Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

افراتفری کے ماحول نے تارا بائی چھکے چھڑا دیئے ۔۔۔۔

حسنہ سمیت کہیں لڑکیاں شہریار نامی شخص سے اپنی رسوائی کا بدلہ لے رہی تھیں
جس نے انہیں اپنی محبت کے جال میں پھنسا کر اس مقام میں لا کھڑا کیا

اس کے چہرے پر تھوکتی تو کبھی جو شہ ہاتھ میں آتی اس پر حملے کے طور پر استعمال کرتی ۔۔۔۔

وہ درد سے کراہ رہا تھا مگر اس کی چیخیں اتنی وحشت ناک اور ازیت ناک نہیں تھی جتنی یہاں پر دھوکہ سے آنے والی ہر لڑکی کی پہلی رات گونجتی تھی ۔۔۔۔

اِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِیْدٌ:
ترجمہ:

ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، بے شک آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ جب ظالموں کو اپنے عذاب میں پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے اگرچہ یہ پکڑ کچھ عرصہ ظالموں کو مہلت دینے کے بعد ہو کیونکہ انہیں مہلت دینا عاجز ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ حکمت کی وجہ سے ہوتا ہے
(روح البیان، البروج، تحت الآیۃ: ۱۲، ۱۰ / ۳۹۱-۳۹۲)

ریپورٹرز پوری طرح منظر عام میں آکر شوٹ نہیں کررہے تھے ابھی بھی چھپ کر وہاں ہونے والے ہر منظر کو قید کر رہے تھے
حسنہ نے شہریار کے منہ پر اپنی ہیل والی جوتی کی نوک رکھ کر دبائی۔۔۔۔
ریپورٹرز تک کے رونگٹے کھڑے ہوگئے وہ نامی گرامی شخص دم دبا کر بھاگ گیا تارا بائی کو اپنا کوٹھہ بند ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔
ارے ہٹ نگوڑی ۔۔۔
ارے کمبخت ماری
عزاب بن کر آئی ہے ہمارے سروں پر
ارے دفعان ہو ناس پیٹی
چنبیلی روک اسے۔۔۔۔۔مگر چنبیلی کی تو خود کی گِگی بندھ گئی تھی ۔۔۔۔
محفل مسترد ہوئی مگر ملکہ بیگم گھومے جارہی تھی اتنا گھومی کے گھنگڑو ٹوٹ کر اسے پاؤں زخمی کرگئے ۔۔۔مگر وہ ہنوز گول گول گھوم رہی تھی ۔۔۔
وہ جھوم رہی تھی سب سے آری درد سے مبرا ۔۔۔۔۔


حسنہ ۔۔۔۔!!!
کشوہ چیخ مار کر اٹھی
چہرہ پسینے سے شرابور ہوگیا جبکہ جسم کانپنے لگا ۔۔۔داود نے فوراً اٹھ کر لائٹ چلائی ۔۔۔
کیا ہوا کشف نرم گرفت بازو پر قائم کرکے فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔۔
وہ داؤد ۔۔۔وہ حسنہ ۔۔۔

بہت بھیانک خواب تھا حسنہ کا پورا وجود خون سے رنگا ہوا تھا ۔۔۔۔
کشوہ کے رونگٹے کھڑے ہوئے وہ رونے لگی ۔۔۔۔
شش کشف پلیز مت روئیں وہ مل جائے گی ۔۔
نہیں ۔۔۔نہیں داؤد ۔۔وہ ادھر وہ تکلیف میں مجھے بولا رہی تھی ۔۔۔۔مارے وحشت کے کشوہ کا وجود ابھی بھی کانپ رہا تھا ۔۔۔۔
شش !! کچھ نہیں ہوا “بال سہلا کر پر سکون کیا ۔۔۔”
وہ ایک دم اٹھی ۔۔۔

کہاں جا رہی ہیں کشف ؟؟!! داؤد نے اس کے اٹھ جانے پر اس سے استفسار کیا ۔۔۔۔
تہجد!!!
یک لفظی جواب دے کر وہ واش روم کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔
پیچھے داؤد نظریں چرا گیا ۔۔۔۔


اگلی صبح دو بہت بڑی خبریں آخبار میں سرخیاں بٹور رہی تھی پہلی خبر بدنام زمانہ کی گلیوں میں کراچی کے “نیک شریف ایم پی اے ” ہاتھ میں جام تھامے جھومتے ہوئے نظر آئے ۔۔۔جس نے موجود پارٹی کے علاوہ اوپوزیشن میں بھی تحلقہ مچا دیا ۔۔۔۔

اور دوسری بڑی خبر ایک اور درندہ اپنے انجام کو پہنچ گیا کراچی کے پوش علاقے میں موجود حسن بزار میں محبت کے جال میں لڑکیاں پھنسا کر بیچنے والے شخص رزاق عرف شہریار کو وہی پر موجود ایک لڑکی نے تیزاب ڈال کر اپنا بدلہ لے لیا ۔۔۔

ایک چھوٹی سی ویڈیو جس میں لڑکیوں کا چہرہ دھندلا تھا مگر اس کا مکرہ جلا چہرہ نظر آرہا تھا جس پر سینسر لگا دیا گیا ۔۔۔۔

اپنے بیڈ پر بیٹھ کر سوشل میڈیا کی خبروں کو سکرول کرتی تمنا بری طرح چونکی تھی
چونکنے کی سب سے بڑی وجہ شہریار کے شناختی کارڈ کی تصویر جو نیوز سکرین پر دکھائی جا رہی تھی ۔۔۔
یہ تو حسنہ والا ۔۔۔
اس کی آواز غائب ہوئی ۔۔۔

عنصر ۔۔عنصر !!!بیڈ کے دوسری جانب لیپ ٹاپ پر اپنا اہم کام کرتے عنصر نے بے زاری سے تمنا کے پکارے جانے پر اس کی جانب دیکھا ۔۔۔
کیا ہے کیوں چیخ رہی ہو پاس ہی بیٹھا ہوں ۔۔

ایک تو پہلے ہی وہ پریشان تھا بزنس میں لوس ہورہا تھا ۔۔۔
اور حسنہ تک پہنچنے کی ساری امیدیں دم توڑ گئی اوپر سے تمنا کی چک چک وہ زندگی سے ہی بے زار ہوگیا ۔۔۔

عنصر یہ دیکھیں ۔۔۔
تمنا نے اپنا فون آگے کیا ۔۔۔۔

اوہو پلیز تمنا میرے پاس تمہارے جتنا فضول وقت نہیں کہ میں ہر وقت سوشل میڈیا ہی چلاتا رہو۔۔۔
وہ جھنجھلا کر اپنا لیپ ٹاپ بسترے سے اٹھا ۔۔۔

مگر تمنا اکی اگلی بات پر اس کے قدم تھمے ۔۔۔

عنصر حسنہ کا بوئے فرینڈ۔۔!!!

کیا؟!؟؟

یہ دیکھیں عنصر ۔۔۔اس نے پھر فون عنصر کہ جانب کیا جس نے فون کو کھینچنے والے انداز میں لیا ۔۔۔وہ جیسے جیسے ویڈیوں دیکھتا جا رہا تھا اس کی خود کی روح فنا ہوئی ۔۔

کیا حسنہ ادھر اس سے آگے کی سوچ اس پر کوڑے برسا رہی تھی اس کی بہن اس کی عزت ایسی جگہ پر ہوگی ۔۔۔۔

وہ اٹھا تھا ۔۔۔۔نہیں بھاگا تھا ۔۔۔۔


سال*** ہمارا ٹنٹنا کرے گی یہ پانچواں ہنٹر تھا جو اس کی کمر کی جلد اڈھیر گیا ۔۔۔۔
وہ چیخی تھی بہت برا ۔۔۔۔
مار دو میں مر جاؤں گی مگر عزت کا سودا نہیں کروں گی

خون کی ابکائی لیتی وہ چلائی تھی

عزت ۔۔۔۔عزت چنبیلی جا بلا کر لا سارے ملازموں کو اس کا بھرم تو میں توڑتی ہوں
بہت برداشت کرلیا میں نے اسے شیدے کو بلا ۔۔۔

بائی فون آرہا ہے بائی سیٹھ کا ۔۔۔

سیٹھ بائی کا چہرہ سفید پڑا تھا۔۔۔۔رک میں آتی وہ فوراً فون پکڑنے بھاگی سیٹھ کی کال نہ اٹھانے کا انجام اسے اچھے سے معلوم تھا ۔۔۔۔


داؤد باہر چلیں صبح کے نو بج رہے تھے اور وہ دونوں ابھی بھی کمرے میں ہی بند تھے۔۔۔۔ ایسا نہیں تھا کوئی انہیں بلانے نہیں آیا ثمن امن ملازمہ سب ہی چکر لگا کر گئے مگر دونوں نے ہی منع کردیا کشوہ نے جسمانی تھکاوٹ کی وجہ سے اور داؤد نے زہنی تھکاوٹ کے باعث ۔۔۔۔۔

اب کشوہ کو شدید بھوک لگ رہی تھی جبکہ داؤد ابھی بھی باہر جانے کے لیے ہمت جتا رہا تھا ۔۔۔۔وہ کیسے سامنا کرے گا اس شخص کا جو اس کا باپ ہے ۔۔۔۔

داود بھوک لگی ہے ۔۔۔۔۔کشوہ نے معصوم سا منہ بنا کر کہا ۔۔۔۔
داود چار و ناچار اٹھ گیا۔۔۔۔
چلیں ۔۔۔۔
وہ دونوں ایک ساتھ کمرے سے باہر نکلے ڈائننگ ہال میں ان کی داخل ہوتے ہی دادی کا چہرہ کھل اٹھا ۔۔۔۔
اچاٹ دل سے ناشتہ کرتی ثمن امن الگ چہکیں ۔۔۔۔
مگر دو لوگ ایسے تھے جو ان دونوں کے آنے سے ساکت ہوگئے تھے ۔۔۔۔

سربراہی کرسی کے ساتھ موجود ساکن ہاتھوں سمیت بیٹھیں شخص کو دیکھ کر داود کے زخم ہرے ہوئے اس نے کشوہ کے ہاتھ پر گرفت بڑھائی وہ اتنا بڑا نہیں تھا مگر پانچ سال کی عمر میں ملنے والے دھکے اتنی آسانی سے کیسے بھولا دیتا ۔۔۔۔

اس نے بے بسی سے کشوہ کی جانب دیکھا تھا کشوہ نے آنکھوں سے اسے حوصلہ دیا ۔۔۔
بھابھی آئیں نہ بیٹھیں بھائی بتائیں کیا لیں گے ۔۔۔۔
مما بھائی آئے ہیں دیکھیں ۔۔۔۔بابا ۔۔۔۔۔
منزہ بیگم ہاتھ میں جگ تھامے وہاں سے اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔۔۔
کشوہ نے ایک نظر دادی کے شرمندہ چہری پر ڈالی ۔۔۔۔
دادی بھی کشوہ کو دیکھ رک نظریں چرا گئیں ۔۔۔

‘ماں کی طرح چور”…..

داؤد کو ان کا جانا نہ اچھا لگا نہ برا اس نے دوسروں سے بھی امیدیں وابستہ کرنی چھوڑ دی تھی
اس کا بس ایک ہی رشتہ تھا ہے ۔۔۔۔وہ اس کی کشف کا بس۔۔۔۔۔


ہیلو عبیر۔۔۔۔
عنصر نے کافی عجلت میں فون کان کے ساتھ لگایا ۔۔۔۔
ارے واہ آج تو بڑے بڑے لوگوں نے اس نا چیز کو یاد کیا ۔۔۔۔
دوسری طرف سے شوخ سی آواز آئی ۔۔۔۔
عبیر تو جلدی ڈی ایچ اے پہنچ ۔۔۔فورا ۔۔۔۔۔۔
عنصر!!!!
مجھے تمہاری مدد چائیے
عنصر کی حد سے زیادہ سنجیدہ آواز پر عبیر نے خود کو کوئی دوسرا سوال کرنے پر روکا ۔۔۔۔۔


بائی تو نے اچھا نہیں کیا تجھ سمیٹ تیرے کوٹھے کو آگ لگا دوں گا میں تو مجھے جانتی نہیں تو نے میری ویڈیو بنوائی ہے میں تجھے عبرت کا نشان بناؤ گا ۔۔۔۔
سیٹھ ۔۔۔سیٹھ!!!! آہ ۔۔۔۔۔حسنہ !!! بائی چیخی تھی ۔۔۔۔ملکہ بیگم کو خوف محسوس ہوا وہ فوراً اپنے کمرے سے نکل کر باہر کی جانب بھاگی ۔۔۔۔
حسنہ کی حالت قابلِ رحم تھی جلد ادھڑی نظر آرہی تھی کپڑے پٹھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔

ملکہ نے اپنے گرد اوڑھی چادر اس پر ڈالی ۔۔۔

مار دو مجھے مگر اپنی عزت کو آنچ نہیں آنے دوں گی ملکہ بیگم کے پاس ہونے کا کچھ حوصلہ ہوا تو وہ دھاڑی تھی۔۔۔۔۔۔


منزہ بیگم کیچن کے شلف کے ساتھ ٹیک لگا کر رو دی تھیں۔۔۔۔۔
وہ داؤد سے نظریں چرا رہی تھی اپنے ظلم اچھے سے یاد تھے انہیں ۔۔۔
اس دن اگر وہ جھوٹا الزام لگا کر داود کو گھر سے نہ نکالتی تو اس لڑکی کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جھوٹا الزام داؤد پر نہ لگتا ۔۔۔
نہ انہیں اس کی اہ لگتی اور
نہ ان کی گود اجڑتی ۔۔۔
دانیہ جتوئی کی سسکیاں انہیں سونے نہیں دیتی اپنی بیٹیوں کو دیکھ کر روح کانپ جاتی کہ کہیں ان کے کرموں کی سزا ان کی معصوم بیٹیوں کو نہ بھگتنی پر جائیں ۔۔۔۔

دانیہ جتوئی رات کے پہر پانچ سال کا بچہ گود میں لئیے گھر کی دہلیز پر سسک رہیں تھیں مگر تب وہ ظالم بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔
وہ بھول گئی تھی
کہ اللّٰہ بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔۔۔۔۔

انصاف ہوا تھا ان کی پہلی اولاد ان کا بیٹا پیدا ہوتے ہی فوت ہوگیا ابھی اسے انہوں نے گود میں بھی نہ لیا وہ انہیں چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔۔

پھر اتنے سالوں بعد ان کا ہاں دوبارہ خوشی کی خبر آئی مگر منزہ بیگم گڑ گئیں ۔۔۔۔

سونی گود لے کر بہت تڑپی دانیہ جتوئی کا درد محسوس ہوا پھر اللّٰہ نے دو جڑواں بیٹیاں دی منزہ بیگم حد سے زیادہ ان کا خیال رکھنے لگی ۔۔۔۔

مگر علیم کاظمی کو تو وارث بھی تو چائیے تھا اپنا اور پھر آخری بار منزہ بیگم کا بیٹا پیدا ہو کر جب دنیا چھوڑ گیا تو اپنے ہاتھوں سے اسے دفناتے وہ دونوں میاں بیوی دھاڑے مار مار کر روئے ۔۔۔۔

علیم کاظمی خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہ رہے وہ خاموش ہو کر رہ گئے ۔۔۔۔

اپنے بیٹوں کے جانے کے بعد منزہ بیگم تل تل مری دادی کی آگے ہاتھ جوڑتی کہ وہ انہیں دانیہ جتوئی کہ گھر لے جائے وہ ایک دفعہ اس سے معافی مانگ لے وہ ایک دفعہ داؤد سے مل لے ۔۔۔۔
مگر یہ خبر آئی کہ دانیہ جتوئی کا انتقال ہوگیا ہے اور داؤد جتوئی پاگل ہوگیا ۔۔۔۔


بہت عزت پیاری ہے نہ تجھے تارا بائی شعلہ بنی اس کے سر پر موجود اور تو تجھے بہت محبت جاگ رہی تارا بائی نے اپنے شکنجے میں ملکہ بیگم کا بازو لیا اور کھینچنے لگی
چھوڑ بائی ۔۔۔چھوڑ
ملکہ بیگم نے بھرپور مزاحمت کی مگر تارا بائی اسے حسنہ سے دور کھینچنے میں کامیاب ہوگئیں۔۔۔
نہیں مار دو مجھے!!!! حسنہ کراہ کر چیخی

چھوڑ دو اسے بائی چھوڑ دو تم جو کہو گی میں کروں گی ملکہ بیگم نے شکست خوردہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔
وہ تو تو کرے گی ہی میرا سارا نقصان بھرے گی تو ۔۔۔۔
مگر اس چھوکڑی کے کام تمام کرنے کے بعد۔۔۔۔
چل شیدے کیا یاد کرے گا ۔۔۔۔۔

نہیں میں خود کو مار لوں گی ۔۔۔وہ شدید مزاحمت میں اتر آئی ۔۔۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ دونوں اس کے قریب آتے پیچھے سے گولی چلی ملکہ بیگم چیخ اٹھی حسنہ آنکھیں موند گئی ۔۔۔۔۔


او بچوں آکر بیٹھو دادی نے محبت سے کہا کشوہ اسبات میں سر ہلا کر وہاں بیٹھی تو داؤد بھی ساتھ ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔
کلیم صاحب سر جھکائے ناشتہ کرنے کے بعد اٹھے دادی سے پیار لے کر وہ بھی ڈائننگ ہال سے چلے گئے ۔۔۔۔

ان کے جانے کے بعد کشوہ نے اپنی ویل اتاری اب وہ داؤد کی پلیٹ میں ناشتہ ڈال رہی تھیں۔۔۔۔
ماشاءاللہ بھابھی آپ ۔۔۔اپ تو بہت پیاری ہیں ثمن مبہوت ہوکر کشوہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جوس کا جگ رکھتی امن تو بالکل اس کے ساتھ ٹک گئی ۔۔۔۔

کشوہ پر تکلف سا مسکرا کر ناشتہ کرنے لگی اور داؤد کی پلیٹ میں بھی آہستہ آہستہ کھانا ڈالنے لگی ۔۔۔۔
بس کشف ۔۔!! بہت دھیمی آواز تھی

کشف!!!!…… ہاؤ کیوٹ بھابھی امن جو بالکل ساتھ بیٹھی تھی شریر لہجے میں بولی تو داؤد سٹپٹا گیا ۔۔۔
جبکہ کشوہ کے رخصار سرخ ہوئے ۔۔۔۔
اب وہ بغیر کشوہ کے وہاں سے جا بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔

امن دادی نے تنبیہ کی ۔۔۔


تمنا لب دبائے کمرے میں اِدھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی
عنصر اتنی عجلت میں کہاں گئے ۔۔۔۔
کہیں میں نے بتا کر غلط تو نہیں کردیا ۔۔۔
وہ اسی شش و پنج میں تھی جب فائزہ بیگم اسے آکر لے گئی ۔۔۔۔

کیا ہے مما آپ مجھے کیچن میں کیوں لے آئی ۔۔۔تمنا نے بے زاری سے کیچن میں موجود ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔

میں نے تمہیں یہاں بیٹھنے کے لیے نہیں کہا تمنا اٹھو اور میری ہلپ کرو کچھ کھانا پکانا سیکھو اور میں دیکھ رہی ہوں تم عنصر کے کسی کام میں ہاتھ نہیں ڈالتی بس فون لے کر پری رہتی ہو۔۔۔
او پلیز مما ساسو والے طعنے مت کریں فروٹ باسکٹ سے سیب نکال کر دانتوں سے کترتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

تمنا ادھر جاؤ شادی ہوگئی ہے تمہاری خمسہ بھابھی کے ساتھ بیٹھا کرو عنصر کو وقت دیا کرو ۔۔۔
بس مما کیوں تنگ کر رہی ہیں پہلے ہی سر میں۔ درد ہے میرے اور مجھے تائی کی چاپلوسی کی ضرورت نہیں مجھے بہو وہ بنا کر لائی ہیں بلکہ ہم نے ان پر احسان کیا ۔۔۔
اور رہی بات کھانا بنانے کی تو کیا آج سے پہلے میں نے بنایا ہے جو اب بناو گی میں کھانا وہ سر جھٹک گئی ۔۔۔

تم بھی ۔۔۔۔فائزہ بیگم سر جھٹکتی پلٹنے لگی مگر دروازے پر خمسہ جتوئی کو کھڑا دیکھ کر وہ خاموش ہوگئی ۔۔۔۔


عنصر یار اپنے دوست کو نہیں بتائے گا کیوں اتنا پریشان ہے ؟؟….
بہن کا معاملہ ہے ۔۔۔۔
عنصر نے شکست خوردہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔
مجھے ہوری بات بتا ۔۔!!!

عبیر سنجیدہ ہوا تھا چل بتا کہاں جانا ہے ۔۔۔؟؟!!

یہ کونسی جگہ پر لے آیا ہے عنصر۔۔۔۔۔۔ ان جگاہوں پر رات کے وقت چھاپے ڈالتے ہیں اس وقت تو یہ بند ہوگا ۔۔۔
عبیر نے اپنی شرٹ کے کف فولڈ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

اندر چل عبیر عنصر اور وہ اندر آئے ان کی قسمت اچھی تھی کہ مرد ملازم کو تارا بائی نے بیٹھک میں بلا لیا تھا ۔۔۔۔
اکا دکا لوگ ہی موجود تھے جن سے چھپ کر وہ چل رہے تھے …

ابے رک گارڈ نے عنصر کو دیکھ کر اسے دبوچا ۔۔۔۔
تو جا عبیر دیکھ میں نکلتا ہوں یہاں سے ۔۔۔وہ گارڈ کے شکنجے میں پھنسا عبیر سے بولا ۔۔۔۔

عبیر نے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے گن نکالی
“مار دو مجھے مگر اپنی عزت کو آنچ نہیں آنے دوں گی”
اس آواز نے اس کے قدم روکے ۔۔۔۔

ماردو میں مر جاؤں گی مگر تم لوگوں کے لیے تر لقمہ نہیں بنوں گی اس لڑکی کی چیختی ہر ہمت آواز ۔۔۔

عبیر فوراً وہاں آیا اور اس نے اس لڑکی پر جھکے شخص پر گولی چلا دی ۔۔۔
ملکہ بیگم چیخی ۔۔۔۔۔۔ یک دم وہاں سناٹا چھایا ۔۔۔۔

عنصر بھی گارڈ کو مارتا وہاں پہنچا ۔۔۔۔
حسنہ !!! وہ چیخا ۔۔۔۔
اس کی آواز کر دو لوگ ہوش میں آئے

حسنہ جو نیم بے ہوش سی تھی اور دوسری طرف تارا بائی سے خود کو چھڑواتی ملکہ بیگم ۔۔۔۔
وہ ساکت ہوئی ۔۔۔۔
عنصر جتوئی ۔۔۔
عنصر بھائی ۔۔۔

عنصر فوراً حسنہ کی جانب بھاگا تھا حسنہ اس نے اپنی بہن کو گلے لگا لیا
حسنہ میری بچی بھائی آگیا ہے
آنکھیں کھولو ۔۔۔۔
حسنہ ۔۔۔۔
اوئے ہاتھ نہ لگانا اسے نہیں تو جان سے مردوں گی
تارا بائی کی چنگارتی آواز پر عنصر پھٹتی نسوں سمیت مرا
اس کا پلٹنا قیامت کے مترادف ہوا ….

تارا بائی چاقو کی نوک ایشلے ایڈیسن کی گردن میں رکھے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔


جاری ہے ۔۔۔۔!!!