Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 9)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 9)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“ابھی تک ناراض ہو مجھ سے آج کے دن بھی بات نہیں کرو گے اپنی بجو سے”
مہرماہ دلہن کے روپ میں سجی سنوری رومان کے ناراض چہرے کو دیکھتی ہوئی اس سے بولی ایک ہفتے پہلے ہی وہ گھر آیا تھا تب اسے ستارہ نے مہرماہ کی شادی کے بارے میں بتایا جس کا سن کر اس نے خوب ہنگامہ کیا وجہ مہرماہ کی شادی نہیں تھی بلکہ مہرماہ کی محب سے شادی تھی جس کی وجہ سے وہ ستارہ اور مہرماہ دونوں سے کافی ناراض تھا
“بجو اگر آپ چاہتی ہیں کہ میں آپ سے ناراض نہ ہو تو اس شادی سے انکار کردیں جن لوگوں میں آپ یہ شادی کرنے جارہی ہیں نفرت ہے مجھے ان لوگوں سے”
رومان کہ منہ سے اتنی بڑی بات سن کر نہ صرف مہرماہ پریشان ہوگئی بلکہ کمرے میں آتی ہوئی ستارہ بھی ایک لمحے کے لیے چکرا گئی مہرماہ تو رومان کے سامنے کچھ نہیں بول پائی مگر ستارہ کمرے میں آتی ہوئی رومان سے بولی
“بجو کہتے ہو اسے، اپنی بڑی بہن مانتے ہو اور شرم نہیں آرہی تمہیں اپنے منہ سے اتنی بڑی بات کرتے ہوۓ آج اس کی شادی ہے بجاۓ اپنی بہن کو دعاؤں کے ساتھ رخصت کرو الٹا اسے مشورہ دے رہے کہ وہ اپنی شادی سے انکار کردے”
ستارہ رومان کے پاس آکر اسے اچھی طرح سناتی ہوئی بولی تو رومان ستارہ سے مزید خفا ہوا
“کیوں کروانا چاہتی ہیں آپ بجو کی شادی اس گھر میں جہاں سے آپ کو رسوا اور بےعزت کرکے نکالا گیا تھا،، کیا چاہتی ہیں آپ ماما وہی پرانی کہانی اب دوبارہ بجو کے ساتھ دہرائی جاۓ، واقف نہیں ہیں آپ ان سب لوگوں کی نیچر سے”
رومان ستارہ کے سامنے تلخ لہجہ اختیار کرتا ہوا بولا اس کی بات پر ستارہ کو ایک دم چکر سا آیا
“آنٹی”
اس سے پہلے ستارہ گرتی مہرماہ اور رومان دونوں ہی اس کی طرف تیزی سے لپکے۔۔۔۔ رومان نے جلدی سے ستارہ کو کرسی پر بٹھایا جبکہ مہرماہ گھبراتی ہوئی جگ سے پانی انڈیلنے لگی ساتھ ہی اس نے ناراض نظر رومان پر ڈالی وہ مہرماہ سے اپنی نظریں چرا گیا۔۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب ستارہ کا دل کافی کمزور ہوچکا تھا زیادہ تلخی برداشت کرنا اب اس کے بس کی بات نہیں تھی
“محب میرا بڑا بیٹا ہے مجھے اس سے مغیث اور موحد سے بھی اتنی ہی محبت ہے جتنی تم دونوں سے ہے۔۔۔۔ میں نے تمہیں ماں بن کر اپنی اولاد کی طرح پالا ہے مہرو، میں جانتی ہوں محب تمہیں خوش رکھے گا میں کبھی بھی تمھارے لیے غلط فیصلہ نہیں لے سکتی۔۔۔۔ وقت آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ جو تلخی اپنے ہی باپ بھائیوں کو لےکر اس کی ذات میں گھل رہی ہے،، مہرو تم اس کو سمجھاؤ یہ اپنے اندر سے اس تلخی کو ختم کردےِ۔۔۔ دیکھو فراز اس دنیا سے جاچکا ہے میں نہیں چاہتی تم دونوں میرے جانے کے بعد اس بھری دنیا میں اکیلے رل جاؤ”
ستارہ مہرماہ سے بولتی ہوئی رونے لگی جبکہ رومان کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔ مہرماہ جانتی تھی رومان ستارہ کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کرسکتا اسی وجہ سے وہ کمرے سے گیا تھا
“آنٹی آپ رومی کی باتوں سے اپنا دل خراب مت کریں میں اس کو سمجھاؤ گی لیکن اگر آپ اپنی طبعیت خراب کریں گیں تو مجھ سے ٹینشن میں عالم ہاؤس نہیں جایا جاۓ گا”
ستارہ کے رونے پر مہرماہ اس کو دیکھ کر بولی تو ستارہ کو اپنے آنسو صاف کرنا پڑے وہ جانتی تھی مہرماہ کا خود بھی بہت چھوٹا دل ہے وہ واقعی وہاں جانے کے بعد بھی پریشان رہے گی
“میرے یہاں سے جانے کے بعد اب تمہیں آنٹی کا بہت خیال رکھنا ہے رومی”
مہرماہ ٹیرس میں آتی ہوئی رومان سے بولی
“آپ تو ایسے بات کہہ رہی ہیں جیسے مجھ سے اور ماما سے اپنا تعلق ختم کرکے جارہی ہیں۔۔۔۔ اور یہاں ہمارے پاس اب کبھی نہیں آۓ گیں،، میں آپ کو بتارہا ہوں بجو شادی ہوجانے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ ہم سے بالکل کٹ جاۓ جب جب ماما اور مجھے آپ کی یاد آۓ گی تب تب آپکو ہم دونوں کے پاس آنا ہوگا”
رومان نے گھر سے نکلنے سے پہلے اس سے وعدہ لیا تھا جو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ وعدہ وہ وفا کرپاۓ گی یا نہیں
******
تمام تر رسموں سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی دیر پہلے ہی اسے محب کے بیڈ روم میں لاکر بٹھایا عالم ہاؤس میں موجود تمام افراد نے اسے کھلے دل سے ویلکم کیا تھا اور منہ دکھائی کے طور پر مختلف تحفے بھی دیے تھے لیکن اس وقت وہ محب کے کمرے میں بیٹھ کر اس کے آنے کا سوچتے ہوئے کافی نروس فیل کررہی تھی کہ ایک دم کمرے کا دروازہ کھلا، مہرماہ کی نظریں بےاختیار کمرے کے دروازے سے ہوتی ہوئی محب سے ٹکرائی دونوں کی نظروں کا ٹکڑا ہوا تو مہرماہ بےساختہ اپنی نظریں جھکا گئی محب کمرے کا دروازہ بند کرکے مہرماہ کے پاس آیا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے محب کے چہرے کی مسکراہٹ اس وقت سنجیدگی میں بدل چکی تھی وہ مہرماہ کے قریب آتا ہوا شیروانی کی پاکٹ سے اپنا موبائل نکالنے لگا
“کون ہے یہ”
اپنے موبائل کی اسکرین مہرماہ کے چہرے کے سامنے کرتا ہوا وہ مہرماہ سے سوال کرنے لگا۔۔۔ مہرماہ نے موبائل کی اسکرین سے پہلے محب کا چہرہ دیکھا جو اس وقت بالکل سپاٹ تھا پھر اس نے محب کا موبائل لےکر میسج پڑھنا شروع کیا جو انگریزی میں اسکی اسکرین پر موجود تھا
جس میں محب کو واضح کہا گیا تھا کہ مہرماہ پر اس سے زیادہ اس کی فیملی کا حق ہے یہ بات وہ ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھے
“یہ نمبر تو رومی کا ہے آنٹی کا بیٹا رومان، آنٹی نے تعارف کروایا تھا ناں آپ کا۔۔۔ بچپن سے کافی زیادہ مجھ سے اٹیچ ہے اس لیے اس نے آپ کو جذباتی ہوکر ایسا میسج کردیا ہوگا”
مہرماہ محب کے موبائل کی اسکرین پر رومان کا نمبر دیکھتی ہوئی اسے بتانے لگی۔۔۔ تو محب اپنا موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتا ہوا بولا
“جذباتی ہوکر بالکل ہی بےوقوفانہ حرکت کر ڈالی اسے سمجھنا چاہئے کہ جہاں نئے رشتے جوڑے جائیں وہاں کیسے پیش آنا چاہیے”
محب اپنی شیروانی کے بٹن کھولتا ہوا بولا تو مہرماہ چونک کر اسے دیکھنے لگی محب کے لہجے میں کچھ ایسا تھا جو مہرماہ کو چھبتا ہوا محسوس ہوا شاید اسے رومان کا یوں میسج کرنا پسند نہیں آیا تھا
“وہ چھوٹا بچہ ہے ابھی اس میں اتنی سمجھ بوجھ نہیں ہے کہ رشتوں کو سمجھے”
مہرماہ محب کا انداز دیکھ کر ایک بار پھر ہچکچاتی ہوئی بولی اور اسے رومان کی صفائی دینی چاہی تو شیروانی کے بٹن کھولتے ہوئے محب کے ہاتھ وہی رک گئے
“کیا کہا وہ بچہ ہے مگر حرکتیں تو بالکل اس کی بچکانہ نہیں لگتی ہیں۔۔۔۔ 18 19 سال کی عمر تو ہوگی اس کی۔۔۔ اپنی آنٹی کو اچھی طرح سمجھا دینا کہ وہ اپنے بیٹے کو تھوڑا بہت سمجھائے کم سے کم اسے اتنی تمیز تو سکھائیں کے سامنے والے کو مخاطب کس انداز میں کیا جاتا ہے”
محب مہرماہ کو دیکھ کر جتاتا ہوا بولا تو مہرماہ کچھ بھی نہیں بول پائی بس خاموشی سے محب کا انداز اور لہجہ دیکھنے لگی۔۔۔ محب اپنی شیروانی کو ہینگ کرتا ہوا مہرماہ کے پاس آیا اور اس کے حسین روپ کو دیکھنے لگا وہ آج کی رات اس چھوٹی سی بات کو ایشو بناکر اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے بیڈ پر بیٹھتا ہوا اس نے مہرماہ کا حنائی ہاتھ تھاما ویسے ہی مہرماہ کی ہارٹ بیٹ تیز ہونے لگی
“مسز محب عالم آپ کو اندازہ ہے آج آپ اس روپ میں کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں”
وہ مہرماہ کا ہاتھ تھامے اسے گہری نظروں سے دیکھ کر بولا تو مہرماہ کو لگا پسلیاں توڑ کر اس کا دل باہر نکل آۓ گا۔۔۔ محب کا انداز لب و لہجہ اور موڈ اب بدل چکا تھا جس سے مہرماہ دوبارہ نروس ہونے لگی۔۔۔ محب اس کو گھبراتا ہوا دیکھ کر مہرماہ کا تھاما ہوا ہاتھ اپنے ہونٹوں تک لے جانے لگا تو مہرماہ کا ہاتھ کانپ اٹھا اس سے پہلے وہ مہرماہ کے ہاتھ پر اپنی محبت کی پہلی مہر ثبت کرتا بیڈ کے سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا اس کے موبائل میں الارم زوردار آواز میں بجنے لگا
“یہ الارم کیسے لگ گیا موبائل میں”
محب مہرماہ کا ہاتھ چھوڑتا ہوا اپنا موبائل کا الارم بند کرنے لگا جو اس کو بالکل یاد نہیں پڑتا تھا کہ اس نے کب لگایا تھا
“آج تو آپ کافی خاموش اور سنجیدہ ہیں کچھ بولیں گیں نہیں”
محب موبائل کو واپس رکھتا ہوا مہرماہ سے بولا جو اب بھی اسے نروس دکھ رہی تھی۔۔۔ وہ کیا بولتی ساری الٹی سیدھی ویڈیوز اور ستارہ کی نصیحتیں اس کے ذہن میں گھوم رہی تھیں شوہر کے حقوق، بیوی کے فرائض، شوہر کا کہنا ماننا، جیسے محب چاہے اگے سے اعتراض مت کرنا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ محب نے اس کو غائب دماغ دیکھ کر مہرماہ کے چہرے کے آگے چٹکی بجائی تو مہرماہ ایک دم ہوش میں آئی
“کیا بولوں مجھے تو اس وقت کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔ آنٹی نے کہا منع کیا تھا کچھ فضول مت بولنا اور شوہر کی ہر بات ماننا”
مہرماہ نروس ہوتی ہوئی سچائی بیان کرگئی جس پر محب ہلکا سا مسکرایا
“یعنی آپ آج کے دن اپسی کوئی حرکت یا حماقت نہیں کرنے والی جس پر مجھے غصہ آۓ اور میں آپ کی صحیح طرح سے کلاس لے سکوں”
محب کا انداز اس کو ڈرانے والا نہیں بلکہ شرارت بھرا تھا وہ دوبارہ سے مہرماہ کا ہاتھ تھام چکا تھا اور دراز میں رکھے ہوئے کنگن نکال کر مہرماہ کو پہنانے لگا
“مجھے عورت کا ایسا ہی روپ پسند ہے مہرماہ سوبر سنجیدہ۔۔۔ جس کی نگاہوں میں شرم و حیا کے ساتھ اپنے شوہر کی عزت و احترام کا عکس بھی واضح جھلکے۔۔۔ آپ کو اس روپ میں دیکھ کر مجھے بےحد اچھا لگا”
محب مہرماہ کو کنگن پہنانے کے ساتھ ایک بار پھر اپنے ہونٹوں تک مہرماہ کے حنائی ہاتھ تک لے جانے لگا جبھی سائیڈ ٹیبل پر رکھا ہوا الارم کلاک بجنے لگا جس پر محب گھور کر الارم کلاک کو دیکھنے لگا جبکہ مہرماہ خود بھی پریشان ہوگئی
“سمجھ آگیا یہ عالم ہاؤس میں موجود دونوں کارٹونس، میرا مطلب ہے موحد اور گڑیا کا کارنامہ ہوگا۔۔۔ آپ ان دونوں سے کبھی بھی کچھ بھی شرارت کی توقع رکھ سکتی ہیں”
محب الارم بند کرتا ہوا مہرماہ کو بتانے لگا وہ دوبارہ مہرماہ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور جان بوجھ کر تھوڑا کھسک کر مزید مہرماہ کے قریب ہوا تو مہرماہ بھی اپنے آپ میں سمٹ گئی۔۔۔ اب کی بار وہ مہرماہ کا چہرہ توڑی سے تھام کر اپنے چہرے کے نزدیک لایا تو مہرماہ اس کی حرکت پر گھبراتی ہوئی زور سے اپنی آنکھیں بند کرگئی اس سے پہلے محب اپنے ہونٹ اس کے چہرے کے قریب لاکر کوئی پیار بھری گستاخی کرتا،،، اچانک سے زوردار الارم بجنے کی آواز بیڈ کے نیچے سے آنے لگی جس سے مہرماہ اپنی آنکھیں کھول کر ہڑبڑا کر پیچھے ہوئی وہی محب بھی غصے سے بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔۔۔ اس نے غصے پر قابو پاتے ہوئے بیڈ کے نیچے سے ایک اور الارم پیس نکالا جو بری طریقے سے تیز آواز کے ساتھ بجے جارہا تھا الارم کو بند کرتے ہوئے وہ مہرماہ کو دیکھنے لگا جو اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات دیکھ کر سہم گئی تھی
“آپ پلیز ریلکس ہوجاۓ امید ہے موحد اور گڑیا کا لگایا ہوا یہ آخری الارم پیس ہوگا”
موحد اور صوفیہ پر بے تحاشہ غصہ آنے کے باوجود وہ خود کو ریلکس کرنے کے ساتھ مہرماہ کو بھی ریلکس کرتا ہوا بولا۔۔۔ وہ دوبارہ مہرماہ کے قریب آکر بیٹھا ابھی چند سیکنڈ ہی گزرے تھے کہ کے ڈیوائڈر کے اوپر رکھا ہوا ایک الارم پیس زور و شور سے بجنے لگا جس پر مہرماہ ایک بار پھر پریشان ہوکر محب کو دیکھنے لگی جو غصے میں ڈیوائڈر کی طرف بڑھا اور الارم پیس کو اٹھاکر بند کرنے کی بجائے کمرے کا دروازہ کھول کر الارم پیس کو زور سے باہر پٹخا تو مہرماہ ڈر گئی
“موحد گڑیا فوراً یہاں آجاؤ تم دونوں”
محب چنگاڑتی ہوئی آواز میں چیخ کر ان دونوں کو بلانے لگا۔۔۔۔ چند سیکنڈ کر اندر وہ دونوں بھیگی بلی بنے محب کے کمرے میں موجود تھے۔۔۔ محب نے کچھ بولنے کی بجائے ان دونوں کو ایسے خطرناک طریقے سے گھورا کہ وہ دونوں بھی اس کا اشارہ سمجھ کر بناء کچھ بولے شرافت سے ایک ایک کرکے جگہ جگہ پر فٹ کیے گئے الارم تیزی سے نکالنے لگے وہ کوئی پندرہ سے اٹھارہ الارم پیس تھے جنہیں دیکھ کر مہرماہ حیرت ذدہ ہوچکی تھی اب وہ محب کا غصے سے سرخ چہرہ دیکھ رہی تھی جو ان دونوں کی کاروائی غصے سے ضبط کیے خاموشی سے دیکھ رہا تھا
“اسں طرح کا مسخرہ پن کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تم دونوں کو، مجھے جلدی سے بتاو یہ آئیڈیا تم دونوں میں سے کس کا تھا”
محب مہرماہ کا لحاظ کیے بناء ان دونوں پر شروع ہوچکا تھا محب کے پوچھنے پر موحد اور صوفیہ اپنے اپنے ہاتھ کی انگلی سے ایک دوسرے کی طرف اشارہ کرنے لگے
موحد اپنی طرف صوفیہ کی انگلی اٹھتی دیکھ کر جل کر رہ گیا اور صوفیہ کو کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگا تو صوفیہ نے معصومیت سے اپنی انگلیوں کا رخ اپنی طرف ہی موڑا لیا اور نیچے سر جھکالیا
“میں نے اس سے پہلے ہی بولا تھا کہ ایسی شرارت مت کرو محب بھائی لحاظ کیے بغیر ہم دونوں کی بھابھی کے سامنے بہت بےعزتی کریں گے مگر اس نے مجھ یہ کہہ کر بلیک میل کیا کہ میں تمہیں تمہاری شادی کی رات، تمہیں رات بھر تمہارے کمرے میں جانے نہیں دوں گی بلکہ چھت والے واش روم میں بند رکھو گی۔۔۔ آپ کو تو خود معلوم ہے بھائی میری کمزور صحت مجھے اس طرح کے بھیانک مذاق کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتی ہے”
موحد معصومیت سے اپنی بےگناہی بیان کرتا ہوا بولا تو مہرماہ کو اس کی بات سن کر ہنسی آنے لگی جبکہ محب نے مزید اپنی آنکھیں بڑی کرکے موحد کو گھورا
“میرے سامنے زیادہ معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے تم کتنی پہنچی ہوئی چیز ہو، یہ مجھ سے زیادہ بہتر اور کوئی نہیں جانتا ہوگا تمہیں پورے عالم ہاؤس میں۔۔۔ آئندہ اگر میں نے تمہیں کوئی بھی اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے ہوئے دیکھا تو میں تمہاری ہڈی پسلی ایک کر ڈالوں گا، یوں مسکینوں کی طرح میرے سامنے مت کھڑے رہو جاؤ میرے کمرے سے”
محب کی دھمکی سن کر موحد اس کے کمرے سے ایسے غائب ہوا جیسے گدھے کے سر سے سینگ،، اب مجب کا رخ صوفیہ کے جھکے ہوئے سر کی طرف تھا
“کیا ہے یہ سب گڑیا کتنی بار تمہیں سمجھا ہے کہ اچھی لڑکی ایسی حرکتیں کرتے ہوئے ذرا اچھی نہیں لگتی ہیں، تم جتنی بڑی ہوتی جارہی ہو تمہارے مزاج میں سنجیدگی آئے الٹا تم بیوقوفی والی حرکتیں کرنے لگی ہو یہ کوئی اچھی بات ہوتی ہے”
محب کی باتیں سن کر صوفیہ کا سر مزید جھک گیا مگر وجہ شرمندگی نہیں تھی بلکہ اب کی بار مغیث کے کمرے سے آنے والی الارم کی آواز تھی
“صوفیہ”
اس بار مغیث کی چنگاڑتی ہوئی آواز پر صوفیہ نے سر اٹھا کر محب کو دیکھا جو افسوس سے اس کی صرف دیکھ رہا تھا
“آج مغیث عالم نے مجھے ہرٹ کیا تھا تو اس لیے میں تین الارم پیس ان کے کمرے میں بھی فکس کر آئی تھی”
صوفیہ آہستہ آواز میں اپنا کارنامہ بتانے لگی جس پر مہرماہ بےساختہ ہنس پڑی لیکن محب کے گھورنے پر وہ جلدی سے اپنا سر جھکا گئی
“جاؤ مغیث کے کمرے میں، اس سے پہلے کہ وہ الارم ڈھونڈنے کے چکر میں اپنا پورا کمرہ تہس نہس کر ڈالے سارے الارم پیس نکالو اس کے کمرے سے”
صوفیہ حکم ملتے ہی محب کے کمرے سے رفوچکر ہوگئی تو محب کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا مہرماہ کے پاس آیا
“میں ان دونوں کو ڈانٹ رہا تھا اور آپ کو ہنسی آرہی تھی مہرماہ”
محب مہرماہ کو دیکھتا ہوا سنجیدہ لہجے میں بولا تو مہرماہ اس کی آنکھیں دیکھ کر سہم گئی
“سوری سر وہ مجھے ان دونوں کی باتیں سن کر ہنسی آگئی تھی سیم کبھی کبھی میں بھی اسی طرح سے۔۔۔”
محب کے تیور دیکھ کر باقی کا جملا اس نے ادھورا چھوڑ دیا اور سر جھکا گئی اسے لگا اب موحد اور صوفیہ کی بجائے اس کی کلاس ہونے والی ہے
“پہلی بات تو یہ آپ کو نہیں بھولنی چاہیے کہ اب میں آپ کا سر نہیں ہوں بلکہ شوہر ہوں۔۔۔ اور دوسری بات جو آپ کو ہمیشہ یاد رکھنی ہے وہ یہ کہ کبھی بھی میرے غصہ کرنے پر آپ کو ہنسنا نہیں ہے کیونکہ آئندہ اگر ایسا ہوا تو یہ بات مجھے کافی ناگوار گزرے گی۔۔۔ اور آخری بات مجھے اچھا لگا کہ آپ اچھی بیوی بن کر میری ہر بات مانیں گیں اور مجھے شکایت کا موقع نہیں دیں گیں”
محب مہرماہ کا جھکا ہوا سر دیکھ کر بولا جو مہرماہ نے ہلکے سے ہلایا
“سر جھکا کر مت بیٹھیں اٹھ کر یہاں آجائیے میرے پاس”
محب بیڈ کے قریب کھڑا اسے حکم دیتا ہوا بولا جس پر مہرماہ اس کے حکم کی تعمیل کرتی ہوئی بیڈ سے اٹھی اس سے پہلے شرارے میں پاؤں آٹکنے سے وہ گرتی محب آگے بڑھ کر اسے تھام چکا تھا
“ایسا کب تک چلے گا مہر، میں آپ کو اس گھر میں گود میں اٹھاکر نہیں گھوم سکتا پلیز آپ صحیح طرح سے چلنے کی پریکٹس کرلیں”
محب کی بات پر مہرماہ گھبرا کر اسے دیکھنے لگی محب کے چہرے کے تاثرات سے وہ اندازہ نہیں لگا پائی تھی کہ محب اس وقت نارمل موڈ میں تھا یا پھر غصے میں،، مگر جو مہرماہ اس وقت محسوس کررہی تھی ڈرتے ڈرتے بولی
“محب پلیز اس وقت مجھے چھوڑیے گا نہیں کافی دیر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنے کی وجہ سے میرے دونوں پاؤں سن ہوچکے ہیں اگر آپ نے مجھے چھوڑا تو میں سنبھل نہیں پاؤں گی۔۔۔ اور اگر میں نیچے گری تو پھر آپ کو مجھ پر غصہ آئے گا،، مجھے آپ کے غصے سے بہت ڈر لگتا ہے”
مہرماہ روانی سے بولی تو محب کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی
“آپ نے فوراً میری بات کو پک کیا اور سر کہنے کی بجائے مجھے میرے نام سے پکارا تو مجھے بہت اچھا لگا۔۔۔ اس وقت میں آپ پر غصہ نہیں کرسکتا، مجھے آپ پر بالکل بھی غصہ نہیں آرہا آپ بالکل ریلیکس ہوجائیں”
محب گہری نظروں سے اس کے حسین سراپے کا مکمل جاہزہ لیتا ہوا اپنے دونوں بازوؤں میں مہرماہ کو اٹھا چکا تھا
“محب”
مہرماہ نے اچانک محب کے عمل پر بوکھلا کر اس کا نام پکارا مگر محب بناء اس کی پکار پر دھیان دیے مہرماہ کو بیڈ پر بیھٹا چکا تھا وہ خود بھی مہرماہ کے سامنے بیٹھ کر اس کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھنے لگا
“اگلا قدم”
محب دل ہی دل میں سوچتا ہوا ساتھ مہرماہ کو بھی دیکھ رہا تھا جو کافی گھبرائی ہوئی دکھ رہی تھی۔۔۔ ان دونوں میں بےتکلفی نہ ہونے کے برابر تھی یہی سوچ کر محب خود بھی سوچ میں پڑگیا، کیا اسے آج مہرماہ کو تھوڑا وقت دینا چاہیے شاید یہی ٹھیک تھا،،،، ورنہ وہ اس کے بارے میں ناجانے کیا سوچتی
“آپ کیا فیل کررہی ہیں، بالکل فرینک ہوکر مجھ سے شئیر کرسکتی ہیں آپ”
محب آئستہ آواز میں مہرماہ کو نروس دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“بھلا معصوم بکری ذبح ہونے سے پہلے کیا فیل کرسکتی ہے”
مہرماہ کے منہ سے بےساختہ نکلا
“واٹ”
اس کے نادر خیالات جان کر محب کے منہ سے بھی بےساختہ نکلا یعنی وہ کوئی قصٌائی تھا جو اسے حلال کرنے لگا تھا وہ ایسا سمجھ رہی تھی
“دیکھیں آپ غصہ مت کریئے گا آپ نے خود کہا کہ میں فرینک ہوکر شئیر کرو آپ سے”
مہرماہ محب کو دیکھ کر ڈرتی ہوئی بولی آج کے دن وہ جتنی نروس تھی شاید ہی کبھی زندگی میں ہوئی ہو۔۔۔ محب اس کی بات پر لمبا سانس کھنچ کر رہ گیا
“آپ ایزی ہوجاۓ مہر، وہاں سامنے ڈریسنک روم ہے اس میں وارڈروب میں آپ کے سارے ڈریسز موجود ہیں”
محب مہرماہ کو بولتا ہوا بیڈ سے اٹھنے لگا مگر چونکا اس وقت جب مہرماہ نے اس کا ہاتھ پکڑلیا
“میں ریڈی ہوں۔۔۔ آئی مین ایزی ہوں میرا مطلب ہے آپ ایسے کیوں اٹھ رہے ہیں۔۔۔ ناراض ہوکر ناں، مجھ سے ناراض مت ہوئیے گا پلیز۔۔۔ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیسے ایکسپلین کرو آپ کو،، کیا کروں میں”
وہ اتنی زیادہ بوکھلائی ہوئی تھی محب کا ہاتھ پکڑے اس خود سمجھ نہیں آیا وہ کیا بولے جارہی تھی بالاخر وہ رونے لگی
“مہر کیا ہوگیا آپ کو میں ناراض نہیں ہوں آپ سے بالکل بھی۔۔۔ آپ معلوم نہیں کیا کیا سوچ رہی ہیں ریلکس ہوجائے مجھے کچھ برا نہیں لگا آپ اس طرح روۓ گیں تو مجھے عجیب لگے گا پلیز چپ ہوجائیے”
محب مہرماہ کے اسطرح گھبرا کر رونے پر خود بھی بوکھلا گیا وہ دوبارہ بیڈ پر بیٹھتا ہوا مہرماہ کے آنسو صاف کرتا ہوا بولا
شاید مہرماہ اس کا اس طرح اپنے پاس سے اٹھنا محسوس کرچکی تھی محب کو لگا اسے پہلے مہرماہ کو اپنائیت کا کچھ احساس دلانا چاہیے تھا پھر اٹھنا چاہیے تھا لڑکیاں تو ہوتی بھی حساس ہیں اپنی اگنورنس کو بہت زیادہ محسوس کرتی ہیں
محب نے سوچتے ہوۓ مہرماہ کا چہرے اپنے ہاتھوں میں تھام کر اس کے ہونٹوں پر استحقاق بھری مہر لگائی۔۔۔ محب کے اس اقدام پر روتی ہوئی مہرماہ کے چاروں طباق روشن ہوگئے۔۔۔ جب محب پیچھے ہوا تو مہرماہ بالکل ساکت تھی اس کی انکھیں بھی پوری کھلی ہوئی تھیں
“اینی پرابلم،، کیا آپ کمفرٹیبل ہیں مہر”
کیا اس نے کچھ غلط کیا تھا مہرماہ کے تاثرات دیکھ کر محب سمجھ نہیں پایا وہ مہرماہ کا چہرہ دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا
“جی مجھے کس سے گھبراہٹ ہورہی تھی”
یہ ابھی کیا ہوا تھا اس کے ساتھ۔۔۔۔ مہرماہ کو ہچکیاں آنا شروع ہوگئیں وہ ہچکیوں کے دوران محب سے بولی محب نے جگ سے پانی نکال کر گلاس اسے تھمایا جسے مہرماہ ایک ہی گھونٹ میں غٹاغٹ چڑھا گئی
“کس سے مطلب؟؟؟ روم میں اور کون ہے کیا آپ کو مجھ سے گھبراہٹ ہورہی ہے”
محب اس کی بات سمجھ نہیں پایا تھا اس لئے کنفیوز ہوکر مہرماہ سے پوچھنے لگا
“آپ سے نہیں بلکہ آپ کے کِس کرنے سے،، ایسے ایک دوسرے کے منہ میں جرمس داخل ہوتے ہیں ناں”
محب کی قربت پر مہرماہ اتنا بوکھلا گئی تھی کہ وہ کیا بول گئی اسے خود سمجھ میں نہیں آیا لیکن مہرماہ کی بات سن کر محب کو ایسا کرنٹ لگا کے وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا
“جرمس یعنی جراثیم۔۔۔ یہ جراثیم کہاں سے آگئے بیچ میں او گاڈ”
محب بڑبڑاتا ہوا بولا وہ آگے کیا سوچتا اسے تو مہرماہ کے خیالات سے خوف آنے لگا،، وہ شاید پاگل ہونے کو تھا
“سوری سر مطلب محب آپ نے مائنڈ تو نہیں کیا ایسے میں نے سوچا کہ اتنا کلوز ہونے سے جراثیم ایک دوسرے کے اندر ٹرانسفر ہوتے ہیں تو میرے منہ سے نکل گیا۔۔۔ لیکن ہسبنڈ وائف تو کلوز ہوتے ہی ہی ایک دوسرے سے”
محب کو بیڈ سے اٹھتا دیکھ کر اور اس کی شکل دیکھ کر مہرماہ دوبارہ ڈر کر وضاحت دیتی ہوئی بولی
“جائیے آپ چینج کر آئیے،، اب ہم دونوں کو سونا چاہیے رات کافی ہوچکی ہے”
محب مہرماہ کی سوچ جان کر صدمے کی کیفیت میں اتنا ہی بول سکا تو مہرماہ شرمندہ ہوتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کر اپنا ڈریس چینج کرنے چلی گئی
