No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
کشوہ !!!
عنصر کی آواز پر کشوہ نے فوراً سے پہلے اپنا چہرہ نا صرف ڈھکا تھا وہ مکمل داؤد کے اوڑھ ہوگئی تھی ۔۔۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ازلی سخت لہجہ جو ہر غیر مرد کے لیے تھا ۔۔۔۔
داد جی ۔۔۔داد جی ہاسپٹل میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ؟!!!!!
داد جی ۔۔۔۔داد جی ۔۔میں نے ہاسپٹل داؤد داد جی وہ روتی ہڑبڑی میں کمرے کی جانب اپنی چادر لینے دوڑی تھی
داؤد بھی فوراً اس کے پیچھے بھاگا ۔۔۔
“داؤد میں ہاسپٹل جا رہی ہوں آپ ۔۔۔ آپ گھر پر رکیں ناشتہ کرلیجئے گا میں جلدی آجاؤں گی” ۔۔۔
کانپتی انگلیوں سے اپنا نقاب باندھتی وہ اسے تاکید کرتی باہر کی جانب دوری ۔۔۔۔
گھر میں اب صرف داؤد ہی رہ گیا تھا ۔۔۔۔
خاموش گھر وحشت ٹپکاتا !!!
سوس پین میں موجود پانی ابل ابل کر سوکھ گیا تھا مگر اب وہاں کوںلن تھا ۔۔۔۔ داؤد بھی کمرے میں بند ہوگیا ۔۔۔دل میں ایک عجیب سا خوف کنڈلی مار کر بیٹھ گیا ۔۔۔
ہی اس آوٹ اوف ڈینجر !!!
He is out of danger !!!
ویٹنٹ ایریا کی راہ داری میں چلی آتی کشوہ کے قدم لیڈی ڈاکٹر کے جملے پر تھمے ہاتھوں کی مٹھیاں بند کرکے کھولیں دکھتی آنکھوں کو موندا دل کے یک گونہ سکون محسوس ہوا تھا داد جی ٹھیک تھے اب ۔۔۔۔۔
انہیں روم میں شفٹ کردیا گیا تھا
اس وقت داد جی کے پاس صرف تمنا اور عنصر ہی موجود تھے جنہیں داد جی نے خود بلایا تھا اپنے پاس
باقی سب باہر اپنی باری آنے کا انتظار کر رہے تھے
خمسہ جتوئی بھی بھیگی آنکھوں سے اپنی دیورانی سے نظریں چراتی وہاں پر موجود تھی
سعید جتوئی کا چہرہ بھی حد سے زیادہ سپاٹ تھا ۔۔۔۔۔۔
چل اٹھ تجھے چھٹی ہوگئی ہے چنبیلی نے قدرے جھنجھوڑتے ہوئے حسنہ کو بازو سے تھام کر بیٹھانے والے انداز میں اٹھایا ۔۔۔۔
حسنہ اس ایکفاد پر درد سے کراہ کر رہ گئی ۔۔۔۔
دل کیا چنبیلی کو دھکا دے کر بھاگ جائے مگر اس
چھوٹے سے کلینک سے وہ کیسے اور کہاں بھاگتی ۔۔۔۔
کیا اس گھر سے کسی نے بھی کوشش نہیں کی اسے ڈھونڈنے کی گزشتہ تین دنوں میں پہلی بار اسے گھر والوں کا خیال آیا ۔۔۔
دل میں بھی ننھی سی امید جاگی ۔۔۔۔۔
جو چنبیلی کے وحشیانہ انداز میں اس بالوں کو تھامنے پر ہوا ہوئی ۔۔۔
اللّٰہ!!!…
مجھے ایک بات بتائیں مس زینب آپ کو بھولنے کی بیماری ہے یاں آپ جان بوجھ کر میری ہی کلاس میں اپنے نوٹس یا جرنلز بھول کر جاتی ہیں اور نہ صرف بھول کر جاتی ہیں اوپر بڑا بڑا اپنا نمبر بھی لکھا ہوتا
سیدھے طریقے سے بتائیں چکر کیا ہے ؟؟؟ عمر نے جھنجھلاہٹ سے بھرپور لہجے میں کہتے آخر میں طنز کیا
زینب زبان دانتوں تلے دبا گئی ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ اسی جرنل کو ڈھونڈ رہی تھی اور نہ صرف ڈھونڈ رہی تھی بلکہ رونے والی ہوگئی تھی اس میں اس کا آئی ڈی کارڈ تھا اور ساتھ ایمپورٹنٹ نوٹس بھی ۔۔۔۔
تو سر اچھا ہی ہے نہ میں نے نمبر لکھا ہے تاکہ اگر کسی کو میری کوئی گمی ہوئی چیز ملے وہ مجھ سے رابطہ
کرلے ۔۔۔
سادگی سے کندھے اُچکا کر کہتی وہ پہلی بار عمر کو معصوم لگی تھی ۔۔۔۔
“اور اگر کسی کی کوئی چیز آپ کے پاس ہو تو وہ کیا کرے گا “؟؟
“پہلے تو مجھے کسی کا کبھی کچھ نہیں ملا ۔۔۔اور دوسرا یہ کہ اسے چائیے وہ بھی اپنی چیزوں پر اپنا نمبر نہیں تو کم از کم اپنا نام ہی لکھ لے “
نہایت سنجیدگی سے زینب میڈیم نے مشورہ دیا ۔۔۔۔
اب دل پر کون نمبر لکھے ۔۔۔۔وہ بڑبڑایا ۔۔۔!!!
“پہلی بات مس زینب میرا جو گما ہے وہ ایبسٹریکٹ ناؤن میں آتا ہے تو میں اس پر کچھ لکھ نہیں سکتا تھا اور دوسری بات مجھے پورا یقین ہے میری وہ چیز آپ ہی کے پاس ہے ۔۔۔۔یہ الگ بات ہے آپ مجھے لوٹانا نہیں چاہتی ۔۔۔”!!
کک کیا مطلب۔۔۔سر ۔۔۔ گوڈ پرامس میرے پاس آپ کا کوئئ سامان نہیں ہے۔۔۔ اور نہ ہی میں کوئی چور ہو وہ بچاری روہانسی ہی ہوگئی تھی
عمر لب دانتوں تلے دبا گیا دل تو کیا اسے تھوڑا اور تنگ کرے مگر اس کی آنکھوں میں جمع ہونا شروع ہوتا پانی دیکھ کر عمر نے خود کو شرارت کرنے سے روکا ۔۔۔۔۔
سر سچی آپ مجھے ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں میں نے کچھ نہیں کیییی ۔۔۔۔۔
“مس زینب کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی” ؟؟۔۔۔۔
غیر متوقع سوال زینب کی چلتی زبان کو بریک لگا تھا
ک۔کیا ااا؟؟؟
“مس زینب بنت عزیز کیا مجھ سے شادی کریں گی” ؟؟!!!….
مگر وہ خاموش تھی ۔۔۔۔
بالکل خاموش
وہ خاموشی جو مقابل کا دل دہلا دے
جب وہ کچھ نہ بولی تو عمر خود ہی بول اٹھا ۔۔۔
اتنا تو آپ جان گئی ہو گی میں ایسا ویسا لڑکا نہیں ہوں آپ سے پوچھنے کی وجہ بھی محض آپ سے آپ کی رائے لینا ہے تاکہ میں اپنے گھر والوں کو آپ کے گھر بھیج سکوں ۔۔۔
منگنی کی رسم پر مجھے یقین نہیں اور نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کی بات چیت کے حق میں ، میں نہیں ہوں ۔۔۔۔
میں ۔۔۔مجھے نہیں معلوم وہ سرخ چہرے سمیت وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔۔۔
“مشرقی لڑکیوں کی خاموشی ان کی ہاں ہوتی ہے “.!!!
عمر خفیف سا مسکرا کر اپنے آپ میں بڑبڑایا ۔۔۔۔
مگر یہ مشرقی لڑکی بہت مختلف ہے ہاہاہا۔۔۔۔۔۔
داد جی مگر اس طرح یہ فیصلہ ؟؟؟ نوید جتوئی داد جی کے فیصلے سے خائف ہوئے ۔۔۔۔
کیا نوید اگر داد جی ابھی چاہتے ہیں عنصر اور تمنا کی شادی تو ہم کیوں نہیں مان لیتے ان کا فیصلہ ؟؟ سعید جتوئی
مگر بھائی ہم لڑکی والے ہیں ہمیں بہت سی تیاریاں کرنی ہیں ۔۔۔۔
سعید جتوئی اپنے چھوٹے بھائی کی بدلی ہوئی ٹون اچھے سے محسوس کر سکتے تھے مگر داد جی کی حالت انہیں کچھ بھی بولنے سے روک رہا تھا ۔۔۔
” تم اس کی فکر مت کرو نوید تمنا میری بھی بیٹی ہے اور رہی بات تیاریوں کی تو تیاریاں کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے اور میں اتنا بے غیرت نہیں ہوں جو تم سے جہیز کی بات کروں گا ۔۔”
نوید!!!!
ٹھیک ہے داد جی اگر بچے بھی راضی ہیں تو مجھے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔
تھکے وجود سمیت کشوہ اپنے پورشن میں آئی مگر کیچن سے نظر آتے دھوئیں کو دیکھ کر تھمے ۔۔۔۔
داؤد !!!
داؤد کا خیال آتے ہی پورے جسم میں چیونٹیاں رینگ گئیں ۔۔۔۔
اس سے آگے جانے کی ہمت ہی نہیں ہورہی تھی ۔۔
د۔۔داؤ۔داؤد ٹوٹے پھوٹے جملے پھسی پھسی آواز ۔۔۔
داؤد وہ سیدھا کیچن کی جانب دوری ۔۔۔وہاں سوس پین جل کر سیاہ ہوگیا تھا دیواریں بھی دھوئیں کے باعث سیاہی مائل ہوئی ۔۔۔
کشوہ نے فٹافٹ چولہا بند کیا ۔۔
سوس پین کو ہڑبڑی میں تھامنے کی وجہ سے کشوہ کا ہاتھ بری طرح جلا تھا
داؤد ۔۔۔۔!!!
کشوہ کی آواز سن کر داود فوراً کمرے سے باہر نکلا
کشف !!!
“کیا ہوا آپ کو” ؟؟…..
کچھ نہیں میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔
“داد۔۔۔داد جی ٹھیک ہیں”؟؟
اللّٰہ کا شکر ہے ٹھیک ہیں آپ بتاؤ آپ نے ناشتہ نہیں کیا نہ ۔۔۔؟
کشوہ نے خفا لہجے میں پوچھا ۔۔
کیسے ممکن تھا کہ آپ بغیر ناشتے کے نکل جاتی اور پیچھے سے داؤد ناشتہ کرلیتا ۔۔۔
افوو۔۔۔ اور جب میں نہیں ہوں گی تو کیا سارا دن بھوکا ۔۔۔۔
سس۔۔۔اپنے جلے ہاتھ پر اس کی بھرتی گرفت محسوس کئیے وہ سسک اٹھی ۔۔۔۔
آئندہ دور جانے کی بات مت کیجئے گا کشف نہیں تو میں اپنا ہاتھ اس سے بھی برا جلاؤں گا ۔۔۔۔
کیا وحشت تھی لہجے میں کشوہ لرز گئی
کیسی باتیں کر رہے ہیں داؤد ۔۔۔۔آپ عجیب ہوتے جارہے ہیں ۔۔۔۔
میں عجیب ہوں بہت عجیب مگر صرف آپ کا ۔۔۔۔۔
کشوہ متحیر سی اسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔
آج سے پہلے داؤد کا یہ روپ اس نے نہیں دیکھا تھا جو آج دیکھنے کو ملا تھا ۔۔۔۔
داؤد کیا ہوگیا آپ کو ۔۔۔۔ہاتھ کسمسا کر اس کی گرفت سے آزاد کرواتے وہ چہرے کے تاثرات بگاڑے بولی ۔۔۔
ہاں ۔۔۔میں شاہد زیادہ!!!!… مگر ۔۔۔۔پتا نہیں کیا ہوجاتا مجھے آپ سے دور جانے کا سن کر ۔۔۔۔
ایک بار پھر نرم گرفت میں اس کا ہاتھ تھامے ملائم لہجے میں بولتا پچھلے رویے کا اثر زائل کرگیا ۔۔۔۔
میں کہیں نہیں جارہی داؤد ۔۔۔
ہمم ۔۔۔ہاں دوائی دوائی لگاؤ درد ہوگا ۔۔۔پھونک مار کر جیسے اس کے درد میں کمی کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں ٹھیک ہے آپ بس اس پر پھونک مار دیں
شانے پر سر ٹکائے آنکھیں موند گئی ۔۔۔
داد جی آپ ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔۔بس مجھے کچھ نہیں چائیے آپ جو کہیں گے میں کروں گی آپ کا جو بھی فیصلہ ہے مجھے منظور ہے
تمنا ان کے نخیف ہاتھوں کو عقیدت سے اپنے ہاتھوں میں تھامے سسکتی ہوئی داد جی سے بول رہی تھی ۔۔۔۔
بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب سے ۔۔۔۔۔۔۔مشکل ۔۔۔۔۔۔کام اپنی ۔۔۔۔۔۔بچی کو ۔۔۔۔روتے دیکھنا ہے ۔۔۔
اپنے۔۔۔ داد جی۔۔۔۔ پر ترس کھاؤ ۔۔۔۔۔
میں ۔۔میں نہیں تو رہی داد جی آپ بس ٹھیک ہو جائیں جلدی سے ۔۔۔۔
ہمم میرا بچہ سدا خوش رہو ۔۔۔۔۔
کچھ دنوں بعد !!!….
کشف ہم جم نہیں گئے ابھی تک کاغذ پر کچی پینسل سے لکیریں بناتے ہوئے داؤد نے مصروف سے انداز میں کہا ۔۔۔۔
بیڈ پر بیٹھی گہری سوچ میں کھوئی کشوہ یک دم چونکی۔۔۔۔۔
اس نے سپاٹ آنکھوں سے داؤد کی جانب دیکھا کیا واقعی وہ گھر کے حالات سے اتنا بے خبر تھا یاں پھر خبر رکھنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
حسنہ کا غائب ہونا اور پھر داد جی کی طبیعت بگڑنا اور تمنا اور عنصر کی شادی کی تیاریاں ہونا ۔۔۔۔
وہ لوگ گھر کا حصہ ہونے کے باوجود گھر کے معاملات سے بہت دور ہوگئے تھے ۔۔۔۔۔
کشف !!! داؤد نے اس کے آگے چٹکی بجائی ۔۔۔
کہاں کھو گئ ۔۔۔؟؟
میں ۔۔نہیں کچھ نہیں جم چلیں گے آج ہی آپ بتائیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا نہ باہر جا کر ۔۔؟؟
سادہ سا لہجہ فکر کی آمیزش لئیے ۔۔۔۔
آپ ہوں گی نہ میرے ساتھ ۔۔۔۔
وہ تو جیسے لاجواب کرنے کے در پر ہوا ۔۔۔۔
آج کشوہ نے اسے نہ “اگر میں نہ ہوئی ” کہنے کی کوشش نہیں کی آج داؤد بہت خوش لگ رہا تھا
ہمم ضرور دونوں ہوں گے ہم وہاں پر ۔۔۔۔
اچھا یہ کیا کر رہے ہیں کب سے کچھ لکھ رہیں ہیں مجھے بھی دیکھائیں ۔۔۔
کشوہ بیڈ سے اتر کر جوتی پہنتی اس کے قریب آئی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔ابھی نامکمل ہے ابھی نہیں داؤد نے کاغز چھپا لیا ۔۔۔۔۔۔
داؤد دیکھائیں نہ آپ کو پتا ہے نہ مجھ سے تجسس برداشت نہیں ہوتا وہ جھنجھلائی ۔۔۔
اچھا پہلے آنکھیں بند کریں ۔۔۔داود !!!
پلیز !! پھر سے داؤد نے معصوم چہرہ بنایا ۔۔۔۔
اچھا مگر صرف تین تک۔۔۔۔
ایک۔۔!!! اپنی نازک انگلیاں اپنی بھوری آنکھوں پر سجا کر وہ مسکرائی ۔۔۔۔
دو ۔۔۔۔!!!!
تین ۔۔۔۔!!!! داؤد میں ہٹا رہی ہوں ۔۔۔
کشوہ نے جیسے ہی انگلیاں آنکھوں سے ہٹائی اس کا منہ مارے حیرت کے کھل گیا ۔۔۔۔
او مائی اللّٰہ !
یہ آپ نے بنائی داؤد ۔۔؟؟
لہجے میں بے یقینی تھی ۔۔۔۔
آپ کو شک ہے ؟؟ خفا خفا سا لہجہ ۔۔۔۔
وہ ہوبہو کشوہ ہی تو تھی تصویر میں کچی پینسل سے کھینچا گیا سکیچ اس کا چہرہ بھی واضح تھا حجاب کے حالے میں اس کا خوبصورت چہرہ
بے شک داؤد نے بہت خوبصورت مصوری کی تھی
داؤد میں ۔۔۔مجھے ۔۔۔لاجواب ہوں اس وقت اس قدر خوبصورت ۔۔۔
آپ کا اچھا لگا ؟۔۔داود کا چہرہ چمک اٹھا جیسے محنت کا صلہ ملا ہو ۔۔۔۔
بہت ۔۔۔بلکہ بہت سے بھی بہت اچھا ۔۔۔۔
اس کو میں کمرے میں لگاؤں گی آپ کو پتا ہے مجھے بھی پینٹنگ کا بہت شوق تھا مگر مجھے آتی ہی نہیں
آپ میرے لیے ایک چھوٹا سا کام کریں گے سکیچ کو دراز میں رکھتے ہوئے جانے اس کے زہن میں کیا آیا جو وہ ایک دم مر کر داود کی جانب ہو لی ۔۔۔۔
آپ بتائیں کشف اگر میرے بس میں ہوا تو کچھ بھی کروں گا ۔۔۔۔
اپنی کشف کے لیے وہ کچھ بھی کرلے ۔۔۔
آپ مجھے کیلیگرافی کرکے دیں گے
اللّٰہ اور محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی ؟؟؟
کچھ زیادہ تو نہیں مانگا تھا اس نے مگر داؤد کا رنگ سفید پڑا ۔تھا۔۔۔
کیا ہوا داؤد ۔؟؟۔۔۔
میں آتا ۔۔آتا ہوں ۔۔وہ کاغذ وہیں پر چھوڑے وہاں سے اٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔۔
جبکہ پیچھے کشوہ ۔۔۔کسی گہری سوچ میں غرق اس تصویر کو دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔
چنبیلی اوئے چنبیلی چل جا جا کر اس نئے آئٹم کو تیار کر
تارا بائی نے پان دان سے پان نکال کر منہ میں ڈالتے ہوئے باس کھڑی چنبیلی کو کہا ۔۔۔۔
مگر بائی ابھی اس کے دو ہفتے پورے نہیں ہوئے
تو کیا تو جائے گی اس کی جگہ بائی نے خرانٹ لہجے میں
کہا۔۔۔
نہیں۔ ۔۔میں میں کرتی ہوں اسے تیار ۔۔۔
چنبیلی وہاں سے غائب ہوئی ۔۔۔۔۔
کھلی آنکھیں ایک جگہ مرکوز کئیے حسنہ کچھ سوچ رہی تھی جب چنبیلی اپنی پراندے سے لیس چٹیا ہلاتی وہاں آئی ۔۔۔
چل حسن کلی آج تیری باری ہے تیرے بھی بھاگ کھل گئے ۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔عجیب انداز میں قہقہ لگاتے وہ اس کے کمرے کی الماری سے بھاری کام والا سوٹ نکال کر اس کے پیروں پر پھینک کر وہاں سے غائب ہوئی ۔۔۔۔
حیرت کی بات تھی حسنہ نے بھی بغیر کسی مزاحمت کے سوٹ تھام کر پہن لیا ۔۔۔۔
کیا کشوہ کو بتاؤ سر عمر کا ۔۔؟!!
اپنی سیاہ سلکی بالوں میں ہیئر برش پھیرتی وہ خود سے سوال گو تھی ۔۔۔۔
مجھے کیا کرنا چائیے ۔۔۔
ہاں یا نہ کیا ہاں کردوں ۔۔۔۔۔نہ کرنے کا کیا جواز دوں
زینی بیٹھا کھانا کھالو ۔۔۔۔
مما کی نیچے سے آتی آواز پر وہ سوچوں سے باہر نکلی ۔۔۔
بعد میں سوچو گی کیا کرنا ۔۔۔۔
برش بیڈ پر پھینک کر بالوں کو جوڑے میں قید کیا سر پر ڈوبٹہ جمائے وہ اپنے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
چڑکھنی کے بند ہونے کی آواز پر گھونگھٹ آڑھے بیٹی حسنہ نے اپنی مٹھیاں بند کرکے کھولیں ۔۔۔۔
مقابل شخص لڑکھڑاتا ہوا اس کے قریب تر آتا اپنے نشے میں ہونے کا ثبوت دے رہا تھا ۔۔۔
جب وہ قریب تر اس کے پاس بیڈ پر دھڑک کر کے گڑا
اے حسین دوشیزہ !!!
پورے کمرے میں شراب کی گندی غلیز بو پھیل گئی
حسنہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا تھا
جب اس نشائی نے گھونگھٹ اٹھایا
آپ !!!!
حسنہ اور مقابل وہ شخص دونوں ہی چونک گئے ۔۔۔
کشوہ عیشاء کی نماز ادا کر رہی تھی جب داؤد کمرے میں آیا ۔۔۔اسے خشوع و خضوع سے نماز ادا کرتے دیکھ وہ ہمیشہ کی طرح تھم گیا
دل میں پھر سے ملال جاگا ۔۔۔مگر وہ خود میں ہمت ہی نہیں پیدا کر پا رہا تھا اتنے سالوں بعد اللّٰہ کے آگے کس منہ سے سر جھکائے ۔۔۔۔۔
اس کی نیلی آنکھوں سے پانی کا قطرہ پھسلا
دل ایک دم سے اچاٹ ہوگیا اس کا دل کیا یہاں سے دور چلا جائے ۔۔۔۔
وہ سر تھامے سیڑھیوں کے قریب گیا
ایک سیڑھی دوستی اور پھر تیسری وہ نیچے اتارتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہیلو مائی یوٹیوب فیملی کیسے ہیں سب ۔۔؟؟؟
جی تو میرے اتنے لیٹ ہونی کی وجہ میرے داد جی کی طبیعت خرابی تھی آپ لوگوں کو پتا ہے جب داد جی کو کچھ ہو تو تمنا کچھ نہیں کرسکتی
اس لیے آپ سب لوگ میرے داد جی کے لیے دعا کریں اور دوسری بات جو میں نے آپ لوگوں سے سرپرائز کی بات کی تھی تو وہ آپ کی پیاری تمنا کی شادی کی نیوز تھی جو
ان شاءاللہ بہت قریب ہے ۔۔۔۔
تمنا یوٹیوب کی لائیو ویڈیو بنا رہی تھی
تبھی داؤد اس کے پیچھے سے گزرا تھا تمنا سمیت اس کی لائیو ویڈیو دیکھتی لڑکیاں بھی حیران ہوگئی
کیا یہ ہینڈسم آپ کا ہونے والا ہسبینڈ ہے ؟؟؟!!
ایک ساتھ کتنے ہی میسج اس کے ان باکس میں آئے ۔۔۔
تمنا لائیو ویڈیو بند کر چکی تھی
اس کے قدم لان کی جانب تھے جہاں سفید اور سرخ رنگ کے پھولوں پر نظریں جمائے بیٹھے داؤد کو دیکھ کر اس کا دل شدت سے دھڑکا ۔۔۔۔
کہاں وہ چند مہینے پہلے کا دبلا پتلا سانولا سا داؤد جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھی
اور اب کا داؤد ایک جانب نفاست سے سیٹ کئیے بال
متناسب جسم اور چہرے کی صاف رنگت جو یقیناً دوائی اور خوراک کی بہتری کے سبب تھی ۔۔
نیلی آنکھیں واضح نظر آرہی تھی ۔۔۔
جب داود لان میں پری کرسی سے اٹھا ۔۔۔
تمنا قبل کر چند قدم پیچھے ہوئی
داؤد نے ایک سرخ اور ایک سفید پھول توڑا کشوہ کا خیال آتے ہی وہ مسکرایا
پھولوں کو ہاتھ میں تھامے وہ واپس مر گیا۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم پیالے ریڈرز کیسے ہیں سب
کیسی لگی قسط ۔۔۔؟؟ تاخیر کی وجہ میں نے بتا دی تھی آپ لوگوں کو تو بتائیں کون ہوگا وہ نشائی
کیا حسنہ رہا ہونے والی یاں ایک اور آزمائش میں پھسنے والی ۔۔۔
داؤد کی دین سے دوری کیا کشوہ اسے بدل پائے گی
تمنا اور عنصر کے نکاح کی ڈیٹ قریب آرہی ہے انتظار کس بات کا ہے ویسے اس تصویر کا راز بھی کھولنے لگا اور بیت بھاری پرے گا تمنا پر وہ راز 🤫🤫🤔
ہاہاہا ویسے زینب میڈیم کیا کرنے والی ہاں یاں نہ ۔۔؟؟
