Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

ایڈوانس میں سالگرہ مبارک میری جان گراؤنڈ میں چونکڑی مار کر بیٹھی کشوہ کے پاس آکر پیچھے سے گلے لگاتی زینب چہک کر بولی۔۔۔

آہ زینب۔۔۔۔۔۔۔ اس کے سخت حصار کو توڑ کر کشوہ نے منہ بنایا یار ایک تو اتنی زور کے گلے لگاتی ہو دم گھٹ جائے اور کتنی دفعہ کہا ہے جان وان نہ کہا کرو سخت چڑ ہوتی ہے مجھے ۔۔۔۔
خفگی سے بولتی زینب کو مسکرانے پر مجبور کر گئی ۔۔۔۔
میں کیا کروں جانم تم مجھے لگتی ہی اتنی اچھی ہو اب جان نہ کہوں تو کیا کہوں دل پر ہاتھ رکھتی کشوہ کو بھی مسکرانے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔۔
ہونٹ تو چھپے ہوئے تھے آنکھیں مسکرائی
یار یہ جب تمہاری نشیلی آنکھیں مسکراتی ہیں تو دل کرتا ہے کاش میں لڑکا ہوتی اور تم سے شادی کر لیتی ۔۔۔۔۔۔
افففف۔۔۔تم اور تمہارے کاش
اور اگر تم لڑکا ہوتی تو میرا تم سے بھی پردہ ہوتا اور اب پڑھنے دو ۔۔۔۔
اس کے حجاب میں مقید سر پر چپت لگاتی کتاب کی طرف آنکھیں موڑ گئی ۔۔۔۔

دور کھڑے سر عمر کی نظریں مکمل چھپی کشوہ پر تھی کچھ تو تھا اس لڑکی میں جو ہمیشہ خود کو ڈبٹنے کے باوجود وہ اس کی طرف متوجہ ہوتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔سر جھٹک کر وہ وہاں سے ہٹا ۔۔۔۔

اچھا یہ بتاو سر عمر کے سبجیکٹ کا پیپر ہے تیاری کیسی ہے تھوڑی دیر بعد ذینب کی زبان پر پھر سے کھجلی ہوئی ۔۔۔۔۔۔
بس ٹھیک ہے پتا نہیں سر کیسا پیپر دیں گے مجھے تو ڈر لگ رہا ہے اگر میں بھول گئی تو۔۔۔۔
پریشانی سے زینب کو دیکھا
ان شاءاللہ بہت اچھا پیپر ہوگا مجھے اپنی جان پر پورا بھروسہ ہے بس ریلیکس رہنا ۔۔۔۔کپڑے سے اوپر سے ہی اس کے گال کو کھینچا ۔۔۔۔
آہ نہیں کرو اتر جائے گا نہ گھور کر اپنا نقاب صحیح کرتے بولی ۔۔۔۔۔
اچھا کشوہ یہ تو گرلز یونیورسٹی ہے نہ تو اتار دیا کرو نہ یہاں پر گرمی میں دم نہیں گھٹتا ۔۔؟؟
زینب نے فکر مندی سے کہا
دیکھو زینی بے شک یہ گرلز یونیورسٹی ہے مگر یہاں کے عملے میں مرد بھی موجود ہیں تو میں کیوں گناہ گار ہوں ۔۔؟؟ اور سب سے بڑھ کر مجھے نقاب میں گھٹن کی بجائے تحفظ کا احساس ہوتا ہے ایسا لگتا ہے اللّٰہ پاک نے میرے گرد فرشوں کا حالا بنا دیا ہے جو میری حفاظت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہیں نہ کچھ لوگوں کے لفظ دل کو چھوتے ہیں کشوہ بھی انہیں لوگوں میں سے ایک تھی زینب کی آنکھیں نم ہوئی اسے یاد ہے اچھے سے جب وہ پہلے دن یونیورسٹی میں آئی تھی وہ بالکل بھی ایسی نہیں عبایا تو دور کی بات حجاب بھی نہیں کرتی تھی نام کا سٹالر کرتے جینز فیشن کی شدائی ۔۔۔۔
تمہیں پتا ہے کشوہ میں بہت خوش نصیب ہوں جو اللّٰہ پاک نے مجھے تم جیسی دوست سے نوازا اور تمہارے ہونے والا شوہر مجھ سے بھی زیادہ خوش قسمت ہوگا جو اسے تم ملو گی ۔۔۔۔۔
بیٹھے بیٹھے ہی فرط جذبات میں اس کے گلے لگی تھی ۔۔۔


زانی ہو تم …..نہیں
داؤد میرے بچے ۔۔۔۔۔
میرے علاؤہ اگر کوئی تمہارا اپنا ہے تو وہ ہی ہے ۔۔۔۔۔
داؤد سب جھوٹے ہیں ۔۔۔۔
میں جانتی ہوں اپنے بچے کو ۔۔۔۔۔
رونا نہیں مما کو درد ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
داؤد اسے دور مت ہونا بچے ۔۔۔۔۔
داؤد سب برے ہیں کوئی کسی کا نہیں
دنیا بکواس کرتی ہے میرا بچہ معصوم ہے ۔۔۔۔۔۔
نہیں پاگل ہے ۔۔۔۔۔۔۔زانی ہے۔۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آج پھر تیسری منزل پر قیامت گزری تھی پھر سے سامان ٹوٹا تھا کوئی لہو لہان ہوا تھا
وہ جو اپنی مما کا لاڈلا تھا
ماں کے بعد ٹھوکروں کی نظر میں آگیا ۔۔۔۔۔۔۔


پیپر کیسا ہوا۔۔۔؟؟؟ کشوہ نے نوٹس ہاتھ میں تھام کر زینب سے پوچھا ۔۔۔۔۔
میرا تو بہت اچھا تمہارا کیسا ہوا ۔۔؟؟
میرا بھی الحمدللہ بہت اچھا ہوا ہے
ہممم۔۔۔۔زینب کچھ سوچتی اس کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلی
یار کشوہ ایک بات کہوں
بالآخر اس نے کشوہ کو بلایا ۔۔۔۔
ہاں زینی تمہیں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے
گراؤنڈ کے بائیں جانب بنے پتھر کے بینچ میں بیٹھ کر کشوہ نے اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
یار مجھے لگتا ہے سر عمر تمہیں بہت غور سے دیکھتے ہیں ۔۔۔

آنکھیں چھوٹی کرکے اس نے کشوہ کو راز بتانے کے سے انداز میں بات بتائی ۔۔

آہ آہہہ۔۔۔۔پانی کا بری طرح غوطہ لگا تھا کشوہ کو کھانس کھانس کر دوری ہوئی ۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا زینب نے فکر مندی سے اس کی پیٹھ سہلائی ۔۔۔۔۔

بہت فضول سوچتی ہو تم زینب کوئی حال نہیں تمہارا ۔۔۔۔۔

زینب کو گھور کر گہرے سانس لے کر اپنا تنفس درست کیا ۔۔۔۔۔
نہیں نہ کشوہ میں نے خود دیکھا جب تم پیپر لکھ رہی تھی وہ مسلسل تمہیں ہی دیکھ رہے تھے اور پھر جب تم سر اٹھاتی وہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگتے ۔۔۔۔۔پر۔ یقین لہجے میں اسے اپنی بات کا یقین دلاتی کشوہ کو پریشان کر گئی۔۔۔۔۔
سہی میں زینی ۔۔۔۔۔
لہجے میں ابھی بھی بے یقینی تھی ۔۔۔۔۔

اچھا بات سنو کشوہ یہ ہمارا لاسٹ سمسٹر ہے پھر تو تمہاری شادی بھی کہیں نہ کہیں ہونی ہے تو سر عمر کیوں نہیں اتنے اچھے تو ہیں کسی کے بھی آئیڈیل ۔۔۔۔۔

زینب بہتر ہوگا تم میرا نام کسی غیر محرم کے ساتھ مت ہی جوڑو وہ بھی بس اپنے شک کی بنا پر مجھے ہر گز بھی اچھا نہیں لگے گا اور رہی بات وہ اچھے ہیں ہاں نہیں اس بارے میں نہ تو میں کبھی سوچا ہے اور نہ سوچنا چاہتی ہوں باقی اللہ نے جو میرے نصیب میں لکھا ہوا ہے وہ جلد یا بدیر مجھے مل ہی جائے گا ۔۔۔۔
ٹھہرے لہجے میں اسے سمجھاتی زینی کو بہت اچھی لگی ۔۔۔۔۔
اوکے جاناں جیسے تمہاری مرضی پانی کی بوتل میں سے پانی اس پر اچھال کر وہ دوڑ لگا گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔


دوپہر کا وقت تھا جب عنصر نے اپنے ماں باپ کے کمرے کی طرف رخ کیا ۔۔۔۔۔۔
یہ ہی سہی وقت تھا وہ بات کر لیتا۔۔۔۔
مما بابا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔۔۔
عنصر نے سعید صاحب اور خمسہ صاحبہ کو اپنی جانب متوجہ کرکے کہا ۔۔۔۔۔
ہاں بیٹا کہو نہ مسز سعید ملنے محبت سے اپنے خوبرو بیٹے کو دیکھ کر پیار سے کہا ۔۔۔۔۔
مما میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
بہت ہی سکون سے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔۔۔
ش۔شادی ۔۔۔۔۔شادی ۔۔۔۔
جی مما شادی ۔۔۔۔
کیا ہوا بیگم اتنی حیران کیوں ہورہی ماشاءاللہ سے میرے بیٹے کی عمر ہے شادی کی ۔۔۔۔۔
ج۔جی تو ہے کیا تم کسی کو پسند کرتے ہو عنصر ۔۔۔۔؟؟؟
زبردستی سا مسکرا کر استفسار کیا ۔۔۔۔۔
پسند تو نہیں مگر مجھے جس طرح کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں وہ بالکل ویسی ہے۔۔۔۔۔
اچھا کون ۔۔؟؟؟
کیا ہم اسے جانتے ہیں ۔۔؟؟ سعید جتوئی نے پر سوچ انداز میں پوچھا ۔۔۔۔۔
جی ڈیڈ جانتے ہیں آپ اسے۔۔۔۔۔
تو بیٹا پہیلیاں کیوں بوجھوارہے ہو بتاؤ نہ کون ہے ؟؟
ماما میں کشوہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
بلآخر اپنی پسند ان کے سامنے رکھ دی ۔۔۔۔
کشوہ ۔۔۔۔۔۔۔مسز سعید ہونک کی طرح اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔کیا ہوا مما آپ کو میری چوئس اچھی نہیں لگی کیا ۔۔۔؟؟
مسکرا کر کچھ جھجھک کر پوچھا ۔۔۔۔۔
نہیں بیٹا کشوہ بہت اچھی بچی ہے مگر کشوہ کیوں مطلب تمنا ۔۔۔۔۔کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔
مجھے لگا تمہیں تمنا اچھی لگے گی ۔۔۔۔
مما ہوگی تمنا بہت اچھی اس بات میں کوئی شک نہیں مگر مما اگر مجھے تمنا جیسی ہی لڑکی سے شادی کرنی ہوتی تو وہاں
یو کے میں میرے پاس اس سے بھی زیادہ بیٹر آپشنز تھے ۔۔۔۔۔
آپ سمجھ رہی ہیں نہ ۔۔۔۔
مجھے اپنی لائف پاٹنر ایسی چائیے جو خود کو امانت کی طرح سنبھال کر رکھے ناکہ خود کی نمائش کرتی پھرے ۔۔۔۔۔

ہممم ہاں۔۔۔۔۔ خمسہ جتوئی نےآنکھوں کا رخ سعید جتوئی کی جانب موڑا ۔۔۔۔۔
ہاں مجھے کوئی اعتراض نہیں جب عنصر کو کوئی مسئلہ نہیں
بلکہ یہ تو خوشی کی بات ہے وہ بھی میرے بھائی کی ہی بیٹی ہے
اچھا تو کل سالگرہ ہے اس کی پھر بات کرتے ہیں داد جی سے اس کے کندھے پر تھپکی دے کر سعید صاحب اٹھے ۔۔۔۔

جی ڈیڈ۔۔۔۔


اپنے فون کو اپنی نازک مٹھی میں بھینجتی تمنا غصے کے باعث سرخ ہوتے چہرے سمیت تایا جی کے کمرے کے دروازے کے باہر سے نکلتی اپنے کمرے میں آئی ۔۔۔۔۔
مجھے تمنا جیسی ہی لڑکی سے شادی کرنی ہوتی تو وہاں
یو کے میں میرے پاس اس سے بھی زیادہ بیٹر آپشنز تھے ۔۔۔۔۔
آپ سمجھ رہی ہیں نہ ۔۔۔۔
مجھے اپنی لائف پاٹنر ایسی چائیے جو خود کو امانت کی طرح سنبھال کر رکھے ناکہ خود کی نمائش کرتی پھرے ۔۔۔۔۔

تمنا جیسی لڑکی
خود کی نمائش کرتی پھرے
تمنا جیسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ الفاظ سر میں ہتھوڑے کی مانند برس رہے تھے
واٹ دا ہیل یو مین لائک تمنا جیسی۔۔۔۔۔
اپنا فون ہی اٹھا کر دیوار پر دے مارا ۔۔۔۔۔۔

بہت غلط کیا تم نے عنصر جتوئی تمنا کوئی گری پڑی لڑکی نہیں ہے جو تم جیسے کند ذہن لڑکے کے ہاتھوں ری جیکٹ ہو ۔۔۔۔۔۔
اپنے سنہری بالوں کو مٹھیوں میں بھینجتی وہ خود پسندی کی حدوں پر اتر آئی ۔۔۔۔
کشوہ بی بی یہ تمہارا اصلی چہرہ پردہ کا ڈھونگ کرتی ہو اور گھر کے لڑکوں کو اپنے پیچھے لگواتی ہو ۔۔۔۔۔


زینی ۔۔۔۔۔زینب کی بچی تمہیں اللّٰہ پوچھیں گے مجھے سارا بھیگا دیا ۔۔۔۔۔۔۔
خالی کلاس سے کشوہ کی جھنجھلائی آواز سن کر سر عمر کے قدم تھمے تھے ۔۔۔۔۔
بے دھیانی میں عمر کی نظر لکڑی سے نیم بند دروازے سے جھانکتے منظر پر پری مگر اندر کا منظر دیکھ کر وہ مبہوت ہوگیا ۔۔۔۔۔
سفید چمکتا چہرہ گال گرمی کی تمازت سے سرخ ہوئے ہوئے تھے جبکہ اپنی بھیگی چٹیا کے بل کھولتی وہ زینب پر بری طرح بھڑکی بھی تھی ۔۔۔۔۔۔
کتنی غلط بات ہے زینب اب مجھے مت بلانا میرا عبایا بھی گیلا کردیا میں اب چپکے وبائے کے ساتھ گھر جاؤں گی آواز اب بھگنا شروع ہوئی تو زینب کے دل کو کچھ ہوا جبکہ باہر کھڑے سر عمر کو اپنی حرکت پر پیشمانی ہوئی جب ایک لڑکی خود کو مکمل چھپا کر رکھتی ہے تو وہ کون ہوتا ہے موقعے کا فائدہ اٹھا کر اس کے پردے میں خلل ڈالنے والا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بات کرنی پڑے گی آپ سے مس کشوہ فرید ۔۔۔۔۔۔
وہ اتنا کہہ کر دلکشی سے مسکراتا وہاں سے ہٹا تھا ۔۔۔۔۔

تم میرا عبایا پہن جاؤ کشوہ مگر مجھ سے ناراض مت ہونا
آئی ایم سوری ۔۔۔۔اپنے کان پکڑتی زینب اسے بے تحاشا ۔معصوم لگی ۔۔۔۔۔۔
آئندہ مت کرنا ایسا کوئی کام سوکھ گیا ہے اب یہ ۔۔۔۔۔۔
تم بہتتتتت اچھی ہو ۔۔۔۔۔
مکھن باز ۔۔۔۔۔۔۔


آپیا کل ہمارا ٹیسٹ ہے آپ ہمیں پڑھا دیں گی فیزکس کا ۔۔؟؟ عائد اور زید اس کے یونیورسٹی سے آتے ساتھ ہی اس کے دوآلے ہوئے ۔۔۔۔۔
اچھا بچوں تم لوگ ٹی وی لاونج میں بیٹھو میں کمرے بدل کر آئی
اوکے شکریہ آپیاااا۔۔۔۔۔۔

جی گائیز آپ لوگ تو جانتے ہیں میرے دن بھر کی مصروف روٹین کے بارے میں تو شاہد میں کل وی لوگ نہ دے سکوں افسردہ شکل بناتی تمنا اس وقت لائو ویڈیو بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
ارے حسنہ کہا جا رہی ہو ۔۔۔۔۔
پاس سے گزرتی حسنہ کو روک کر اپنے کیمرے میں لیا تھا جو پہلے تمنا کے ٹوکنے پر چڑی تھی مگر کیمرہ دیکھ کر اس کے ہونٹ نائنٹی ڈگری پر پھیلے تھے
کچھ خاص نہیں تمنا میں نوٹس لینے جارہی ہوں ۔۔۔۔۔۔
حسنہ کی میٹھی آواز پر عائد زید کے ساتھ ان کو پڑھاتی کشوہ کو بھی جھٹکا لگا تھا
حسنہ اور پڑھائئ۔۔۔۔

اچھا وی لوگ بناتے ہوئے تمنا کی نظر حسنہ کے پیروں میں موجود اپنے سنیکرز پر پری تھی
ارے حسنہ یہ تو میرے شوز ہیں نہ
ہاں تمنا میں آکر دے دوں گی مسکرا کر اسے تیلی لگائی تمنا زبردستی مسکرا کر اپنے دانت کچکا گئی اگر ابھی لائو نہ ہوتی تو وہ اسے اچھے طریقے سے بتاتی ۔۔۔۔۔
جبکہ کشوہ نے تاسف سے انہیں دیکھا حقیقت سے تو وہ بھی آشنا تھی ۔۔۔۔۔۔۔


موزوں کی آواز پر وہ ہوش میں آئی اسے پتا ہی نہیں لگا کب وہ خیالوں میں کھوئی اور پھر کھوتی چلی گئی ۔۔۔۔۔
آنکھیں بند کی تو مرچی کا احساس محسوس کرتے آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔۔۔۔۔
اٹھ جاؤ کشوہ ابھی بہت سے امتحان سر کرنے ہیں
اور ان میں سب سے مشکل مما کو منانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔