Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

داد جی آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے داؤد کے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے وقت کشوہ داد جی کے کمرے میں حاظر ہوئی تھی۔۔۔۔۔
حسب توقع تمنا وہی پر موجود تھی دونوں چائے کے کپ سے لطف اندوز ہورہے تھے جبکہ ساتھ ساتھ تمنا کا کیمرہ بھی اون تھا وہ شاید وی لاگ ہی بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہمم۔۔۔ہاں آو نہ بچے ۔۔۔۔کیا بات ہے ۔۔۔۔

داد جی مجھے یہ پوچھنا تھا غفور بھائی کہاں ہیں داؤد کی دوائی ختم ہوگئی ہے میں نے وہ ہی منگوانی ہے ۔۔۔۔۔
کچھ سوچ کر کشوہ نے اپنا جملہ بدل لیا تھا ۔۔۔۔
ارے ہاں بیٹا وہ کچھ دنوں کی چھٹیاں لے کر گیا ہے اس کی بہن کی شادی ہے تم کسی اور سے منگوا لو۔۔۔

داد جی نے اسے کہہ کر رفاقت کو کال کرنے کے لیے فون نکالا ۔۔۔۔۔
نہیں داد جی دوائیوں کی پرچی گم گئی ہے آپ ریپورٹس دے دیں اس میں دوائیوں اور ان کے اوقات کار درج ہوگے۔۔۔۔۔۔۔

اچھا چلو میں تمہیں دیتا ہوں ریپورٹس داود کی ۔۔۔
اپنی الماری سے نیلے رنگ کی فائل نکال کر کشوہ کو نہ صرف پکڑائی
بلکہ پر شفقت ہاتھ بھی اس کے سر پر رکھا
سدا سلامت رہو خوش میری بچی جیتی رہو ۔۔۔۔۔ ہمارا غرور ہو تم فرید ہوتا تو اپنی نیک اور فرمابردار اولاد سے بہت خوش ہوتا ۔۔۔۔۔۔
جزاک اللّہ داد جی با دعاؤں کی ہی ضرورت ہے ۔۔۔۔
اس کے آنے سے کے کر جانے تک تمنا نے بولنا تو دور کی بات
نظر اٹھانا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا مگر مقابل کو کب فکر تھی ۔۔۔۔۔۔


نیلے رنگ کی فائل کھولے بیٹھ کر توجہ سے پڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس کے آخری ٹیسٹ کی تاریخ اکتوبر کی تھی یعنی آٹھ مہینے ہوگئے تھے داؤد کے آخری چیک اپ کو ہوئے۔۔۔۔

کشوہ کا دل کیا آر پیٹ کے یاں اس غفور کو سامنے کھڑا کرکے پوچھے یہ زمہ داری لی تھی اس نے ۔۔۔۔۔

آہ ۔۔۔۔۔گہری سانس لے کر اپنا فون نکال کر ایک نمبر ملایا
اور خود سیڑھیاں چڑھتی اپنے پورشن کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔


شیری یہ ہم کہاں جا رہے ہیں گاڑی کا رخ سنسان علاقے کی طرف جاتا دیکھ کر حسنہ نے تشویش سے کہا ۔۔۔۔۔۔۔
جان جب میں ساتھ ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے جہاں بھی جائیں ۔۔۔۔۔
شہریار نے آنکھ دبا کر شریر لہجے میں کہا ۔۔۔۔

پر ۔۔۔۔۔۔بولتے بلاتے حسنہ چپ ہوئی ۔۔۔۔۔
ہاں اسے یقین تھا “اپنے شیری”پر ۔۔۔
گاڑی قدرے سنسان جگہ پر رکھی اس طرف چھاؤں سی تھی
جب شہریار نے گاڑی سائڈ پر لگا کر جینٹل مین کی طرح حسنہ کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔

تھینک یو مائی پرنس ۔۔۔۔حسنہ نے کھلکھلا کر کہا ۔۔۔۔۔
مائی پلئیر مائی پرنسس۔۔۔۔۔

اس کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالا اور اس کے دائیں ہاتھ کی پشت کو چھوا۔۔۔۔۔
حسنہ جھجکی مگر اسے شہریار پر یقین تھا ۔۔۔۔۔۔

بنت ہوا کو نا محرم پر یقین ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔


ظہر کی نماز پڑھ کر وہ فارغ ہوئی تھی جب اس کی نظر داؤد پر پڑی
داؤد کیا ہوا۔۔۔۔۔ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے اسے سر پکڑے دیکھ کشوہ نے فکر مندی سے کہا ۔۔۔۔۔۔
سر ۔۔۔۔درد ہے دوائی ۔۔۔۔دوائی دے دو ۔۔۔۔۔ سانس ردست کرتا ہلکی آواز میں بولا کشوہ نے گھڑی کی جانب دیکھا ابھی دو گھنٹے تھے دوائی میں ۔۔۔۔۔
زیادہ درد ہے ہورہا ہے میں دبا دوں آپ کا سر ۔۔۔۔۔
دوائی ابھی وقت ہے پھر کھانا کھا کر دوا لینی ہے ۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔وہ خاموش ہی رہا تو کشوہ نے اس کا سر گود میں رکھ کر دبانا شروع کردیا۔۔۔۔
گرم ہتھیلیوں کا لمس ٹھنڈی پھوار کی طرح سر کی نسوں تک سکون دے گیا
اس کی کمیز کا کالر مٹھی میں دبائے وہ آنکھیں موند گیا ۔۔۔۔۔۔۔

تمہارے لمس کو خود میں اتار سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
میں اپنے آپ کو یوں بھی سنوار سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔


اسلام علیکم جی میں نے تصویر بھیجی ہے آپ کو ڈیٹیلز مجھے اسی نمبر پر سینڈ کر دیجئیے گا ۔۔۔۔۔
جی جی مکمل ڈیٹیلز ۔۔۔۔ ہممم اور کوشش کیجئے گا جتنی جلدی ہوسکے دیجئیے گا ۔۔۔۔
جی کیس سٹڈی کر رہا ہے ہمارا گروپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سائیکالوجی سٹوڈنٹ لاسٹ سمیسٹر
آپ کو اسائنڈ پیپرز بھی سینڈ کر دیئے ہیں آپ مجھے اس دوائی کی مکمل انفورمیشن بھیج دیں ۔۔۔۔۔
جی جی اوکے اللّٰہ حافظ!!!

فون بند کرکے وہ داؤد کے پاس آئی جو ہاتھ لپیٹے بیٹھا ایک نقطے پر کھویا ہوا تھا ۔۔۔۔

کیا ہوا داؤد کشوہ نے اس کے آگے چٹکی بجائی۔۔۔۔۔
مگر وہ خاموش رہا ۔۔۔۔
داؤد طبیعت ٹھیک ہے نہ اب اپنے ہاتھ کی پشت اس کی پیشانی پر لگا کر حرارت چیک کی ۔۔۔۔۔
ہممم۔۔۔۔داود نے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔۔
کیا ہوا ناراض ہو مجھ سے اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
داؤد نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔

پھر کیا ہوا ہے دوبارہ سر میں درد ۔۔؟؟
مگر اس بار وہ بنا کچھ بولے اس کے کندھے میں چہرہ چھپا گیا ۔۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔۔ایک دفعہ پکارنے پر جب وہ سیدھا نہیں ہوا تو کشوہ خاموشی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔
اس کی طبیعت کا تقاضا تھا وہ کبھی کبھی بہت زیادہ حساس ہوجاتا تھا
تو کبھی بالکل سرد برف کی مانند ۔۔۔


فون پر ریپلائے پڑھتے ہی وہ لیپ ٹاپ نکال کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
لیپ ٹاپ نکال کر وہ ایک ایک علامات دیکھ رہی تھی داؤد کے دھپ سے بیٹھنے پر اس کے دھیان کے دھاگے بکھرے ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس قدر مصروف تھی آج داؤد کا بدلا بدلا رویہ محسوس ہی کہ کر سکی ۔۔۔
۔
داؤد پڑھنے دیں مجھے میرا پیپر ہے آپ کو معلوم تو ہے ۔۔۔۔۔۔
لیپ ٹاپ پر مگن سے کچھ پڑھتی وہ داؤد کے لیپ ٹاپ کے چھیرنے پر بگڑی ۔۔۔۔۔۔

داؤد نے ہاتھ بڑھا کر اس کے حجاب کو چھیڑا ۔۔۔۔۔
تو کپڑا ڈھلکتا اس کی آنکھیں چھپا گیا ۔۔۔۔۔
داؤد حد ہی کر دیتے ہیں آپ اتنی ضروری کام کر رہی ہوں میں غصے میں کہتی لیپ ٹاپ تھامے اٹھی تھی ۔۔۔۔۔

داؤد نے بھی غصے سے لیپ ٹاپ بند کر دیا ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے نہیں برداشت تو میں چلی جاتی ہوں یونیورسٹی سر مارتے اپنا سامان سمیٹنے لگی ۔۔۔۔
داؤد کا دل بیٹھا نہیں ۔۔۔نہیں مت جائیے ۔۔۔۔نہیں پھر سے پینک ہورہا تھا وہ ۔۔۔۔۔سانس پھولنا شروع ہوئی ۔۔۔۔

داؤد میں نے آگے پڑھنا ہے میرا فائنل سمیسٹر ہے اگر آپ مجھے پڑھنے نہیں دے گے تو کیسے چلے۔۔۔۔۔
مگر داؤد بات کاٹ کر دھاڑا ۔۔۔۔
چلی جاؤ ت۔۔تم بھی سب چلے گئے ۔۔۔تم بھی جاؤ۔ ۔۔۔۔ جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔ سب ہی چلے جاتے ۔۔۔۔۔۔۔میں بھی ۔۔۔۔۔چل۔چلااا۔۔۔۔۔جاوں گا۔۔۔۔۔ کانپتے ہاتھوں سے خود ہی پانی کا گلاس منہ کو لگا کر واش روم میں بند ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
اندر سے چیزیں گرنے کی آوازیں آنے لگی ۔۔۔۔۔
مگر کشوہ سر جھٹک کر سامان لیتی کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔


شہریار ۔۔۔۔۔۔اپنی آنکھوں پر مردانہ انگلیوں کا لمس محسوس کئیے حسنہ نے مسکرا کر شہریار کو پکارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے کیوں کر رہے ہیں کیا کوئی سرپرائز دینے والے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
لہجے میں خوشی کی چھنکار تھی ۔۔۔۔۔۔
اب آنکھوں پر انگلیوں کی بجائے مخمل کی پٹی کا بسیرا تھا ۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اسے اپنے کان کے قریب شہریار کی سرگوشی سنائی دی ۔۔۔۔
اس کا دل شدت سے دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔
آنکھوں کھول لو مائی پرنسس۔۔۔۔۔
“ویل یو میری می“
شش۔۔شہریار۔۔۔۔
وہ ایک گھٹنے کو زمین پر ٹکائے ہاتھ میں انگوٹھی لئیے اس کے جواب کا منتظر بیٹھا ہوا تھا
بتاؤ حسنہ تمہاری خاموشی میری جان لے رہی ہے ۔۔۔

حسنہ نے نم آنکھوں سے اپنا بایاں ہاتھ آگے کیا تو شہریار نے انگوٹھی پہنا کر اسے گلے لگا لیا ۔۔۔۔

نہ صرف گلے لگایا وہ تھوڑا آگے بڑھا ۔۔۔۔
شہری ۔۔۔۔حسنہ نے ہلکی سی مزاحمت کی مگر شہریار کی طلسماتی گرفت میں اس کی مزاحمت زیادہ دیر نہ چلی ۔۔۔

” بے شک گناہوں میں بہت کشش ہوتی ہے “

مگر چند لمحوں کی کشش کے بعد دنیا اور آخرت کے لیے خسارا ہی رہ جاتا ہے


عنصر ۔۔۔۔۔ تیرے جانے کے بعد سے غائب ہے وہ ۔۔
ہاں میں اس کے اپارٹمنٹ میں بھی گیا مگر وہاں بھی کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔
مجھے لگتا ہے اس نے فرار۔ کی راہ کو اپنایا ہے ۔۔۔۔
ویسے تجھے اتنی فکر کیوں ہورہی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
عنصر اپنے کینیڈا والے دوست سے بات کر رہا تھا جب وہاں سعید اور خمسہ جتوئی آئے ۔۔۔۔۔۔

ہائے ڈیڈ ۔۔۔۔مام آپ لوگ یہاں مجھے بلا لیتے
فون کاٹ کر جینز کی جیب میں رکھتا ان کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔۔۔
عنصر بیٹا آپ سے ضروری بات کرنے آئے ہیں ۔۔۔

جی مما بولیں ۔۔؟؟
انہیں صوفے پر بٹھاتا محبت سے بولا ۔۔۔۔۔
یہ محبت اس نے اتنے سال دیار غیر میں کتنا مِس کیا تھا

عنصر بیٹا شادی کرلو اب تو کشوہ کی بھی شادی ہوگئی ہمیں تو اس سے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا مگر پھر داد جی کے فیصلے کی مخالفت بھی نہیں کر سکتے تھے ہم ۔۔۔

زبردستی کی شادی مما وہ بھی ایک پاگل سائیکو انسان سے مجھے لگا ملک کے حالات بدل چکے ہیں مگر ابھی بھی وہ ہی سلوک ہوتا لڑکیوں کے ساتھ ان کی اجازت کے بغیر ان کو کسی کے ساتھ۔ بھی باندھ دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

اچھا خاصا بد گمان ہوا تھا عنصر اس واقعے کے بعد
عنصر!!!! خمسہ جتوئی نے بے بسی سے کہا ۔۔۔۔
جی مما کیا چاہتی ہیں آپ میں اس تمنا سے شادی کرلو ۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا کمی ہے میری بھتیجی میں ۔۔۔۔۔۔

عنصر کے بار بار اس طرح بولنے پر اب سعید جتوئی کو بھی غصہ آیا ۔۔۔۔۔
کوئی مسئلہ نہیں ہے ڈیڈ مگر وہ اس طرح کی نہیں ہے جس طرح کی لڑکی سے میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
تو کیا چائیے تمہیں ہاں کیا اب ایک شادی شدہ سے کردیں شادی ۔۔۔۔۔۔
جو مرضی کریں ڈیڈ وہ غصے سے کمرے سے ہی نکل گیا ۔۔۔۔۔۔


وہ سانس سانس میں گھلنے لگا ہے یوں میرے ۔۔۔۔۔۔
میں پور پور سے اس کو پکار سکتا ہوں ۔۔۔۔۔

گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے بھی اس کا دھیان داؤد کی ہی طرف تھا ۔۔۔۔۔۔ داؤد کے جملے کانوں میں گونج رہے تھے
آنکھیں دکھ کی کیفیت میں بند ہوئیں منظر دُھندلایا سا تھا ۔۔۔۔۔
برداشت نہیں ہورہا تھا دل کر رہا تھا سب کچھ چھوڑ کر اڑ کر داود کے پاس چلی جائے
اگر داؤد نے اپنے ساتھ ۔۔۔ دل دہل گیا ۔۔۔۔۔
اللّٰہ میرے داود کی حفاظت کرئیے گا۔۔۔۔۔۔
اللّٰہ میری مدد فرما ۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑی پرچی کو دیکھتے دماغ نے سرزنش کی تھی ۔۔۔

مگر دل نے تھپکی دی تھی اور کندھوں سے جیسے سارا بوجھ اتر گیا تھا

آئی ایم سوری داؤد آئی ایم سووو۔۔۔۔۔۔
چڑاکککککک۔۔۔۔۔۔کی آواز سے اس کی گاڑی سامنے سے آتی گاڑی کے ساتھ جا لگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔