Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

آنکھیں کھولتے ہی پورے جسم میں درد کا احساس ہوا تیز روشنی کے باعث آنکھوں کے خلیے چند منٹ کے لیے بینائی محروم ہوئے ۔۔۔۔

کچھ دیر پہلے کا منظر دماغ میں چلا آنکھیں پھر گیلی ہونے لگی دل کیا کاش وہ یہاں سے بھاگ جائے ۔۔۔۔

یاں کاش اسے بچانے والا عنصر جتوئی نہ ہو ۔۔۔۔

کاش وہ اسے ملنے دوبارہ نہ آئے ۔۔۔۔

کاش وہ اسے پھر بے سہارا چھوڑ کر غائب ہو جائے ۔۔۔

کاش۔۔۔

مگر ہر کاش پورے بھی تو نہیں ہوتے ۔۔۔

درد سے کراہتے جسم سمیت اس نے مسلسل ہاتھ کو اذیت دیتی ڈرپ کی پن کو ہاتھ سے نکال باہر کیا اب وہ بس یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی دور بہت دور ۔۔۔۔۔

اس ہرجائی کی نظروں سے۔۔۔۔

اس کے سوالوں سے ۔۔۔


کافی پی کر وہ واپس وارڈ میں آیا تھا جب فون بجنے پر اپنی پینٹ کی جیب سے فون نکال کر اسے اٹینڈ کرتا وہی ویٹینگ چئیر پر برجمان ہوگیا

اسلام علیکم اماں جی ۔۔۔جی میں ٹھیک سب ٹھیک آپ بتائیں ۔۔۔۔

عبیر پتر گھر کب آنا؟؟

اماں جی کی کمزور آواز سن کر عبیر نے ایک نظر آئی سی یو وارڈ پر ڈالی ۔۔۔

اماں جی آج رات شاید نہ آسکوں آپ دوائی وقت پر لے کر کھانا کھا کر سوجانا میرا انتظار مت کرنا چابی ہے میرے پاس گھر کی ۔۔۔۔

اچھا پتر صحیح

اماں نے فون کاٹا ۔۔۔جب نرس عجلت سے آئی سی یو سے باہر نکلی تھی

لڑکی کا بھائی کون ہے ؟؟ نرس کی آواز میں ہڑبڑاہٹ تھی

جی ۔۔۔جی عبیر کھڑا ہوا دیکھیں آپ کی پیشنٹ کی طبیعت بگڑ رہی ہے آپ اندر آئیں

اچھا میں ۔۔۔میں آتا ہوں عبیر کو سمجھ نہ آیا وہ نرس کی میت میں اندر کو چل پڑا

بھائی ۔۔۔بھائی ۔۔۔۔وہ تڑپ رہی تھی بلآخر وہ بے ہوش ہوگئی

عبیر نے فوراً روم سے باہر نکل کر عنصر کو کال ملائی تھی ۔۔۔۔


اہم اہم۔۔۔۔ کمرے میں آتے ہی کشوہ نے مصنوعی کھانسی کر کے داؤد کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی اسے اگنور کئیے فون میں جانے کیا دیکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔

اہم اہم۔۔۔۔ اب کہ زرا زور کر کھانسی داؤد نے فون پر مصروف سی نظریں گاڑے سائیڈ ٹیبل پر رکھی بوٹل اس کی جانب بڑھا دی

کشوہ کے ماتھے پر بل پرے تھے ۔۔۔۔

ایسا بھی کیا ضروری ہے جو مجھ سے بڑھ کر اہم ہے داؤد کے ہاتھ سے فون کھینچا مگر فون پر نظر پڑتے وہ کانوں کی لوحوں تک سرخ پڑی تھی

ففٹین ویز ٹو ایمپریس یور وائف ۔۔۔۔

کشوہ نے لب کاٹ کر خود کو کمپوز کیا وہ اگنور کرنا چاہ رہی تھی مگر داؤد تو فون سے ہٹائے اب سارے نظریں اس پر جمائے بیٹھ گیا تھا ۔۔۔۔

کیا ہے اب میرے سے زیادہ ضروری فون ہوگیا ہے ۔۔۔۔؟؟

ہائے ناز اٹھواتا انداز تھا ۔۔۔۔

ضروری تو تھا….” آپ کے متعلق جو تھا “

مگر آپ سے زیادہ ضروری نہیں

اٹھ کر اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

داؤد مجھے ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔کشوہ نے بات گھمانی چائیے ۔۔۔

تو کریں نہ ضروری بات۔۔۔ میں تو آپ کی ہر بات سننے کے لیے تیار ہوں ۔۔۔

میں سیریس ہوں آپ بھی سیریس ہوجائیں داؤد!!..

میں بچہ نہیں ہوں مائی وائف اور بہت سیریس بھی ہوں اس کی ناک کو ٹپ سے چھو کر وہ اسے ساکت چھوڑتا کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔

کشوہ کو اس کے زومعنی انداز کی سمجھ نہیں آئی ۔۔۔

یہ کیا کہہ کر گئے ہیں اور میری بات بھی نہیں سنی ۔۔۔

داؤد!! حد ہے ۔۔۔۔


ریش ڈرائیو کرتا عنصر ہاسپٹل میں پہنچا تھا دو دفعہ اس کا ایکسیڈینٹ ہوتے بچا تھا

مگر اسے ہاسپٹل پہنچنا تھا حسنہ کے پاس ۔۔۔

ایشلے کے پاس ۔۔۔۔۔۔

بہت سے سوال دل میں دبائے ۔۔۔۔

یہ سوال اب اس کی جان لینے کے در پر تھے

دماغ پھٹنے کی حد تک درد کر رہا تھا ۔۔۔۔

پارکنگ میں گاڑی پاکر کرتے بڑے بڑے قدم لیتا ہاسپٹل میں ایمرجنسی وارڈ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔


کشوہ دادو کے پاس بیٹھی اپنی اور داؤد کی بیتی زندگی کے بارے میں بتا رہی تھی ۔۔۔۔

میرا بچہ اللّٰہ تمہیں سلامت رکھے ہمارے بچے کو رکنے سے بچا لیا تم نے دادی اس کے واری صدقے ہوئی تھیں ۔۔۔۔

انہیں ہیرے کی پہچان تھی اور کشوہ ہیرا تھی ۔۔۔

کچھ دور ہی منزہ بیگم بھی بیٹھی ہوئی تھی

انہیں شدید دکھ نے گھیر لیا

آنسو بے لگام ہوئے وہ اٹھ کر کشوہ کے سامنے آتی ہاتھ جوڑ گئی ۔۔۔۔

اگر داؤد نے اچھی زندگی نہیں گزاری تو کم دکھ ان کے حصے میں بھی نہیں آئے ۔۔۔

کشوہ نے ان کے ہاتھ تھامے

آنٹی میں کون ہوتی ہوں معاف کرنے والی محرومیاں تو داؤد کے حصے آئی ہیں

مجھے معاف کردو بیٹا تم کہو گی تو وہ مجھے معاف کر دے گا میں نے دیکھا ہے وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے تمہاری بات نہیں ٹالے گا ۔۔۔۔

محبت ۔۔۔

داؤد کے چند منٹ پہلے کی حرکت آنکھوں کے سامنے آئی تو وہ لال گالوں سمیت نظریں چرا گئی ۔۔۔۔

جی ۔۔۔

دادو نے خوش ہو کر اپنی بہو کو دیکھا ۔۔۔

اچھا بیٹا یہ دیکھو یہ تمہاری پھوپھو کا ہے جب داؤد پیدا ہوا تھا میں نے ا سے دیا تھا دادو سونے کا ہار اس دیکھا رہی تھی جسے کشوہ اپنی پھوپھو اور داؤد کی وابستگی کے سبب اشتیاق سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔


وارڈ میں پہنچ کر اس نے عبیر کا شکریہ ادا کرکے اسے رخصت کیا اب اس کا رخ حسنہ کے کمرے کی جانب تھا ۔۔۔۔

مشینوں سے جکڑا قابلِ رحم وجود تھا اس کا ۔۔۔

جب اس میں جنبش ہوئی

عنصر فوراً آگے ہوا تھا ۔۔۔۔

حسنہ ۔۔۔!!!

بھائی !!!

بھائی مجھے معاف کردیں ۔۔۔۔

پہلے الفاظ جو بڑی دقت سے ادا ہوئے تھے

بند کھلی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے عنصر کو دیکھ کر وہ تو جیسے جی اٹھی تھی ۔۔۔۔

اس نے عنصر کے آگے اپنے کانپتے ہاتھوں کو جوڑ لیا ۔۔۔۔

عنصر نے دکھ سے اپنی بہن کو دیکھا وہ لاڈلی تھی اور لاڈلی کا یہ حال وہ کرب کے باعث اپنا پر شفقت ہاتھ حسنہ کے سر پر رکھ گیا ۔۔۔۔


داؤد امن اور ثمن کے ساتھ گاؤں میں کھیتوں کے پاس گیا تھا جہاں کنویں کے پاس ایک نیم گہرا کھڈا بنا ہوا تھا جس پر پھسل کر داود اس میں گر گیا ۔۔۔

ہاتھ پر رگڑ لگنے کے علاؤہ اس کے ماتھے پر بھی چوٹ لگی تھی ۔۔۔۔

ثمن کے تو ہاتھ پاؤں ہی پھول گئے وہ فوراً اندر کی جانب دوڑی۔۔۔۔

بھابھی داؤد بھائی گڑ گئے ثمن ہانپتی ہوئی باہر سے آئی تھی کشوہ کے ہاتھ سے وہ سونے کا سیٹ گرا وہ اٹھی تھی قدم تیز ہوئے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ادھر ہی بیٹھی رہو کشوہ وہ تمہاری اولاد نہیں شوہر ہے اس کی ماں بننا چھوڑ دو

دادی کے لفظوں نے اس کے قدموں میں زنجیر باندھ دی اس نے بہت مشکل سے خود کو باندھے رکھا تھا ۔۔۔

جب پانچ منٹ بعد داؤد اپنے بازو جھاڑتا وہاں آیا ماتھے پر بائیں جانب خراش لگی تھی جس سے خون رس رہا تھا مگر اس کے تاثرات ایسے تھے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔


حسنہ سے مل کر اس کا رخ ایشلے کے روم کی طرف تھا حسنہ کی حالت اب بہتر تھی عنصر نے اسے احساس دلایا تھا کہ وہ اگیا ہے اب کوئی اسے وہاں نہیں لے جا سکتا وہ غنودگی میں بھی تڑپ رہی تھی خود کو نوچ رہی تھی ۔۔۔

عنصر روم میں داخل ہوا تو ایشلے ہاتھ کے سہارے سے دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی ۔۔۔

ڈرپ بیڈ سے نیچے لٹک رہی تھی ۔۔۔۔

بجلی کی لہر اس کے دماغ میں کوندھی اگر وہ تھوڑا بھی لیٹ ہوتا تو وہ دوبارہ ایشلے کو کھو دیتا ۔۔۔

کہاں جارہی تھی اسے بازو سے تھام کر واپس بیڈ پر بٹھاتے ہوئے فکر مندی سے کہا ۔۔ایشلے نے آنکھیں موند لی وہ عنصر کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی

اس وقت تو بالکل بھی نہیں ۔۔۔۔

مجھے اکیلا چھوڑ دو ۔۔۔

اس کی شائستہ اردو سن کر عنصر کو ایک پل حیرت ہوئی

مگر اسے اس جگہ پر دیکھنے سے بڑی حیرت کی بات کوئی ہو سکتی تھی ۔۔۔۔

ایش۔۔۔ ایشلے نام نہیں ہے میرا۔۔۔۔۔ عنصر کی بات کاٹ کر وہ کرختگی سے بولی تھی ۔۔

تم تم یہاں کیسے آئی تھی میرا مطلب مجھے جیری نے کہا تھا کہ تمہاری ڈیتھ ۔۔۔۔

وہ سرعت میں خاموش ہوا تھا ۔۔۔

کاش میں مر جاتی اتنی رسوائی سے بہتر تھا ۔۔۔۔

آج اتنے مہینوں بعد فاطمہ نے خود کو اتنا ناشکرا ہوتے دیکھا تھا ۔۔۔

محبوب کے سامنے واقع ہر انسان جزباتی ہوجاتا ہے

وہ من میں اقرار کر چکی تھی ۔۔۔۔


مجھے بتاؤ ایشلے تم یہاں تک کیسے پہنچی؟؟؟… مجھے جاننا ہے ۔۔۔

فاطمہ ۔۔۔فاطمہ نام ہے میرا اور

میں تمہیں کچھ نہیں بتانا چاہتی عنصر پلیز یہاں سے چلے جاؤ وہ ہاتھ جوڑ کر اٹل لہجے میں بولی ۔۔۔

فاطمہ !!! عنصر پر حیرت کے پہاڑ ہی تو ٹوٹ پڑے تھے اس لمحے ۔۔۔۔

جاؤں گا تو میں ضرور مگر تمہیں لیئے بغیر ہر گز نہیں

عنصر نے اس کی نیلی نم آنکھوں میں اپنی آنکھیں گاڑ کر کہا

فاطمہ نظریں چرا گئی ۔۔۔۔

ہاں آج بھی کہاں آسان تھا ان آنکھوں میں براہ راست دیکھنا ۔۔۔۔۔

کس حق سے ؟؟؟خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔

اسی حق سے جس سے بڑا اس کائنات میں کوئی حق نہیں

ایشلے ششدر رہ گئی ۔۔۔

اگر آج سے ایک سال پہلے عنصر اسے یہ الفاظ کہتا تو وہ خود کو دنیا کی خوش نصیب عورت سمجھتی مگر اب واقف حالات سب کچھ بہت مختلف تھے ۔۔۔۔

محض ہمدردی !!!

آنکھوں میں کرب لئیے اس نے عنصر کو دیکھا تھا ۔۔۔۔

ہر گز نہیں تمہیں نہیں معلوم جب مجھے جیری نے کہا کہ تم اب نہیں رہی تو مجھ پر کیا بیتی میں کتنی راتوں کو بے چین رہا

صرف تمہارا ہی خیال مجھے ہر وقت آتا تھا ۔۔۔۔

فاطمہ تم بھی تو یہ ہی چاہتی تھی آج میں تم سے خود عنصر سعید جتوئی کہہ رہا ہے میں تمہیں اپنی بیوی اپنی عزت بنا کر لے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

کیا اتنا آسان تھا سب کچھ عنصر جتوئی۔۔۔

تم جان بھی نہیں سکتے میں کن کن آزمائشوں سے نمٹ کر یہاں تک پہنچی جہاں مجھے اب کسی کی چاہ نہیں ہے ۔۔۔

دھیرے لہجے میں کہتی اس وقت قابلِ رحم لگی مگر عنصر نے سوچ لیا تھا وہ حسنہ اور فاطمہ دونوں کو اپنے ساتھ جتوئی ہاؤس کے کر جائے گا اور وہاں کے مکینوں کو ان دونوں کو ہی قبول کرنا پڑے گا ۔۔۔۔

تو کیا تم نے اسلام میری وجہ سے قبول؟؟؟

ہر گز نہیں فاطمہ تڑپ گئی ۔۔۔

میں نے اسلام بغیر کسی ذاتی مفاد بغیر کسی کے دباؤ میں آئے قبول کیا اور میرا رب گواہ ہے

اس کے لہجے کی تڑپ پر عنصر کو فخر ہوا تو پھر کیوں نہیں مان۔۔۔۔

ابھی وہ بول رہا تھا

تبھی عنصر کا فون بجا تمنا کی کال تھی عنصر نے کاٹ دی ۔۔۔۔

مگر وہ بھی ڈھیٹ تھی دوبارہ فون نجا عنصر نے بے دھیانی میں کاٹنے کی بجائے کال اٹینڈ ہوگئی ۔۔۔

فون کی دوسری جانب سے تمنا کی جھنجھلائے آواز آئی ۔۔۔۔

کہاں پر ہو عنصر؟؟؟

میں بعد میں بات کرتا ہوں عنصر کاٹنے لگا جب تمنا کے اگلے جملوں نے عنصر کے بالکل سامنے بیٹھی فاطمہ جو پگل رہی تھی اسے سخت خول میں سمٹنے پر دوبارہ مجبور ہوگئے

عنصر میرا فون مت کاٹنا اور کیوں نہیں بتا رہے کہاں ہوں بیوی ہوں تمہاری تم ۔۔۔۔

مگر عنصر نے کال کاٹ دی

فاطمہ کھڑی ہوئی ۔۔۔

فاطمہ ۔۔۔

شش عنصر جس خاموشی سے آئے ہو اسی خاموشی سے چلے جاؤ نہ میں نے تمہیں دیکھا نہ تم نے مجھے ۔۔۔۔۔

فاطمہ کا کل کوئی تھا نہ آج اور نہ ہی کبھی کسی آنے والے کل وہ اکیلی تھی اس کے اللّٰہ ہی کافی ہے اپنے شانے پر دھرے عنصر کے ہاتھ کو جھٹک کر لڑکھڑاتی وہ اٹھی تھی ۔۔۔۔

عنصر خالی نظروں سے دیکھتا رہ گیا۔۔۔


گھر آکر عنصر نے جو خبر گھر والوں کو دی تھی سب ہی ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے ۔۔۔۔

آپ دوسری شادی ۔۔۔۔!!

کیسے عنصر اس کی آواز بھیگ گئی آپ مجھے کیسے دھوکہ دے سکتے ہیں عنصر کس کی اجازت سے آپ دوسری شادی کر رہے ہیں اب کہ وہ آپے سے باہر ہوئی ۔۔۔۔

تمیز سے رہو تمنا جتوئی اور کیوں میں تم سے اجازت لوں دوسری شادی کے لیے تم کس کس چیز کی اجازت لیتی ہو مجھ سے بتاؤ ۔۔۔۔

اسے بازوؤں سے پکڑ کر جھنجھوڑ دیا عنصر نے

تم سے شادی میری زندگی کا سب سے برا فیصلہ تھا جسے میں بڑوں کے دباؤ میں آکر قبول کیا

اور تمہیں دھوکہ دینی کی بات کہاں سے آگئی

کیا لوو میرج تھی ہماری یاں بہت محبت سے رشتے کو قبول کیا تھا تم نے میرے ہر فیصلے سے اختلاف رہا تمہارا میری مما کے ساتھ کیسا رویہ تھا تمہارا ۔۔۔۔

کیا تمہیں یاد نہیں

عنصر میں ۔۔۔۔بس خاموش ہوجاؤ تمنا اس وقت میں تم سے کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا چلی جاؤ کمرے سے پلیز۔۔۔

یاں ٹھہرو میں ہی چلا جاتا ہوں ۔۔۔

سر جھٹک کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔


وہ کوٹن سے داؤد کی پیشانی پر لگے زخم کو صاف کر رہی تھی مگر مجال ہے جو زرا بھی درد کا شائبہ داؤد کے چہرے پر آیا ہو ۔۔۔۔۔

کیا ہے داؤد ؟؟؟ اس کے مسلسل گھورنے پر کشوہ نے اس کے زخم پر دباؤ ڈالا تھا ۔۔۔

ہم بے نقاب میدان میں اترے ہیں ۔۔۔۔۔

اب تلوار کی دھار کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔

ایک دفعہ پھر داؤد اسے اپنے لفظوں سے حیران کرنے پر تلا تھا ۔۔۔

اس کے معنی خیزی جملے اور انداز تو جیسے جناب کے بدل ہی گئے تھے ۔۔۔

لگتا ہے گاؤں کی ہوا راس آگئی

اس کی آنکھ کے اوپر سے لے کر گال تک نظر آتے پرکشش نشان کو دیکھ کر طنزیہ لہجے میں

جب سے آپ راس آئی ہیں دوسری چیزوں کی فکریں ختم ہوگئی

کشوہ نے چٹکی کاٹی تھی داؤد کے بازو پر جس پر وہ مصنوعی سا کراہا تھا ۔۔۔۔

او سوری سوری داؤد ۔۔۔۔

میں ٹھیک ہوں ہاہاہا وہ قہقہ لگا اٹھا ۔۔۔

تمہیں تو میں کشوہ نے لگاتار تکیے اس پر برسانے شروع کردئیے تھے ۔۔۔۔


یہ کیا فضول بکواس کی ہے تم نے عنصر داد جی اس پر بھڑک اٹھے تھے ۔۔۔۔

کونسی بکواس دوسری شادی کرنا میرا حق ہے ۔۔۔۔عنصر نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔

ٹھیک ہے اگر دوسری شادی کرنی ہے تو تمہیں تمنا کو چھوڑنا پڑے گا اور اس گھر سے بھی جانا پرے گا۔۔۔

مجھے کوئی مسئلہ نہیں داد جی آپ کو شاہد یاد نہیں اس شادی سے ویسے بھی میری کوئی دلی وابستگی نہیں جڑی تھی

اور رہی گھر چھوڑنے کی بات تو بتائیں داد جی دوسری شادی کرنا گناہ ہے اور اگر گناہ ہے تو چند سال قبل آپ کیوں اس گناہ کے مرتب ہوئے ۔۔۔۔

گہری سنجیدگی سے کہتا داد جی کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ گیا ۔۔۔

ہاں تمنا سے بھی بڑی کمزوری داد جی کی پہلی بیوی ۔۔۔۔!!!


بھائی کی جان ہم کل تک چلی۔ گے ڈاکٹرز ڈسچارج کردیں گے تمہیں پھر چلیں گے حسنہ کے بالوں کو سہلا کر اس نے ہر شفقت لہجے میں کہا ۔۔۔۔

پر بھائی گھر والے؟؟؟

ان کی فکر مت کرو میرا بچہ بھائی ہے نہ ۔۔۔۔۔

بھائی ملکہ بیگم ؟؟؟

حسنہ کے لہجے میں فکر تھی حسنہ نے ملکہ کے بارے میں اسے سب بتا دیا تھا

فاطمہ کے لیے اس کے دل میں عزت اور بھی بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔

ہاں وہ بھی جانتے ساتھ ہی جائے گی ۔۔۔۔


کیوں بھاگ رہی ہو مجھ سے ایش۔۔۔۔ فاطمہ عنصر نے دکھ سے اسے دیکھا جو اس کے یہاں سے آنے سے پہلے نکلنے ہی والی تھی ۔۔۔۔

پلیز عنصر میں بہت مشکل سے اس دلدل سے واپس نکلی اب دوبارہ وہاں جانے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں ۔۔۔۔

وہ حسنہ سے مل چکی تھی اب بس نکلنا تھا یہاں سے مگر پھر ایک دفعہ وہ عنصر آمنے سامنے ہوئے ۔۔۔۔

میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں فاطمہ ۔۔۔۔

پہلی بیوی کے ہونے کے باوجود میں تمہیں ایسا مرد نہیں سمجھتی تھی عنصر لہجے میں استہزایہ تپش تھی ۔۔۔۔

ہاں پہلی بیوی کے ہونے کے باوجود اور اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے

پر مجھے مسئلہ ہے عنصر میں کسی کے حق پر ڈاکا ڈالنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔۔۔۔

مطلب اگر میری بیوی نہ ہوتی تو تمہیں کوئی اعتراض نہ ہوتا

عنصر اس کے قریب ہوا

مطلب تم آج بھی مجھ سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔!!!

فاطمہ کو سمجھ نہ آئی وہ اسے بتا رہا تھا یاں اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔

مگر وہ خاموش رہی

تو ٹھیک ہے فاطمہ اگر تم مجھ سے شادی کے لیے نہ مانی تو میں اپنی پہلی بیوی کو چھوڑ دوں گا

عنصر نے سفاکی سے کہا ۔۔۔۔

فاطمہ نے اس کی سفاکیت پر بھیگی پرشکوہ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔

وہ جانتی تھی عنصر کا کہا صرف کہا نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔

عنصر تھوڑا ریلیکس ہوا فاطمہ کو منانے کے لیے اسے ایسا کہنا پڑا تھا ۔۔۔۔

اب مجھے بتاؤ گی میرے وہاں سے آنے کے بعد کیا ہوا تھا ۔۔۔۔۔


تمہارے امریکہ سے جانے کے بعد میرا دماغ خراب ہوگیا تھا میں نے ہر وہ غلط کام کرنے شروع کردئیے جس نے مجھے میری ہی نظروں سے گرا دیا

کلب میں جانا نشہ کرنا ون نائی۔۔۔ زبان لرزی

عنصر نے مٹھی بھینچ لی ۔۔۔

ڈرگز سب عام ہوگیا میرے لئیے ایک دن ایسے ہی نشے کی حالت میں سڑک میں پڑی تمہیں بد دعائیں دے رہی تھی ۔۔۔

عنصر یو چیپسٹر

گاڈ تمہیں بھی نہیں چھوڑے گا ۔۔

You rejected me

Me Ashley Adison

تم نے مجھے ٹھکرا دیا

مجھے ایشلے ایڈیسن کو

تھو۔۔۔۔

وہ بولے جارہی تھی رات کا سماں جہاں اب بس کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آرہی تھی وہاں وہ بغیر ہوش و حواس کے چلتے جا رہی تھی جب ایک گاڑی کے ساتھ اس کی ٹکڑ ہوئی ۔۔۔۔

سیاہ عجیب سے کپڑے میں اس نے کسی کو دیکھا تھا جو اس پر جھکا تھا.۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔