No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
عنصر کو واپسی پر خاصی دیر ہوگئی تھی جب وہ گھر واپس آیا ہر سو خاموشی کا راج تھا عجیب سا سناٹا
فائزہ بیگم تمنا کو اپنے کمرے میں لے جا چکی تھی
خمسہ جتوئی بھی اسے کچھ ہدایات دیتی اپنے کمرے میں چلی گئی
وہ سر جھٹکتا اپنے کمرے کی جانب بڑھا تھا
عنصر کمرے میں آیا تو اس کی نظر اپنے بیڈ پر سکڑی سمٹی لیتی فاطمہ پر پڑی تھی سرخ ڈوبٹہ تکیے کے پاس پڑا تھا
چہرے کے تاثرات بے آرام سے تھے گالوں پر لکیریں نمایا تھیں جیسے وہ روتے ہوئے سوئی ہے
عنصر فریش ہونے کی غرض سے واشروم گیا کپڑے تبدیل کرنے کے بعد وہ واپس کمرے میں آیا مگر بیڈ پر لیٹے وجود میں کسی قسم کی کوئی جنبش نہیں ہوئی تھی
وہ ہنوز سوئی ہوئی فاطمہ کے قریب آیا ۔۔۔
کانوں میں موجود چھوٹے سے آویزے شاہد اسے چب رہے تھے عنصر نے اس کے سکون کی غرض سے ہاتھ بڑھا کر فاطمہ کے کان سے جھمکے نکالے
یکلخت فاطمہ کے چہرے کے تاثرات بگڑے وہ ایک دم ڈر کر اٹھی تھی
آرام سے اس کے جھٹکا کھانے پر عنصر نے اسے تھاما
فاطمہ عنصر کو دیکھ رہی تھی پھر اس کی نظر اس کے ہاتھ میں تھامے جھمکوں پر گئی وہ کچھ جھجھکی جب عنصر بیڈ پر جگہ بناتا اس کے پاس ہی ٹک گیا ۔۔۔۔
چند منٹ خاموشی کے بعد وہ بولی
عنصر وہ ٹھیک ہے نہ ؟؟ لہجے میں خوف تھا
عنصر نے اس کے نازک ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لے کر سہلایا وہ ٹھیک ہے فاطمہ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے بس بی پی لو ہوا تھا چاچی ہیں اس کے پاس
عنصر ہم نے کچھ ؟؟ نہیں فاطمہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا میں پوری کوشش کروں گا تم دونوں کو برابر کے حقوق دے سکوں
ہمم۔۔فاطمہ سر اسبات میں ہلا گئی
چند لمحے یوں ہی گزر جانے پر فاطمہ نے سر اٹھا کر عنصر کی جانب دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہا تھا
محبت کے ساتھ عقیدت کے ساتھ
وہ پزل ہوئی تھی ۔۔۔۔عنصر !!!…شرم میں ڈوبی ہلکی سی آواز نکلی تھی
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں کبھی تم سے مل پاؤں گا
اللّٰہ کے فیصلوں کے آگے ہم انسانوں کی عقل دھنگ ہے
اس نے ہاتھ کاندھے سے گزار کر دوسری جانب رکھا تھا
وہ اسے احساس دلا دینا چاہتا تھا وہ اکیلی نہیں تھی
بے شک میرے رب کے فیصلے بہترین ہوتے ہیں اس نے اپنے بندے کے لیے وہ سوچا ہوتا جہاں اس کی سوچ بھی نہیں جا سکتی
وہ بھی تشکر سے اپنا سر اس کے کاندھے پر رکھ چکی تھی
کہاں؟؟ فاطمہ کے اٹھنے پر اس نے نا سمجھی سے اسے دیکھا
آپ کو نہیں لگتا مجھ پر شکرانے کے نوافل ادا کرنا فرض ہوگئے ہیں
“میں ایک ایسی لڑکی سے شادی کروں گا جو خود کو چھپا کر رکھے گی جو نیک اور دین دار ہوگی “
اپنے ایشلے کو کہے جملے اس کے کانوں میں گونجے
وہ اٹھ کر اس کا ہاتھ تھام گیا
“فرض تو مجھ پر بھی ہیں” ۔۔۔ میری امامت میں پڑھو گی عنصر نے مسکراتی آنکھوں کے ساتھ اپنی بیوی کو دیکھا تھا فاطمہ کو یہ جملے آبِ حیات محسوس ہوئے اس نے اپنے ہاتھ پر موجود عنصر کے ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھ کر قدم بڑھائے تھے ۔۔۔۔۔
فجر کے وقت فون کی رنگ پر کشوہ کی آنکھ کھلی تھی نیم واہ آنکھیں کھول کر کشوہ نے فون کان کے ساتھ لگایا تھا
اسلام علیکم میری جان
اپنی مما کی آواز سن کر کشوہ کی آنکھیں کھولیں تھیں
وعلیکم السلام مما وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
لہجے میں بے پناہ خوشی تھی
مجھے معلوم تھا تم اس وقت جاگ رہی ہوگی ان کا اشارہ اس پہر کال کرنے کا تھا
جی مما اچھا ہوا آپ کی کال آگئی نہیں تو لیٹ ہو جاتی مجھے وہ اٹھ کر ڈریسنگ کے پاس آئی تھی
میری جان تمہارے لہجے سے چھلکتی خوشی محسوس کرنے کے بعد تمہارا حال احوال پوچھنے کی کوئی نوبت تو نہیں آئی مگر ماں ہوں نہ میں تمہاری
مما میں بہت بہت خوش ہوں آپ کو معلوم ہے مما داؤد بالکل ٹھیک ہوگئے ہیں
میری جان مجھے بہت خوشی ہوئی یہ جان کر خیر کل میں گئی تھی جتوئی ہاؤس جو داد جی نے تک لوگوں کے ساتھ کیا تھا اس کے بعد دل تو نہیں تھا مگر مجبوری تھی جتوئی خاندان کے مرحوم بیٹے کی بیوی جو ٹھہری خیر کل نکاح تھا عنصر کا
وہ اسے تفصیل سے بتاتی کشوہ کو چونکنے پر مجبور کر گئیں
نکاح!!!! اس کے لہجے میں نا سمجھی اور بے یقینی ایک ساتھ تھی
ہاں میری جان حسنہ واپس آگئی اور اس کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا مما میں نماز پڑھ لوں آپ سے بات کرتی ہوں کشوہ اختتامی کلمات بولتی مڑی تھی داؤد جاگ رہا تھا وہ شاہد اس کی آواز سن کر جاگا
داؤد کے خود کو دیکھنے پر اس کا چہرہ گلاب ہوا تھا
کشف !! اس نے دھیرے سے پکارا تھا
کشوہ کو حقیقتاً کانوں سے گرم دھواں نکلتا محسوس ہوا
و ہ۔۔۔میں نماز پڑھ لوں
مسکراہٹ دبا کر وہ واشروم کی جانب بڑھ گئی
پیچھے داؤد سرشار سا اس کے تکیے کو تھامے آنکھیں موند گیا
چند ہی منٹوں بعد اسے اپنے چہرے پر نمی محسوس ہوئی
اس نے آنکھیں واہ کی تو کشوہ کے پانی سے نم ہوئے ہاتھ اس کی جانب بڑھے ہوئے تھے ۔۔۔
داؤد کے چہرے کا رنگ عجیب انداز میں فق ہوا تھا
میں کیسے کشف وہ رخ موڑنے والا تھا جب کاندھے پر دباؤ محسوس کئیے وہ نہیں مڑ سکا
میں شرمندہ ہوں ۔۔۔ وہ گیلی آنکھوں سمیت بولا
اللّٰہ رحیم ہے ۔۔۔۔
اس نے جیسے تردید کی
میں بہت سال دور رہا
یہ آپ کا اور اللّٰہ کا معاملہ ہے داؤد اس نے نم ہاتھ گال پر رکھا میں اپنی نئی زندگی کی شروعات آپ کے ساتھ اللّٰہ کا شکر ادا کرکے کرنا چاہتی ہوں
وہ داؤد کی امامت میں فجر ادا کرنے کے بعد آرام کی غرض سے بیڈ پر آکر لیٹ گئی کچھ ہی دیر میں اس کی آنکھ لگ گئی تھی
وہ کچھ وقت داؤد کو دینا چاہتی تھی
بالکل تنہا!!!!…..
تنہا کہاں رب کائنات کے ساتھ ۔۔۔۔۔
دروازے کی دستک پر داد جی نے سر اٹھایا
وہ کرسی پر برجمان تھے ہاتھ میں تھامی کتاب کو سائیڈ پر رکھا سامنے شکست خوردہ قدموں کے ساتھ چل کر آتی تمنا کو دیکھ کر ان کا دل ٹوٹ کر ٹکڑوں میں بٹا تھا
دُکھ شدید ہوا ان کی لاڈلی پوتی تھی وہ تمنا وہ روک نہیں سکے انھوں نے اپنے بازو واہ کئیے
تمنا بھی ان کے پر شفقت حصار میں چلی گئی
جہاں اسے کبھی کسی چیز کا ڈر نہیں ہوتا تھا وہ جو کرتی تھی ڈنکے کی چوٹ پر کرتی تھی
داد جی آپ نے مجھے اتنی محبت دی اتنا مضبوط بنایا خودمختار بنایا تو پھر آج درد کیوں ہورہا ہے
ہاں وہ راز جو وہ خود سے چھپاتی رہی اسے عنصر جتوئی کی دوسری شادی کا دکھ تھا شدید دکھ
بچے ۔۔۔۔ان کی بے بس آواز پر وہ استہزایہ مسکرائی میں بھی کتنی بے و قوف ہوں نہ داد جی خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر خراب کر لیا اب آپ سے شکوے کر رہی
میں عنصر سے بات ۔۔۔۔نہیں داد جی ہر گز نہیں آپ عنصر سے کچھ نہیں کہیں گے نہیں تو میں یہ گھر چھوڑ دوں گی جو جیسا چل رہا ہے چلنے دیں
کچھ نہیں بدلا میں آپ کی ویسی ہی تمنا اور آپ میرے داد جی کچھ نہیں بدلا سب ویسا ہی ہے ہاہاہا۔۔۔
کچھ نہیں آنسو کا نمکین گولا ہلق سے اتارتی عجیب سی کیفیت میں بولی
آپ کو پتا ہے داد جی میں پھر سے اپنا چینل شروع کر رہی آپ لوگوں نے فضول ہی میں بند کروادیا اب تک کتنے ہی میلین بھر جانے تھے وہ سر جھٹکتی بولی
جیسے بہت افسوس ہوا ہو ۔۔۔۔
آج میں ہماری ویڈیو چوٹ کروں گی پھر ہوجائے شطرنج کی بساط
لہجے میں پرجوشی لانے کی کوشش کی تھی
ہمم ۔۔۔داد جی بھی پر دقت مسکرائے تھے ۔۔۔۔
تقریباً آٹھ بجے کے قریب اس کی آنکھ کھلی تھی
کتنی خوبصورت کیفیت تھی
داؤد کا وجود جو رات کو ہچکولے کھا رہا تھا اپنے رب کو یاد کر رہا تھا ۔۔
اور اب رب سے باتیں کرتے کرتے وہ میٹھی نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔۔۔۔
اتنی پرسکون نیند کشوہ کو رشک کرنے پر مجبور کر گئی تھی ۔۔۔۔
اس نے داؤد کو نہیں جگایا تھا
وہ اٹھ کر باہر چلی گئی تھی
حسنہ بی بی جی آپ کو بڑے صاحب ڈرائنگ روم میں بلا رہیں ہیں
ملازمہ کے کہنے پر حسنہ شش و پنج میں مبتلا ہوئی تھی
وہ ڈوبٹے کو اچھے سے اپنے سر پر جمائے ڈرائنگ روم کی جانب بڑھی ۔۔۔۔
وہ موجود مہمانوں کو دیکھ کر اس کے قدم ساکن ہوئے
سامنے ہی خاکی رنگ کی پینٹ پر سفید رنگ کی شرٹ کف ہمیشہ کی طرح اوپر کی جانب مڑے ہوئے تھے ساتھ ہی ایک بڑی عمر کی خاتون جنہوں نے نفیس سے سوٹ پر شال اوڑھ رکھی تھی
ماشاءاللہ ماشاءاللہ یہ ہے میری بہو وہ عورت کھڑی ہوئی
حسنہ کے پسینے چھوٹ گئے وقت وہ ہلکے گلابی رنگ کے لان کے سوٹ میں موجود تھی چہرہ ڈوبٹے میں قید تھا
اسے دیکھتے ہی عبیر کی آنکھوں میں نرم تاثر جاگا تھا
حسنہ نے یوں کھڑے کھڑے ہی ہاتھ مسلے جب عنصر کے اپنے سر پر ہاتھ رکھنے پر وہ کچھ پر سکون ہوئی تھی
جانے کیا کہا تھا عنصر بھائی نے تمام گھر والوں سے
وہ سوچوں میں ڈوبی جب عبیر کی والدہ نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا تھا ۔۔۔۔۔
بھائی صاحب میرے سونے گھر کی رونق میں جلد ہی آپ لوگوں کے پاس سے کے جانا چاہتی ہوں
اسے میری التماس سمجھ لیجئے آپ رخصتی کی ڈیٹ جلدی کی رکھئیے گا ۔۔۔۔۔
جی بہن جی جیسے ہی میرا نواسہ اور پوتی آتے ہیں ہم شادی کی ڈیٹ فکس کر دیں گے
داد جی کے مسکرا کر کہنے پر ایک لمحے کو عنصر چونک اٹھا پھر ایک گہری مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی تھی
ان کا گھر پھر سے پہلے جیسا ہونے والا تھا یاں اس سے بھی بہت بہتر ۔۔۔۔۔
کشوہ حویلی کے کشن میں موجود داؤد کی پسند کا ناشتہ تیار کر رہی تھی جب اسے قہقے کی آواز آئی
یہ قہقہ ڈائنگ حال سے آرہا تھا اور ایک آواز علیم کاظمی کی تھی اور دوسری داؤد کاظمی کی
کشوہ مسرور ہوئی داؤد نے معاف کردیا بابا کو
بھابھی انڈہ ثمن کے ہلانے پر وہ چونک اٹھی
او ہاں ۔۔۔۔میں نے دیکھا نہیں کشوہ نے فوراً انڈہ پلٹا اس سے پہلے وہ سڑتا ۔۔
بھابھی میں بہت خوش ہوں بھائی بابا سے بات کر رہے ہیں بابا کو معاف کردیا ہے بھائی نے اب آپ لوگ یہاں سے کہیں نہیں جاؤ گے نہ
امن نے اس کے گلے میں اپنی بازو ڈالی
جی چندہ کشوہ نے محبت سے اس کی تھوڑی چھوئی اچھا با جلدی جلدی ناشتہ لگواؤ ٹھنڈہ نہ ہو جائے ۔۔۔۔۔
ناشتہ ٹیبل پر نفاست سے سجا کر ابھی کشوہ بیٹھی تھی جب ملازم نے آکر اطلاع دی کہ کچھ لوگ کشوہ سے ملنے آئے ہیں
کشوہ کے داؤد بھی حیران ہوا
علیم کاظمی نے انہیں اندر بھیجنے کا کہا
داد جی کو دیکھ کر اب کھڑے ہوگئے
دادجی اپنے بچوں کو دیکھ کر آبدیدہ ہوئے تھے انھوں نے کانپتے ہاتھوں کو پھیلایا تھا کشوہ شش و پنج میں مبتلا داود کو دیکھنے کے بعد خود ہی پہل کرتی آگے بڑھی تھی
میرے بچوں اپنے دادجی کو معاف کردو نخیف سی آواز پر داؤد بھی انہیں زور سے گلے لگا گیا
داد جی آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہم پرانی باتیں یاد نہیں رکھنا چاہتے
داؤد کے سنجیدگی سے کہنے پر داد جی کو خوشگوار حیرت ہوئی
داؤد میرا بچہ تم ٹھیک ہوگئے
داد جی فرطِ جذبات میں آکر دوبارہ سے اسے گلے لگا گئے تھے
چھوٹے چھوٹے قدم لیتی حویلی میں داخل ہوتی حسنہ نے بھی کشوہ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا
وہ کشوہ سے شرمندہ تھی
اب تم لوگ چلو گے نہ ہمارے ساتھ جتوئی ہاؤس
کشوہ نے اسے زور سے گلے لگایا اس نے کتنی دعائیں کی تھی حسنہ کے مل جانے کی ۔۔۔۔
بھابھی بھائی ۔۔۔۔ امن اور ثمن کی بھیگی آواز میں انہیں کھو دینے کا خوف تھا
داد جی ہمیں معاف کیجیے گا ہم جتوئی ہاؤس نہیں آ سکتے واپس داود کا اصل گھر یہ ہے اور میرا گھر تو وہ ہی ہے نہ جہاں میرا شوہر رہے گا
کشوہ نے امن ثمن کو خوشی کی نوید سنائی تھی
بچے ۔۔۔۔
بھائی صاحب ہم پر یہ ظلم۔مت کریں کتنے سال اپنے پوتے سے محروم رہی میں
دادو کی بھیگی آواز پر داد جی کشمکش کا شکار ہوئے تھے
جبکہ علیم کاظمی ایک طرف سر جھکائے کھڑے تھے کیونکہ وہ ایک باپ کے قصور وار تھی ان کی بیٹی پر طلاق کا سیاہ دھبہ لگایا تھا انھوں نے وہ داد جی کے آگے کی ہمت ہی نہ جُٹا سکے تھے ۔۔۔۔داد جی بھی اپنی بیٹی کے مجرم کو چاہ کر بھی معاف نہیں کر سکے تھے
اس لیے وہاں سے واپس ہو لیے مگر واپسی پر دل میں کوئی بوجھ نہیں تھا
چند ہفتوں بعد !!!….
داؤد وہ میری طبیعت خراب سی ہورہی کشوہ نے چور نگاہوں سے داؤد کا چہرہ دیکھ کر اپنے منہ پر ہاتھ رکھا
کیا ہوا وہ سیدھا ہوا
پتا نہیں دل عجیب سا ہورہا ہے الٹی سی آرہی ہے
آپ کا بھی کشف ؟؟
ہاں کیا کشوہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا
میرا بھی دل کچا ہورہا ہے آج سالن میں مرچیں زیادہ تھی سینے میں جلن جلن سی ہورہی ہے
آپ ایسا کریں لیمو پانی بنا لائیں بلکہ میں آپ کے لیے بھی لے آتا ہوں
کشوہ نے سر پیٹ لیا
اففف داؤد
دوپہر کے وقت داؤد کتابیں لے کر بیٹھا ہوا تھا کشف آپ کے پیپر کب سے سٹارٹ ہیں آپ نے اس بار سیمسٹر کلئیر کرنا ہے ہر حال میں پھر اگر آپ جوب کرنا چاہتی ہیں تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں
اف داؤد ادھر مجھے چکر آرہے ہیں آپ کیا باتیں لے کر بیٹھیں ہیں
وہ چڑچڑاہٹ سمیت بولی داؤد اس کے چڑچڑے پن پر ایک دم خاموش ہوا
اتنا غصہ آپ اور بے بی دونوں کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے کشف اسے پیار سے بیڈ پر بیٹھائے دو زانوں ہوکر اسکے ہاتھ تھام کر بولا
آپ ۔۔۔آپ کو کشوہ متحیر ہوئی وہ جو صبح سے اس کے آگے پیچھے پھر رہی تھی
جی مجھے معلوم ہے
جب آپ میری ہر بات میرے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی جان لیتی ہیں تو کچھ آپ کی صحبت کا اثر آپ کے داؤد پر بھی ہوگیا
داؤد بہت برے ہیں آپ
وہ خفا خفا سی منمنائی داؤد نے مسکرا کر اسے ساتھ لگایا اس کی خوشی کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا تھا
پر آپ کا ہوں۔۔۔۔
آپ نے مجھے بہت بڑا تحفہ دیا کشف ایک تحفہ میں بھی دینا چاہتا ہوں
داؤد نے اپنی قمیض کی جیب سے ایک انویلیپ نکال کر کشوہ کی جانب بڑھایا
یہ کیا کشوہ نے نا سمجھی سے داؤد کو دیکھا
کھولیں گی تو معلوم ہوگا مسز کاظمی
داؤد !!!! عمرے کی ٹکٹس۔۔۔۔۔۔
کچھ اپنی محنت کے پیسے اور کچھ مما کی جیولری بیچ کر میں نے انتظام کروایا ہے
مما کو بہت شوق تھا عمرے میں جانے کا خیر میں اپنی مما کے حصے کا عمرہ کرنا چاہتا ہوں آپ کے ساتھ اگلی بار اگر قسمت میں ہوا تو ان شاءاللہ اپنے بل بوتے پر لے کر جاوں گا آپ کو
چلیں گی نہ ہاں…وہ آسودگی کے ساتھ اپنا سر اس کے شانے پر ٹکا تے اسبات میں سر ہلا گئی تھی ۔۔۔۔
کعبہ کا طواف کرتے ہلکی ہلکی بوندا باندی کا سلسلہ شروع ہوا مگر وہ ہر چیز سے بے نیاز اپنی آنکھوں میں کعبہ کی دید بسائے لبوں پر کلمات سجائے طواف کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
ہلکی ہلکی بوندا باندی اب تیز ابرِ رحمت بن کر برسنے لگی سیاہ عبائے اور سفید احرام میں ملبوس وہ دونوں نم آنکھوں کے ساتھ ابھی بھی طواف کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔
داؤد علیم کاظمی اور کشوہ داؤد حرم پاک کی زمین پر کعبہ رخ ہوکر سجدہ ریز ہوئے
کشوہ کے آنسو ہچکیوں میں بدلے اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ اللّٰہ
غفور رحیم یار رحمان یا رحیم یا اللّٰہ یا ملک ۔۔۔۔۔۔
اس وقت اسے کچھ یاد نہیں تھا بس یاد تھا تو یہ کہ وہ اللہ کے گھر اللّٰہ کے قریب ہے اللّٰہ نے اسے اپنے گھر کی زیارت کی سعادت بخشی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
نمازِ ظہر ادا کرکے وہ ہوٹل واپس آئے ہوٹل کے روم میں آکر داؤد نے ہیٹر آن کیا کشوہ کو چھینکیں شروع ہوگئی تھی ۔۔۔۔
اب اس کا ارادہ نہا کر تھوڑی دیر آرام کرنے کا تھا کیونکہ نماز عصر کے لیے انہیں پھر جانا تھا اور واپسی عیشاء کے بعد ہی ہونی تھی
وہ نہا کر آیا تو کشوہ کمرے میں نہیں تھی داؤد ہوٹل روم کے ساتھ اٹیچ چھوٹے سے ٹیریس کی طرف گیا ۔۔۔۔۔۔۔
بارش گو کہ ہلکی ہوگئی تھی مگر کشوہ کو بخار بہت جلدی پکڑتا تھا
۔۔۔۔۔۔داود نے پکارا مگر وہ سب کچھ بھولے ابھی بھی خانہ کعبہ کو دیکھ رہی تھی
بخار ہوجائے گا اس کے گرد بازو حمائل کئیے وہ فکر مندی سے بولا ۔۔۔۔۔
ابرِ رحمت میں بھیگ کر بھی کوئی بیمار ہوا ہے داؤد
چہرہ موڑ کر اس کی طرف دیکھ کر بولی لبوں پر کھلتی مسکراہٹ پر داؤد علیم نے مسکرا کر اپنی تھوڑی اس کے سر پر ٹکا لی ۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
