354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 29)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

شام کے وقت سیٹینگ روم میں عالم ہاؤس کے تمام افراد موجود تھے، ستارہ اور جبران ایک صوفے پر ایک ساتھ برجمان تھے جبکہ دوسرے صوفے پر محب کے ساتھ مہرماہ بیٹھی ہوئی تھی ان دونوں کو ایک ساتھ بیٹھا ہوا دیکھ کر باقی سب افراد کا یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ ان دونوں کے درمیان ناراضگی اور کشیدگی کی دیوار گرچکی ہے

موحد کے ساتھ صوفیہ بیٹھی ہوئی تھی جو موحد کی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے وقفے وقفے سے سامنے صوفے پر رومان کے برابر میں بیٹھے ہوئے مغیث کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ جو ان دونوں کے نکاح سے پہلے جیسا ہوگیا تھا اور اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھ رہا تھا

“کیا ہوگیا بھائی یار آپ تو ایسے شرمندہ ہوکر مجھ سے نظریں چرا رہے ہیں جیسے کمفرٹر کے اندر میں نہیں آپ موجود تھے، اور میں نے آپ کے ساتھ۔۔۔

مغیث کے بری طرح گھورنے پر رومان کی آدھی بات اُس کے منہ میں رہ گئی

“میرا مطلب ہے کوئی بات نہیں یار، ایسی چھوٹی موٹی غلط فہمیاں تو ہوجاتی ہیں میں نے یہ بات کسی کو تھوڑی بتانی ہے۔۔۔ آپ نے کون سا سچ مجھے ہاٹ سی کِسی کرنی تھی بھلا آپ کو کمفرٹر کے اندر کی کہانی کا کیا معلوم بس شیر کے منہ اس کا شکار نہ لگے دکھ تو ہوتا ہے”

مغیث کے آنکھیں دکھانے پر رومان آہستہ آواز میں معصوم سی شکل بناتا ہوا اس سے اظہار افسوس کرتا ہوا بولا اور مغیث آج اچھی طرح جان گیا یہ سب سے چھوٹا بھائی اس کا پورا خبیث انسان ہے جو اس کا نہ جانے کب تک ریکارڈ لگاتا

“میں اپنے سے چھوٹوں سے نہ تو اتنی بات کرتا ہوں نہ ہی ان کا لحاظ کرتا ہوں، جاکر پوچھو موحد سے مذاق کرنے کی صورت وہ کتنی بار مجھ سے اپنی ناک کی ہڈی تڑوا چکا ہے۔۔۔ لیکن مجھے تمہاری ناک نہیں پسند یہ جو صبح سے تمہارے دانت مجھے دیکھ کر بار بار نکل رہے ہیں ناں۔۔۔ یاد رکھنا بہت بدصورت شکل لگے گی تمہاری بغیر دانتوں کے”

مغیث رومان کو وارننگ دیتا ہوا بولا۔۔۔ وہ رہ رہ کر خود پر بھی ملامت کررہا تھا۔۔۔ عالم ہاؤس واپس آنے کی خوشی میں اور صوفیہ کو اپنے کمرے میں سوتا ہوا سمجھ کر،، وہ کچھ زیادہ ہی اوور ایکسائیٹڈ ہوچکا تھا جس کا خمیازہ وہ رومان کی نان اسٹاپ بکواس سن کر بھکد رہا تھا

رومان مغیث کی وارننگ سے سچ میں ڈر گیا تھا اس لیے خاموش ہوگیا کیوکہ بغیر دانتوں کے تو عینی بھی اُسے ریجیکٹ کردیتی جسے وہ اب تک اپنی پاکٹ منی سے کتنی چاکلیٹس کھلا چکا تھا۔۔۔ مغیث اس کو خاموش دیکھ کر دوبارہ اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا لیکن وہ اپنے اوپر بار بار اٹھتی صوفیہ کی نگاہیں محسوس کرچکا تھا

“کیوں اگنور کیے جارہے ہیں یار ذرا نظر اٹھاکر دیکھ تو لیں سامنے بیٹھی اپنی “محبت” کو، کیسے ہر تھوڑی تھوڑی دیر بعد محبت بھری نظروں سے آپ کی طرف دیکھ رہی ہیں”

رومان کی زبان میں تھوڑی دیر بعد دوبارہ کھجلی ہوئی تو وہ ہلکے سے سرگوشی کرتا مغیث سے بولا۔۔۔ مغیث نے دوبارہ خونخوار نظروں سے رومان کو گھورا۔۔۔ وہ جان گیا اس کے موبائل میں لفظ “محبت” دیکھ کر اب رومان اس کا اس لفظ پر بھی ریکارڈ لگانے والا ہے لیکن مغیث بھی اپنی کوئی کمزوری اپنے چھوٹے بھائی کو دینا نہیں چاہتا تھا اس لیے اب کی بار اسے عام سے لہجے میں دھمکاتا ہوا بولا

“میں نے عینی کی فیملی کے متعلق معلوم کروایا تھا چار بڑے بھائی ہیں اُس کے۔۔۔۔ تمہیں ان لوگوں سے محتاط رہنا چاہئے اگر کسی نے بھی اس کے بھائیوں کو تمہارے متعلق بتادیا کہ تم نے اُن کی چھوٹی بہن کو پھنسایا ہوا ہے۔۔۔ وہ چاروں مل کر کہیں تمہارا کچومر نہ نکال دیں اور تمہاری لو اسٹوری کا وہی دی اینڈ نہ ہوجاۓ”

مغیث کی بات سن کر اب کی بار رومان کا چہرہ فق ہوگیا اس کی بولتی خودبخود بند ہوگئی بھلا یہ کوئی انسانیت تھی ذرا سا اُس کے چھیڑنے پر اُس کا بڑا بھائی اُسے عینی کے بھائیوں کی دھمکی دے رہا تھا۔۔۔ رومان کو ایک بار پھر خاموش دیکھ کر مغیث دوبارہ اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا

“یار صوفی کہاں ہے دھیان ہے تمہارا کتنی امپورٹنٹ بات میں تم سے ڈسکس کررہا ہوں اور تم ہو کہ میری طرف دیکھ بھی نہیں رہی ہو”

موحد برا مناتا ہوا صوفیہ کی توجہ اپنی طرف دلانے کی غرض سے آہستہ آواز میں بولا

“مغیث عالم کی موجودگی میں میرا دھیان کہیں اور جاسکتا ہے بھلا،، موحد انہوں نے مجھے ایک بار بھی نظر اٹھاکر نہیں دیکھا۔۔۔ کتنا برا محسوس کررہی ہو میں اِس وقت۔۔۔ تم خدارا ایگزیبیشن کی باتیں کرکے میرا دماغ مت کھاؤ ورنہ میں اپنے نظر انداز ہونے کا سارا غصہ تم پر اتار دوں گی”

صوفیہ کی بات سن کر موحد اپنا سا منہ لےکر خاموش ہوگیا۔۔۔ صوفیہ ایک بار پھر مغیث کو دیکھنے لگی اگر وہ عالم ہاؤس واپس آگیا تھا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ وہ سارے برے کام ہمیشہ کے لیے چھوڑ آیا تھا۔۔۔ صبح سے صوفیہ کا دل کسی بچے کی طرح شور مچا رہا تھا کہ وہ مغیث کے پاس جاۓ اور اس کے سینے سے لگ جاۓ مگر وہ تھا کہ اُس کی طرف نظر اٹھاکر دیکھنا تک گوارا نہیں کررہا تھا۔۔۔ یقیناً جب وہ اس کے پاس سے واپس عالم ہاؤس آئی تھی اُسے بری طرح ناراض کرچکی تھی

“شام والی بات کو لےکر آپ ابھی تک خفا ہیں ناں مجھ سے”

مہرماہ سب کی موجودگی میں آئستہ آواز میں اپنے برابر میں بیٹھے محب سے پوچھنے لگی جو بظاہر تو بڑے سکون سے، تھوڑی دیر پہلے آکر اُس کے برابر میں بیٹھا سب کے سامنے یہی ظاہر کررہا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے خفا نہیں ہے مگر مہرماہ جانتی تھوڑی دیر پہلے سرذد ہوئی اس کی بیوقوفی پر محب اُس سے خفا ہوچکا تھا

“خفا نہیں ہوں تو پھر کیا غصہ کرو تمہاری حماقتوں پر۔۔۔ اگر میں تمہیں کچھ بولوں گا تو رونا آجائے گا پھر تمہیں۔۔۔ مہر میں تمہیں کمرے میں چھوڑ کر باہر اِس لیے گیا تھا تاکہ تم کمرے میں آرام کرلو لیکن تم کمرے میں اسٹول پر چڑھ کر وارڈروب کے اوپر والا پورشن خالی کررہی تھی۔۔۔ جانتی ہو اگر بروقت میں کمرے میں آکر تمہیں نہیں تھامتا تو کتنا بڑا لاز ہوجاتا اُس وقت ہمارا ہم یہاں بیٹھے ہونے کی بجائے ہم اپنا سر پکڑ کر ہسپتال میں بیٹھے رو رہے ہوتے”

کیوکہ سب ہی اپنی اپنی باتوں میں مگن تھے محب مہرماہ کی حرکت پر ہلکی آواز میں اُسے سرزش کرتا ہوا بولا جس پر مہرماہ واقعی رونے والی شکل بناکر محب کو دیکھنے لگی

“اس وجہ سے کچھ نہیں بول رہا تھا میں تمہیں، اب آگے سے رونا مت۔۔۔ میں سب کے سامنے آنسو نہیں پوچھوں گا تمہارے اور تمہاری بیوقوفی کا اگر کسی کو معلوم ہوا تو سب الٹا تمہیں ہی ڈانٹے گیں”

محب کے بولنے پر مہرماہ نے اپنے چہرے کے تاثرات نارمل کرلئے مگر چند سیکنڈ بعد صوفے پر بیٹھے بیٹھے محب نے نرمی سے مہرماہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تاکہ اسے یہ احساس رہے کہ وہ اس سے خفا نہیں ہے۔۔ مہرماہ مسکرا کر محب کو دیکھنے لگی

“آج اپنی مکمل فیملی کو ایک ساتھ اکٹھا دیکھ کر، اندر سے کس قدر پرسکون محسوس کررہا ہوں میں یہ تمہیں اس وقت نہیں بتاسکتا”

جبران اپنے چاروں بیٹوں سمیت دونوں بہوؤں کو دیکھ کر ستارہ سے بولا یہ منظر اس کی آنکھوں کے لیے اطمینان بخش اور سکون بخش تھا کہ عالم ہاؤس کے تمام افراد ایک ساتھ اکھٹا موجود تھے

“اللہ پاک آپ کا یہ سکون ہمیشہ یونہی قائم و دائم رکھے اور ہمارے چاروں بیٹے سدا یونہی ہماری آنکھوں کے سامنے رہیں” ستارہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اپنی فیملی کی نظر اتارتی ہوئی جبران سے بولی جس پر جبران نے مسکرا کر سچے دل سے آمین کہا۔۔۔ اور بلند آواز میں اس نے آنے والے کل کے دن مغیث اور صوفیہ کے ولیمہ کے بارے میں تمام گھر والوں کو آگاہ کیا۔۔۔ جس پر صوفیہ کے ساتھ تمام گھر والے خوش تھے۔۔۔ خوش تو مغیث بھی بہت تھا مگر اس نے ایسا کوئی تاثر اپنے چہرے سے نہیں دیا

****

“کیا ہے کیوں آئی ہو میرے کمرے میں”

رات کے وقت مغیث بیڈ پر لیٹا ہوا تھا تب اس نے صوفیہ کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر روکھے انداز میں اس سے پوچھا

“رومان نے مجھ سے بولا تھا کہ آپ کو مجھ سے کام ہے آپ بلا رہے ہیں مجھے”

صوفیہ اس کا لب و لہجہ محسوس کرتی ہوئی اسے اپنے آنے کی وجہ بتانے لگی، مغیث سمجھ گیا یہ رومان کی شرارت تھی اس نے جان بوجھ کر صوفیہ کو اس کے کمرے میں بھیجا تھا۔۔۔ یہ لڑکا شرافت سے باز آنے والا نہیں تھا مغیث اس کو اب اچھا سبق سکھانے کا ارادہ رکھتا تھا

“بکواس کی ہے اُس نے، میں نے اُسے ایسا کچھ نہیں بولا اور تم بھی یہ بات اپنے کان کھول کر سن لو، مجھے تم سے کوئی بھی کام نہیں پڑسکتا نہ ہی میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے جاؤ میرے کمرے سے”

صوفیہ کو دیکھ کر وہ بےمروتی کی انتہا کرتا ہوا بولا لیکن سچ بات تو یہ تھا کہ صوفیہ کو اپنے کمرے میں دیکھ کر اُس کا بالکل دل نہیں کررہا تھا کہ صوفیہ اُس کے کمرے سے جائے مگر جب وہ اُس کی محبت کو نظر انداز کرکے اُس کے پاس سے عالم ہاؤس آچکی تھی اور اُس کے منانے کے باوجود صوفیہ نے اس کا ساتھ نہیں دیا تو پھر اُسے کو کیا ضرورت تھی اب کی بار جُھکنے کی۔۔۔ دوسری طرف صوفیہ مغیث کے اتنی واضح بےعزتی کرنے پر شرمندہ ہوچکی تھی، وہ بناء کچھ بولے اُس کے کمرے سے جانے لگی،، صوفیہ کو اپنے کمرے سے جاتا دیکھ کر مغیث بےچین ہوگیا اُس کا دل چاہا ساری ناراضگی کو بھلا کر وہ اُسے روک لے کل ہی تو اُن دونوں کا ولیمہ ہونے والا تھا مگر کیا کرتا انا نام کی بھی تو کوئی چیز تھی جو اِس وقت آڑے آچکی تھی وہ بیڈ پر لیٹا ہوا چور نظروں سے صوفیہ کو دروازہ کھولتا دیکھنے لگا جو اُس سے کُھل نہیں رہا تھا

“کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ جانا بھی ہے تمہیں میرے کمرے سے یا نہیں”

صوفیہ کمرے کا دروازہ نہ کھلنے کی وجہ سے مدد طلب نظروں سے مغیث کو دیکھ رہی تھی تبھی مغیث بےحسی کی انتہا کرتا ہوا اُسے ڈانٹنے لگا

“میں تو جا ہی رہی تھی لیکن یہ دروازہ نہیں کُھل رہا تو کیا کرو”

اس کے اتنے برے رویّے پر بھی وہ برا مانے بغیر مغیث سے بولی کہاں تو پہلے وہ ایسے موقعوں پر اُسے خوب چڑایا کرتی تھی نہ اس کی ناراضگی یا غصے کی پرواہ کرتی تھی

“خون تو تم ہر وقت چوستی رہتی ہوں،،، جان نہیں ہے تمہارے ہاتھوں میں جو تم سے یہ دروازہ نہیں کُھل رہا”

مغیث اُس پر طنز کرتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھا، اُس کے پاس آیا اور دروازہ کھلنے لگا مگر پہلی ہی کوشش میں وہ جان گیا کہ دروازہ باہر سے لاک کیا گیا ہے اور یہ کام کس کا ہوسکتا ہے وہ یہ بھی جان گیا تھا

“یہ دروازہ کیوں لاک ہے باہر سے”

مغیث کے بولنے پر صوفیہ سمجھی شاید وہ یہ بھی اُسی کی شرارت سمجھ رہا تھا

“مجھے کیا معلوم کیوں لاک ہے میں تو اندر ہوں دروازہ باہر سے کیسے لاک کرسکتی ہوں”

صوفیہ اُس کے الزام پر جتاتی ہوئے بولی تو مغیث نے اسے بری طرح جھڑک دیا

“تم سے کچھ پوچھا یا بات کی ہے میں نے۔۔۔ مجھ سے مخاطب ہونے کی یا بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے بالکل”

مغیث کا لہجہ اتنا ہتک آمیز کا کے صوفیہ کا دل چاہا ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی پوفیوم کی بوتل اٹھاکر اپنے اِس مغرور شوہر کے سر پر دے مارے جو آج کچھ زیادہ ہی اترا رہا تھا مگر وہ مغیث کی باتوں کو کڑوی گولی سمجھ کر خاموشی سے نگل گئی جبکہ مغیث واپس بیڈ پر بیٹھتا ہوا موبائل اٹھاکر رومان کو کال ملانے لگا

“یہ کیا واہیات حرکت کی ہے تم نے، دو منٹ کے اندر دروازے کا لاک کھولو باہر سے”

مغیث موبائل کان سے لگائے رومان سے روعب دار لہجے میں بولا

“آپ کو یہ میری رومینٹک سی سوئیٹ سی شرارت واہیات حرکت لگ رہی ہے۔۔۔ اور اپنی چیپ حرکتوں کے بارے میں کیا خیال ہے ویسے۔۔۔ صبح تو بڑا شکار شکار کھیلنے کا موڈ ہورہا تھا ابھی کیا ہوگیا آپ کو، کیا جابی نے ساری ہوا نکال دی،،، بھابھی سے آپ کی سیٹنگ کروانے کے لیے میں نے بھابھی کو آپ کے کمرے میں بھیج کر باہر سے دروازہ لاک کیا ہے منالیں یار انہیں، اداس ہیں وہ بےچاری آپ نے انہیں لفٹ ہی نہیں کروائی آج پورا دن”

رومان نے پہلے برا سا منہ بناکر اس پر طنز کے تیر چلاۓ پھر صوفیہ کو پیار سے منانے کا مشورہ دینے لگا۔۔۔ اُس کے خیال میں تو مغیث کو اُس کا شکر گزار ہونا چاہیے تھا الٹا وہ اُس کے آئیڈیا کو واہیات بول رہا تھا

“کیا شکار شکار کی رٹ لگا رکھی ہے تم نے اب فضول قسم کی بکواس کی میرے سامنے تو اچھا نہیں ہوگا،، سیٹنگ کے بچے شرافت سے باہر سے دروازہ کھولو ورنہ بعد میں، میں تمہارے کمرے میں آکر تمہاری اچھی طرح سیٹنگ کردوں گا”

مغیث رومان کو ڈانٹتا ہوا بولا۔۔۔ لفظ شکار پر صوفیہ کے کان کھڑے ہوۓ رومان صبح اُسے ایسے ہی تو کچھ بول رہا تھا۔۔۔ وہ خاموشی سے وہی کھڑی مغیث کو موبائل پر بات کرتا ہوا دیکھ رہی تھی تھی

“مجھے موبائل پر اِس طرح ڈانت کر لازمی آپ بھابھی پر روعب جھاڑنے کی کوشش کررہے ہیں ناں۔۔۔ نہ کریں یار وہ بےچاری ڈر رہی ہوگیں آپ سے، آج صبح تو بڑا پیار آرہا تھا آپ کو جانِ مغیث پر، اب کیوں بلاوجہ کی اکڑ دکھا رہے ہیں اب کمفرٹر وہ وہ نہیں تھی تو اس میں اُن کا تو قصور نہیں ہے ناں۔۔۔ صبح تک دروازے کھل جائے گا اس لیے دوبارہ مجھے کال کرکے ڈسٹرب مت کرئیے گا میں عینی سے بات کررہا ہوں۔۔۔ اور ہاں آخری بعد میں عینی کے بھائیوں سے ڈرتا ورتا بالکل بھی نہیں ہوں اِس لئے آئندہ مجھے اُن کی دھمکی مت دیجئے گا”

رومان نے بولتے ہوئے لائن خود ہی ڈراپ کردی مغیث نے دانت پیس کر موبائل بیڈ پر اچھالا رومان کو دل ہی دل میں بڑی والی گالی سے نواز کر وہ صوفیہ کو دیکھنے لگا جو خاموشی سے اب صوفے پر اس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔۔۔

مغیث دوبارہ بیڈ پر لیٹ گیا ایک تکیہ اُس نے سر کے نیچے رکھا ہوا تھا جبکہ دوسرا تکیہ اُس نے اپنے سینے پر رکھتے ہوئے اپنے دونوں بازو اُس تکیہ کے گرد لپیٹ لیے وہ نیم کھلی آنکھوں سے صوفے پر بیٹھی صوفیہ کو دیکھنے لگا۔۔۔ روم کی دوسری ڈوبلیکیٹ چابی وہ کال کرکے محب یا موحد سے بھی مانگ سکتا تھا دوسرا باہر جانے کا راستہ اُس کے کمرے کی کھڑکی تھی وہ خود تو نہیں لیکن صوفیہ دبلی ہونے کی وجہ سے آرام سے اُس کھڑکی کے ذریعہ آرام سے نکل سکتی تھی۔۔۔ دونوں آپشن ہونے کے باوجود اُسے کیا ضرورت تھی کہ وہ صوفیہ کو اپنی نظروں سے اوجھل ہونے دیتا۔۔۔ وہ آٹھ سے دس قدم کے فاصلے پر ہی اُس کے پاس بیٹھی ہوئی تھی مگر مغیث کا دل چاہ رہا تھا کہ یہ فاصلہ بھی کسی طرح سمٹ جائے مگر ایسا چاہنے کے باوجود وہ نرمی برتنے کے موڈ میں نہیں تھا اس لئے خاموش لیٹا رہا

“میں ایسے کب تک بیٹھی رہوں گی مجھے تو نیند آرہی ہے”

صوفیہ کچھ دیر بعد مغیث کو دیکھتی ہوئی بولی جو کمرے میں اس کی موجودگی کا نوٹس لیے بغیر اُسے نظر انداز کئے جارہا تھا وہ چاہتی تو دروازے کی بجاۓ کھڑکی کے راستے بھی کمرے سے آسانی سے نکل سکتی تھی۔۔ ایسے پہلے بھی وہ کہی بار مغیث کے کمرے میں آتی جاتی رہی تھی مگر نہ جانے کیوں اُس کا دل نہیں چاہ رہا تھا کہ وہ مغیث کے کمرے سے چلی جاۓ مگر یہ سچ تھا نیند بھی اُس کو شدید آرہی تھی

“نیند آرہی ہے تو مجھے کیا سنارہی ہو تمہاری نیند تمہارا مسئلہ ہے اِس کا حل بھی خود ہی تلاش کرو”

مغیث کا شدت سے دل کیا کہ صوفیہ اُس کے برابر میں آکر لیٹ جائے لیکن وہ آنکھیں بند کیے رکھائی سے بولا۔۔۔ مگر اگلے ہی پل اُسے حیرت کا خوشگوار جھٹکا لگا جب صوفیہ کندھے اچکاکر اُس کے دوسری سائیڈ بیڈ پر آکر بیٹھی۔۔۔ (بیٹھی کیو ہو میری جان لیٹ جاؤ ناں) ایسا مغیث نے دل میں بولا شکل سے تو وہ لاتعلق بنا ہوا تھا

(بھلا میں کوئی گِھسے پٹے افسانوں کی گئی گزری ہیروئن ہوں جو اُس منحوس سے صوفے پر پڑ کر سوجاؤ) صوفیہ یہی بات سوچتی ہوئی صوفے سے اٹھ کر بیڈ پر آکر بیٹھی تھی۔۔۔ بیٹھی وہ صرف اِس لئے تھی تاکہ وہ مغیث کا ری ایکشن دیکھ سکے مگر اس نے تو قسم کھائی ہوئی تھی اجنبیت برتنے کی

“پھر میں لیٹ جاتی ہوں”

صوفیہ نے اعلان کرنا اِس لئے ضروری سمجھا ڈائریکٹ اُس کے بیڈ پر لیٹنے پر مغیث کہیں اُس کی بےعزتی ہی نہ کردے مگر وہ بھی اپنے نام کا ایک تھا انجان بنا لیٹا رہا جیسے اسے کوئی پرواہ ہی نہیں کہ صوفیہ اس کے کمرے میں کہیں پر بھی لیٹے۔۔۔

لیکن صوفیہ کی بات پر اندر سے مغیث کتنا خوش تھا یہ وہی جانتا تھا مگر وہ اپنے تاثرات سے ہرگز اس خوشی کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

(یہ کیا تھوڑا تو قریب آکر لیٹتی۔۔۔ کیا کرو خود نزدیک آجاؤ۔۔۔۔ نہیں بالکل بھی نہیں) اس نے خود کو بری طرح ڈانٹا

“لائٹ کون بند کرے گا کمرے کی”

وہ ماتھے پر بل ڈالتا ہوا سرسری سی نگاہ صوفیہ پر ڈال کر اُس سے پوچھنے لگا

“جس کا یہ کمرہ ہے وہی”

صوفیہ آرام سے لیٹی ہوئی بےپرواہ انداز میں بولی تو اُس کے انداز پر مغیث کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی جسے وہ جلدی سے کنٹرول کرتا ہوا سنجیدگی سے صوفیہ کو گھورنے لگا مگر صوفیہ نے اُسے ایسا تاثر دیا جیسے اُسے مغیث کے گھورنے کی پروا ہی نہیں تھی اِس بات پر مغیث کا دل چاہا وہ صوفیہ کو کھینچ کر اسے اپنی باہوں میں بری طرح جکڑلے جیسے آج صبح اس نے غلط فہمی میں صوفیہ کو سمجھ کر رومان کو،، یخ تُھو۔۔۔ سوچ کر ہی مغیث کا دل خراب ہونے لگا

“تکیہ کے بغیر مجھے نیند نہیں آئے گی مغیث پلیز ایک تکیہ تو مجھے دے دیں”

مغیث کے برابر میں بےسکونی سے لیٹی ہوئی وہ اُسے بتانے لگی تاکہ مغیث اپنے سینے سے چمٹاۓ (محبوبہ) تکیہ اُس کو دے دے

“اگر یہ تکیہ تمہیں دے دیا تو کیا اپنے سینے سے تمہیں چمٹاکر سوؤں گا۔۔۔ ابھی تم کو کیا بولا ہے تمہاری نیند تمہارا مسئلہ ہے اب کچھ بھی بول کر مجھے ڈسٹرب مت کرنا ورنہ یہاں سے سیدھا واشروم میں لے جاکر بند کردوں گا تمہیں”

مغیث کی دھمکی پر صوفیہ اُس کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔ تین راتوں سے طالب کے گھر وہ اور کس کو اپنے سینے سے چمٹاۓ سو رہا تھا

صوفیہ کو اب اُس کا ایٹیٹیوڈ بری طرح چبھ رہا تھا پھر کچھ سوچ کر صوفیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھتی ہوئی اپنا دوپٹہ اتار کر اسے تہہ کرتی ہوئی سر کے نیچے رکھنے لگی۔۔۔ چست قمیض کی وجہ سے اُس کے جسم کے خوبصورت خدوخال اِس قدر نمایاں ہورہے تھے اوپر سے اتنا گہرا گلہ،،، مغیث کی حالت خراب ہونے لگی

ہاٹ کِسی کا سوچ کر اُس کی نظریں ناچاہتے ہوۓ بھٹک کر وہی جانے لگیں۔۔۔ کنتا زلیل و خوار ہوگیا تھا وہ ایک کِس کی خاطر۔۔۔۔ چور نگاہوں سے اُس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوگیا۔۔۔ صوفیہ اس کی نظروں کو محسوس کرکے جان کر مغیث کے قریب ہوکر لیٹی

“بدتمیز لڑکی یہ جان بوجھ کر کررہی میرے ساتھ”

وہ بڑبڑایا

“کچھ کہا آپ نے مجھ سے”

صوفیہ معصوم سے انداز میں مغیث کو دیکھ کر پوچھنے لگی

“کان بج رہے ہیں تمھارے”

مغیث جل کر بولا اور سینے سے لپٹا تکیہ بھی اُس نے اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔۔۔ وہ بدتمیز لڑکی جان کر اسے ڈسٹرب کررہی تھی مغیث اپنی آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ گیا

مغیث کی حالت پر صوفیہ کی مسکراہٹ مذید گہری ہوئی صوفیہ نے اس کا بےسکون ہونا محسوس کرلیا تھا اب جو وہ کرنے والی تھی وہ ہمت والا کام تھا کہیں اس کا شوہر اسے غصہ میں اٹھاکر بیڈ سے پھینک ہی نہ دیتا۔ِ۔۔ مگر وہ اس سے ڈرتی کہاں تھی یہی سوچ کر صوفیہ نے کمفرٹر اپنے اوپر لیتے ہوئے دوپٹے پر سر رکھنے کی بجائے مغیث کے سینے پر سر رکھ دیا۔۔۔ صوفیہ کی حرکت پر مغیث کے پورے بدن میں بجلی کی سی لہر دوڑ گئی

“یہ کیا فضول حرکت ہے صوفیہ دور ہوکر لیٹو”

مغیث صوفیہ کی اس حرکت پر وہ آنکھوں سے ہاتھ ہٹاتا ہوا غصے میں صوفیہ کو دیکھکر بولا۔۔۔ مگر صوفیہ نے مغیث کے غصے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر پھیلا دیا

“کیوں کیا ڈسٹرب ہورہے ہیں جبکہ آپ کے غصے کو دیکھ کر ایسا تو نہیں لگتا کہ آپ کو میری حرکت سے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے”

مغیث کے سینے پر سر رکھے ہوئی وہ آنکھیں بند کرکے مزے سے بولی تو مغیث خاموش ہوگیا۔۔۔ واقعی صوفیہ کی حرکت پر اسے کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے تھا،، صوفیہ انتظار میں تھی کہ مغیث کچھ بولے گا یا کچھ چھوٹی موٹی شرارت کرے مگر وہ چپ رہا صوفیہ نے بہت آئستہ سے اپنے ہونٹ مغیث کے سینے پر رکھے وہ جانتی تھی اب مغیث کی طرف سے ضرور کوئی پیش قدمی ہوگی مگر وہ اب بھی خاموش لیٹا رہا

“اچھا ناں بابا اب تو موڈ ٹھیک کرلیں اپنا”

وہ مغیث کے چہرے پر جھگ کر اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھتی ہوئی بولی مگر مغیث کے انداز میں کوئی فرق نہیں آیا وہ یونہی آنکھیں بند کیے لیٹا رہا۔۔۔

تو نے کیا کر ڈالا مر گئی میں، مٹ گئی میں، ہاں جی۔۔ او جی۔۔ ہوگئی میں،، تیری دیوانی تیری دیوانی۔۔۔۔

صوفیہ کے گنگنانے پر مغیث آنکھیں کھول کر اس کو دیکھنے لگا جو اس کے سینے پر اپنی توڑی ٹکاۓ اسی کو مسکرا کر دیکھ رہی تھی اس کی مسکراہٹ اتنی خوبصورت تھی کہ مغیث کو لگا وہ اس کا چہرہ دیکھتا رہا تو ناراضگی کی ایکٹینگ کرنا اس کے لیے مشکل ہوجاۓ گی مگر اس کے انکھیں بند کرنے سے پہلے دوبارہ صوفیہ اس کے سینے پر سر رکھ کر لیٹ گئی

کافی دیر خاموشی کے بعد جب مغیث کو یقین ہوگیا صوفیہ سوچکی ہے تب اُس نے صوفیہ کے گرد اپنا بازو حمائل کرکے اپنے سر کے نیچے سے ایک تکیہ نکال کر اپنے برابر میں رکھا۔۔۔ وہ آہستہ سے صوفیہ کا سر تکیے پر رکھتا ہوا اس کا چہرے پر جھکا

“بہت حسین ہو میری جان، چاہنے کے باوجود تمہیں نظر انداز کرنا اس دل کو گوارا نہیں ہے لیکن تھوڑی سی سزا تم بھی ڈیزرو کرتی ہو۔۔۔ میرا نظر انداز کیے جانے سے اب تم ڈر کے مارے کبھی مجھ سے دور جانے کا نہیں سوچو گی کیوکہ اب ایک پل کے لیے بھی میں تم سے دوری برداشت نہیں کرسکتا”

مغیث نے صوفیہ کا چہرہ دیکھتے ہوۓ دل ہی دل میں اُسے مخاطب کیا پھر اُس کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا وہ برابر میں سونے کے غرض سے لیٹ گیا

****

“کہو کس لیے بلایا ہے”

مغیث کے پاس صبح نادر کی کال آئی تھی۔۔۔ وہ شارف اور اس سے کچھ ضروری بات کرنا چاہتا تھا اِس لیے نادر نے اُسے اور شارف کو وہی پرانی جگہ ملنے کے لیے بلایا جہاں وہ تینوں ہر رات ملتے تھے۔۔۔ لیکن اس وقت رات نہیں تھی مغیث نے دوپہر کا ٹائم اس لئے تجویز کیا تھا کیوکہ رات میں اس کا اور صوفیہ کا فنکشن تھا

“شارف نے مجھے تمہارے خیالات اور فیصلے کے بارے میں بتایا ہے کیا کوئی خاص قسم کا دباؤ ہے تم پر جو تم یہ سب چھوڑنا چاہتے ہو”

نادر کی بات پر شارف خاموش بیٹھا رہا مغیث خاموش نظر شارف پر ڈال کر نادر سے بولا

“تمہیں یاد ہے نادر جب ہم نے آصف کے ساتھ مل کر یہ کام شروع کیا تھا تب ابتداء میں تم تینوں کو ٹینشن ہوتی تھی ایک دو بار جب ہماری پکڑ ہوتے ہوتے بچی تب بھی مجھے کسی کا ڈر نہیں تھا، میں نے یہ کام کسی کے دباؤ میں آکر شروع نہیں کیا،،، نہ ہی کسی کے ڈر سے ختم کررہا ہوں۔۔۔ یہ کام کرنے کا فیصلہ بھی میرا اپنا تھا اور چھوڑنے کا فیصلہ بھی میرا اپنا ہے۔۔ میں اب ان سب چیزوں سے دور جانا چاہتا ہوں، صوفیہ کے ساتھ اپنی لائف اسٹارٹ کرنا چاہتا ہوں”

مغیث نادر کو دیکھ کر جتاتا ہوا بولا جس پر اس نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے اور مغیث سے گویا ہوا

“ٹھیک ہے تمھاری زندگی ہے تمھاری مرضی شارف کے خیالات بھی تم سے ملتے ہیں۔۔۔ یہ بھی تمہیں دیکھ کر پیچھے ہٹ رہا ہے”

نادر شارف کو دیکھتا ہوا مغیث کو بتانے لگا تو مغیث شارف کو دیکھنے لگا۔۔۔ مگر نادر اور مغیث دونوں اچھی طرح جانتے تو شارف کے پیچھے ہٹنے کی وجہ ڈر تھی وہ شاید پرسوں والے واقعے سے ڈر گیا تھا۔۔۔ تھوڑے وقفے کے بعد نادر دوبارہ بولا

“مجھے نہیں لگتا کہ اس ملاقات کے بعد ہم تینوں میں سے دوبارہ کوئی ایک دوسرے سے کانٹیکٹ کرے گا، پرسوں جو اس دن ہم تینوں نے ایک ساتھ مل کر کیا ہے وہ ہمارا لاسٹ اسٹنٹ تھا بہرحال اس کا سارا پیسہ میرے پاس موجود ہیں لیکن اس کام میں تم دونوں بھی میرے ساتھ شامل تھے اگر تم دونوں کو ان پیسوں میں سے اپنا حصہ چاہیے۔۔۔

نادر کی بات مکمل ہونے سے پہلے شارف بولا جو ابھی تک خاموش تھا

“مجھے وہ پیسے نہیں چاہیے”

شارف کی بات سن کر نادر مغیث کو دیکھنے لگا جیسے وہ اس کی راۓ بھی جاننا چاہتا ہو

“مجھے بھی ان پیسوں کی کوئی خاص ضرورت نہیں”

مغیث بولتا ہوا اپنے موبائل کی اسکرین دیکھ کر کرسی سے اٹھ گیا جیسے وہاں سے جانا چاہتا ہو

نادر بالکل صحیح کہہ رہا تھا یہ بات وہ تینوں ہی جانتے تھے کہ یہ ملاقات ان تینوں کی آخری ملاقات تھی وہ تینوں ایک دوسرے سے زندگی بھر کانٹیکٹ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔۔۔ لیکن وہ تینوں ہی اس بات سے بالکل بےخبر تھے کہ آج رات ہی ان تینوں کی زندگی بدلنے والی ہے اور ان تینوں کا دوبارہ ایک دوسرے سے آمنا سامنا ہونے والا ہے

*****

“خاموشی سے بیٹھے رہو خبردار جو تم یہ پراٹھا کھائے بناء کرسی سے اٹھے”

مہرماہ کچن میں موجود رومان کو ڈانٹتی ہوئے بولی اس نے محسوس کیا تھا رومان جب سے عالم ہاؤس آیا تھا وہ صحیح سے کھانے پر توجہ نہیں رہا تھا

“کیا ہوگیا یار بجو آپ کو،، آپ تو بالکل ویسے ہی غصہ کرنے لگی ہیں جیسے آپ کے شوہر کرتے ہیں۔۔۔ لگتا ہے ان کے ساتھ رہ کر آپ پر انہی کے اثرات آنے لگے ہیں”

رومان پراٹھا کھانے کے ساتھ منہ بناتا ہوا مہرماہ سے بولا۔۔۔ وہ جو اپنے لیے چاۓ کا پانی چڑھا رہی تھی رومان کی بات پر گھور کر اسے دیکھنے لگی

“یہ ‘اپنے شوہر’ کیا ہوتا ہے میرے شوہر رشتے میں تمہارے بڑے بھائی لگتے ہیں۔۔۔ عزت سے بھائی جان کہہ کر مخاطب کیا کرو محب کو۔۔۔ اور میں اتنا غصہ نہیں دکھاتی جتنا تم کھانے پینے میں نخرے دکھانے لگے ہو۔۔ رومی میں سچ بول رہی ہو مجھے تمہاری بہت فکر ہونے لگی ہے”

مہرماہ رومان کو دیکھتی ہوئی بولی اسی لمحے محب کچن میں داخل ہوا

“اچھا ہوا کہ آج آفس سے جلدی آگئے”

محب کو دیکھ کر مہرماہ مسکراتی ہوئی بولی تو محب رومان کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتا ہوا مہرماہ کو دیکھنے لگا

“صبح تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی تھی اس لیے تمہاری فکر کر کے آفس سے جلدی آیا ہوں، لیکن تم تو یہاں الٹا فضول قسم کی فکروں میں لگی ہوئی ہو”

محب رومان پر نظر ڈالتا ہوا بولا تو مہرماہ ناراض نظروں سے محب کو دیکھنے لگی جبکہ رومان اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا کرسی سے دوبارہ اٹھنے لگا

“واپس بیٹھو کرسی پر سنا نہیں تمہاری بجو نے کیا بولا ہے تم سے یہ پراٹھا ختم کرکے اٹھو ٹیبل سے”

اب کی بار محب روعب دار لہجے میں بولا جبکہ مہرماہ خاموش رہی۔۔۔ رومان کو نہ چاہتے ہوۓ بھی کرسی پر واپس بیٹھنا پڑا مگر اس نے کھانے سے ہاتھ کھنچ لیے

“کیا صرف اپنے بھائی کا ہی کھانے کا خیال رکھنا ہے اس شوہر کی کوئی فکر نہیں جو تمہاری فکر میں آفس سے جلدی گھر آیا ہے”

مجب اب کی بار مہرماہ کو ٹوک کر اس کی توجہ اپنی جانب دلاتا ہوا بولا

“کیا بناؤ آپ کے لیے فرج میں تو کل رات والا سالن رکھا ہے۔۔۔ چاۓ کے ساتھ اسنیکس لیں گیں یا تازہ روٹی ڈال دو آپ کو”

محب کے ٹوکنے پر مہرماہ اب مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھی

“ایسے ہی ایک پراٹھا بنادو اور یہ چاۓ کا کپ مجھے دے دو”

محب نے رومان کو پراٹھا کھانے کا اشارہ کرتے ہوۓ مہرماہ سے بولا تو مہرماہ نے اپنی چاۓ کا کپ محب کو دے دیا اور جلدی جلدی اس کے لیے پراٹھا بنانے لگی

“ہاں تو کون سے کالج میں جاتے ہو تم”

محب نے رومان کے پراٹھے میں سے ٹکڑا توڑ کر اپنے لیے نوالا بنایا ساتھ ہی وہ رومان سے اس کے کالج کے بارے میں پوچھنے لگا۔۔۔ رومان کے ساتھ مہرماہ بھی پلٹ کر حیرت سے محب کو دیکھنے لگی

“تمہیں کیا ہوگیا پراٹھا جلدی بناؤ ناں”

محب مہرماہ کے حیران ہونے پر اسے ٹوکتا ہوا بولا اور دوبارہ رومان کو دیکھنے گا رومان نے پراٹھا کھانے کے ساتھ نراٹھے پن سے اپنے کالج کا نام بتایا

“اس کالج کا معیار اب پہلے جیسا نہیں رہا ہے نہ ہی وہاں کی اسٹیڈیز اب اچھی رہی ہے۔۔۔۔ کمینگ منڈے کو میرے ساتھ چلنا تمھارا کسی ڈھنگ کے کالج میں ایڈمیشن کرؤاں گا۔۔۔ جہاں لڑکوں کو پڑھانے کے ساتھ تمیز بھی سکھائی جاتی ہے اور انہیں انسان بھی بنایا جاتا ہے”

محب نے بولنے کے ساتھ رومان کا پراٹھا کھانا شروع کردیا کیونکہ اسے بھوک زوروں کی لگی ہوئی تھی مگر رومان نے محب کی بات پر تپ کر اس کو دیکھا

“مجھ پر احسان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں جس کالج میں پڑھ رہا ہوں اپنی پڑھائی سے مطمئن ہوں۔۔۔ اور اپنا یہ روعب ان کمزور لوگوں پر ڈالیں جو آپ سے ڈرتے ہیں”

رومان محب کو بولتا ہوا کرسی سے اٹھا وہی مہرماہ پراٹھے کی پلیٹ محب کے سامنے ٹیبل پر رکھتی ہوئی رومان کے پاس آئی

“تمیز نہیں ہے تمہیں رومی بڑوں سے بات کرنے کی، اسطرح سے پیش آیا جاتا ہے اپنے بڑوں کے ساتھ،، محب بالکل ٹھیک بول رہے ہیں تمہیں کالج چینج کرنے کی اشد ضرورت ہے کیوکہ اپنی گفتگو سے تم نے ثابت کردیا ہے یہی کچھ سکھایا جاتا ہے تمھارے کالج میں”

مہرماہ غصہ کرتی ہوئی رومان سے بولی تو رومان اس کے غصہ کرنے پر کچھ نہیں بولا

“تم کیوں اتنا سیریس ہورہی ہو میں اس سے بات کررہا ہوں ناں”

مہرماہ کو غصے میں دیکھ کر آرام سے پراٹھا کھاتا ہوا محب نرمی سے بولا، تو مہرماہ نے محب کو بھی غصے سے دیکھا

“بہت اچھے طریقے سے بات کررہے ہیں آپ اس سے،، نظر آرہا ہے مجھے۔۔۔ چھوٹے بھائی سے لاڈ پیار سے بات کی جاتی ہے یہ نہیں کہ اس پر طنز کے تیر چلاۓ جائیں یا ہر وقت اس کو ڈی گریڈ کیا جاۓ۔۔۔ یہ سب سے چھوٹا بھائی ہے آپ کا اتنے سالوں بعد ملیں ہیں آپ اس سے یہ نہیں کہ اس کو پیار کرکے گلے لگالیں مگر وہ آپ کیوں کریں گے،،، پیار کرنا تو سیکھا ہی نہیں ہے آپ نے۔۔۔۔ کل رات آپ نے مجھے کہاں اب آپ خوش رکھے گیں مجھے، یہ ایسے خوش رکھا جاتا ہے بیوی کو”

مہرماہ غصے میں بھری ہوئی محب کو خوب باتیں سناکر کچن سے چلی گئی جبکہ رومان اور محب دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھتے رہ گئے

“باۓ دا وے یہ ڈھنگ کا کالج کون سا ہے جس میں آپ میرا ایڈمیشن کروانا چاہتے ہیں”

رومان دوبارہ کرسی پر بیٹھتا ہوا محب سے پوچھنے لگا

“پہلے مجھے کھانا ختم کرلینے دو پھر دونوں آرام سے بیٹھ کر ڈیسائیڈ کرلیتے ہیں کہ کون سا کالج بیسٹ رہے گا”

محب اب نارمل لہجے میں اس سے بات کررہا تھا جیسے ان دونوں کے درمیان ہمیشہ سے ایسے ہی نارمل بات چیت ہوتی رہی ہو

“نہیں سب سے پہلے ہمیں بجو کو منالینا چاہیے ان کا زیادہ ٹینشن لینا ٹھیک نہیں ہے ناں”

رومان محب کو دیکھتا ہوا بولا تو محب کا منہ میں جاتا ہوا نوالا رکا

“ہاں تم جاکر مناؤ لو اسے میں بعد میں منالوں گا”

وہ رومان سے بولتا ہوا دوبارہ کھانے میں مصروف ہوگیا

“یہ ابھی کہہ کر گئی ہے کہ مجھے پیار کرنا نہیں آتا۔۔۔ کل سے میڈم کو سر آنکھوں پر بھٹایا ہوا ہے، کسی فلمی ہیرو کی طرح منٹ منٹ بعد رومینس کا مظاہرہ کررہا ہوں بھلا اور کیسے پیار کیا جاتا ہے”

محب افسوس سے سوچتا ہوا چاۓ پینے لگا