Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 27)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 27)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“ہمارے درمیان جو بھی کچھ ہوا نہیں ہونا چاہیے تھا، مجھے اس کا بہت افسوس ہے مانا کہ اس دن میں نے غصے میں غلط کیا لیکن تم نے بھی گھر اور مجھے چھوڑ کر حساب کتاب برابر کردیا اس لیے اب میں تمہیں واپس لینے کے لئے آیا ہوں”
مغیث نے گھر کے پاس گاڑی روک کر جو لفظ ادا کیے صوفیہ اسے دیکھنے لگی وہ اسے واپس اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا جیسے اب آگے جو بھی ہوگا سب اس کی سے مرضی سے ہی ہوگا
“حساب کتاب ایسے برابر نہیں ہوگا مغیث عالم آپ کو اپنی لائف، جیسے آپ اپنی مرضی سے گزارنا چاہتے ہیں اس لائف اسٹائل اور مجھ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا”
صوفیہ اس کا بکھرا سا حلیہ دیکھ کر بولی اگر وہ اپنے عمل پر واقعی پچھتارہا تھا تو پھر اسے بہت کچھ چھوڑ کر اس کی طرف بڑھنا چاہیے تھا ورنہ وہ سب کچھ دوبارہ ہوتا اور ہر بار ہوتا۔۔۔۔ اور صوفیہ کے ساتھ باقی سب افراد بھی اس کے منتظر تھے مگر گاڑی میں بیٹھے ہوئے مغیث کو اس کی بات پسند نہیں آئی وہ بگڑے ہوئے تاثرات کے ساتھ صوفیہ کو دیکھ کر بولا
“میں نے پہلے بھی تم سے کہا تھا صوفیہ اس معاملے سے دور رہو میں باہر کیا کرتا ہوں کیا نہیں یہ تمہارا مسئلہ نہیں اس لیے تمہیں اس بات سے فرق نہیں پڑنا چاہیے”
مغیث کو اس کی منطق سن کر نئے سرے صوفیہ پر غصہ آنے لگا۔۔۔۔ رشتہ بنانے اور نبھانے میں اگر وہ پہل کررہا تھا تب اسے اپنے شوہر کی قدر کرنا چاہیے تھی مگر وہ اس کے سامنے چوائس رکھ رہی تھی
“کیوں فرق نہیں پڑنا چاہیے مغیث عالم مجھے، فرق پڑتا ہے مجھے کیوکہ میں آپ کی بیوی ہوں ہمارے دونوں کے ایک ہونے کے بعد آپ کی ذات مجھ سے وابستہ ہوچکی ہے۔۔ اور آپ کا غلط یا اچھا قدم ہم دونوں کی زندگی پر اثر انداز ہوگا آپ کو غلط راستے پر چلتا ہوا دیکھ کر میرا خاموشی سے آپ کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہے، آپ کو یہ سب کچھ چھوڑنا پڑے گا مغیث میری خاطر نہ سہی اپنی فیملی کی خاطر پلیز آپ مجھ سے نہ سہی اپنی فیملی سے محبت کا ثبوت دیں چھوڑ دیں یہ سارے غلط کام”
صوفیہ کے بولتے ہی مغیث نے سختی سے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ اس کی گرفت پر بری طرح کراہ کر رہ گئی تکلیف کے آثار اس کے چہرے پر واضح ہوئے جسے مغیث نظر انداز کیے صوفیہ سے بولا
“اور تمہاری مجھ سے محبت کہاں گئی صوفیہ جس کا دعوی تم صبح شام میرے سامنے کیا کرتی تھی، اب ثبوت مجھے نہیں تمہیں دینا ہوگا اپنی محبت کا بلکہ تم ہی دوگی آج۔۔۔ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو ابھی اسی وقت گاڑی سے اترو اور میرے ساتھ چلو۔۔۔ نہیں تو پھر یاد رکھنا اگر آج تم نے میرا ساتھ نہیں دیا تو آگے زندگی میں مجھ سے توقع نہیں رکھنا کہ میں تمہیں اپنے ساتھ رکھوں گا”
مغیث ایک ایک لفظ چباکر بولا تو صوفیہ اس کو دیکھتی رہ گئی
“میں آپ سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں مغیث عالم لیکن میری محبت اور آپ کی محبت میں بہت فرق ہے آپ محبت کے پیچھے اپنی انٹرٹینمنٹ کو نہیں چھوڑ سکتے جو آپ کو صرف تباہی کے راستہ پر لے جائے گی اور میں اپنی محبت کی خاطر اپنی فیملی کو نہیں چھوڑ سکتی” صوفیہ نم آنکھوں سے مغیث کو دیکھ کر بولی
“گیٹ لاسٹ دفع ہوجاؤ یہاں سے”
مغیث کے بری طرح دھاڑنے پر وہ گاڑی سے اتر گئی مغیث کی سرخ آنکھوں نے تب تک اس کا پیچھا کیا جب تک وہ ٹیکسی میں نہیں بیٹھ گئی
“تو ایک کے بعد دوسرا گلاس چھڑھائے جارہا ہے ابھی جو کام ہمیں انجام دینا ہے اس کے لئے ہوش و حواس میں رہنا ضروری ہے میرے دوست”
تیسرے گلاس کے بعد شارف مغیث کو ٹوکتا ہوا بولا ویسے بھی آج پہلی بار وہ اس ذائقے سے روشناس ہوا تھا شارف کو لگا کہ وہ ہوش ہی نہ کھو بیٹھے اس لیے مغیث کو ٹوکتا ہوا بولا
“زندگی میں موجود کڑوی یادوں کو ذہن سے نکالنے کے لیے یہ سودا برا نہیں ویسے، لیکن اس کے استعمال سے میں ہوش و حواس سے بیگانہ ہوجاؤ ایسا ممکن نہیں یہ نادر کہاں مر گیا ہے آج آنا بھی ہے اس نے یا پھر نہیں” خالی گلاس ٹیبل پر رکھتا ہوا وہ شارف سے نادر کا پوچھنے لگا جو ابھی تک وہاں نہیں پہنچا تھا۔۔۔ وہ چاہتا تھا صوفیہ اس کے پاس رہے اسی وجہ سے وہ کل شام اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا تھا مگر صوفیہ اس کے ساتھ رہنے سے انکار کرچکی تھی اس کی محبت کا دم بھرنے کے باوجود اسے مغیث کی فکر نہیں تھی اس وجہ سے اسے کل سے ہی صوفیہ پر شدید غصہ آرہا تھا یہی وجہ تھی آج وہ ساری تلخی کو بھلانے کے لئے اس حرام شے کو منہ لگا بیٹھا تھا، مغیث کے بولنے پر شارف نادر کو کال ملانے چلا گیا، جبکہ مغیث اپنے موبائل پر جبران کا نمبر دیکھ کر خود سوچ میں پڑگیا کہ جبران نے اس کو کس وجہ سے کال ملائی کیا صوفیہ نے گھر جاکر سب کچھ بتایا تھا اسے نئے صوفیہ پر مزید غصہ آنے لگا
“کہاں ہو اس وقت”
مغیث کے سلام کے جواب میں جبران اس سے سوال کرنے لگا
“دوستوں کے پاس آیا ہوں سب خیریت ہے ناں جابی”
مغیث اپنا لہجہ نارمل کرتا ہوا جبران سے پوچھنے لگا
“اپنے ان دوستوں کو آگ میں جھونکو اور فوراً عالم ہاؤس پہنچو تمہاری ماں تمہیں یاد کررہی ہے”
جبران سخت لہجے میں اسے حکم دیتا ہوا بولا تو مغیث کو حیرت کا جھٹکا لگا
“مطلب آپ کو معلوم ہوگیا ماما کے بارے میں،، کیا آپ سچ میں انہیں اور رومان کو عالم ہاؤس لے آئیں”
مغیث بےیقین سا ہوکر کرسی سے آگے کی صرف سرکتا ہوا جبران سے پوچھنے لگا
“ہاں مجھے ستارہ کے بارے میں معلوم ہوگیا مگر میں یہ نہیں چاہتا ستارہ کو تمہارے کرتوتوں کے بارے میں کچھ بھی معلوم ہو اور اسے دکھ پہنچے یہی وجہ ہے میں تمہیں عالم ہاؤس واپس آنے کو کہہ رہا ہوں”
جبران کی کال رکھنے کے بعد اس کے تنے ہوئے اعصاب ڈھلے ہوئے جیسے اسے ذہنی سکون ملا ہو لگاتار تین دن کے بعد آج پہلی بار اسے کسی خبر کی اتنی زیادہ خوشی ہوئی تھی وہ واپس عالم ہاؤس جارہا تھا اپنے گھر جسے وہ بہت زیادہ مس کررہا تھا اس سے پہلے کہ وہ عالم ہاؤس جانے کے لیے نکلتا نادر اور شارف اس کو اپنی طرف آتے دکھائی دیے
*****
“سر آپ کا دیا ہوا پارسل اکرام تک پہنچا دیا ہے اور وعدے کے مطابق انہوں نے کیش کی صورت آپ کو رقم بھجوائی ہے، جو میں آپ کے بھیجے گئے ایڈریس پر لےکر پہنچنے والا ہوں”
جوزف کار ڈرائیو کرنے کے ساتھ موبائل پر اپنے باس زمان خان سے بات بھی کررہا تھا مطلوبہ پتے پر پہنچنے کے لیے اس نے احتیاطاً جس راستے کا انتخاب کیا تھا وہ بھی بھیڑ بھاڑ کی بجاۓ سنسان تھا مگر موبائل پر بات کے دوران اسے اندازہ نہیں ہوا کیا چیز اس کی گاڑی رکنے کی وجہ بنی، الرٹ ہونے کے باوجود اس سے بیوقوفی یہ ہوئی کہ وہ گاڑی سے نیچے اتر کر گاڑی کے ٹائرز کا جائزہ لینے لگا جن کو پلان کے مطابق برسٹ کرنے کے لیے باقاعدہ کیلوں کا سہارا لیا گیا تھا۔۔۔ لمحہ بھر لگا تھا اسے یہ سمجھنے کے لئے کہ گاڑی کو جان بوجھ کر روکا گیا ہے جتنی دیر میں وہ اپنے پاس موجود چھپی ہوئی پستول نکالتا اس سے زیادہ تیزی سے تین آدمی جو اپنے چہرے کو ماسک سے چھپائے ہوئے تھے اس کی طرف لپکے
“ہوشیاری نہیں اپنے ہاتھ اوپر اٹھالو فوراً”
شارف اس آدمی کی پھرتی دیکھ کر اسے وارن کرتا ہوا بولا جبکہ جوزف نے ان تینوں آدمیوں کے ہاتھ میں اسلحہ دیکھ کر اپنے دونوں ہاتھوں کو سرنڈر کرتے ہوئے اوپر کی طرف اٹھالیے
“جو میرے پاس موجود ہے میں تم لوگوں کو دے دیتا ہوں پلیز یہ ہتھیار نیچے کرو”
جوزف ان تینوں کو دیکھتا ہوا بولا
“جو تمہارے پاس موجود ہے وہ ہم لوگ خود تم سے چھین لیں گے تمہیں زیادہ اچھا بننے کی ضرورت نہیں ہے اس لیے اپنا منہ بند رکھو، تم اس کی تلاشی لو میں اس کی کار کی تلاشی لیتا ہوں”
مغیث پسٹل کا رخ جوزف کی طرف کئے شارف کو بولا، وہ جوزف کا بار بار گاڑی کی طرف دیکھنا نوٹ کرچکا تھا اس لیے اس کی گاڑی کی طرف بڑھا مغیث کو گاڑی کی طرف بڑھتا دیکھ کر جوزف ٹینشن میں آگیا۔۔۔ نادر اپنی پسٹل کا رخ جوزف کی طرف کئے اس کے چہرے پر پریشانی کے اثرات کو غور سے دیکھ رہا تھا اس سے پہلے مغیث گاڑی کھولتا شارف جوکہ جوزف کی تلاشی لینے کے غرص سے اس کے قریب آچکا تھا جوزف نے اچانک زوردار لات شارف کے پیٹ پر ماری جس سے مغیث کے ساتھ نادر بھی فوری طور پر چوکنا ہوا مگر جوزف کو پسٹل نکالتے دیکھ کر وہ تینوں حق دق رہ گئے ان تینوں میں سے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس آدمی کے پاس کوئی ہتھیار بھی ہوسکتا ہے
اس سے پہلے جوزف مغیث کی طرف اپنی پسٹل کا رخ کرتا نادر نے جوزف پر فائر کیا، جس کے نتیجے میں جوزف زخمی ہوکر نیچے گر پڑا۔۔۔ وہی مغیث اور شارف دونوں پریشان ہوگئے
“یہ کیا کیا تم نے نادر اس پر گولی چلانے کی کیا ضرورت تھی”
مغیث غصے میں نادر کی طرف بڑھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا، جبکہ شارف جو جوزف کی لات سے نیچے گرا تھا آٹھ کر فوراً جوزف کی طرف بڑھا اور اسے دیکھنے لگا
“اگر میں اس پر گولی نہیں چلاتا تو وہ باری باری ہم تینوں کو مار دیتا دیکھا نہیں تم نے اس کے پاس پستول موجود تھی”
نادر مغیث کو دیکھتا ہوا بولا لگا، مغیث اپنے بالوں میں انگلیاں پھنساۓ اس وقت کافی پریشان لگ رہا تھا۔۔۔ ایڈونچر کا اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ وہ کسی کو جانی نقصان پہنچاتے
“نہیں یار یہ بالکل ٹھیک نہیں ہوا ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا”
مغیث نفی میں سر ہلاتے ہوئے خود سے بولا تو شارف ان دونوں کے پاس آیا
“وہ بےہوش ہوا ہے مگر اس کی سانسیں چل رہی ہیں میرے خیال میں ہمیں اس کو اسپتال لے جانا چاہیے”
شارف خود گھبرایا ہوا لگ رہا تھا جو نادر اور مغیث کو دیکھتا ہوا بولا
“ہاں چلو”
مغیث نے جوزف پر نظر ڈالتے ہوئے شارف کی بات کی تائید کی
“کیا تم دونوں پاگل ہوگئے ہو اس طرح ہم لوگ نہ صرف مشکوک ٹہرائے جائیں گے بلکہ بہت برے طریقے سے پھنس بھی سکتے ہیں”
نادر ان دونوں کو دیکھتا ہوا سمجھانے لگا پھر اس نے جوزف کے موبائل پر لاسٹ کال والے نمبر پر ایک وائس میسج کرکے جوزف کے ساتھ ہوئی ٹریجیڈی اور لوکیشن کا بتادیا
“اب اس سے پہلے یہاں کوئی دوسرا پہنچے ہم لوگوں کو نکلنا چاہیے”
نادر شارف اور مغیث کو دیکھتا ہوا بولا وہ دونوں بالکل خاموش تھے نادر کے ساتھ چلنے لگے
“ایک منٹ ایک کام تو رہ گیا”
نادر چلتا ہوا بولا اور دوبارہ پلٹ کر گاڑی کے پاس آیا شارف اور مغیث بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر نادر کے پیچھے چلے آئے
“اومائی گاڈ دو بیگز وہ بھی نوٹوں سے بھرے ہوئے یہ ہم لوگ کیا چھوڑ کر جارہے تھے”
گاڑی میں موجود پیسوں سے بھرے ہوئے دو بیگز دیکھ کر نادر مغیث اور شارف کو دیکھتا ہوا بولا
“مجھے نہیں لگتا یہ آدمی کوئی عام آدمی ہے، جو ہمارے ہاتھوں سے زخمی ہوچکا ہے اس کے پاس موجود ہتھیار اور یہ اتنا سارا پیسہ۔۔۔ معاملہ سنگین ہے نادر ان بیگز کو یہی چھوڑ دو”
مغیث نادر کو دیکھتا ہوا بولا یہ پہلا ایسا واقعہ تھا جس میں اس کا دل گواہی دے رہا تھا اس معاملے میں وہ تینوں بری طرح پھنس سکتے ہیں اتنی ٹینشن اس سے پہلے اسے تب بھی نہیں ہوئی تھی جب صوفیہ اور اس کے گھر والوں کو اس کے بارے میں معلوم ہوا تھا
“مغیث بالکل ٹھیک بول رہا ہے نادر اس سے پہلے یہاں کوئی دوسرا آجائے ان بیگز کو یہی چھوڑ کر ہمیں نکلنا چاہیے”
شارف نے بھی نادر کو سمجھانا چاہا
“تم دونوں کیوں بےوقوفوں جیسی باتیں کررہے ہو یہ ہم تینوں کی لائف کا سب سے بڑا ایڈونچر پلس اسٹینڈ ہے جس سے ہمیں لاکھوں نہیں شاید کروڑوں کا فائدہ ہوا ہے اگر اتنا سارا پیسہ ہم لوگ یہی چھوڑ کر جاتے ہیں تو ہمارے پیچھے یہ پیسہ کوئی دوسرا ہرگز نہیں چھوڑنے کی غلطی نہیں کرے گا تم دونوں کی طرح میں اس وقت یہ بیگز یہی چھوڑ کر میں کم عقلی کا مظاہرہ نہیں کرسکتا”
نادر وہ دونوں بیگز اٹھاتا ہوا بولا تو مغیث اور شارف خاموش ہوگئے
آج جو بھی کچھ ہوا تھا اس کے بعد شارف اور مغیث کو احساس ہوگیا تھا کہ وہ جس ڈگر پر چل نکلے ہیں وہ راستہ کافی خطرناک ہے مغیث کو بار بار ایک ہی خیال آرہا تھا اگر نادر بروقت اس آدمی پر گولی نہ چلاتا اور اس آدمی کی گولی اسے لگ جاتی تو اس کے بعد۔۔۔ اس کے آگے مغیث سے گھبراہٹ کے مارے کچھ سوچا ہی نہیں جارہا تھا۔۔۔ کیا اس کی زندگی پر صرف اسی کا حق تھا اس کی فیملی اس کے ماں باپ بھائیوں کا یا صوفیہ کا حق نہیں تھا۔۔۔ یہ بات سوچتے ہوئے آج اسے صوفیہ کے خیالات اتنے برے نہیں لگے تھے جسے اب تک اس نے بالکل بھی سنجیدہ نہیں لیا تھا یہ تھرل ایڈونچر کا چکر بہت ہوگیا تھا، اس کی جان قیمتی تھی اس سے بہت سے لوگوں کی زندگیاں جڑی ہوئی تھی۔۔۔ مغیث نے ساری بات سوچتے ہوئے عالم ہاؤس کے کار پورچ میں گاڑی روکی اس وقت فجر کی اذان ہورہی تھی۔۔۔ اپنے گھر میں قدم رکھتے ہوئے اسے عجیب سکون کا احساس ہوا تھا یہ اس کا گھر جہاں اب اس کی مکمل فیملی بستی تھی۔۔۔ اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس کے قدم خود بخود جبران کے بیڈروم کی طرف اٹھے آہستہ سے دروازہ کھولنے پر اسے جبران بیڈ پر سوتا ہوا نظر آیا۔۔۔ بغیر قدموں کی چاپ کئے وہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا جبران کے پاس پہنچا اس کا دل کیا وہ جبران کے سینے سے لگ جائے کیونکہ وہ مزید سکون کا متمی تھا جبران کے پاؤں کو ہلکے سے چھوتے ہوئے اس کی نگاہیں واش روم کے دروازے تک گئیں جہاں سے نکلتی ستارہ اسے دیکھ کر کھل اٹھی
“مغیث”
ستارہ نے مغیث کو دیکھ کر آہستہ آواز میں سرگوشی کی تو وہ ستارہ کی جانب اپنے قدم بڑھاتا ہوا اس کے پاس آیا
“شکر خدا کا تم آگئے اگر تم آج بھی واپس نہیں آتے تو میرا دل یہ سوچ کر بہت اداس ہوتا کہ میرا ایک بیٹا میرے پاس موجود نہیں ہے”
ستارہ مغیث کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتی ہوئی اس سے بولی۔۔۔ اس کا اپنا چہرہ بھیگا ہوا تھا شاید وہ وضو کرکے واش روم سے نکلی تھی مغیث نے ستارہ کو حصار میں لیتے ہوئے سرگوشی میں کہا
“لوٹ کر مجھے آپ سب کے پاس ہی تو آنا تھا۔۔۔ یہ وعدہ ہے میرا اب کبھی آپ سب سے دور نہیں جاؤں گا”
مغیث نے ستارہ سے بولتے ہوئے خود سے بھی عہد کیا وہ سارے الٹے کام چھوڑ دے گا۔۔۔ وہ دونوں ہی ایک دم جبران کی طرف دیکھنے لگے کیونکہ اس نے نیند میں کروٹ تبدیل کی تھی
“جبران نے مجھ سے بولا تھا کہ تم رات میں آجاؤ گے تمہارے جابی تمہارا انتظار کرتے ہوئے سوگئے”
ستارہ جبران کو دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں مغیث سے بولی
“میں جابی سے صبح ملوں گا ابھی ان کی نیند خراب نہیں کرنا چاہتا آپ بھی ریسٹ کریں، میں اپنے کمرے میں جاتا ہوں”
مغیث ستارہ سے بولتا ہوا اس کے کمرے سے چلاگیا
اپنے کمرے میں جانے سے پہلے اس کے قدم صوفیہ کے کمرے کی طرف اٹھے اس نے آہستہ سے کمرے کا دروازہ کھولا مگر وہاں بیڈ پر موجود صوفیہ کی جگہ مہرماہ کو سوتا دیکھ کر مغیث بری طرح ٹھٹکا
“او تو یہ کہانی چل رہی ہے یعنی محب اور اس کی بیوی الگ الگ بیڈ روم میں، تو پھر میری والی اس وقت کہاں ہے اس وقت”
مغیث نے دل ہی دل میں سوچتے ہوۓ کمرے کا دروازہ جلدی سے بند کیا کہیں مہرماہ جاگ نہ جاۓ اگر وہ صوفیہ کے کمرے میں موجود واشروم کی لائٹ جلتی ہوئی دیکھ لیتا تو اسے اس کے سوال کا جواب مل جاتا کہ صوفیہ کہا تھی۔۔۔ مغیث اب اپنے کمرے میں چلا آیا بنا لائٹ جلاۓ اسے اندازہ ہوگیا اس کے بیڈ پر سر سے پاؤں تک کمفرٹر لئے آخر کون لیٹا ہوسکتا ہے بےساختہ ہی مغیث کے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ بکھری یعنی وہ اس کی ناراضگی کے باوجود اسی کے بیڈروم میں سو رہی تھی وہ بھی بھرپور استحقاق کے ساتھ۔۔۔ اس کے بعد تو اب مغیث کی ناراضگی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا تھا مغیث شرٹ اتارتا ہوا بیڈ کے پاس آیا اپنا تکیہ ساتھ والے تکیے کے ساتھ جوڑ کر کمفرٹر کے اوپر اپنی ٹانگ رکھکر سوۓ ہوۓ وجود کو اپنے اندر بری طرح بھینچ کر اسکو اپنے بازو میں جکڑے خود بھی چپک کر لیٹ گیا
“میری غیر موجودگی میں میرے بیڈروم میں تمہاری موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ تم مجھ سے بےحد محبت کرتی ہو۔۔۔ محبت تو میں بھی تم سے بےتحاشہ کرتا ہوں جانِ مغیث، مگر تم کبھی بھی اس بات کا یقین نہیں کرو گی۔۔۔ اور میں تمہیں اپنی محبت کا یقین دلائے بغیر تو اب بالکل بھی نہیں سوؤں گا۔۔۔ سب سے پہلے مجھے میری فیورٹ جگہ پر ہاٹ سی کِسی چاہیے، اس کے بعد اسٹارٹ کریں گے ڈشم ڈشم اور پھر ڈھیر ساری نیند کے مزے لیں گی”
مغیث کی نیند صوفیہ کو اپنے بیڈ روم میں دیکھ کر جیسے بھاگ چکی تھی۔۔۔ مغیث اسے اپنا پلان بتاتا ہوا کمفرٹر کے اوپر اپنا ہاتھ اس کے خوبصورت اور نازک بدن پر پھیرتا ہوا بولا جو آج اسے کچھ تندرست اور توانا محسوس ہورہا تھا۔۔۔ مگر خیر تھی
جبکہ کمفرٹر کے اندر وجود مغیث کی گھٹیا حرکت اور باتوں کو نظرانداز کرتا نیند میں تھوڑا آگے کھسک کر لیٹ گیا تو مغیث نے اسے دوبارہ اپنی ٹانگوں میں اور بازؤوں میں بری طرح جکڑ کر خود سے مزید قریب کرلیا
“تمہیں کیا شوق چڑھا ہے جانِ مغیث اپنے مغیث عالم کو خوار کرنے کا، جو یوں خوفزدہ ہرنی کی طرح مجھ سے دور بھاگ رہی ہو، آج یہ شیر اس ہرنی کا شکار کرنے کے موڈ میں ہے کھا جاؤ گا میں تمہیں،، آج تمہاری بچت ہونا ناممکن ہے چلو پہلے پیاری پیاری سی کِسی سے اسٹارٹ لیتا ہوں”
کمفرٹر میں چھپا وجود مغیث کی مضبوط گرفت میں بری طرح سے تڑپنے اور مچلنے لگا۔۔۔صدمے کے مارے اس کی آواز منہ سے نکل نہیں پارہی تھی مغیث کمفرٹر دور اچھالتے ہوۓ جیسے ہی خماری میں آنکھیں بند کیے اس کے سینے پر جھکا تبھی دل خراش چیخ نہ صرف رومان کے منہ سے نکلی بلکہ اپنی آنکھیں کھولتے ہی مغیث نے بھی رومان کو دیکھ کر بھیانک چیخ ماری اور خوف سے دور ہوا۔۔۔۔ وہ ڈر کے مارے جلدی سے اپنی شرٹ پہنے لگا جبکہ رومان کا خوف سے یہ حال تھا وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سینہ چھپائے صدمے سے مغیث کو دیکھ رہ تھا
“رومان کے بچے یہ تم ہو، خبیث انسان، اُلو کے ڈیش”
صوفیہ کی جگہ کمفرٹر میں رومان کو دیکھ کر نہ صرف مغیث کا برے طریقے سے دل دہلا تھا بلکہ یہ تصور کرکے اسے الٹی بھی آنے لگی کہ وہ اس کے ساتھ ابھی صوفیہ سمجھ کر اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا
“او مائے گاڈ آپ اتنی واہیات حرکت وہ بھی میرے ساتھ۔۔۔ مغیث بھائی پہلے چیک کرلینا چاہیے انسان کو کہ پردے کے پیچھے ماجرہ کیا ہے۔۔۔۔ میں بھابھی نہیں ہوں بلکہ آپ کا چھوٹا اور معصوم بھائی ہوں۔۔۔ اور آپ مجھے صوفیہ بھابھی سمجھ کر اپنی محبت کا یقین دلانے چلے تھے، وہ بھی اتنے خطرناک انداز میں۔۔۔ میرا تو دل ابھی تک خوف کے مارے کسی معصوم ہرنی کی طرح کانپ رہا ہے شکر آپ نے میرے اوپر سے یہ کمفرٹر ہٹالیا نہ کہ محبت کا یقین دلانے کے لیے آپ خود اس کمفرٹر میں گُھس گئے۔۔۔۔ شکل سے تو آپ کافی شریف لگتے ہیں کیسے گندے طریقے سے چپک رہے تھے آپ مجھ سے، شکر ہم دونوں کے بیچ اس کمفرٹر نے میری عزت بچالی، اٌف میں کہاں جاکر چھپو”
رومان جو صدمے کے مارے خاموش نہیں ہورہا تھا بلکہ مسلسل بولتا ہوا وہ مغیث کو بھی شرمندہ کرنے کے ساتھ ساتھ اب غصہ دلا چکا تھا
“تمہیں کہیں بھی چھپنے کی ضرورت نہیں ہے منہ کالا نہیں ہوا ہے تمہارا اس لیے اوور ایکٹینگ کرنا بند کرو اور اگر اتنی ہی شرمندگی ہے تو شرافت سے میرے کمرے سے نکل جاؤ اور کہیں دوسری جگہ پر جاکر فوت ہوجاؤ ویسے تم میرے کمرے میں کر کیا رہے تھے۔۔۔ دیکھو رومان بھائیوں سے محبت اپنی جگہ لیکن میں اپنا یہ کمرہ اور اپنا بیڈ صرف اپنی بیوی کے ساتھ ہی شیئر کرسکتا ہوں۔۔۔ اس لیے تم پہلی فرصت میں میرے کمرے سے دفع ہوجاؤ”
مغیث چھوٹے بھائی کی ساری محبت کو ایک طرف رکھتا ہوا اسے اپنے کمرے سے نکل جانے کے لئے بولنے لگا اس کے رومینٹک موڈ کا کتنے برے طریقے سے ستیاناس ہوا تھا یہ تو وہ کبھی بھی نہیں بھول سکتا تھا، رومان کی شکل دیکھ کر ایک بار پھر اسے متلی ہونے لگی وہ اسے صوفیہ سمجھ کر۔۔۔
“میں تو جیسے مرا جارہا ہوں آپ کے کمرے میں سونے کے لئے۔۔۔ وہ موحد ایک نمبر کا پکاؤ انسان ہے میں اس کے ساتھ اس کا روم شئیر نہیں کرسکتا وہ مجھے کوئی ننھا منا سا دودھ پیتا بچہ سمجھتا ہے اس کی اسٹوپڈ باتیں میرا دماغ گھما دیتی ہیں اس لیے رات میں یہاں آپ کے کمرے میں آگیا تھا وہ تو شکر ہے میری عزت بال بال بچ گئی۔۔۔ دل ابھی تک سوکھے پتے کی طرح لرز رہا ہے عینی کو کیا منہ دکھاتا اگر آپ کے اندر کا شیر میرا شکار کرلیتا۔۔۔ توبہ توبہ مانا ہر آدمی میں جذبات ہوتے ہیں مگر انسان کو رومینٹک ہونا چاہیے چیپ نہیں، بہت ہی کوئی چیپ انداز ہے یار آپ کے رومینس کا تو۔۔۔ عینی تھی میرے خوابوں میں اور حقیقت دیکھ کر تو صدمے سے واقعی میرا فوت ہونے کا دل ہی کررہا ہے قسم سے دل خراب ہوگیا میرا”
رومان بولتا ہوا مغیث کے مزید شرمندہ کرتا ہوا کمرے سے نکل گیا جبکہ مغیث دل ہی دل میں اس کو مزید گالیاں دیتا ہوا بیڈ پر سونے کے لئے لیٹ گیا۔۔غصے میں اس نے تکیہ اپنے دونوں بازؤوں میں دبالیا اور اب ایک بار پھر وہ صوفیہ سے ناراض ہوچکا تھا
