No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
تمہارے امریکہ سے جانے کے بعد میرا دماغ خراب ہوگیا تھا میں نے ہر وہ غلط کام کرنے شروع کردئیے جس نے مجھے میری ہی نظروں سے گرا دیا
کلب میں جانا نشہ کرنا ون نائی۔۔۔ زبان لرزی
عنصر نے مٹھی بھینچ لی ۔۔۔
ڈرگز سب عام ہوگیا میرے لئیے ایک دن ایسے ہی نشے کی حالت میں سڑک میں پڑی تمہیں بد دعائیں دے رہی تھی ۔۔۔
عنصر یو چیپسٹر
گاڈ تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا ۔۔
You rejected me
Me Ashley Adison
تم نے مجھے ٹھکرا دیا
مجھے ایشلے ایڈیسن کو
تھو۔۔۔۔
وہ بولے جارہی تھی رات کا سماں جہاں اب بس کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھی وہاں وہ بغیر ہوش و حواس کے چلتے جا رہی تھی جب ایک گاڑی کے ساتھ اس کی ٹکڑ ہوئی ۔۔۔۔
سیاہ عجیب سے کپڑے میں اس نے کسی کو دیکھا تھا جو اس پر جھکا تھا.۔۔۔۔
اور اس کی آنکھیں بند ہوگئیں
اگلی صبح وہ اٹھی تو اس نے خود کو نرم گرم بستر پر پایا تھا درد سے ٹوٹتا جسم
اس نے خود کو دیکھا یہ کیسے کپڑے اس نے پہنے ہوئے تھے
کہیں اس کے ساتھ کچھ ۔۔۔۔۔!!! اس سے آگے سوچنا محال تھا اس کا دل یک بعد دیگرے دھڑکا تھا
تبھی ایک تیس پینتیس سال عورت کمرے میں آئی تھی اس نے اپنا سر ڈھکا ہوا تھا جبکہ اس نے لانگ فراک پہنے رکھی تھی ہاتھ میں ٹرے تھی جس میں جوس اور ٹوسٹ ہی اسے نظر آئے ۔۔۔
یو آر یو؟ سب سے پہلہ سوال جو اس نے کیا تھا
وہ عورت دھیما سا مسکرائی
سعیدہ۔۔۔
ایشلے کتنی دیر اس کی مسکراہٹ میں کھوئی رہی تھی ۔۔۔۔
ناشتہ کرلو سعیدہ نے بہت پیار سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا جسے ایشلے نے جھٹک دیا
اوو تو تم بھی مسلم ہو عنصر کی کمیونٹی کی اس جیسی مکار ایشلے ایک دم سے آپے سے باہر ہوگئی
سعیدہ پریشان ہوئیں
بہت مشکل سے اسے سنبھالا ۔۔۔۔
فلحال پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اور طبیعت بھی ٹھیک نہیں تھی اس لیے خاموشی سے سعیدہ کے پاس ہی رہ رہی تھی
تمہیں مجھ پر غصہ نہیں آتا ایشلے نے حیرانگی سے اس کے صبر کو دیکھا تھا جو ہمیشہ اس کے غصے اور بد تمیزی کو برداشت اور تحمل سے پی جاتی
غصہ تو آتا ہے میں انسان ہوں مگر تم پر نہیں سعیدہ نے دھیمے لہجے میں کہا
مگر اسے تو بہت آتا تھا غصہ اس نے مجھے سلیپ بھی کیا تھا
ایشلے نے ٹرانس میں کہا
سعیدہ کو اس کے لیے دکھ ہوا اور اس ان دیکھے شخص پر غصہ بھی آیا تھا
ہوا کیا تھا ۔۔؟؟؟
سعیدہ نے دھیرے سے اس کے ہاتھ اپنا اپنا در کر پوچھا
ایشلے بھی جانے کس موڈ میں تھی اسے ہر بات بتاتی چلی گئی ۔۔۔۔
ایشلے جو پہلے اس ان دیکھے شخص پر غصہ کر رہی تھی اب اسے ایشلے کی جلد بازی پر تاسف ہوا
کوئی بھی مسلمان یہ بات ہر گز برداشت نہ کرتا مگر اسلام میں جبر کا حکم کہیں پر نہیں ہے وہ اسے آرام سے بھی سمجھا سکتا تھا
خیر اب اللّٰہ نے اسے اس سے ملوایا تھا جس میں یقیناً دونوں کے لیے کوئی مصلحت ہوگی
سعیدہ نے سوچ لیا تھا وہ اس لڑکی کے لیے اللّٰہ کے حکم سے راہ خیر بنے گی ۔۔۔۔
میری کوئی نیکی تھی جو مجھے سعیدہ ملی جس کے حسن سلوک نے مجھے خرید لیا یہاں تک کہ میں تمہیں بھول گئی
میں اس کی زات میں دلچسپی لینے لگی
اور جب آپ کسی کی زات میں دلچسپی لینے لگ جاؤ تو آپ اس کے پر عمل میں دلچسپی لینا شروع کر دیتے ہیں
اللّٰہ پاک نے شاہد مجھے ہدایت کے لیے چن لیا تھا کبھی ایک سال میں میری زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئیں
اور پھر میں نے بغیر کسی کے دباؤ میں آئے اسلام قبول کیا اور جب میرے ٹوئن برادر کو یہ پتا لگا وہ میری جان کا دشمن بن گیا
میں واپس سعیدہ کے پاس آئی سعیدہ نے مجھے سمجھایا کہ میں اس کے پاکستان والے گھر چلی جاؤں اس نے اپنی امی اور بہن سے بات کرلی تھی
پاکستان کے زکر پر مجھے تمہاری یاد آئی فل پھر باغی ہوا خواہش ہوئی تم سے ملنے کی ۔۔۔
مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا کار کے ڈرائیور کی نیت خراب ہوگئی وہ مجھے غلط جگہ لے گیا اور پھر بھاری رقم کے عوض مجھے اس جگہ بیچ گیا
مجھے کتنے پل سمجھ نہیں آئی میرا ساتھ ہوا کیا ۔۔۔۔
عنصر کی آنکھوں سے آنسو نکلے کتنی تکلیفیں برداشت کی تھی اس نے
عنصر نے بے ساختہ اسے سمیٹنا چاہا مگر رک گیا
فاطمہ کیا تم عنصر جتوئی اپنے نکاح میں قبول کرو گی
آنکھیں میں مان لئیے وہ عقیدت سے نظریں جھکائے بولا
اسے فاطمہ سے محبت نہیں عقیدت ہوگئی تھی ۔۔۔۔
مگر عنصر میں تم بہت خاص ہو فاطمہ اللّٰہ کا تحفہ آنی توہین مت کرنا
اس نے اسے خود کے بارے میں کچھ کہنے سے روکا تھا ۔۔۔
اور آپ کی بیوی ؟؟!!
اسے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا یہ میرا وعدہ ہے تم سے مجھے پر یقین کرو اسے کیا گھر میں کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا ۔۔۔۔
پولیس سٹیشن میں بھی جب کام پر دھیان نہ لگا تو بالآخر عبیر صاحب ہاسپٹل میں موجود تھے
حسنہ کا بی پی سوٹ کر گیا تھا
عبیر کو عنصر ہر غصہ آیا جو اپنی بہن کو اس حالت میں چھوڑ کر پتا نہیں کہاں غائب تھا
ابھی وہ اسے کال ملاتا عنصر بھاگتا ہوا آیا
عبیر تھینک گاڈ تو آگیا مجھے نرس کی کال آئی تھی حسنہ کا بی پی شوٹ کرگیا
ہاں اور تم اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے
عبیر کا لہجہ عجیب ہوا جسے عنصر پریشانی میں محسوس نہیں کر سکا تھا ۔۔۔۔
بھائی ۔۔۔۔عنصر اندر گیا عبیر بھی اسی کے پیچھے اندر گیا تھا
بھائی میں نہیں جاؤں گی گھر مجھے کوئی قبول نہیں کرے گا بھائی مجھے نہیں رہنا زندہ وہ ہائپر ہورہی تھی
ابھی کل تک تو وہ ٹھیک تھی عبیر کو تشویش ہوئی
وہ ایک کال سننے باہر گیا جب دو نرسوں کی آپس کی گفتگو نے اسے متوجہ کیا ۔۔۔
تم پاگل کو انعم کیا کہہ رہی تھی تم اس پیشنٹ کا
ایک نرس انعم نامی نرس پر بھڑکی
صحیح تو کہا جس حالت میں وہ آئی ہے کون اسے قبول کرے گا اور میں نے تو ہمدردی ہی کی تھی اس کے ساتھ
عبیر معاملہ سمجھتے مٹھیاں بھینج گیا ۔۔۔۔
اپنی ہمدردیاں اپنی زات تک محدود رکھیں نہیں تو جب اس نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھو گی تو مل کر کرنا ایک دوسرے سے ہمدردی
عبیر کی دھاڑ پر وہ دونوں اچھلی تھیں
عنصر کے کمرے سے جانے کے بعد داد جی کے قدم لڑکھڑائے وہ پاس پڑی کرسی پر ڈہ گئے ۔۔۔۔
“داد جی دوسری شادی کرنا گناہ ہے اور اگر گناہ ہے تو چند سال قبل آپ کیوں اس گناہ کے مرتب ہوئے ۔۔۔۔”
وہ گہری سانس بھر کر رہ گئے آج ان کے پوتے نے انہیں طعنہ دے دیا
انھوں نے اپنے بیڈ کے سائیڈ ڈرار سے تصویر نکالی
بہت آزمائش کن فیصلے کروائے آپ نے مجھ سے تانیہ بیگم
اپنی محبوب بیوی کی تصویر پر ہاتھ پھیر کے بڑبڑ ائے ۔۔۔۔
ماضی کی خوش کن اور تلخ یادیں ایک ساتھ حملہ اور ہوئیں تھی
کلیم سائیں آپ کیوں نہیں مان لیتے ماں جی کی بات کرلیں دوسری شادی اولاد کی خوشی شاہد میرے سے ملنا نہیں لکھی تانیہ بیگم نمناک لہجے میں بولی
نہیں تانی میں ہر گز دوسری شادی نہیں کروں گا اگر اللّٰہ نے مجھے اولاد کی خوشی دینی ہوئی تو تمہارے ہی بطن سے ملے ہی وہ قطع لہجے میں بولے
تانیہ بیگم روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئیں
اپنی ساس کا بگڑا رویہ دائی کی دلدوز جملے کہ وہ بانج ہے ان کی برداشت سے اب بلا تر تھے نہیں تو کون سی بیوی اپنا شوہر بانٹتی ہے
کلیم جتوئی اپنے لب بھینج گئے اپنی تانی کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کر سکتے تھے مگر وہ بھی تو ناجائز مانگ کر رہی تھی وہ کیسے کر لیتے دوسری شادی کیسے اپنی محبت میں شرک کرتے
تانیہ بیگم ان کے بچپن کا پیار تھی ایک ہی گاؤں میں ایک ساتھ پلے بھرے دوستی پھر محبت جسے انھوں نے نکاح کا درجہ دیا وہ لوگ ہم پلہ تھے ایک جیسے امیر کھاتے پیتے خاندان سے اس لیے ان کی شادی میں کوئی دقت نہیں آئی مگر کہتے ہیں نہ جہاں محبت ہو وہاں آزمائشیں بھی آتی ہیں
اسی طرح آج تین سال بعد بھی کلیم جتوئی اور تانیہ جتوئی اولاد کی خوشی سے محروم تھے اماں سائیں جو تانیہ بیگم کو بیٹی کہتی تھی اب ان سے کٹی رہتی
تانیہ بیگم بھی دن بہ دن اسی دکھ کو دل سے لگائے کمزور ہوتی جارہی تھی ۔۔
آپ کو میری قسم کلیم سائیں نہیں تو آپ کی تانی اپنی جان لے لے گی ۔۔۔
وہ تو جیسے تیاری کرکے بیٹھی تھی آج آر یا پار کی
کیا تم برداشت کرلو گی مجھے کسی اور کے ساتھ
وہ سخت لہجے میں بولے
تانیہ کا دل لرزا ایک پل کو
میں نے بہت کچھ برداشت کرلیا سائیں ایک اور درد سہی ۔۔۔۔۔
اور اگر اس لڑکی نے مجھے تم سے چھین لیا
تانیہ بیگم کے دماغ میں ایک لہر سی دوڑی
ایک فیصلہ لیا خود غرض سا
نہیں چھینیں گی
وہ اٹل لہجے میں بولی
اچھا تو کہاں ہے لڑکی وہ بے بس ہوئے
صوبیہ!!!
صوبی ؟!! کلیم جتوئی نے متحیر ہو کر کہا
ان کی ایک اور دوست صوبیہ تانیہ کی بچپن کی دوست اس کی ہم راز
تانیہ شاہد دوستی کا امتحان لینے والی تھی
بہت سوچ کر تانیہ بیگم نے صوبیہ کا انتخاب کیا تھا
صوبی جو اس کی دوست تھی تو یہ ڈر تو تانی کو ہر گز لاحق نہیں تھا کہ اولاد کے بعد وہ اس کا شوہر چھین لے گی
باقی صوبہ کے غریب ماں باپ جن پر صوبیہ کے بعد بھی تین بیٹیوں کا بوجھ تھا وہ تو بغیر کسی مزاحمت کے پہلے ہی لمحے اس رشتے کو قبول کئیے بیٹھے تھے
صوبیہ کو بھی اس کی قسموں نے باندھ لیا
اور بلآخر ان کی شادی ہوگئی ۔۔۔
شادی تو ہوگئی مگر کلیم جتوئی کا رویہ صوبیہ کے ساتھ لیا دیا سا تھا اور تانیہ بیگم سے بھی وہ خفا تھے ۔۔۔
پھر کچھ ٹائم بعد جب صوبیہ بیگم کی امید سے ہونے کی خبر ملی تانی بیگم نے کلیم جتوئی کو منا ہی لیا جبکہ
صوبی تانیہ سے نظریں چرائی پھرتی
کلیم جتوئی کا رویہ بھی صوبیہ بیگم سے اچھا ہونے لگا
تانیہ بیگم نے ان نو ماہ صوبیہ کا بہت خیال رکھا
ساس بھی دونوں بہوؤں کے پیار پر پر سکون تھی پھر سعید جتوئی کی پیدائش پر پورے گاؤں میں مٹھایاں بانٹیں گئی مگر گھر کا ماحول تب ماتم زدہ ہوا جب ماں جی سب کو چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئیں
تانیہ جتوئی ہر وقت سعید کو تھامے رکھتی ایسے میں کلیم جتوئی کو سنبھالنے والی صوبی تھی تب صوبی کلیم جتوئی کے قریب ہوگئیں
کلیم جتوئی بھی ان پر دھیان دینے لگے
پھر ان کے گھر بیٹی کی پیدائش ہوئی مگر تانیہ کو کلیم جتوئی کی صوبی کے ساتھ نزدیکی کھلنے لگی
ان کا دھیان بچوں سے ہٹنے لگا
پھر فرید جتوئی کے اس دنیا میں آنے کے بعد سے تانیہ جتوئی براہ راست صوبیہ جتوئی پر حکم چلانے لگی
تینوں بچوں کو ان سے دور رکھتی کلیم جتوئی کی غیر موجودگی میں صوبی کو طعنے دیتی جسے صوبی برداشت کرتی
پھر ایک دن تانیہ جتوئی بے ہوش ہو کر گِری لیکن جو خبر انہیں ملی ان کی آنکھیں نم ہوگئیں
کلیم میں ماں کلیم سائیں آپ سن رہے ہیں ان کی خوشی دیدنی تھی خوش تو صوبی بھی تھی
وقت ریت کی ماند ہاتھ سے پھسلا تھا بچے بڑے ہوگئے سب کی شادی ہوچکی تھی
وقت چاہے کتنا بھی آگے چلا گیا ہو داد جی کی محبوب بیوی کا عزاز تانیہ بیگم کو ہی حاصل تھا ۔۔۔
صوبیہ بیگم بیٹی کے طلاق کے بعد ایک دن فرید جتوئی کی وفات کی خبر کا صدمہ لئیے اس دنیا سے رخصت ہوگئی ۔۔۔۔
تانیہ بیگم بھی ان کے بعد دو سال ہی جی سکی تمنا ان کی لاڈلی رہی ہوبہو ان کی جیسی اور ان کے بعد داد جی کی لاڈلی ۔۔۔
داد جی اپنی بیویوں کے جانے کے بعد بھی برابری نہ کر سکے
ماضی کی یادوں سے نکلے تو آنکھیں اشک بار ہوچکی تھیں ۔۔۔
داؤد کی پٹی کرنے کے بعد وہ باہر لاونج میں آگئی ۔۔۔۔
بیٹا آپ کو میرا ٹوکنا برا تو نہیں لگا ۔۔۔؟؟
کسی احساس کے تحت دادی نے کشوہ کی جانب دیکھ کر پوچھا
جو انہیں کھوئی کھوئی سی لگی
نہیں دادی جان مجھے کیوں برا لگے گا ۔۔۔
ہاں بیٹا میں دیکھ رہی وہ آپ پر بہت انحصار کرتا ہے جو آپ دونوں کے ہی رشتے کے لیے صحیح نہیں کل کو جب آپ کی اولاد ہوگی تو اس پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔۔۔۔
اولاد!!!…
کشوہ کے گال لال ہوئے اس نے تو کبھی نحج پر سوچا ہی نہیں تھا
کہ کبھی داؤد بالکل ٹھیک ہوگا ان کا رشتہ کونسا مور لے گا
دادی نے اس کے سوچوں کے نئے در کھولے تھے ۔۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا اب اس نے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
فائزہ بیگم رو کر بے حال ہوئی ادھر بیٹی کا گھر اجڑ رہا ہے اور بیٹی کو کوئی فکر نہیں
کیوں ہو تم اتنی خود سر تمنا تمہارا شوہر دوسری شادی کرنے لگا ہے تمہارے سر پر سوتن لانے لگا ہے اور تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا فائزہ بیگم نے اسے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔
تو کیا کرو ماں جاہل عورتوں کی طرح پیٹوں روؤں کیا کروں کیا چاہتی ہیں ماتم کرتی پھروں گھر بھر میں اور میری عنصر سے شادی کس کی رضا مندی سے ہوئی ہے وہ جواب لیں اس مکار شخص سے میں کیوں اپنا خون جلاؤں
تمنا خود سری سے ان کا ہاتھ جھٹک کر اپنے کمرے کی جانب بھر گئی ۔۔۔۔۔
داؤد کو سر درد کے بعد بخار نے جکڑ لیا تھا
وہ جو انتظار کر رہا تھا کہ کشوہ آئے گی اور تب تک اس کی دیکھ بال کرے گی جب تک اس کا بخار نہ کم ہوجاتا مگر اس کی ساری خوش فہمیاں تب دھڑی دھڑی کی رہ گئی جب امن کے بھیج کر بلوانے پر آنے کی بجائے کشوہ نے سوپ اور بخار کی دوا بھیجی تھی
کشوہ اسے اگنور کر رہی تھی وہ بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہ گیا سوپ بھی نہیں پی سکا
کشوہ نے داؤد کے سوپ تو بھیج دیا تھا مگر اسے بے چینی ہورہی تھی دل کر رہا تھا ابھی داؤد کے پاس چلی جائے ۔۔۔مگر وہ نہیں جا سکتی تھی اوپر سے دادی بھی جیسے پہرے داری کے لیے باہر بیٹھی تھیں۔۔۔۔۔
علیم کاظمی تک جب داؤد کے بیمار ہونے کی خبر پہنچی تو وہ خود کو روک نہیں سکے
انہیں لگا اپنی غلطیوں کا ازالہ کرنے کا یہ ہی صحیح وقت ہے ۔۔۔۔۔۔۔
وہ داؤد کے پاس بیٹھے تھے جو آنکھیں موندیں لیٹا ہوا تھا
داؤد آہٹ محسوس کئیے رخ مور گیا
اب کیوں آئی ہیں کشف
کوئی اپنے شوہر کو اس طرح بھی اگنور کرتا ہے جب وہ بیمار بھی ہو
خفا خفا سے لہجے میں کہا ۔۔۔۔
علیم کاظمی خاموش ہی رہے
داؤد نے رخ موڑا تو ایک لمحے کو خجل ہوا پھر چہرے کے تاثرات سپاٹ ہوگئے
داؤد بچے
وہ آگے بھرے داؤد اٹھ کھڑا ہوا
پلیز مسٹر کاظمی یہاں سے چلے جائیں
داؤد نے قطعت لہجے میں کہا ۔۔
داؤد بچے اپنے بابا سائیں کو معاف کردو
ان کی آنکھیں نم ہوئی ان کا بیٹا کتنا خوبرو ہوگیا انہیں وہ بچہ یاد آیا پانچ سالہ روتا بلکتا سا ۔۔۔۔
داؤد ایم سوری بچے اپنے بد نصیب باپ کو معاف کردو
صرف آپ سے جان چھڑانے کی غرض سے میں نے اپنی زندگی اندھیروں میں گزار دی ماں کے بعد پاگل ہونے کا دیکھا وا کیا کہ کہیں آپ کے ساتھ نہ بھیج دیا جاؤں اور آپ کہہ رہے “سوری” صرف سوری سے میرے گزرے ماہ وسال واپس آجائیں گے تو علیم کاظمی مجھے آپ کی سوری قبول ہے
علیم کاظمی جھکے کندھے سمیت مرے جبکہ داؤد کی آنکھیں دروازے پر بے یقین سی کھڑی کشوہ ہو دیکھ کر پھٹی تھیں ۔۔۔۔۔
کشف۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
