No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
صرف آپ سے جان چھڑانے کی غرض سے میں نے اپنی زندگی اندھیروں میں گزار دی ماں کے بعد پاگل ہونے کا دیکھا وا کیا کہ کہیں آپ کے ساتھ نہ بھیج دیا جاؤں اور آپ کہہ رہے “سوری” صرف سوری سے میرے گزرے ماہ وسال واپس آجائیں گے تو علیم کاظمی مجھے آپ کی سوری قبول ہے
علیم کاظمی جھکے کندھے سمیت مڑے جبکہ داؤد کی آنکھیں دروازے پر بے یقین سی کھڑی کشوہ کو دیکھ کر پھٹی تھیں ۔۔۔۔۔
علیم کاظمی شرمندہ سے کمرے سے نکلتے چلے گئے ۔۔۔۔
کشوہ داؤد فوراً اس کے پاس آیا
کب سے ؟؟؟!!! ٹرانس کی سی کیفیت میں کشوہ کی سرگوشی ہوا میں شامل ہوئی
کشوہ ایسا کچھ داؤد ابھی کچھ بولتا
کشوہ کے بکھرے الفاظ اس کی زبان کو فول لگا گئے
آپ ۔۔۔۔آپ۔۔۔ میری محبت ۔۔۔۔۔ میرے خلوص ۔۔۔۔۔میرے جزبات۔۔۔۔۔
کا مزاق اڑا رہے تھے ۔۔۔۔۔
دھیمی سی مری ہوئی آواز نکلی تو داؤد کاظمی تڑپ گیا ۔۔۔
نہیں ہرگز نہیں کشف وہ معاً دو قدم اس کے قریب آیا تو کشوہ چار قدم پیچھے گئی ۔۔۔۔
ڈونٹ کشف می ۔۔۔!! میں کشوہ ہوں کشوہ بالکل اکیلی ۔۔۔۔
نہیں داؤد نے تڑپ کر اسے سمیٹا مگر وہ ساکن سی ہوگئی تھی نہ جھٹکا نہ دور ہوئی اور نہ ہی اسے تھاما ۔۔۔۔
مشکل سے حسنہ کی طبیعت سنبھلی تھی
عبیر کو ابھی بھی اس نرس پر غصہ آرہا تھا کچھ سوچتے ہوئے اس کا رخ حسنہ کے کمرے کی جانب ہوا تھا وہ اندر چلا آیا
حسنہ جاگ رہی تھی
ساکت آنکھیں کمرے میں چلتے پنکھے پر ٹکی ہوئی تھیں
“مجھے مار دو مگر میں اپنی عزت پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گی “
اس کے جملے ایک دفعہ پھر کانوں میں بازگشت ہوئے تو وہ پاس موجود کرسی پر بیٹھ گیا
حسنہ اس قدر کھوئی ہوئی تھی کہ عبیر کے اپنے پاس بیٹھنے پر بھی محسوس نہ کر سکی تھی
بہادر لڑکیاں اتنا بڑا قدم اٹھا کر روتی اچھی نہیں لگتی
عبیر نے نرم لہجے میں کہا
بدکردار لڑکیوں کے مقدر میں رونا ہی رہ جاتا ہے
بدکردار اور بے و قوف ہونے میں فرق ہوتا ہے عبیر کے طنزیہ لہجے پر حسنہ پل کو چونکی
کون تھا وہ اس نے غیر شناسا شخص کی موجودگی کو اب جا کر محسوس کیا تھا
اتنا اندھا یقین کیسے ہوجاتا ہے تم لڑکیوں کو ۔۔۔
حسنہ کو گرم تھپڑ محسوس ہوا اپنے چہرے پر
عبیر بول چکا تھا زندگی میں پہلی بار اسے لگا تیر کمان سے نکل چکا ہے
وہ ہرگز اسے یہاں سنانے نہیں آیا بلکہ وہ تو ایک فیصلہ لے کر آیا تھا
مجھے کسی نے کہا تھا نا محرم آگ ہے اس سے دور رہو
حسنہ کو کشوہ کے آخری الفاظ یاد آئے تھے
مگر جب آپ کی آنکھ پر پٹی بندھی جائے تب آپ کو ہر روکنے والا اپنا دشمن لگتا ہے
حسنہ وضاحت نہ چاہتے ہوئے بھی دے گئی
عجیب سا سماں بندھا ہوا تھا وہ ایک دوسرے کو نہ جاننے کے باوجود ہر پرسنل سوال کا جواب دے رہے تھے
کبھی کبھی دل کے زخم کسی غیر کے ساتھ بانٹنے سے انسان خود پر سے بوجھ کو کم ہوتا محسوس کرتا ہے
عبیر کو یاد آیا وہ بھی تو تھا دل پھینک دل توڑنے والا اس کے دوست اسے روکتے اور وہ کتنی حقارت سے کہتا تھا کہ اس کے دوست جلتے ہیں
زندگی کا کتنا عرصہ اس نے ایسے ہی گزارا تھا
پھر ٹریننگ کے بعد اسے ہوش نہیں رہا تھا
پولیس فورسز میں جانا اس کا جنون تھا
مگر آج اتنے عرصے بعد عورت زاد سے سامنا ہوا تو
سامنے لیٹی لڑکی کی بے بسی اسے اچھی نہیں لگ رہی تھی
یہ ہمدردی تو نہیں تھی
عبیر تراب اور ہمدردی مزاحیہ خیز بات تھی
ہمدردی میں مقابل کا درد دل میں محسوس نہیں ہوتا ۔۔
آج تمہیں یہاں سے چھٹی مل جائے گی عنصر بتا رہا تھا وہ تم دونوں کو گھر لے جائے گا آج ہی
حسنہ کو کچھ نہ بولتے دیکھ وہ دوبارہ بولا تھا
وہ اسے بتا رہا تھا بلکہ بات بڑھا رہا تھا حالانکہ یہ بات حسنہ جانتی تھی
ہممم۔۔۔۔حسنہ نہ بس ہنکارا بھرا
تارا بائی پکڑی گئی ہے عبیر نے اسے بڑی خبر دی تھی اس کے مطابق یہ بات سننے کی اصل حق دار تھی وہ
حسنہ نے آنکھیں بڑی کرکے بے یقینی سے عبیر کی جانب دیکھا
وہ جو مکمل پولیس کی وردی میں وہاں موجود تھا
سامنے شرٹ کے بائیں جانب لگی نیم پلیٹ پر چمکتا عبیر نام
تارا بائی پکڑی گئی حسنہ پر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہوگئی اس نے یہ سوچنا ہی چھوڑ دیا تھا کہ وہ اس جہنم سے باہر نکلے گی صحیح سلامت
وہ رونے لگی دھاڑے مار مار کر عبیر نے تاسف سے اسے روتے ہوئے دیکھا دیکھا خیر نرس کمرے میں آگئی تھی اب اسے عنصر سے ملنا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیا مسئلہ ہے آپ کے ساتھ مام تمنا چیختی ہوئی کیچن میں آئی تھی
تمیز سے بات کرو تمنا فائزہ بیگم اس کی بڑھتی ہوئی بدتمیز یوں سے تنگ آ چکی تھی
ادھر اس کی شادی شدہ زندگی داؤ پر لگی تھی اور وہ مہارانی اپنے کمرے میں سکون فرما رہی تھی
ہوش کے ناخن لو تمنا اپنی ساس کی مدد کرواو کچھ نہیں تو ان کو تو اپنے حق میں رہنے دو کل کو دوسری لڑکی نے خمسہ بھابھی کو بھی اپنی طرف کر لیا تو تمہاری حیثیت کچھ نہیں رہ جائے گی
فائزہ بیگم ماں ہونے کے ناطے اسے سمجھانے میں لگ گئی
کیوں مام کیوں کرو میں ان کی غلامی
بھاگنے والی ان کی بیٹی تھی جس کی سزا مجھے ان کے بیٹے کے پلے باندھ کر ملی
اب جب ان کا بیٹا دوسری شادی کر رہا ہے تو یہ بھی میرے سر پر اور حد یہ کہ آپ میری ماں مجھے کہہ رہی ہے میں ان کی غلامی کروں بس بہت کرلیا آپ اور ڈیڈ نے اب آپ لوگوں نے مجھ پر کوئی پابندی لگائی تو میں یہ گھر چھوڑ جاؤں گی
تمنا نے آخر نم لہجے میں کہا ۔۔۔
وہ مڑی پیچھے ہی عنصر اور داد جی کھڑے تھے
خمسہ بیگم ایک بار پھر حسنہ کو یاد کئیے روتے ہوئے وہاں سے چلی گئی تھیں
عنصر نے ایک نظر داد جی کو دیکھا جو شرمندہ لگے اسے ۔۔۔
فائزہ بیگم بھی داد جی کو دیکھ کر شرمندہ ہوئی تھیں
عنصر !!! داد جی نے خود کو سہارا دئیے اپنے پاس کھڑے عنصر کو پکارا
جی داد جی !!
ہمیں تمہاری دوسری شادی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے تم بتا دو کب جانا ہے ہم نے داد جی کا لہجہ شکست خوردہ سا تھا
عنصر کو دکھ بھی ہوا مگر اس وقت ہاسپٹل میں موجود وہ دو شخصیات زیادہ ضروری تھی
کشف آپ ۔۔۔آپ تو جانتی تھیں نہ
اس وقت وہ سب کتنا ضروری تھا
داؤد نے ہلکی سی سرزنش کی تھی کشوہ اس سے دور ہوئی
کیا داؤد میں کیا جانتی تھی
کچھ بھی تو جاننے کا موقع نہیں ملا مجھے کشوہ نے رخ موڑا تھا اس سے
کشوہ کیا آپ نہیں جانتی تھی میں نے پاگل پن کا ناٹک کیا ہے تا کہ علیم کاظمی کے ساتھ نہ جانا پڑے
داؤد نے اسے شانوں سے تھام کر چہرہ اپنی جانب کرکے کہا
کب داؤد؟؟
کب کوئی اشارہ کوئی بات جس سے مجھے اس بات کا معلوم ہوجاتا کہ جو دکھ رہا ہے وہ سچ نہیں ہے کشوہ کی آنکھوں میں نمی چمکی وہ کتنا روئی تھی جب اس نے داؤد کا پہلی بار وہ روپ دیکھا تھا
مگر وہ سب فریب تھا
کشوہ کو چند سال پہلے کا واقع یاد آیا تھا
جب فرید جتوئی کے انتقال کے بعد اس کا زیادہ تر وقت دانیہ جتوئی کے پاس گزرتا تھا
داؤد بھی وہاں ہی ہوتا تھا مگر کشوہ اپنے پردے کے باعث اس سے احتیاط برتتی تھی
مگر داؤد کے لیے وہ اہم ہوگئی تھی بہت اہم کیوں نہ ہوتی اس کی ماں کی پسند تھی وہ ان کا سہارا تھی
حالات جو زرا بہتر ہوئے دانیہ جتوئی پر تو علیم کاظمی دادی جان کے ساتھ جتوئی خاندان والوں کے در پر موجود تھیں
انہیں ان کا وارث چائیے تھا
دانیہ جتوئی کے زیادہ تر بیمار رہنے کی وجہ سے داد جی بھی داؤد کو بھیجنے پر آمادہ ہوگئے تھے
مگر یہ خبر سن کر دانیہ جتوئی تڑپ اٹھی تھی ان کے جینے کی آخری وجہ بھی وہ شخص اس سے چھیننے آیا تھا
پہلے کم ان کے بیٹے کو بلا کر ذلیل کیا اس پر کیسے کیسے الزام نہ لگائے گئے تھے
کشوہ اپنی پھوپھو کو روتا دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی
داد جی ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں
کشوہ نے دکھ سے دانیہ جتوئی کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا
جب داؤد نے غصے میں ہر چیز اٹھا کر زمین پر مارنی شروع کردی یہاں تک کہ خود کو زخمی کر لیا
داؤد !!!
خاموش داؤد دھاڑا تھا بری طرح کشوہ سہم گئی داؤد کا روپ دیکھ کر وہ تو ہمیشہ نرم خو دھیمے لہجے میں بات کرنے والا تھا ۔۔۔
داود نے ایسے ہی ملازم کو زخمی بھی کردیا کشوہ اس قدر ڈر گئی کے وہ ڈر کے مارے دوبارہ اوپر والے پورشن میں ہی نہ گئی
علیم کاظمی بھی داؤد کی حالت دیکھ کر واپس لوٹ گئے
“ایک پاگل کو کون رکھتا ہاہاہا”
پھوپھو کے جانے کے بعد وہ ریپورٹس وہ دوائیاں اور مجھے گھورنا وہ سب کیا تھا داؤد
ماں کے جانے کے بعد آپ نے ایک دفعہ بھی آکر نہیں دیکھا میں زندہ ہوں کہ مر گیا
داؤد نے شکوہ کیا تھا
کس حق سے آتی میں داؤد اور اس دن اپنی آنکھوں سے وہ خطر ناک منظر دیکھنے کے بعد میرے دل میں پیدا ہونے والی دہشت کا آپ اندازہ نہیں لگا سکتے
پھوپھو کی وجہ سے میں الگ پریشان تھی اور آپ کی حالت نے عجیب خوف و ہراس پیدا کردیا میری زات میں
آپ کا وہ گھورنا وہ سب میری شخصیت پر کتنا اثر انداز ہوا آپ جانتے ہیں
نہیں آپ نہیں جانتے
آپ نے ایک دفعہ بھی مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھا
مجھے استعمال کیا
نہیں کشوہ
مگر وہ کمرے سے باہر نکل گئی اس وقت اتنا سب کچھ ایک ساتھ برداشت کرنا مشکل ہوگیا تھا اس کے لیے ۔۔۔۔
عنصر مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے عبیر عنصر کے سر پر کھڑا تھا
عنصر نے چونک کر اسے دیکھا پھر اپنا کام چھوڑ کر پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوا تھا
آہ ۔۔ہاں بولو عبیر میں سن رہا ہوں ۔۔
تارا بائی پکڑی گئی ہے پولیس نے چھاپا مار لیا وہاں
تو کیا وہ کوٹھا بند عنصر نے حیرت و مسرت کے عالم میں کہا
نہیں بند تو نہیں کیونکہ ایسے کاموں کے پیچھے بڑے بڑے لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے مگر جو لڑکیاں وہاں سے نکلنا چاہتی تھی انہیں نکال لیا گیا ہے اور ان کے گھر پہنچا دیا گیا ہے
اور جو اپنے گھر نہیں جانا چاہتی تھی انہیں آج ہاسٹل اور دوسرے اداروں میں پہنچایا جائے گا
عبیر میں بتا نہیں سکتا میں کتنا خوش ہوں
عنصر اس کے گلے لگا
وہ عنصر ۔۔۔۔
عبیر سوچ میں پڑا
پہلی دفع اسے کسی سے کوئی بات کرنے میں دقعت ہورہی تھی
نہیں تو اپنے ڈیپارٹمنٹ میں اس سے بھر کر کوئی منہ پھٹ نہیں تھا
میں ۔۔میں حسنہ سے نکاح کرنا چاہتا ہوں
عنصر گنگ ہوا
اور پلیز یہ مت سمجھنا میں کوئی احسان یا ہمدردی کے تحت ایسا کر رہا ہوں
تم سے بہتر کون جانتا ہے عبیر تراب اپنے فیصلے خود کرتا ہے
مگر میں حسنہ کی اجازت کے بغیر تمہیں ہاں نہیں کر سکتا عنصر نظریں چرا گیا ۔۔۔
دیکھو عنصر تم بھی جانتے ہو اور میں بھی کہ حسنہ ابھی اس کنڈیشن میں نہیں ہے کہ وہ تمہیں کوئی جواب دے تو اب فیصلہ تم نے لینا ہے
عنصر پر سوچ نظروں سے عبیر کی طرف دیکھنے لگا اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ کبھی یہ وقت بھی آئے گا ۔۔۔۔
بھائی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی حسنہ نے اسے پکارا جو زرا سنجیدہ سا لگ رہا تھا
ہاں بچے ۔۔۔ عنصر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا
گاڑی کی پچھلی سیٹ کر بیٹھی فاطمہ نے عنصر کی جانب دیکھا تھا
بھائی مما بابا دادجی سب مجھے کوئی قبول نہیں کرے گا وہ پھر سے رونے کو تیار تھی
سب تمہیں قبول کریں گے تم فکر مت کرو تم بس اپنے بھائی کا کہا مانو گی
عنصر نے مان سے کہا تو حسنہ نے اسبات میں سر ہلایا
گاڑی مسجد کے آگے رکی تو حسنہ کے ساتھ ساتھ پیچھے بیٹھی فاطمہ بھی چونکی
حسنہ بچے میں آپ کا نکاح کر رہا ہوں
عنصر نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اسے معلوم تھا حسنہ مزاحمت کرے گی مگر وہ تو ساکن بیٹھی تھی
حسنہ بچے اپنے بھائی پر یقین کرو وہ کوئی غلط فیصلہ نہیں لے گے تمہارے لیے
عنصر نے پر شفقت ہاتھ اس کے سر پر رکھا
بھائی وہ بس اتنا ہی کہہ سکی تھی
اس کا نکاح ہوچکا تھا حسنہ جتوئی اب حسنہ عبیر تراب بن چکی تھی
سفید شلوار قمیض میں عبیر حسنہ کے کھوئے ہوئے حواس کو اچھے سے محسوس کر رہا تھا
نکاح کے بعد عبیر نے حسنہ جو ہاتھ سے تھام کر عنصر کے ساتھ گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بٹھایا
عنصر میری امانت تمہارے ساتھ جا رہی ہے بہت جلد میں امی کے ساتھ اسے لینے آؤں گا تب تک میری بیوی کا خیال رکھنا
حسنہ کو اپنے سارے احساس مردہ لگے جس انداز میں وہ اسے بیوی کہہ رہا تھا وہ کیوں نہیں کچھ محسوس کر پارہی تھی
تھک کر اس نے گاڑی کی سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا لی ۔۔۔۔
کشوہ کمرے میں نہیں آئی تو داؤد جلے پیر کی بلی بنا ادھر اُدھر پھرنے لگا تھا
اس کی آنکھوں میں آنسوں دیکھنا اذیت ناک تھا اس کے لیے
وہ رو رہی ہوں گی داؤد سر تھام گیا
اس نے ایسا کچھ بھی سوچا نہیں تھا ۔۔۔۔
کشوہ آپ تو مجھے سمجھیں نہ یار
وہ سر بیڈ پر رکھتا آنکھیں موند گیا تھا
وہ تکلیف ہورہی ہے کشف۔۔۔۔
عنصر بیٹا کہاں غائب رہتے ہو بچے ماں کو کیوں ترساتے ہو
اب تو لگتا ہے سانسیں بھی چند رہ گئی ہیں
خمسہ بیگم اس سے شکوہ کر رہی تھی
امی حسنہ نے تڑپ کر عنصر کے پیچھے سے نکلتے ہوئے کہا
خمسہ بیگم کے ساتھ سے پانی کا گلاس زمین پر گرا
جسے سنتے فائزہ بیگم باہر آئی
ماں
حسنہ آگے بھری
چٹاخ !!
خمسہ بیگم کا ہاتھ اٹھا تھا اور حسنہ کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا
ماں عنصر آگے بھرتا مگر فاطمہ نے اسے روکا
عنصر نے مڑ کر اسے دیکھا جو نفی میں سر ہلایا
ماں ۔۔۔م ج۔۔۔مجھے مارو میں اسی قابل ہوں مگر ایک دفعہ اپنی حسنہ کو گلے لگا لیں مما آپ کی حسنہ مر جائے گی
خمسہ بیگم کا ہاتھ تھامے خود ہی اپنے چہرے پر تھپڑ مارنے لگی
مما حسنہ نے شدت سے اپنی ماں کو گلے لگایا
جو روتے ہی چلی جارہی تھی
تمنا بھی باہر آئی تھی مگر اس کی نظر حسنہ کی بجائے عنصر کا ہاتھ تھامے کھڑی لڑکی پر تھی
نیلی آنکھوں والی لڑکی جس کا چہرہ حجاب میں مقید تھا
تمنا کے قدم ان کی جانب اٹھے تھے ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔
