Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 8)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 8)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“کاش کہ مہرماہ تیری زندگی میں کوئی ہیرو ہوتا تجھ سے محبت کرنے والا، اس کھڑوس انسان کے رشتے کو تو پھر میں کبھی قبول نہ کرتی ہاۓ ری میری قسمت کسی نے بھی مجھ معصوم کو گھاس نہ ڈالی اور جس نے ڈالی اس کی صرف شکل ہیرو جیسی ہے،، عادتیں تو پوری ولن والی ہیں معلوم نہیں انہیں ہنسنا آتا بھی ہے یا پھر ایسے ہی بےذار شکل بناۓ رکھتے ہیں”
مہرماہ اپنے موبائل میں محب کی تصویر دیکھتی ہوئی سوچ رہی تھی یہ تصویر اس نے بہت مہارت اور خفیہ طریقے سے آفس میں اتاری تھی جب محب بزی تھا۔۔۔ اس وقت وہ اپنے کمرے میں بیٹھی خود کو یقین دلارہی تھی کہ اس شخص سے اس کی شادی ہونے والی تھی
“کیسے ہوگی مجھے ان سے محبت، انہیں دیکھ کر تو نہ زبان کنٹرول میں رہتی ہے بلکے ہر وہ الٹا کام بھی ہوجاتا ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ اور یہ خود بھی معلوم نہیں انہیں پیار ویار کرنا آتا بھی ہے یا پھر شادی کے بعد بھی یہ میری جان خشک کر کے رکھے گیں۔۔۔ ہائے اللہ شادی کے بعد کوئی فلموں جیسا سین بھی میری زندگی میں آۓ گا کہ نہیں”
مہرماہ ٹھنڈی آہ بھر کر محب کی تصویر کو دیکھ کر شادی کے بعد والی زندگی کا سوچنے لگی ناجانے کیا دماغ میں خلل آیا موبائل میں رومینٹک ویڈیوز سرچ کرکے دیکھنے لگی
ایک ویڈیو میں دھواں دار طریقے سے فرنچ کِس کا سین چلنے لگا۔۔۔۔ “یخ تھو یہ کون سا پیار کرنے کا انداز ہے کہ بندہ دوسرے بندے کہ منہ میں ہی گھس جاۓ۔۔۔ دفعہ کرو اسے تو”
ایسی جاراثیموں والی محبت نہیں چاہیے بھئی”
مہرماہ دوسری ویڈیو دیکھنے لگی جس میں ہینڈسم سا لڑکا ایک خوبصورت سی لڑکی کو باہوں میں لئے کھڑا تھا
“چلو یہ دونوں کچھ معقول نظر آرہے ہیں۔۔۔ مگر اس میں بھی ایک مسئلہ ہے اگر جھپی پانے کے بعد دوسرے بندے کے پاس سے پسینے کی بو آنے لگے۔۔۔ آۓ ہاۓ ابھی سے دل خراب ہورہا ہے مجھے تو پھر الٹی آجانی ہے، ویسے سر محب بدبو دار انسان لگتے تو نہیں ہیں،، مگر یہ بھی جھپی ڈالنے کے بعد ہی معلوم ہوگا۔۔۔ یااللہ میں کیا سوچ رہی ہو توبہ توبہ ہٹاؤ اس ویڈیو کو بھی”
مہرماہ توبہ کرتی ہوئی تیسری ویڈیو دیکھنے لگی، جس میں ایک چھچھورا سا مرد بغیر شرٹ کے اپنی باڈی کی نمائش کرتا ہوا اپنے پاس لیٹی ہوئی لڑکی کے بازو پر ہاتھ پھیرتا ہوا اپنا ہاتھ اس کی پیٹ پر پھیر رہا تھا
“کیا آفت مچی ہوئی ہے اس آدمی کو،، اور اس لڑکی کو دیکھو کیسے مچل رہی ہے جیسے قمیض میں کوئی کیڑا کُھس گیا ہو۔۔۔ حد ہوتی ہے یہ سب کرنے سے کیا ہوتا ہے بھلا”
مہرماہ بھڑبھڑاتی ہوئی دوسری ویڈو اسٹارٹ کرنے سے پہلے ایڈلٹ کا لوگو دیکھنے لگی
“کیا کروں دیکھو، نہیں دیکھو۔۔۔ چل دیکھ لے مہرماہ تجھے یہ سب دیکھتے ہوۓ کون دیکھ رہا ہے”
دل ہی دل میں بولتی ہوئی وہ ویڈیو دیکھنے لگی
“اُوئی اللہ جی یہ کیا ہورہا ہے۔۔۔ چھوڑ دے بدتمیز اس لڑکی کو، کوئی تو بچاؤ اس بچاری کو۔۔۔ چلو جی یہ تو گئی”
ویڈیو بند کرنے کے ساتھ ہی مہرماہ کو ہچکیاں لگ گئی مگر جیسے ہی اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ستارہ اندر آئی مہرماہ نے ایسے ڈر کے مارے اپنا موبائل دور پھینکا جیسے اس کی چوری ہی نہ پکڑی جاۓ، اس کی ہچکیاں اب بھی جاری تھیں
“مہرو کہا ہوا تمہیں بیٹا اپنا موبائل کیوں پھنک دیا تم نے”
اس کا رنگ فق دیکھ کر ستارہ اس سے سوال کرنے لگی لیکن جب مہرماہ کے ہونٹ استغفار کہنے کے لیے ہلے تو ستارہ کو تشویش ہوئی
“کیا دیکھ رہی تھی تم موبائل میں”
ستارہ مشکوک نظروں سے مہرماہ کا گھبرایا ہوا چہرا دیکھ کر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھکر مہرماہ سے پوچھنے لگی
“کک۔۔۔ کیا دیکھ دیکھ رہی تھی میں۔۔۔ کک کچھ بھی تو نہیں آنٹی”
وہ ہکلاتی ہوئی ستارہ کو دیکھ کر بولی پھر جھوٹ بولنے پر اس سے نظریں چرا گئی
“مہرو میں کیا پوچھ رہی ہوں تم سے یہاں میری طرف دیکھ کر مجھے سچ بتاؤ”
ستارہ نے اب کی بار مہرماہ سے سختی سے پوچھا، اس نے بچپن سے ہی رومان اور مہرماہ پر سخت نظر رکھی تھی ٹی وی پر کارٹون کے علاوہ ان کو ٹی وی دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔۔۔ لیکن اب دور بدل چکا تھا ہر انسان کا موبائل استعمال کرنا عام سی بات تھی وہ آخر کب تک ایسی چیزوں سے بچوں کو بچاکر رکھتی۔۔۔ پھر رومان اور مہرماہ بھی تو بچے نہیں رہے تھے اب بڑے ہوچکے تھے
“آنٹی کیا ہے بھئی ایک تو آپ میری شادی کروا رہی، اوپر سے چاہتی ہیں میں ساری زندگی بچی بنی رہو میری دوستیں ابھی تک میرا ریکارڈ لگاتی ہیں”
وہ ستارہ سے جھوٹ نہیں بول سکتی تھی اس لیے خفا ہوکر ستارہ سے کہنے لگی۔۔۔ ستارہ اور فراز دونوں نے بچپن سے اسے اور رومان کو نظروں میں رکھا ہوا تھا، وہ دونوں ٹی وی پر صرف کارٹون دیکھتے مگر کبھی کبھی ستارہ اور فراز کی غیر موجودگی میں وہ دونوں کوئی فلم وغیرہ بھی دیکھ لیتے مگر جب مہرماہ کو سمجھ بوجھ آنے لگی تب اسے احساس ہوا فلمیں بھائی کے ساتھ نہیں اکیلے میں دیکھنا چاہیے اس سے انسان اچانک اٹھانے والی شرمندگی سے بچ جاتا ہے
“تمہیں شادی کا مطلب معلوم ہے مہرو۔۔۔اچھا ناراض کیوں ہورہی ہو یہاں دیکھو میری طرف میں سمجھاتی ہوں”
ستارہ کو اس وقت واقعی اس کی فکر ہو چلی تھی کیوکہ عام لڑکیوں کی بانسبت مہرماہ تھوڑی سیدھی تھی عقل والی بات کو وہ کافی دیر سے سمجھتی
“کیا سمجھانے والی ہیں آپ مجھے،، میں کوئی بےوقوف تھوڑی ہو سب پتہ ہے مجھے”
ناجانے شادی سے متعلق ستارہ اس کو کیا سمجھانے والی تھی مہرماہ کو عجیب لگا جبھی وہ فوراً بولی جس پر ستارہ نے اس کے سر پر چپت رسید کی
“معلوم ہے مجھے اتنی سیدھی بھی نہیں ہو تم لیکن جو میں تمہیں سمجھارہی ہوں اسے غور سے سنو۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ تمہاری شادی میرے بیٹے سے ہونے والی ہے جبھی میں تمہیں ایسا بول رہی ہوں اگر محب کی جگہ تمہاری شادی کسی دوسرے سے ہوتی میں تمہیں تب بھی اسی طرح سمجھاتی کہ شادی کے بعد لڑکی کی زندگی اس کی اپنی نہیں رہتی، اس کا تعلق شوہر کی ذات سے بھی جڑ جاتا ہے۔۔۔ شادی کے بعد ہمیشہ اپنے شوہر کی بات کو اہمیت دینا چاہیے۔۔۔ تمہاری محب سے شادی کے بعد اسی کا تمہارے اوپر سب سے زیادہ حق ہوگا جو وہ کہے جیسے چاہے تم اس کی ہر جاہز بات کو تسلیم کرنا۔۔۔ جو غلطی ماضی میں مجھ سے ہوچکی ہیں میں ہرگز نہیں چاہو گی تم ان کو دہراؤ۔۔۔ اپنا اندر سے یہ لاؤبالی پن اب تمہیں ختم کرنا ہوگا اور طبعیت میں سنجیدگی لانا ہوگی،، شادی کے شروع میں تو لڑکی کی غلطیوں کو نظر انداز کردیا جاتا ہے مگر شادی صرف دو دن کا کھیل نہیں ہوتی عمر بھر ایک تعلق ہوتا ہے اپنی طبعیت میں تبدیلی لے آؤ بیٹا میں تمہیں اور محب کو کامیاب شادی شدہ زندگی گزارتے دیکھنا چاہتی ہو”
ستارہ مہرماہ کو سمجھارہی تھی اس کی اپنی طبعیت پر افسردگی چھانے لگی،، جبران کی باتوں کو دل کو لگاکر اس کو سزا دینے کے لیے، اس نے ہمیشہ کے لیے جبران سے قطعی تعلق کرلیا تھا مگر اسے حاصل کیا ہوا تھا وہ اب بھی کہاں خوش تھی۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف ستارہ کی باتیں سن کر مہرماہ کو شادی کے نام سے گھبراہٹ ہونے لگی ناجانے وہ اپنے اندر تبدیلی لا پاتی یا نہیں اگر شادی کے لیے اتنا سب کچھ کرنا پڑتا تو وہ بغیر شادی کے اچھی تھی
*****
آفس آئے ہوئے اسے دو گھنٹے گزر چکے تھے بار بار محب کی نظریں مہرماہ کی کرسی پر اٹھ رہی تھی جوکہ آج صبح سے خالی تھی بار بار اپنے ذہن کو جھٹکنے کے باوجود اس کی غیر موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے اس نے رضوان صاحب کو اپنے روم میں طلب کیا
“جی سر آپ نے بلایا”
رضوان صاحب جو کافی سینئر تھے محب کے کمرے میں آتے ہوئے محب سے پوچھنے لگے جس پر محب نے انہیں کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرنے کے بعد آفس کے کام کے حوالے سے اور کل کی میٹنگ کے حوالے معلومات لینا چاہی جس کے بعد رضوان صاحب کمرے سے باہر نکلنے لگے
“آج مس مہرماہ کا آفس نہیں آنا ہوا”
محب رضوان صاحب کی دی ہوئی فائل دیکھتا ہوا سرسری سا ان سے پوچھنے لگا
“او سوری سر میں آپ کو بتانا بھول گیا دراصل آج صبح میں مس مہرماہ کی کال آئی تھی اپنی آنٹی کی طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ آفس نہیں آسکی”
رضوان صاحب کی بات سن کر محب نے بنا کچھ بولے سر ہلایا مگر آف ٹائم میں وہ مہرماہ کا ایڈریس معلوم کرکے اس وقت مہرماہ کے فلیٹ کے دروازے پر کھڑا تھا
“سر آپ”
ڈور بیل کی آواز پر مہرماہ نے دروازہ کھولا تو سامنے محب کو کھڑا پایا جسے دیکھ کر وہ بری طرح چونکی
“جی مس مہرماہ میں۔۔۔ کیا میں اندر آسکتا ہوں”
محب مہرماہ کا چوکنا نوٹ کرکے اس سے اندر آنے کی اجازت مانگنے لگا
“جی جی کیوں نہیں سر پلیز آئیے ناں”
مہرماہ بوکھلا کر کہتی ہوئی پورا دروازہ کھول کر کھڑی ہوگئی مگر اس نے سائیڈ میں ہوکر محب کو اندر آنے کا راستہ نہیں دیا تھا وہ ابھی بھی محب کو دیکھ رہی تھی کیونکہ محب کا اس کے فلیٹ میں آنا مہرماہ کو حیرت میں مبتلا کرچکا تھا
“مس مہرماہ اگر آپ مجھے اندر آنے کا راستہ دیں گیں تو ہی میں فلیٹ کے اندر داخل ہوسکتا ہوں ورنہ ایسے تو ناممکن ہے”
محب کے احساس دلانے پر مہرماہ کو یاد آیا وہ اس کے آنے کے لیے دروازہ تو پورا کھول چکی تھی مگر ابھی تک اس کے راستے میں دیوار بنی کھڑی تھی
“سوری سر پلیز اندر آئیے آپ”
مہرماہ اپنی بےوقوفی پر سر پر ہاتھ مارتی ہوئی پیچھے ہٹی اور ڈرائینگ روم کی طرف محب کو اشارہ کرتی ہوئی بولی تو وہ ڈرائنگ روم میں آکر صوفے پر بیٹھ گیا، مہرماہ بھی اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گئی
“رضوان صاحب نے بتایا تھا کہ آپ کی آنٹی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے”
محب کو یونہی بیٹھنا فضول لگا تو وہ اپنے آنے کی وجہ خود ہی بتانے لگا
“جی سر گھر میں میرے علاوہ اور کوئی دوسرا نہیں جو آنٹی کی دیکھ بھال کرتا۔۔۔ ان کا ایک بیٹا ہے رومی مگر وہ ہمارے پاس نہیں ہوتا اپنی اسٹیڈیز کی وجہ سے ہوسٹل میں موجود ہے اس وجہ سے میرا افس نہیں آنا ہوسکا مگر میں نے کال کرکے رضوان صاحب کی انفرم کیا تھا”
مہرماہ محب کو دیکھتے ہوئے اسے اپنے آفس نہ آنے کی وجہ بتانے لگی اسے لگ رہا تھا اس کے افس نہ پہنچنے پر ہی محب یہاں چلا آیا تھا
“اور آپ کی اپنی فیملی وہ کہاں ہوتی ہے”
محب مہرماہ کو دیکھتا ہوا اس کی فیملی کے بارے میں پوچھنے لگا یوں تو آج تک اس نے آفس کے کسی ورکر سے ان کے متعلق ذاتی سوال نہیں پوچھے تھے مگر سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی اس کے لیے آفس ورکر یا امپلاۓ نہیں رہی تھی یہ اس کے جابی کی چوائس تھی اس لیے وہ اس لڑکی کے متعلق جاننے کا حق رکھتا تھا یہی وجہ تھی کہ وہ آفس کے بعد بناء ہچکچاۓ اس کے فلیٹ پر چلا آیا تھا
“میری فیملی میں صرف میرے فادر ہوتے تھے جن کی ڈیتھ سال بھر پہلے ہوچکی ہے، اور میری مدد کی ڈیتھ میرے بچپن میں ہوچکی تھی۔۔۔ اس لیے آنٹی اور رومی کے علاوہ میرا اس دنیا میں اور کوئی نہیں یہ دونوں ہی میری فیملی ہیں”
آج پہلی مرتبہ سامنے بیٹھی ہوئی یہ لڑکی محب کو اتنی سنجیدہ لگی تھی اپنے بارے میں بتاتی ہوئی شاید تھوڑی سی اداس بھی یہ بھی ہوسکتا تھا وہ اپنے فادر کا ذکر کرکے اداس ہوگئی تھی یا پھر اپنی انٹی کی طبعیت کی وجہ سے اداس تھی جسے وہ اپنی فیملی کہہ رہی تھی جو بھی تھا آج پہلی بار محب اس کو غور سے الگ انداز میں دیکھے گیا سمپل سے کپڑوں میں اور سادہ سے حلیے میں وہ اداس سی لڑکی محب کو اپنے دل کے قریب محسوس ہوئی
“آپ کو اس رشتے پر کوئی اعتراض تو نہیں مس مہرماہ”
ناجانے محب کے دل میں کیا سمائی تھی وہ اچانک سے مہرماہ سے پوچھ بیٹھا، جس پر مہرماہ چونک کر محب کو دیکھنے لگی جو بھی خاموشی سے اسی کی طرف دیکھتا ہوا اسی کے جواب کا انتظار کررہا تھا
“میں نے اپنی زندگی کے تمام فیصلوں کے اختیارات آنٹی کو بہت پہلے سے سونپ دیے تھے۔۔۔ کیوکہ انہوں نے سگی ماں کی طرح میری پرورش کی ہے اور انہیں آپ کے اور میرے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں ہے”
مہرماہ آئستہ آواز میں محب کو بتانے لگی شاید تھوڑی دیر پہلے ستارہ کی باتوں کا اثر تھا جو وہ اتنی سیریس ہوگئی تھی
“یعنی میں آپ سے امید لگاسکتا ہوں کہ آپ ایک اچھی بیٹی کی طرح آگے زندگی میں اچھی شریک حیات بھی ثابت ہوگیں”
محب کی بات سن کر مہرماہ نے بےساختہ اپنی پلکیں اٹھاکر اس کو دیکھا اسے محسوس ہوا جیسے محب مسکرایا ہو مگر وہ اس کی بات پر جواب دینا تو دور مسکرا بھی نہیں سکی
“مہرو کون آیا ہے”
اندر کمرے سے آتی نسوانی آواز پر محب ایک دم چونک پر مہرماہ کو دیکھنے لگا مہرماہ ایک نظر محب کو دیکھ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھوڑی دیر بعد مہرماہ کی بجائے ایک خاتون کمرے میں داخل ہوئی جس کا نہ صرف چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا بلکہ انہوں نے بڑی سی چادر میں خود کو اچھی طرح چھپایا ہوا تھا۔۔۔ ستارہ کو کمرے میں آتا ہوا دیکھ کر محب احتراما کھڑا ہوگیا۔۔۔ محب کے سلام کرنے پر ستارہ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی
“جیتے رہو صدا خوش رہو”
ستارہ نے اپنا لرزتا ہوا ہاتھ آگے بڑھایا جس میں لرزش واضح تھی،، اس وقت بولتے ہوئے ستارہ کی آواز بھی لڑکھڑا رہی تھی۔۔۔ محب نے ستارہ کی آنکھوں کو غور سے دیکھا،، وہ اپنا لرزتا ہوا ہاتھ محب کے سر پر رکھ کر اپنے جذبات پر قابو پاچکی تھی
“مجھے آپ کی طبیعت کے بارے میں معلوم ہو تو یہاں چلا آیا اب کیسی ہے آپ کی طبعیت”
وہ ابھی بھی ستارہ کی آنکھوں کو غور سے دیکھتا ہوا اس سے پوچھ رہا تھا ناجانے ان خاتون کی آنکھوں میں کیا کشش تھی کہ وہ چاہ کر بھی ان آنکھوں سے نظریں نہیں ہٹا پارہا تھا لگا۔۔۔ آخر کیو ان آنکھیں میں اس کو اپنے لیے اجنبی پن محسوس نہیں ہورہا تھا
“چند گھنٹے پہلے تک طبیعت ٹھیک نہیں تھی لیکن اب کافی آرام آچکا ہے آپ کا بہت بہت شکریہ بیٹا آپ اپنا قیمتی وقت نکال کر یہاں میرے لیے آۓ”
ستارہ نے بولتے ہوئے اپنی آنکھوں سے آنسوؤں کو چھلکنے نہیں دیا تھا وہ اپنے لہجے پر بھی قابو پاچکی تھی مگر بس اس کا دل تھا جو اپنی پہلی اور سب سے بڑی اولاد کو دیکھ کر اس کو سینے سے لگانے کے لئے بری طرح تڑپ اٹھا تھا
“آپ شکریہ مت بولیں بلکہ آپ مجھے اپنے بڑے بیٹے کی طرح سمجھیں آپ کو جب بھی میری ضرورت ہوگی آپ بلاجھجھک مجھے فون کرئیے گا میں آپ کے پاس حاضر ہوجاؤں گا”
محب کو سمجھ میں نہیں آیا سامنے موجود خاتون کو پہلی بار دیکھ کر اس طرح کیسے یہ الفاظ اس کے منہ سے ادا ہوگئے تھے اس کی تو نیچر میں کسی غیر کے لیے بےتکلفی کا شائبہ تک نہیں ہوتا تھا۔۔۔ ان خاتون میں ایسی کونسی کشش تھی جس کی وجہ سے وہ یہ سب کہہ گیا محب خود نہیں سمجھ پایا
محب کی بات سن کر ستارہ کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی مگر شکر تھا بروقت کمرے میں مہرماہ آگئی اور محب ایک لمحے کے لیے مہرماہ کی طرف متوجہ ہوا جس کا فائدہ اٹھاتی ہوئی ستارہ آنسو چھپانے کے غرض سے کمرے سے باہر نکل گئی
******
دو ماہ کا وقت کیسے پر لگا کر اڑ گیا اس کا بالکل اندازہ نہیں ہوا ان دو ماہ کے اندر محب اور مہرماہ کی شادی کی ڈیٹ فکس کی جاچکی تھی ستارہ کے نقاب کرنے کی وجہ سے سارے معاملات زیادہ تر موبائل فون پر ہی طے ہوگئے تھے مشکل سے ایک بار ہی عالم ہاؤس کے تمام افراد ستارہ کے گھر ڈنر پر آئے تھے جس پر ستارہ نے کافی احتیاط سے کام لیا تھا یہاں تک کہ اس کا چہرہ صوفیہ تک نہیں دیکھ پائی تھی
محب مہرماہ کو آفس آنے کے لیے منع کرچکا تھا اس نے مہرماہ پر اپنے تمام خیالات کا اظہار تو نہیں کیا تھا مگر اتنا ضرور بتایا تھا کہ وہ شادی کے بعد مہرماہ سے جاب کروانے کا ارادہ نہیں رکھتا
اس دوماہ کے عرصے میں ستارہ سے جتنا ہوسکا تھا اس نے مہرماہ کو سمجھاکر ٹوک کر تھوڑا ڈانٹ ڈپٹ سے اس کی عادتوں میں کافی چینجنگ لانے کی کوشش کی تھی اب یہ شادی کے بعد معلوم ہوتا ستارہ اپنی کوشش میں کس قدر کامیاب ہوئی تھی
جبکہ دوسری طرف دو ماہ پہلے مغیث اور اس کے دونوں دوستوں کو اپنی مشکوک سرگرمیوں کو وقتی طور پر چھوڑنا پڑا وجہ یہی تھی کہ علاقے میں نئے ایس ایچ او کے تبادلے کی وجہ سے ان تینوں کا نام اس لسٹ میں شامل ہوچکا تھا جن کو مشکوک ٹھہرایا جارہا تھا کہیں نہ کہیں ان تینوں کو اندازہ تھا کہ ان پر خفیہ طور پر نظر بھی رکھی جارہی تھی اس لیے دو ماہ سے وہ تینوں ہی آپس میں ملنا جلنا ختم کرچکے تھے مغیث نے ان دو ماہ میں باقاعدگی سے آفس جانا شروع کردیا تھا جس پر جبران خوش تھا۔۔۔۔ اس دن صوفیہ کے سامنے اپنی محبت کا اعتراف کرنے کے بعد سے مغیث نے دوبارہ اپنے اوپر اجنبیت اور لاتعلقی کا خول چڑھالیا تھا۔۔۔ جذبات کی رو میں بہک کر اپنی محبت کا اظہار کرکے جو غلطی وہ ایک بار صوفیہ کے سامنے کرچکا تھا وہ اسے اب دوبارہ نہیں دوہرانا چاہتا تھا اس لیے وہ صوفیہ کی طرف دیکھنے سے بھی گریز کرنے لگا تھا۔۔۔ ان دو ماہ میں وہ خود پر سلف کنٹرول رکھے ہوئے تھا نہ ہی وہ اپنی ذات کو صوفیہ کا ایڈک بنانا چاہتا تھا نہ ہی وہ خود کو ڈرگز کا ایڈک بنا پارہا تھا مگر جب دونوں کی طلب حد سے زیادہ بڑھنے لگتی تو وہ کبھی کھبار ڈرگز کا انتخاب کرتے ہوئے خود کو چند گھنٹوں کے لئے دنیا سے غافل کرلیتا
اور بچی صوفیہ تو ان دو ماہ میں اس کی شخصیت میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی تھی وہ پہلے کی طرح لاوبالی اور شوخ طبعیت کی مالک تھی۔۔۔ اسے نہ تو مغیث کے ڈانٹنے کا خوف آتا ہے نہ ہی وہ اس کے رویے کو خاطر میں لاتی اس کا جب دل چاہتا وہ مغیث کو ویسے ہی اسے چڑاتی اور تنگ کرتی لیکن محب کی شادی اور اپنی اسٹڈیز کی وجہ سے وہ تھوڑی بہت مصروف ضرور ہوچکی تھی آج کل اس کی ساری توجہ کا مرکز صرف اور صرف محب اور مہرماہ کی شادی تھی
“مجھے تو آخر یہ سمجھ میں نہیں آتا پورے گھر کی ذمہ داری مجھ اکیلی پر کیوں آجاتی ہے آخر یہ عالم ہاؤس کے سارے مرد مجھے سمجھتے کیا ہیں۔۔۔ کوئی بڈھی کھوسٹ عورت ہوں میں اس گھر کی جو ہر چیز کا دھیان رکھو،،، جابی کو کس ایونٹ میں کونسا ڈریس پہنا ہے یہ سلیکٹ کرنا میری ذمہ داری، کونسے فنکشن میں کھانے کے کیا آئیٹمز رکھنے ہیں ان کو چوز کرنا بھی میری ذمہ داری، مہرماہ بھابھی کی ساری شاپنگ اور ان کے لیے پارلر سلیکٹ کرنے سے لےکر پالر میں اپوائنٹمنٹ لینا میری ذمہ داری، محب بھائی کے پورے روم کو ڈیکوریٹ کروانا میری ذمہ داری مجھ ننھی سی جان پر آخر کسی کو ترس آئے گا بھی کہ نہیں”
آج محب کی برات کا فنکشن تھا صوفیہ تیار ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل بڑبڑاۓ جارہی تھی جبھی موحد اس کے کمرے میں آتا ہوا بولا
“یہ ساری کی ساری فضول کی ذمہ داریاں تھی میڈم جو تم نے خود اپنے سر پر لی ہیں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے جابی سے تم نے خود ہی لاڈ میں آکر کہا تھا کہ ہر فنکشن میں وہ تمہارا پسند کیا ہوا ڈریس پہنے گے۔۔۔ مایوں مہندی ڈھولکی ولیمے میں تم نے اپنی مرضی سے ضد کروا کر اپنی من پسند کھانے کے ایٹم رکھوائیں،، ساری فضول قسم کی رسمیں جن کا کوئی سر پیر نہیں تھا وہ تمہاری ضد کرنے پر پوری کی گئی، بھابھی کی بری سے لےکر شاپنگ تک اور ان کے روم کو ڈیکوریٹ کرانے تک جس طرح تم نے محب بھائی کی جیب ہلکی کروائی ہے وہ منہ پر تو تمہیں کچھ نہیں بول رہے مگر دل ہی دل میں وہ تم سے ضرور پناہ مانگ رہے ہوگے۔۔۔ اچھا خاصہ سب کا مشورہ تھا کہ سادگی اپناکر دلہن کو عالم ہاؤس میں لے آئیں گے مگر تمہیں تو ہر جگہ اپنا شوخی پن دکھانا ہے”
موحد کی زبانی اپنے کارنامے سن کر صوفیہ ڈھیٹ بن کر مسکرانے لگی
“کیوں سادگی اپنا کر دلہن کو عالم ہاؤس میں لایا جاتا یہ ہمارے گھر کی پہلی شادی ہے اس کی ہر تقریب شاندار ہونی چاہیے تھی اور یہ کیا خرچوں کا ذکر کرکے مجھے شرمندہ کررہے ہو تم بدتمیز انسان،، کون سا شادی کرنے کے لئے محب بھائی کو کوئی قرضہ لینا پڑا ہے جو بعد میں وہ کمیٹیاں ڈال کر وہ اتاریں گیں، ذرا جاکر ان کا بیڈروم دیکھو کس قدر زبردست ڈیکوریٹ کروایا ہے میں نے، قسم سے موحد اگر تم نے میری بارات والے دن مغیث عالم کا بیڈ روم اچھا سا ڈیکوریٹ نہیں کروایا تو میں دلہن کے روپ میں چڑیل بن کر تمہارا خون پی جاؤ گی سچی”
صوفیہ جذباتی ہوکر بولی تو موحد اسے گھور کر دیکھنے لگا
“چھچھوری خاتون زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے شرم کے ساتھ ساتھ تھوڑا صبر بھی کرلو اور باہر نکلو اپنے کمرے سے جابی اور محب بھائی کب کے تیار ہوگئے ہیں اور باہر کار میں تمہارا ویٹ کررہے ہیں”
موحد جس کام کے لیے صوفیہ کے کمرے میں آیا تھا اس کو بولنے لگا کیوکہ وہ مکمل تیار کھڑی تھی
“جابی اور محب بھائی کے ساتھ تم بینکوئیت میں پہنچوں میں ذرا جاکر اپنے پرنس کو دیکھ لو،، آج صوفیہ وہاں اپنے پرنس کے ساتھ ہی انٹری دے گی”
صوفیہ موحد سے اترا کر بولتی ہوئی اپنے کمرے سے باہر نکل گئی
*****
“او گاڈ آپ کو کیا ضرورت ہے آج کے دن اتنا ہاٹ اور ہینڈسم لگنے کی اب گیسٹ کی طرف سے میرا دھیان بار بار آپ کی طرف جاۓ گا”
صوفیہ نے مغیث کے کمرے کا دروازہ کھولتے ہی اپنے انداز میں مغیث کی تعریف کی۔۔ وہ بلیک کلر کی شیروانی کرتے میں آئینے کے سامنے تیار کھڑا خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا۔۔۔ صوفیہ کو اپنی جانب مسکراتا کر آتا دیکھ کر بناء کسی تاثر کے اپنی کلائی پر رسٹ واچ باندھنے لگا
“میں نے تو دل کھول کر آپ کی تعریف کردی ہے کیا میں اس قابل بھی نہیں کہ آپ ایک نظر میری طرف دیکھ بھی لیں”
صوفیہ مغیث سے اس کی لاتعلقی کا شکوہ کرتی ہوئی بولی
“اپنی تعریف سننے کا زیادہ شوق چڑھا ہوا ہے تو جابی محب اور موحد سے بول دو وہ تمہاری تعریفوں کے پل باندھ دیں گے میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
وہ جانتا تھا ٹی پنگ کلر کے غرارے میں لوز کرل ہوۓ کھلے بالوں میں وہ غضب ڈھارہی تھی ایک نظر میں ہی مغیث اس کا جائزہ تبھی لے چکا تھا جب وہ دروازہ کھول کر اس کے کمرے میں آئی تھی لیکن وہ تعریفی کلمات منہ سے ادا کر کے کبھی بھی لفظوں زحمت نہیں دے گا ایسا مغیث نے سوچ رکھا تھا
“جابی، محب بھائی یا موحد کے لیے نہیں آج میں آپ کے لئے تیار ہوئی ہوں تاکہ مجھے دیکھ کر بھولے سے آپ کو بھی ہماری شادی کا خیال آجائے” صوفیہ منہ بناتی ہوئی بولی جس پر مغیث ٹھٹھک کر اسے دیکھنے لگا
“شادی۔۔۔ اور مجھ سے۔۔۔۔ کیا کرنا ہے تمہیں مجھ سے شادی کر کے”
مغیث صوفیہ کا چہرہ دیکھ کر سنجیدہ تاثرات اپنے چہرے پر سجائے اس سے پوچھنے لگا
“کیا کرتے ہیں سب لوگ شادی کرکے آپ کو نہیں معلوم”
وہ شرارت بھرے انداز میں مسکراتی ہوئی مغیث کو دیکھ کر الٹا اس سے پوچھنے لگی
“نہیں مجھے نہیں معلوم شادی کے بعد کے چونچلے۔۔۔ لیکن آج میں تم سے ضرور جاننا چاہوں گا کہ کیوں کرنا چاہتی ہو تم مجھ سے شادی”
مغیث صوفیہ کی جانب بڑھ کر مزید فاصلہ کم کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا آج شاید وہ ارادہ کرچکا تھا اس کی بےباک طبعیت ٹھیک کرنے کا
“معلوم تو ہے آپ کو پہلے بھی کتنی بار بتاچکی ہوں۔۔۔ اچھے لگتے ہیں آپ مجھے،، میرا دل کرتا ہے کہ آپ کا چہرہ ہر وقت میری نظروں کے سامنے رہے، بہت قریب سے آپ کے چہرے کو دیکھتی رہوں۔۔۔ آپ کی ان آنکھوں کو چھوکر محسوس کرو لیکن مکمل حقوق اور اختیارات حاصل کرنے کے بعد۔۔۔۔ میرا دل چاہتا ہے آپ بھی مجھ سے محبت جتاۓ، مجھے کھل کر بتائیں کہ آپ بھی مجھے کتنا چاہتے ہیں اور یہ سب جبھی ممکن ہے جب آپکی اور میری شادی ہوجاۓ گی”
صوفیہ نے صحیح معنوں میں مغیث کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا اتنے واضح لفظوں میں اس نے سب کچھ بول دیا کہ مغیث ایک پل کے لئے بالکل خاموش ہوگیا اور صوفیہ کو دیکھنے لگا
“محبت اور شادی جیسے خلل کو اپنے دل و دماغ سے نکال دو صوفی۔۔۔۔ اور یہ بات اپنے دماغ میں اچھی طرح بٹھالو کہ ہم دونوں کی شادی نہیں ہوسکتی”
مغیث اپنے اوپر بےحسی کا خول چڑھاتا ہوا آرام سے بولا اور کمرے سے باہر جانے لگا تو صوفیہ اس کی بات سن کر ایک پل کےلیے سناٹے میں آگئی
“شادی نہیں ہوسکتی مطلب کیا ہے آپ کے یہ کہنے کا۔۔۔ اتنی بڑی بات کیسے بول دی آپ نے مغیث عالم کیوں نہیں ہوسکتی ہم دونوں کی شادی”
وہ ایک دم ہوش میں آتی ہوئی مغیث کے سامنے آکر اس کا راستہ روکتی ہوئی پوچھنے لگی
“کیونکہ میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا”
مغیث صوفیہ کا دھواں دھواں چہرہ دیکھتا ہوا ایک ایک لفظ جتاتا ہوا بولا
“کیوں نہیں کرنا چاہتے آپ مجھ سے شادی وجہ بتائیں جواب دیں مجھے”
صوفیہ غصے میں چیختی ہوئی بولی اس سے پہلے وہ جذبات میں آکر مغیث کا گریبان پکڑتی مغیث نے اس کی چوڑیوں سے بھری دونوں کلائیوں کو مضبوطی سے پکڑا
“بی ہیو یور سیلف گاڑی میں جاکر بیٹھو یہ کوئی وقت نہیں ہے ان باتوں کا وہاں سب ہمارے پہنچنے کا ویٹ کررہے ہیں”
مغیث بات کو یہی ختم کرنا چاہا کیوکہ وہ نہیں چاہتا تھا اس وقت اس کے اور صوفیہ کے درمیان اس ٹاپک کو لےکر مزید بحث بنے۔۔۔ موحد اسے میسج میں سب کے نکلنے کا بتاچکا تھا اور اسے آگاہ کرچکا تھا کہ وہ صوفیہ کو لےکر جلد پہنچے
“نہیں یہی وقت ہے ساری بات کلیئر کرنے کا، پہلے آپ مجھے شادی نہ کرنے کی وجہ بتائیں گے تب ہی ہم دونوں میں سے کوئی اس کمرے سے باہر جائے گا”
ضبط کرنے کے باوجود اس کی آنکھوں کی نمی گالوں پر اترنے لگی ہے۔۔۔ صوفیہ کے ضدی انداز پر مغیث اسے غصے کی بجائے بےبسی سے دیکھنے لگا
“اوکے کرلینا مجھ سے شادی، لیکن اس وقت تو چلو سب ویٹ کررہے ہوگیں ہمارا”
مغیث اپنی جیب میں سے رومال نکال کر صوفیہ کے آنسو پہنچتا ہوا تحمل سے بولا وہ اس وقت اس کا میک اپ اور شادی کا فنکشن برباد نہیں کرنا چاہتا تھا کیوکہ وہ محب کی شادی کو لےکر بہت خوش تھی اس افسوس ہونے لگا اس وقت یہ بحث چھیڑ کر
“اگر آپ مجھے بہلانے کے غرض سے ایسا بول رہے ہیں تو یاد رکھیئے گا مغیث عالم اگر آپ اپنی بات سے پلٹے تو پھر دیکھیے گا میں کیا کرتی ہوں آپ کے ساتھ”
صوفیہ بولتی ہوئی مغیث کے کمرے سے باہر چلی گئی
