Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

بیوی!!۔۔۔۔۔
مقابل کی گھمبیر آواز پر فون ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا
بیوی۔۔۔ عبیر نے پھر سے پکارا تھا
مگر وہ خاموش رہی
عبیر اسے بتانا چاہتا کہ اس نے گھر میں رخصتی کا کہہ دیا ہے مگر اس کی ذہنی کیفیت محسوس کیئے وہ فون ایسے ہی کان کے ساتھ لگائے اس کی خاموشی محسوس کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
کتنے ہی لمحے خاموشی میں کٹ جانے کے بعد یک دم ہلکی سی ہچکی وہ لبوں پر ہاتھ رکھ کر ہچکیاں روک رہی تھی جبکہ آنکھوں سے گرم سیال تکیے کو بھیگو رہا تھا

آہ ۔۔۔۔ شش بیوی نہیں تو میں اُدھر آجاؤ گا

اور اسے صرف میری دھمکی مت سمجھنا عبیر تراب جو کہتا ہے وہ کرکے بھی دیکھاتا ہے بے شک اپنے بھائی سے پوچھ لینا
اس کے رونے پر عبیر تکلیف محسوس کر رہا تھا اپنے دل کے اندر تک
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا یو ایک لمحے میں اس کا دل کسی کا اسیر ہوجائے گا

حسنہ اور شدت سے رونا شروع ہوئی تھی
کچھ ٹائم بعد عبیر کی آواز گونجی تھی

اتنے آنسو کہاں سے لاتی ہو بیوی ؟؟
عبیر کی بے چارگی سے بھرپور آواز پر حسنہ ایک دم خاموش ہوئی
جی؟؟

اچھا اب اپنے کمرے کے ٹیرس پر آو
حسنہ نے نا سمجھی سے فون کان سے ہٹا کر فون کو گھورا جیسے فون نہیں بلکہ خود عبیر ہو

فون کو بعد میں گھور لینا پہلے ٹیرس میں او یہ نہ ہو تمہارا کمرہ سمجھ کر اپنے سسر یا سالی کی کھڑکی بجا دو

حسنہ بے یقینی کے ساتھ اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر ٹیرس میں آئی تھی

سٹریٹ لائٹ کی روشنی میں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے اپنے چند گھنٹے پہلے شوہر کو دیکھا
جس کا ایک ہاتھ فون تھامے ہوئے تھا جبکہ دوسرے ہاتھ میں کوئی سامان تھا ۔۔۔

عبیر اس کی سعادت مندی پر دھیرے سے ہنسا

دوسرے پورشن کی کھڑکی میں کھڑی اس کی بیوی فون کان کے ساتھ لگائے اسے نظر آئی
چاند کی روشنی میں اس کا چہرہ نیم واضح سا ہورہا تھا مگر اس کی سرخ آنکھیں وہ محسوس کر سکتا تھا ۔۔۔۔

اب اگر تم روئی نہ بیوی تو پائپ پر چڑھ کر تمہارے کمرے میں آجاؤں گا آخر پولیس والا ہوں اتنی ٹریننگ تو ہوئی ہوئی ہے بلکہ پائپ چھوڑو ڈائریکٹ مین ڈور سے آؤں گا آخر گھر والے بھی تو اپنے ہینڈسم داماد کا دیدار کریں ۔۔۔

شوخی سے کہنے کے ساتھ اس نے دھمکی بھی دی

نہیں ۔۔۔حسنہ نے ایک دم ڈر کر اونچا بولا تھا
عبیر نے فون کان سے تھوڑا دور کیا

اچھا چلو آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے لگتا ہے میری بیوی ابھی مجھ سے ملنا نہیں چاہتی
اچھا چلو اسے کیچ کرو
عبیر نے ہاتھ میں پکڑا شاپر ہوتی طاقت کے ساتھ ٹیرس کی جانب پھینکا
حسنہ اس کے اچانک کہنے پر سامنے سے آتے شاپر کو کیچ کر گئی
میں چلتا ہوں اب رونا نہیں ہے اور پہلی کال پر کال اٹینڈ کرلینا بیوی بندہ بشر آواز سننے کا منتظر رہتا ہے ۔۔۔۔

گاڑی چلاتا وہ اس کی نظروں سے دور تر ہوگیا


تمنا کے گہرے پُر تکلیف جملوں نے اس کے وجود کے پرخچے اڈھیر دئیے تھے
اسے لگا کسی نے اس کی کراہت آمیز حقیقت اس کے منہ پر ماری تھی
تبھی دروازہ بجا اسے پورا یقین تھا کون ہوگا ۔۔۔۔
توقع کے عین مطابق عنصر ہی موجود تھا
کچھ جھجھکا کچھ شرمندہ سا۔۔۔۔

فاطمہ وہ تمنا ۔۔۔۔
ابھی عنصر کچھ کہتا فاطمہ ٹوکتے ہوئے بولی
کچھ غلط بھی تو نہیں کہہ رہی تھیں وہ ہوں تو میں طوا ۔۔۔
فاطمہ !!!!
اس نے کرب آمیز لہجے میں اسے ٹوکا تو وہ معاً خاموش ہوگئی
کل نکاح ہے ہمارا تیار رہیے گا
عنصر تاسف سے نفی میں سر ہلاتا باہر نکل گیا
ابھی نہ تو وہ اسے اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتا تھا اور نہ ہی اس کے وجود کو بغیر کسی رشتے کے معتبر کر سکتا تھا تو بہتری اسی میں جانتا وہ کمرے سے باہر نکل گیا
عنصر کے جانے کے بعد فاطمہ کو اپنا وجود پہلے سے اور بھاری ہوتا محسوس ہوا تھا
اسے احساس تھا کہ اس کے جملے مقابل کو اذیت کے کس دہرائے میں لا کھڑے کر رہے ہیں
مگر تمنا کے جملے اس کا دل پھر ڈگمگایا
کیا وہ صحیح کر رہی ہے؟؟ عنصر سے شادی کا فیصلہ !!!


کشوہ مان جائیں نہ پلیزززز
دادی سائیں گاؤں میں ہوئی فوتگی میں گئی تھی ساتھ ہی منزہ بیگم بھی علیم کاظمی بھی حویلی میں موجود نہیں تھے اور امن ثمن کالج سے ابھی تک واپس نہیں آئی گنہ تو حویلی میں کافی خاموشی تھی کشوہ باہر باغیچے میں لگی کرسیوں میں سے ایک کرسی میں بیٹھی ہوئی تھی

جب داؤد اس کے پاس آکر بے چارگی سے بولا تھا
داؤد پلیز اس کے ہاتھ جوڑنے پر کشوہ نے پہلو بدلا تھا
کشف یار آپ کی ناراضگی نہیں برداشت ہورہی مجھ سے میں کیا کروں
آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی کیا وہ اتنی جلدی تھک گیا تھا
کشوہ نے استہزایہ انداز میں اسے دیکھا

آپ نے اتنے نخرے اٹھوائے مجھ سے ٹھیک ہوتے ہوئے بھی سارے الٹے کام کروائے مجھ سے اور آپ اتنی جلدی تھک گئے
وہ دکھی ہوئی

نہیں با خدا آپ کے نخرے سر آنکھوں پر
آپ حکم کریں مگر یوں خفا مت ہوں مجھ سے دل ڈوبنے لگتا ہے آپ کو نہیں معلوم آپ کے معاملے میرا دل کتنا بے بس ہے
داؤد اس کا ہاتھ تھام چکا تھا
کشوہ نے ہاتھ چھڑوانا چاہا مگر داؤد کی گرفت مضبوط ہوئی

تو یہ دل تب کہاں تھا جب مجھ سے جھوٹ بولتے رہے آپ مشکل سے ہی مگر وہ ہاتھ چھڑوا گئی

میری۔۔۔ مجبوری تھی۔۔۔۔ وہ لب دبا کر گہری سانس لی پھر ٹھہر کر کہا
مجبوری کیسی مجبوری داؤد مانا آپ نے ناٹک کیا تاکہ آپ پھوپھو سے دور نہ ہو جائیں مگر پھر پھوپھو کے جانے کے بعد آپ کے وجود میں آئی پر اسرار تبدیلیاں اور پھر جب کبھی آپ کا میرے ساتھ ٹکراؤ ہوتا آپ کا گھورنا وہ سب
کتنا خوفزدہ کرتا تھا مجھے ۔۔

آج جیسے وہ ہر سوال کا جواب جان لینا چاہتی تھی

داؤد جواب دیں اس کے خاموش رہنے پر کشوہ کو اب غصہ آنے لگا ابھی وہ مڑتی داؤد نے بازوں سے تھام کر قریب کیا
کشوہ نے اس فوری اتفاد پر اپنے ہاتھوں کو اس کے اور اپنے درمیان کیا نہیں تو ٹکراؤ لازم تھا
مجھے مما نے کہا تھا اس دنیا میں مامو فرید کے بعد اگر کوئی تمہارے ساتھ مخلص ہے تو وہ کشوہ ہے
مما نے مجھے تب یہ بات بتائی جب میں محبت لفظ سے غیر آشنا تھا ۔۔۔
پھر آپ کا ہر وقت ہمارے ساتھ رہنا
میں بھی سمجھ بیٹھا کہ آپ واقعی ہم دونوں سے پیار کرتی ہیں مگر میں شاہد غلط تھا کیونکہ آپ بھی اس دن کے بعد سے غائب ہی ہوگئی

میں کیسے آتی میں ڈر ۔۔۔۔

شش!!! داؤد نے انگلی لب پر رکھ کر خاموش کروا دیا آواز خطرناک حد تک سرد ہوگئی تھی

پھر مما کے بعد تو داؤد پھر اکیلا ہوگیا آپ نے سوچا میں نے کتنا انتظار کیا کوئی تو آئے گا چلو کوئی نہیں آپ تو آؤ گی آپ تو محبت کرتی تھی اپنی پھوپھو سے

داؤد میں کس رشتے۔۔۔۔
اس نے پھر بولنا چاہا
اس بار داؤد نے انگلی اس کے لبوں پر رکھ دی
اسے چُپی لگ گئی

مگر نہیں کوئی بھی نہیں آیا اس دن مجھے بہت غصہ آیا دل کیا خود کو ختم کرلو
اور کوشش بھی کی خود کو نقصان پہنچایا
اور سب کو لگا مجھے پاگل پن کا دوڑا پڑا ہے
ہاہاہا وہ جیسے ہنسا تھا اپنی بے بسی یاد کئیے ۔۔۔۔ اور پھر مجھ پاگل کے لیے ایک کئیر ٹیکر رکھ کر احسان کردیا گھر والوں نے

دل اس قدر اُچاٹ ہوگیا کہ اکثر غلط دوائیوں کے پھکے مار لیتا سب پاگل سمجھ رہے تھے تو پھر میں نے خود ہر دھیان دینا چھوڑ دیا
میں ناراض تھا آپ سے شدید ناراض آپ پر نظر پڑتی دل کرتا جھنجھوڑ کر پوچھوں کیا نہیں یاد میں آپ کو ؟؟؟

اتنی جلدی بدل گئی تو کیوں عادت ڈالی
مجھے لگا سب گھر والوں کی طرح آپ سے بھی مجھے نفرت۔۔۔۔۔
وہ پل کو ٹھہرا

مگر میری نفرت کا بت اسی دن پاش ہوگیا جب خبر ملی آپ کی شادی کرنے لگے ہیں داد جی
دل جیسے رک گیا ۔۔۔۔
منظر دھندلا گیا ۔۔۔۔
حواس معطل ہوئے ۔۔۔۔۔

اور لگا اگر اس دن میں نے کوئی قدم نہ اٹھایا تو کھو دوں گا آپ کو میں نے چیزیں توڑی داد جی کے کمرے تک پہنچ گیا

داد جی کے گلے لگانے سے زیادہ ان کا آپ کے نام کے ساتھ میرا نام جوڑنا مجھے زیادہ سکون دے گیا
ماں کی خواہش ان کے گوش گزار کرکے میں واپس اپنے کمرے میں آگیا

پھر میں نے سوچا آپ سے پوچھوں گا آپ نے کیوں کیا میرے ساتھ ایسا مگر نکاح کے دوران بھی آپ کو نقاب میں دیکھ کر اس دل سے ساری بد گمانی ہوا ہوگئی

پھر رخصتی کے بعد میرا سب سے بڑا خوف آپ کی آنکھوں میں اپنے لیے ڈر دیکھنا اس دن میں بے موت کتنی دفعہ مرا تھا کشف وہ بھیگی آواز سمیت بولا

اس لیے مجھے آپ کو ریلیکس کرنے کے لیے وہ ناٹک کرنا پڑا تھا آپ کا میرے لیے سٹینڈ لینا میرا دھیان رکھنا پانی کا قطرہ آنکھ سے بہہ نکلا
کشوہ ٹرانس کی کیفیت میں مبتلا انگشت شہادت سے اس کے آنسوں کو اپنے پوروں میں جذب کر گئی

داؤد!!!…. کشوہ کی سانسیں بے ترتیب ہوئی
پلیز آئی ایم سوری
شش مجھے آئی ایم سوری کی ضرورت نہیں ہے مجھے میری کشف کی ضرورت ہے
بہت درد ہے یہاں اس کے دل کے مقام پر دھرے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بولا ۔۔۔۔

کشوہ نے اپنی پیشانی ٹکائی
سب بھول جاتے ہیں نہ آج سے نہیں زندگی شروع کرتے ہیں
داؤد کی آواز سرگوشی سے زیادہ نہیں تھی

کشوہ کا دل دھڑکا چہرے میں شرمگیں مسکراہٹ آئی

آئی لو یو داؤد کاظمی وہ روتی مسکراتی اس کے گلے لگ گئی
آئی ایم بلیسڈ وہ بازوؤں کو مضبوط کر گیا تھا آنکھوں سے تشکر کے آنسو نکلے تھے ۔۔۔۔۔


عنصر نے جانے کیا کہہ کر داد جی کو منایا تھا
جو کسی نے اس نکاح پر کسی قسم کا کوئی شور شرابہ نہیں کیا

خاندان کے چند اہم لوگ آئے تھے وہ حیران تھے مگر خاموش تھے

حسنہ سادے سے سوٹ کاٹن کے سوٹ میں ملبوس نیلے رنگ کے ڈوبٹے کو چہرے کے گرد اوڑھے فاطمہ کے پاس موجود تھی جس کا سوٹ بھی ہلکہ سا تھا مگر سر پر موجود سرخ رنگ کے ڈوبٹے ہر کافی کام ہوا ہوا تھا

فاطمہ کے کانپتے ہاتھوں پر حسنہ نے گرفت کی تو اسے کچھ تسلی ہوئی تھی تبھی کوئی سامنے سے آیا
اپنی چارمنگ پرسنیلٹی سمیت سفید شلوار قمیض پر نیلے رنگ کی واس کوٹ پہنے وہاں آیا نفاست سے سیٹ کئیے بال تراشہ بیرڈ اور ہاتھ موجود گھڑی کف حسبِ معمول اوپر کی جانب مڑے ہوئے تھے شاہد اسے کف ایسے رکھنے کی عادت تھی
حسنہ کی نظریں ادھر ہی تھی
جب عبیر کے ائیبر اچکانے پر وہ اِدھر اُدھر دیکھتی نظریں چرا گئی
عبیر دلکشی سے مسکرایا ۔۔۔۔

حسنہ بیٹا اندر سے مٹھائی لے کر آؤ خمسہ بیگم حسنہ کے قریب آکر بولی
فاطمہ اس کے ہاتھ چھڑوانے پر ہچکچائی تھی

میں آتی ہوں وہ اسے دلاسا دے کر اٹھی

حسنہ کے اندر جانے پر عنصر کے پاس کھڑے عبیر نے اس سے کچھ کہا عنصر نے اسبات میں سر ہلایا تو عبیر اندر چلا گیا

مٹھائی کا ڈبہ فریج سے نکال کر وہ جیسے مڑی پیچھے کھڑے عبیر سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی

آہ ۔۔۔۔

آہ بیوی لگی تو نہیں وہ فکر مند ہوا تھا
ن۔نہیں ۔۔۔نہیں آپ یہاں
اب رشتہ بن گیا ہے اس گھر سے تو آنا بھی تو تھا رشتے داری نبھانے
شریر لہجے میں کہتا اس کے حجاب سے نکلی چند لٹوں کو ابھی ٹھیک کرتا پیچھے سے آتی آواز پر وہ حسنہ سے دور ہوا جو آنکھیں زور سے موندیں اسے قہقہ لگانے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔

بہت پیاری لگ رہی ہو بیوی پری کی طرح “عبیر تراب کی پری”
آج ہی نہ رخصتی کروا لوں ہلکی سی سرگوشی جس کا اثر اس کے جانے کے بعد بھی وہ اپنے ارد گرد محسوس کر سکتی تھی


خیر خیریت سے نکاح ہوا
نکاح کی مبارکباد دینے کے لیے جیسے ہی داد جی کرسی سے اٹھے تھے سٹیج کے بالکل وسط میں ہاتھوں میں پھولوں کے ہار تھامے تمنا ان دونوں کے قریب چلی آئی ایم جو دلہا بنا اس کا شوہر اور دوسری اس کی سوتن
نکاح کی بہت بہت مبارکباد عنصر جتوئی سپاٹ چہرے سمیت اس نے عنصر کو دیکھا
اس جہنم میں تمہارا ویلکم مسز عنصر عنصر کے پہلو میں بیٹھی فاطمہ کے گلے میں ہار ڈال کر سفاک لہجے میں کہا
فاطمہ سہمی تھی
آج سے عنصر جتوئی تمہارا تمنا کو بٹی ہوئی چیزیں رکھنے کا کوئی شوق نہیں
فائزہ بیگم اپنی بیٹی کی حالت دیکھ کر اشکبار تھی
تمن۔۔۔عنصر نے اسے پکارنا چاہا مگر وہ مڑ گئی
تمنا اپنی سرخ آنکھوں سمیت مڑ گئی
وہ کمزور نہیں تھی
جب ایک دم شدید چکر کے باعث لڑکھڑائی اور اس کی آنکھیں بند ہوگئیں
عنصر داد جی کے گلے لگنے سے پہلے ہی تمنا کی جانب بھاگا تھا
اسے اٹھائے بھاگا تھا
کہیں تمنا ؟!!!..خمسہ بیگم چونک گئی ۔۔۔۔۔


تمنا عنصر نے اسے سہارا دیا
ڈاکٹر نے اسے گلوکوز کی ڈرپ لگائی تھی دن بھر بھوکا رہنے اور ٹینشن کی وجہ سے بے حوش ہوئی تھی وہ

تمہیں کیا لگا کہ میں مر گئی اپنے سفید ہاتھ کو عنصر کی گرفت میں محسوس کئیے تمنا نے طنزیہ کہا
تمنا
غلط فہمی تھی بلکہ خوش فہمی تھی عنصر تمہاری
تمنا کے لیے اتنے اہم نہیں ہو تم کہ تمہارے دکھ میں مر جاتی
عنصر شرمندہ ہوگیا تھا عجب دوہرائے پر کھڑا تھا فاطمہ کو وہ ہرگز نہیں چھوڑ سکتا تھا مگر تمنا کی حالت بھی اس سے برداشت نہیں ہورہی تھی
کوئی بہت بڑا گناہ تو نہیں کیا تھا اس نے تو یہ آزمائش اتنی لمبی کیوں ہوتی جا رہی تھی

ایمرجنسی وارڈ کے باہر کھڑی خمسہ بیگم اپنے اندیشے کو حقیقت نہ ہوتے دیکھ پرسکون ہوئی تھی


حسنہ فاطمہ کو عنصر کے کمرے میں کے آئی تھی
جس کا رنگ پھیکا پڑا ہوا تھا
میں تمہارے لیے کھانا لے کر آتی ہوں اپنا رنگ دیکھو
حسنہ وہ ٹھیک ہوگی نہ
جاتی ہوئی حسنہ کا ہاتھ تھام کر شرمندگی سے بولی
وہ ٹھیک ہوگی فاطمہ آپ فکر مت کریں
میں نے کچھ غلط
میں بھائی کو جانتی ہوں فاطمہ وہ کوئی بھی فیصلہ جلد بازی میں نہیں کرتے انھوں نے ضرور یہ فیصلہ بھی کچھ سوچ کر کیا ہوگا ۔۔۔۔
آپ فکر مت کریں اس کو گلے لگا کر دلاسا دے کر حسنہ اس کے لیے کچھ کھانے کے لیے لانے کی غرض سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔


فاطمہ کو تو دلاسا دے آئی تھی مگر اب اسے خود فکر ہونے لگی تھی
جو بھی تھا تمنا اس کی کزن تھی اس کی پچپن کی ساتھی بھی رہی تھی
عنصر کو کال کی مگر اس کا فون بند تھا
کچھ سوچ کر اس نے اپنے فون میں موجود عبیر کے نام سے ایوو نمبر پر کلک کیا
دوسری بیل پر فون اٹھا لیا گیا
مگر دوسری جانب خاموشی کے سواہ کچھ نہیں تھا تو اس نے پہل کی
اسلام علیکم
وعلیکم السلام بیوی !!!
اس کی گھمبیر آواز ۔۔۔۔
دل دھڑکا نے والا
بھائی ۔۔۔بھائی فون نہیں اٹھا رہے سب ٹھیک ہے ؟؟!!
ہم۔۔۔ سب ٹھیک ہے فکر کی کوئی بات نہیں تم بھابھی کا دھیان رکھو وہ پریشان ہورہی ہوں گی
وہ بول کر فون کاٹ چکا تھا شاید کوئی اس کے پاس آیا تھا اس نے ہلکی سی آواز سنی تھی
اس لیے فون ڈریسنگ پر رکھ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی ۔۔

جاری ہے ۔۔۔