Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

آپ ۔۔۔۔آپ ہمارے وارث کی بیوی ہیں ۔۔۔؟؟ کشوہ کے حجاب میں قید چہرے کی جانب دیکھ کر انہوں نے پوچھا لہجہ ایک دم ہی میٹھا سا محبت سے لبریز ہوگیا ۔۔۔۔
ساری بے زاری ہوا ہوئی یہ لڑکی اپنے پوتے کے حوالے سے عزیز ہوگئی ۔۔۔۔

کشوہ کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے
معزرت کے ساتھ آج بھی آپ یہاں آئی تو صرف اپنے مطلب کے لیے اپنے وارث کو لینے کہاں ہے آپ کی دوسری بہو آپ کے دوسرے وارث۔۔؟؟
بیٹا جی وہ ۔۔۔۔تبھی داد جی وہاں آئے ۔۔۔
کلیم بھائی داؤد کی دادی داد جی کو دیکھ رک فوراً کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔
آپ ۔۔داد جی کے چہرے کے تاثرات سخت ہوئے اپنی بیٹی کے دکھ یاد آئے تو آنکھیں لہو چھلکانے لگی ۔۔۔
اب یہاں آنے کا کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔مر گئی ہماری بیٹی برسو کی اس دکھ کو سینے سے لگائے ۔۔۔

کلیم بھائی میں بیت مجبور تھی سائیں کے جانے کے بعد میں دنیا سے کٹ گئی اپنی بچی کی حفاظت نہیں کر سکی اس کے لیے لڑ نہیں سکی وہ داد جی کے آگے ہاتھ جوڑ گئی

جو ہونا تھا ہوگیا اب آپ یہاں پر کیا لینے آئی ہیں ۔۔؟؟
داؤد ہمارا ہوتا ۔۔۔ فوراً سے پہلے جواب آیا ۔۔۔
نہیں داؤد صرف ہماری دانیہ کا بیٹا ہے وہ کہی نہیں جائے گا بہتر یہ ہی کہ آپ یہاں سے چلی جائیں اور آئندہ کبھی مت آئیے گا نہیں تو میں بھول جاؤں گا کہ آپ کو میں نے بہن بنایا تھا ۔۔۔۔
داد جی حتمی فیصلہ سنا کر وہاں سے چلے گئے۔۔

مجھے بہت دکھ ہوتا ہے داؤد کی قسمت پر ان کی ماں اس دنیا میں نہیں رہی اور باپ زندہ ہو کر بھی اس کا نہیں تو آپ کس حق سے لینے آئی انہیں جبکہ ان کے بابا ہی نہیں آسکے ۔۔۔

شکوہ نے تاسف سے ان کی جانب دیکھ کر کہا پھر سر ہلاتی وہاں سے نکل گئی پیچھے صغرا کاظمی بے بس سی ہو کر وہاں سے اٹھی ان کا قصور تھا وہ اپنی بہو کے حق کے لیے اپنے بیٹے سے نہیں لڑ سکی تھی ۔۔۔۔


کہاں گئی تھی آپ ؟؟….
کشوہ واپس آکر لیٹی تھی جب داؤد نے ہاتھ تھام کر غنودگی میں کہا ۔۔۔
کہیں نہیں نماز پڑھنے کے بعد والک پر گئی تھی ۔۔۔۔اپنے ہاتھ پر اس کی گرفت محسوس کئیے وہ محبت سے بولی ۔۔۔
میرے بغیر ۔؟؟مان سے پوچھا گیا ۔۔۔۔
آپ ۔۔۔اپ چلیں گے کل سے میرے ساتھ ۔۔۔پہلے تعجب پھر پرجوش ہوکر پوچھتی داؤد کو مسکرانے پر مجبور کرگئی

آپ جہاں لے چلیں ۔۔۔
اسی مان محبت پر کشوہ نازاں تھی ۔۔
میں جہاں بھی لے چلو پتا نہیں کشوہ کے دل میں کیا سمائے جو اس نے دوبارہ پوچھا تھا ۔۔۔۔
جہاں بھی ۔۔۔۔اسے دوبارہ جواب دیا داؤد نے ۔۔۔

تم پوچھو ۔۔۔۔
تم بار بار پوچھو ۔۔۔۔
چاہے ہزار بار پوچھو ۔۔۔
مجھے تم سے محبت ہے ۔۔۔۔
ہر بار پچھلی بار سے زیادہ محبت ہے ۔۔۔۔
تمہارا پوچھنا جنون ہے ۔۔۔
میرا بتانا سکون ہے ۔۔۔۔۔

فلحال تو اٹھیں ناشتہ کریں دوائی لیں پھر ڈاکٹر کے پاس جانا پھر مارکیٹ جانا اور واپس آکر ولیمے کے لیے تیار ہونا ۔۔۔۔
اففف اتنی لمبی لسٹ ۔۔۔۔
داؤد نے بے چارگی سے کہا ۔۔۔

یس مائی ہبی ابھی تو میرے ساتھ کہیں بھی جانے کے لیے تیار تھے اور اب مارکیٹ نہیں جا رہے
کشوہ نے ہر بار کی طرح اس کا گال کھینچا ۔۔۔

یار یہ مت کیا کریں درد ہوتا ہے اس نے گال سہلایا ۔۔۔
پر مجھے تو اچھا لگتا ہے اس نے شرارت سے دوسرا گال بھی کھینچ دیا ۔۔۔۔
اوکے اب میری باری داؤد فوراً بسترے سے باہر نکلا ۔۔۔
نو ۔۔۔۔ہاہاہاا وہ کھلکھلا کر واش روم میں غائب ہوئی ۔۔۔


موبائل کی بجتی رنگ ٹون نے اس کی نیند میں خلل ڈالا تھا
“کون ہے جو اتنی صبح مجھ معصوم کی نیند کا دشمن بنا ہوا ہے “….
زینب نے توقع کے عین مطابق بغیر دیکھے ہی بولنا شروع کردیا ۔۔۔
مابدولت آپ کے شوہر لگتے ہیں
عمر کی گھمبیر آواز پر وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھی جائے عمر اس کے سامنے ہی موجود ہو ۔۔۔
“جی سر ” لیفٹیننٹ کی طرح اونچی آواز میں بولی بس سیلیوٹ کی کمی تھی
آہستہ مادام یہ نہ ہو آپ کے ہماری دسترس میں آنے سے پہلے ہی ہم ہمارے کان سے مرحوم ہوجائیں ۔۔۔

عمر نے طنزیہ لہجے میں کہا تو وہ منہ بنا گئی ۔۔۔۔
سر آپ ہر وقت طنز کیوں کرتے ہیں اتنے طنز تو ساس بھی نہیں کرتی ۔۔۔۔
خفگی سے بھرپور آواز عمر کے مسکرانے کی وجہ بنی ۔۔۔
آپ بھی تو ہر وقت سر ‘سر کرتی رہتی ہیں بندے کا بنا بنایا موڈ غارت کرتی ہیں ۔۔۔۔
عمر نے بدمزہ ہوکر کہا ۔۔۔۔
تو اب سر کو سر نہ بلائیں تو بھائی بلائیں زینب نے آنکھیں گھما کر کہا ۔۔۔
تم سر ہی بلا لو لڑکی بھائی مت کہہ دینا ۔۔۔
عمر کی ڈری آواز سن کر زینب نے اپنے ہونٹ باہر نکالے ۔۔۔
استغفرُللّٰہ میں کیوں کہنے لگی آپ کو بھائی آپ نے تو مجھے زیادہ ہی بے و قوف سمجھ لیا ہے ۔۔۔
عمر بائی جانب سے لب دباتا اس وقت اپنے کمرے میں بیٹھے زینب کے ایکسپریشن کو ایمیجن کرتا محظوظ ہورہا تھا ۔۔۔۔۔
اوکے مادام ہماری ہی غلطی ہے اب زرا لڑائی جھگڑے سے ہٹ کر کچھ اپنی ہماری بات کرلیں ۔۔۔
اس کے دلفریب لبوں لہجے ہر زینب گلال ہوئی ۔۔۔۔۔


شاپنگ مال لیڈیز سائیڈ پر موجود کشوہ اپنے لیئے عبائے پسند کر رہی تھی داؤد بھی چند قدم کے فاصلے پر کھڑا صرف اسے ہی دیکھ رہا تھا جب کشوہ عبائے کو دیکھتی تو کبھی داؤد سے چند قدم دور کھڑی دو لڑکیوں کو جو مسلسل داود کو ہی آنکھیں پھاڑے دیکھی جارہی تھی
(کم از کم) کشوہ کو تو ایسا ہی لگا ۔۔۔۔
کشوہ نے ان لڑکیوں کو گھورا پھر داؤد کا ہاتھ تھام کر بل کاونٹر کے پاس لے گئی ۔۔۔
مگر پیچھے مر کر دیکھنا نہ بھولیں وہ لڑکیاں ابھی بھی “اس کے داؤد ” کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔
کشوہ وہاں اپنا سامان چیک کروانے لگی جب کہ وہاں کائونٹر پر موجود سیلز گرل بھی مسلسل داود کو نظروں میں رکھے کھڑی تھی ۔۔۔۔
بل!!!…
کشوہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اس نے زور سے ہاتھ کائونٹر پر مارا تو سیلز گرل ہڑبڑائی ۔۔۔
یس میم ۔۔۔۔
یار وہ بلیو آئیز والا کتنا ہوٹ!!!….

آخری الفاظ اچھے سے کشوہ کے کانوں تک گئے تھے
سپیشلی” ہوٹ” لفظ سن کر اس کا ٹیمپر لوز ہونا شروع ہوا اس کا خود کا حال جوالہ مکھی سے کم نہین ہورہا تھا ۔۔۔
کشف آپ ٹھیک ہیں نہ ۔۔؟؟
معصومیت سے بھرپور آواز اس کا غصہ ہوا کر گئی ۔۔۔

وہ واہیات لڑکیاں جو مرضی سوچیں میرا داؤد تو ایسا نہیں ہے اس نے خوشی سے سوچ کر سر جھٹکا تھا ۔۔۔


ولیمہ خیر خیریت سے گزرا تھا سب کچھ دوبارہ اپنے معمول پر آنے لگا ۔۔۔۔
داؤد کشوہ عصر کی نماز پڑھ کر اس کے پاس آ کر بیٹھی تھی جو صوفے پر بیٹھا غیر مرئی نقطے کو تکے جا رہا تھا ۔۔

کیا سوچ رہے ہیں آپ ۔۔۔؟؟؟
کشف ۔۔۔میری دادی ۔۔۔کہاں پر داؤد کشوہ نے بے چین ہو کر پوچھا کیا۔ دن داؤد نے انہیں دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔نہیں داؤد تو سویا ہوا تھا ۔۔۔
مجھے ملی آج صبح گھر کے باہر کھڑی تھی
اس نے تکلیف دہ انداز میں ہاتھ کی مٹھی بنا لی ۔۔۔۔
کشوہ نے انہیں مٹھیوں کو انگلیاں ڈال کر کھولا ۔۔۔۔
اچھا پھر کیا کہا انہوں نے ۔۔۔۔؟؟؟

وہ ۔۔۔وہ مجھے یہاں سے لے جائیں گی اب کہ تھک کر اپنا سر اس کے شانے پر رکھا ۔۔۔۔
تو کیا آپ جانا نہیں چاہتے اپنے گھر والوں سے پاس ۔۔۔
وہ کچھ جاننا چاہ رہی تھی کچھ گہرا۔۔۔۔۔
دل میں پھانس بن کر چبنے والا ۔۔۔

میں ۔۔۔میں آپ ۔۔۔کو چھوڑ کر کہیں۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔جاوں گا ۔۔۔۔
نہیں کبھی نہیں تھوڑی سے اس کا چہرہ اوپر کئیے بولا آنکھوں میں کچھ قیمتی کھو جانے کا ڈر ۔۔۔۔
اور اگر میں آپ کے ساتھ چلوں ۔۔۔
کشوہ جب ان نیلی آنکھوں میں نہ دیکھ سکی تو اس کے کندھے پر نظریں جمائے بولی ۔۔۔۔
ہم کہیں نہیں جارہے کہیں بھی نہیں نہ آپ نہ میں اسے ایسے پکڑ لیا جیسے وہ کھو جائے گی ۔۔۔۔
کہیں نہیں نہ ۔۔۔۔۔ڈر کی آمیزش لئیے داؤد کی آواز کشوہ کا دل دھڑکا گئی ۔۔۔
کہیں بھی نہیں ۔۔۔۔


اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ وہ اس کمرے میں یوں اس لڑکی کے سامنے موجود ہو گی جس کی پراسرار ذات نے اسے خود کے دکھ بھولا دئیے
وہ ایک ایسے سحر میں بندھی تھی کہ اسے سکون ہی نہیں مل رہا تھا دل تھا اسی جانب ہمک رہا تھا ۔۔۔۔
کیا بات تھی خاص اس میں حسنہ سمجھ نہ سکی مگر آج وہ ملکہ بیگم کے سامنے موجود تھی جو چائے مرضی پوچھ لیتی ۔۔۔۔
آپ ۔۔۔اپ یہاں کیسے آئی ۔۔؟؟
ملکہ بیگم کی توقع کے عین مطابق سوال کیا گیا ۔۔۔۔
ہمم۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔ایک غیر محرم کی محبت نے ہمیں اس کو’ٹھے کی ملکہ بنا دیا ۔۔۔
بہت ہی عام سا لہجہ تھا اس کا جیسے کوئی عام سی بات ہو ۔۔۔حسنہ نے رشک سے ملکہ بیگم کے سکون کو دیکھا ۔۔۔۔اس نے کیا کچھ نہیں کیا اپنے آپ کو بچانے کے لیے اور اب تک وہ ڈٹی ہوئی تھی ۔۔۔۔ کیا واقعی ایک غیر محرم کی محبت میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ ہم اس کے پیچھے اپنا گھر چھوڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔
غائب دماغی سے اس کے حسین چہرے کی جانب دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
محبت آکٹوپس کی پکڑ سے بھی زیادہ مضبوط گرفت رکھتی ہے اور اس گرفت سے چھوٹ نفس کی پختگی ہی کروا سکتی….

“نا محرم کی محبت آگ ہوتی ہے حسنہ سنبھل جاؤ ” اسے کہیں پیچھے کشوہ کی کہی بات یاد آئی کاش وہ اس دن اپنی جلن میں اس کی بات کو اگنور نہ کرتی ۔۔۔

تو آپ میرا مطلب آپ کو بھی کسی ہرجائی نے یوں بیچا ۔۔۔
وہ دکھ سے لبریز لہجے میں بولی ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔کاش وہ ہمیں خود بیچ دیتا تو اب اتنی تکلیف میں نہ ہوتی میں ۔۔۔۔
مطلب میں کچھ سمجھی نہیں حسنہ نے ناسمجھی سے پوچھا ۔۔۔۔
یہ خاکی پتلہ اسی ہرجائی کی امانت ہے جس کی حفاظت کے لیے روز تارا بائی کی مار کھائی ہے بیلٹوں کی لاسیں ڈلوائی ہیں ہم نے اب بس ایک ہی آس لئیے زندہ ہیں ایک آخری ملاقات اس ہرجائی سے پھر خود ہی خود کو موت کے گھاٹ اتار لیں گے
باہر اتنی پرسکون نظر آنے والی ملکہ بیگم کے لہجے کی سفاکی سن کر حسنہ جھرجھری لے کر رہ گئی ۔۔۔۔
راز تو ہنوز راز ہی رہ گیا ۔۔۔۔
مگر حسنہ کے لیے کہیں سوچوں کے در کھلے تھے ۔۔۔۔۔


دوپہر کا وقت تھا ۔۔۔
مرد حضرات اپنے کاموں پر چلے گئے تھے خمسہ بیگم کو کسی ضروری کام سے جانا تھا عنصر بھی کچھ بتا کر نہیں گیا کشوہ کو اس نے ابھی پانچ منٹ پہلے باہر جاتے دیکھ شاہد وہ بازار یا کسی کام سے باہر گئی ۔۔۔
داد جی کے سونے کا وقت تھا ۔۔۔

تو وہ دوسرے پورشن میں اکیلی تھی
وہ ٹی وی لاونج میں آئی نظریں بار بار تیسری منزل کو جاتی سیڑھیوں پر تھی ۔۔
کچھ سوچ کر وہ اٹھی
دل میں عجیب سا خوف بھی پہرے ڈالے بیٹھا تھا
اگر کسی نے اسے یہاں دیکھ لیا تو ۔۔؟؟
کسی چھوڑو اگر عنصر نے دیکھ لیا ایک پل کو خیال آیا سب کچھ چھوڑ کر واپس چلی جائے ۔۔۔

“یار آپ بہت ضدی ہیں ۔۔۔۔”
داؤد کی آواز سن کر اس کے واپس جاتے قدم رکے دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔۔
وہ باقی کی سیڑھیاں عبور کرتے ہوئے اس کے کمرے کے پاس آئی دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے وہ دیکھ سکتی تھی داؤد کمرے میں موجود الماری کے ساتھ لگا ہوا تھا ۔۔۔۔
اتنا خوبصورت کمرہ ہر شہ ایسے سجی تھی جیسے کسی نے ایکایک شہ کو ہاتھوں سے سنوارا ہو ۔۔۔

کیوں نہ سجا ہوتا کمرہ کمرے سمیت اس کے مکین کو سنوارنے والی موجود تھی
اپنے پیچھے کھٹکے پر داؤد نے مصروف انداز میں کہا
“کشف میں نے دودھ نہیں پینا یار آپ مت لائیں گرم کرکے ۔۔۔۔”

کشف !! اس نے پھر سے پکارا ۔۔۔
اچھا بابا آدھا گلاس ہی پیووو!!!….
اتنا کہتے وہ جیسے ہی وہ مڑا تمنا کو وہاں موجود پا کر باقی کے الفاظ مدہم ہوگئے ۔۔۔
داؤد کے ماتھے پر تیوریاں چڑی
چہرہ سنجیدہ اور نیلی آنکھیں سرد سی ہوگئی ۔۔۔
تمنا ٹکٹکی باندھے اس کی آنکھوں میں دیکھتی گئی ۔۔۔
آپ یہاں پر کیا کر رہی ہیں
اس قدر سرد اور روکھا سا لہجہ

میں ۔۔۔وہ ۔۔۔تمنا ہوش میں آئی ۔۔۔
میں بس ویسے ہی ۔۔۔
چلی جائیں یہاں سے تیز آواز ایک سرد سی لہر جسم میں دور گئی ۔۔۔۔
میں تو آپ سے ۔۔۔
چلی جائیں دوسری دفعہ داؤد نے اس کی بات کاٹی تھی ۔۔۔۔
داؤد کیا ہوگیا ہے وہ چند قدم آگے آئی ۔۔۔۔
داؤد کے چہرے پر چیونٹیاں سی رینگنے لگی سانس ایک دم ہی پھولنے لگا ۔۔۔۔

وہ برداشت نہیں کر پارہا تھا کشوہ کے سواہ کسی اور کو اپنے پاس ۔۔۔

آنکھیں سرخ ہوئی کہو چھلکاتی بازو سے تمنا کو تھام کر دیوار کے ساتھ پن کیا ۔۔۔۔
سمجھ نہیں آتی دفعہ ہوجاؤ ۔۔۔

وہ اس کے کان کے پاس دھاڑا تھا ۔۔۔تمنا کا رنگ فق ہوا ۔۔۔۔
دفعہ ہوجاؤ اب کہ داؤد نے اس کے گلے کو اپنی مٹھی میں لیا تمنا کی آنکھیں ابل پری ۔۔۔

داؤد!!!! کشوہ کے ہاتھ سے دودھ کا گلاس زمین پر گرا تھا
چھوڑیں ۔۔۔۔۔۔
داؤد وہ چیخی اس سے پہلے وہ گِڑتی داؤد تمنا کو چھوڑتا فوراً سے پہلے اس کے پاس پہنچا ۔۔۔

کشف ۔کشف آپ ٹھیک ہیں ؟؟ اسے اپنے ساتھ لگائے سہارے کے ساتھ کھڑا کئیے وہ پر فکر لہجے میں بولا ۔۔۔۔
داؤد یہ سب !؟؟
کشوہ نے بے یقینی سے داؤد کے دھکا لگنے کی وجہ سے زمین پر گری تمنا کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔۔

یہ سب کیا ہورہا ہے ۔۔؟؟؟ داد جی کی رعب دار آواز سن کے تمنا سمیت کشوہ بھی ان کی جانب مری تھے ۔۔۔

داد جی کو سہارے سے اوپر لانے والا عنصر بھی سامنے کے منظر کو سمجھنے کی سعی کر رہا تھا ۔۔۔۔

کشف آپ ٹھیک ہیں ان سب سے بلاتر داؤد کو تو صرف اپنی کشف کی فکر تھی
لہجے سے بے چینی جھلک رہی تھی جبکہ چہرے کے تاثرات فکر مندی میں ڈھلے ہوئے تھے ۔۔۔۔

کشوہ ابھی کچھ بولتی جب تمنا بھاگ کر داد جی کے گلے لگی داد جی داؤد نے میرے ساتھ بدتمیزی کی ہے یہ پاگل ہے اس نے میرا گلا دبایا ہے
تیری اتنی ہمت عنصر غصے سے داؤد کی جانب بھرا تھا جب کشوہ بھی میں آئی ۔۔۔
ہمت بھی مت کرنا عنصر جتوئی داؤد کو ہاتھ لگانے کی ۔۔۔۔

عشق بھی ہو حجاب میں حسن بھی ہو حجاب میں۔۔۔
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر۔۔۔۔

بن حجاب وہ خون آشام نظروں سے اسے تکتی اسے سن ہونے پر مجبور کرگئی ۔۔۔

داؤد کشوہ کی بے پردگی محسوس کئیے نہ صرف اس کے آگے آیا بلکہ اس کے سر پر جمے ڈوبٹے سے اس کے چہرے کو بھی ڈھانپ چکا تھا ۔۔۔
کشوہ کی آنکھیں تشکر سے بھری تھیں مگر اس وقت اس نے لڑنا ۔۔۔۔
عنصر آپ دیکھ کیا رہے ہیں اس نے آپ کی بیوی کو مارنے کی کوشش کی ہے
ملازمہ نے نیچے جاتے ساتھ ہی فائزہ بیگم اور سریہ بیگم کو دوسری منزل میں ہوتی لڑائی کے بابت بتایا سب ہی اوپر کی جانب بھرے ۔۔۔

کشوہ !!!
سریہ بیگم کی آواز پر کشوہ نے ایک نظر ان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔
یہ سب کیا ہورہا ہے ۔۔۔۔
ماں تمنا داؤد پر الزام لگا رہی ہے۔۔۔

تو لگاؤ قسم کشوہ بی بی کے تم نے نہیں دیکھا اپنے پاگل شوہر کو میرا گلا دباتے

تمنا چیخی
بہت حاجن بنتی ہو نہ کھاؤ خدا کی قسم ابھی دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا ۔۔۔۔
میں داؤد کی مینٹل کنڈیشن کو اچھے سے جانتی ہوں تمنا جتوئی
تم یہ بتاو کہ تم ہمارے پورشن میں کیا کر رہی تھی کہ تمہیں نہیں معلوم یہاں پر کوئی نہیں آتا ۔۔۔۔
اس کے براہِ راست پوچھنے پر تمنا سٹپٹا گئی ۔۔۔

میں وہ ۔۔۔۔میں چھت پر جانا چاہ رہی تھی
تمنا نے فوراً کہا ۔۔۔

ہاں چھت کا راستہ میرے کمرے سے نکلتا ہے ۔۔۔کشوہ نے تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ سب کی جانب دیکھا

نہیں میں چھت پر جا رہی تھی جب داؤد زور زور سے بلانے لگا مجھے لگا کہ کوئی مسئلہ ہوگیا ہے ۔۔۔۔
داؤد مجھے یعنی اپنی بیوی کو بلا رہا تھا ۔۔۔
شادی شدہ ہونا تم اچھے سے جانتی جب شوہر اپنی بیوی کو آواز دے تو اس کا مطلب بیوی ہوتا ہے نہ کہ کوئی بھی ۔۔۔۔۔
کشوہ جیسے سب آر پار کرنا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔۔

آپ کچھ نہیں کہیں گے داد جی
تمنا نے اپنا آخری سہارا لیا ۔۔۔

جتوئی خاندان کی چہیتی بہتان لگانے پر اتر آئی آج کشوہ نے تمسخر سے کہا ۔۔۔
کیا تم نے اپنی آنکھوں سے داؤد کو تمنا کا گلا دباتے دیکھا
داد جی کے سوال پر جہاں کوشی خاموش ہوئی وہی دوسری طرف تمنا جی جان سے مسکرائی ۔۔
داد جی !!!
ہاں ہاں نہ ؟؟؟
ہمم۔۔۔دیکھا کشوہ کی آواز ہلکی ہوگئی ۔۔داود نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔

مجھے داؤد پر پورا یقین ہے سریہ بیگم کی آواز پر کشوہ اور داؤد دونوں بے یقینی سے ان کی جانب مرے تھے ۔۔
کشوہ میری اور فرید کی بیٹی ہے داد جی اور ہماری بیٹی کو کھڑے کھوٹے کی پہچان بہت اچھے سے ہے اور میں اپنی بیٹی کی چوئس پر آنکھ بند کرکے یقین کر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔
اگر ا سکے لیے مجھے داؤد کی گرنٹی بھی دینی پرے تو میں دو گی ۔۔۔۔

ماما کشوہ کی آنکھیں نم ہوئی
اب تو اس کے ساتھ اس کی ماں بھی کھڑی تھی اب تو کوئی چاہ کر بھی کشوہ فرید کو گڑا نہیں سکتا ۔۔۔۔
چلیں کشف ہم یہاں پر نہیں رہیں گے داؤد نے تمنا کو سخت گھوری سے نواز کر کشوہ کا ہاتھ تھاما ۔۔

ہاں داود صحیح کہہ رہا ہے جب داد جی کو بس اپنی
چہیتی کی فکر ہے تو تم لوگوں کا یہاں رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔۔۔۔
سریہ بیگم نے تاسف سے سب گھر والوں کر دیکھ کر کشوہ کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

ہم کہاں جارہے ۔۔۔

ہمارے کراچی والے گھر ۔۔۔!!
میرے گاؤں ۔۔۔۔!!!
سریہ بیگم اور داؤد کے ساتھ بولے

جاری ہے ۔۔۔۔۔