No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
پہلے ہماری لاڈلی !!!!
داد جی مجھے میرے پسندیدہ چینل کی طرف سے ماڈلنگ کی آفر آئی ہے۔۔۔۔۔۔
چہرے پر بلا کی خوشی تھی ۔۔۔۔۔
کمرے میں سناٹا چھایا ۔۔۔۔۔
داد جی آپ کو خوشی نہیں ہوئی کیا ۔۔۔۔؟؟!!
تمنا نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔
تمنا ہم چاہتے ہیں آپ کی شادی عنصر سے ہوجائے ۔۔۔۔۔۔
تمنا کو لگا جتوئی ہاؤس کی چھت اس کے اوپر گڑ گئی ہو ۔۔۔۔۔
داد جی ۔۔۔یہ۔۔۔آپ۔۔۔کیا۔۔۔کہہ۔۔۔۔رہے۔۔۔ہیں ۔۔۔؟؟!!
ٹوٹے پھوٹے الفاظ ادا کرتی تمنا فق رنگت سمیت بولی۔۔۔
کیا میری بچی کو میرے فیصلے سے کوئی اعتراض ہے ۔۔۔؟؟؟
داد جی ۔۔۔۔میں یہ شادی نہیں ۔۔۔۔میرا مطلب ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی ۔۔۔۔
کیوں میرا بچہ داد جی نے اسے اپنے پر شفقت حصار میں لیا۔۔۔۔۔
داد جی ابھی تو وقت آیا ہے میں اپنے خواب پورے کروں ایسے میں آپ چاہ رہے ہیں میں شادی کر کے بندھ جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ناراض لہجے میں کہا ۔۔۔
کوئی نہیں باندھے گا تمہیں اگر تم عنصر سے نکاح کے لیے ہاں کرتی ہو تو تمہیں میں ماڈلنگ کی اجازت دے دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
مگر داد جی مجھے شادی نہیں کرنی اور ابھی تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔
یہ میرا آخری فیصلہ ہے تمنا ۔۔۔۔ ابھی داد جی نے ذرا تنبیہ کہا۔۔۔۔ اگر چاہتی ہو کہ میں اجازت دے دوں تو عنصر کے لیے ہاں کردو ۔۔۔۔
داد جی ۔۔!! احتجاج کیا گیا ۔۔۔۔
کیا کوئی اور ہے ؟؟؟
داد جی نے سنجیدگی سے اسے دیکھ کر کہا لہجے کی سردی محسوس کرکے تمنا نے جھرجھری لی
پہلی دفعہ اس نے دادجی کا اپنے لیے یہ روپ دیکھا تھا ۔۔۔۔
نہیں داد جی ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔کوئی بھی نہیں ہے ۔۔۔۔
مجھے منظور ہے مگر پھر شرط یہ ہے مجھے کوئی بھی نہیں روکے گا اپنے خواب پورے کرنے کے لیے ۔۔۔۔
نہ آپ اور نہ ہی آپ کا پوتا ۔۔۔۔
اپنے ازلی جزباتی لہجے میں کہہ کر داد جی کے کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔۔۔
بات ایسی ہے ، ایسا تھا پہلے _ درد ہونے پہ روتا تھا پہلے جیسے چاہے وہ کھیلا کرتا تھا میں کسی کا کھلونا تھا پہلے _
گنتی پیچھے سے کی گئی ورنہ
میرا نمبر تو پہلا تھا پہلے
اپنے بائیں کندھے پر وزن کے باعث درد محسوس کئیے کشوہ نے مندی مندی آنکھیں کھولی تھیں ۔۔۔۔۔
داؤد کا سر اس کے کندھے پر ڈھلکا پڑا تھا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ نے بہت ہی دھیان سے اس کا سر تھام کر تکیے پر رکھا تھا رات کو باتیں کرتے کرتے کب دونوں کی آنکھ لگی معلوم ہی نہیں ہوا جیسے بیٹھے تھے اسی حالت میں سوگئے ۔۔۔۔۔۔
کشوہ نے درد کے مارے اپنا بازو تھاما مسلسل ایک ہی حالت میں وزن کے نیچے دبے رہنے کی وجہ سے ان ہوگیا تھا اب درد کر رہا تھا ۔۔۔۔
مگر اسے فکر کہاں تھی داؤد ٹھیک تھا نہ اسے آرام سے نیند آگئی تھی نہ کافی تھا۔۔۔۔۔
داؤد بھی اپنے دل کا سارا غبار نکالے پرسکون سو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
چہرے پر معصوم بچے کی طرح تاثرات بدلتا تو کبھی دھیما سا مسکرا دیتا ۔۔۔۔
کشوہ نے آخری دفعہ اسے دیکھا پھر
وہ اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔۔۔۔
ہیلو ہممم ۔۔ہاں بولو شیری سن رہی ہوں میں ۔۔۔۔جی جی آفکورس یونی کے لیے ہی تیار ہورہی ہوں
میرا کہاں گزرتا ہے دن آپ کے بغیر ۔۔۔۔
آپ کرلیں گھر والوں سے بات انکل آنٹی سے ۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے فون کان پر لگائے جبکہ دوسرے ہاتھ میں بریڈ کا پیس تھامے وہ پلٹی
مگر پیچھے کھڑی کشوہ کو دیکھ کر اس کا رنگ فق ہوا ۔۔۔۔۔۔۔
کش۔کشوہ ۔۔۔۔
“نا محرم کی محبت آگ ہوتی ہے” حسنہ
اور آگ یہ نہیں دیکھتی سامنے کون ہے ؟؟ کیا ہے؟؟ وہ سب جلا کر راکھ کر دیتی ہے
حسنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھے سمجھانے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔
مگر جب سامنے والا ہی سمجھنا نہ چاہتا ہو تو تمام دلیلیں بیکار ہوجاتی ہیں ۔۔۔۔۔
میری ماں مت بنو ۔۔۔۔ کشوہ جتوئی ۔۔۔۔جا کر اپنے مما بوائے شوہر کو سنبھالو ۔۔۔۔
برے طریقے سے کشوہ کا ہاتھ جھٹکتی وہاں سے نکلی تھی۔۔۔۔۔
کشوہ نے تاسف سے اس کی پشت کو دیکھا۔۔۔۔
اگر وہ خمسہ جتوئی کو بتا بھی دیتی تو وہ یقین نہ کرتی ۔۔۔۔۔
سر جھٹک کر ناشتے کی پلیٹ لئیے آپ گ پورشن کی جانب جانے لگی ۔۔۔۔۔۔
عائد!!!!
زید ….بچوں یہ کام خاموشی سے ہونا چائیے ۔۔۔۔
کشوہ نے باری باری دونوں کی جانب دیکھ کر یہ ہی بات کوئی تیسری دفعہ کہی تھی
اوکے آپیا آپ فکر ہی مت کریں یہ کام خاموشی سے ہوگا ۔۔۔۔۔۔
ہاں اور پیسے میں تم دونوں کو دوں گی پہلے ہیر ڈریسر کو دینا اوکے ۔۔۔۔؟؟
سیڑھیوں پر کھڑی کشوہ اپنے سے دو قدم نیچے کھڑے زید اور عائد کو دھیمے لہجے میں بتاتی چند نوٹ تھما گئی ۔۔۔۔۔۔
اوکے آپیا ڈن ۔۔۔۔ویسے ۔۔وہ ۔۔۔۔داود بھائی کچھ کریں گے تو نہیں ؟؟؟
عائد نے خاصا ہچکچا کر کہا ۔۔۔۔
نہیں بچے وہ کیوں کچھ کہیں گے ۔۔۔۔میں ہوں نہ ساتھ
اوکے ڈن۔۔۔۔
تھمبز آپ کا اشارہ کرتے کشوہ کے ساتھ ساتھ وہ دونوں بھائی اوپر داؤد کے کمرے کی جانب بھر گئے۔۔۔۔۔۔
تمنا نے پورے رات اپنے اور عنصر کے بارے میں بہت سوچا ۔۔۔۔۔
ایک طرف عنصر برا اوپشن نہیں تھا وہی دوسری طرف اس کی طرف سے ریجیکشن نے تمنا کی ایگو ہرٹ کی تھی ۔۔۔۔۔۔
تمہارے لیے کیا ضروری ہے
تمہارا خواب یاں ایگو۔۔۔۔۔
عنصر کو تو نہیں پتا نہ کہ تم جانتی ہو کہ تم نے اس دن عنصر کی باتیں سن لی تھی ۔۔۔۔
تو تمہارا بھرم تو روز اول کی طرح اس پر قائم ہے تمنا جتوئی۔۔۔۔۔۔
ہاں یہ بھی ہے
سوچو ماڈلنگ کا خواب پورا ہونے جارہا ہے تمہارا اور شادی کے بعد تم اسی گھر میں رہو گی پہلے جیسی زندگی نہ کوئی روک ٹوک نہ ہی اضافی زمہ داریاں ۔۔۔۔
یو آر سو سمارٹ تمنا جتوئی ۔۔۔۔۔
اپنے بال جھٹکے ۔۔۔۔۔
لیٹس شئیر دس امیزنگ نیوز ود مائی یو ٹیوب فیملی
یس ۔۔۔۔۔
Let’s share this amazing news with my YouTube family
Yes!!!
اس بہانے میرے ویوز تو آئیں گے ۔۔۔۔۔۔
داؤد داؤد اٹھیں دیکھیں کون آیا ہے ۔۔۔
کشوہ کی آواز پر داؤد نے اٹھ کر دیکھا سامنے عائد اور زید کے علاؤہ ایک اور غیر شناسا چہرہ دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اس کی طبیعت غیر ہونے لگی مگر کشوہ نے اس کی حالت سمجھتے فوراً اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوا داؤد آرام سے
یہ بھائی آپ کو ہیر کٹ دیں گے بہت لمبے ہوگئے بال ۔۔۔۔۔
کشوہ ۔۔۔نہیں ۔۔۔
پلیز داؤد ۔۔۔۔کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نا آپ کے ساتھ کشوہ نے اپنی گرفت اس کے ہاتھ پر مضبوط کی ۔۔۔
نہیں وہ ابھی بھی نہیں مان رہا تھا ۔۔۔۔
پلیز میرے لیے۔۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا نہ اس کے چہرے کے معصوم تاثرات دیکھ کر کشوہ نے نظروں کا رخ ہی بدل لیا ۔۔۔۔۔۔
داؤد بھی مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھامے آنکھیں میچیں بلآخر راضی ہو ہی گیا ۔۔۔۔۔
ہیر کٹ ہوگیا داود کشوہ کے ساتھ شیشے کے سامنے کھڑا اپنے چہرے کے واضح ہوتے خدوحال دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
آج جیسے برسوں بعد اپنا چہرہ اس نے شیشے میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
درد ناک ماضی پھر سے اسے شیشے میں نظر آنے لگا تھا مگر اس بار وہ اکیلا نہیں تھا
اس کے ساتھ اس کی شریک حیات شریک روح موجود تھی اور داؤد کا کامل یقین تھا اس کی کشف اسے پھر سے بکھرنے نہیں دے گی
داؤد نے اپنی مٹھی میں قید اس کا سفید ہاتھ عقیدت سے آنکھوں کے ساتھ لگایا تو کشوہ کسمسا گئی ۔۔۔۔
داود میرے ساتھ باہر چلیں گے ؟؟؟
غیر متوقع سوال داؤد کو امید نہیں تھی
انکار کرنے کا دل نہیں تھا اور جانے کا حوصلہ نہیں ۔۔۔۔
کہاں ؟؟؟
کہیں بھی جہاں آپ کہیں گے آپ کے ساتھ
اس کی آنکھوں کی چمک کی خاطر اپنے دل میں جاگتے خوف کو داؤد نے تھپکی دے کر سلایا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور کشوہ کے بھرے ہاتھ کو بے مول نہیں۔ ہونے دیا اسے آگے بھر کر تھام لیا ۔۔۔۔۔
وہ تیرا یوں میرے ہاتھ پکڑتے ہی بے فکر ہو جانا ۔۔۔۔۔
وہ تیرا مجھ سے یوں نگاہوں ملاتے ہی بے زکر ہو جانا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ کو خود ہر رشک محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔
آج وہ اپنے محرم کے ساتھ باہر کی کھلی ہوا میں موجود تھی ایک تحفط
کے احساس نے اسے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
کتنا خوش کن احساس تھا اس کے لیے۔۔۔
وی لاگ بناتے ہوئے اس کے پاس سے کشوہ گزری تھی ۔۔۔۔مگر حیران کن بات تو یہ تھی اس کے پاس سے ایک مردانہ وجود بھی گزرا تھا جو بہت ہی تیزی سے اس کے ساتھ سے ہوتا نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
جو تھا وہ تمنا جتوئی مر کے بھی نہیں سوچنا چا رہی تھی ۔۔۔۔
اپنے شک کو ختم کرنے کی خاطر وہ اوپر بھی نہیں جا سکتی تھی ۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح اس کا رخ داد جی کے کمرے کی جانب ہی تھا ۔۔۔۔۔
تقریباً چند منٹ پہلے ہی اسے ہوش آیا تھا ۔۔۔۔۔خود کو اندھیر کمرے میں بند دیکھ کر دل دہل گیا وہ تو شیری کے ساتھ اس کے گھر اس کے ماں باپ سے ملنے جا رہی تھی نہ تو پھر یہ کیا ۔۔۔۔۔
زمین پر سے اٹھنے کی کوشش کی تو درد کی ایک لہر پورے وجود میں پھیل گئی ۔۔۔۔
شیری ۔۔۔۔شیری ۔۔۔۔
کہاں ہوں
شہریار !!!اگر یہ مزاق ہے تو بہت ہی گھٹیا مزاق ہے ۔۔۔۔
شہریار ۔۔۔۔۔حسنہ کی آواز رند گئی ۔۔۔۔
شہریار ۔۔۔
مگر کوئی جواب نہیں ہے ۔۔۔۔
حسنہ کو اب خوف آنے لگا یک دم ہوا میں پھیلی گندی بدبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی ۔۔۔۔۔
دروازہ کھلا کمرے میں تیز روشنی پھیلی ۔۔۔
آنکھیں اس تیز روشنی کی تاب نہ لاتے ہوئے بند ہوئی تھی
جب ایک ساتھ چار لڑکیوں کو گھسیٹتے ایک عورت اندر آئی ۔۔۔۔۔۔
میرے سے بچ کر بھاگو گی تارا بائی سے بچ کر ۔۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑے ہنٹر کو بنا روکے چاروں پر برسانے لگی ۔۔۔۔۔
یہ تارا بائی کا کوٹھ** ہے یہاں پر جو لڑکی آتی ہے وہ پھر کفن پہن کر ہی نکلتی ہے
حسنہ کی آنکھیں ابل پڑیں وہ کس جگہ پر موجود تھی ۔۔۔۔۔۔۔
کوئی خاندانی لڑکی جس جگہ کا نام لیتے ہزار بار سوچے آج وہ ان بدنام گلیوں میں موجود تھی
اس کی روح فنا ہوئی ۔۔۔۔
تارا بائی ان لڑکیوں سے فارغ ہوکر اس کی طرف بڑھی ۔۔۔۔
نام۔۔۔۔۔نام کیا ہے ۔؟!!!
نام بتا **** جبڑوں سے تھامے سخت لہجے میں پوچھا۔۔۔۔۔
مجھے۔۔۔۔جانے۔۔۔۔دو۔۔۔۔۔ پھسے ہونٹوں سے گھٹی گھٹی آواز نکلی ؟۔۔
گھر جانا ہے ؟؟؟…اس سانڈ سی عورت نے چہرے پر مصنوعی افسردگی طاری کرکے پوچھا ۔۔۔۔
ہہا۔۔ہاں۔۔۔۔ہاں ۔۔ہاں زرو سے سر اسبات میں ہلاتی کانپتی اس سفاک عورت کے سامنے ہاتھ پھیلا گئی ۔۔۔۔
چٹاخ !!!چٹاخ!!! چٹاخ!!!!
در پہ در لگے چار پانچ تھپڑوں کو نہ برداشت کرتے وہ گری تھی زمین پر۔۔۔۔ لال گال سوجھ گئے تھے جبکہ بایاں گال اندر سے دانت لگنے کی وجہ سے پھٹ گیا تھا ۔۔۔۔
پورے منہ میں خون کا ذائقہ محسوس کئیے اسے بری طرح قہہ آئی ۔۔۔۔۔
وہ الٹی کرتی بے حال ہوئی ۔۔۔۔۔
تارا بائی نے تشویش سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔کہیں وہ س**۔۔۔۔۔۔خراب مال تو نہیں دے گیا ایک دم نیا پیس مانگا تھا ۔۔۔۔۔
پیسے بھی نئے پیس کے لے کر گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
تارا بائی کو اپنے پیسوں کی فکر ستائی۔۔
کلو ۔۔۔۔۔اوئے سانڈ
فون ملا۔۔!!! اس چھوکڑے کو۔۔۔۔۔۔
ہیل کی نوک اس لڑکی کے جھکے منہ پر مار کر تارا بائی اٹھی
رگو۔۔۔۔!!! ڈاکٹرنی کو بلا ۔۔۔جا کر ۔۔۔۔
جی بائی ۔۔۔۔ وہ سیاہ فام آدمی سر ہلاتا وہاں سے بھاگا ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ جھکی اپنے ہاتھوں سے اپنا ہی گلا دبا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ۔۔۔۔
یہ سب کیسے ہوگیا اس کے ساتھ اسے شدت سے رونا آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج تھکاوٹ سے بھرپور دن گزرا تھا
داؤد تو آتے ساتھ ہی سوگیا
داؤد نے اس کا مان رکھا تھا کشوہ کو بہت اچھا لگا آج جیسے اس کی نظریں ہی نہیں ہٹ رہیں تھیں
کشوہ کتنے لمحے اسے ہی دیکھتی رہی جب اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کو محسوس کئیے وہ بری طرح چونکی تھی یہاں ہر کون ہوگا ۔۔۔۔۔
تھوک نگل کر اس نے گردن موڑی تھی سفید عبائے میں چہرے کو ڈھانپے کھڑی عورت کو دیکھ کر اس کے جسم پر لرزا طاری ہوا ۔۔۔۔
ک۔کون۔۔۔کون ہیں آآآپ؟؟۔۔۔۔۔الفاظ زبان پر دم توڑ گئے تھے
جب اس کے قدم داود کی جانب بھرتے دیکھے تو کشوہ کو جیسے ہوش آیا تھا ۔۔۔
کیا کر رہی ہیں آپ کہاں لے کر جا رہی ہیں داؤد کو ۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔داود مگر داؤد غنودگی میں سوئی جاگی کیفیت کے ساتھ اس عورت کے ساتھ چلتا جارہا تھا ۔۔۔۔
داؤد کہا جا رہے ہیں؟؟!!! داؤد ….!!! وہ چیخ رہی تھی ۔۔۔
داؤد مت جائیں داؤد میں مر جاؤں گی داؤد چیخ چیخ کر کشوہ کے گلے میں خراشیں پڑ گئی تھیں ۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔نہیں گلا بند ہونے لگا اس کا سانس گھٹنا شروع ہوا ۔۔۔۔
جب وہ ہی عورت اس کے سامنے آئی ۔۔۔۔
مت لے کر جاؤ داؤد کو اللّٰہ کے لیے کشوہ نے ہاتھ جوڑے ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔؟؟ کیوں نہ لے کر جائیں ۔۔۔
میں داؤد سے محبت کرتی ہوں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر محنت نہیں نہیں عشق کرتی ہوں میں اس سے مت دور کریں اس سے ۔۔۔۔۔
عشق !!!! ۔۔۔ جانتی ہوں عشق کیا ہے ؟؟!!!
جو اپنی رت بھلا دے وہ ہے عشق ۔۔۔۔
فرش سے عرش پر پہنچا دے وہ ہے عشق۔۔۔۔
حقیقی رب کی ذات سے آشنا کروادے وہ ہے عشق۔۔۔۔۔۔
ذات بے نشان سے منگتی رب کی بنادے وہ ہے عشق ۔۔۔۔۔
تم زمینی محبوب سے محبت کو عشق کہتے ہو
عشق تو رب کے قریب کردیتا ہے یہ کیسا عشق ہے زرا سی آزمائش پر ہاتھ جھاڑ کر بیٹھ جانا
یہ عشق نہیں یہ خود غرضی ہے
عشق لا غرض ہے ۔۔۔۔۔
عشق لا مرض ہے ۔۔۔۔۔
عشق رب ہے ۔۔۔۔
عشق سب ہے ۔۔۔۔۔
کشوہ !!!! کشوہ !!!! کشوہ کیا ہوا ہے داؤد کی پریشان سی آواز سن کر کشوہ کو ہوش آیا ۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے کے بیڈ پر موجود تھی داؤد بالکل اس کے سامنے بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔۔
تو ۔۔۔تو وہ سب خیال تھا اس کا ۔۔۔۔
چہرہ یک دم ہی پسینے سے تر ہوا دھڑکنیں بھی سست ہر گئیں ۔۔۔۔۔
طبیعت ٹھیک ہے آپ کی ؟؟
اللّٰہ اللّٰہ ۔۔۔داود نماز کا وقت ہوگیا ہے میں نماز ادا کرنے جا رہی ہوں ۔۔۔۔
ایک دم سے اڑے حواسوں کے ساتھ وہ ہاتھ چھڑوا کر اٹھی تھی
جاری ہے __
