Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

داد جی خاموشی سے واپس عنصر کے سہارے نیچے چلے گئے ۔۔۔
نہ کوئی فیصلہ سنایا نہ انہیں روکنے کی کوشش کی ۔۔۔
تمنا بھی داد جی کی خاموشی پر سکون کا سانس لئیے ان کے پیچھے ہی نیچے چلی گئی ۔۔۔۔

ایک دفعہ پھر داد جی انصاف پسندی سے فیصلہ کرنے میں ناکام رہے ۔۔۔۔


کشف کیا ہوا ہے؟؟؟۔۔۔۔۔

داؤد نے اسے سر پکڑ کر بیٹھے دیکھ داؤد نے فکر مندی سے کہا ۔۔۔۔
کچھ نہیں اپنا ماتھا مسل کر آنکھوں کو انگلیوں کی پوروں کی مدد سے دبایا ۔۔۔
کیا ہوا ہے کشف آپ مجھے نہیں بتائیں گی ۔۔۔
ملائمت سے بھرپور لہجے میں پوچھا ۔۔۔
آپ نے تمنا کو ہاتھ کیوں لگایا ۔۔۔؟؟ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتے داؤد کو تڑپا گئی
آپ ۔۔۔اپ بھی مجھ پر شک ۔۔؟!!
ہر گز نہیں داؤد ۔۔۔کشوہ نے سختی سے اس کی بات کی نفی کی وہ کیوں بھلا اس پر شک کرے گی

میں یہ پوچھنا چاہ رہی ہوں کہ آخر اس نے ایسا کیا کیا کہ آپ اتنا پینک ہوگئے داؤد مجھے آپ کی فکر ہے آپ کی کنڈیشن اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ آپ اتنا پینک ہوں یاں ایگریسیو ہوں ۔۔۔۔

ہاتھ تھام کر ساتھ ہونے کا یقین دلایا گیا
وہ ۔۔وہ صحیح نہیں تھی کشف ۔۔۔وہ قریب تھی مجھے گھٹن ہونا شروع ہوگئی مجھ ۔۔مجھ سے نہیں برداشت ہوا کسی کا بھی آپ کے جتنا پاس ہونا ۔۔۔
وہ غلط تھا اس کا ارادہ ۔۔۔ٹرانس سی کی کیفیت میں وہ کہتا چلا گیا ۔۔۔۔
اب جب کشوہ نے ہاتھ تھام کر یقین کے سارے دھاگے اس کے ساتھ باندھ دیئیے تھے تو داؤد انہیں مضبوطی سے تھام لینا چاہتا تھا ۔۔۔۔

کہاں ممکن تھا ایک بھی پل اب کشوہ کے بغیر ۔۔۔۔

کشوہ سر تھام گئی داؤد کی بات اچھے سے سمجھ رہی تھی ۔۔۔
افف تمنا ۔۔۔!! میں کیا کہوں تمہیں ۔۔؟؟؟
کشوہ نے دکھ سے سوچا ۔۔۔
سچ جان کر سر تو ڈھول کی طرح بجنے لگا نسیں بھی سنا اٹھیں ۔۔۔۔
کیا ہوا ابھی بھی سر میں درد ہے ۔۔؟؟

اسے مسلسل سر تھامے دیکھ داؤد نے فکر سے لبریز آواز میں پوچھا ۔۔۔

ہم بس۔۔۔!!!

ادھر آئیں اسے بیڈ سے اٹھا کر صوفے پر بیٹھایا ۔۔۔۔کیا کر رہے ہیں داؤد ۔۔۔۔کشوہ نے اسے ڈریسنگ کے دراز میں کچھ تلاش کرتے دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔
ایک منٹ ۔۔۔۔وہ ہاتھ میں تیل کی بوتل پکڑ کر اس کے پاس آیا ۔۔۔

خود صوفے پر بیٹھ کر اسے سامنے اس انداز میں بیٹھایا کہ کشوہ کے سر تک اسے ہاتھ پہنچے ۔۔۔۔
یہ کیا ۔۔..؟؟ کشوہ نے چہرہ پیچھے موڑ کر سوالیہ انداز میں پوچھا ۔۔۔

شش !!! لبوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش کروایا ۔۔۔
اب بس آپ “اپنے داؤد” کے ہاتھوں کا جادو دیکھیئے گا ۔۔۔۔

وہ جس مان سے” اپنے داؤد ” کہتا تھا اس کا دل دھڑکا جاتا تھا ۔۔۔
اس کا سر ڈوبٹے سے آزاد کروا کر جوڑے میں بندھے بالوں کو کھولا اور نرمی سے ان میں انگلیاں ڈال کر انہیں سہلانے لگا ۔۔۔۔

ایک سکون کی لہر کشوہ کے پورے جسم میں دور گئی وہ آنکھیں موند کر صوفے کے نیچے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
ساری جسمانی اعصابی تھکاوٹ جیسے ہوا ہوئی ۔۔۔۔

داؤد نرمی سے اس کے سر کو سہلا رہا تھا پھر ہاتھ میں تیل ڈال کر اس کی مالش کرنے لگا ۔۔۔۔
پر سکون سا سانس لے کر وہ مسکرائی آنکھیں نیند کے خمار سے بند ہونے لگی ۔۔۔۔
آخری لمس۔۔۔۔۔ اس نے داؤد کے پوروں کو اپنی آنکھوں کے قریب محسوس کیا
پھر وہ گہری نیند میں چلی گئی ۔۔۔۔


کشف !!!
ہاتھ کو ٹیشو پیپر سے صاف کرکے داؤد نے کشوہ کو پکارا مگر ہو تو گہری نیند میں تھی ۔۔۔۔
داؤد نے اس کے بال ٹیڑھے میڑھے انداز میں باندھے ۔۔۔۔
اپنے گھٹنے کے ساتھ لگے اس کے گال کو تکنے لگا ۔۔۔

آنکھوں کے سامنے تھوڑی دیر پہلے کا منظر ناچنے لگا ۔۔۔۔

بہت برا لگا تھا اسے عنصر کا کشوہ کو تکنا دل کیا کشوہ کو یہاں سے چھپا کر کہیں اور لے جائے جہاں کوئی بھی اسے دیکھنا تو دور سن بھی نہ سکے ۔۔۔۔

“اس کی کشف” کا کیا قصور
وہ تو ہمیشہ اس کے لیے لڑ جانے کو تیار رہتی ہے
کشوہ نے کس طرح ہمیشہ اس کے لیے سٹینڈ لیا وہ بھی اب یہاں نہیں رہے گا جہاں اس کی کشف کہے گی وہ وہی جائے گا ۔۔۔۔

اسے رہ رہ کر تمنا کی گھٹیہ حرکت یاد آرہی تھی ۔۔۔
مکار جال باز عورت !!!
نفرت سے اسے سوچا پھر سر جھٹک گیا وہ اس قابل بھی نہیں کہ داؤد کی سوچو میں آئے ۔۔۔۔


تم اوپر کیا کر رہی تھی ۔۔۔۔
کمرے میں داخل ہوتے جس سختی سے عنصر نے تمنا کے بازو پر اپنی گرفت قائم کی تھی۔۔۔
تمنا کراہ کر رہ گئی ۔۔۔
کیا مطلب عنصر آپ کا ۔۔۔۔؟؟؟ یہ میرا گھر ہے میں جہاں مرضی جاوں ۔۔۔۔
میں کسی کی اجازت کی پابند نہیں ہوں ۔۔۔

مزاحمت کرتے ہوئے اس نے اونچی آواز میں کہا ۔۔۔۔
تم عنصر جتوئی کی بیوی ہو تمنا عنصر اس گھر تو کیا اس کمرے سے بھی باہر نکلنے کے لیے میری اجازت کی پابند ہو وہ اس کے کان کے پاس پھنکارا۔۔۔۔

چھوڑو عنصر مجھے درد ہورہا ہے ۔۔۔تمنا نے درد کے باعث بھرائی ہوئی آواز میں کہا ۔۔۔
عنصر نے جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا اس سے پہلے کہ تمنا کمرے سے باہر نکلتی عنصر نے اسے تھام کر بیڈ کی جانب دھکیلنے کے انداز میں کیا ۔۔۔

خبردار تمنا جو تم کمرے سے باہر گئی یہاں اس کمرے میں ہمارے درمیان ہوئی کسی بھی بات کو اس کمرے کی چار دیواری سے باہر نکالا ۔۔۔
میں بھول جاؤں گا تم اس گھر کی لاڈلی ہو۔۔۔
تمہارے لئیے بہتری اسی میں ہے تم میرے عتاب کو مت جگاؤ۔۔۔۔


اگلی صبح کشوہ اور داؤد یہاں سے جانے کے لیے بالکل تیار تھے ۔۔۔۔
کشوہ نے سوچ لیا تھا انہوں نے کہا جانا ہے ۔۔۔۔
سریہ بیگم کو وہ رات کو ہی اپنا فیصلہ سنا آئی تھی جس پر سریہ بیگم نے اسے ایک سے دوسری بار اسرار نہیں کیا تھا یہ ان کی بیٹی کی جنگ تھی جس میں وہ اس کا سہارا بننا چاہتی تھی مخالفت نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔

داؤد اور کشوہ اس وقت داد جی کے کمرے میں موجود تھے ۔۔۔۔
داد جی بے چین سے نظر آئے ۔۔۔
شاہد وہ ان دونوں کے گھر چھڑنے کے حق میں نہیں تھے مگر اب کیا فائدہ جب بولنے کا وقت تھا تب گھر کے سربراہ خاموش تھے۔۔۔۔

داد جی ہم بس آپ کو اتنا بتانے آئے ہیں کہ ہم جارہے ہیں آج جتوئی ہاؤس سے
اب آپ کے کسی بھی لاڈلے کو ہم سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا
کشوہ بچے داد جی اس کے سر پر ہاتھ رکھنے کے لئیے آگے بھرے
تو کشوہ چند قدم دور ہوگئی ۔۔۔
یہ ہاتھ تب رکھئیے گا داد جی جب آپ کو میرے شوہر کی بے گناہی پر یقین آ جائے گا ۔۔۔
چند قدموں کے فاصلے پر موجود کھڑا داؤد خاموش تماشائی بنا ہوا تھا ۔۔۔
چلیں داؤد کشوہ نے اسے اشارہ کیا وہ کمرے سے باہر نکلا ۔۔
بس اتنا کہوں گی داد جی آپ کی محبت بہت مطلبی ہے آپ ایک کے ساتھ انصاف کرتے کرتے دوسرے کے ساتھ نا انصافی کر جاتے ہیں ۔۔۔۔
اور جس گھر کے سربراہ ہی عدل سے انصاف نہ کر سکیں اس گھر کی بنیادیں کمزور ہوجاتی ہے ۔۔۔۔


کشوہ کے کمرے سے جانے کے بعد کہیں آنسو داد جی کے جھڑیوں زدہ چہرے پر پھسلے ۔۔۔۔
دیکھا تم نے میں ہمیشہ انصاف کرنے کے معاملے میں کمزور رہا ہوں برسو پہلے بھی مجھے کسی نے یہ ہی الفاظ کہے تھے آج بھی مجھے میری پوتی یہ کہہ کر چلی گئی ۔۔۔۔
ہاتھ میں تھامی تصویر کے ساتھ ماتھا جوڑے وہ سسک اٹھے تھے


آپ لوگ کہاں جارہے ہیں ۔۔۔؟؟
عنصر نے ان دونوں کو گاڑی میں بیٹھتے دیکھ کر پریشانی سے کہا ۔۔۔
یہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔
وہ ہی کشوہ کا لٹھ مار سا لہجہ جو عنصر کو ہرگز بھی برا نہیں لگتا تھا ۔۔۔۔
یوں گھر چھوڑ دینا حل نہیں ہوتا
اسے جانے کیا فکر کھائے جا رہی تھی ۔۔۔۔

عنصر صاحب آپ بہتر ہے اپنی بیوی کی دلجوئی کریں بچاری کل کی خوفزدہ ہوگی
جھوٹا الزام لگانے کے بعد سے ۔۔۔
کشوہ نے آخری جملہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھتے ہی گاڑی کا دروازہ بند کیا

گاڑی کے شیشے اوپر کرتے ہوئے کشوہ نے ایک آخری نظر جتوئی ہاؤس پر ڈالی وہ تو سب سے مل بھی نہیں سکی ٹھیک سے خیر اسے دکھ نہیں تھا گھر چھوڑنے کا کیونکہ جو اس نے سوچ رکھا تھا آگے کے لیے اسے اللّٰہ پر پورا یقین تھا اسی میں اس کی اور داؤد کی کوئی بیتی چھپی ہوگی ۔۔۔۔

اس نے ساتھ بیٹھے داؤد کو دیکھا وہ بہت سنجیدہ تھا ۔۔۔۔پھر اس نے داؤد کی کشادہ ہتھیلی میں دبے اپنے ہاتھ کو دیکھا ایک تحفظ کے احساس کو اسنے اپنے گرد محسوس کیا ۔۔۔۔


اسے نہیں معلوم تھا کتنے گھنٹوں کا سفر ہے تبھی آنکھیں تھکی تھکی سی اب نیند کے باعث بند ہونے لگی ۔۔۔

جبکہ داؤد سنجیدہ سا اس کے پہلوں میں بیٹھا رہا ۔۔۔۔

گاؤں کی سرحدوں پر جیسے ہی گاڑی داخل ہوئی کتنے ہی جملوں کی بازگشت داؤد کو سنائی دی ۔۔۔۔

اس بد بخت نے چوری کی ہے
جیسی ماں ویسا بیٹا ۔۔۔۔۔

ہمیں بچائے ۔۔۔کوئی تو ہمیں بچائے ان وحشیوں سے ۔۔۔۔۔
مدد کرو میری مدد۔۔۔
ہمیں مت کریں رسوا ۔۔۔۔۔۔
خود کو بچاتی تڑپتی بنت ہوا بے بسی کی آخری حدوں پر تھی ۔۔۔۔۔
خدا غارت کرے تمہیں بزدل انسان خدا تمہیں عبرت بنائے
تمہاری بہن بیٹی بھی ہوں ہی رسوا ہو ۔۔۔۔
بزدل کمینے ۔۔۔۔۔۔۔
پھٹی آستینوں سمیت ہاتھ پاؤں مارے
اللّٰہ کے لیے مدد کردو ۔۔۔۔
اللّٰہ مدد کر میری ۔۔۔۔۔کوئی تو بچائے ۔۔۔۔
وہاں کی تلخ یادیں آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی

کشوہ نے محسوس کیا داؤد کی پکڑ مضبوط ہوئی ہے وہ جو نیم غنودگی میں جارہی تھی اب سیدھی ہوگئی ۔۔۔
کوئی بھی بات اس سے ڈھکی چھپی نہیں ہوئی تھی
وہ اس کی دلی کیفیت کو اچھے سے محسوس کر سکتی تھی۔۔۔۔

اس نے داود کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا ۔۔۔۔


دن جیسے جیسے گزر رہے تھے حسنہ کی ملاقاتیں ملکہ بیگم کے ساتھ بھارتی جارہی تھی جو بات بائی کے لیے ہضم کرنا مشکل تھی مگر صرف ملکہ بیگم کی وجہ سے خاموش تھی ۔۔۔۔
حسنہ کا حد سے زیادہ ملکہ بیگم سے ملنا اسے باغی بنا سکتا تھا ۔۔۔۔
بائی نے سوچ لیا تھا اس نے اب کیا کرنا ۔۔۔۔
بیت غلط کر رہی ہیں یہ دونوں چھوکڑیاں ۔۔۔۔پانی میں رہ کر مگرمچھ سے بیر بائی نے منہ پھیر کر حقارت سے کہا ۔۔۔۔

اس کے بعد بائی نے کسی کو فون ملایا
چنبیلی نے خوف سے بائی کا یہ روپ دیکھا تھا ۔۔۔۔
پہلی بار جب بائی کا یہ روپ اس کے سامنے آیا اس رات قیامت آئی تھی یہاں پر ۔۔۔۔

اس لڑکی کی سسکیاں آج تک چنبیلی کو سونے نہیں دیتی تھی ۔۔۔۔
وہ مشکل سے لب نگلتی اس کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔
اس کمرے میں اس کا سانس گھٹنے لگا تھا ۔۔۔۔


تم یہاں پر کیسے آئی ۔۔۔۔؟؟؟
ابھی ملکہ بیگم کے کمرے سے واپس ہوکر آئی تھی حسنہ وہ جب کمرے میں۔ گئی تو ملکہ بیگم نماز پڑھنے میں مصروف تھی تو وہ خاموشی سے واپس آگئی جانے کیوں ملکہ بیگم کے پاس بیٹھ کر اس سے اپنے غم بانٹ کر اسے سکون ملتا تھا ۔۔۔
اب اس کے کمرے کی صفائی کرنے والی کو تجسس سے دیکھ کر حسنہ نے پوچھا تھا ۔۔۔۔

وہ بھی جیسے اپنے دکھ چھپائے بیٹھی تھی
بس کسی نے محبت کے باغ دکھا کر اس زندان میں قید کروا دیا۔۔۔۔
حسنہ نے اس کے سانولے چہرے کی جانب دیکھا وہ اتنی خوبصورت نہیں تھی تبھی شاہد اسے ملازمہ بنا دیا تھا ۔۔۔۔

کاش وہ بھی خوبصورت نہ ہوتی تو اسے بھی ملازمہ والا کام ملتا
نہیں اگر وہ خوبصورت نہ ہوتی تو کوئی اسے نہ بیچتا نہ خریدتا ۔۔۔

وہ اس کے چہرے کی جانب دیکھتی سوچو میں کھوتی ہی چلی گئی ۔۔۔۔

شہریار نام تھا اس کا ۔۔۔۔میرے سانولے چہرے کی جانب دیکھ کر کہتا تھا مجھ سے زیادہ پر کشش اور حسین کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔اور سدا کے طعنے اور تمسخر سننے والی میں اس کی میٹھی باتوں میں آگئی ۔۔۔۔

شہریار ۔۔!!!
اس نام نے حسنہ کو بری طرح جھنجوڑ کر حال میں لا پٹخہ۔۔۔۔۔


یہ منظر بہت ہی بڑے نیوز چینل کے ہیڈ کواٹر کا تھا جہاں ترتیب سے لگی چھ کرسیوں میں سے ایک سربراہی کرسی پر سے ایک چالیس کے قریب سال کا آدمی کھڑا ہوا ۔۔۔۔

عقیل تم کرلو گے ۔۔۔؟؟
ہیڈ نے آخری دفعہ تیسری کرسی پر بیٹھے نوجوان لڑکے کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔
یس سر ان شاءاللہ میں ان لوگوں کے اصلی چہرے سامنے لے کر آؤں گا ۔۔۔۔
اوکے گڈ جوب ینگ مین ہیڈ نے چند کاغذات پر دستخط کرکے انہیں آگے پاس کیا ۔۔۔۔

اور ایک اور بات دھیان میں رکھنا اپنی اصل پہچان میں ہرگز وہاں مت جانا ۔۔۔ہیڈ نے ایک آخری تلقین کی اور پھر میٹینگ روم سے نکل گئے ۔۔۔۔

بیسٹ آف لک عقیل اسی میٹنگ روم میں چند کرسیوں کے فاصلے پر بیٹھی عقیل نامی شخص کی بیوی جو اس کی امپلائی بھی تھی اس نے اسے وش کیا ۔۔۔


جاری ہے ۔۔۔۔