No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے۔۔۔۔۔۔
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے۔۔۔۔۔۔
آج اتنے دن ہوگئے تھے کشوہ اور داؤد کے درمیان حائل لاتعلقی کی دیوار ٹوٹ چکی تھی داؤد اس کا کہنا آرام سے ہی مان لیتا تھا اور کشوہ اس کے لیے بھی داؤد کی ذات لازم ملزوم ہوچکی تھی ۔۔۔۔۔
کشوہ نے اپنی محنت سے نہ صرف داؤد کے اِرد گِرد کے ماحول کو بدلا تھا بلکہ اس کی پوری پوری کوشش تھی کہ وہ اندھیروں سے ڈرنے والے داؤد کو بھی بدل لے گی اپنی محبت لگن اور وفا سے ۔۔۔۔۔۔
آج اس کا ارادہ داؤد کو مارکیٹ لے کر جانا تھا تا کہ وہ بھی باہر نکلے اس لیے صبح سے اس کی منتیں کر رہی تھی مگر وہ اس معاملے میں ڈھیٹ ابنِ ڈھیٹ نکلا ۔۔۔۔۔
داؤد چلیں نہ میرے ساتھ صبح کا وقت تھا کشوہ داؤد کے ساتھ باہر جانے کے لیے منت کر رہی تھی مگر وہ منع کئیے خود پر لحاف اوڑھے لیٹ گیا ۔۔۔۔۔
داؤد کشوہ نے چادر کھینچی۔۔۔۔
نہیں نہ ۔۔۔۔معصومیت سے کہا۔۔۔۔۔
کشوہ نے نظریں چُرائیں داؤد میں یونیورسٹی چلی جاؤں گی ۔۔۔۔۔
نہ ۔۔۔۔۔ہنوز ویسے ہی منہ چھپا کر لیٹا رہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے میں پھر یونیورسٹی جا رہی ہوں آپ لیٹے رہیں
داؤد ۔۔۔۔!!!! ٹھیک ہے لیٹے رہیں آپ ۔۔۔۔
پاؤں پٹکتی وہ کمرے سے باہر نکلی ۔۔۔۔داود کو کیسے مناؤں اسی سوچ میں تھی جب اس نے دھیان نہیں دیا اس کے پاؤں پر ٹھوکر لگی تھی اور وہ سیڑھیوں کے جنگلے کا سہارا لے کر وہ گِرتے گِرتے بچی تھی
“جب سہارے کمزور ہوں تو بندہ اکثر ہلکی سی ٹھوکر سے گر جاتا ہے”
اس کے پاس آکر ہاتھ بڑھاتے عنصر سعید نے زومعنی انداز میں کہا ۔۔۔۔۔
الحمدللہ۔۔۔۔ “اللّٰہ نے اتنا مضبوظ بنایا ہے کہ سہارا دینے والوں میں سے ہوں لینے والوں میں سے نہیں “
اپنے ہاتھ کے سہارے کھڑے ہوتے اپنے نقاب کو سختی سے تھامے سرد لہجے میں بولتی اس کے پاس سے ہوتے گزر گئ ۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح عنصر اس کے بعد خالی ہونے والی جگہ دیکھتا رہ گیا ۔۔۔
وہ ہوتی تھی تو سب منظر ۔منظر لگتے تھے اس کے جانے کے بعد حسین سے حسین منظر بھی عام ہوجایا کرتے۔۔۔۔۔۔
داد جی سے گاڑی کی چابی لے کر اب اس کا ارادہ یونیورسٹی جانے کا تھا ویسے بھی داؤد نے دوائی کھا کر سو جانا تھا اور ویسے بھی آج اس کا دل داؤد کو نخرے دکھانے کا تھا ۔۔۔۔۔
نخرے ۔۔۔ہاہاہا اپنی ہی سوچ پر وہ بے تحاشا ہنسی تھی ۔۔۔۔۔
یہ مجھے کیا ہوگیا ہے کشوہ ۔۔۔۔۔
محبت ۔۔۔۔۔
محبت من محرم ہوئی ہے ۔۔۔۔۔
نقاب کے اندر گال سرخ پڑے تھے۔۔۔۔۔۔
اس نے پہلے گاڑی فارمیسی کے پاس روک کر داؤد کی دوا لی اب اس نے یونیورسٹی کے راستے گاڑی ڈال دی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
مس زینب آپ یہاں پر کیا کر رہی ہیں ۔۔؟؟؟
آپ نے آج پھر لیکچر مس کرنا ہے ۔۔؟؟؟ رعب دار لہجے میں سر عمر نے پوچھا تو وہ اچھلی ۔۔۔۔
ن۔نہیں سر وہ ۔۔وہ کشوہ آرہی ہے اس کا انتظار کر رہی تھی میں ۔۔۔۔
چھٹیوں کے بعد آرہی ہے آپ کی دوست حج کرکے نہیں جو اسے سی آف کرنے آپ یہاں کھڑی ہیں۔۔۔۔
چہرے کے نقوش سپاٹ تھے تو اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ مزاق کر رہے ہیں یہ بے عزتی ۔۔۔۔
نہیں ۔۔وہ سر اس کی شادی کے بعد وہ پہلی بار آرہی ہے ۔۔۔۔۔فٹافٹ بول کر زبان دانتوں تلے دے گئی کشوہ نے سختی سے منع کیا تھا اسے کہ وہ یہ بات کسی کو نہیں بتائے گی مگر ہائے اس کا ہلکا پیٹ !!!!
داؤد کو سوچتے اسے گزشتہ رات یاد آئی جب اچانک ہی موسم نے کروٹ بدلی تھی اور کشوہ عرف بہادر ملکہ بجلی اور بادلوں کی آوازوں سے ڈرنے والی
طوفانی بارش میں گرجتے بادل کشوہ کا ضبط آزما رہے تھے
کڑکتی بجلی میں دل ہول رہا تھا جبکہ داؤد پرسکون سا اس کا ہاتھ تھامے سویا ہوا تھا ۔۔۔۔کشوہ کو سمجھ نہ آئی وہ کیا کرے جب لائٹ بند ہوئی تھی
اور کشوہ کی بس
داؤد داؤد ۔۔۔۔
کشف ۔۔۔۔۔ اس نے مندی مندی آنکھیں کھولی مگر اندھیرا دیکھ کر اور وہ بھی سہم گیا
کشف۔۔۔سہمی سی آواز سن کر کشوہ نے اپنا ہاتھ کو مضبوطی سے اس کے بازو کے گرد باندھا۔۔۔۔
جانا نہیں ۔۔۔
نہیں جاتی داؤد آپ کے پاس ہی ہوں میں اسے یقین دلا رہی تھی۔۔۔
اپنے خوف کو پس پشت ڈال کر اسے داؤد کی فکر ہوئی تھی
جب اچانک لائٹ آئی اور کمرہ روشن ہوا تھا ۔۔۔۔
داؤد کا سر اس کے بازو کے سہارے تھا اور وہ بڑے آرام سے سو رہا تھا
داؤد آپ بھی نہ اس کا سر دھیان سے تکیے پر رکھا تھا ۔۔
جب پھر بادل گرجے ۔۔۔
اففف ۔۔۔۔۔
یونیورسٹی کے اندر داخل ہوتے ایک خوبصورت مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر سجی ہوئی تھی جس کا عکس آنکھوں سے صاف نمایاں ہورہا تھا ۔۔۔۔۔۔
شادی ۔۔۔۔۔۔عمر کے گرد سناٹے چھائے تھے ۔۔۔۔
جی سر پلیز اسے مت بتائیے گا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے ۔۔۔۔۔
میں پاگل ہوں جو کسی کی بھی ذاتی زندگی کو لے کر بحث کروں گا وہ بھڑکے تھے
اس کے بھڑکنے پر زینب ڈر گئی
خود تو آپ کی دوست نے پڑھنا نہیں شاہد آپ کا بھی دل نہیں ہے پڑھنے کا
تب ہی وہاں کشوہ آئی تھی اس کا دھیان صرف زینب کی طرف تھا
عمر ایک ناگوار نظر کشوہ کے چھپے وجود پر ڈال کر وہاں سے نکلا ۔۔۔۔۔۔۔
سر کو کیا ہوا ہے؟؟
کشوہ نے نا سمجھی سے زینب کو دیکھا
جو غائب دماغی سے نفی میں سر ہلا گئی ۔۔۔۔۔
زینی ۔۔۔۔۔کشوہ نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا
ہاں ۔۔۔۔۔
زینی اس کی غالب دماغی نوٹ کرتے زینب کو بازوؤں سے پکڑ کر ہلایا ۔۔۔۔
تو زینب چیختے ہوئے اس کے گلے لگی ۔۔۔۔۔
اب کشوہ کو معلوم تھا دو تین گھنٹے کہیں نہیں جانے اسے اب کچھ زینب کو بتانا ہی پڑے گا ۔۔۔۔۔
کشوہ تھوڑی دیر پہلے گھر پہنچی تھی سب سے پہلے کمرے میں آئی داؤد بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا اسے دیکھتے ہی روٹھے بچے کی طرح کمبل میں چھپ کر لیٹ گیا ۔۔۔۔
وہ یوں ملا کہ بظاہر خفا خفا سا لگا۔۔۔۔۔۔۔
نہ جانے کیوں وہ مجھے پھر بھی با وفا سا لگا۔۔۔۔۔۔۔
داؤد ناراض ہیں۔۔؟؟؟
مگر جواب نادار
داؤد ۔۔۔۔۔ایک دفعہ پھر سے پکارا مگر مقابل بھی اپنے نام کا ایک تھا بغیر سنے ویسے ہی لیٹا رہا ۔۔۔۔۔
داؤد کشوہ نے بازو سے ہلایا مگر بچوں کی طرح آنکھیں زور سے مینچ گیا ۔۔۔۔
داؤد بال سہلائے ۔۔۔۔ہنوز لا تعلقی برتی گئی
داؤد کی بے تعلقی پر کشوہ کی آنکھیں نم ہوئی
داؤد ۔۔۔۔بھیگیں آواز محسوس کئیے دادو فوراً سیدھا
کشف۔۔۔۔۔کشوہ جو اس پر جھکی ہوئی تھی
دونوں کے سر بڑی زور سے ایک دوسرے کے ساتھ لگے۔۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔
اپنے درد کو فراموش کئیے داؤد نے کشوہ کا سر سہلایا ۔۔۔۔
داؤد ۔۔۔۔
کشف۔۔۔۔۔۔
سوری !!!سوری!!!
دونوں نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔۔۔۔
ہاہاہا۔۔۔۔۔۔دونوں ہی ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ کر کھلکھائے۔۔۔
آپ مجھے چھوڑ کر یونیورسٹی چلی گئی ۔۔۔۔داود کو اپنا شکوہ یاد آیا ۔۔۔۔
آپ بھی تو میرے ساتھ باہر نہیں گئے ۔۔۔۔۔
ایک سیاہ لہر داؤد کے چہرے پر دوڑی جو اس کی مسکراہٹ سمیٹ کر لے گئی ۔۔۔۔۔۔
کشوہ نے شدت سے اس کے چہرے پر پھیلے کرب کو محسوس کیا اب وہ یہاں تک پہنچی تھی تو داؤد کے دکھوں پر بھی مرحم رکھ ہی دے گی ۔۔۔۔۔۔
اچھا اب آخر سر تاج مان گئے ہیں تو بتائیں دوائی کھائی تھی آپ نے ۔۔۔۔
نہیں داؤد نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔کیوں داؤد ۔۔۔؟؟؟
کشوہ نے فکر مندی سے کہا ۔۔۔۔
نہیں کھانی ۔۔۔۔۔۔دو لفظوں میں ضد کی آمیزش تھی ۔۔۔۔
کیوں داؤد ۔؟؟
کڑوی ہے منہ بسور کر کہا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے آج مت کھائیں مگر بس آج کے دن کل سے کوئی رعایت نہیں ۔۔۔۔۔
پکا ۔۔۔داود اتنے میں ہی خوش ہوگیا۔۔۔۔
کشوہ نے نامحسوس انداز میں ایک پتہ کمرے میں موجود ڈسٹ بین میں ڈالا باقی کے دو پتے اپنی ہینڈ پرس میں ڈال لئیے ۔۔۔۔۔
ہاتھ میں تھامے داؤد کی دوائیوں کو غور سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ کشوہ انہیں گوگل میں بھی سرچ کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔
اسے یونیورسٹی کا منظر یاد آیا۔۔۔۔۔
جب وہ زینب کو ڈیپارٹمنٹ کے روم میں بیٹھ کر گزشتہ دنوں کا واقع سنا رہی تھی ۔۔۔۔
تو کیا تمہارے داد جی نے تمہاری شادی تمہارے پھوپھو کے پاگل بیٹے میرا مطلب مینٹلی ان سٹیبل بیٹے سے کروا دیا
کشوہ کے گھورنے پر اپنے الفاظ میں ردوبدل کیا ۔۔۔۔۔۔
لہجے میں دکھ سے زیادہ حیرت تھی ۔۔۔۔۔
داؤد پاگل نہیں ہیں زینی وہ تنہائی کے مارے ہیں
اسلام علیکم کشوہ کیسی ہیں آپ جب وہاں سے گزرتی میڈیم رخسانہ کشوہ کو دیکھ کر رکی تھی
الحمدللہ میم میں بالکل ٹھیک ۔۔۔
کشوہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے نہ آپ کافی چھٹیوں کے بعد آئی ہیں میڈیم رخسانہ نے پوچھا کشوہ ان کی پسندیدہ سٹوڈنٹ تھی
جی میڈیم میں بالکل ٹھیک ہوں بس کچھ مسائل پیش آگئے تھے اس لیے غیر حاضر ہونا پڑا ۔۔۔۔
آپ اپنے ڈیپارٹمنٹ کی ایچ او ڈی سے اس بارے میں بات کرئیے گا آپ نے آخری دو پیپرز بھی نہیں دئیے۔۔۔۔۔
یہ دوائی ۔۔۔؟؟؟ بات کرتے ان کی نظر کشوہ کے ہاتھ میں پکڑے دوائی کے پتے پر پڑی۔۔۔۔
جی میم ۔۔۔۔
یہ دوائی آپ کے پاس کہاں سے آئی ۔۔۔۔
آپ کو میڈیکل سٹور والوں نے کسیے دے دی
میڈیم رخسانہ نے پتہ تھام کے سختی سے پوچھا ۔۔۔۔
مگر کیا ہوا ہے میم ۔۔۔؟؟؟
یہ دوائی ہائی ڈپریشن میں گہری نیند سلانے کے لیے ہوتی ہے وہ بھی بہت سوئیر حالت ہو تو تب ہی
کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ کشوہ بری طرح چونکی داؤد تو دن میں اس دوائی کی تین تین گولیاں کھاتا ہے ۔۔۔۔۔۔
داد جی آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے داؤد کے متعلق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
