No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
حویلی کے باہر گاڑی کے رکتے ہی وہ دنوں بہت ہی ہمت کرکے باہر نکلے تھے ۔۔۔
داؤد نے بارہا مڑ کر ان سے دور ہوتی گاڑی کی جانب دیکھا ۔۔۔وہ ابھی بھی واپس مڑ جانا چاہتا تھا ۔۔۔مگر کشوہ کو چھوڑ کر کیسے ۔۔۔۔ہرگز ممکن ہی نہیں تھا وہ کشوہ کے بغیر ایک قدم بھی آگے یا پیچھے لے لیتا ۔۔۔۔
کشوہ نے نظر اٹھا کر داود کے چہرے پر آتے اتار چڑھاؤ کو دیکھا ۔۔۔۔محسوس کیا !!!۔۔۔پھر اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے درمیان دے گئی ۔۔۔۔
چلیں اندر ۔۔۔؟!!
باہمت لہجے میں اس کا حوصلہ بڑھایا
ہمم۔۔۔۔
وہ دونوں ابھی حویلی کے بڑے دروازے سے اندر داخل ہی ہوئے تھے کہ ایک کشن اچھلتا کشوہ کے چہرے پر لگتا جسے بھیچ میں ہی داؤد نے تھام لیا جبکہ کشوہ اس اچانک کے اکتفاد پر گھبراتی ہلکی سی چیخ مار کر داود کے بازو پر چہرہ چھپا گئی ۔۔۔۔۔
اس کی چیخ تو ہلکی تھی مگر اس سے زیادہ اونچا کوئی چیخا تھا ۔۔۔
بھائی۔۔۔۔۔
وہ دونوں لڑکیاں بھاگتے ہوئے داؤد کی جانب لپکی جو بچارا ہڑبڑا کر چند قدم پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔
کشوہ حیرانگی سے داؤد کے بازو سے چہرہ نکالے انہیں دیکھ رہی تھی اسے یاد کرنے میں زیادہ مشکل نہیں ہوئی تھی یہ دونوں تو وہ ہی مال والی لڑکیاں تھی جو اس دن آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر داود کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
دادی ۔۔۔دادی ان میں سے یہ تو باقاعدہ چیختے ہوئے دادی کو بلا رہی تھی ۔۔۔۔
اللّٰہ کی پناہ تم دونوں سے ثمن امن زرا جو تمیز ہو بوڑھی دادی کو ہولا رہی ہو اپنی چیخوں سے
وہ ہانپتی ہوئی لاونج میں آئی جہاں سے ثمن کی چیخوں کی آوازیں آرہی تھی ۔۔۔۔
ارے دادی غصہ بعد میں کرئیے گا پہلے دیکھیں تو کون آیا ہے ۔۔امن اچھلتی ان کے قریب پہنچی پھر ان کے گلے کے ساتھ لٹکے چشمے کو ان کی آنکھوں پر لگایا ۔۔۔۔
د۔۔داؤد۔۔!!!
آنکھیں نمناک ہوئی گلا رندھ گیا ۔۔۔۔
انھوں نے باہیں واہ کی تھیں مگر داؤد نے شدت سے آنکھیں مینچ کر چہرہ جھکا لیا ۔۔۔۔دادی نے پہلے دکھ سے اپنے ہوا میں کھلے بازوؤں کو دیکھا پر پر تکلیف سا مسکرا دی کیا اتنا کافی نہیں تھا ان کا پوتا وہاں ان کی آنکھوں کے سامنے موجود تھا ۔۔۔۔
کشوہ نے سلام کیا ۔۔۔۔
اس دن وہ جاتے ہوئے کشوہ کے ہاتھ میں ایک پرچہ تھما کر گئی تھی اور اس سے ایک التجا کر کے گئی تھی کہ مرنے سے پہلے ایک دفعہ اپنے ہوتے کو اپنی آغوش میں لینا چاہتی ہیں ۔۔۔۔
انہیں معلوم تھا جیسے ان کی خواہش رد نہیں کی جائے گی ۔۔۔۔
دادی نے آگے بھر کر کشوہ کو گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔کشوہ خاموش رہی نہ وہ انہیں جھٹک سکی اور نہ ہی انہیں منع کر سکی بس خاموش تھی ۔۔۔۔
ارے تم دونوں منہ کیا تک رہی ہو بھائی اور بھابھی آئے ہیں کمرہ تیار کرواؤ ملازمہ کو کہو کھانے کی تیاری کریں اور بہو ۔۔۔ہاں بہو کو بھی بھیجو ۔۔۔
وہ تو واری صدقے جا رہی تھیں ۔۔۔۔۔
بہو کے نام پر داؤد نے ایک لمحے کو چہرہ اٹھایا ۔۔۔۔
چور اپنی ماں کی طرح اس عورت کے سفاک الفاظ کانوں میں گونجے۔۔۔۔۔۔
بھائی میں آپ کو کمرہ دکھاتی ہوں ثمن چہکی ۔۔۔۔
نہیں میں ۔۔۔امن کہاں پیچھے رہنے والی تھی ۔۔۔۔۔
اماں جی ۔۔۔۔
یہ آواز داؤد کاظمی کیسے بھول سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ یہاں سے نکل جانا چاہتا تھا تبھی بغیر دادی کی اگلی بات سنے کشوہ کا ہاتھ تھامے ثمن کی رہنمائی پر اپنے کمرے کی جانب بھر گیا ۔۔۔۔
آپ کی زلفیں بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہے ۔۔۔۔
میری مانیں ہمیں انہیں سلجھانے دیں ۔۔۔۔
یہ تیسری دفعہ تھا جب داؤد نے اس کے جوڑے میں قید بالوں کو آزاد کیا تھا ۔۔۔۔
داؤد۔۔!!!! شدید خفگی سے پکارا گیا ۔۔۔۔
داؤد نے مسکراہٹ دبا کر ہاتھ کھڑے کر لئیے ۔۔۔۔
اب مت کرئیے گا بار بار آنکھوں میں جاتے ہیں بال ۔۔۔جھنجھلا کر کہتے اس نے ایک بار پھر اپنے لمبے بالوں کو جوڑے میں قید کیا تھا جنہیں للچائی نظروں سے دیکھتے داؤد نے سرد آہ بھری ۔۔۔۔
داؤد کشوہ گہری سوچ سے نکلی دماغ میں ایک سوال بجلی کی ماند کودا تھا ۔۔۔
ہم۔۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا فوراً سے پہلے جواب آیا ۔۔۔
دادی اور کسی نے ہم سے کوئی سوال کیوں نہیں کیا جیسے انہیں خبر ہو کہ ہم آنے والے ہیں ۔۔۔
پر سوچ انداز میں اس کی جانب دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
اس ۔۔۔اس سوال کا جواب میرے پاس نہیں ہے کشف اور میں کسی کے سوالوں کے جواب دینے کا خواہشمند بھی نہیں ہوں ۔۔۔۔۔
جو کچھ دیر پہلے فریش سے موڈ میں اس کے ساتھ چھڑ خانی کر رہا تھا اب بے زار سا ہوکر بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔۔
کشوہ اپنا لب کاٹ کر رہ گئی ۔۔۔۔اس نے بہت سوچ کر یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔ مگر کہیں نہ کہیں اندر دل میں زخم گہرا ہوا داد جی نے ایک بار پھر تمنا کے آگے سب کو فراموش کردیا ۔۔۔۔
میں اب کبھی وہاں نہیں آؤں گی داد جی بلکہ داؤد بھی نہیں آئے گا آپ کی محبت میں کوئی شراکت دار نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔
کمرے میں گونجتی داؤد کی گہری سانسیں اسے سوچوں کے تسلسل سے باہر نکل کر لائی ۔۔۔۔
اس نے ایک عقیدت بھری نظر اس پر ڈالی ۔۔۔۔
مرد کا سہارا بہت بڑی نعمت ہے اگر وہ آپ کا محرم ہے تو ۔۔۔۔۔
کون آرہا ہے بائی ۔۔۔۔ چنبیلی بائی کی چاپلوسی کرتے ہوئے اس سے آنے والے مہمان کے بارے میں اگلوانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
تجھے کیوں اتنی چنتا ہورہی ہے ۔۔۔
بائی نے ناگواری سے پوچھا ۔۔۔
ک۔کچھ نہیں بائی ویسے ہی تاکہ میں تیاری میں کوئی کمی نہ آنے دوں ۔۔۔۔
ہرگز ۔۔۔ہر گز کوئی کمی نہیں آنی چائیے آج کی رات بہت خاص ہے ۔۔۔۔۔
کیا کوئی رائس زادہ آرہا ہے ۔۔۔۔
چنبیلی کی زبان پر پھر سے کھجلی ہوئی ۔۔۔۔
رائس زادہ تو آ ہی رہا ہے ساتھ ساتھ اس چھوکڑی کے بل کس نکالنے کو اس کا عاشق بھی آرہا تھا ۔۔۔۔
تارا بائی نے حقارت آمیز لہجے میں کہا ۔۔۔۔
او ۔۔۔۔
اب جا کر چنبیلی کو سکون ملا سارے بات جان کر ۔۔۔۔
آج تو بہت خاص مہمان آرہا ہے ۔۔۔۔
چنبیلی تقریباً اس پر جھکی معنی خیزی سا مسکرائی ۔۔۔۔
حسنہ نے نفرت سے چہرہ پھیرا ۔۔۔۔
چنبیلی نے اتنے ہی شدت سے اپنے دائیں ہاتھوں کی مٹھی میں حسنہ کا جبڑا بھینجا تھا ۔۔۔۔
سخت پکڑ کے باعث حسنہ کے لب نیم واہ ہوئے آنکھوں میں نمی تیری جسے وہ مٹھیاں بھینجے اپنے اندر ہی اتار گئی ۔۔۔۔
بس آج کی رات اگلی صبح اس سے بھی زیادہ کراہیت آمیز حلیے میں ۔۔۔۔۔۔تمہارا وجود ۔۔۔۔۔۔
کمرے کی جانب اشارہ کیا گیا ۔۔۔ اسے کمرے میں دیکھنے آؤں گی ۔۔۔
تمہارا عاشق ۔۔۔۔ہاہاہاا ۔۔۔۔۔۔۔ استہزایہ قہقہ لگایا ۔۔۔۔تمہارا سودا گر آرہا ہے ۔۔۔۔
بہت ہوگیا چوہے بلی کا کھیل ۔۔۔۔
ہنہہہ۔۔۔
چنبیلی اپنے کھلے بالوں کو ادا سے جھٹکتی وہاں سے نکلی ۔۔۔۔۔
پیچھے حسنہ اس کے عمل سے زیادہ الفاظ پر سن ہوئی
تمہارا عاشق ۔۔۔۔ ۔۔۔۔تمہارا سودا گر آرہا ہے ۔۔۔۔
تمہارا عاشق ۔۔۔۔ ۔۔۔۔تمہارا سودا گر آرہا ہے ۔۔۔۔
آج پردہ فاش ہو گا قوم کی نظر میں شریف اور با عزت بننے والا شخص رات کی تاریکی میں کن کن گلیوں میں جاتا ہے معصوم عوام کو بھی تو پتا لگے کہ ان کا لیڈر کس ذات کا ہے ۔۔۔۔
اپنی ریپورٹر ٹیم کے سامنے بیٹھ کر وہ آج رات کی رپورٹنگ کی تیاری کروا رہا تھا ۔۔۔۔
سر ہم وہاں پولیس نہیں لے جا سکتے ۔۔۔؟؟ ایک جونیئر نے قلم کاغز پر رکھ کر سوال کیا ۔۔۔
لے جا سکتے ہیں مگر اس طرح ہم منظر عام پر آسکتے ہیں جو ہمارے کرئیر کے علاؤہ ذاتی زندگی کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے
کیونکہ ان سب غلیظ ترین کاموں کی پشت پناہی بہت مضبوط لوگ کر رہے ہیں ۔۔۔۔جنہیں ہم ایک دم نہیں ختم کرسکتے ۔۔۔۔
ہمارا کام ان لوگوں کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے فاش کرنا ہے جو دن کے اجالوں میں معصوم عوام کی قیادت کرنے نکلتے ہیں اور رات کی تاریکیوں میں ان کے ٹھکانے ایسے علاقے ہیں جہاں جانا تو دور کی بات جن کے بارے میں زکر بھی ایک شریف شخص کرنا پسند نہیں کرتا ۔۔۔۔
چنبیلی کے کمرے سے نکلتے ہی وہ کتنے زانوں یوں ہی ساکت سی بیٹھی رہی ۔۔۔۔
پھر بے ساختہ اٹھی اس کے قدم ملکہ بیگم کے کمرے کی جانب تھے مگر وہاں پڑا بڑا سارا تالا اسے منہ چڑھا رہا تھا ۔۔۔۔
حسنہ کو یک دم آکسیجن کی کمی محسوس ہوئی دم گھٹنا شروع ہوا ۔۔۔۔۔
اسے سکوں نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔
وہ کیا کرے کہاں جائے واپس اپنے کمرے کی جانب دوڑی منہ پر بیک وقت کہیں پانی کے چھینٹیں مارے ۔۔۔۔
چھینٹیں مارتے مارتے اس کے ہاتھوں میں حرکت ہوئی کبھی ہاتھ بازوؤں میں جاتا تو کبھی سر کے اوپر وہ غائب دماغی سے وضو کر رہی تھی ۔۔۔۔
ڈوبٹہ جو اسے ملکہ بیگم نے اوڑھا تھا اسے سر پر جمایا ۔۔۔۔
قبلہ جانب رخ کئیے وہ سجدے میں گر گئی
اور پھر اتنا روئی کہ اس کی ہچکیاں بندھ گئی ۔۔۔۔۔
آج اتنے مہینوں کا غبار نکلا وہ سر ٹکراتے رب سے معافیاں مانگنے لگی وہ رونے لگی وہ سسکیاں بھرنے لگی ۔۔۔
اور رب کتنا مہربان ہوتا ہے جو رائی برابر آنسو کو بھی ضائع نہیں ہونے دیتا ۔۔۔۔
وہ رب جس کے کن پر کائنات بن گئی۔۔۔۔
وہ رب جو بے سہاروں کا واحد سہارا ۔۔۔
وہ جو پتھروں میں پلنے والے جانوروں کی خوراک کا انتظام کرتاہے۔۔۔۔
وہ رب جو رحیم ہے رحمان ہے جو معاف کرتا ہے ۔۔۔
جو سنتا ہے ۔۔۔
جو کبھی نہیں بھولتا ۔۔۔۔
جو واقف ہے دلوں کے راز سے ۔۔۔۔
وہ جو شا رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔۔۔۔۔
وہ سب کی سنتا ہے ۔۔۔۔
اس رب نے حسنہ جتوئی کے دل میں سکون بھر دیا ۔۔۔۔
اس شہر کی نہیں بلکہ ملک کی بہت بڑی ہستی تھی وہ جو بدنام زمانہ گلیوں میں ہوتے رقص کو جھوم کر دیکھ رہا تھا اب یہ رقص کا سحر تھا یاں ہاتھ میں تھامے جام کا ۔۔۔۔
کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔
اس ہوش سے آری شخص کو کیا خبر وہ کیمرے کی آنکھ میں قید ہورہا ہے اور بہت جلد منہ چھپانے کے لیے بھی جگہ میسر نہیں آئے گی ۔۔۔۔
ارے بائی کچھ کم کر نا تیرا پرانا گراہک ہوں اور تو اور تیرے کتنے کام آتا ہوں ۔۔۔
شہریار للچا کر بولا ۔۔۔۔
چل جا آج میں بہت خوش ہوں اس لیے ایک دم نیا پیس پرانے ریٹ پر بائی نے اس کے ہاتھ سے پیسے کھینچے ۔۔۔۔
ہائے بائی زندہ باد تجھے آگے بھی ایسے ہی حسین ملائی لا کر دیتا رہوں گا بس تو میرا کام کرتی رہیو۔۔۔
ہاں ہاں ۔۔۔جا اور ا سکے سارے بل نکال کر ہی آئی ۔۔۔۔
ہنی ۔۔۔!!!
ہنی مائی ڈارلنگ دیکھو کون آیا ہے ۔۔۔تمہارا شہری ۔۔۔۔
کمرے میں آتے ہی سب سے پہلے شہریار نے کنڈی لگائی ۔۔۔۔
ہنی ۔۔۔!!!
کہاں ہو اب نہ تڑپاو اپنے شہری کو ۔۔۔
ایک دفعہ پھر پکارا تھا ۔۔۔۔
شہری ۔۔۔۔حسنہ کی بھیگی آواز پر وہ پلٹا ۔۔۔ہنی میں نے کتنا مس کیا تمہیں شہریار اسے گلے لگانے آگے بڑھا ۔۔۔۔
کیوں کیا تم نے ایسا ؟؟؟
وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اس کی جانب دیکھ کر بولی ۔۔۔۔
ہنی چھوڑو نہ قریب آؤ ۔۔۔۔
اس نے حسنہ کی بات ان سنی کی ۔۔۔
کیوں بیچ دیا مجھے ۔۔۔ گلے میں کانٹے اُگے۔۔۔۔
تمہیں سمجھ نہیں آرہی قریب آو ۔۔۔اب کہ شہریار چیخا تھا ۔۔۔حسنہ نے ہاتھ میں تھامی تیزاب کی بوتل شدت سے شہریار کی جانب کی بوتل سے نکلتا تیزاب اس کے منہ پر گڑا دھواں دھواں پھیلنا شروع ہوا ۔۔۔۔
حسنہ کا ہاتھ لڑکھڑا کر پہلو میں گرا وجود سے جیسے بوجھ آزاد ہوا بوتل ہنوز اس کے ہاتھ میں تھی جس میں چند قطرے ابھی بھی نکل کر سیاہ فرش پر گرتے فرش تک کو جلا رہے تھے ۔۔۔۔
شزا ۔۔۔۔واش روم صاف کرنے آئی شزا کو پکارا تھا حسنہ نے ۔۔۔۔
جی اس نے چونک کر حسنہ کی جانب دیکھا دوسری دفعہ حسنہ نے اسے پکارا تھا ۔۔۔
یہ ۔۔۔یہ تیزاب ؟؟؟
ہاں وہ واش روم صاف کرنے کے لیے دیا ہے ۔۔۔وہ ہاتھ میں تھامی بوتل کو دیکھ کر اسے تفصیل بتانے لگی ۔۔۔۔
آج اسے یہی پر رہنے دو ۔۔۔۔
مگر ۔۔۔؟؟؟
شہریار ۔۔۔۔یہ ہی نام ہے نہ تمہارے مجرم کا ۔۔۔۔
حسنہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر براہِ راست کہا تھا ۔۔۔۔
شزا کی گرفت بوتل پر مضبوط ہوئی وہ بھی جان چکی تھی آج کی محفل میں اس کا مجرم بھی شامل ہوگا ۔۔۔۔
جی حسنہ باجی بہتر وہ تیزاب رکھ کر اس کے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
تیزاب کی جلن اپنے چہرے پر محسوس کئیے اس کی درد ناک چیخیں کمرے سے باہر نکلیں وہ تڑپتا گرتا باہر کی جانب بھاگا
دنوں ہاتھ چہرہ بچانے کے سبب جھلس گئے تھے جب کے چہرے کی کھال بری طرح اڈھر گئی تھی
آنکھیں مارے تکلیف کے بند تھی تیزاب کی چھینٹیں شاہد آنکھوں کی بینائی کو بھی متاثر کر گئیں ۔۔۔۔
اس کی وحشت ناک کراہیں وہاں موجود کتنی ہی لڑکیوں کے دلوں کو سکون بخش گئی ۔۔۔
محفل میں اکٹھے ہوئے لوگ اس کی چیخوں پر اس کی جانب متوجہ ہوئے
وہاں موجود ریپورٹرز کی ٹیم نے تیزاب کے باعث تڑپتے آدھ موئے شخص کو ریکورڈ کرنا شروع کردیا جسے
وہاں موجود میک اپ اور زیورات سے لیس لڑکیاں اپنے پیروں سے ٹھوکر مار رہی تھی
افراتفری کے ماحول نے تارا بائی چھکے چھڑا دیئے ۔۔۔۔
حسنہ سمیت کہیں لڑکیاں شہریار نامی شخص سے اپنی رسوائی کا بدلہ لے رہی تھیں
جس نے انہیں اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر اس مقام میں لا کھڑا کیا
اس کے چہرے پر تھوکتی تو کبھی جو شہ ہاتھ میں آتی اس پر حملے کے طور پر استعمال کرتی ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
