Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

حسنہ !!! وہ چیخا ۔۔۔۔
اس کی آواز کر دو لوگ ہوش میں آئے

حسنہ جو نیم بے ہوش سی تھی اور دوسری طرف تارا بائی سے خود کو چھڑواتی ملکہ بیگم ۔۔۔۔
وہ ساکت ہوئی ۔۔۔۔
عنصر جتوئی ۔۔۔
عنصر بھائی ۔۔۔

عنصر فوراً حسنہ کی جانب بھاگا تھا حسنہ اس نے اپنی بہن کو گلے لگا لیا
حسنہ میری بچی بھائی آگیا ہے
آنکھیں کھولو ۔۔۔۔
حسنہ ۔۔۔۔
اوئے ہاتھ نہ لگانا اسے نہیں تو جان سے مردوں گی
تارا بائی کی چنگارتی آواز پر عنصر پھٹتی نسوں سمیت مرا
اس کا پلٹنا قیامت کے مترادف ہوا ….

تارا بائی چاقو کی نوک ایشلے ایڈیسن کی گردن میں رکھے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
ایشلے ایڈیسن!!! ہوا میں عنصر جتوئی کی سرگوشی نے گردشِ کیا ۔۔۔

ایشلے ایڈیسن !!!
ملکہ بیگم نے نیم نیلی آنکھوں کو موندا آج آنسووں کو بہہ جانے دیا ۔۔۔۔
آج لاحاصل کو اتنے قریب دیکھ کر دل خوش نہ تھا ۔۔۔۔
وہ کس حال میں تھی ۔۔۔۔۔

ملکہ بیگم نے اپنی گردن کو حرکت دیا جس کے باعث چاقو کی نوک اس کی شہ رگ کے قریب ہوئی ہلکا سا کٹ اور بس ختم۔۔۔۔
عنصر تو سن تھا ساکن اسے کچھ ہوش نہیں وہ کہاں ہے دائیں جانب کون ہے بائیں جانب کون ہے وہ کون ہے؟!!

کچھ علم نہیں ۔۔۔۔

عنصر عبیر چیخا اس نے تارا بائی کو پیچھے سے دھکا دیا تھا وہ اپنے پورے وجود سمیت نیچے گری تھی
ملکہ بیگم اس سے پہلے بے ہوش ہو کر گرتی عنصر نے اسے سنبھالا تھا ۔۔۔۔

اس کے حصار میں اس پر منحصر وہ اسے دیکھ رہی تھی کتنی ہی یادوں نے جملوں نے اس کے اعصاب پر حملہ کیا تھا

عنصر نہیں کرو میرے ساتھ ایسا میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔
پلیز ۔۔۔!!!
وہ بھی بے بس ہوا ۔۔۔
عنصر نہیں ۔۔۔نہیں
“مجھ سے شادی کرلو “
چٹاخ !!! عنصر نے تھپڑ اس کی نازک گال پر مارا تھا وہ رونے لگی ۔۔۔۔
نہیں کرو ترس کھاؤ مجھ پر
اپنے خدا کے لیے ہی مجھ پر رحم کرو ۔۔۔

یہ یہ ہی فرق ہے تم میں اور مجھ میں عنصر نے چہرہ مور لیا تھا
میں تمہارا مذہب اپنا لوں گی ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔
پلیز عنصر۔۔۔۔۔ وہ ہاتھ جوڑ رہی تھی مگر عنصر اس وقت سفاک
پتھر بنا ہوا تھا جس پر کوئی آنسو اثر انداز نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔۔۔۔۔۔
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں ۔۔۔۔۔۔

ایشلے !!!
عنصر اس کی سرخ نیلی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
فاطمہ !!!
بے ربط لفظ کہہ کر وہ بے ہوش ہوگئی
میں ایشلے ایڈیسن اپنے پورے ہوش و حواس میں
اسلام قبول کرتی ہوں بغیر کسی کے دباؤ میں آئے بغیر کسی ذاتی مفاد کے میں دائرہ اسلام میں داخل ہوتی ہوں۔۔۔۔


اس وقت عنصر اور عبیر ہاسپٹل میں موجود تھے حسنہ اور ملکہ بیگم اس وقت دونوں ہی ایمرجنسی میں موجود تھے ۔۔۔۔
عنصر دیکھ یار میں نے تیرے لیے بہت بڑا رسک لیا ہے ایسے بغیر کسی ٹیم کو انوولو کئیے بغیر سرچ وارنٹ کے ریٹ ڈالنا بہت بڑا خطرہ ہے اور ایک بات بتاؤ وہ دوسری لڑکی کون ہے ۔۔؟؟ مطلب تم نے تو مجھے ایک اک بتایا تھا ۔۔۔۔
عبیر نے تشویش سے اس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
سر جھکا کر بیٹھے عنصر نے اپنا ماتھا مسلہ تھا ۔۔۔۔
کب کاٹ کر سر اٹھایا وہ اسے کیا بتاتا وہ خود تشویش میں تھا اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ ایشلے کو کبھی اس حال میں دیکھے گا ۔۔۔۔اسے تو حسنہ کا بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔۔
وقت کے کھیل ہی نرالے ہیں ۔۔۔۔
عنصر !!…
عبیر نے اس کا کندھا تھپتھپایا ۔۔۔۔
یار تمہارا بہت شکریہ عنصر اس کے گلے لگ گیا اس وقت وہ کچھ بولنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔
اس کی حالت کے پیش نظر عبیر بھی خاموش ہوگیا ۔۔۔۔
اس نے آج سے پہلے کبھی عنصر کو اتنا بے بس نہیں پایا تھا ۔۔۔۔

اسے یاد پڑتا ہے یونیورسٹی کے بیچ میں عنصر اور اس کی کبھی نہیں بنی تھی دونوں ہی لائق تھے مگر وہ بیک بینچر تھا وہی عنصر ٹوپر اور ٹیچرز کا پسندیدہ ان کی ہمیشہ لڑائی ہوتی مگر بس اوپر اوپر سے اندر سے کبھی دونوں نے ہی ایک دوسرے کے لیے کوئی غلط سوچ نہیں رکھی تھی وہ چار سال خوشگوار تھے

عنصر جتنا لڑکیوں کے معاملے میں کنزرویٹو تھا وہ اتنا ہی دل پھینک پھر پاس آؤٹ ہوتے وقت عبیر نے شریر انداز میں گلے لگا کر کہا تھا ۔۔۔جانو تمہیں مس کروں گا ۔۔۔۔وہی دوسری طرف عنصر نے چڑ کر کہا تھا اس کی دعا ہے وہ کبھی نہ ملیں۔۔۔۔

اور پھر عنصر باہر چلا گیا عبیر کی ٹریننگ سٹارٹ ہوگئی دونوں ہی اپنی اپنی زندگیوں میں مصروف ہوگئے ۔۔۔۔ پھر آج سے تقریباً تین ہفتے پہلے یوں ہی ریسٹورنٹ میں دونوں کی ملاقات ہوئی
عنصر کسی بزنس ڈیل کی وجہ سے وہاں موجود تھا جبکہ عبیر لنچ کرنے ۔۔۔۔جب عبیر ہی کی نظر اس پر پڑی تھی ۔۔۔۔

عنصر اپنے گیسٹ سے فری ہوا جب بھاری مردانہ آواز اپنے قریب سے آئی ۔۔۔
“جانو ہینڈسم ہوگئے ہو ۔۔۔”
یہ انداز تخاطب ؟؟؟ عنصر کو خوشگوار حیرت ہوئی ۔۔۔۔
دل پھینک عبیر عمر ؟؟
اب اتنا بھی کوئی دل پھینک نہیں میں جتوئی صاحب عبیر نے آنکھیں گھمائیں ۔۔۔۔
ہاہاہا کیسے ہو ۔؟؟؟
واہ آج تو کوئی ہم سے مل کر بہت خوش ہے عبیر نے شریر انداز میں کہا ۔۔۔۔
ہاہاہا کافی عرصے بعد ملو اور سناو مقابلے بازی کتنی کمپنیاں کھولی اس نے ہنس کر کہا انداز چھیڑنے والا تھا ۔۔۔۔
ہم کمپنیاں کھولتے نہیں ہیں بند کرواتے ہیں
اے ایس پی عبیر عمر اپنا کالر سیدھا کرتے وہ اٹھلا کر بولا ۔۔۔۔
واو کوئیٹ انٹرسٹنگ ۔۔۔
یہ تو تہہ تھا وہ دونوں ایک دوسرے کی تعریف ہرگز نہیں کریں گے ۔۔۔۔
ہاہاہاا اچھا ۔۔۔۔۔اور بتاو۔۔۔۔اسی دن دونوں کے نمبر ایکسچینج ہوئے تھے ۔۔۔۔


دادی آپ نے مجھے کہا تھا انکل اور آنٹی اپنے کئیے پر شرمندہ ہیں وہ داؤد کو قبول کر چکے ہیں اور میں یہاں پر صرف داؤد کی وجہ سے موجود ہوں اگر یہ ہی حال رہا تو میں داؤد کو لے کر یہاں سے چلی جاؤں گی ۔۔۔۔

میں انہیں ہرگز دکھی نہیں دیکھ سکتی یہاں لانے کا مقصد ان کا اصلی مقام دلانا ہے وراثت دولت کی ضرورت نہ مجھے ہے اور نہ ہی داؤد کو۔۔۔۔ دوپہر کے وقت جب لان میں دادی اکیلی تھی کشوہ وہاں پہنچی تھی ۔۔۔۔

بیٹا یہ دکھ نہیں برداشت کر سکوں گی ابھی تو اپنے پوتے کو پیار سے سینے سے بھی نہیں لگایا تم لے جانے کی باتیں کر رہی ہوں میں علیم سے آج ہی بات کروں گی
تم یقین کرو میں جھوٹ نہیں بول رہی میں اس دن جتوئی ہاؤس میں بھی علیم کی رضامندی کے ساتھ ہی اپنے پوتے کو دیکھنے کی تڑپ لئیے آئی تھی ۔۔۔۔

دادی یہ کیا کر رہی ہیں انہیں ہاتھ جوڑتا دیکھ کر وہ پیشمان ہوئی مگر داؤد کو کبھی دکھی نہیں دیکھ سکتی تھی وہ ۔۔۔۔جی دادی ۔۔۔


ایک آپ کی ایک پیشنٹ کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے اور دوسرے کی کنڈیشن بھی سٹیبل نہیں اور جن کا نروس بریک ڈاؤن ہوا ہے ان کے جسم میں تشدد کے بہت گہرے نشان ہیں ہم نے یہ کیس صرف اور صرف اسی لیا کہ پولیس آپ کے ساتھ ہے نہیں تو ہم ایسے کیس ہینڈیل نہیں کرتے ۔۔۔۔

کیا ہم مل سکتے ہیں ان سے ؟؟ عنصر نے بے تابی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔۔
جی ابھی نہیں ابھی وہ اس حالت میں نہیں ہیں ۔۔۔۔
ڈاکٹر چلی گئی جبکہ عنصر خود کو شکست خوردہ محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اسی طرح بیٹھا ہوا تھا جب اس کا فون بجا۔۔۔۔
ہیلو جی ۔۔۔جی میں آرہا ہوں ۔۔۔۔
عبیر یار ۔
گھر سے فون تھا دا جی کی طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔۔۔
ہاں ہاں تو جا فکر مت کر میں ادھر ہی ہوں عبیر نے اس کی پیٹھ پر تھپکی دے کر کہا ۔۔۔۔
شکریہ یار میں جلدی آجاؤں گا۔۔۔۔


کشف یار آپ نے میری بلو شرٹ کہا رکھ دی نہیں مل رہی کمرے میں قدموں کی آواز سن کر داود نے مصروف انداز میں کہا ۔۔۔۔
بھائی ۔۔۔ثمن کی آواز پر اس نے چونک کر پلٹ کر دیکھا ۔۔۔
سمانے ہی ثمن کھڑی اپنی انگلیاں چٹکھا رہی تھی ۔۔۔۔
جی ۔۔؟؟ داؤد کا چہرہ سپاٹ ہوگیا بالکل ویسا جیسا اس کا دوسروں کے لیے ہوجاتا تھا ۔۔۔
بھائی کیسے ہیں آپ ۔۔۔؟؟؟ ثمن کی آواز بھیگی ہوئی تھی ۔۔۔۔داود کو حیرت ہوئی اسے کیا ہوا ۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں کوئی کام تھا ۔۔۔؟؟
میں کسی کام کے بغیر اپنے بھائی سے نہیں مل سکتی ۔۔۔؟؟
وہ جزباتی ہوئی ۔۔۔وہ امن کے مقابلے زیادہ جزباتی تھی ۔۔۔
داؤد پریشان ہوا اس سیچویشن کو کیسے فیس کرے کشوہ بھی کمرے میں نہیں تھی ۔۔۔۔

جبکہ کمرے میں آتی کشوہ باہر ہی رک گئی تھی وہ داود وقت دینا چاہتی تھی اس کے نئے رشتوں کے ساتھ

بھائی میں جاؤں اگر آپ کمفرٹیبل نہیں ہیں تو۔۔؟؟اس نے دکھی لہجے میں کہا ۔۔۔۔
ہاں۔۔۔نہ۔۔نہیں میرا مطلب تمہاری ٹوین کہا ہے ۔۔۔
؟؟
داؤد کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے ۔۔۔
آہ ۔۔۔امن بری مشکل سے چھپ کر آئی ہوں یہاں آپ سے ملنے نہیں تو اگر وہ آجاتی تو اس نے مجھے آپ سے بات ہی نہیں کرنی دینی تھی خود ہی بولی جانا تھا ۔۔۔۔اپ کو پتا ہے بھائی ہم دونوں نے آپ کو کتنا مس کیا ہے دادی بتاتی تھی آپ دوسرے شہر میں رہتے ہو۔۔۔۔۔
آپ کو پتا ہے میری دوستیں جب اپنے اپنے بھائیوں کا رعب جھاڑتی تھی تو میرا دل کرتا تھا آپ کو شہر سے گاؤں لے آؤ مگر دادی کہتی ہیں آپ وہاں کام کرتے ہو اس لیے ادھر نہیں آسکتے

مگر اب تو بھابھی بھی آگئی اب تو آپ کہیں نہیں جاؤ گے نہ اس کے ہاتھوں کو تھامے وہ کتنے مان سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔
ابھی وہ کچھ کہتا امن آندھی طوفان بنی اندر آئی ۔۔۔

جھوٹی مکار مجھے بتائے بغیر بھائی کے کمرے میں آگئی ۔۔۔۔
بھائی اس نے میرے خلاف کیا کہا میں اسے چھوڑو گی نہیں بدتمیز ۔۔۔۔شش مت لڑو بچوں
بھائی ہم بچیاں نہیں دونوں نے احتجاج کیا ۔۔۔۔
ہاہاہا پر میرے لیے تو بچیاں ہو وہ ہنس کر بولا ۔۔۔۔

بھائی اس چڑیل کو چھوڑو مجھے جو مرضی کہہ لیں ثمن چہکتی اس کے پاس ہوئی ۔۔۔۔
ہو میں کیوں چڑیل میں بھی بھائی کا بچہ اج سے ۔۔۔۔کیوں بھائی؟؟؟
جو میرا بچہ کہے ۔۔۔۔

باہر کھڑی کشوہ آسودگی سے مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔


یہ کیا کہہ رہی آپ تائی جان آپ ہوش میں ہیں مجھے بچے پیدا کرنے کے لیے بیاہ کر لائی ہیں آپ یہاں پر ابھی شادی کو مہینہ نہیں ہوا کہ بچوں کی رٹ لگا دی ۔۔۔۔
وہ اپنے سے باہر ہوئی ۔۔۔۔
تمنا بچے میں نے کب رٹ لگائی بچے میں تو بس ویسے ہی فائزہ سے بات کر رہی تھی کہ ایک آدھ سال میں اس گھر کی ساری خاموشی ٹوٹ جائے گی
تو اور کیا مطلب لوں میں اس بات کا اور ایک آدھ سال کیا پانچ سال تک ایسا بالکل مت سوچئیے گا آپ اور نہ ہی ایسا کچھ ہوگا وہ پیر پٹخ کر مری مگر پیچھے کھڑے عنصر کو دیکھ کر رکی تھی ۔۔۔۔
مگر پھر اس کے پاس سے نکلتی آپنے پورشن کی جانب بھر گئی ۔۔۔۔
عنصر دکھتے سر کے ساتھ داد جی کے کمرے کی جانب بڑھ گیا ابھی اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ تمنا سے لڑتا ۔۔۔۔


داد جی کیا ہوا سب ٹھیک ہے نہ ۔۔؟؟؟
عنصر نے ان کا بلڈ پریشر چیک کرتے ہوئے ان سے فکرمندی سے پوچھا ۔۔۔۔
بس بیٹا پتا نہیں میرا جی کیوں گھبرا رہا ہے ۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں میرے بچے میری نظروں کے سامنے رہیں
پتا نہیں ہماری حسنہ کب ملے گی دادجی نے افسردگی سے کہا ۔۔۔۔

ہمارے علاؤہ بھی آپ کے اور بھی دو بچے ہیں داد جی جو آپ سے دور ہیں مگر ان کی کوئی فکر نہیں آپ کو ۔۔۔۔
عنصر تاسف سے کہتا اٹھا میں تمنا کو بھیجتا ہوں وہ سوپ لے کر آتی ہے وہ پی لیں دوائی میں دیتا ہوں آپ کو ۔۔۔۔۔


“مر جاؤں گی مگر عزت کو آنچ نہیں آنے دوں گی”
حسنہ کے جملے اس کے کانوں کے گرد گردش کر رہے تھے

وہ جتنا جھٹکتا یہ جملہ پھر دماغ میں بجتا ۔۔۔۔
لگتا ہے عبیر صاحب نیند سر کو چڑھ گئی ہے چلو کافی کا ایک بیگ لگاتے ہیں وہ کسلمندی سے اٹھ کر کینٹین کی طرف رخ کر گیا ۔۔۔۔۔


داد جی کے لیے سوپ بناؤ اٹھ کر تمنا ۔۔۔۔عنصر نے پھٹتے سر کے ساتھ کمرے میں داخل ہوتے کہا ۔۔۔۔
ہاں نہ میں نوکر لگی ہوں میں گھر والوں کی نہ کی کسی کو کچھ چائیے کسی کو کچھ ۔۔۔وہ چیخی ۔۔۔۔
میرا دماغ مت خراب کرو تمنا وہ گہرا سانس بھر کر سخت لہجے میں کہتا واش روم میں بند ہوگیا ۔۔۔۔
یہ دونوں ماں بیٹا ہی پاگل ہیں داد جی کو بھی یہ ہی ملا تھا میری شادی کروانے کو ۔۔۔۔۔
تمنا بھی پاؤں پٹخ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔۔


آنکھیں کھولتے ہی پورے جسم میں درد کا احساس ہوا تیز روشنی کے باعث آنکھوں کے خلیے چند منٹ کے لیے بینائی محروم ہوئے ۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے کا منظر دماغ میں چلا آنکھیں پھر گیلی ہونے لگی دل کیا کاش وہ یہاں سے بھاگ جائے ۔۔۔۔
یاں کاش اسے بچانے والا عنصر جتوئی نہ ہو ۔۔۔۔
کاش وہ اسے ملنے دوبارہ نہ آئے ۔۔۔۔
کاش وہ اسے پھر بے سہارا چھوڑ کر غائب ہو جائے ۔۔۔
کاش۔۔۔
مگر ہر کاش پورے بھی تو نہیں ہوتے ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔