Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

پاسٹ سپیشل

نہیں ہم ۔۔۔نے غلط نہیں کیا ۔۔۔۔کچھ بھی نہیں مما ۔۔۔۔۔
نہیں کیا ہم نہیں ہیں زانی ۔۔۔۔۔
نہیں ہم ۔۔۔۔کشف ۔۔۔۔نہیں پیں ہم زانی ۔۔۔۔
نہیں ہیں اس کے گالوں سے تھامے یقین دلا رہا تھا ۔۔۔۔
کشوہ گنگ ہوئی۔۔۔۔۔
پھر ایک دم ہوش آیا ۔۔۔۔
ہاں نہیں ہیں آپ زانی۔۔۔۔۔
آپ میرے داود ہیں ۔۔۔۔!!
اچھے داؤد..!!! میری بات مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
نہیں ہوں میں اس کی سانس پھولنے لگی تو کشوہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے
اس کی کمر کی پشت پر ہاتھ سے سہلا رہی تھی تاکہ اس کی سانس بحال ہو ۔۔۔۔

داؤد مجھے بتائیں کیا ہوا ہے؟؟؟ داؤد پلیز اپنے درد مجھے دے دیں مجھ سے نہیں برداشت ہورہا ہے آپ کا دکھ ۔۔۔۔۔۔

وہ ہمیشہ کی طرح اسے یقین دلا رہی تھی۔۔۔۔۔

داؤد آپ کی کشف ختم ہو جائے گی اسی ہاتھ کی پشت پر اپنا سر ٹکائے رونے کے در پر تھی
بتا دیں کونسا دکھ آپ کو آگے بڑھنے نہیں دیتا۔۔۔۔۔

داؤد وہاں سے اٹھا تو کشوہ کو لگا اس کی محبت اور محنت دونوں دھری کی دھری رہ گئی ہیں
مگر پھر ایک دم ۔۔۔۔۔۔۔
وقت تھما تھا ۔۔۔۔۔
دھڑکنیں رقصم ہوئیں ۔۔۔۔۔۔

داؤد نے اسے کلائی سے تھام کر امیدوں کے نئے در کھولے تھے۔۔۔۔۔۔۔


داد جی ۔۔۔۔ داد جی تمنا دروازہ نوک کر کے اندر آئی تو خمسہ تائی کو وہی پر دیکھ کر چونک گئی۔۔۔۔
او بچہ آو چائے یا کافی کچھ لو گی ۔۔۔؟؟ شیریں لہجے میں پوچھا
نہیں تائی جی بس داد جی سے بات کرنی تھی ۔۔۔۔اس نے کندھے اُچکا کر کہا ۔۔۔۔
اچھا تم داد جی سے بات کرو میں تمہارے لیے سنیکس بھیجتی ہوں ۔۔۔۔۔
اوکے ۔۔۔۔۔
داد جی دادجی خوشی سے چہکتے انھیں اٹھا کر گھمانے لگی ۔۔۔۔
اللّٰہ کی پناہ تمنا بچے بوڑھے دادا پر رحم کرو کوئی ہڈی ہل گئی تو چکراتے سر کے ساتھ وہ اس کے سر پر پیار سے چپت لگا کر بیٹھے تھے ۔۔۔۔
اوو سوری داد جی خوشی میں بھول گئی ۔۔۔اپ پانی پیئیں ۔۔۔ان کے آگے پانی کا گلاس بڑھاتے وہ متفکر لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔

آج کونسی فرمائش پورے کروانے آئی ہے میری لاڈلی ۔۔۔۔گلاس پکڑے شریر لہجے میں کہا
تو تمنا کھلکھلا کر ہنسی۔۔۔۔
داد جی میرا خواب پورا ہورہا ہے اور مجھے پورا یقین ہے آپ مجھے ہمیشہ کی طرح سپورٹ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔

ہممم ضرور۔۔۔ایک فیصلہ میں نے بھی کیا ہے تمہارے لیے
داد جی نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا ۔۔۔۔

حکم کریں داد جی آپ کا حکم سر آنکھوں پر ۔۔۔
مجھے اپنی بچی سے یہ ہی امید تھی ۔۔۔۔

پہلے تم مانگو کیا مانگنے آئی ہو۔۔۔۔۔

نہیں داد جی پہلے آپ حکم کریں ۔۔۔۔۔۔

پہلے ہماری لاڈلی !!!!
داد جی مجھے میرے پسندیدہ چینل کی طرف سے ماڈلنگ کی آفر آئی ہے۔۔۔۔۔۔
چہرے پر بلا کی خوشی تھی ۔۔۔۔۔
کمرے میں سناٹا چھایا ۔۔۔۔۔
داد جی آپ کو خوشی نہیں ہوئی کیا ۔۔۔۔
تمنا نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔
تمنا ہم چاہتے ہیں آپ کی شادی عنصر سے ہوجائے ۔۔۔۔۔۔
تمنا کو لگا جتوئی کی چھت اس کے اوپر گڑ گئی ہو ۔۔۔۔۔


رات کا سماں تھا
جب دو وجود ایک دوسرے کی طرف پیٹھ کئیے ٹیک لگا کر بیٹھے اپنے اپنے دل کا حال بیان کر رہے تھے ۔۔۔۔
وہ وجود جو کائنات کے خوبصورت ترین رشتے میں بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
جس میں بندھ کر مسلمان کا نصف ایمان پورا ہوتا ہے ۔۔۔۔
جس میں دو وجودوں کو ایک دوسرے کا لباس بنا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔
جب خاموش فضاء میں نسوانی آواز گونجی تھی
ٹرانس سی کی کیفیت میں بولتی چلی جارہی تھی ۔۔۔۔۔

سب سے زیادہ لاڈلی بابا کی رہی ہوں ۔۔۔۔۔
بالکل ویسی لاڈلی جیسی تمنا داد جی کی ہے ویسے ہی جب ضد کروں تو ضد پوری کرتے
نخرے کروں تو لاڈ اٹھاتے ۔۔۔۔۔
ہر چیز میں مجھے سپورٹ کرنے کے لیے بابا ہمیشہ آگے رہتے۔۔۔
مجھے لگتا تھا میں بہت خوش نصیب ہوں میرے بابا مجھ پر جان وارتے تھے ۔۔۔۔

پتا ہے بابا نے شروع سے ہی بہت سختی رکھی تھی کہ جو مرضی کرو مگر نماز کی ادائیگی میں کوتاہی مت کرنا ۔۔۔۔۔۔

میں بہت چور تھی کبھی کبھی فجر کا وقت نکال دیتی تو کبھی مغرب کا کیونکہ دونوں ہی نمازوں کا وقت دوسری نمازوں کی نسبت مختصر تھا تو ایسے ہی بیٹھے بیٹھے وقت گزار دینا اور پھر خود پر ملال کرنا کہ وقت تو نکل گیا ۔۔۔۔۔

“اسے شدت سے اپنی دونوں نمازوں کو چھوڑنے کا دکھ ہوا ۔۔۔”

کبھی کبھی بابا ناراض ہوجاتے تھے تو کبھی سمجھانے بیٹھ جاتے ۔۔۔۔۔پھر دھیرے دھیرے یہ عادت اتنی پکی ہوگئی کہ میں ہی اٹھ کر بابا کو بھی نماز کے لیے اٹھانے لگی

۔۔۔۔۔پھر جب مجھ پر اللّٰہ کا کرم ہوا میں نے پردے کا ارادہ کیا تو تقریباً سب ہی خلاف ہوگئے سب کو کوئی نہ کوئی مسئلہ تھا یہاں تک کہ مما بھی مگر بابا۔۔۔ ہمیشہ میرا ساتھ دیا ہے بابا نے ۔۔۔۔میرے آئیڈیل۔۔۔۔۔۔ مائن فرسٹ لو۔۔۔۔۔ میری دعا ہے اللّٰہ میرے بچوں کو بھی میرے بابا جیسے بابا دیں مجھے میرے بابا جیسے شوہر دیں جو رشتوں میں توازن رکھنا جانتے ہوں صحیح اور غلط کے درمیان واضح فرق کو جانتے اور محسوس کرتے ہوں ۔۔۔۔۔۔
پھر ایک دن بابا مجھے چھوڑ گئے ۔۔۔
اس کی ہچکی بندھی ۔۔۔۔
بابا چلے گئے مجھے چھوڑ کر اپنی چندہ کو اپنی کشو کو ۔۔۔۔۔۔۔
بیت سی اچھی عادتیں ڈال کر ۔۔۔مما ورکنگ وومین بن گئی اور پھر کشوہ اکیلی ہوگئی تھی مگر پھر پھوپھو نے کشوہ کو سمیٹ لیا ۔۔۔۔۔
اسے پیار دیا ۔۔۔۔بہت دیا ۔۔۔۔
اور پھر ایک دن پھوپھو بھی چھوڑ گئی ۔۔۔۔۔
کشوہ کو اکیلا کردیا سب نے کشوہ نے بھی لوگوں سے دل لگانا چھوڑ دیا ۔۔۔۔
کشوہ نے اللہ سے دل لگایا اپنے سارے دکھ اپنی خوشیاں اپنے اللہ کے ساتھ شئیر کرنی شروع کردی ۔۔۔
سب کو لگتا ہے کشوہ مغرور ہے۔۔۔۔نہیں کشوہ کے پاس اب دوسروں کے لیے ٹائم نہیں ہوتا نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کا تو ایک ہی خواب تھا اپنے بابا کی خواہش پوری کرنی ہے اور بہت پڑھنا ہے بہت زیادہ ۔۔۔۔

کشوہ کے پاس پھر آہستہ آہستہ دو ہی کام رہ گئے تھے پڑھائی اور اللّٰہ سے باتیں جنہیں وہ بہت خوش اسلوبی سے پورا کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
پھر یوں ہوا ایک دن اس کا امتحان تھا ۔۔۔۔۔
زندگی کا امتحان!!!
جس میں اسے پاس ہونا تھا پھر پتا ہے اس نے کیا کیا؟؟!!!
اس نے سارے فیصلے پھر اپنے رب کے آگے رکھ دئیے اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔پھر ۔۔۔اس شادی آپ سے ہوگئی ۔۔۔۔بس اتنی سی کہانی تھی میری اب تک کی زندگانی کی۔۔۔۔

سر کی پشت کے سر جوڑے گہرا سانس لے کر بتایا ۔۔۔۔۔۔


نکل جاؤ یہاں سے دانیہ جتوئی ۔۔۔۔
ن۔نہیں ۔۔۔نہیں کہیں نہیں جاؤں گی۔۔۔۔۔
سائیں۔۔!!! ایسے مت کریں۔۔۔۔۔۔ اپنے بیٹے کو دیکھیں پانچ سالہ داؤد کو گود میں اٹھائے وہ روتی تڑپتی اپنے سفاک شوہر کے ترلے منتوں پر اتر آئیں ۔۔۔۔۔
یہ ابھی تک گئی نہیں یہاں سے ۔۔۔۔۔
ہم بتا رہے ہیں یہاں تو آپ کی پہلے بیوی اور بیٹا اس گھر میں رہے گا یاں پھر میں ۔۔۔۔
مت کریں میرے ساتھ ایسا میں کہا جاؤں گی ۔۔۔۔داد جی برداشت نہیں کرسکیں گی
رحم کریں سائیں ۔۔۔۔میں ۔۔۔میں ایک کونے میں پڑی رہوں گی ۔۔۔۔۔
خدا کے لیے مجھے اپنی زندگی سے یوں بے دخل مت کریں ۔۔۔۔
سائیں ہم۔۔ہمارا۔۔۔۔داود آپ کا بیٹا ۔۔۔۔
اماں سائیں آپ کا پوتا ۔۔۔۔دانیہ جتوئی روتے بلکتے داؤد کو اماں سائیں کے قریب لے کر گئیں ۔۔۔
اماں سائیں کرب سے آنکھیں موند گئیں ۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی اس گھر میں تو مرد ذات کی چلتی تھی وہ چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکی تھیں ۔۔۔۔

شوہر کے انتقال کے بعد اب تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔۔
دانیہ پتر اپنی اماں سائیں کو معاف کردے۔۔۔۔
ن۔نہی۔۔نہیں اماں سائیں آپ میرا آخری سہارا ہیں آپ سائیں سے بات کریں وہ کرلیں دوسری شادی میں نہیں روکوں گی ۔۔۔۔۔مگر مجھے یوں اس گھر سے اپنی زندگی سے بے دخل مت کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علیم سائیں آپ طلاق کیوں نہیں دے رہے اسے ۔۔!!!!

نہیں ۔۔۔نہیں منزہ سائیں ہمیں ساتھ یہ ظلم مت کریں ۔۔۔۔۔۔
جلدی کریں ۔۔۔۔۔ سائیں!!!
منّزہ بیگم نے رانیہ کو روتے دیکھ کر بے زاری سے کہا ۔۔۔۔
اپنی نئی نویلی بیگم کے چہرے کی بے زاری پڑھ کر انھوں نے آخری فیصلہ لیا۔۔۔۔۔
دانیہ جتوئی میں تمھیں طلاق دیتا ہوں
طلاق دیتا ہوں ۔۔۔۔۔
طلاق دیتا ۔۔۔۔۔
اپنی شکل لے کر یہاں سے غائب ہوجاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی اور کبھی آئندہ اس در میں واپس نہ آنا ۔۔۔۔۔
دانیہ کے بندھے ہاتھ ڈھلک گئے ۔۔۔۔۔۔


باپ کے گھر سے رخصت ہوتے کونسی لڑکی یہ سوچتی ہے کہ اسے یوں بھی رسوا ہو کر اپنے باپ کے در میں واپس آنا ہوگا ۔۔۔۔

خمسہ اور فائزہ جتوئی کو بہت تکلیف ہوئی تھی دانیہ جتوئی کے واپس آنے پر جبکہ سُریہ جتوئی پڑھیں لکھی خاتون تھیں انہیں اپنے نندوئی کے اس فیصلے پر شدید نفرت ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔

بھائیوں نے بھی اپنی بہن کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا دانیہ جتوئی کے لیے جتوئی ہاؤس کی تیسری منزل کھلوا دی گئی تھی ۔۔۔۔۔

فرید جتوئی اپنی بڑی آپا کا حال دیکھ کر بے حال رہتے تبھی بار بار سُریہ جتوئی کو ان کی دل لگی کرنے کا کہتے۔۔۔۔۔
جس پر ان کی شریکِ حیات ان کا پورا پورا ساتھ دیتی ۔۔۔۔۔۔

داد جی نے اپنی بیٹی کا دکھ دل پر لے لیا تھا کتنی محبت سے کتنے مان سے اپنے جگر کے ٹکڑے کو اپنے دوست کے گھر
رخصت کیا تھا جس حالت میں وہ واپس آئی تھی داد جی جیتے جی مر گئے تھے ۔۔۔۔۔

اب وہ کس سے قطع تعلق کرتے ان کا دوست تو منوں مٹی تلے جا سویا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔

پانچ سالہ داؤد کو ہمہ وقت داد جی کے کمرے میں گھسے دیکھ کر اٹھ سالہ عنصر کو غصہ تو بہت آتا تھا مگر اس نے اپنی ماں سے سنا تھا وہ یہاں پر مہمان ہیں جلد چلیں جائیں گے اس لیے وہ داؤد کو کچھ نہ کہے اسی وجہ سے وہ خاموش ہوجاتا ۔۔۔۔۔

اور پھر آہستہ آہستہ جب اسے محسوس ہوا یہ مہمان اب یہاں سے کہیں نہیں جانے والے اس نے داؤد کو دھمکایا کہ داد جی کے کمرے کے باہر نہ نظر آئے وہ اسے ۔۔۔۔۔
داؤد بھی ڈر کر دوبارہ وہاں نہیں گیا ۔۔۔۔
اسے ڈرایا ہی اتنا گیا تھا ۔۔۔۔
کبھی عنصر کی گھوریاں!!
کبھی مامیوں کے دبے دبے طعنے ۔۔۔ !!!
ماں کی جانب سے چپ کی تلقین!!!!

ایک دو دفعہ ان کا رشتہ دیکھنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔۔
مگر گھر میں کہرام برپا ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔
دانیہ جتوئی روئی تھیں ۔۔۔۔ بہت روئیں تھیں اتنا کہ سب ہی ڈر گئے تھے
داد جی نے اپنے بیٹوں کو منع کردیا تھا

اور پھر دانیہ جتوئی اپنے کمرے کی ہوکر رہ گئی وہ خوبصورت سی خوشبو بکھیرتی دانیہ جتوئی تو کہیں سے رہ ہی نہیں گئی تھی یہ تو کوئی اور تھیں اندر کو ڈھسی آنکھیں ۔۔۔
خشک ہونٹ ۔۔۔۔
سوکھا فاقے زدہ جسم ۔۔۔۔

داد جی نے بھی خوف سے اپنی بیٹی کے کمرے میں جانا چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔
انہیں اس حال میں دیکھ کر داد جی کو تکلیف ہوتی تھی اور خود کو تکلیف سے بچانے کے چکروں میں اپنی بیٹی کو اکیلا کر گئے۔۔۔۔۔۔


کشوہ کی پیدائش میں جب سُریہ بیگم اور فرید جتوئی ننھی سی بچی کو تھامے تیسری منزل میں آئے تو انھوں نے دیکھا ننھا سا داؤد اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنی ماں کو کھانا کھلا رہا تھا ۔۔۔۔
سُریہ بیگم کے ساتھ فرید جتوئی کی بھی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔۔
کبھی وہ انہیں نوالہ کھلاتا تو کبھی وہ اپنے کانپتے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو نوالہ بنا کر کھلاتی ۔۔۔۔
اہم اہم ۔۔۔۔فرید جتوئی نے گلا کھنکھارا ۔۔۔۔

ماموں سائیں۔۔۔۔۔
داؤد ہاتھ جھاڑتا ان کے پاس آیا ۔۔۔۔
جی بیٹا سائیں نیچے جھک کر اس کا گال چھوا۔۔۔۔

وہ میں مما سائیں کو کھانا کھلا رہا تھا آپ کھائیں گے کھانا ۔۔۔۔معصومیت سے پوچھا گیا
نہیں بچے ۔۔۔اپ نے کھانا کھالیا ۔۔؟؟
ہنوز پیار سے پوچھا گیا ۔۔۔۔
جی ماموں سائیں کھا لیا ۔۔۔۔
اچھا چلو تیار ہوجاؤ۔۔۔۔اج ہم کا ایڈمیشن کروانے جائیں گے سکول ۔۔۔۔
رانیہ جتوئی نے نا سمجھی سے اپنے چھوٹے بھائی کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔
فرید!!؟؟
جی آپا مجھے معاف کردیں سُریہ کی طبیعت خرابی کی وجہ سے میں داؤد کو وہ دوست نہ دے سکا ۔۔۔۔
کوئی بات نہیں فرید تمہیں کم از کم اپنی آپا یاد تو ہیں نہ نہیں تو دوسرے اپنی گڑیا کو بھول گئے ۔۔۔۔۔

خیر میں بھی کیا بول رہی میری خواہش ہے میرا بیٹا بہت پڑھے بہت پڑھے اور کامیاب انسان بنے عورتوں کی عزت کرنے والا نہ کہ انہیں جوتی سمجھنے والا ۔۔۔۔

ہممم آپا آپ ملی میری بیٹی سے کشوہ جتوئی ۔۔۔!! ننھی سرخ سفید سی بچی کو سریہ بیگم نے رانیہ جتوئی کی جانب بڑھائی ۔۔۔۔
اسے تھامتے تھامتے دانیہ جتوئی کے ہاتھ رکے۔۔۔۔
نہیں فرید اسے یہاں سے لے جاؤ ۔۔۔۔۔
اللّٰہ اس کے نصیب بہت بلند کرے میں نہیں چاہتی میرے مقدروں کی سیاہی کا سایہ بھی اس ننھی جان پر پڑے۔۔۔۔
آپا کیسی دقیانوسی باتیں کر رہی ہیں ایسا کچھ بھی نہیں۔ ہوتا
سیہ بیگم نے زبردستی کشوہ کو ان کی گود میں ڈالا ۔۔۔۔۔
بچی کے کھلکھلانے پر دانیہ بیگم بھی بے ساختہ کھلکھلائی تھیں ۔۔۔۔۔
داؤد بھی اپنی مما سائیں کے مسکرانے پر خوش ہوا اسے اس ننھی بچی پر بے ساختہ پیار ایا۔۔۔۔۔
لیٹل اینجل ۔۔۔۔
ننھا فرشتہ!!!


داد جی کی چُپی بھی تب ٹوٹی جب گھر بھر میں ننھی تمنا کی کلکاریاں گونجی ۔۔۔۔۔۔
تمنا جتوئی داد جی کے لیے عزیز ترین ہستی تھی ۔۔۔۔۔۔
گھر کے سب بچے بڑے ہونے کے ساتھ ہی اس بات کو محسوس کر چکے تھے ۔۔۔۔۔۔
داؤد بھی کم ہی داد جی کے کمرے میں جاتا ۔۔۔۔۔

وقت اپنی رفتار پر چلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
بچے بھی بڑے ہوتے جا رہے تھے ۔۔۔۔ اٹھارہ سالا عنصر کو سعید جتوئی نے یو کے بھیجنے کا ارادہ کیا ۔۔۔۔
وہی دوسری طرف پندرہ سالا داؤد بھی اپنے کزنوں کا اپنے اپنے بابا سے پیار کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

جب سے اس نے ہوش سنبھالا تھا اس نے کبھی اپنی ماں کے منہ سے اپنے بابا کا زکر نہیں سنا تھا ۔۔۔۔۔۔
زیادہ تو یاد نہیں پڑتا اسے مگر چند جھلکیاں دماغ میں آج بھی مقفود تھیں ۔۔۔۔۔
اس کی ماں رو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
مگر وہ پھر بھی اپنے بابا سے ملنے کی خواہش رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور ایک دن اس کا بلاوا آ ہی گیا ۔۔۔۔۔
اس کے بابا اسے لینے آئے تھے ۔۔۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آئی وہ خوش ہو یاں انکار کردے ۔۔۔۔۔۔
جانے کتنی دیر اپنی مما کے گلے لگا رہا ۔۔۔۔۔دانیہ جتوئی نے اسے انکار نہیں کیا تھا بس اس کی پیشانی پر پیار کیا اور اپنا خیال رکھنے کی تلقین کی ۔۔۔۔۔۔

وہ حقیقت پسند ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔۔سگا باپ اور سگی ماں کے بغیر اولاد رُل جاتی ہے ۔۔۔۔

اگر کل کو انہیں کچھ ہوتا بھی ہے تو کم از کم داؤد کے پاس ایک مستقل رہنے کی جگہ تو ہو ۔۔۔۔۔
بے شک وہ کمرے میں رہتی ہیں مگر گھر میں رہنے والوں کے دل کے حال سے بھی واقف تھیں ان کے ماتھے پر پڑنے والی تیوریوں سے بھی خوب واقف تھیں ۔۔۔۔۔

اپنے بیٹے کے لیے انھوں نے علیم کاظمی کے ہر ظلم کو معاف کردیا تھا۔۔۔۔۔۔


اب یہاں پر کیا لینے آئے ہو علیم کاظمی ۔۔۔۔میری بیٹی کو طلاق دیتے ہوئے اپنے معصوم بیٹے کا نہیں سوچا جو آج یوں اچانک ا سکی یاد آگئی ۔۔۔۔۔
داؤد کی آنکھیں نم ہوئی تھی اپنے باپ کو دیکھ کر مگر جھجھک اتنی تھی کہ وہ بھاگ کر ان کے گلے نہیں لگ سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔

میں اپنے بیٹے کو لینے آیا ہوں داد جی اور میں اس کا باپ ہوں مجھے کوئی بھی نہیں روک سکتا اسے یہاں سے لے جانے سے۔۔۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔۔۔جاؤ۔۔۔۔
تب ہی وہاں دانیہ جتوئی آئی تھیں ۔۔۔۔۔
علیم کاظمی ان کا حال دیکھ کر گنگ رہ گئے ۔۔۔۔۔
وہ اپنی عمر سے کہیں سال بڑی لگ رہی تھیں ۔۔۔۔۔چہرے کی جھڑیاں اور آنکھوں کے گرد حلقے وہ نظریں چرا گئے۔۔۔۔۔۔۔

مسٹر کاظمی مجھے امید ہے آپ “اپنے بیٹے” کے ساتھ کم از کم برا نہیں کریں گے
جیسا آپ نے پرائی بیٹی کے ساتھ کیا تھا ۔۔۔۔۔
سریہ بیگم نے سنجیدگی سے علیم کاظمی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔


اب دانیہ کی اولاد میرے بچوں کے ساتھ پلے گی ۔۔۔۔۔منزہ جتوئی کی حقارت سے لبریز آواز نے اس کا استقبال کیا تھا ۔۔۔۔۔
منزہ سائیں داؤد میرا بیٹا ہے اب میں اس کے خلاف ایک بھی لفظ نہ سنو۔۔۔۔۔
علیم کاظمی نے قطع لہجے میں کہا تھا ۔۔۔۔۔۔
داؤد اونچی آواز سن کر سہم گیا تھا ۔۔۔۔دس سال ماں کی آنچل میں چھپ کر گزارے تھے اس نے کب سنی تھی اتنی اونچی دھاڑیں ۔۔۔۔۔
وہاں مامیوں کے طعنے تو یہاں پر سوتیلی ماں کے طعنے اس کے لیے ذہنی ازیت کا باعث بنے ۔۔۔۔
وہ اپنی بہنوں کے پاس نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔۔
انیس سالا داؤد کو تھپڑ مارتے ہوئے منزہ بیگم کو آر محسوس نہ ہوتی وہ بے دھڑک اسے مار لیتی ۔۔۔۔۔

دادی سائیں کے پاس جاتا تو سوتیلی ماں جھڑک دیتی وہ ڈرپوک طبیعت کے باعث ہر بات دل میں چھپا لیتا ۔۔۔۔

اس ایک ہفتے میں اس نے شدت سے اپنی ماں کو یاد کیا تھا ۔۔۔۔۔۔


چور ہے ۔۔۔۔۔چوری کی ہے اس نے سائیں میرا اتنا قیمتی سیٹ اسی نے چوری کیا ہے ۔۔۔۔۔
خاموشی سے یوں ہی اذیت میں گزر رہے تھے یہ دن اور رات جب شاہد منزہ بیگم سے اس کی خاموشی برداشت نہیں ہوئی
جو اس معصوم پر چوری کا الزام دھڑ دیا تھا ۔۔۔

تمہاری ماں نے سکھایا نہ یہ سب ہیں نہ بولو۔۔۔۔سائیں یہ تربیت کی ہے آپ کی سابقہ بیوی نے اس کی چور چکا بنایا ہے اسے ۔۔۔۔۔۔

سائیں میں اس سپولے کو اور نہیں پال سکتی نہ کوئی کام کرتا ہے نہ کچھ آتا جاتا ہے بس مفت کی روٹی توڑتا ہے اور غضب خدا کا آج چوری کی ہے کل کو قتل کردے گا ۔۔۔کیا عزت رہ جائے گی آپ کی ۔۔۔۔۔
نکالیں اسے یہاں سے ابھی کہ ابھی میری معصوم بچیاں کیا سیکھیں گی اس سے ۔۔۔۔
منزہ بیگم نے پھر سے برسو پہلی چال چلنی شروع کی ۔۔۔۔۔
میری مما کے بارے میں ایک بھی لفظ مت بولئے گا ۔۔۔۔۔
داؤد بھی بلآخر دھاڑا تھا ۔۔۔۔۔
چٹاخ!!!! علیم کاظمی نے زناٹے دار تھپڑ اس کے چہرے پر رسید کیا ۔۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔ زبان دیکھو ایک تو چوری اوپر سے سینا زوری ۔۔۔۔۔
نہیں کی میں نے چوری اور آپ کیا نکالیں گے مجھے میں ہی نہیں رہوں گا یہاں پر ۔۔۔۔۔


رات کے پہر داؤد غصے سے وہاں سے نکلا تھا آنکھیں سرخ تھیں جیسے ابھی ہی لہو ٹپکانے لگ جائیں گی ۔۔۔۔
یہاں کے راستوں سے اتنا واقف نہیں تھا وہ اس لیے بنا سمجھے سیدھا ہی چلتا جا رہا تھا جب اسے نسوانی چیخوں کی آواز آئی۔۔۔۔۔
داؤد کے قدم بے ساختہ تھمے تھے ۔۔۔۔
یہ آواز بہت قریب سے آرہی تھی ۔۔۔۔ شاہد اس ڈربے کے پاس سے
اس نے اپنا رخ اس طرف موڑا دل میں ڈر بھی تھا ۔۔۔۔۔وہاں
اس نے دیکھا چار پانچ ایک جگہ پر دائرہ بنا کر کھڑے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے پھر سے گھٹی گھٹی آواز آئی تھی
داؤد آگے بڑھا۔۔۔۔۔ لڑکوں کی نظر اس پڑی تھی
اوئے ۔۔۔وہ دیکھ چھوکڑا۔۔۔۔۔۔
اسے میں بتاتا ہوں
ایک لڑکے نے کس کر ملا داؤد کی گال پر رسید کیا داؤد لڑکھڑایا ۔۔۔۔۔
جبکہ تینوں ابھی بھی اس پر جھکے ہوئے تھے
ہمیں بچائے ۔۔۔کوئی تو ہمیں بچائے ان وحشیوں سے ۔۔۔۔۔
مدد کرو میری مدد۔۔۔
ہمیں مت کریں رسوا ۔۔۔۔۔۔
خود کو بچاتی تڑپتی بنت ہوا بے بسی کی آخری حدوں پر تھی ۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔
داؤد کو زمین پر گڑا دیکھ وہ چیخی تھی ۔۔۔۔

خدا غارت کرے تمہیں بزدل انسان خدا تمہیں عبرت بنائے
تمہاری بہن بیٹی بھی ہوں ہی رسوا ہو ۔۔۔۔
بزدل کمینے ۔۔۔۔۔۔۔
پھٹی آستینوں سمیت ہاتھ پاؤں مارے
اللّٰہ کے لیے مدد کردو ۔۔۔۔
اللّٰہ مدد کر میری ۔۔۔۔۔کوئی تو بچائے ۔۔۔۔
مگر وہ چاروں وحشی بنے ہوئے تھے

کوئی تو آئے ۔۔۔۔۔
نسوانی چیخیں رات کے اس پہر وحشت ناک لگ رہی تھیں۔۔۔۔۔

داؤد نے ہمت نہیں ہاری وہ پھر اٹھا تھا اس لڑکی کو بچانے کے لیے ۔۔۔۔۔
دو لڑکوں نے بازوں سے داؤد کو تھام لیا ۔۔۔۔
ہیرو بنے گا ۔۔۔۔بے تو ۔۔۔۔۔۔۔ پہلے والے نے اس کے پیٹ میں زور سے لات ماری خون فوارے کی طرح داؤد کے منہ سے نکلا تھا ۔۔۔۔۔

داؤد کو اپنے کمزور ہونے کر پر شدت سے خود سے نفرت محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔
تم بھی تڑپو گے ۔۔۔۔۔۔۔
تباہ و برباد ہوجاؤ گے ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں بچے گا۔۔۔۔۔۔
سب ختم !!!!
آخری الفاظ جو اس نے سنے تھے ۔۔۔۔!!!!


اللّٰہ اللّٰہ یہ تربیت کی ہے دانیہ جتوئی نہ اپنے بیٹے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے چوری کی ۔۔۔۔چوری تک تو ٹھیک زانا ۔۔۔بھی ۔۔۔
سنا ہے وہ لڑکی مر گئی ۔۔۔۔
آوازیں دھیمی پر گئیں ۔۔۔۔۔
امیر ہے اس کے ننھیال والے بچا لیں گے ۔۔۔۔
ہاں پستا ہمیشہ غریب ہے ۔۔۔۔
بچاری مر گئی لے دے کر بات ختم ہو جائے گی ہمیشہ کی طرح
۔۔۔۔

مما میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔میں نے۔۔۔۔داود کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی ۔۔۔۔۔

زانی ہو تم …..نہیں
داؤد میرے بچے ۔۔۔۔۔
میرے علاؤہ اگر کوئی تمہارا اپنا ہے تو اللّٰہ ہی ہے ۔۔۔۔۔
داؤد سب جھوٹے ہیں ۔۔۔۔
میں جانتی ہوں اپنے بچے کو ۔۔۔۔۔
رونا نہیں مما کو درد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
داؤد اسے دور مت ہونا بچے ۔۔۔۔۔
داؤد سب برے ہیں کوئی کسی کا نہیں
دنیا بکواس کرتی ہے میرا بچہ معصوم ہے ۔۔۔۔۔۔
نہیں پاگل ہے ۔۔۔۔۔۔۔زانی ہے۔۔۔۔۔۔

ہاں ہاں ۔۔۔میرا بیٹا سچا ہے کچھ نہیں کیا میرے بچے نے
کوئی بھی نہیں ہے یہاں پر تمہارا ۔۔۔۔۔
ایک چپ گہری چپ نے داؤد کی ذات کو اپنے خول میں چھپا دیا ۔۔۔۔۔
داد جی اسے گھر پر نہیں رکھنا گھر میں جوان بچیاں موجود ہیں ۔۔۔۔۔۔
داد جی اس زانی کو نکالیں ۔۔۔۔۔
اوپری منزل پر کوئی نہ جائے وہاں بھیڑیا رہتا ہے ۔۔۔۔۔

اور پھر اس بھیڑیے کو اپنے عکس سے ہی نفرت ہوگئی ۔۔۔۔۔۔
اس کی ماں جو اس کا واحد سہارا تھا وہ بھی اسے چھوڑ گئی ۔۔۔۔۔۔
سب کی طرح وہ بھی دغا دے گئی ۔۔۔۔۔


سس۔۔۔۔۔ کشوہ کی سسکیاں پورے کمرے میں گونج رہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔
می۔۔۔میں زانی ۔۔۔۔نہیں ہوں گھٹتی سانسوں کے سنگ داؤد کہتا کشوہ کو شدت سے رونے پر مجبور کرگیا ۔۔۔۔۔
اس کے دونوں ہاتھوں کو آنکھوں سے لگا کر اس پر اپنی پیشانی ٹکائے وہ آج شدت سے روئی ۔۔۔۔
سب سب اندھے ہیں سب کے سب ۔۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے نہ اپنے داؤد پر۔۔۔۔
اتنا دکھ اتنی تلخی اتنا غم اس کے دل میں تھا ۔۔۔۔۔۔
داؤد میں ۔۔۔۔میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی جس دن کشوہ نے آپ کو چھوڑ دیا وہ ویسے ہی مرجائے ۔۔۔۔۔
شش۔۔۔ن۔۔نہیں ۔۔نہیں ۔۔
سر کو سر سے جوڑ کر اس نے بھی اپنے سالوں کا غبار آنسوؤں کے ذریعے نکالا تھا ۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔