No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
سر بسر یار کی مرضی پہ فدا ہو جانا۔۔۔۔۔۔
کیا غضب کام ہے راضی بہ رضا ہو جانا۔۔۔۔۔۔۔
صبح کے وقت بجتے ہوئے آلارم کے سبب کشوہ نے خمار آلود آنکھوں کو کھولا نیند سے بھری بھوری آنکھیں بند ہو رہی تھی جب داؤد کا خیال آتے کشوہ نے اپنا ہاتھ بیڈ کے دائیں جانب رکھا مگر جگہ خالی محسوس کرکے وہ جھٹکے سے اٹھی ۔۔۔۔۔
واش روم سے پانی گِڑنے کی آواز سن کر اس نے سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔
دو انگلیوں سے ہلکا سا دروازہ بجایا ۔۔۔
آج کا سارا دن مصروف گزرنے والا تھا سارا پلین وہ پہلے ہی کر چکی تھی ۔۔۔۔اب بس داؤد کو بتا کر نکلنا تھا مگر پہلے داؤد اور اپنے لیے ناشتہ بنانے جانا تھا ۔۔۔۔
یونیورسٹی کے گراؤنڈ سے تھوڑا دوران قدرے خالی جگہ میں سرخ رنگ کے ٹوپ اور سفید رنگ کی جینز پہنے ہاتھ پیچھے باندھے اپنے سامنے کھڑے خوبرو شہریار سے سوال کر رہی تھی ۔۔۔۔
مس کی بات کرتی ہیں میڈیم ہمارا کل کا سارا دن بیکار گزرا۔۔۔۔۔۔
چھٹی کرنے سے پہلے کم از کم مجھے بتا تو دیتی ناراضگی سے اپنے بازو پر دھرے حسنہ کے نازک ہاتھ کو جھٹک کر بولا ۔۔۔۔۔
شیری ۔۔۔۔۔لب کاٹتے دوبارہ اپنا ہاتھ اُدھر ہی رکھ کر اسے پکارا ۔۔۔۔
نہیں ہنی تمہارے نزدیک میری کوئی اہمیت نہیں ہے نہ اس لیے تم نے مجھے نہیں بتایا کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔
نہیں شیری ایسے مت کہو میں تمہاری لیے کس حد تک
جا سکتی ہوں تم بھی اچھے طریقے سے جانتے ہو پلیز یوں مت کرو وہ تڑپتی اس کے ساتھ لگی تھی ۔۔۔۔۔
آخری دفعہ ہاں ۔۔۔۔۔۔۔ اپنے بازؤں تنگ کرتا ہنوز خفگی سے بولا
پکا ۔۔۔۔وہ اسے منا کر پر سکون ہوئی۔۔۔۔
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’لأََنْ یُّطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِکُمْ بِمِخْیَطٍ مِّنْ حَدِیدٍ؛ خَیْرٌ لَّہٗ مِنْ أَنْ یَّمَسَّ امْرَاَۃً لَّا تَحِلُّ لَہٗ
ترجمہ:
’’تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھوئی جائے تو یہ بہتر ہے اس سے کہ وہ نا محرم عورت کو چھوئے۔‘‘
(المعجم الکبیر للطبراني : 212/20، وسندہٗ صحیحٌ)
(الألباني صحيح الترغيب 1910 • حسن صحيح )
ناشتہ لے کر کشوہ کا رُخ کمرے کی طرف تھا جب اس کا موبائل فون رنگ ہوا ۔۔۔۔۔
زینب کی کال تھی
کل تو اس نے زینب کا آدھی ادھوری بات بتا کر ٹال دیا تھا مگر اب لگتا تھا اسے پوری بات بتانی ہوگی ۔۔۔۔۔۔
نفی میں سر ہلاتے وہ فون کان سے لگاتی کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
زینب سے کل یونیورسٹی آنے کا وعدہ کرکے اسے گھر کا ایڈریس بھی بتا چکی تھی کشوہ اب خود کو کافی ریلیکس محسوس کر رہی تھی
داؤد ۔۔۔۔۔۔۔واش روم کا بند دروازہ پھر سے کھٹکایا
جب ایک دفعہ پھر فون کے رنگ ہونے پر کشوہ چونکی تھی
زید کی کال ۔۔؟؟
وہ سگنلز کی وجہ سے کمرے سے تھوڑا باہر نکلی ۔۔۔۔
اسلام علیکم زید بچے ۔۔؟؟
اچھا ہوگئی بات کب تک آئیں گے پینٹر ۔۔۔۔۔
اچھا بیٹا تم اور عائد اگر فری ہو تو تب تم لوگ اوپر آجانا ۔۔۔جزاک اللّٰہ
چھن ۔۔۔۔۔
چھناکے سے کچھ ٹوٹا تھا کمرے میں کشوہ اندر بھاگی ۔۔۔۔۔
اس کا شیشا اس کے بابا کی طرف سے ملا تحفہ وہ فرش پر گڑا چکنا چور ہوا پڑا تھا ۔۔۔۔۔
یہ کیا کیا آپ نے داؤد آواز بے ساختہ بلند ہوئی تھی کشوہ بھاگ کر شیشے کی کِرچیاں سمیٹنے لگ گئی
چند ٹکڑے انگلیوں میں بھی چبے تھے
مگر یہ چبن آنکھوں کی چبن سے کم تھی
داؤد اس کی بلند آواز پر سہم کر پہلے دور ہوا مگر کشوہ کو روتے دیکھ سب کچھ بھول اس کے قریب گیا ۔۔۔۔
لگ گئی زیادہ ۔۔۔۔۔اس کے ہاتھوں کو تھامے تڑپ کر بولا ۔۔۔۔
کیوں کیا آپ نے ایسا ۔۔۔داود دکھ اور غم کی ملی جلی کیفیت میں بولی کوئی اور چیز ہوتی تو اسے داؤد کی فکر زیادہ ہوتی ۔۔۔۔۔
نہیں شیشا نہیں اچھا ۔۔۔۔۔گندہ چہرہ ہے صاف نہیں عکس۔۔۔۔اپنے بالوں کو مٹھیوں میں بھیجے بے بسی کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا
کشوہ کو اپنے شکوے پر افسوس کوئی بات نہیں کچھ نہیں ہوا اپنے آنسو صاف کرکے اپنی زخمی انگلیوں کی پروا کئیے بغیر وہ داؤد کی سختی سی بھینجی مٹھیاں کھلوا رہی تھی ۔۔۔۔۔
سو۔۔سوری ۔۔۔نہیں کرتا سوری ۔۔۔۔
ششش داؤد ۔۔۔۔
داؤد اسے مسلسل اور سوری کی رٹ لگائے دیکھ چہرہ ہاتھوں میں بھرے اسے پرسکون کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
جو شرمندہ سا چپ ہوگیا ۔۔۔۔۔
پھر اس کی انگلیوں سے نکلتے قطروں کی صورت میں خون کو دیکھ کر اوپر اسی کا دوبٹہ رکھ کر اسے لب سے لگا لیا ۔۔
وہ کشوہ کے ہی انداز میں اس کے زخم پر مرحم رکھ رہا تھا کشوہ کا دل بری طرح دھڑکا ۔۔۔۔۔
گال حیا کی تمازت سے سرخ ہوئے شاداب ہوئے
آنکھوں میں عجیب احساس چمکا ۔۔۔۔۔۔
کھانا کھالیں داؤد ۔۔۔ فسوں خیز لمحوں کے اثر کو اپنی بات کے ذریعے زائل کئیے کشوہ نے داؤد سے استفسار کیا جو اب قدرے بہتر ہوتا اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
درد۔۔۔کشوہ کو نوالہ بناتے دیکھ اُس کی توجہ اُس کی انگلیوں کے زخم کی جانب کروائی
پھر خود ہی چھوٹے بڑے نوالے بنا کر اسے کھلانے لگا جسے بغیر کسی مزاحمت کے کشوہ نے کھا لئیے ۔۔۔۔۔
دوائی کھاتے حسب توقع داؤد پھر سے غنودگی میں چلا گیا کشوہ ظہر کی نماز ادا کرکے بیٹھی تھی جب عائد اور زید کے ساتھ تین پینٹرز ہاتھ میں مختلف رنگ تھامے وہاں موجود تھے۔۔۔۔۔
کشوہ نے اپنی پسند کی تھیم بتا دی تھی کام شروع کردیا گیا تھا ۔۔۔۔
شکریہ بچوں میرے لیے ادھر آنے کے لیے دونوں کے لیے جوس کے آکر آتی کشوہ نے ممنون لہجے میں کہا ۔۔۔۔
آپیا کیسی بات کر رہی ہیں آپ بھی ہماری بڑی بہن ہیں اور یہ ہمارا فرض ہے ۔۔۔۔۔
جزاک اللّہ ۔۔۔۔۔
کشوہ کا ارادہ داؤد کو لے کر دوسرے کمرے میں شفٹ ہونے کا تھا تاکہ داؤد کے اِرد گِرد کے ماحول کآ اچھا اثر اس کی صحت پر پڑے۔۔۔۔ تو اس لیے تیاری منزل کے اچھے سے کمرے پر اس نے کام شروع کروا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔
پورے دو گھنٹوں بعد داؤد کی روز کی طرح نیند کُھلنی تھی اس کی روٹین تو کشوہ کو جیسے ازبر ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔کشوہ کے پاس دو گھنٹے تھے پینٹ کا کام جاری تھا وہ دوسرا ضروری سامان لینے ڈرائیور کے ساتھ مارکیٹ چلی گئی ۔۔۔۔۔۔۔
عنصر بچے کدھر جا رہے ہو ۔۔۔۔۔
لاونج میں بیٹھے داد جی نے عنصر کو کہیں جاتے دیکھ کر استفسار کیا ۔۔۔۔۔سامنے ہی بڑی ایل سی ڈی پر مووی دیکھتی تمنا بھی دونوں کی طرف متوجہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔
بس داد جی بینک جانا تھا میں نے اپنا یو ایس اکاوئنٹ ٹرانسفر کروانے آپ کو کوئی کام تھا
داد جی کے پاس آتے بتایا ۔۔۔۔
ہاں بچے یہ چیک کشوہ کے اکاؤنٹ میں زرا پیسے تو جمع کروا دینا غفور پتا نہیں کہاں غائب ہے
رفاقت( ڈرائیور) بھی کشوہ کے ضروری کام سے مارکیٹ گیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
ارے کوئی بات نہیں۔ داد جی میں کروا دیتا ہوں جمع ۔۔۔۔
چلو سہی ۔۔۔۔۔
تمنا کا پورا دھیان اب مووی سے ہٹ چکا تھا ۔۔۔۔۔
داد جی کشوہ آپی کا بھی کوئی ذاتی اکاؤنٹ ہے ۔۔۔؟؟؟
گہرے تجسس سے پوچھا ۔۔۔۔
ہاں فرید اپنی زندگی میں ہی کشوہ کا ذاتی اکاؤنٹ بنوا گیا تھا جس میں فرید کے حصے کی زمینوں سے ملنے والے پیسے وہاں ہی جمع ہوتے ہیں
اچھا ۔۔۔۔۔۔
داد جی آپ نے مجھے اس بار کی پاکٹ منی نہیں دی ۔۔۔۔۔۔
یاد آنے پر وہ ایک دم مڑی ۔۔۔۔۔
اللّٰہ تمنا بچے جو پچھلے ہفتے شاپنگ کے لیے پچاس ہزار لیا تھا وہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
حیرت سے پوچھا۔۔۔۔۔
وہ تو آپ کا پیار تھا نہ داد جی میں نے تو خرچہ مانگا ہے کھلکھلا کر کہتی انہیں مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔۔
عائد زید ۔۔۔۔۔عائد زید ۔۔۔۔کہاں ہیں میرے بھائی تمنا سیڑھیاں چڑھتی کشوہ کو بازو سے تھام کر روکتے ہوئے بد تمیزی سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔
یہ کیا حرکت ہے ۔۔۔۔۔
حرکت ۔۔۔۔؟ حرکتیں تو تم کر رہی ہو میرے بھائیوں کو اپنا ملازم سمجھا ہوا ہے جو ان سے کام کرواتی پھر رہی ہو۔۔۔۔
تمیز سے تمنا ۔۔۔۔
کشوہ نے جھٹک کر اس کا ہاتھ پیچھے کیا اسے اس وقت بس داؤد کی فکر تھی پندرہ منٹ ہی رہ گئے تھے داؤد کی آنکھ کھل جانی تھی اور پھر اگر وہ وہاں نہ موجود ہوئی تو داود نے واویلا مچانا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوگیا ہے تمنا آپی ہم خود کشوہ اپیا کی مدد کرنے گئے تھے
اتنا سا کام کرنے سے ہمیں کچھ ہو نہیں گیا ۔۔۔۔۔
اوپر پورشن میں مرد کام کر رہے تھے اس لیے بلایا تھا میں نے دونوں کو ۔۔۔۔۔
صفائی دینا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔مگر اوپر جانے کی جلدی تھی ۔۔۔۔۔
اتنی تو پردہ دار بابا یا چاچو کی موجودگی میں کیوں نہیں بلایا کام والوں کو بچوں کو بے وقوف بنا سکتی ہو ہمیں نہیں
حسنہ نے زہر اگلا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑی حیرت تھی ہاتھ میں تھامے فون کر اپنے بوائے فرینڈ شہریار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ سامنے والی کے کردار پر داغ اچھال رہی تھی ۔۔۔۔
مجھے کسی کی موجودگی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں میں یہ کام خود بھی کروا سکتی ہوں
انسان کو پہلے خود میں جھانک لینا چائیے
اور آئندہ ۔۔۔ غلاظت بولنے سے پہلے یاد رکھنا میں لحاظ نہیں کروں گی حسنہ سعید جتوئی ۔۔۔۔۔۔
سخت قسم کی گھوری نواز کر کشوہ وہاں سے چلتی بنی ۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں آئی تو داؤد سو رہا تھا اس نے شکر کا سانس لیا ۔۔۔۔۔۔۔
دوسرا کمرہ جا کر دیکھا وہاں آدھے سے زیادہ کام ہوچکا تھا
کشوہ خاصی مطمئن بھی ہوگئی تھی
اس نے سوچ لیا تھا وہ اب کیچن وغیرہ سب کچھ اوپر ہی سیٹ کرے گی ۔۔۔۔۔۔
او نو مغرب کا وقت نکل جانا ہے ۔۔۔۔۔
آر پیٹتی وہاں سے ہلی۔۔۔۔
طوفانی بارش میں گرجتے بادل کشوہ کا ضبط آزما رہے تھے
کڑکتی بجلی میں دل ہول رہا تھا جبکہ داؤد پرسکون سا اس کا ہاتھ تھامے سویا ہوا تھا ۔۔۔۔کشوہ کو سمجھ نہ آئی وہ کیا کرے جب لائٹ بند ہوئی تھی
اور کشوہ کی بس
داؤد داؤد ۔۔۔۔
کشف ۔۔۔۔۔ اس نے مندی مندی آنکھیں کھولی مگر اندھیرا دیکھ کر اور وہ بھی سہم گیا
کشف۔۔۔سہمی سی آواز سن کر کشوہ نے اپنا ہاتھ کو مضبوطی سے اس کے بازو کے گرد باندھا۔۔۔۔
جانا نہیں ۔۔۔
نہیں جاتی داؤد آپ کے پاس ہی ہوں میں اسے یقین دلا رہی تھی
🆂🅰🅼🆁🅴🅴🅽 🆂🅷🅴🅸🅺🅷
جاری ہے ۔۔۔۔۔
