Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

آج وہ دن آ ہی گیا تھا جب جتوئی ہاؤس کی رونق کا نکاح تھا ۔۔۔۔مگر کتنی عجیب قسمت تھی جتوئی ہاؤس میں رہنے والوں کی بھی جب بھی نکاح ہوا سوگوار سے ماحول میں ہوا ہر طرح کی آزادی ملنے کے باوجود کبھی ایک فریق نکاح کے لیے رضا مند نہ ہوتا تو کبھی گھر والے ۔۔۔۔۔

مغرب کے بعد تمنا اور عنصر کا نکاح تھا ۔۔۔۔
نکاح کے لیے سعید جتوئی نے مارکی بک کروائی تھی ۔۔۔۔۔۔

نکاح والا گھر تھا سب ہی دولہے کی بہن کے بارے میں پوچھ رہے تھے جسے یہ کہہ کر خمسہ بیگم نے ٹالا تھا کہ
وہ تو پڑھائی کرنے ابروڈ گئی ہے اور جیسے سب کو معلوم ہے عنصر اور تمنا کا نکاح داد جی طبیعت کو مدنظر رکھتے جلدی رکھا گیا ہے اب اس ہڑبڑی میں فوری فلائٹ ملنا مشکل تھا

ان ہائی سٹینڈرڈ لوگوں نے بیت آسانی سے اس بات پر یقین کرلیا تھا وہاں ہر ایک کا موجود ہونا اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا تھا ۔۔۔۔

تیاریوں میں مشغول عنصر کو داد جی نے اپنے کمرے میں بلوایا ۔۔۔۔
عنصر کچھ پتا لگا حسنہ کا ؟؟
داد جی کے اتنے وصوق سے پوچھنے پر عنصر بری طرح چونک گیا ۔۔۔
جی داد جی ..؟؟ اس نے حیرانگی سے دادجی کی طرف دیکھا ۔۔۔
اتنا بے غیرت سمجھ رکھا ہے تم نے اپنے داد جی کو بچی سے ناراضگی اپنی جگہ مگر وہ میری پوتی ہے اور مجھے تم سب کی طرح عزیز کیا مجھے نہیں علم کہ تم اسے اپنے تہی ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہو اور نہ صرف تم تمہارا باپ بھی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے خاموش صرف دنیا والوں کی وجہ سے ہے داد جی کے اتنے صاف گو تجزیہ پر وہ پہلے تو چونک گیا مگر پھر اپنے بابا والے بات سن کر اسے سکون ہوا نہیں تو اسے اب حسنہ کو ڈھونڈنا مشکل تر لگنے لگا تھا ۔۔
اس لڑکے کی کوئی خبر نہیں تھی کون تھا کہاں سے آیا اور اب کہاں چلا گیا ۔۔۔۔
مجھے تم سے ایک اور ضروری بات بھی کرنی تھی تمنا کے متعلق ۔۔۔۔


کچھ معلوم ہوا کہاں ہے میری بچی ؟؟
خمسہ بیگم کی بھیگی آواز پر سعید جتوئی چونکے انھوں نے فوراً ہاتھ میں تھاما فون اپنے کوٹ کی جیب میں ڈالا ۔۔۔۔۔۔
خمسہ بیگم میں نے منع کیا تھا اس کا نام کوئی نہ لے اس گھر میں ۔۔۔۔
وہ سخت لہجے میں بولے ۔۔۔۔
تو پھر کسے فون کرکے پوچھ رہے تھے آپ سعید صاحب ماں ہو اس کی اور آپ کی بیوی کیا میں نہیں جانتی کہ آپ نے کتنے لوگوں کو خاموشی سے اسے ڈھونڈنے کے لیے لگایا ہوا ہے ۔۔۔۔
خمسہ جتوئی نے ان کی سختی کے خول کو پاش پاش کیا ۔۔

سعید جتوئی کے چہرے کے تاثرات جو سخت ہوئے ہوئے تھے اب ڈھلک گئے جیسے ان کے کندھے ڈھلکے تھے اب چہرے پر واضح کرب تھا ۔۔۔۔
ہم اچھے ماں باپ نہیں ثابت ہوئے ہم اپنے بچوں کی پرورش نہیں کر سکے
ہماری بیٹی بھٹک گئی اور اب جانے کہاں ہوگی ۔۔۔کس حال میں ہوگی ۔۔۔۔
خمسہ جتوئی نے اپنے شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
مل جائے گی ہماری حسنہ ان شاءاللہ انہیں رہ رہ کر فائزہ اور سریہ بیگم کی نظریں یاد آرہی تھی ۔۔۔۔
فائزہ بیگم کی آنکھوں میں تفخر تھا اور سُریہ بیگم کی آنکھوں میں تاسف ہمدردی ۔۔۔۔
خیر چہرہ صحیح کرو ہمارے بیٹے کا نکاح ہے آج ۔۔۔۔
نکلنے کی تیاری کرو ۔۔۔


داؤد آپ تیار نہیں ہوئے اللّٰہ میں کیا کرو آپ کا …؟؟
کشوہ کا داؤد کو ہنوز صوفے پر نیم دراز لیٹے فون پر مصروف دیکھ کر سر پیٹنے کو دل چاہا ۔۔۔۔
کیوں کشف کیا ہوا۔؟؟
اس نے مسکراہٹ دبا کر معصومیت سے کہا ۔۔۔۔
داؤد ؟؟ لہجے میں تنبیہ تھی ۔۔
اگر ہم نہیں جائیں گے تو نکاح رک تو نہیں جائے گا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں تو کل کا تھکا ہوا ہوں ڈاکٹر نے زیادہ باہر جانے سے منع بھی کیا ہے ۔۔۔
بہانوں کی لمبی لسٹ تھی اس کے پاس ۔۔۔

اففف داؤد جتنے آپ بہانے بنا رہے ہیں اتنے میں آپ نے تیار ہو جانا تھا ۔۔۔
داؤد پلیززز!!! التجائیہ لہجہ ۔۔۔
اوکے بس آپ کے لیے میرے کپڑے نکال دیں ۔۔۔۔
منہ بنا کر کہتا وہ باتھ روم کی جانب جاتے جاتے روکا۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہیں کشف؟؟
اس نے کشوہ کے ہاتھ میں سیاہ شلوار قمیض دیکھ کر نا سمجھی سے پوچھا ۔۔۔۔
آپ کا سوٹ نکال رہی آپ آج یہ پہنیں گے ۔۔۔۔
داؤد کو اس سیاہ شلوار قمیض میں تصور کرتی اس کی آنکھیں روشن ہوئی ۔۔۔

نہیں ۔۔۔پھر سے نہیں کشف میں کل بھی بہت عجیب فیل کر رہا تھا سب دیکھ رہے تھے ۔۔۔
اس نے بے بسی سے کہا ۔۔۔
آفو۔۔۔۔ داؤد وہ اس لیے دیکھ رہے تھے کیونکہ آپ اچھے لگ رہے تھے اور پلیز پہن لیں نہ مجھے آپ پر شلوار قمیض بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔
اب تو کشوہ نے اپنی پسند کے ساتھ منسلک کردیا تھا تو کیسے ممکن تھا کہ داؤد انکار کر دیتا۔۔۔۔


وہ بکھرا سامان سمیٹ رہی تھی جب داود سیاہ رنگ کی شلوار قمیض زیب تن کئیے ڈریسنگ کے سامنے آیا ۔۔۔۔۔
کشوہ مبہوت ہوئی ۔۔۔۔ داؤد کی نیلی آنکھیں کشوہ کے خود کو اس طرح دیکھنے پر روشن ہوئی ۔۔۔۔
ساری جھنجھلاہٹ ہوا ہوئی ۔۔۔۔
کشوہ نے نظروں کا ارتکاز موڑا ۔۔۔

بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہا تھا ہمیشہ کی طرح اس کا داؤد ۔۔۔۔صرف اس کا ۔۔۔
ہلکی ہلکی داڑھی گلابی لب مسکرائے تھے اس کے نظریں چرانے پر ۔۔۔۔
آج نہیں لگائیں گی سیاہ نشان ۔۔۔۔ڈریسنگ پر نقاب باندھتی کشوہ کے پاس قدرے جھک کر سرگوشی کی
کشوہ نے پلکوں کی باڑ سے نظریں اٹھائیں ۔۔۔۔

ماشاء اللہ داؤد نے بے ساختہ کہہ کر ڈریسنگ پر موجود کاجل اس کی جانب بڑھایا کیا آپ لگائیں گی ۔۔؟؟
کشوہ نے بنا کسی مزاحمت کے کاجل آنکھوں پر لگا لیا جب وہ اس کے لیے شلوار قمیض پہن سکتا تھا تو کیا وہ اس کی فرمائش پوری نہیں کرسکتی تھی ۔۔۔

کاجل لگا کر اس نے بھاری ہوتی آنکھیں اٹھائیں

آئینے میں اسکا عکس اپنے پیچھے دیکھ کر اس کا دل دھڑکا وہ دونوں ساتھ کھڑے بلاشبہ بیت خوبصورت لگ رہے تھے ۔۔۔۔
کشوہ نے گہری مسکراہٹ سمیت نقاب باندھا ۔۔۔۔
اس کے مسکراتے لب کپڑے میں چھپ گئے ۔۔

وہ دونوں تیار تھے ۔۔۔چلیں داؤد نے جینٹل مین کی طرح اپنا ہاتھ اس کے آگے بڑھایا ۔۔۔۔
مائی لیڈی ۔۔۔۔
کشوہ نے اپنا نازک ہاتھ اس کی کشادہ ہتھیلی میں رکھ کر آنکھیں چھوٹی کی ۔۔۔
کہا سے سیکھ رہے ہیں یہ ڈائیلاگ مسٹر ہسبینڈ ؟؟؟
یہ دل کہ بات ہے مائی کوئین ۔۔۔۔!!!
آکر پتا لگانا پڑے گا ۔۔اس کے بازو کے گرد ہاتھ باندھے وہ کھلکھلائی ۔۔۔۔
جو حکم!!…


آہستہ آہستہ سب مہمان اکٹھے ہونا شروع شروع ہوئے۔۔۔۔
با خیرںو عافیت سے نکاح کی رسم مکمل ہوئی ۔۔۔۔
سب سے پہلے داد جی نے دونوں بچوں کو گلے لگایا ۔۔۔
باری باری سب بڑے آکر بچوں کو مبارک باد دے رہے تھے جب کشوہ سمیت داؤد وہاں آیا تھا
عنصر اور تمنا دونوں کی نظریں تھمی تھی دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھنے کی بجائے اپنے سامنے کھڑے خوبصورت جوڑے کو دیکھ رہے تھے
تمنا کی نظریں داؤد کر جبکہ عنصر کی نظریں کشوہ کی آنکھوں پر تھیں ۔۔۔
اس آج بھی دکھ تھا کہ اس نے وقت کی قدر نہ کرتے کونسا ہیرا گنوا دیا جبکہ اس کے ساتھ بیٹھی اس کی منکوحہ کو یہ افسوس تھا کہ اس نے ہیرے کو کوئلہ سمجھ کر اپنے سب سے بڑے دشمن کو دان کردیا ۔۔۔۔
مگر ان کے افسوس صدا افسوس ہی رہ جانے والے تھے
کیونکہ کشوہ جتوئی تو ازل سے داؤد کاظمی کی تھی ۔۔۔۔


یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ داد جی آپ نے بس نکاح کی بات کی تھی اب رخصتی کہاں سے آگئی ۔۔۔
فائزہ جتوئی نے بے یقینی سے اپنے شوہر کی جانب دیکھ کر داد جی کو کہا
انہیں ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ ان کے شوہر خاموش ہیں ۔۔۔۔
چھوٹی بہو کیا فرق پڑتا ہے رخصتی آج ہو یاں کل
اب وہ ہے تو عنصر کی امانت نہ ۔۔۔
فرق کرتا ہے داجی میں اس کی ماں ہوں پہلے نکاح ہڑبڑی میں ہو گیا اب رخصتی ہے ہڑبڑی میں
میری بیٹی پہ آپ کو کوئی شک ہے آپ کے کہنے پر نکاح کرلیا ہے نہ کسی اور کی سزا میری بیٹی کو نہ دے۔۔۔
خمسہ بیگم نے نظریں چُرائیں وہ خود رخصتی والے معاملے میں لاعلم تھیں ۔۔۔
جب یہ خبر تمنا تک پہنچی وہ کڑ کر رہ گئی ۔۔۔۔
دلہن بنی وہ کیا ہی واویلا کرتی ۔۔۔
کیا کہتی کسے کہتی۔۔۔۔ اسے تو داد جی کی طبیعت کی فکر تھی

بلآخر نوید جتوئی کی آمادگی پر رخصتی آج ہی دینے کا فیصلہ ہوا ۔۔۔۔

داؤد سر جھکائے وہاں موجود تھا تمنا کا نوید جتوئی کو گلے لگ کر رو دینا دیکھ کر اس کی طبیعت عجیب سی ہوگئی ۔۔۔۔

یہ وقت ہر لڑکی کے لیے مشکل ہوتا ہے بےشک اس نے اسی گھر واپس جانا تھا مگر اب وہ صرف ان کی بیٹی نہیں کسی کی بیوی کی حیثیت سے وہاں رہنے والی تھی ۔۔۔

داؤد کو اپنے بابا کی یاد شدت سے آئی ۔۔۔

یوں تو بڑا ہوگیا ہوں میں قد سے ان کے بھی ….
مگر لایعنی سی کمی محسوس کرواتے ہیں میرے بابا کے کاندھے ۔۔۔۔
چھوٹی سی عمر میں جہاں باپ اپنے بچے کو زمانے کی اونچ نیچ سکھاتا ہے اس عمر میں اس کے بابا نے اسے اس کی ماں سمیت گھر سے باہر نکال دیا ۔۔۔
وہ ہر اس بچے کی طرح احساس کمتری کا شکار ہوگیا تھا جنہیں اس طرح کے ماحول کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔۔
ایسے ہی رخصتی کے کر وہ لوگ جتوئی ہاؤس واپس آئے ۔۔۔


داؤد کیا ہوا ۔۔؟؟ آپ مجھے کچھ آپ سیٹ لگ رہے تھے آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ۔۔؟؟ کشوہ نے ویل کھول کر اپنا حجاب ڈھیلا کیا اب ہینگر میں داؤد کا کوٹ ہینگ کرتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھے داؤد سے مخاطب ہوئی ۔۔۔۔

ہمم ۔۔ہاں ۔۔نہیں ۔۔۔کچھ نہیں ۔۔۔
اس نے غائب دماغی سے کہا تو کشوہ ہینگ کیا کوٹ صوفے پر رکھ کر اس کے پاس آئی
“کشف سے شئیر نہیں کریں گے۔۔۔۔”
کشوہ کے اتنے کہنے کی دیر تھی داؤد نے اپنی پیشانی اس کے شانے پر رکھ دی ۔۔۔۔
“مامو کتنی محبت کرتے ہیں نہ اپنے بچوں سے ۔۔۔۔”
اس ایک جملے نے اس کے اندر کی احساس کمتری کو کشوہ پر اچھے سے آشکار کردیا تھا ۔۔۔۔
اس کی روح پر لگی تھی یہ بات ۔۔۔۔
وہ اپنے بابا کو کس قدر یاد کرتی تھی مگر داؤد وہ تو اپنے بابا کے حیات ہونے کے باوجود نہیں مل سکتا ان سے وہ راستے بھی تو خود انھوں نے ہی بند کئیے تھے ۔۔۔۔
“اللّٰہ بہتر کار ساز ہے “
کشوہ نے دھیرے سے بال سہلا کر کہا ۔۔۔۔
ہمم نمکین قطرے جب کندھے پر محسوس ہوئے تو کشوہ نے تڑپ کر داود کا چہرہ سیدھا کیا ۔۔۔۔
مگر وہ آنکھوں کی نمی چھپانے کے لیے چہرہ موڑ گیا ۔۔۔۔
مگر وہ بھول گیا جس سے وہ اپنا چہرہ چھپا رہا ہے وہ اسے اس سے بھی زیادہ جانتی تھی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہوتا میں ہوں نہ آپ کے ساتھ ۔۔۔۔
اللّٰہ پلیز داؤد کی مشکلات آسان کردیں ۔۔۔
ان کے دکھ سمیٹ لے ۔۔۔۔
دل ہی دل میں دعاؤں کے ورد کا حصار اس پر کھینچتی وہ اسے پر سکون کر گئی ۔۔۔۔
“بے شک ہر مشکل کے بعد آسانی ہے ۔۔۔۔”


آج پھر ملکہ بیگم کا رقص تھا حسنہ نے کتنی بے صبری سے اس دن کا انتظار کیا تھا وہ ہی جانتی تھی ۔۔۔۔
حسنہ شام سے دروازے کے باہر کھڑی دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
مگر اس کا صبر تھا کہ لمبا ہی ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
نہ ملکہ بیگم نے دروازہ کھولا اور نہ ہی وہ وہاں سے ہٹی ۔۔۔۔
رات ہوگئی اور ا سکے پاؤں شل ۔۔۔
دور سے اسے گھنگڑو کی چھنکار سنائی دی چوڑیوں کی دل فریب آواز میٹھی سی خوشبو ۔۔۔۔
اسے پھر ہو سحر اپنے اتراف میں کھنچتا محسوس ہوا ۔۔۔۔
کیا اس کا صبر تمام ہونے والا ہے ۔۔۔


عنصر گہری سانس بھر کر اپنے کمرے میں آیا ۔۔۔۔
کمرے میں ہوئے ایک اور اضافے پر اگر وہ خوش نہیں تھا تو غیر مطمئن بھی نہیں تھا ۔۔۔
کمرے میں داخل ہوا تو تمنا اپنے زیور اتار رہی تھی ۔۔۔۔
عنصر نے کچھ زیادہ توقعات لگائی بھی نہیں تھی اس کے ساتھ ۔۔۔۔
اپنے سر پر موجود پنوں کے ساتھ سر کھپاتی
عنصر کو اتنی بری بھی نہیں لگی ۔۔۔بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی بہت زیادہ ۔۔۔مگر کیا کشوہ سے زیادہ دماغ سے آواز آئی ۔۔۔
مگر سامنے موجود لڑکی تمہاری بیوی ہے ۔۔
دل نے فوراً سرزنش کی تھی ۔۔۔
ان چاہی ۔۔۔۔
تو کیا ہوا کم از کم لاحاصل تو نہیں دل و دماغ میں چھڑی جنگ سے جان چھڑوانے کے لیے اس نے خود ہی تمنا کو پیش کش کی ۔۔۔
میں کچھ مدد کرو ۔۔۔
تمنا نے عنصر کی آواز کو اگنور کرکے پنے نکالنی شروع کی پھر دو منٹ بعد بلآخر ہار مان کر اپنے ہاتھ اپنے پہلو میں گڑا لئیے۔۔۔۔
عنصر نے نفی میں سر ہلا کر خود ہی اس کے بالوں کو پنوں سے آزاد کرنا شروع کیا ۔۔۔
یہ رخصتی والی چھیڑ تم نے ہی ڈالی تھی نہ ۔۔۔؟؟
اس کی سنجیدہ جملے پر ایک لمحے کو عنصر کے ہاتھ تھمے پھر وہ مشغول ہوا ۔۔۔
“نہیں “
ایک لفظی جواب ۔۔۔۔
مجھے پتا ہے تم نے ہی داد جی کو بولا ہوگا تمہیں ڈر ہوگا میں بھی کہیں بھاگ نہ ۔۔۔
تمنا ۔۔۔عنصر کی آواز دھاڑ سے کم نہ تھی ۔۔۔
تمنا کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی ۔۔۔
جیسے ہمارے نکاح کا فیصلہ داد جی کا تھا اسی طرح رخصتی کا فیصلہ بھی انہی کا تھا تو یہ یقین اور اعتبار کی باتیں ان سے پوچھا ۔۔۔۔
آخری پن نکال کر فوری ا سکی گود میں رکھتا خود وہ واشروم میں غائب ہوگیا ۔۔۔۔
تمنا کتنی دیر شیشے میں اپنے سجے روپ کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔
تھوری دیر بعد عنصر فریش ہو کر بیڈ پر اپنی جگہ پر آکر لیٹ گیا ۔۔۔۔
تمنا بھی ڈریسنگ روم سے کپڑے چینج کرنے کے بعد روم میں آئی ۔۔۔۔
یہ تم بھی جانتی اور میں بھی کہ اب ہمیں یہ زندگی ساتھ گزارنی ہے اب ہم پر ہے کہ اسے عام جوڑے کی طرح خوش حال گزاریں ہاں پچھلی باتوں کو یاد کرکے لڑتے جھگڑتے ۔۔۔
تمہیں جتنا وقت درکار ہے میری طرف سے کوئی زبردستی نہیں ۔۔۔۔
آخری الفاظ اس نے عنصر کہ یہ سنے پھر ہو خاموشی سے سائیڈ پر موجود جگہ پر لیٹ گئی چہرے پر جو گھبراہٹ تھی اب آسودگی میں بدل گئی ۔۔۔۔


تم کون ہو لڑکی ؟؟؟
بازو پر بہت سخت گرفت تھی ملکہ بیگم کی حسنہ کو درد ہڈیوں کے اندر تک محسوس ہوا ۔۔۔۔
ہم دیکھ رہے ہیں تم روز یہاں آجاتی ہو۔۔۔اپنی جان نہیں پیاری ۔۔۔؟؟؟
نہیں جان نہیں پیاری مگر عزت پیاری ہے ۔۔۔حسنہ نے ناڈر ہو کر کہا ۔۔۔۔
عزت ۔۔۔ہننہہ ۔۔۔تم جیسی بہت سی لڑکیاں عزت عزت کرنے والی غیر کے بہکاوے میں آکر یہاں تک پہنچتی ہیں
لفظوں کا تماچہ بہت زور کی لگا حسنہ کو ۔۔۔۔
تو کیا آپ بھی یہاں ایسے ہی آئی ۔۔۔۔
ملکہ بیگم کے قدم تھمے ۔۔۔۔
ہاں ایک غیر کی طلب مجھے یہاں تک لے آئی اپنے لمبے سنہری گھنگرالے بالوں پر کنگی چلاتی وہ عام سے لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔
آپ کیسے غیر محرم کے بہکاوے میں آگئی آپ تو نمازیں پڑھتی ہیں ۔۔۔۔
پتا نہیں کیسے حسنہ غیر ارادہ طور پر بول گئی ۔۔۔
پھر خود ہی اپنے لبوں پر ہتھیلی جما گئی ۔۔۔
ملکہ بیگم نے ایک نظر اس پر ڈالی ۔۔۔
حسنہ کی سانسیں سوکھی ابھی وہ کوئی جواب دیتی چنبیلی ملکہ بیگم کو لینے آگئی تھی ۔۔۔
حسنہ ابھی بھی ملکہ بیگم کے پراسرار وجود کے بارے میں سوچتی رہ گئی ۔۔۔۔


اگلی صبح کشوہ فجر کی نماز ادا کرکے نیچے بنے گارڈن میں چلی گئی جب واپسی پر اسے گارڈ کے پاس کھڑی سوبر سی بڑی عمر کی خاتون کو دیکھ کر اپنے قدم روکنے پرے
انہیں اندر بھیجیں گارڈ کو کہہ کر وہ انہیں اندر لے کر آئی ۔۔۔
جی آپ کون ؟؟
کشوہ نے نا سمجھی سے اس بوڑھی عورت کو دیکھ کر پوچھا ۔۔۔۔
ہم داؤد بن علیم کاظمی کی دادی ہیں ۔۔۔
ان کے لہجے میں داؤد کے نام پر گھلتی مٹھاس نے کشوہ کو حد سے زیادہ چونکنے پر مجبور کیا ۔۔۔
تو آپ کس سلسلے میں یہاں آئی ہیں ۔۔۔؟؟
کشوہ نے نا سمجھی سے پوچھا
ہم اپنے وارث اپنے خاندان کے چشم و چراغ کے لیے یہاں آئی ہیں ۔۔۔۔
نظریں ڈرائنگ روم کے دروازے کی جانب بھٹکی
او تو آپ اپنے وارث کے لیے آئی ہیں ۔۔۔۔کشوہ کا دماغ یک دم دوڑا اور مطلب کی حدود تک پہنچا ۔۔۔
دادی جان کشوہ کے تلخ لہجے پر یک دم خاموش ہوئی ۔۔۔
ہم اپنے پوتے کو لے جانے آئیں ہیں ان کی اصلی جگہ پر جس کے وہ حقدار ہیں ۔۔۔
دادی جان نے بھی ڈٹ کر کہا ۔۔۔۔
آج اتنے سالوں بعد ۔۔؟؟
دادی جان کے چہرے کے تاثرات تھورے بگڑے کون تھی یہ لڑکی جس کو حد سے زیادہ دلچسپی تھی ان کے پوتے کی زندگی کو لے کر
آپ کون ۔۔؟؟ سوال ابھی بھیچ میں تھا ۔۔۔۔۔
میں داؤد بن جتوئی کی بیوی ہوں” جتوئی “پر خاصا زور دیا گیا جب کشوہ نے فخر سے کہا
آپ ۔۔۔۔آپ ہمارے وارث کی بیوی ہیں ۔۔۔؟؟ کشوہ کے حجاب میں قید چہرے کی جانب دیکھ کر انہوں نے پوچھا لہجہ ایک دم ہی میٹھا سا محبت سے لبریز ہوگیا ۔۔۔۔
ساری بے زاری ہوا ہوئی یہ لڑکی اپنے پوتے کے حوالے سے عزیز ہوگئی ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔