Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

پوری رات انڈر ابزرویشن میں پڑے رکھنے کی وجہ سے چنبیلی کو حسنہ کی دیکھ بال کے لیے روکا گیا
جو ناک منہ چڑھائے اس کے پاس موجود تھی ۔۔۔۔
تارا بائی کو اس پر جتنا غصہ تھا اس نے سوچ لیا تھا جتنے پیسے اس پر لگے ہیں اس سے دوگنا وہ حسنہ سے وصول کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے ڈاکٹر کچھ بتاؤ تو ۔۔۔۔
وی آر سوری!!!!!۔۔۔

کیا رے مر گئی کیا چنبیلی نے ہونٹوں پر ہتھیلی جما کر کہا ۔۔۔
نگوڑی تیرے منہ میں خاک ابھی تو چاندی چمکنی شروع ہوئی تھی
تارا بائی نے اپنا بھاری بھرکم ہاتھ اس کی کمر پر رسید کیا
تو وہ بلبلا اٹھی ۔۔۔۔
ارے ڈاکٹر منہ کیا دیکھ رہی بتا بی ۔۔؟؟
جی بائی وہ اب خطرے سے باہر ہے مگر چوہے مار گولیوں نے اندرونی حصوں پر خاصا گہرا اثر چھوڑا ہے تو کم از کم دو ہفتوں کے لیے دیکھ بھال کرنی پرے گی ۔۔۔۔
ڈاکٹر نے گلے سے ستیتھوسکوپ (دھڑکن سننے والا آلہ) اتار کر کہا ۔۔۔۔

ہائے ۔۔ہائے میں نے سوچا تھا سونے کی مرغی ہاتھ آئی ہے مگر یہ منہوس جب سے آئی ہے خرچہ کروا رہی ہے
کوئی نہیں دو ہفتے ہی ہے نہ پھر دیکھ تارا بائی کرتی کیا ہے تیرے ساتھ ۔۔۔۔۔


کلینک سے نکل کر اس کی گاڑی کا رخ یونیورسٹی کی جانب تھا پہلے زینب سے ملنا تھا پھر ڈاکٹر رخسانہ سے داؤد کے سلسلے میں ۔۔۔۔

گاڑی چلاتے ہوئے اس کا دھیان حسنہ کی جانب بھی تھا ۔۔۔
اللّٰہ کرے جو میں سوچ رہی ہوں ویسا کچھ نہ ہو حسنہ اپنی کسی دوست کے یہاں ہی ٹھہری ہو ۔۔۔۔
گاڑی پاکر کرتے وہ تیز تیز قدم لیتی یونیورسٹی کے اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔
ہاتھ میں تھامی پرچی پر دھیان دیتی وہ سامنے موجود پتھر کو نہ دیکھ سکی جس کے سبب پاؤں پر ٹھوکر لگی وہ لڑکھڑائی ۔۔۔

حسبی اللّٰہ!!!
دھیان سے بیٹی ۔۔۔۔
یہ آواز ؟!!!
سر عمر نے اسے پہچان لیا تھا وہ بھی اسے لڑکھڑاتا دیکھ اسی طرف چلتے آرہے تھے
غفور انکل !!!
کشوہ نے انہیں پہچان لیا ۔۔۔
کشوہ بی بی وہ چہرے پر ہاتھ پھیر کر یہاں وہاں دیکھتے بھاگنے لگے
جب کشوہ بھی ان کے پیچھے بھاگی
رک جائیں۔۔آپ ایسے نہیں جا سکتے ہیں رکیں ۔۔۔
سر عمر نے پہلے تشویش سے صورت حال کو دیکھا پھر معاملے کے بابت بعد میں جاننے کا سوچ کر بھاگتے ہوئے غفور کو پکڑ لیا ۔۔۔۔
سر انہیں جانے مت دیجئیے گا ۔۔۔
کشوہ نے دور سے اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
کیا ہوا ہے کشوہ ؟؟؟
سر عمر نے اسے اپنی پھولی سانسیں درست کرتے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

سر مجھے ان سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔
آپ کہاں تھے غفور انکل ؟؟
کشوہ نے قدرے سخت لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔
کشوہ بی بی میں نے کچھ نہیں کیا وہ ہاتھ جوڑ کر گر گرانے
لگا ۔۔۔
سر آپ انہیں لے کر کسی خالی کلاس میں چلیں گے ۔۔۔ ؟؟؟
اس نے براہ راست عمر کی جانب دیکھ کر سوال کیا جس نے اسبات میں سر ہلاتے غفور کو بازو سے تھام کر چلنا شروع کردیا ۔۔۔۔


دکھتے جسم کے ساتھ اس نے اپنی مندی مندی آنکھیں کھولیں تھیں کمرے کی تیز روشنی کے باعث کچھ لمحے وہ دیکھنے سے قاصر ہو گئی۔۔۔
آنکھیں جب دیکھنے کے قابل ہوئیں تو ۔۔۔۔دل سے دعا نکلی کاش یہ آنکھیں اب کبھی نہ دیکھ سکیں ۔۔
یہ دل رک جائے ۔۔۔
یہ سانسیں تھم جائیں ۔۔۔
مگر ضروری نہیں ہر دعا فوراً قبول ہو ۔۔۔

دوائی کا اثر کچھ کم ہوا تو پورا جسم پکے پھوڑے کی طرح دکھنے لگا تھا ۔۔۔
دائیں ہاتھ میں لگی ڈرپ بھی تکلیف پہنچا رہی تھی دل سے کچھ نیچے میدے میں شدید آگ سی لگی تھی ۔۔۔۔۔
ملائم گال ری ایکشن کے باعث سوجھے ہوئے تھے ۔۔۔۔
آنسوں پھر سے آنکھوں سے رواں ہوئے ۔۔۔۔
حسنہ نے آنکھیں موند لیں شاہد موت کو بھی وہ قبول نہیں ۔۔۔۔
کیا اس نے دنیاوی جہنم کو قبول کرلیا تھا..؟؟؟
کھڑکی کے دوسری جانب ہوا کی دوش میں اڑتے پرندے بھی پھڑپھڑا اٹھے۔۔۔۔


داؤد کو غلط دوائی کس کے کہنے پر دی ۔۔۔؟؟
ٹیبل کے دوسری جانب ہاتھ جوڑے بیٹھے غفور کو دیکھ کر سرد لہجے میں پوچھا تھا کشوہ نے ۔۔۔۔
میں۔ ۔ میں نے نہیں دی کوئی دوائی ۔۔۔
پسینے سے تر چہرے پر ہاتھ پھیر کر وہ ابھی بھی منکر تھا۔۔۔۔
غفور صاحب مجھے سختی کرنے پر مجبور مت کریں سچ بتائیں نہیں تو پولیس کو کال کرنے میں مجھے دیر نہیں لگے گی۔۔۔
کشوہ نے ہینڈ بیگ سے فون نکالا ۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا چھوٹی بی بی میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔
تو پھر کہاں غائب تھے آپ اور یہاں یونیورسٹی میں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟
وہ جی بی بی جی میری بیوی بیمار تھی تو میں داد جی سے چھوٹی لے کر آیا تھا اور ادھر میری بھانجی پڑھتی ہے اسے چھوڑنے آیا تھا۔۔۔۔
جھٹ سے اس کے سوال کا جواب دیا ۔۔۔۔
ہمم ۔۔مطلب داؤد کی دوائی تم نے نہیں بدلی تو اس ڈاکٹر کا۔ پتا دو میں پولیس کو کال کرتی ہوں
داؤد کو دوائی کے نام پر زہر دیا جا رہا تھا کڑی سے کڑی سزا ملے گی اسے ۔۔۔۔
کشوہ نے سپاٹ لہجے میں کہا تو غفور جلد بازی میں بڑبڑایا
مگر وہ تو نیند کی گولیاں ۔۔۔!!
اس کے بڑبڑانے پر سر عمر جو کب سے خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے اسے کالر سے تھام گئے ۔۔۔۔
مس کشوہ آپ پولیس کو کال کر لیں یہ ایسے نہیں بتائے گا ۔۔۔۔

نہیں نہیں ۔۔۔۔میں بتاتا ہوں سب بتاتا ہوں ۔۔۔۔
وہ داؤد صاحب کو نیند کی دوائی میں نے کسی کے کہنے پر نہیں دی تھی بلکہ خود دی تھی ۔۔۔۔
سر جھکائے وہ اعتراف کر رہا تھا ۔۔۔
کیوں ؟؟
کشوہ غرائی ۔۔۔۔
وہ داود صاحب ساری ساری جاگتے تھے دوائی کھانے کے بعد بہت زیادہ وحشی ہوجاتے تھے ۔۔۔
مارنے کر در پر آجاتے تھے ۔۔۔گھر کے حالات مجھے اجازت نہیں دے رہے تھے کہ یہ نوکری چھوڑتا ۔۔۔
داد جی بھی مجھے اچھی تنخواہ دے رہے تھے پھر میں نے اپنے دوست سے مشورہ کرکے اسے نیند کی دوا دینی شروع کردی ۔۔۔۔

کسی نے کبھی دیکھا ہی نہیں آکر کہ کونسی دوائی دینی ہے کونسی نہیں اس لیے میرے لیے آسانی رہی مگر پھر جب آپ نے ان کا دھیان رکھنا شروع کردیا تو میں ڈر گیا کہ کہیں آپ کو معلوم نہ ہو جائے ۔۔۔۔
اپنی زرا سی کام چوری کی وجہ سے تم نے کسی کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ۔۔۔
کشوہ غم اور غصے سے چلائی ۔۔۔۔
بی بی جی مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔ وہ رونے لگا ۔۔۔۔
آئندہ جتوئی ہاؤس کے قریب بھی نظر آئے تو میں پولیس میں کیس کردوں گی ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔نہیں میں نہیں آؤں گا ۔۔۔۔


مجھے حیرانگی ہے کشوہ آپ کو یہاں دیکھ کر مگر اس سے داؤد نامی شخص کو دیکھنے کا تجسس بھی ۔۔۔۔
آخر کون ہے داؤد ۔۔؟؟
جانتا ہوں ذاتی سوال پوچھنے کا حق نہ۔۔۔
میرے شوہر ہیں داؤد ۔۔۔داؤد کاظمی ۔۔۔!!!
کشوہ نے بھیچ میں ٹوک کر کہا ۔۔۔عمر خاموش ہوگیا اب کوئی اور سوال بچا ہی نہیں پوچھنے کے لیے ۔۔۔
بہت خوش نصیب ہیں مسٹر داؤد
جو انہیں باہمت اور نیک بیوی ملی ۔۔۔بلآرادہ ہی وہ بول گیا ۔۔۔۔۔
ہممم مگر لگتا ہے کشوہ داؤد کاظمی زیادہ خوش قسمت ہے کیونکہ اس کی زندگی میں ایک نیک ہم سفر ہے وہ داؤد کاظمی کی بیوی ہے ۔۔۔۔


زینب کو منانا مشکل امر تھا مگر نا ممکن نہیں آخر کو دوست تھی مان گئی ۔۔۔۔
پھر ڈاکٹر رخسانہ سے ملی داؤد کی زندگی کا ایک مختصر حصہ ان کے آگے گوش گزار کیا ۔۔۔۔
” کشوہ اس کے سامنے کوئی بھی ایسی بات کرنے سے پرہیز کرنا جو اسے ٹریگر کرے “۔۔۔۔
تھکا دینے والا دن مگر ایک بات اچھی ہوئی اس کے دل میں جو گھر میں چھپے بیدی پر شک تھا وہ غفور کا خود پر الزام لینے سے کم ہوگیا ۔۔۔۔۔
اب اس کا ارادہ گھر کے لیے نکلنے کا تھا


کشوہ روم میں داخل ہوئی تو داود نے ہاتھ میں تھامی کوئی چیز بڑی تیزی سے اپنی کمرے کے پیچھے چھپائی ۔۔۔۔۔۔۔
کیا چھپا رہے ہیں ۔۔۔کشوہ آنکھیں چھوٹی کرکے اس کے قریب چلی آئی ۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔!!
کچھ تو چھپا رہے ہیں
اس کا سرخ پیسنے سے تر چہرہ دیکھ کچھ تشویس سے کہا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔نہیں کچھ نہیں وہ میں بس ۔۔۔۔۔
داؤد مجھ سے بھی چھائیں گے ۔۔۔۔کشوہ نے جزباتی ہتھکنڈہ اپنایا ۔۔۔داود نے فورا سے پہلے اپنے ہاتھ کشوہ گے آگے کئیے ۔۔۔۔
مگر یہ کیا ہاتھوں میں تو کچھ نہیں تھا ہاں البتہ ہاتھ بھی چہرے کی طرح سرخ ہورہے تھے ۔۔۔۔
داؤد آپ کو کوئی الرجی ہورہی ہے سرخ ہورہے ہیں آپ ۔۔۔؟؟
کشوہ نے فکر مندی سے کہا ۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔نہیں وہ۔۔۔ بازوؤں کی آستینوں سے اپنے چہرے کو پونچھ کر کہا ۔۔۔
وہ آپ ابھی آئی آپ کے لیے پانی لاؤں ۔۔؟؟
داؤد نے اس کا دھیان بھٹکانا چاہا مگر کشوہ کی نظر بیڈ پر الٹی گڑی کتاب پر جا چکی تھی ۔۔۔
یہ ۔۔۔یہ تو ناول تھا ۔۔۔زینب نے ہی اسے دیا تھا پڑھنے کے لیے مگر کشوہ ابھی تک اسے پڑھنا تو دور کی بات کھول کر بھی نہیں دیکھ سکی تھی ۔۔۔۔
کشوہ نے ناول اٹھایا ۔۔۔تو داود کا رنگ متغیر ہوا ۔۔۔۔۔

کشوہ نے کھلے صفحے کو جیسے جیسے پڑھنا شروع کیا اس کا خود کا چہرہ سرخ ہوگیا ۔۔۔۔۔
یہ زینب بھی پاگل ہے سٹپٹا کر ناول کو بیڈ پر پھینکا۔۔۔
حد ہے داؤد یہ کیا پڑھ رہے ۔۔۔آپ ۔۔۔ٹھہر ٹھہر کر سخت لہجے میں استفسار کیا تھا ۔۔۔۔
نہیں نہیں وہ کسرتی جسم سٹرانگ باڈی ۔۔۔۔وہ اپنی بیوی کی حفاظت کرتا ہے ۔۔۔۔
آپ بھی تو میری بیوی ہیں نہ ۔۔۔۔۔اپ کی حفاظت کیسے کروں گا ۔۔۔
میری باڈی نہیں۔۔۔۔اپنے دبلے بازوؤں کو دیکھ دکھی لہجے میں کہا ۔۔۔۔
میں نے پش آپ کئیے پھر بھی نہیں ہوئے ٹھیک۔۔۔
افف ۔۔۔۔داود !!!! کشوہ کھلکھلا کر ہنسی تھی
ہاہاہا ۔۔۔داود آپ کتنے کیوٹ ہیں ۔۔۔۔
اس کا گال ہی کھینچ ڈالا ۔۔۔۔
نہیں ایسے مت کرو وہ شرمندہ ہوا ۔۔۔۔
اچھا تو داؤد کو باڈی بنانی ہے ۔۔۔ہاہاہا اس کے گال ٹمٹما رہے تھے ۔۔۔۔داود اس کی حفاظت کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔
میں ناراض ہوجاؤں گا ۔۔۔۔
خفگی سے کہا ۔۔۔۔
اچھا اچھا سوری سوری اچھا تو اب اس مسئلے کا حل نکالنا پڑے گا ۔۔۔
تھوری پر ہاتھ رکھے پرسوچ لہجے میں کہا
ہمم۔۔ہم۔ داؤد نے زورو شور سے سر ہلایا ۔۔۔۔۔
تو پھر مسٹر آپ کو میرے ساتھ جم جانا پڑے گا دوبارہ دونوں گال کھینچ کر کشوہ نے دوڑ لگائی ۔۔۔
کشف وہ بھی جھنجھلا کر اس کے پیچھے بھاگا تھا ۔۔۔۔۔۔


عنصر حسنہ کی یونیورسٹی سے گھر لوٹا تھا جو خبر اسے معلوم ہوئی تھی اس کا سر شرم سے جھک گیا ۔۔۔۔
حسنہ کی ایک دو کلاس فیلو سے اس کے افئیر کا معلوم ہوا تھا ۔۔۔۔
مگر اس وقت حسنہ کا ملنا زیادہ ضروری تھا ۔۔۔۔۔
عنصر نے اپنے تہی ہر کوشش کرلی ۔۔۔مگر سب فیل ۔۔۔۔


داؤد آپ کتنا پڑھے ہیں ؟؟؟
کشوہ نے لیپ ٹاپ پر سے دھیان ہٹا کر داود کو اپنی کتاب پڑھتے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔
وہ ۔۔۔میں زیادہ نہیں بس باروی تک ہی
ہمیشہ والا شرمندہ لہجہ ۔۔۔
کشوہ نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی۔۔۔
لیپ ٹاپ کو سائیڈ پر رکھ کر اس کا ہاتھ پکڑا
آپ کو معلوم ہے جب آپ اس طرح بات کرتے ہوئے سر جھکا لیتے ہیں مجھے کتنا دکھ ہوتا ہے ۔۔۔۔
میں چاہتی ہوں آپ سر اٹھا کر مجھے اپنی ہر بات بتائیں خاص طور پر جو بات آپ سے وابستہ ہو
میں آپ کی ہم سفر اور راز دار ہوں آپ کا لباس ۔۔۔۔
آپ مجھ پر یقین نہیں کریں گے …..
میں پوری کوشش کرتا ہوں اس بار براہ راست کشوہ کی مہربان آنکھوں کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
وہ تو مجھے پتا ہے ایک دفعہ پھر کشوہ کا ہاتھ اپنے گال کی جانب بڑھتے دیکھ کر داود دور لپکا
داؤد ہاہاہاا ۔۔۔۔۔اخری دفعہ
کشف باز آئیں میں نے بھی پھر شور سے کھینچنے ۔۔۔۔
سرخ چہرے سمیت وہ واشروم میں گھس گیا ۔۔۔۔
ہاہاہا اچھا باہر آجائیں نہیں کرتی میں نے وضو کرنا ہے نماز کو دیری ہوجائے گی ۔۔۔آجائیں ۔۔۔۔


آج حسنہ کو لاپتا ہوئے تین دن گزر گئے ۔۔۔۔۔
دادجی میں اب حسنہ کی گمشدگی کا کیس پولیس سٹیشن میں کرنے لگا ہوں ۔۔۔
پاگل ہوگئے ہو عنصر داد جی سے پہلے ہی سعید جتوئی بھڑک اٹھے تھے
تم پاگل ہو پہلے ہی وہ ہم سب کے سروں پر خاک ڈال کر چلی گئی اب چاہتے ہو کہ بچی کچی عزت کا بھی کباڑا ہوجائے ۔۔۔۔
ڈیڈ ۔۔!! عنصر بے یقین تھا
کیا ڈیڈ تم کیا سمجھتے ہو ہمیں کچھ معلوم نہیں کیا کرتی پھر رہی تھی وہ یونیورسٹی میں ۔۔۔۔
عنصر کا سر جھکا تھا ۔۔۔۔
آج بعد اس کا اس گھر میں کوئی زکر نہیں کرے گا سعید جتوئی رومال سے ہاتھ صاف کرتے فیصلہ سناتے اٹھے تھے جبکہ داد جی خاموشی سے سب دیکھتے رہے ۔۔۔۔۔


اگلی صبح!!!….
داد جی کو ہارٹ اٹیک آیا ہے ۔۔۔۔!!!!
جتوئی ہاؤس میں کہرام مچ گیا تھا ۔۔۔۔تمنا کا رو رو کر برا حال ہوا تھا ۔۔۔۔۔
نوید اور سعید جتوئی داد جی کو ہاسپٹل لے گئے جبکہ عنصر گھر پر موجود نہیں تھا اور نہ ہی اس کا فون کے رہا تھا ۔۔۔
تمنا ضد کرکے ہاسپٹل ساتھ ہی چلی گئی
باقی رہی کشوہ جسے کسی کو بھی بتانے کا خیال نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔
عنصر ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی گھر پہنچا تھا مگر جو خبر اسے ملی اس کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی نکل گئی تھی ۔۔۔
داد جی !!!!
وہ فٹافٹ چند ضروری سامان تھامے نکلنے لگا تھا جب ایک خیال آتے ہی اس کے قدم اوپری منزل کی جانب رواں ہوئے ۔۔۔۔

کشوہ کیچن میں موجود اپنے اور داؤد کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔۔۔
جب داود آنکھیں مسلتا وہاں پر ہی چلا آیا ۔۔۔۔
کشف آج چلیں جم ؟؟؟
صبح اٹھتے ساتھ ہی پہلی فرمائش ۔۔۔
کشوہ لب دبا گئی جن جانے سے پہلے ہلدی فوڈ بھی ضروری ہے جیسے دودھ اور بوئلڈ ایگز ۔۔۔۔۔
ایک کپ میں چائے اور دوسرے میں دودھ انڈیلتے ہوئے شریر لہجے میں کہا۔۔۔

دودھ نہیں میں ایکسرسائز سے باڈی بناؤں گا ۔۔۔۔
افف معصوم لہجہ ۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔اچھا مگر آج فوڈ کل سے ایکسرسائز ۔۔۔۔
سیڑھیوں میں کھڑا عنصر جانے کتنے لمحے انہیں دیکھتا رہا ۔۔۔۔
کشوہ کے بال پونی میں قید تھے جبکہ دوبٹہ اچھے سے شانے پر پھیلایا ہوا تھا اس کا آدھا چہرہ ہی اوپن کیچن کی وجہ سے سیڑھیوں میں کھڑے عنصر کو نظر آرہا تھا ۔۔۔۔
اس کی کھلکھلاہٹ اسے مبہوت کر گئی ۔۔۔۔
وہ بھول گیا وہ کیا کہنے آیا تھا ۔۔۔۔


کشوہ !!!
عنصر کی آواز پر کشوہ نے فوراً سے پہلے اپنا چہرہ نا صرف ڈھکا تھا وہ مکمل داؤد کے اوڑھ ہوگئی تھی ۔۔۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ازلی سخت لہجہ جو ہر غیر مرد کے لیے تھا ۔۔۔۔
داد جی ۔۔۔داد جی ہاسپٹل میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا ؟!!!!!
داد جی ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔