Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

میں۔۔۔۔ گیا۔۔۔۔تھا۔۔۔ نہ۔۔۔۔ آج۔۔۔ باہر !!
مگر تھے تو گاڑی میں ہی نہ داؤد چلیں میرے ساتھ سب نیچے اپنے ہیں کوئی باہر کا نہیں ہے
اس طرح بند رہیں گے تو کب دوسروں کا سامنا کرنا سیکھیں گے چلیں پلیز ۔۔۔۔
وہ اسے کھینچتے ہوئے باہر لے گئی ۔۔۔۔۔۔

تمہارے لمس کو خود میں اتار سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔
میں اپنے آپ کو یوں بھی سنوار سکتا ہوں ۔۔۔۔۔


ٹھک ٹھک ۔۔۔۔
دروازے کے بجنے پر نیند میں جاتی تمنا نے تکیہ سر کے نیچے سے نکال کر منہ پر رکھا مگر جب دو منٹ مسلسل دروازہ بجتا رہا تمنا نے غصے سے تکیہ بیڈ پر پٹکا ۔۔۔۔
آگئی ۔۔۔۔
سوئی جاگی کیفیت میں بکھرے حلیے سمیت دروازہ کھولا مگر سامنے تائی کو دیکھ کر وہ تھوڑا سیدھا ہوئی ۔۔۔
جی تائی ۔۔؟؟
بیٹا سب ڈنر پر انتظار کر رہیں ہیں طبیعت ٹھیک ہے ؟؟!!
فکر مندی سے پوچھا تھا
نہیں تائی بھوک نہیں ہے بے زاری سے کہہ کر وہ دروازہ بند کرنے کے در پر تھی ۔۔۔۔
اچھا چلو حسنہ کو بھیج دو سب اس کے انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔
حسنہ ؟!!.
حسنہ تو نہیں ہے جہاں پر !!!
پھر کہا گئی اب کہ زرا تشویش بھرے لہجے میں کہا
تمنا کندھے اُچکا گئی۔۔۔
اچھا تم ریسٹ کرو میں دیکھتی ہوں ۔۔۔۔


کشوہ اور داود دونوں ہاتھ تھامے باہر نکلے تھے جب ان کے پیچھے ہی عنصر اپنی شرٹ کے بازو اوپر کی جانب فولڈ کرتے زینے اتر رہا تھا دونوں کو ساتھ دیکھ کر عنصر سمیت سب بری طرح ٹھٹھکے تھے ۔۔۔۔

عائد اور زید سرگوشی کرنے لگے جبکہ داد جی کی نظریں داؤد کے قدرے بدلے حلیے پر تھی ۔۔۔۔
انہیں اپنا فیصلہ درست ہوتا نظر آیا ۔۔۔

اسلام علیکم کشوہ کے بلانے پر سب کو ہوش آیا
سعید اور نوید جتوئی ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد کھانا کھانا شروع کر چکے تھے ۔۔۔۔۔

عنصر بالکل کشوہ کے سامنے والی چئیر پر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔
جبکہ کشوہ اور داؤد دوسری طرف ساتھ ساتھ بیٹھے ہوئے ۔۔۔۔۔
سب نے کھانا کھانا شروع کیا تھا عنصر اپنی پلیٹ میں کم کشوہ کی جانب زیادہ دیکھ رہا تھا
اسے تجسس تھا ڈھکے چہرے کے ساتھ وہ کیسے کھانا کھائے گی ۔۔۔۔
کشوہ بھی اس کی نظر خود پر اچھے سے محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔۔
مگر اسے نظر انداز کئیے وہ بے چین سے داؤد کو دیکھ رہی تھی
اس نے تھورا سا کھانا داؤد کی پلیٹ میں نکالنا شروع کیا ۔۔۔۔

جب خمسہ جتوئی ہڑبڑائی سی وہاں آئی ۔۔۔
داد جی دادجی ، عنصر ، سعید حسنہ گھر پر نہیں ہے۔ ۔۔

کیا ؟؟!! عنصر چونک کر کھڑا ہوا کشوہ کے بھی ہاتھ تھمے تھے ۔۔۔
حسنہ ۔۔۔؟؟


آج پھر بازار سجا تھا
لڑکیوں کو بھینس بکریوں کی طرح تیار کرکے قربانی کے جانوروں کی طرح پیش کیا جانے والا تھا
آج پھر ہزاروں امیر زادوں نے کھلم کھلا پیسے اڑانے آنا تھا
آج پھر بنت ہوا نے پیسنا تھا

یہ لو تیار ہوجاؤ چنبیلی نے ہاتھ میں تھامے سوٹ ان لڑکیوں کے درمیان میں پھینکے
جلدی جلدی پہنوں چھنو تیار کرے گی تم لوگوں کو جلدی کرو بائی کو دیر کرنے والے پسند نہیں
اگر کسی نے شان پٹی دیکھائی تو چمڑج اڈھیر دوں گی

حقارت سے ان کی جانب دیکھ کر چمبیلی کروفر سے وہاں سے نکلی ۔۔۔۔
لڑکیاں دھیرے دھیرے کھڑا ہونا شروع ہوئیں ایک ایک کرکے ان نا مکمل کپڑوں کو اپنے جسم پر سجانے لگیں ۔۔۔۔
حسنہ نے ان کپڑوں کی جانب دیکھ کر مر جانے کی خواہش کی تھی
وہ چھوٹے چھوٹے ٹاپ پہنتی تھی کھلم کھلا باہر پھرتی تھی مگر آج ان کپڑوں سے نفرت ہوئی ۔۔۔۔

مجھے نہیں پہننا ۔۔۔حسنہ نے ہاتھ سے پیچھے کیا ۔۔۔
پہن لو لڑکی ۔۔۔۔
اتنے میں چنبیلی آئی ۔۔۔۔
پہنے نہیں ہاتھوں میں جان نہیں جو اتنا سستی سے کام کر رہی ہوں اگر نہیں پہنے جاتے تو رگو کو بلاؤں
معنی خیزی انداز میں کہتی ان سب کا دل دہلا گئی ۔۔۔۔

حسنہ اس حال نما کمرے کے باتھ روم میں گھس گئی ۔۔۔۔۔
دروازے سے ٹیک لگا کر جانے کتنی دفعہ اس نے اپنی موت کی دعا کی تھی ۔۔۔۔

جب اس کی نظر واش روم کے دروازے سے زرا اوپر بنے روشن دان پر پڑی
چوہے مارنے کی دوا ؟؟!


کہا ہے حسنہ ؟؟؟
داد جی بھی کھڑے ہوگئے ۔۔۔۔
سریہ جتوئی کو بھی تشویش ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
کسی سہیلی کے گھر تو نہیں چلی گئی ۔۔۔۔ سریہ جتوئی نے کہا ۔۔۔۔
سہیلی ۔۔۔نہیں بتا کر جاتی اگر گئی ہوتی ۔۔۔۔
ڈرائیور کو بلا کر پوچھ اسے پتا ہوگا سعید جتوئی نے ڈرائیور کو بلایا ۔۔۔
تھوری دیر میں ہی ڈرائیور وہاں آگیا
حسنہ بی بی کہاں ہیں ؟؟
صاب مجھے نہیں معلوم حسنہ بی بی کا
یونیورسٹی سے کتنے بجے واپس آئی تھی وہ فائزہ جتوئی نے پوچھا۔۔۔
وہ چھوٹی بیگم مجھے حسنہ بی بی کا فون آیا تھا کہ آج وہ یونیورسٹی سے خود ہی واپس آئیں گی میں انہوں لینے مت جاؤ ۔۔۔۔
گارڈ کو بلا کر لاؤ نوید جتوئی نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔۔۔
سلام سر اتنے میں گارڈ بھی وہاں آیا
حسنہ بی بی کب یونیورسٹی سے واپس آئی ۔۔؟؟؟
سر میں۔ نے صبح سے حسنہ بی بی کو نہ آتے دیکھا نہ جاتے ۔۔۔۔

معاملہ گھمبیر ہوا تھا عنصر نے اپنی مما کی جانب دیکھا
آپ کو معلوم ہی نہیں ہوا مما حسنہ گر آئی بھی ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔
عنصر کا لہجہ سخت ہوا

اب ہم مردوں کو باہر کے ساتھ ساتھ گھر کی رکھوالی بھی کرنی پرے گی ۔۔۔

سعید جتوئی خمسہ جتوئی پر برہم ہوئے
تمنا کو بلا کر لاؤ وہ ہی جانتی ہے حسنہ کے دوستوں کو ۔۔۔۔۔۔۔
کلیم جتوئی نے حالات بگڑتے دیکھ کر فائزہ بیگم کو اشارہ کرتے کہا ۔۔۔۔


اس حسین کلی کا کیا نام ہے ؟؟؟
بھرے مجمعے میں بیٹھے ایک آدمی نے ہاتھ میں پکڑے جام کو لبوں سے لگائے پوچھا تھا ۔۔۔۔
ارے یہ ہمارے حسن گلی کی حسنہ تارا بائی نے پان چباتے مٹھاس بھرے لہجے میں اس رائس زادے کی جانب دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔
حسین بہت حسین ۔۔۔۔
خباثت بھری نظریں وجود کے آر پآر ہوئیں
حسنہ نے اپنی چھوٹی سی چولی سے نظر آتے حصے کو انتہائی مختصر سی چنری سے چھپانے کی کوشش سی کی تھی ۔۔۔
تارا بائی نے چمبیلی کو اشارہ کیا چمبیلی نے اشارہ سمجھتے وہ چنری شدت سے اس کے وجود سے دور کی
اور بس اتنا سا لمحہ حسنہ لڑکھڑا کر گڑی سرخ ہونٹوں کے قریب سے سفید جھاگ نکلنا شروع ہوئی ۔۔۔۔
اور سجی محفل میں بھگ در نچ گئی


ٹن ۔۔۔۔۔۔
میسج کی بجتی ٹون نے زینب کی نیند میں خلل ڈالا تھا
ٹن ۔۔۔۔ پھر سے میسج ۔۔
کون ہے بھائی اتنی رات کو تنگ کرکے رکھا ہے
فون کا سائیلینٹ کرنے کے لیے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔
فون نجنا شروع ہوگیا ۔۔۔

ہیلو کون ہے بھائی کیا جن ہو نیند ویند نہیں آتی کیا ؟؟
اب بولو بھی کیا تکلیف آن پڑی تھی رات کے اس پہر فون کھڑکانا شروع کردیا ۔۔۔
حسب توقع زینب میڈیم بغیر دیکھے بولنا شروع ہوگئی ۔۔۔۔

اہم مس زینب آپ کی زبان پر بریک کا اوپشن نہیں ہے ؟؟؟
جن!!!!!
عمر کی سرد گھمبیر آواز سن کر نہ صرف وہ چونک کر اٹھی اس کے منہ سے عمر کی شیانِ شان لفظ بھی نکلا

اتنا شوق ہے آپ کو جن دیکھنے کا ؟؟کسی دن سامنے آگیا تو یہ جو زبان ایک سو اسی کی سپیڈ سے چلتی ہے بند ہو جائے گی ۔۔۔۔

نہیں نہیں سر ۔۔۔۔سوری سر۔۔۔۔

یو شڈ بی سوری !!!
ایسے ہی سر میں تو مروت میں کہہ رہی تھی آپ بھی تو دیکھیں رات کے اس وقت کال کریں گے تو سامنے والا تپے گا ہی ۔۔۔۔

ایکس کیوز می مس زینب میں نے آپ کے بھلے کے لیے ہی کال کیا تھا ۔۔۔
عمر نے تپ کر کہا ۔۔۔۔
اس وقت میرا کونسا بھلا آپ کو سوجا سر اور ایک بات بتائیں آپ کے پاس میرا نمبر کیسے آیا ۔۔۔۔؟؟؟

بات کرتے ہوئے فون کی سکرین اپنے سامنے کرکے آنکھیں چھوٹی کرکے گھورا جیسے فون نہ ہو سامنے عمر ہو ۔۔۔۔
لہجے میں شک کی آمیزش تھی
جسے محسوس کئیے عمر سٹپٹا گیا ۔۔۔۔
مس زینب فضول سوچنے سے بہتر ہے میری بات سن لیں ۔۔۔۔
کل آپ کا پریکٹیکل ہے ۔۔۔
سر یہ تو مجھے بھی معلوم ہے یہ بتانے کے لیے آپ نے مجھے رات کے اس وقت میری نیند خراب کر کے کال کی ہے ۔۔۔۔

اسے اپنی نیند کے خراب ہونے کا زیادہ دکھ تھا ۔۔۔۔
عمر کا دل کیا اپنے بال نوچ لے ۔۔۔۔
مس زینب خاموش !!!
خاصی اونچی آواز میں کہا دونوں طرف خاموشی چھا گئی ۔۔۔۔

عمر نے گہرا سانس لیا ۔۔۔
مس زینب کل آپ کا پریکٹیکل ہے ۔۔۔
تو آپ اپنی پریکٹیکل بک میری کلاس میں ہی چھوڑ گئی تھی ۔۔۔۔
اور اس پر ہی آپ کا نمبر بھی لکھا ہوا تھا جیسے آپ کو پورا یقین تھا آپ یہ حماقت کریں گی ۔۔۔
اس کے آگے بولنے کے لیے زینب نے خود کو بامشکل خاموش کروایا ۔۔۔
مجھے لگا آپ پریشان ہوں گی اس لیے میں نے سوچا کال کرکے آپ کو بتا دوں مگر مجھے نہیں معلوم تھا آپ گھورے آئی مین گہری نیند میں سو رہی ہوں گی ۔۔۔

عمر کہہ کر خاموش ہوا ۔۔۔۔مگر دوسری طرف سے بھی کوئی جواب نہیں آیا ۔۔۔
مس زینب ۔؟؟
مس زینب سو گئی ہیں کیا آپ ؟؟
میں بول لو ؟؟!!!
بہت ہلکی سی آواز تھی اس کی ۔۔۔۔
عمر نا چاہتے ہوئے بھی مسکرا دیا ۔۔۔
یس بول لیں!!……
سر مجھے ٹینشن میں نیند آتی ہے اس لیے میں سوگئی تھی آپ کا شکریہ مجھے نیند سے جگانے کے لیے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
مگر آپ مجھے بک صبح بھی دے سکتے تھے ۔۔۔
شکریہ !!!
خٹاک کی آواز سے فون رکھا۔


تمنا حسنہ کہاں ہے ؟؟؟
عنصر نے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
حسنہ ؟؟
تمنا نا سمجھی سے عنصر کی جانب دیکھا ۔۔۔
ہاں تمنا تم ہی جانتی ہوں اس کی دوستوں کے بارے میں تم فون کرکے پوچھو وہ کہاں ہے وہ اب تک یونیورسٹی سے واپس نہیں آئی ۔۔۔
خمسہ جتوئی نے بڑھائی ہوئی آواز میں کہا ۔۔۔۔
جی تائی جان میں پوچھتی ہوں ۔۔۔۔
کشوہ بھی پریشان سی وہاں بیٹھی ہوئی تھی داؤد کو اوپر چھوڑ آئی تھی دوائی اسے کھلا دی تھی
اسے بھی اب حسنہ کی ٹینشن ہورہی تھی وہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی جو وہ سوچ رہی ہے ویسا بالکل
نہ ہو۔۔۔
اچھا علینہ تھینک یو۔۔۔۔میں ردا سے پوچھتی ہوں اؤکے بائے۔۔۔۔
تمنا نے حسنہ کی آخری دوست سے بات کرکے فون کاٹا ۔۔۔
تمنا ؟؟
نہیں اس کے چہرے پر مکمل نا امیدی تھی ۔۔۔۔
ہمیں پولیس کو انوولو کرنا ہوگا ۔۔۔۔
عنصر نے تھوڑی پر فون ٹکائے کہا لہجے میں شکستگی تھی ۔۔۔۔
نہیں عنصر ۔۔۔۔ گھر کی عزت کا معاملہ ہے
ایسے ہم پولیس کو نہیں شامل کر سکتے ہماری عزت مٹی میں مل جائے گی ۔۔۔
داد جی ٹھیک کہہ رہے ہیں نوید جتوئی نے بھی داد جی کے ہاں میں ہاں ملائی ۔۔۔
کشوہ نے تاسف سے انہیں دیکھا
جنہیں گھر کی عزت کی فکر تھی جیتی جاگتی لڑکی کی عزت کی نہیں ۔۔۔۔
تمنا یاد کرو اس کی کوئی اور دوست ۔؟؟
عنصر نے اسے بازو پکڑ کر کہا ۔۔۔۔
پلیز یاد کرو ۔۔۔
عنصر کو اس حالت میں دیکھ کر تمنا جانے کتنی دیر اس کے چہرے کی جانب دیکھتی رہی ۔۔۔
اس کا ایک فرینڈ تھا میل فرینڈ ! ۔۔۔۔
جانے کیسے اس کے منہ سے پھسلا واپس اوپر جاتی کشوہ کے قدم ساکت ہوگئے ۔۔۔۔
میل فرینڈ ؟؟
ہاں داد جی اس کی گرلز کے علاؤہ میل فرینڈ بھی تھے یونی میں مگر میرے پاس اس کا نمبر نہیں ہے ۔۔۔۔
تمنا نے لب دانتوں میں دبائے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

اب صبح ہی یونیورسٹی جا کر پتا لگے گا

میں جا رہا ہوں مما باہر پتا کرنے صبح تک کا انتظار نہیں کرسکتا میں ۔۔۔۔


کشوہ کے قدم شکستہ تھے جب وہ کمرے میں آئی ۔۔۔۔۔
داود کہنی آنکھوں پر رکھے شاہد سویا ہوا تھا ۔۔۔۔
کشوہ نے حجاب ڈھیلا کیا
پھر اپنی جگہ پر آکر بیٹھی تو داؤد سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
سوئے نہیں آپ داؤد؟؟!!…. آواز کچھ بھرائی ہوئی تھی ۔۔۔
آپ روئی۔۔۔ اس کی سرخ آنکھیں دیکھ کر تڑپا ۔۔۔
کشوہ خالی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔حسنہ وہ رونے لگی داؤد حسنہ وہ اس کے ساتھ لگی روتی چلی گئی ۔۔۔۔

حسنہ کو کچھ نہ ہو اللّٰہ حسنہ کو کچھ نہ ہو ۔۔۔۔وہ نادان تھی اللّٰہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھئیے گا ۔۔۔

اللّٰہ جی ۔۔۔وہ ہچکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔
کشف آج وہ سنبھال رہا تھا کشوہ کو اسے بھی دکھ ہورہا تھا بہت ۔۔۔۔۔
اپنا ماضی پھر سے یاد آنے لگا تھا
اس لڑکی کی چیخیں ۔۔۔۔
داؤد کا چہرہ پسینے سے تر ہوا تھا
دم گھٹنے لگا تھا اس کا
کشوہ نے خود پر داؤد کی ہلکی ہوتی گرفت محسوس کئیے چہرہ سیدھا کیا ۔۔۔۔
داؤد آپ ٹھیک ہیں نہ پانی پیئے پانی کا گلاس اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔
کیسا ہم سفر ہوں جو اپنی بیوی کا درد بھی نہیں بانٹ سکتا ۔۔۔۔
دکھ سے لبریز جملہ ۔۔۔۔۔


وہ آدھی رات کے پہر گھر لوٹا
خمسہ جتوئی جاگ رہی تھیں ایک ماں کیسے سو سکتی ہے جس کی جوان بیٹی لاپتہ ہو ۔۔۔

عنصر کچھ معلوم ہوا!؟؟
عنصر نے نفی میں سر ہلا کر اپنے قدم بڑھا لئیے ۔۔۔۔
حسنہ کہاں ہو بچے ۔۔۔۔


عنصر نے کرو میرے ساتھ ایسا میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔
پلیز ۔۔۔!!!
وہ بھی بے بس ہوا ۔۔۔
عنصر نہیں ۔۔۔نہیں چٹاخ !!! عنصر نے تھپڑ اس کی نازک گال پر مارا تھا وہ رونے لگی ۔۔۔۔
نہیں کرو ترس کھاؤ مجھ پر
اپنے خدا کے لیے ہی مجھ پر رحم کرو ۔۔۔
پلیز عنصر وہ ہاتھ جوڑ رہی تھی مگر عنصر اس وقت سفاک
پتھر بنا ہوا تھا جس پر کوئی آنسو اثر انداز نہیں ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ایک اور صبح اپنے معمول پر طلوع ہوئی تھی ۔۔۔۔
مگر یہ نا تو خوش گوار صبح تھی نہ ہی روشن ہاسپٹل کے بیڈ میں ادھ مری حسنہ کی قسمت کی طرح تاریک ۔۔۔۔۔
داؤد کا نا پیچھے چھوڑنے والے ماضی کی طرح سیاہ ۔۔۔۔۔
خمسہ کی عزت پر لگے داغ کی طرح بد نما ۔۔۔۔۔۔
عنصر کے دل میں بیٹھے خوف کی طرح سفاک ۔۔۔۔۔۔

صبح کا وقت تھا ۔۔۔۔
جتوئی ہاؤس میں سوائے تمنا کے سب کی رات جاگ کر گزری تھی ۔۔۔
گھر کے بعد عنصر پھر نکل گیا
سات بجے کشوہ اس وقت پرائیویٹ کلینک پر موجود تھی
ڈاکٹر کوئی چھوٹی سی بھی بات ہوجائے داؤد پھر پیچھے چلے جاتے ہیں
میں انہیں اتنی مشکل سے یہاں تک لے کر آئی مگر پھر وہ ہی مایوسی والی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔

وہ داؤد کے متعلق سئینر ڈاکٹر سے شئیر کر رہی تھی ۔۔۔
دیکھیں مس جتوئی داؤد انسان ہے کوئی روبوٹ تو نہیں ہے جو ایک دفعہ انسٹرکشن دیں اور وہ سدا یاد رکھے ۔۔۔۔
آپ کو انہیں سٹیپ بائے سٹیپ لے کر چلنا پڑے گا ۔۔۔۔
نہیں تو سوری ٹو سے جیسے کہ آپ نے بتایا ان کی حالت پہلے سے بھی بتر ہو جائے گی ۔۔۔۔

آپ ایک ہی دفعہ ان پر برڈن نہ ڈالیں
ہر چیز وقت اور توجہ مانگتی ہے ۔۔۔۔

آئی ہوپ آپ سمجھیں گی ۔۔۔۔۔
جی ڈاکٹر میں مانتی ہوں اس بات کو ۔۔۔اور آئیندہ اس کا بہت خیال رکھو گی ۔۔۔۔۔۔
اچھا تو یہ بتائیں میڈیسن چینج کرنے کا کتنا فائدہ آپ کو نظر آیا ۔۔۔؟؟
جی ڈاکٹر کافی بہتر ہے زیادہ سوتے بھی نہیں ہیں اب داؤد ۔۔۔
اچھا تو اب آپ کوشش کرئیے گا مسٹر جتوئی کو ادھر لانے
کی ۔۔۔۔۔
اوکے ڈاکٹر میں پوری کوشش کروں گی کہ داؤد کو ادھر لانے کے لیے منا سکوں ۔۔۔۔


پوری رات انڈر ابزرویشن میں پڑے رکھنے کی وجہ سے چنبیلی کو حسنہ کی دیکھ بال کے لیے روکا گیا
جو ناک منہ چڑھائے اس کے پاس موجود تھی ۔۔۔۔
تارا بائی کو اس پر جتنا غصہ تھا اس نے سوچ لیا تھا جتنے پیسے اس پر لگے ہیں اس سے دوگنا وہ حسنہ سے وصول کرے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے ڈاکٹر کچھ بتاؤ تو ۔۔۔۔
وی آر سوری!!!!!

جاری ہے ۔۔۔۔۔