No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
تمنا اپنے بستر پر لیٹی اپنے بکھرے بالوں میں ہاتھ چلاتی آج شام کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
،،،،،،،،،،،،،،،
ہیلو گائز معزرت لیٹ ہوگئی مگر میرے پاس آپ لوگوں کے لیے ایک گڈ نیوز ہے جو بہت جلد میں آپ لوگوں کے ساتھ شئیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معمول کی طرح اپنا وی لوگ بنا رہی تھی جب کشوہ کے ساتھ کوئی تیزی سے اس کے پاس سے گزرا تھا ۔۔۔۔۔۔
تمنا تھم گئی ۔۔۔۔۔ وی لوگ بھی مکمل نہیں ہوا اس نے مڑ کر دیکھا مگر تب تک وہ جو بھی تھا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
کہیں عائد زید نہیں وہ لوگ تو کوچنگ ہوتے اس وقت ۔۔۔تو۔۔۔۔ عنصر؟؟؟۔۔نہیں عنصر نہیں تھا تو کہیں داو۔۔۔۔۔نہیں وہ کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔
نہیں وہ نہیں ہوگا ۔۔۔ سوچ سوچ کر سر میں درد ہونے لگی تھی ۔۔۔۔تمام سوچوں کو پس پشت ڈال کر وہ آنکھیں موند گئی جو بھی ہوگا دیکھا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔
رات کے کھانے پر سب بچے ہی غائب تھے۔۔۔۔۔
سریہ بیگم بھی آج اسلام آباد سے لوٹی تھیں تو رات کے کھانے پر خاصا اہتمام کیا گیا تھا ۔۔۔
فائزہ جتوئی اور وحید جتوئی کو داد جی کے فیصلے پر کوئی مسئلہ نہیں تھا
فائزہ اور خمسہ جتوئی بھی خوش تھیں داد جی نے فیصلہ کیا تھا آج ہی عنصر سے بات کرکے دونوں کی منگنی کر دی جائے ۔۔۔۔
سب بچے کہاں ہیں داد جی سریہ بیگم نے نشستیں خالی دیکھ کر استفسار کیا۔۔۔۔۔
میری حسنہ پڑھ رہی ہوگی یونیورسٹی سے آکر اس کے امتحان ہونے والے ہیں نہ
اور لو عائد اور زید کا بھی کوچنگ سے آنے کا وقت ہوگیا ہے ۔۔۔
تمنا کی طبیعت کچھ ناساز ہے تو
باقی عنصر اپنے کمرے میں اسے بلا لاتی ہوں فائزہ بیگم کے بعد خمسہ بیگم نے اپنی دیورانی کو مصروف سے انداز میں کہا ۔۔۔۔
بس۔۔؟؟؟
باقی ؟؟ میری کشوہ ؟؟ کیا وہ گھر کا حصہ نہیں سریہ بیگم نے داد جی جی طرف دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔
ارے نہیں بھابھی کشوہ آتی ہے نیچے اپنے اور داؤد کے لیے کھانا ڈال کر چلی جاتی ہے ہم نے تو اسے کبھی نہیں کہا کہ ہمارے ساتھ نہ بیٹھے ۔۔فائزہ جتوئی نے فوراً بات سنبھالی ۔۔۔۔۔
آپ لگا دیں کھانا بھابھی میں دونوں کو بلا کر لاتی ہوں
سریہ جتوئی خود ہی اپنی نشست سے اٹھ کر اوپر کی جانب بھر گئیں ۔۔۔۔۔
عنصر ۔۔۔!!! خمسہ جتوئی نے بہت پیار سے بستر پر لیٹے اپنے خوبرو بیٹے کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسے جگایا۔۔۔۔
مما وہ فورا اٹھ کر ان کا ہاتھ تھام گیا مما مجھے بلا لیتی
کوئی بات نہیں میری جان آجاو ڈنر تیار ہے کھانا کھالو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا مما آپ چلیں میں فریش ہو کر آتا ہوں ان کا ہاتھ چوم کر وہ بستر سے اٹھا تھا جبکہ خمسہ بیگم کے قدم اب حسنہ کے کمرے کی جانب تھے ۔۔۔۔۔
آج عرصے بعد سریہ بیگم نے اس منزل پر قدم رکھا تھا کافی سال پہلے جب کشوہ چھوٹی تھی تب وہ یہاں آئی تھی اپنی نندھ کے پاس
اپنی نندھ کے آخری الفاظ انہیں آج بھی یاد تھے جس میں وہ تڑپ رہی تھی مگر اپنے بیٹے کے پاک دامن ہونے کی قسمیں کھا رہی تھیں ۔۔۔۔
اس پورشن کا حال اس کی توقع کے برعکس خاصی صاف ستھری تھی
پچھلے ہفتے ہی کشوہ کے لیے کشوہ کی پسند کے مطابق سامان لے کر اسلام آباد سے یہاں بھجوایا تھا وہ دور تھی اپنی بیٹی سے مگر اس کی ضروریات کا سامان اور اکاؤنٹ میں مناسب رقم ہر مہینے پاس ہوں یاں دور بھجوا دیتی تھی ۔۔۔۔۔
کشوہ واش روم میں تھی جب اس کا فون بجنا شروع ہوا داؤد کتنی دیر اس کے فون کو اگنور کرتا رہا مگر جب سامنے والے نے اپنے ڈھیٹ ہونے کا ثبوت دیا تو داؤد نے بھی بلآخر فون پکڑ ہی لیا ۔۔۔۔۔
کال اٹینڈ ہی کیا تھا جب فون سے چنگارتی نسوانی آواز پر داؤد سہم ہی گیا
دوسری طرف جو بھی تھی بہت غصے میں تھی ۔۔۔۔
” تم نے اچھا نہیں کیا کشوہ پرسو یونیورسٹی آئی بھی تو سمسٹر فریز کروانے مجھ سے مل کر بھی نہیں گئی شادی کے بعد واقع پرائی ہوگئی اور کم از کم فائینل دے کر ڈگری تو پوری کر لیتی مگر نہیں میڈیم نے تو اپنی ہی کرنی ہے مجھ بات ہی مت کرنا رہو سب سے کٹ کر برباد تو کرہی لیا ہے اپنا فیوچر ساتھ ساتھ اپنی دوستی کو خراب کردیا ہے ۔۔۔۔۔ رہو تم مجھ سے بات مت کرنا آخر میں زینب کی آواز رندھ گئی تھی “
داؤد زینب کی بات سن کر خاموش رہ گیا ۔۔۔۔
کشوہ نے اس کے لیے اپنی پڑھائی چھوڑ دی ۔۔۔۔داود کو شدید دکھ نے گھیر لیا وہ کسی قابل نہیں اس کی وجہ سے وہ بچاری اپنا کرئیر تباہ کر رہی ہے ۔۔۔۔
نہیں ایسے نہیں ۔۔۔نہیں صحیح۔۔۔۔۔
کشوہ غلط کیا آپ نے فون سائیڈ پر رکھ کر وہ کشوہ کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔۔۔
دو منٹ بعد تر چہرے کے ساتھ کشوہ واش روم سے باہر نکلی اب ڈوبٹے کو چہرے کے گرد لپیٹ رہی تھی جب داؤد نے اسے بازو سے تھام کر اپنی جانب کھینچا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ کھینچتی داؤد کے قریب ہوئی ۔۔۔۔
دوبٹہ پھسل کر شانوں پر گڑا جبکہ حجاب پن والا ہاتھ داؤد کے کندھے قریب سہارا لینے کے سبب دھڑا تھا ۔۔۔۔
داؤد ۔۔!! کشوہ نے نا سمجھی سے داؤد کو دیکھا جس کی آنکھیں سرد ہوئی ہوئی تھیں ۔۔۔
کیا ہوا ہے داؤد ؟؟!!
آپ ۔۔۔آپ نے یونیورسٹی چھوڑ دی اس کی سنہری آنکھوں میں اپنی سیاہ آنکھوں کو گاڑھے وہ درستگی سے بولا ۔۔۔۔
جی داؤد میں نے سمسٹر فریز کروا لیا تھا ۔۔۔۔۔
اب زمہ داریاں بھری ہیں تو ابھی پڑھائی ساتھ لے کر چلنا تھوڑا مشکل ہوگیا تھا
اس کی آنکھوں میں دیکھ پانا کشوہ کے لیے کہاں آسان تھا اس لیے نظریں چرائے عام سے لہجے میں بولی
مگر داؤد کی بھوئیں تنی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
پڑھائی کا ٹائم ملے گا بھی کہا ہر وقت ایک پاگل کی زمہ داریاں سر پر سوار جو رہتی ہیں جس کی وجہ سے آپ نے اپنا کرئیر تک داؤ پر لگا دیا ۔۔۔۔۔وہ پاگل یہ ڈیزرو۔۔۔۔
سس۔۔۔۔!!! سینے پر سوئی کی چبن محسوس کئیے وہ سفاک الفاظ لبوں میں تھمے
کشوہ اس کے ری ایکشن پر شدید پریشان ہوئی تھی تبھی اسے فضول بولنے سے روکنے کے لیے اس کے شانے کے قریب دھڑے اپنے بائیں ہاتھ میں تھامی پن کی نوک اسے چبائی۔۔۔۔۔۔۔
خبر دار آئندہ یہ پاگل لفظ استعمال کیا تو اس بار تو سوئی چبوئی ہے اگلی بار کشوہ داؤد کاظمی لحاظ نہیں کرے گی
کالر سے تھامے سرد لہجے میں کہا
اور اس بات کا فیصلہ مجھے کر لینے دیں کون کتنا میرے نزدیک ڈیزروینگ ہے اور کون نہیں ۔۔۔۔۔
کیسے بتائیں کن لفظوں میں بتائیں
کس قدر عزیز ہوگئے ہو تم اس دلِ ناداں کے لیے ۔۔۔۔
ہر خواہش سے پہلے ہر فیصلے سے پہلے
تمہارا ذکر مانگتا ہے یہ باغی دل ۔۔۔۔
اس کی چمکتی چھوتی آنکھوں میں دیکھتے داؤد مبہوت ہوگیا ۔۔۔۔۔
ان آنکھوں میں اپنے لیے محبت عزت دیکھنا کتنا مسرور کن تھا ۔۔۔۔۔
مگر میں چاہتا ہوں میری کشف پڑھے اور بہت پڑھ کر کچھ بنے ۔۔۔میں نہیں چاہتا تمہاری ترقی کی راہ میں میں آؤں ۔۔۔
لہجہ پگھل گیا تھا ۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح
تو داؤد دیں میرا ساتھ آپ اگر مجھے کامیاب دینا چاہتے ہیں تو میرا ساتھ دیں کشوہ جتوئی اسی دن دوبارہ اپنی پڑھائی جاتی کرے گی جب داؤد کاظمی اس کا ہاتھ تھام کر دنیا کا سامنا کرنا شروع کردے گا اور خود اسے یونیورسٹی ڈراپ کرے گا ۔۔۔۔۔
کشوہ نے حجاب باندھتے ہوئے بغیر اسے دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
پلیز ڈونٹ ڈو دِس وید می
دوبارہ اس کا رخ اپنی جانب کرتے بے بسی سے کہا ۔۔۔۔۔
تو پلیز مجھے بھی آئندہ مت کہیں گا کہ میں آگے پڑھو ۔۔۔
وہ بھی کندھے اُچکا گئی ۔۔۔۔
ابھی داؤد اسے پھر سے کچھ کہتا کہ دروازہ بجا ۔۔۔
دونوں نے ایک دوسری کی طرف دیکھا تھا پھر کشوہ چہرہ چھپائے دروازہ کھولنے کے لیے آگے بڑھی ۔۔۔۔۔
بڑے حال نما کمرے میں اس کی سسکیاں گونج رہیں تھیں
تھوڑی دیر پہلے ڈاکٹر اسے چیک کر کے گئیں تھیں
اس کے بعد بڑی ہی بے دردی سے اسے یہاں پھینک دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔
اس حال نما کمرے میں اس کے ساتھ نو لڑکیاں اور بھی تھیں جن میں سے تین تو ابھی بھی بے ہوش تھیں دو کو مار مار کر ادھ مویا کردیا تھا جبکہ باقی کی چار اور ایک اسے ملا کر زخمی مگر ہوش میں تھیں ۔۔۔۔
ان چاروں نے شاہد اپنے حال پر صبر کر لیا تھا مگر حسنہ مسلسل رو رہی تھی رو رو کر اس کی ہچکی بندھ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
” میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں حسنہ “
” میں تمہارے بغیر کچھ نہیں ہوں “
تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے کیا ؟؟ تو دور کیوں جا رہی ہوں قریب آؤ “
نا محرم کی محبت آگ ہوتی ہے !!!
آہ ۔۔۔۔۔اللّٰہ تمہیں غارت کرے شہریار مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا تم نے
“میں تمہیں اپنے ماں باپ سے ملوانے کے جارہا ہوں “۔۔۔۔
میری محبت کو چند پیسوں کے عوض پیچ دیا شہریار
میں کیوں گئی تمہارے ساتھ کیوں ۔۔۔۔
کبھی زمین پر ہاتھ مارتی تو کبھی اپنا سینا پیٹتی تو کبھی اپنے منہ پر ہی تھپڑ برسانے لگی ۔۔۔۔۔
شیری مت کرو ایسا مت کرو مجھے لے جاؤ تمہیں جتنے پیسے چائیے میں دے دوں گی پلیز نکال لو مجھے یہاں سے ۔۔۔۔۔
شیری ۔۔۔۔۔!!!!
ایک تھپڑ کا بدلا میری عزت کے ساتھ کیا ۔۔۔؟
دوہایاں دیتی ۔۔۔۔۔۔ تو کبھی اپنے بال نوچنے لگتی جبکہ وہ چاروں لڑکیاں خالی خالی آنکھوں سے حسنہ کو دیکھ رہی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔
غیر مرد پر یقین کرنے کا انجام بھگت رہی ہے
بھاری ڈیل ڈول کی عورت نے پیتل کی پلٹ میں روٹی اور سالن ڈال کر اس کے آگے پھینکنے کے انداز میں رکھی تھی ۔۔۔۔۔
حسنہ زور زور سے رونے لگی ۔۔۔۔۔
اس عورت کے جانے کے بعد ایک لڑکی اٹھ کر اس کے پاس آئی کھالو کوئی پتا نہیں وہ یہ بھی اٹھا لیں
حسنہ کو سیدھا کرکے روٹی اس کے سامنے کرتی بولی ۔۔۔۔
نہیں ۔۔نہیں کھانی مجھے نہیں ۔۔۔۔ہاتھ مار کر پلیٹ سائیڈ پر کی ۔۔۔۔۔
اچھا چھوڑو یہ بتاو تم یہاں کیسے آئی ۔۔۔
مجھے تو میری سوتیلی ماں اور جواڑی باپ نے بیچا ۔۔۔۔اس لڑکی نے تمسخرانہ انداز میں کہا
مما ۔۔۔۔پاپا حسنہ نے غائب دماغی سے کہا
مما پاپا مجھے نکالو بھائی عنصر بھائی مجھے نکالو کوئی یہاں سے
اسے شدت سے گھر والوں کی یاد آئی ۔۔۔۔
تم ۔۔تم تو وہ ہی ہو نہ جو وی لوگ میں آتی تھی ایک لڑکی جو اسے کب سے غور سے دیکھ رہی تھی اس نے چونک کر کہا ۔۔۔۔
حسنہ سسکیاں دبا رہی تھی اگر وہ یہاں سے نہ نکلی تو اگر اس کی عزت ۔۔۔!!! آگے سوچنا بھی محال تھا اس کے لیے ۔۔۔۔۔۔
مجھے گھر جانا ہے بس ایک ہی کلمہ پڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
اس جہنم میں ایک دفعہ جو آجائے وہ کفن پہن کر ہی یہاں سے نکلتا ہے معلوم نہیں۔ یہ لوگ اسے دفناتے ہیں یاں یوں ہی گدھوں کی خوراک بنا دیتے ہیں
پہلے جیتے جی زمینی گدھ پھر مرنے کے بعد آسمانی گدھ
وہ لڑکی دیوار کے ساتھ سر لگا کر مایوسی کی آخری حدوں پر تھی ۔۔۔۔۔
حسنہ بچے …..
حسنہ کے کمرے میں آتے خمسہ بیگم نے اسے پکارا
یہ لڑکی بھی نہ اس کا بکھرا سامان دیکھ کر سر جھٹکا۔۔۔
حسنہ بیٹا آجاو تمہاری پسندیدہ بریانی بنائی ہے آج ۔۔۔۔۔
مگر نہ تو وہ کمرے میں تھی اور نہ ہی وہ واش روم میں تھی ۔۔۔
کہیں تمنا کے کمرے میں تو نہیں ہے۔ ۔۔؟؟؟
خود سے سوال کرتی وہ تمنا کے کمرے کی جانب بھر گئیں ۔۔۔۔۔
مما ؟؟ کشوہ نے بے یقینی سے اپنے سامنے کھڑی اپنی مما کو دیکھا تھا وہ بھاگ کر ان کے گلے لگی تھی ۔۔۔۔
میری جان ۔۔۔سریہ جتوئی نے بھی اسے خود میں بھینج لیا تھا ۔۔۔۔
مما آئی مس یو سو مچ ۔!!!
می ٹو میرا بچہ ہمیشہ کی طرح اس کے ڈھکے سر پر لب رکھے اسے پیار کیا تھا
آپ کب آئی ؟؟ ان کو شانوں سے تھامے پرجوش ہوکر بولی تھی ۔۔۔۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آئی ہوں اور اب ادھر لاہور میں ہی رہوں گی وہاں کا کام ختم ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔
سریہ جتوئی نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔
واو ۔۔۔مما اس سے بڑی نیوز کوئی نہیں ۔۔۔
افف میں بھی پاگل ہوں آپ اندر آکر بیٹھیں میں آپ کے لیے جوس کے کر آتی ہوں انہیں ہاتھ سے پکڑ کر کمرے میں لے کر آئی ۔۔۔۔
نہیں کشوہ تم نیچے چلو سب ڈینر پر انتظار کر رہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
ان کی گفتگو میں داؤد کا کوئی ذکر نہیں تھا
انھوں نے ٹوکنا چاہا مگر کشوہ ان کے ہاتھ چوم کر انہیں وہاں موجود صوفے پر بٹھا گئی
آپ بیٹھ کر داود سے باتیں کریں میں بس ابھی آئی پھر چلتے ہیں ۔۔۔۔۔
کشوہ کے کمرے سے جانے کے بعد داؤد کو بے چینی ہونے لگی
وہ مسلسل زمین پر نظریں گاڑے نیچے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
جبکہ سُریہ جتوئی آس پاس کی دیواروں کو دیکھنے لگیں جہان ایک جانب اللّٰہ اور دوسری جانب محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا نام کیلی گرافی سے لکھا ہوا تھا وہ جانتی تھیں یہ کشوہ کے شوق تھے ۔۔۔۔۔
تم ۔۔۔میری بیٹی کو مارتے تو نہیں ہوں
لہجے میں بلا کی سردی تھی ۔۔۔۔داود نے پہلے نا سمجھی سے ان کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
نن۔ن۔نہیں نہیں خوف کے باعث زور زور سے نفی میں سر ہلانے لگا ۔۔۔۔
تمہاری شادی میری بیٹی سے صرف اور صرف داد جی کے فیصلے کی وجہ سے ہوئی ہے
اور وہ صرف ہمدردی کی وجہ سے اس نکاح کے لیے راضی ہوئی تھی
دور رہنا میری بیٹی سے نہیں تو میں اسے یہاں سے کے کر یہ شہر کی نہیں ملک بھی چھوڑ کر چلی جاؤں گی
نہیں۔ داؤد کی تو سانسیں اٹک گئیں
کشوہ کے خود سے دور جانے کا خیال ہی سوہان روح تھا
نہیں ۔۔۔پلیز ممانی ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔
نہیں اسے پھر سے پینک اٹیک آیا تھا
سُریہ جتوئی ہڑبڑا گئی ۔۔۔۔۔
کشوہ جوس کے گلاس کے ساتھ ری فریش منٹ لائی تھی داؤد کی بگڑتی حالت دیکھ کر ٹرے صوفے پر رکھ کر اس کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے داؤد ۔۔۔۔داود داؤد اپنے ہاتھ شانوں پر رکھ کر اسے پرسکون کرنے لگی ۔۔۔۔
دوائی دوائی دراز سے دوائی نکال کر فوراً اس کے منہ میں ڈالی اب بوتل کا ڈھکن کھول کر اسے اس کے منہ کے ساتھ لگا دیا۔ ۔۔
سُریہ جتوئی لب بھینچ گئیں ۔۔۔۔۔انہوں نے غلط کیا شاہد؟؟؟؟
داؤد قدرے بہتر ہوا مگر وہ سُریہ جتوئی کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا اب ۔۔۔۔
مما آپ کا کر ڈنر شروع کریں میں کچھ دیر میں آتی ہوں
ابھی ابھی داؤد کے سامنے دو زانوں ہو کر بیٹھی وہ سُریہ جتوئی سے بولی ۔۔۔۔
ہمم۔ ہاں ۔۔۔۔اخری نظر دونوں پر ڈال کر وہ ان کے کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے داؤد ۔۔اپنا دائیاں ہاتھ اس کے گال کے ساتھ مس کر کے پوچھا ۔۔۔۔
آپ ۔۔۔نہیں جانا میں نہیں ۔۔۔۔جانا کہیں دور مجھ سے
اپنے ہاتھوں کی مضبوط گرفت اس کے ہاتھوں پر کئیے وہ التجائیہ بولا ۔۔۔۔۔
میں کہیں نہیں جا رہی داؤد آپ فکر مت کریں ۔۔۔۔۔
پکا ؟؟؟
پکا پرومس۔۔۔
چلیں اب آپ اٹھیں ہم ڈنر کے لیے جا رہیں ہیں ۔۔۔نیچے ۔۔۔
نہیں وہ اسے کھینچ کر اپنے ساتھ بٹھا گیا
نہیں ابھی چلیں میرے ساتھ نہیں تو میں نے نہیں بولنا آپ سے ۔۔۔۔۔
میں۔۔۔۔ گیا۔۔۔۔تھا۔۔۔ نہ۔۔۔۔ آج۔۔۔ باہر !!
مگر تھے تو گاڑی میں ہی نہ داؤد چلیں میرے ساتھ سب نیچے اپنے ہیں کوئی باہر کا نہیں ہے
اس طرح بند رہیں گے تو کب دوسروں کا سامنا کرنا سیکھیں گے چلیں پلیز ۔۔۔۔
وہ اسے کھینچتے ہوئے باہر لے گئی ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم ریڈرز 😀کیسے ہیں سب چلو اچھے اچھے
