No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
تمنا یہ تو کشوہ کی گاڑی کی چابی ہے نہ ۔۔۔۔
بے یقینی سے اس کی نازک انگلیوں کے گرد گھومتی چابی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔۔۔
تمنا تم کیا کرنا چاہ رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
ششش بے بی ویٹ اینڈ واچ آنکھ دبا کر تیکھی مسکراہٹ سے بولی ۔۔۔۔۔۔
تمنا کیا کرنے لگی ہو ۔۔۔۔؟؟؟
تم نے شاپنگ پر جانا ہے کہ نہیں ۔۔؟؟
اچھا ۔۔۔۔۔
ایک ہفتہ ہوگیا تھا آخری پیپر بھی کشوہ نے چھوڑ دیا اور آج بھی وہ یونیورسٹی نہیں آئی زینب جو اس کی فکر میں ہلکان سی ہورہی تھی خود پر شدید غصہ بھی تھی کہ کبھی اس نے کوشش کی نہیں کی کشوہ کے گھر کا ایڈریس لینے کی کبھی کشوہ نے بیماری میں بھی ایسے چھٹیاں نہیں کی تھی اور تین دن پہلے تو پیپر بھی تھا ۔۔۔۔اسی فکر میں وہ کینٹین میں بیٹھی ابھی بھی مسلسل اس کا نمبر ملا رہی تھی جو کل سے بند تھا جب اسے
پاس سے مردہ کھنکار کی آواز آئی
سر عمر اس کے پاس ہاتھ پیچھے باندھے کھڑے تھے۔۔
سر ۔۔۔۔زینب فوراً کھڑی ہوئی ۔۔۔۔۔
بیٹھ جائیں زینب مجھے بس آپ کے دو منٹ ہی درکار ہیں ۔۔۔۔
جی۔۔۔سر سوالیہ نظروں سے سر عمر کو دیکھا ۔۔۔۔
آپ کی ۔۔۔۔۔مطلب آپ کی دوست کشوہ وہ کافی دنوں سے نظر نہیں آئی مطلب مجھے غلط مت سمجھیے گا مگر کبھی وہ اتنے دن غیر حاضر نہیں ہوئی ۔۔۔
نہیں مجھے بھی نہیں معلوم وہ کہا ہے کیسی ہے آیون اس کا نمبر تک بند ہے
وہ پریشانی میں محسوس نہیں کر پائی وہ اپنی دوست کی ذاتی معلومات کسی غیر کو دے رہی تھی غیر بھی مرد ۔۔۔۔
عمر بھی پریشان ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
دوپہر کا وقت تھا داؤد حسب معمول سویا ہوا تھا کشوہ بیڈ پر بیٹھی آس پاس کی دیواروں کے اڑے رنگ کو دیکھ رہی تھی ڈریسنگ ٹیبل موجود تھا مگر اس کے ساتھ کا شیشا اترا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
شدید دکھ ہوا تھا اسے داؤد کے حال پر اور اس سے بھی زیادہ افسوس اسے دادجی کی لاپرواہی پر ہوا تھا کیسے وہ اپنی سگی اولاد کی اولاد سے لاپرواہ ہوئے بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔۔
کل داؤد کا رویہ اس کا ڈر کے گلے لگانا رونا معصوم حرکتیں کہیں نہ کہیں کشوہ کے دل موم کر گئے تھے۔۔۔۔۔
وہ مشرق لڑکی جس نے لفظ محبت کو سختی سے محرم کے ساتھ جوڑ دیا تھا اس کا دل اپنے محرم کی طرف سے نرم ہونا فرضی تھا ۔۔۔۔۔۔
کشوہ پہلے تو اِدھر اُدھر دیکھنے میں مصروف رہی پھر خود ہی اٹھ کر داود کے کمرے کی الماری صحیح کرنے کی غرض سے سلیپر پہنتی لکڑی کی الماری کے سامنے کھڑی ہوئی ایک پٹ کھولتے ہی وہ کھانستے ہوئے پیچھے ہوئی ماتھے پر بے شمار بل پڑے اس کی نفاست پسند طبیعت پر غفور کی لاپرواہی بہت ناگوار گزری تھی ساری شرٹ پینٹ بکھری الجھی پڑی ہوئی تھی ایک بھی استری شدہ نہیں تھی سب سلوٹ سے اٹھی ہوئی تھی
سارے کپڑے نکال کر ٹو سیٹر پر رکھ کر انہیں تہہ کرنا شروع کیا ۔۔۔۔۔
تقریباً سارہی ہی پینٹس اور شرٹس ہی تھی کچھ ٹراؤزر بھی تھے ۔۔۔۔۔۔
کشوہ نے اس کے کپڑے تہہ کرنے کے بعد صحیح سے انہیں رکھا اب وہ اپنے شادی سے پہلے والے کمرے کی طرف بڑھی تاکہ اپنے کپڑے لاکر داؤد کی الماری میں سیٹ کر سکے ۔۔۔۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو تمنا۔۔۔۔۔۔حسنہ بری طرح جیخی تھی سامنے کھمبے سے گاڑی کو مارتے تمنا بہت ریلیکس تھی کچھ خاص نہیں ایک تیر سے دو شکار ۔۔۔۔۔۔
گائز پتا نہیں کیسے یہ ایکسیڈینٹ ہوگیا بریک بھی نہیں لگی اللہ کا شکر ہمارا بڑا ایکسیڈنٹ ہونے سے بچ گیا
موبائل کے کیمرے کا رخ اپنی طرف کرتی وہ نم آنکھوں سے بولی
جی حسنہ اور میں بالکل ٹھیک ہیں آپ لوگوں کی دعائیں ۔۔۔۔۔
کہا جارہے ہیں آپ غفور بھائی سیڑھیاں اترتے ہوئے راستے میں غفور کو دیکھ کر کشوہ نے پکارا تھا
وہ بی بی جی میں چھوٹے صاحب کو دوائی دینے جارہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
آج دو دن بعد آپ کو یاد آیا کہ دوائی دینی ہے ۔۔۔۔
سخت سی آواز پر غفور ہڑبڑایا ۔۔۔۔
نہیں بی بی جی وہ آپ تھی تو ۔۔۔۔۔
تو کیا اب میں انہیں چھوڑ کر جارہی ہوں جو آپ کر اندر ہمدردی جاگ گئی ۔۔۔۔۔
وہ نہیں جی غفور سٹپٹا گیا
کمرے کی حالت کا غصہ بھی اسی وقت نکلا تھا
مجھے دوائی والی پرچی دے دیجئیے گا میں خود دیکھ لوں گی کب کونسی دوائی انہیں دینی ہے ۔۔۔۔۔لہجہ ہنوز سخت تھا ۔۔
نقاب کے باوجود اس کی آواز کا روعب محسوس ہوتا تھا ۔۔۔۔
بی بی جی یہ چھوٹے صاحب کی دوائی آج آنی تھی میں لے آیا تھا اپنے پرانے پورشن کی طرف جاتے اس کے قدم غفور کی پکار پر پھر سے رکے تھے ۔۔۔۔۔۔
ہممم ادھر رکھ کر جائیں میں لے لوں گی ۔۔۔۔۔۔
اپنے کمرے میں قدم رکھا تو اس کی آنکھیں نم ہوئی سُریہ بیگم اسے کے ڈریسنگ ٹیبل پر موجود فیملی فریم کو سینے سے لگائے کھڑی تھی جس میں اس کی اور فرید صاحب کی کھلکھلاتی تصویر موجود تھی ۔۔۔۔۔
مما پیچھے سے جا کر ان کے گلے لگ گئی ۔۔۔۔
وہ بھی ماں تھی جب تک ناراض رہتی
ناراضگی بھی تو اس کی بھلائی کی وجہ سے ہی قائم رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔
مگر اب کیا کر سکتے تھے جو قسمت میں لکھا ہوا تھا وہ ہوگیا
مما مجھے معاف کردیں پلیز میں بے بس تھی ماں کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرے ملتجی لہجے میں بولی ۔۔۔۔
میری جان تم ہی تو میرا کل اثاثہ ہو اس کے ماتھے پر لب رکھے وہ اسے یقین دلا گئی تھی کہ اب وہ اس سے ناراض نہیں ہیں
آئی لو یو مما یو آر دا بیسٹ مما ان کا ہول ورلڈ ۔۔۔
۔مکھن مت لگاؤ یہ بتاو اس پاگل نے کوئی۔۔۔
مما پلیز آپ داؤد کو ایسے مت پکاریں
وہ خفا ہوئی
کشوہ۔۔۔۔۔سیریسلی ۔۔۔
اچھا بتاؤ مجھے میرا تو ٹینشن سے برا حال تھا ۔۔۔۔
مما داود بہت معصوم ہیں آپ یقین کریں آپ سے زیادہ ڈر تو مجھے لگ رہا تھا مگر مما ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا سب سمجھتے ہیں ۔۔۔۔
مما داد جی کو کچھ مت کہیے گا ۔۔۔۔۔یہ سب انھوں نے اپنے نواسے کی محبت میں کیا ہے ۔۔۔
کشوہ نے سیریس انداز میں کہا ۔۔۔۔
انہیں تو شروع سے ہی عادت ہے ایک بندے کی وجہ سے وہ دوسرے کا نہ صرف دل دکھاتے بلکہ اس ہے ساتھ زیادتی بھی کر جاتے تھے
وہ کبھی اعتدال یا انصاف نہ کر پائے ہمیشہ اپنی پسند کو آگے رکھا ۔۔۔۔۔
وہ افسوس سے کہتے کشوہ کو خود کے ساتھ لگا گئی ۔۔۔۔
میری جان مجھے معلوم ہے میری بیٹی بہت فرما بردار ہے مگر میں بھی ماں ہو اور تم میری اکلوتی اولاد میرے کتنے ارمان تھے ۔۔۔۔
مما جب داؤد صحیح ہو جائے گے نہ تو آپ اپنے سارے ارماں پورے کر لیجئے گا ۔۔۔۔۔
کتنا یقین تھا اس کے لہجے میں ۔۔۔۔
سُریہ بیگم لب بھینج گئی ۔۔۔۔۔
میری جان سراب کے پیچھے دوڑتے دوڑتے اصل سے ہاتھ نہ دھو بیٹھنا اس کا گال تھپتھپا کر اسے بہت کچھ سمجھانا چاہ رہی تھی ۔۔۔۔۔
مما آپ گھر والے داؤد کے بارے میں وہ سب کیوں کہتے ہیں آخر اس سب کے پیچھے کی وجہ تو بتائیں ۔۔۔۔۔
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی بات نیچے سے آتے شور کی آوازوں پر کٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔
داد جی کے ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے تمنا کے ایکسیڈنٹ کی بابت سن کر نوید جتوئی بھی اپنا کام شام چھوڑ کر جتوئی ہاؤس میں موجود تھے آخر کو سگی بیٹی تھی
سعید صاحب نے بھی جب حسنہ کی ساتھ موجودگی کا سنا تو وہ بھی فوراً چھوٹے بھائی کے ساتھ ہی آگئے ۔۔۔۔۔
عنصر بھی چھوٹی بہن کا سن کر پریشان ہوا ۔۔۔۔
داد جی مجھے سمجھ نہیں آئی کیسے داد جی گاڑی کی بریکس کام نہیں کی میں نے بہت کوشش کی میرے ساتھ حسنہ بھی تھی آنکھوں میں بے تحاشہ نمی سموئے وہ داد جی کے ساتھ لگی حادثے کے بارے میں بتا رہی تھی ۔۔۔۔۔
گاڑی کا ایکسیڈنٹ سن کر تو سُریہ بیگم بھی دہل گئی پرانے زخم جو ہرے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔۔
داد جی گاڑی کا اتنا نقصان ہوگیا ۔۔۔۔۔
ارے بھاڑ میں جائے گاڑی
جان سے بڑھ کر کیا
چھوٹی بہو بڑی بہو میری بچیوں کا صدقہ دو عائد صدقے کے پکڑے منگواو اللّٰہ نے خیر کی میری بچیاں سلامت ہیں ۔۔۔۔۔۔
متفکر تو کشوہ بھی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
کھڑے کیا ہو عائد زید ابھی تک گئے نہیں داد کی کرخت آواز پر وہ دونوں غائب ہوئے
حسنہ کے چہرے کی تو ابھی تک ہوائیاں اُڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔
حسنہ تمنا ٹھیک ہو نہ تم دونوں ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔ہاں ہم ٹھیک ۔۔۔۔۔۔ہیں
حسنہ کے اٹکنے پر تمنا نے اسے کہنی ماری ۔۔۔۔
کشوہ ہے ہم ٹھیک ہیں تمنا میٹھے لہجے میں بولی ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔۔اللہ کا شکر ۔۔۔
عنصر حسنہ کے پاس اسے اپنے حصار میں لئیے بیٹھ گیا ۔۔۔۔
ٹھیک ہو نہ بچے ۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔۔
میں بھی کزن لگتی ہوں ۔۔۔تمنا نے خفگی سے کہا ۔۔۔۔۔
آہ ۔۔۔ تمہارے فین کافی نہیں تمہاری عیادت کے لیے خیر پھر بھی کیسی ہو۔۔۔۔۔
جیلیسی بھی پائی جاتی ہے عنصر سعید جتوئی
نائس ۔۔۔۔۔
ناٹ ایٹ آل بلکہ مجھے خوشی ہے تم اپنی اکلوتی رسپونس بیلیٹی اچھے سے نبھا رہی ہو ۔۔۔۔۔
تمنا مسکرائی زبردستی سا ۔۔۔۔۔
فرضی سا۔۔۔۔۔۔
اچھا چلو تم لوگ ریسٹ کرو میں مما اور چاچی کو بھیجتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
ایک بے دھیان سی نظر اندر آتی کشوہ کے چھپے وجود پر ڈالی تھی اور پھر باہر نکلتا گیا ۔۔۔۔۔۔۔
ارے کشوہ تمنا ایک دم سیدھی کھڑی ہوئی تو حسنہ زبان دانتوں تلے دبا گئی کیونکہ بقول ان دونوں کے تمنا کے پاؤں پر زور لگا ہے جبکہ حسنہ کے بازو پر ۔۔۔۔۔
کشوہ نے سپاٹ آنکھوں سے پہلے تمنا کی صحیح سلامت ٹانگ کو دیکھا پھر تمسخر سے مسکراتے چہرے کو ۔۔۔۔۔
ایسی بھی کیا ضرورت پر گئی جھوٹ بولنے کی جو سب گھر والوں کے جزبات سے کھیل رہی تھی دونوں ۔۔۔۔
وہ ایکچولی ڈئیر سویٹ کزن میں نے تمہیں تمہاری گاڑی کی چابی پکڑانی تھی ان دو چونیٹلی اپس لکیلی یہ بچ گئی ۔۔۔۔۔
گاڑی کی چابی اسے تھما کر چلتی واپس اپنے بستر پر لیٹ گئی ۔۔۔۔۔۔
کشوہ نے چابی مٹھی میں بھینجی ۔۔۔۔
بزدل ہوتے ہیں وہ لوگ جو دوسروں کی چیزوں سے حسد کرکے ان کی چیزوں کو برباد کرکے جشن مناتے ہیں
اگر گاڑی خراب ہو سکتی ہے تو دوبارہ ٹھیک بھی ہو سکتی مگر اس گاڑی کی مالک میں ہی رہو گی کل بھی اور آج بھی ۔۔۔۔۔۔۔
صحیح دکھتی رگ پر پاؤں رکھا تھا ۔۔۔۔
بات گاڑی کی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔وہ دونوں ایک چھوڑ کتنی گاڑیاں خرید سکتی تھیں بات تو داد جی کی طرف سے ملنے والی گاڑی تھی جو اسے نہیں بلکہ کشوہ کو ملی تھی ۔۔۔۔۔۔
سوری کشوہ میں نے جان کر نہیں کیا اگر مجھے پتا تو ایسا کچھ ہوجائے گا تو میں ہر گز بھی تمہاری گاڑی نہ لے کر جاتی ۔۔۔۔۔۔
داد جی کو آتے دیکھ آواز شہد میں ڈوبی ۔۔۔۔۔۔
کوئی بات نہیں تمنا تم سے بڑھ کر گاڑی تو نہیں ہے نہ اچھا ہوا پتا لگ گیا گاڑی کی بریکس کے بارے میں داد جی آپ اسے چیک ضرور کروائیے گا ۔۔۔۔۔۔
جوش کی بجائے ہوش سے کام لینا کشوہ فرید کو آتا تھا ۔۔۔۔
کشوہ اپنے ہاتھ میں اپنے استری شدہ کپڑے تھامے کمرے میں آئی کمرے میں گھنگور سناٹا تھا داؤد بھی بیڈ پر موجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔
شاہد واشروم میں ہو ۔۔۔۔
سر جھٹک کے الماری کے پٹ کو کھولا
جب کسی نے سختی سے اسے شانوں سے تھام کر سیدھا کیا اس سے پہلے وہ چیختی بھاری کھردرہ ہاتھ اس کے نازک ہونٹوں کو دبا گیا ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
