No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
ذات_بےنشان
ثمرین_شیخ
قسط_نمبر_20
کشوہ داؤد کو تھام کر فارم ہاؤس کے اندر لے کر آئی تھی ۔۔۔۔۔
اس نے یہاں آنے سے پہلے ہی ملازمہ کو تفصیلی صفائی کا کہا تھا داؤد کو ڈسٹ ایلرجی تھی اور داود کے معاملے میں وہ ہرگز بھی کمپرومائز نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔
داؤد ادھر لیٹ جائیں اسے کمرے میں بیڈ پر لٹایا تھا
پاؤں اوپر کرکے اس کے پاؤں جوتوں سے آزاد کئے سوکس اتار کر رکھے ۔۔۔۔۔
ابھی وہ باہر جاتی کہ داؤد نیند میں بڑبڑایا تھا
کشف۔۔۔!!!
کہیں مت جائیں
داؤد نے سختی سے اسے تھاما کشوہ پھسل کر بیڈ پر گری
آؤچ ۔۔۔۔
داؤد۔۔۔۔ کشوہ اپنے کھینچے جانے پر چیخی تھی ۔۔۔۔
کشوہ کی چیخ سن کرنیند میں جاتا داؤد ہڑبڑا کر اٹھا تھا ۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔۔
داؤد ہاتھ تو چھوڑیں کشوہ نے داؤد کی مٹھی میں قید اپنے ہاتھ کی جانب اس کا دھیان کروایا ۔۔۔
داؤد نے پہلے اپنے اور اس کے ہاتھ کی جانب دیکھا پھر کشوہ کی جانب ۔۔۔۔
کیوں۔۔کیوں چھوڑوں ۔۔۔انداز تنگ کرنے والا تھا ۔۔۔۔
داؤد پلیززز مت کریں نہ مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے میں نے کچھ کھانے کے لیے لانا ہے ۔۔۔۔
کشوہ نے التجائیہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔
اچھا مگر جلدی آئیے گا کمرے میں داؤد نے اس کا ہاتھ چھوڑا ۔۔۔۔
کشوہ کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔۔
وہ اسے چاہ کر بھی یہ کہہ کر روک نہیں سکا کہ اسے اکیلے ڈر لگنے لگا ہے
اتنے سال اکیلے تنہائیوں کی عادت لگنے کے باوجود اس کے چند دنوں کی توجہ اور محبت پھر اسے زندگی کی جانب لے آئی
مگر پھر تنہائیوں سے خوفزدہ کردیا ہے ۔۔۔
کچھ دیر بعد کشوہ اس کے لیے دودھ کا گلاس تھامے کمرے میں آئی تو داؤد مکمل گہری نیند میں گیا ہوا تھا ۔۔۔
کشوہ مسکرا کر نفی میں سر ہلاتی دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ گئی ۔۔۔۔۔۔
پھر دھیان دینے پر اسے محسوس ہوا داؤد کو سردی محسوس ہورہی ہے وہ ایک اور چادر الماری سے نکال کر
داؤد کے لیے لے آئی
چادر اس پر درست کئیے اس نے داؤد کی بند نیلی آنکھوں کی جانب دیکھا
جن میں نظر آتا اپنا عکس اسے معتبر محسوس کرواتا تھا ۔۔۔۔۔
اب اس کا ارادہ تہجد ادا کرنے کا تھا سو وہ وضو کرنے واشروم چلی گئی ۔۔۔۔۔
ہلکی ہلکی سسکاریاں یک دم بھیانک چیخوں میں بدلی
حسنہ کا مکمل وجود پسینے سے شرابور ہوا تھا۔۔۔۔
ملکہ بیگم کے کمرے کا منظر بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا ۔۔۔
حسنہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا جیسے کوئی سختی سے گلے کو دبا رہا ہو ۔۔۔
وہ نیند سے جاگی تھی اس کے قدم خود بخود اس کمرے کی طرف مر گئے ۔۔۔
اسے کوئی ہوش نہیں تھا کہ اگر کسی نے اسے اس وقت باہر گھومتے دیکھ لیا تو اس کا انجام کیا ہوگا ۔۔۔۔
اسے بس وہاں جانا تھا ۔۔جہاں سے واپس آنے کے بعد اس کے دل سمیت روح بھی بے چین ہوگئی ۔۔۔۔۔
وہ کمرے کا دروازہ بند تھا ایسے جیسے کبھی کوئی وہاں رہتا ہی نہ ہو ۔۔۔
حسنہ نے خوف کے باعث دھیرے سے دروازہ کھٹکھٹایا مگر جواب ندارد ۔۔۔۔۔
حسنہ نے پھر سے دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔۔مگر مایوسی کے سواہ کچھ نہ ملا وہ شکستہ قدم لئیے واپس مر گئی ۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح روشن سی تھی جب کشوہ نے اٹھ کر داود کو اٹھایا اور اسے فارم ہاؤس کے پیچھے والے حصے میں کے گئی جہاں اس کا پسندیدہ پالتو گھوڑا بندھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔
سیاہ رنگ کا خوبصورت سا گھوڑا تھا جو رسی سے درخت کے ساتھ باندھا گیا تھا۔۔۔
مرد ملازم کو کشوہ نے وہاں سے بھیج دیا تھا ۔۔۔۔
آپ کو پتا ہے داؤد میں جب چھوٹی تھی نہ تب بابا کے ساتھ ادھر آیا کرتی تھی
داؤد کا ہاتھ تھامے چھوٹے چھوٹے قدم لیتی وہ گھوڑے کے قریب آئی جس سے داؤد تھوڑا ڈرا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور یہ سیاہ گھوڑا میرا پسندیدہ تھا میں پیرو اس پر بیٹھی سواری کرتی رہتی یہ تب چھوٹا تھا میرے جیسا اپنے ہاتھ میں داؤد کا ہاتھ پکڑ کر گھوڑے کے منہ پر پھیرا۔۔۔۔۔۔
اور بابا کتنی دیر میرے لیے گھوڑے کی لگام کو تھامے کھڑے رہتے ۔۔۔۔
مگر پھر ۔۔۔۔۔چند لمحے خاموشی کی نظر ہوئے ۔۔۔۔پھر وہ دوبارہ بولی۔۔ بابا کے بعد دل ہی نہیں کیا ادھر آنے کو دل ہی نہیں کیا یہاں کی فضاء میں سانس لینے کو
اس کا لہجہ کرب آمیز تھا
جسے داؤد نے شدت سے محسوس کیا
فرید جتوئی کی یاد میں کشوہ کی آنکھیں بھیگنا شروع ہوئی
نو۔۔۔کشف ۔۔پلیز ڈونٹ ۔۔
اس کے آنسو داؤد کے دل پر تیزاب کی مانند گرے ۔۔
آپ کے آنسو درد دیتے ہیں بے بسی سے لبریز لہجے میں بولتا اپنی انگلیوں کے پوروں سے اس کے آنسو چن گیا ۔۔۔۔
گھڑ سواری کریں گے ؟؟!!! کشوہ نے نہ صرف پیش کش کی تھی بلکہ خود گھوڑے کی پیٹھ پر بندھے چمڑے کے سہارے پر پاؤں رکھ کر گھوڑے پر سوار ہوگئی ۔۔۔
داؤد آجائیں ۔۔۔۔
کشوہ نے ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔
ن۔نہیں ۔۔۔نہیں کشوہ آپ بھی نیچے آئیں گر جائیں گی ۔۔۔
نہیں ۔۔۔داود آپ بھی آجائیں بہت مزا آئے گا ۔۔۔
نہیں وہ چار قدم پیچھے ہوا ۔۔۔
کشوہ نے گھوڑے کی لگام چمڑے کی پٹی پر دباؤ ڈالا یک دم گھوڑا بھاگنا شروع ہوا۔۔۔
داؤد کی سانسیں خشک ہوئی تھیں
کش۔۔کشف۔۔۔۔مگر وہ گھوڑے پر سوار آگے کو نکلتی گئی ۔۔۔
مگر گھوڑے کو بے لگام ہوتا دیکھ کشوہ بھی اب خوفزدہ ہوئی ۔۔۔۔۔۔
ان پاؤں مار کر گھوڑے کو روکنا چاہا ہاتھ میں پکڑی لگام کو کھینچا ۔۔۔۔
جبکہ داؤد بھی بھاگتا ہوا گھوڑے کے قریب اسے روکنے آیا ۔۔۔۔
بلآخر گھوڑا تھورا شانت ہوا مگر ایک دم سے رکنے کے سبب کشوہ ڈسبیلنس ہوئی
اس سے پہلے وہ گرتی داؤد نے اسے ہوا میں ہی تھام لیا ۔۔۔۔۔
کشوہ نے خود کے باعث زور سے موندیں آنکھوں کو دھیرے دھیرے کھولا۔۔۔۔
داؤد میں ٹھیک ہوں مجھے اتار دیں
شرم سے لبریز آواز پر داؤد نے اسے سیدھا کیا ۔۔۔
آ۔۔آ۔آپ ٹھیک ۔۔۔ہیں نہ ۔۔۔کشف۔۔؟؟؟!!
بھاگنے کے سبب پھولی ہوئی سانسوں سمیت فکرمند لہجے میں اس سے پوچھتا ۔۔۔
کشوہ کو خود پر ناز کرنے پر مجبور کر گیا ۔۔۔۔
میں بالکل ٹھیک ہوں داؤد ۔۔۔۔
داؤد نے خفگی سے رخ موڑا تھا ۔۔۔۔
آپ گر سکتی تھی ۔۔۔لہجے میں اب کے سختی شامل تھی ۔۔۔
تو آپ ہیں نہ مجھے سنبھالنے کے لیے ۔۔۔۔
اٹھلا کر کہتی داؤد کا غصہ ٹھنڈا کر گئی ۔۔۔۔
داؤد کی موجودگی کے باوجود اگر کشف کو زرا سا بھی کچھ ہو تو تف نہ ہو داؤد کی ایسی موجودگی پر ۔۔۔
اففف ہاہاہا کہاں سے سیکھیں ہیں آپ نے ایسے ڈائیلاگ میرے معصوم پلس کیوٹ ہسبینڈ ……
کشوہ کا دل کیا داؤد کے گال کھینچ لے ۔۔۔
بس آپ آئندہ نہیں بیٹھیں گی دھونس جماتا انداز کشوہ کو بہت بھایا تھا۔۔۔
جو حکم میرے سر تاج ہاہاہا آجائیں ناشتہ کریں ۔۔۔۔۔
آج کی صبح جتوئی ہاؤس پر بھاری پڑنے والی تھی ۔۔۔۔۔
عنصر جتوئی جو ایک جانب ماضی کی وحشت ناک یادوں کو بھول نہیں پا رہا تھا وہی دوسری طرف حسنہ کے ابھی تک گمشدگی نہ اسے تڑپا کر رکھا تھا ۔۔۔۔وہ اس کی بہن تھی اس سے محبت فطری تھی ۔۔۔۔۔
اور پھر سب سے بھر کر گھر میں چلتی اس کی اور تمنا کی شادی کی تیاریاں ۔۔۔۔۔شادی کی تیاریاں وہ بھی ایک ان چاہے وجود کے ساتھ ۔۔۔۔
بوجھ ہی بوجھ تھا اس کے دل میں جب موبائل پر موجود ایک تصویر نے اس کی نسیں پھلا دیں ۔۔۔۔
وہ فوراً کمرے سے نکال تمنا ۔۔۔۔
تمنا ۔۔۔۔۔
اس کا رخ نچلی منزل کی جانب تھا تمنا کو دھاڑنے کے انداز میں بلاتا سب کو اکٹھا ہونے پر مجبور کرگیا ۔۔
تمنا ۔۔۔۔عنصر کیا یہ سب کیا ہے اسے سختی سے بازو سے تھامے وہ دھاڑا ۔۔۔
تمنا کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی ۔۔۔
کیا ہوا عنصر خمسہ جتوئی نے پریشانی سے پوچھا ۔۔۔
کیا ہوا ہے عنصر ؟؟؟ چھوڑو تمنا کو ابھی دادجی نے غصے سے کہا ۔۔۔
یہ دیکھیں داد جی ۔۔۔۔
عنصر نے اپنا فون ان کی جانب بڑھایا
فون پر دیکھتے ہی داد جی کی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
یہ ۔۔۔۔تمنا نے فوراً داد جی کے ہاتھ سے فون پکڑا تھا ۔۔۔
وہ تصویر دیکھ کر اس کی آنکھیں ابل پری ۔۔۔
اس کی کوئی پرانی تصویر تھی ساتھ ہی داؤد کا سائیڈ پوز کولاج کرکے اس کے ساتھ لگایا ہوا تھا ۔۔۔
نیچے کیپشن پر میڈ فار ایچ ادر لکھا گیا تھا ۔۔۔۔
یہ داؤد کا سائیڈ پوز لائیو وی لاگ بناتے ہوئے اس کے فون میں آیا تھا جسے وہ ایڈیٹ بھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔
یہ ۔۔یہ سب کیا ہے تمنا ۔۔۔۔
دادجی ۔۔میں ۔۔میں نے کچھ نہیں کیا میں وی لاگ کر رہی تھی جب کشوہ اور داؤد وہاں سے گزرے مجھے نہیں پتا یہ کیسے ۔۔۔؟؟؟
شاہد کوئی مس انڈرسٹینڈنگ ہوئی ہے
اس لیے نہیں پسند مجھے تمہاری یہ وی لاگنگ زندگی کی نہ کوئی پرائویسی یہ لوگ کسی کے ساتھ بھی جوڑیں گے ۔۔۔۔۔۔
ایسی لڑکی کو میں اپنی ۔۔۔۔۔باقی کے الفاظ داد جی کے چہرے کے بگڑتے تاثرات دیکھ کر زبان میں دب گئے ۔۔۔
اسی ہفتے تم دونوں کا نکاح ہے جس کی تصاویر یہاں شئیر ہوں گی
اور تمنا آج کے بعد مجھے تم وی لاگ بناتے دیکھی تو میں بھول جاؤں گا تم لاڈلی ہو ۔۔۔یہ آواز نوید جتوئی کی تھی ۔۔۔۔
تمنا نے تڑپ کر داد جی کی جانب دیکھا جو خاموش تھے جس کا مطلب تھا انہیں نوید جتوئی کے فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔۔۔
ایک دن فارم ہاؤس پر گزار کر وہ دونوں واپس آگئے تھے گھر آکر گھر کے ماحول میں افرا تفری اس نے محسوس کی تھی اور اس ہفتے تمنا کے نکاح کی خبر بھی اسے موصول ہوگئی تھی مگر اس نے پھر بھی اس جلدی کی وجہ نہیں پوچھی ۔۔۔۔۔
سُریہ بیگم بھی تمنا کے نکاح کی تیاریوں میں شامل تھی جو بھی تھا گھر کی بہو تھی ۔۔۔۔
کشوہ البتہ صرف داؤد کی ذات تک محدود تھی جو بات سُریہ بیگم کو ہر گز نہیں بھائی تھی ۔۔۔۔۔
مگر صرف بیٹی کے چہرے کی رونق کی وجہ سے خاموش تھی یہ رونق اپنے شوہر کے بعد انہوں نے اب دیکھی تھی اور کس ماں کو بیٹی کی خوشی نہیں پسند ۔۔۔۔۔
پرفیکٹ کپل !!!
میڈ فار ایچ ادر
کپل فار آیون ۔۔۔۔
جانے کتنے جملے اسے بہکا رہے تھے وہ کتنی دیر اپنی اور داؤد کی تصویر دیکھتی رہی ۔۔۔
تو کبھی خامخواہ داؤد اور عنصر کا موازنہ کرتی رہی ۔۔۔۔
داؤد جتوئی ایک حسین مرد
عنصر جتوئی ایک کند ذہن نیرو مائنڈ این ار آئی ۔۔۔ہنہہہ دل میں وسوسہ جاگا دماغ نے ضرب لگا دی ۔۔۔۔
اففف زینب میں ناراض ہوں تم سے اتنی جلدی نکاح بھی ۔۔۔۔۔۔
کشوہ کی خفگی سے بھرپور آواز پر اس کی ہی کوئی کتاب مگن سا پڑھنے پر مشغول داؤد چونکا ۔۔۔
وہ منہ بناتی بہت کیوٹ لگ رہی تھی ۔۔۔۔
یار میں کیسے تم نے مجھے اتنا لیٹ بتایا آج نکاح ہے ابھی پرسو تمنا کا بھی ہے میں کیسے آجاو۔۔۔۔
اچھا اچھا ناراض مت ہو میں دیکھتی ہوں نہ ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا کشف داؤد کتاب ادھر ہی چھوڑ کر اس کے پاس آیا ۔۔۔۔
وہ داؤد میری فرینڈ زینب جو ہے نہ اس کا آج نکاح ہے تو وہ ضد کر رہی ہے میں آج ادھر جاؤ ۔۔۔۔
تو آپ چلی جائیں نہ کشف ۔۔۔
اس نے کشوہ کو شانوں کر تھام کر ریلیکس کیا جو پریشان سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔
مگر میں اکیلی کیسے ۔۔۔۔؟؟وہ مطمئن نہیں تھی ۔۔۔۔
تو آپ کو کس نے کہا آپ اکیلی ہوں گی ۔۔؟؟ اس کی آنکھوں میں براہ راست دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔
کشوہ اس کے سحر میں کھوئی ۔۔۔۔
آپ ۔۔۔اپ بھی چلیں گے ۔۔۔
لہجے میں بے یقینی تھی ۔۔۔۔
کیوں مجھے ساتھ لے کر نہیں چلیں گی ..؟؟؟
بھوئیں اُچکائی ۔۔۔۔۔!!
نہیں ۔۔۔میرا ۔۔مطلب ہاں آپ چلیں گے تو کہیں بھی چلوں گی ۔۔۔۔
اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر دھرے ٹرانس سی کیفیت میں بولی ۔۔۔۔
آپ میرے کپڑے نکال دیں ۔۔۔
کشوہ کی ناک چھو کر وہ وہاں سے غائب ہوا جبکہ سکتے کی عالم میں جانے کتنی دیر وہاں کھڑی رہی ۔۔۔۔
یہ معمول کا ہوگیا تھا جب ہی تارا بائی حسنہ کے کمرے میں
کسی کو بھیجتی یاں تو حسنہ خود کو نقصان پہنچا لیتی یاں آنے والے کو مگر یہ تہہ تھا بعد میں تارا بائی اس کی چمڑی اڈھیر دیتی تھی ۔۔۔۔
مگر حسنہ نے صبر کیا جیسے چل رہا تھا اسنے چلنے دیا ۔۔۔۔
اس دن کے بعد اس نے بیت کوشش کی دوبارہ اس کمرے میں جانے کی مگر ہو بند تھا کھٹکھٹانے کے باوجود کوئی آواز نہ آتی ۔۔۔۔
وہ دونوں فنکشن میں جانے کے لیے تیار تھے کشوہ نے نیلے رنگ کی فراک زیب تن کی ہوئی تھی ساتھ سیاہ رنگ کا حجاب اور نیلے ہی رنگ کا نقاب بھوری آنکھیں ہر طرح کی زیبائش سے آری تھی ۔۔۔۔
جب داود نیلے رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کئیے واشروم سے نکل کر ڈریسنگ کے سامنے آیا ۔۔۔۔۔
کشوہ مبہوت ہوکر داؤد کو دیکھنے لگی جس کی نیلی آنکھیں اس کے کپڑوں سے میل کھا رہی تھی ۔۔۔۔
بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہا تھا
ہلکی ہلکی داڑھی گلابی لبوں پر بھری موچھیں ۔۔۔۔
اس کی نظروں کا ارتکاز اپنے اوپر محسوس کر کے داؤد نے آئبر وا پکا کر اس کی جانب دیکھ کر پوچھا
صحیح لگ رہا نہ کشف ۔۔۔۔
کشوہ بے اختیار منہ سے ماشاء اللہ نکلا۔۔
آئینے میں اسکا عکس اپنے پیچھے دیکھ کر اسے فخر سا ہوا کہ یہ شاندار شخص اسکا ہے۔۔۔۔
قمیض کو بار بار دامن سے صحیح کرتے وہ کچھ
ہچکچایا ۔۔۔۔۔۔
شلوار قمیض پہنی ہی نہیں تھی اس نے کبھی
پینٹ شرٹ یا ٹروزر زیادہ تر یہ ہی پہنا ہوتا تھا اس نے ۔۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔ بہتتتت خوبصورت ایک منٹ کشوہ نے اس کی قمیض کی آستینوں کو فولڈ کیا ۔۔۔۔۔
پرفیکٹ ۔۔۔۔!!!!
مجھے ڈر ہے کہیں میری ہی نظر نہ لگ جائے وہ ٹرانس سی کیفیت میں کہتی آخر میں نظریں جھکا گئی ۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر اس نے ڈریسنگ کے دراز سے کاجل نکال کر اس کے کان کے پیچھے لگایا ۔۔۔
داؤد جھینپ گیا ۔۔۔
کشوہ کھلکھلائی ہاہاہا آپ بلش کر رہے ہو ہاہاہا ۔۔۔۔
داؤد نے چہرے پر ہاتھ پھیرا پھر یک دم ہی کشوہ کا ہاتھ تھام کر اسے قریب کیا
کشوہ کی کھلکھلاہٹ کو بریک لگی ۔۔۔۔
میرا سوچنا تیری ذات تک
میری گفتگو تیری بات تک !!
نہ تم موجو کبھی مجھے
میر الڈھونڈ نا تجھے پار تک !!
کبھی فرصتیں جو ملیں تو آ
میری زندگی کے حصار تک !!
میں نے جانا کہ میں تو کچھ نہیں
تیرے پہلے سے تیرے بعد تک !!!
“میں خوش نصیب ہوں جسے باحیا اور باہمت بیوی ملی ہے “…..
اس کے حجاب میں قید سر پر نظر ڈالے محبت سے لبریز لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔
نقاب میں چھپے کشوہ کے گال سرخی چھلکانے لگے ۔۔۔۔
اب میں نے نقاب نیچے کیا تو ٹائم لگ جائے گا دوبارہ صحیح کرتے ۔۔۔۔
اس کی سرگوشی پر کشوہ آنکھیں مینچ گئی ۔۔۔۔
چلیں بھاگنے کے انداز میں کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔۔
داؤد کی بدلتی نگاہیں اس بات کی گواہ تھی کہ اس کے نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی کردار میں بھی واضح تبدیلی رونما ہورہی تھی جو مثبت ہونے کے ساتھ ساتھ کشوہ کی سانسیں خشک کرنے والا تھا
کشوہ زینب سے مل کر اسے مبارکباد دیتے ساتھ ہی سٹیج سے اتر کر داود کے پاس آ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔
اس کے لیے یہ ہی بہت تھا کہ داؤد سوشل فوبیا ہونے کے باوجود اس کے ساتھ اس کا محافظ بن کر یہاں موجود تھا ۔۔۔۔
زینب بھاری کامدار سوٹ میں حجاب سمیت سٹیج پر عمر کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی
کیونکہ نکاح ان کا ہوچکا تھا تو دونوں کو ساتھ ہی بٹھا دیا گیا ۔۔۔۔
لڑکی دلہن ہو آج تو کم بول لو ۔۔۔۔
عمر نے خاص چڑھانے کے لیے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تھی
بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ
“کم بولنے والا لڑکا اور زیادہ بولنے والی لڑکی ایک مکمل جوڑی ہوتی ہے”
یہ بانو قدسیہ کون ہے ؟؟
عمر نے مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے پوچھا تھا ۔۔۔۔
زینب نے پہلے چونک کر اس کے سنجیدہ چہرے کی جانب دیکھا مگر جب عمر کے چہرے میں ہنوز سنجیدگی دیکھی تو اس کی بھوئیں تنی تھی
آپ واقعی نہیں جانتے ۔۔؟؟؟ گردن پوری اس کی جانب موڑے زینب نے عجیب لہجے میں پوچھا
عمر کو تھوڑا سا خوف محسوس ہوا ۔۔۔
نہیں ابھی بھی نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔
آپ واقعی لیکچرار تھے یاں رشوت اور جعلی ڈگری کے سہارے یونیورسٹی میں آئے تھے ۔۔۔۔
عمر تلملا گیا اس کا مزاق اسی پر بھاری پر گیا ۔۔۔
الحمدللہ ڈگری لے کر ہی یہ جوب حاصل کی ہے اور جانتا ہوں بانو قدسیہ کو بھی تمہیں کوئی شک ہے ؟؟
ہممم شک نہیں یقین آپ دھاندلی کرکے ہی یونی میں آئے ۔۔۔
ویسے کتنے میں بنی جعلی ڈگری ۔۔۔؟؟زینب نے رازداری سے پوچھا ۔۔۔۔
کیوں تمہیں بھی لینی ہے۔۔۔۔ عمر نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
استغفرُللّٰہ مجھے کیوں چائیے ہوگی الحمداللہ اپنی محنت سے ڈگری پوری کی وہ بھی پورے چار سال لگا کر ۔۔۔۔۔
مہندی سے سجے ہاتھ کی چار انگلیاں نکال کر اسے چڑاتی کہیں سے بھی چند منٹ پہلے کی دلہن نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
بیٹا تمہیں میں بتاتا ہوں ۔۔۔۔
استغفرُللّٰہ سر نکاح مکروہ کروانا زینب نے اچھل کر کہا ۔۔۔۔
آواز تھوڑی اونچی تھی عمر شرمندہ ہوگیا ….
اس سر کا دمچھلہ کب اترے گا میرے نام کے آگے سے وہ اس کی جانب جھک کر بولا ۔۔۔
زینب کی دھڑکنیں بے ترتیب ہوئی ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
