No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
سنہرے موسم کی ایک اور سنہری دوپہر ہلکی ہلکی ہواؤں کے سنگ نرم گرم سی دھوپ بہت بھلی لگ رہی تھی
مگر اپنے کالج کے باہر اپنے ڈرائیور کے انتظار میں کھڑی
سیاہ نقاب سے جھلکتی کشوہ فرید کی آنکھوں کو یہ دھوپ بہت چب رہی تھی بھوری آنکھیں دھوپ کی کرنوں میں نشیلی سنہری مائل لگ رہی تھیں ۔۔۔۔۔۔۔لمبی گھنیری پلکیں بھی دھوپ کی کرنوں کو روک پانے سے قاصر تھی۔۔۔۔۔۔
جب سیاہ رنگ کی کرولا اس کے پاس آکر رکی تھی
آنکھوں میں شدید خفگی سموئے وہ جھنجھلائے گاڑی کے پچھلا دروازہ کھول کر اس میں برجمان ہوگئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
رفاقت انکل آپ آج پھر لیٹ تھے
گاڑی میں خاموش بیٹھی کشوہ دھیمے لہجے میں بولی سوری بیٹا جی وہ بس تمنا بی بی کے کام سے چلا گیا تھا میں آئندہ خیال رکھو گا ۔۔۔۔۔
تمنا ۔۔۔۔کشوہ بڑبڑائی کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔
سر جھٹک کر اس نے اپنا فون نکال کر اپنی ماما کو میسج کیا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ ہی سنہری کرنیں جتوئی ہاؤس پر بھی اتریں تھیں
یہ منظر جتوئی ہاؤس کا تھا اپنی خوبصورتی پر نازاں پورے آب و تاب سے کھڑی چار کنال پر محیط یہ تین منزلہ کوٹھی ہر دیکھنے والے کو رشک کرنے پر مجبور کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔
جس میں ہر رنگ کا امتیاز شامل تھا
جتوئی ہاؤس میں رہنے والے بھی بلاشبہ خوبصورت سترنگی طبیعت کے تھے
کوئی غصیل تو کوئی حد سے زیادہ میٹھا کوئی چھپا ہوا تو کوئی بہت ظاہر کوئی نرم تو کوئی گرم ۔۔۔۔۔
بلکہ آپ خود اندر جا کر دیکھ لیں یہ دوسری منزل سے
کھلکھلاتی آواز کلیم جتوئی کے سب چھوٹے بیٹے کی سب سے چھوٹی صاحب زادی اور گھر بھر کی لاڈلی تمنا جتوئی کی تھی جو اس وقت اپنا وی لوگ بنانے میں مشغول تھیں
اوکے بائے گائیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر ملاقات ہوگی میں ہوں آپ لوگوں کی پیاری تمنا جتوئی اور آج کا وی لوگ یہ ہی پر ختم ہوتا ہے لائک شئیر ضرور کرئیے گا اور اگر آپ لوگوں نے ابھی تک میرا چینل سبسکرائب نہیں کیا تو جلدی جلدی سے سبسکرائب کا بٹن پریس کریں یار دیری کس بات کی ۔۔۔۔۔۔
اوکے بائےےےےے۔۔۔۔۔
فون آف کرتے وہ اپنے بیڈ پر گری تھی
اف کتنا مشکل ہے نہ یہ ڈیلی وی لاگنگ۔۔۔
تمنا حسنہ کی طرف دیکھ کر بولی تھی جو اپنے دونوں ہاتھوں کی مدد سے اپنا ہئیر سٹائل بنانے میں بزی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو چھوڑ دو پف سیٹ کرتے انتہائی لاپرواہی سے کہا گیا ۔۔۔۔
چھوڑ دو ۔۔۔۔۔دو میلین سبسکرائبر ہیں ایسے ہی چھوڑ دوں منہ بسور کر اٹھ کر حسنہ کے کندھے پر دھموکا جڑا ۔۔۔۔۔۔
آہ ۔۔۔۔تنو اتنا بھاری ہاتھ ہے
شٹ اپ تمنا نام ہے میرا پینڈو تنو نہیں ۔۔۔۔۔
اور ادھر دو ہر وقت اپنا ہی چہرہ سنوارتی رہتی ہو۔۔اس کے ہاتھ سے گلابی رنگ کا لپ گلوس کھینچ کر اپنے ہونٹوں پر لگایا ۔۔۔۔۔۔
تنو نہیں تمنا ۔۔۔۔۔اپنا کندھا سہلا کر حسنہ بڑبڑاتی بیڈ پر پڑا اپنا بیگ ہاتھ میں تھام کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
یہ غصے سے کمرے سے باہر نکلی کلیم جتوئی کے بڑے بیٹے کی چھوٹی بیٹی حسنہ سعید جتوئی تھی جو اس وقت یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہورہی تھیں ۔۔۔۔
مما مما بچاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ گھر بھر کے فتنے بقول گھر والوں کے انیس سال کا زید نوید بھاگتا ہوا کچن میں آیا جہاں مسز نوید اور مسز سعید کھانا بنانے میں مصروف تھیں
کیا ہوا زید جب فوراً ہی ہو بہو زید کی شکل و صورت والا مکمل بھیگا عائد وہاں پہنچا ۔۔۔۔۔۔
مما میں اسے مار دوں گا آج اس نے مجھے گیلا کر دیا ہے اور میری اسائمنٹ پھاڑ دی ہے
مسز نوید سر پکڑ کر بیٹھ گئی گھوڑے جتنے ہوگئے ہو دونوں میں نوید صاحب کو بتاتی ہوں
بابا نہیں ان دونوں کا رنگ اڑا نہیں مما می۔۔میں ٹھیک ہو کچھ نہیں ہوا ۔۔۔نہیں ہیں نہ عائد زید اس کے گلے میں ہاتھ ڈال کر بولا جی جی مما کچھ نہیں ہوا وہ دونوں گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔
اور یہ اب اپنے سیاہ عبائے میں اس کمرے میں داخل ہوتی لڑکی کلیم جتوئی کے مرحوم منجھلے بیٹے کی اکلوتی بیٹی کشوہ فرید جتوئی تھی
جس نے کمرے میں قدم رکھتے کُنڈی لگائی اب عبایا اور نقاب اتار کر گہرا سانس لیا لبوں کے اوپر ہلکی ہلکی نمی تھی جو یقیناً دھوپ میں کھڑے رہنے کی وجہ سے پسینہ بن کر نمودار ہوئی تھی
اب اس کا ارادہ شاور لینے کا تھا ۔۔۔۔۔۔
یہ دوسری منزل کے سب سے بڑے کمرے میں نظر دہراؤ تو
دوپہر کے وقت اپنے کمرے میں خواب خرگوش کے مزے لیتے
عنصر سعید جتوئی صاحب تھے گھر کے سب سے پہلے پوتے جو حال ہی میں یو۔کے سے اپنی پڑھائی کرکے واپس آئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ ان کی والدہ ماجدہ کا حکم تھا کہ ان کے ہونہار بیٹے کو کوئی رنگ نہ کرے ۔۔۔۔
تیسری منزل پر اگر نظر جائے تو وہاں عجیب سا اندھیرا تھا وحشت ناک سا اندھیرا وہاں دیکھ کر لگتا تھا جیسے برسوں سے وہاں کوئی نہ گیا ہو ۔۔۔۔۔۔
مگر یک دم ہی خاموش سی فضاء میں کانچ ٹوٹنے کی آواز آئی اور پھر لگاتار سامان کے پٹخے جانے کی آوازیں
عجیب سسکیاں چیخیں
اور پھر یک دم گہرا سکوت چھا گیا ۔۔۔۔۔
کلیم جتوئی صاحب جتوئی ہاؤس کے سربراہ جن کی بیگم چند سال پہلے اس دنیا کو خیر آباد کہہ کر چل بسی تھی
کلیم جتوئی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی تھی پہلے بیٹے سعید جتوئی پھر دانیہ جتوئی فرید جتوئی اور سب سے آخر میں نوید جتوئی
کلیم صاحب جلد ہی اپنے سب بچوں کی شادیاں کروا کر اپنی زمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے تھے۔۔۔۔۔
سوائے دانیہ جتوئی کے ان کے بیٹوں نے اپنی پسند کی شادی کی تھی
تین منزلہ جتوئی ہاؤس میں رہنے والے وہاں کے سربراہ سمیت سب کافی ماڈرن تھے نشے اور حرام چیزوں کے سواہ ہر چیز کی آزادی تھی۔۔۔
سب سے پہلے سعید جتوئی اور خمسہ جن کے دو بجے تھے عنصر سعید جو پڑھائی مکمل کرکے پاکستان واپس آچکا تھا اور حسنہ سعید جو ابھی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی پھر فرید جتوئی اور سُریہ جن کی ایک ہی بیٹی تھی کشوہ جتوئی جو بچیوں میں سب سے بڑی تھی مگر قرآن پاک حفظ کرنے کی وجہ سے اس نے دنیاوی تعلیم دیر سے شروع کی اور وہ بھی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی فرید صاحب کی چند سال پہلے روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات ہوگئی تھی ان کے بعد سُریہ بیگم نے ہی ان کے حصے کا بزنس سنبھالا تھا پھر کلیم جتوئی جن کے تین بچے تھے ایک بیٹی تمنا جتوئی اور پھر دو جڑواں بیٹے زید اور عائد جو کالج کے سٹوڈنٹ تھے اور پھر دانیہ جتوئی جس کی شادی کلیم صاحب نے اپنے دوست کے بیٹے سے کروائی تھی دانیہ جتوئی پر سکون زندگی میں طوفان آیا جب علیم کاظمی نے انہیں طلاق دے کر پانچ سالہ بیٹے کے ساتھ رخصت کردیا تب سے وہ جتوئی ہاؤس میں واپس آگئی تھی ۔۔۔۔۔۔
ہنی بہت پیاری لگ رہی ہو اس ٹوپ میں تم شہریار نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تعریف کی تو حسنہ جھینپ گئی
شیری چلو نہ یونی چلتے ہیں دوبارہ پہلے ہی دو کلاسز بنک ہوچکی ہیں جوس کا آخری سپ لیتے حسنہ نے اسے اٹھانا چاہا ۔۔۔۔
وہ دونوں اس وقت یونیورسٹی سے بنک مار کر کیفے میں موجود تھے
نہیں ہنی میرا دل نہیں کر رہا کہیں جانے کو بیٹھی رہو میرے پاس میرے ساتھ میں صرف تمہیں ہی دیکھنا چاہتا ہوں اور کچھ بھی نہیں ہاتھ سے تھام کر دوبارہ بٹھاتے ہوئے شہریار نے کہا ۔۔۔۔۔۔
تم بھی نہ مجھے فیل کرواؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔
سر نفی میں ہلاتے واپس بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا میرے لیے فیل بھی نہیں ہو سکتی اس کی آنکھوں میں جھانکتے دل کشی سے کہا گیا ۔۔۔۔۔
مطلب تمہارا پکا ارادہ ہے فدا ہونے والے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
میرا چھوڑو اپنا بتاؤ ۔۔۔۔۔
میرے تو ارادے بڑے نیک ہیں بے باک انداز میں لب دانت میں دبا کر بولتا اسے شرمانے پر مجبور کرگیا ۔۔۔۔
ایکسکیوز می بہن جی دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔
نہا کر اپنے سیاہ بالوں کو سکھاتے کشوہ چونکی یہ آواز تمنا کی تھی اسے کیا پروبلم ہے کشوہ نے اچھے طریقے سے ڈوبٹہ خود پر لپیٹ کر دروازہ کھولا۔۔۔
جی ۔۔۔۔۔ کشوہ نے سپاٹ لہجے میں پوچھا دادجی بلا رہے ہیں جلدی آو نیچے اب تھان لپیٹنے کے چکر میں دیر مت کر دینا ۔۔۔۔۔۔۔
میں آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔
ہنہہہ۔۔۔۔۔۔
اسلام علیکم داد جی چہرے کو حجاب میں اچھے سے کوور کئیے وہ داد جی کے کمرے میں آئی ۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام آو آؤ بچے کلیم جتوئی نے کشوہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا
جی داد جی آپ نے بلایا تھا ۔۔۔۔
ہاں بچے آو بیٹھو میرے پاس بہو تو مصروف ہوتی ہے آفس ہے تم بھی اپنا چہرہ نہیں دیکھاتی ہمیں
وہ شکوہ کر گئے ۔۔۔۔نہیں داد جی ایسی بات نہیں بس میرے پیپرز ہورہے تھے اس لیے آج بھی تھا ۔۔۔۔۔
اللّٰہ کامیاب کرے گا میری بیٹی کو پتا ہے میرا فرید بہت ہی لائق تھا میرا بچہ ہر روز شرارتیں کرنا مگر امتحانات کے دنوں وہ بھی تمہاری طرح یوں ہی غائب ہوجاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کشوہ کی آنکھیں بھیگنا شروع ہوئیں
بے شک اپنے بابا کے زکر پر وہ مضبوط لڑکی کمزور ہوجایا کرتی تھی ۔۔۔۔
داد جی کے چہرے پر بھی کرب آیا جوان بیٹے کو کندھا دینا کہاں آسان تھا
میرا بچہ ایسے غائب نہ ہوا کرو میرے بچے کی نشانی ہو اور مجھے بہت عزیز ہو ۔۔۔۔۔۔
پر آپ کی تو ایک ہی لاڈلی ہے جانے کیوں وہ بھی شکوہ کر گئی آنسو گال بھگو گیا ۔۔۔۔۔۔
بچے ایسی بات نہیں ہے مجھے تم بھی اپنے سارے بچوں جتنی عزیز ہو میں بولتا نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں تم لوگوں کی کمی محسوس نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔
اسے اپنے ساتھ لگایا
جی داد جی ۔۔۔۔۔۔۔
پرسو میری بچی کی سالگرہ ہے کیا چاہیے میری بیٹی کو
کچھ بھی نہیں داد جی اس نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا
ارے کیوں نہیں چاہیے اگر ادھر کوئی اور ہوتا تو ایک لمبی لسٹ ہاتھ میں تھما دیتا وہ ہنسے ۔۔۔۔۔تو کشوہ بھی دھیرے سے مسکرا دی پھوپھو کی بھی اسی دن سالگرہ آتی ہے نہ بے ارادہ ہی وہ بول گئی پھر لب بھینج گئی
ہممم ۔۔۔۔۔ مرحوم دانیہ جتوئی
آئی مس یو پھوپھو
آئی مس یو پاپا ۔!!!؟ ان سے اپنے بابا کی خوشبو محسوس کرتے وہ بے آواز بولی۔۔۔۔۔
قدم قدم سیڑھیاں چڑھتے غفور (ملازم) ہاتھ میں کھانے کی ٹرے پکڑے وہ تیسری منزل میں آیا ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولا تو زمین پر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے چھوٹی سبز رنگ کی گیند کو کھالی آنکھوں سے دیکھتے اسے اپنے والی دیوار پر مارا جو وہاں ہٹ ہوکر واپس اس کی طرف آئی جسے اس نے کیچ کرلیا
غفور نے ٹرے اس کے سامنے رکھی ہمیشہ کی طرح چند لقمے لے کر اس نے دوبارہ کھانے کی طرف دیکھا بھی نہیں غفور نے افسوس سے اسے دیکھا وہ تو جیسے تکلف نبھاتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
زور زبردستی کا بھی کوئی فائدہ میں نہیں تھا وہ رونے لگ جاتا یاں پھر حملہ کر دیتا تھا اس پر غفور نے پانی کا گلاس اور دوائی اس کی طرف بڑھائی
گھٹ گھٹ پانی پینے سے زیادہ وہ گڑا رہا تھا جسے غفور نے صاف کیا ۔۔۔۔۔
چھوٹے صاحب میں کپڑے نکال دیتا ہوں آپ نہا لیں غفور نے ہچکچا کر کہا
وہ تالیاں بجاتا کپڑوں سمت ہی شاور کے نیچے جا کھڑا ہوا
جاؤ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔
