رہی بات داؤد کے کردار کی تو اسے اللّٰہ پر پورا یقین ہے اللّٰہ اسے بہترین سے نوازے گا ۔۔۔۔۔
بیٹا بہت بہت شکریہ میں تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا ۔۔۔۔۔
یہ احسان نہیں ہے داد جی ۔۔۔۔بس ہلکی آواز میں اتنا ہی کہہ سکی ۔۔۔۔۔
کاش آپ میری محبت کو احسان کی جگہ میری فرما برداری سمجھتے ۔۔۔۔۔۔


اب نیند کہا آنی تھی ۔۔۔
اسے یقین تھا مما شدید ناراض ہونے والی ہیں اس سے
دو دن پہلے تک زندگی کتنی زیادہ پرسکون تھی اس کی ۔۔۔۔۔۔۔
سب کچھ بدل گیا تھا اس کی زندگی میں اس کے داد جی اس کی ماں حتی کہ اس کی زندگی کا مالک بھی بدل گیا وہ کسی کے نام کی امانت ہوگئی
جو اس پر اس سے بھی زیادہ حق رکھتا ہے
سوچوں میں گم صم جب فون کی ٹون نے کشوہ کو اپنی جانب متوجہ کیا
زینب کی بے شمار مسز کالز اور میسج موجود تھے صبح کے میسج میں سالگرہ وش کی گئی تھی پینڈنگ کالز تھیں اور کل کے پیپر کے بارے میں بتایا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ تو بھول ہی گئی تھی کل کے پیپر کو اُس نے فون بند کردیا اِس وقت وہ زینب تو کیا کسی سے بھی بات کرنے کی کنڈیشن میں نہیں تھی ۔۔۔۔
اس وقت وہ بس پر سکون سونا چاہتی تھی لمبا سونا بغیر کسی کی مداخلت کہ ۔۔۔۔۔۔۔
سر کے بل بستر پر لیٹی پچھلے دو دنوں کی بارے میں سوچنے لگی ۔۔۔۔۔

جاری ہے.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔