No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
کشوہ اپنے ہاتھ میں اپنے استری شدہ کپڑے تھامے کمرے میں آئی کمرے میں گھنگور سناٹا تھا داؤد بھی بیڈ پر موجود نہیں تھا ۔۔۔۔۔
شاہد واشروم میں ہو ۔۔۔۔
سر جھٹک کے الماری کے پٹ کو کھولا
جب کسی نے سختی سے اسے شانوں سے تھام کر سیدھا کیا اس سے پہلے وہ چیختی بھاری کھردرہ ہاتھ اس کے نازک ہونٹوں کو دبا گیا ۔۔۔۔۔
کشوہ کی آنکھیں خوف کی شدت سے پھٹی مگر سامنے داؤد کو دیکھ کر دل کے یک گونہ سکون بھی آیا ۔۔۔۔۔
داؤد ہاتھ ۔۔۔۔۔ہمم۔۔۔۔
داؤد نے اس کے ہاتھ میں پکڑے سوٹوں کو بیڈ پر اچھالا
داؤد کیا ہوا۔۔۔۔۔۔
کہاں تھی
کشوہ نے چونک کر اسے دیکھا انکھوں میں بے تحاشہ حیرانگی
اس کا انداز کہیں سے بھی ابنارمل نہیں تھا ۔۔۔۔۔
د۔۔داود ۔۔۔۔۔اسے سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے۔۔۔۔
تھا۔۔۔۔کہا۔۔۔ ن۔۔۔نہیں۔۔۔۔ جانا
ایک دم بے ربط ٹوٹے پھوٹے جملے بولتا گہرے گہرے سانس لینے لگا
داؤد داؤد کیا ہوا کشوہ کے ہاتھ پاؤں پھولے کمرے میں موجود پانی کی بوتل خالی تھی اور جگ بھی موجود نہیں تھا باہر پڑی پرانی بوسیدہ فریج وہ بھی برسو سے بند پڑی تھی کشوہ بھاگتے ہوئے نچلی منزل سے پانی لے کر آئی
پانی کا گلاس اس کے منہ کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔۔
داؤد اب ٹھیک تھا مگر کشوہ کی ٹانگیں ڈر کے مارے کانپ رہی تھی ۔۔۔۔۔
داؤد نے اس کی کلائی مضبوطی سے تھام لی جیسے اس اب کہیں نہیں جانے دے گا کشوہ بھی کتنی دیر اس کے پاس اس کے ساتھ بیٹھی رہی ۔۔۔۔
داؤد کھانا ۔۔؟؟ تھوری دیر بعد خاموش کمرے میں کشوہ کی آواز گونجی مگر داؤد نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔
دونوں بیڈ سے نیچے پاؤں لٹکا کر نکر پر بیٹھے ہوئے تھے
کتنی دیر ویسے ہی بیٹھے رہنے سے اس کی کمر اکڑی تھی
جب داؤد کا سر ڈھلکتا اس کے کندھے پر آ گرا
کشوہ نے چونک کر اسے دیکھا ابھی تھوڑی دیر پہلے تو وہ جاگا تھا پھر غنودگی میں چلا گیا یہ بات اس کے لیے باعثِ تشویش تھی
کشوہ نے دھیرے سے تکیہ بیڈ کے درمیان میں کیا اور داؤد کا سر وہاں رکھ دیا ۔۔۔۔۔
خود ڈوبٹہ صحیح کرنے کے لیے اس نے شیشا تالاشنا چاہا مگر کمرے میں کہیں بھی ایسی چیز موجود نہیں تھی جس پر وہ اپنے عکس کو دیکھ سکے ۔۔۔۔
یہ اتفاق تھا ۔۔۔۔کشوہ سوچ کر رہ گئی ۔۔۔۔۔
اپنے بیگ سے چھوٹا سا شیشا نکال کر کمرے میں موجود کیل کے ساتھ لٹکایا یہ شیشا اسے بچپن میں فرید صاحب نے دلوایا تھا جسے اس نے خود اپنے ہاتھوں سے ڈیکوریٹ کیا تھا چھوٹے چھوٹے کاغذ کے پھولوں کے ساتھ موتی جوڑے تھے ۔۔۔۔۔۔
شیشا لگانے کے ساتھ اس پر اپنا عکس دیکھا تو بڑی طرح چونک کر رہ گئی اس کے گال پر جبڑے سے تھوڑا اوپر سرخ لکیریں تھی ۔۔۔۔۔۔
ناخن سے کھرچنے والی لکیریں
سسس ۔انہیں چھوتے اس کی سسکی نکلی ۔۔۔۔
کشوہ سوئے ہوئے داؤد کے قریب گئی اس نے داؤد کے ہاتھوں کی طرف دیکھا جہاں ناخن عجیب ٹیڑے میڑھے سے بڑے ہوئے تھے ہاتھوں کی جلد سخت کھردری سی ہوئی ہوئی تھی اور پاؤں کا حال بھی عجیب ہی تھا۔۔۔۔۔۔
غفور کی ایک اور غلطی ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے میں تو مان گئی تمنا تمہیں تم نے کیسے سب گھر والوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ساتھ ساتھ کشوہ کی گاڑی کا نقصان بھی کروا دیا ۔۔۔۔۔
اعلان کروا دو اس کی قدرے اونچی آواز پر تپ کر تمنا نے کہا ۔۔۔۔
شش حسنہ نے زبان ہونٹوں تلے دبائی۔۔۔۔۔
جب میسج کی بپ نے اس کا دھیان اپنی جانب کھینچا۔۔۔۔۔۔
“میری جان آج یونیورسٹی کیوں نہیں آئی” ؟؟؟
شہریار کا میسج تھا
اتنی سا میسج اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لانے کی وجہ بنا ۔۔۔۔
کیوں مس کیا مجھے ۔۔؟؟
لکھ کر فون بند کیا کیونکہ تمنا اس کے پاس ہی موجود تھی
اور اس کی نظروں سے بچنا مشکل تھا اگر تمنا کو شک پڑ جاتا تو اس سے کیا بعید وہ اس کا لحاظ کئیے بغیر اس کا فون چھین لیتی ۔۔۔۔۔
کیا ہوا اتنا مسکرایا کس خوشی میں جا رہا ہے
نیل فائلر سے سے اپنے ناخن تراشتے تمنا نے آنکھوں کو قدرے چھوٹا کرکے تفتیشی انداز میں پوچھا۔۔۔۔۔
ک۔ککچھ نہیں تم کیوں میری مسکراہٹ سے جل رہی ہو۔۔۔۔حسنہ نے تمنا کا دھیان ہٹانا چآہا ۔۔۔۔
ہننہہ۔۔۔اتنی تم بازارِ حسن کی حسنہ جو تمہاری مسکراہٹ سے جلوں گی میں ۔۔۔۔۔
بازارِ حسن ہاؤ ۔۔۔چیپ اور جیلیس تو تمہیں ہوتی ہے معنی خیزی انداز میں کہتی اسے تپانے میں کوئی کثر نہ چھوڑی تھی ۔۔۔
فون پر آتی کال پر حسنہ اپنا فون تھامے شرارت سے آنکھ دباتی وہاں سے نکلتی چلی گئی ۔۔۔۔۔
پیچھے تمنا اپنے تراشے ناخنوں والی انگلیوں کو تھوڑی تلے رکھے گہرے سوچ میں ڈوبی۔۔۔۔۔
کشوہ جانے کتنی دیر داؤد کو دیکھتی رہی پھر واش روم سے نیم گرم پانی کا ٹب بھر لائی بیڈ پر پائینے کے پاس ٹب رکھ کر داود کے پاؤں اس میں ڈلوائے ایک سکون کی لہر داؤد کے بند آنکھوں والے چہرے پر دوڑ گئی۔۔۔۔
کشوہ نے اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے جھاگ والے پانی کے ساتھ داؤد کے پاؤں صاف کرنا شروع کئیے پھر ہاتھ میں پکڑے نیل کٹر سے آہستہ آہستہ اس کے سارے غیر ضروری ناخن تراشتی گئی ۔۔۔۔۔۔
داؤد کے پیروں میں بیٹھ کر اس کے پاؤں دھونے میں اسے زرا بھی شرم ، آر یاں کراہیت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ اس کے مطابق یہ اس کا فرض تھا اور وہ ایک وفا دار اور محبت کرنے والی بیوی تھی ۔۔۔۔۔۔
اس کے پاؤں صاف کرنے کے بعد اب ہاتھوں کے ناخن کاٹ رہی رہی تھی جب غلطی سے داؤد کی انگلی کا ماس کٹر کے اندر آیا کشوہ تڑپ کے مارے سسکی اور بے ساختہ ہی انگلی ہونٹوں تلے دبا گئی ۔۔۔۔۔
رخصتی کے بعد سے دن بہ دن اس کی کیفیت داؤد کے لیے عجیب سی ہوتی جارہی تھی داؤد کے لیے جزبہ ہمدردی ، فکر اور فکر سے فرض میں ڈھل گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو ابھی شروعات تھی ۔۔۔۔
تھوڑی دیر فون پر مما سے بات کرنے کے بعد اس کا ارادہ داؤد کے ساتھ اپنے کپڑے استری کرنے کا تھا ۔۔۔۔
مگر کمرے میں سٹینڈ ہوتا تو پھر ہی نہ وہ اب اتنا سا کام کرنے کے لیے بھی اتنی سیڑھیاں اتر کر جاتی
اسے کمرے کے خالی پن کا شدت سے اندازہ ہوا
اگر وہ دماغی طور پر صحیح نہیں تھا اور اسے صحیح کرنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش بھی تو نہیں کی گئی ۔۔۔۔۔
اگر وہ بکھرا ہوا تھا تو کسی نے سمیٹنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔
نہ اس کے کھانے کا وقت پر دھیان رکھا گیا نہ دوائیوں کا نہ پکڑے لتے کا نہ ہی اِرد گرد کے ماحول کا تو کیا ہی اثر پڑتا اس کے دماغ پر جو ماں کے بغیر وہ صدمہ لئیے بیٹھا تھا کسی نہ آگے بڑھ کر گلے نہیں لگایا
دادھیال نے تو سالوں پہلے ہی چھوڑ دیا تھا ماں کے بعد ننھیال بھی کچھ نہ رہا ۔۔۔۔۔۔
مما سے بات کرو۔۔۔۔۔
مما سے کیوں داد جی سے کیوں نہیں دل سے آواز آئی تھی اور اس کے قدم نیچے کی جانب چل دئیے۔۔۔۔۔۔
داد جی ۔۔۔مگر داد جی اپنے کمرے میں نہیں تھے
یقیناً اپنی چہیتی کے کمرے میں ہوں گے ۔۔۔۔۔
داد جی تمنا سے ہی اتنی محبت کیوں ؟؟؟ہم بھی تو آپ ہی کے بچوں کی سگی اولاد ہیں مگر ہو تمنا کے سامنے یہ کہہ کر اسے خود پر ہنسنے کا موقع نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔
کشوہ کا رخ تمنا کے کمرے کی طرف تھا وہاں بس دادجی ہی موجود نہیں تھے گھر کے بڑے بھی موجود تھے ۔۔۔۔
اچھا تھا کشوہ کے پاس بات کرنے کا صحیح موقع تھا ۔۔۔۔۔
داد جی میں آجاو ۔۔۔
ارے آجاو بچے ۔۔۔یہ آواز تایا جی کی تھی ۔۔۔۔
گھر کے سب بڑے اس کی داؤد سے شادی کے بعد سے کچھ زیادہ ہی مہربان ہوچکے تھے
اسلام علیکم
سب کو سلام کیا ۔۔۔۔۔
داد جی مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔۔
سنجیدہ لہجہ ہمیشہ کی طرح تو اس لیے کوئی بھی چونکہ نہیں تھا۔۔۔۔۔
آپ اپنے دوسرے ہوتی پوتیوں کی شادی ایسے کریں گے ۔۔۔۔۔۔
بہت ہی عجیب سوال تھا اب کہ سب ہی چونک گئے۔۔۔۔۔
کیا مطلب کشوہ بیٹا ؟؟ داد جی نے حیرت سے دیکھا ۔۔۔۔
میں جہیز کے سخت خلاف ہوں داد جی
سوال گندم جواب چنا کے مترادف آیا ۔۔۔۔۔
کیا ۔۔؟؟؟ ہوا بچے خمسہ جتوئی نے فکر مندی سے کہا۔۔۔۔
میں جہیز کے سخت خلاف ہوں داد جی مجھے تو آپ نے بوجھ سمجھ کر سر سے اتاڑ دیا مگر آپ کے نواسے کے ساتھ تو ایک اور زندگی جڑ گئی ہے جو عقل بھی رکھتی ہے جسے زندگی گزارنے کے لیے ضروریات زندگی کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔
داد جی سمیت بڑے تایا اور چاچو شرمندہ ہوگئے تائی اور چاچی بھی نظریں چرا گئی ۔۔۔۔۔
کشوہ آپی اتنا ایشو کرنے والی کوئی بات نہیں آپ آج ہی آرڈر کرلیں جو سامان منگوانا اگر کوئی مدد چائیے ہو تو بتائیے گا ۔۔۔۔
میٹھا لہجہ ۔۔۔دیکھاوے والا ۔۔۔۔
شکریہ تمنا ضرورت نہیں تم اپنے ہاتھ کا دھیان رکھو اس کا صحیح ہونا سب کے لیے زیادہ ضروری ہے۔۔۔۔
کشوہ بچے آپ کو جو جو سامان چائیے آپ سب بتا دو کل تک سب آپ کو مل جائے گا داد جی نے نرم لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔
جی ضرور گاڑی بھی صحیح کروا دیجئے گا داد جی ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے سے نکل گئی ۔۔۔۔۔
تمنا بیٹا یہ بڑوں کا معاملہ ہے آپ کو بولنے کی ضرورت نہیں۔ تھی گو کہ داد جی نے تمنا کو نرمی سے کہا تھا مگر وہ پھر بھی اس بات پر دانت پیس گئی ۔۔۔۔۔
کاش وہ کشوہ کے سامنے تمنا کو ٹوکتے تاکہ وہ بدگمان نہ ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔
کیا ہوا ہے آپ کو مس زینب آپ کی تو سائیکالوجی کا لیکچر ہے نہ ؟؟؟
اداس اداس سی آنکھیں چہرے کی شادابی کچھ غائب تھی۔۔۔۔
سر عمر نے اسے وہاں اکیلی بیٹھی دیکھ کر استفسار کیا
کشوہ پتا نہیں کیوں نہیں آرہی ۔۔۔۔۔
فون بھی بند ہے ۔۔۔۔۔۔
جانے وہ کیوں یہ بات سر عمر کے سامنے بول گئی ۔۔۔۔۔
آپ اپنی دوست کے گھر جا کر پتا کرلیتی۔۔۔
مجھے اس کے گھر کا ایڈریس نہیں معلوم وہ شرمندہ ہوئی ۔۔۔۔۔
اوو کوئی بات نہیں دوبارہ کال کرلیں کیا پتا لگ جائے ۔۔۔۔۔
ہمم نہیں لگے گا زینب نے نا امیدی سے دوبارہ کشوہ کا نمبر ملایا
ہیلو دوسری جانب کشوہ کی آواز سن کر زینب کے گال کھل اٹھے
ہیلو ہیلو کشوہ ۔۔۔۔۔وہ خوشی سے اچھلتی فون کان سے لگائے گراؤنڈ کی جانب چل پڑی پیچھے
سر عمر سر جھٹکتے اس کی بچوں جیسی حرکت دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔
آدھی رات کو نہ جانے کیوں اچانک اس کی آنکھ کھلی تھی اس نے آگے پیچھے دیکھا تو ہر طرف صرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا بس نائٹ بلب کی روشنی میں اس نے داؤد کو دوسری طرف کروٹ لئے دیکھا ۔۔۔۔
شام کو کھانا اور دوائی کھانے کے بعد وہ تھوڑی دیر جاگتا رہا جب تک جاگتا رہا اسے وہاں سے ہلنے نہیں دیا ۔۔۔۔۔
پھر اس پر نیند تاری ہوئی کشوہ اس کے لیے دودھ لینے گئی تھی مگر اس کے آنے تک وہ سویا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
داؤد نیند میں اکثر ڈر کے باعث اس کا ہاتھ یا ڈوبٹہ پکڑ لیا کرتا تھا مگر آج وہ رخ موڑے گہری نیند میں تھا
وہ اگلے ہی لمحے اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی بے مطلب اس کی پشت دیکھتی رہی اور پھر اس کے پاس آئی وہ گہری نیند میں تھا ۔۔۔۔۔۔
بائیں آنکھ کی آئی برو سے لے کر آنکھ کے تھوڑے نیچے گال تک وہ نشان اسے صاف نظر آرہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ ہی پرکشش نشان ۔۔۔۔۔۔۔ داغ بھی پرکشش ہوتے ہیں؟؟ حیرت کی بات تھی
مگر کشوہ اور داؤد کے معاملے میں ساری حیرتیں دھری کی دھری رہ جاتی تھی ۔۔۔۔
اس پہر آنکھ کھلی تھی تو اب کشوہ کا ارادہ تہجد ادا
کرنے کا تھا کم ہی اس وقت اس کی آنکھ کھلتی تھی
مگر جب بھی کھلتی اس کی کوشش ہوتی وہ تہجد ادا کرلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چہرے سے ٹپکتے ہوئے پانی کے قطرے نائٹ بلب کی روشنی میں شبنمی قطرے محسوس ہورہے تھے
ان شاءاللہ داؤد اگر اللّٰہ نے چاہا تو میں تہجد بھی آپ کی امامت میں پڑھو گی
ایک آس اور مان سے گہری نیند میں سوئے وجود کو دیکھ کر کشوہ سرگوشیانہ انداز میں بولی ۔۔۔۔۔
پھر نیت باندھتی اپنی عبادت میں مشغول ہوگئی ۔۔۔۔۔
سلام پھیر کر وہ چھوٹے چھوٹے قدم لیتی داؤد کے قریب گئی
لبوں پر ورد جاری تھا داؤد کی پیشانی پر اپنا ٹھنڈہ نازک ہاتھ رکھ کر دعا مانگتی اس پر پھونک مار گئی ۔۔۔۔۔
یہ کیسا رشتہ تھا ان کا جس میں ایک طرف ہمدردی عزت تھی تو دوسری طرف جزبانیت۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
