Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 25)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 25)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“آپ کھڑی کیوں ہے پلیز بیٹھیں ویسے میں اور محب آنے ہی والے تھے آپ کے گھر”
ستارہ نقاب کیے جبران کے سامنے موجود تھی وہ کوشش کرتی تھی کہ کم ہی اس کا سامنا عالم ہاؤس کے افراد سے ہو مگر آج محب کی باتیں سن کر وہ فیصلہ کرچکی تھی کہ جبران اور محب کو کچھ اچھی طرح سے باور کرواۓ گی
“کیوں کیا آپ نے بھی باتیں سنانا تھی جو آپ میرے گھر آنے کی زحمت کررہے تھے۔۔۔ محب تو مجھے اچھی طرح باتیں آج فون پر سنا ہی چکا ہے”
نہ ہی ہمیشہ کی طرح ستارہ کے بولنے کے انداز میں آج ٹہراؤ تھا، نہ ہی اس نے اپنی آواز یا لہجے کو بدلنے کی زحمت کی تھی۔۔۔ جس پر جبران لمحے بھر میں ہی بری طرح کھٹکا۔۔۔ ویسے تو اس کو دیکھ کر جبران ہمیشہ عجیب سی کشمکش کا شکار ہوجایا کرتا تھا مگر سامنے موجود ہستی سے رشتہ (بیٹے کی ساس) کچھ ایسا بن چکا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں کہتا تھا مگر آج یہ آواز یہ انداز اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرگیا تھا
“آپ میرے والد سے گستاخ لہجے میں بات نہیں کرسکتی میں نے آپ کا لحاظ ابھی طرف مہرماہ کی وجہ سے کیا ہے لیکن اب نہیں کروں گا اگر آپ نے مزید کوئی بداخلاقی کا مظاہرہ کیا”
جبران کے پیچھے آتے محب نے ستارہ کی بات سن لی تھی اس لیے وہ سارے لحاظ بالائے طاق رکھنا ہوا ستارہ سے بولا
“کس لحاظ کی بات کررہے ہو تم محب، لحاظ ہی تو نہیں کیا تم نے۔۔۔ کاش تم لحاظ کرتے اپنے اور مہرماہ کے جڑے رشتے کا، بےشک مہرماہ سے جڑے اس کے رشتوں کا احترام نہیں کرتے لیکن تمہیں اپنی بیوی کا احساس کرنا چاہیے تھا مگر آج تم نے بتادیا کہ تمہاری تربیت کن اقدار پر کی گئی ہے”
ستارہ جبران کو نظر انداز کئے محب کے پاس آتی ہوئی بولنے لگی۔۔۔ آج کے دن ہر بار کی طرح جبران نے اخلاقاً احتراماً نظریں نہیں پھیری نہ نظروں کا زاویہ کہیں اور مرکوز کیا، وہ غور سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ محب سے بولتے ہوئے وہ فاصلہ عبور کرتی محب کے پاس آئی تھی اور جبران محب کے پاس کھڑے ہونے کی وجہ سے آج پہلی بار اسے اتنے قریب سے اور غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔ یہ لب و لہجہ، یہ انداز، یہ آنکھیں۔۔۔۔ وہ بے چین ہونے لگا پردے کے پیچھے اس چہرے کو دیکھنے کے لئے، اسے بالکل محسوس نہیں ہورہا تھا کہ سامنے کھڑی عورت کوئی غیر ہے
“آپ میری تربیت کے بارے میں بات کرکے حد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں آپ کو کوئی حق نہیں پہنچتا مجھے سے اس طرح اس لہجے میں بات کرنے کا”
مہرماہ کی آنٹی ہمیشہ سے ہی اسے عزت دے کر بات کرتی تھیں ان کے انداز اور لہجے سے ہمیشہ پیار چھلکتا ہوا نظر آتا ہے مگر آج محب کو ان کے لہجے کے ساتھ ان کے الفاظ بھی چبھ رہے تھے اس لئے وہ بھی اپنے انداز میں بغیر لچک لائے بولا۔۔ اس ساری بحث کے دوران جبران بالکل خاموش صرف ستارہ کو ہی دیکھے جارہا تھا
“حد تو تم نے آج پار کی ہے محب تمہیں بھی کوئی حق نہیں پہنچتا مہرماہ کی تربیت پر انگلی اٹھانے، وہ کوئی گری پڑی لڑکی نہیں ہے جس کو تم بےسہارا یا یتیم سمجھ کر اس پر اپنی حکمرانی کرو یا اس کو باتیں سناؤ۔۔۔ اس میں اگر تمہیں اتنے نقص نظر آتے ہیں تو ضرورت نہیں ہے تمہیں اس کے ساتھ رشتہ رکھنے کی،، میں ان ماؤں میں سے ہرگز نہیں ہوں جو اپنی بیٹی کی عزت نفس کو کچلتے دیکھ کر بھی اسے سمجھوتہ کرکے شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے کا مشورہ دو گی۔۔۔ میں تم سے یہ بھی ہرگز نہیں کہوگی کہ اگر تم میں اولاد کو پالنے کی سکت نہیں تھی تو کم از کم تم یہ بات اپنی اولاد کو دنیا میں لانے سے پہلے سوچتے، نہ کہ اب اسے ختم کرنے کے لئے سوچ رہے ہو۔۔۔ بہرحال جو بھی مہرماہ کے ساتھ ہوا وہ اچھا نہیں ہوا مگر میں مہرماہ کو کمزور نہیں ہونے دوں گا جس طرح میں نے اپنے شوہر کے بغیر اپنے چھوٹے بیٹے کی پرورش کی ہے مہرماہ بھی تمہارے بغیر اپنی اولاد کی پرورش کرلے گی۔۔۔ لیکن یہاں سے جانے سے پہلے ایک بات ضرور بولو گی عالم ہاؤس کے تمام مرد ایک جیسے ہیں بےحس اور مطلبی”
ستارہ محب کو بول کر جتاتی ہوئی نظروں سے جبران کو دیکھتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
“ستارہ”
جبران نے بہت آہستہ آواز میں یہ نام پکارا جس کے بعد اس کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔۔۔ رومان اس کا سب سے چھوٹا بیٹا۔۔ جبران چکرا سا گیا تھا
****
“اچھا ہوا تم آگئے ماما کیسی ہیں، ان کے بلانے پر آج میں آ نہیں سکا ان کے پاس”
کل رات صوفیہ اس کے پاس سے موحد کے ساتھ عالم ہاوس چلی گئی تھی، وہ صبح محب کے پاس آفس گیا تھا اس کے بعد سے گھر آکر اسی طرح لیٹا ہوا تھا، ہر شے سے اس کا دل اچاٹ ہوچکا تھا نادر اور شارف کی کالز کو اس نے اگنور کیا ہوا تھا جبکہ ستارا سے اس نے ملنے کا پرامس تو کیا تھا مگر شام گزر جانے کے باوجود وہ وعدہ وفا نہیں کرسکا لیکن اس وقت رومان کو دیکھ کر اسے اچھا محسوس ہوا تھا
“ماما آنے والی تھی میرے ساتھ آپ کے پاس، مگر بجو کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور ماما خود بھی جب سے عالم ہاؤس سے آئیں ہیں ان کی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے میں انہیں یہاں آپ کے پاس لےکر نہیں آیا”
رومان کو دیکھ کر بھی اس نے بیٹھنے کی زحمت نہیں کی تھی رومان کمرے میں موجود کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھتا مغیث کو بتانے لگا تو مغیث حیرت سے اسے دیکھنے لگا
“کیا کوئی بات ہوگئی ہے سب خیریت ہے” مغیث کے پوچھنے پر رومان اسے محب اور مہرماہ کے درمیان ناچاقی اور موجودہ صورتحال کے بارے میں بتانے لگا جس پر مغیث نے اپنی رائے کا اظہار کرنا ضروری نہیں سمجھا ناجانے کیوں ان دونوں بھائیوں کی شادی شدہ زندگی بھی انہی کے باپ جیسی تھی۔۔۔ ناکام
“آخر کیوں ہیں عالم ہاؤس کے سارے مرد ایسے”
مغیث کے چپ رہنے پر رومان اپنی رائے کا اظہار کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا، مغیث بیڈ پر لیٹے لیٹے اسے گھورتا ہوا بولا
“تم الگ نہیں ہو ہم سے شاید تم بھول گئے ہو تم میں بھی وہی خون ہے”
مغیث آنکھیں دکھاتا ہوا اسے جتاکر بولا، اگر رومان کی جگہ اس وقت موحد یہاں پر موجود ہوتا اور اس کا دماغ ایسی باتوں سے کھا رہا ہوتا تو مغیث کب کا اسے جھڑک کر اپنے کمرے سے نکال چکا ہوتا
“ہاں خون تو وہی ہے پر میں کبھی عینی سے مس بی ہیو نہیں کرسکتا ویسے مجھے علم نہیں ہے آپ کے والے معاملے میں غلطی کس کی تھی مطلب آپ کی یا صوفیہ بھابھی کی”
رومان مغیث کو دیکھتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“میری”
مغیث اتنا ہی بولا اسے صوفیہ کی نم آنکھیں یاد آنے لگی اس کا دل ایک بار پھر بےچین ہونے لگا
“وہی ناں اس طرح کرنا ہی نہیں چاہیے کہ بعد میں پچھتاوا ہو،، خیر بھابھی اچھی نیچر کی ہیں تو بات بن سکتی ہے”
رومان نے بولتے ہوئے مغیث کا بیڈ پر رکھا ہوا موبائل اٹھایا مغیث کا آنکھیں دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا کیونکہ وہ اس کی آنکھوں کی بجاۓ اس کے موبائل کی اسکرین کو دیکھ رہا تھا
“یہ بھابھی کا نمبر کس نام سے سیو ہے آپ کے موبائل میں” رومان اس کا موبائل دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“محبت”
وہ سمجھتی تھی مغیث صرف اس کا احساس کرتا ہے محبت وہی مغیث سے کرتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی اپنی محبت کا بار بار مغیث کے سامنے اظہار کرکے وہ مغیث کو بھی اس جذبے کا ذائقہ چکھا تھی وہ خود بھی اس سے محبت میں مبتلا ہونے لگا تھا۔۔۔ مغیث جس کا دماغ بالکل ہی غائب تھا وہ رومان کے پوچھنے پر لفظ محبت بولا، رومان مغیث کا جواب سن کر غور سے مغیث کو دیکھنے لگا
“کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہو”
رومان کا دیکھنا محسوس کرکے مغیث جیسے ہوش میں آیا اور رومان سے پوچھنے لگا
“اف محبت۔۔۔۔ اتنے رومانٹک ہیرو ٹائپ لگتے نہیں ہیں آپ ویسے۔۔۔ ہاہا محبت”
رومان ہنستا ہوا مغیث سے بولا تو مغیث اسے گھورنے لگا
“بکواس بند کرو اپنی میں بڑا بھائی ہوں تمہارا اور یہ میرا موبائل واپس رکھو خبردار کو کوئی الٹا سیدھا میسج کیا تم نے صوفی کو”
مغیث پورے ہوش میں آکر اسے ڈانٹتا ہوا بولا اور ساتھ ہی اٹھ کر بیٹھ گیا
“الٹا سیدھا میسج کیوں کروں گا میں تو بس دو تین ایموشنلی سے ذرا جاندار سے ڈائیلاگ ٹائپ کروں گا بھابھی کو۔۔۔ پھر ساری رات سوچنے کے بعد صبح بےچینی سے بھابھی خود آپ کو کال کریں گی گرانٹی ہے یہ میری۔۔۔۔ زرا روکیں ایسے ہی غمگین شکل بناکر بیٹھے رہے ساتھ اسی پوز میں ایک تصویر بھی سینڈ کردیتا ہوں اس طرح لٹکا ہوا آپ کا منہ دیکھ کر ان دل جلد پگھل جاۓ گا”
رومان نے بولتے ہوئے مغیث کی تصویر اتارنا چاہی مغیث نے جھپٹ کر اس سے اپنا موبائل لے لیا
“کوئی ضرورت نہیں ہے چھچھوری اور فضول حرکتیں کرنے کی اپنے انداز سے منالوں گا میں اسے۔۔۔ چلو ماما کے پاس چلتے ہیں ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے مہرماہ سے بھی مل لیتا ہوں،، بےکار میں اپنے فضول شوہر کے پیچھے گھر چھوڑ آئی ہے جابی کو اپنے شوہر کے نادر خیالات بتاتی تو بات اتنی نہیں بڑھتی”
ستارہ کی طبعیت کا سوچ کر مغیث نے اس سے ملنے کا پروگرام بنالیا پر کمرے کا دروازہ ایک دم بجا، رومان کے ساتھ وہ خود بھی رخسار کو وہاں دیکھ کر چونکا
“بھابھی آپ۔۔۔ خیریت ہے”
مغیث رخسار کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا
“کھانے کا پوچھنے آئی تھی اگر نہیں کھایا ہے تو پھر لےکر آجاؤ کھانا”
کل والی صورت حال کو بھلائے رخسار مغیث سے پوچھنے لگی
“تھینک یو بھابھی مگر اس کی ضرورت نہیں ہے بس ماما کے پاس جانے والا تھا وہی کھالو گا”
مغیث مسکراتا ہوا رخسار سے بولا صبح ہی طالب کی باتوں سے لگ رہا تھا جیسے وہ پورشن خالی کرنے کا کہنا چاہ رہا ہو مگر اس وقت اس کی بیوی کھانے کا پوچھ رہی تھی اس کو حیرت ہوئی
“اچھا ٹھیک ہے صبح میرے پاس آکر ناشتہ کرکے آفس جانا” رخسار اس سے بولتی ہوئی واپس چلی گئی تو مغیث رومان کو دیکھنے لگا جو جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔۔۔ وہ رومان کے ساتھ ستارہ سے ملنے چلاگیا لیکن اس نے سوچ لیا تھا وہ اپنے اور صوفیہ کے متعلق کوئی بھی بات ستارہ کو نہیں بتائے گا
*****
“تھینک یو رخسار بھابھی اس فیور کے لیے میں آپ کا یہ احسان ہمیشہ یاد رکھو گی” صوفیہ اپنے کمرے میں موجود موبائل پر رخسار سے بات کرتی ہوئی بولی، موحد سے رخسار کا موبائل نمبر معلوم کروانے کے بعد دوسرے ہی دن اس نے فوری طور پر رخسار سے کانٹیکٹ کیا تھا
“اس میں احسان کرنے والی کیا بات ہے صوفیہ۔۔۔ اور تمہیں شکریہ کہنے کی بھی ضرورت نہیں ہے مغیث کو ہم دونوں میاں بیوی اچھی طرح جانتے ہیں اس کی شرافت اور اچھی عادت کی وجہ سے طالب نے دوبارہ اس سے گھر چھوڑنے والی بات نہیں کی بس رات میں تم جس طرح گھر چھوڑ کرگئی تھی وہ تھوڑا عجیب لگا تھا ہم دونوں کو، خیر تم مغیث کی فکر مت نہیں کرو میں اس کے کھانے پینے کا خیال رکھ رہی ہو۔۔۔ویسے صوفیہ اگر تم برا نہ مانو تو تم سے ایک بات پوچھو اس دن لڑائی میں غلطی کس کی تھی”
رخسار صوفیہ کے کہنے پر مغیث کے کھانے پینے کا خیال رکھ رہی تھی اتفاق سے آج مغیث نے رخسار سے کریدنا چاہا مگر رخسار بات گول کرگئی
“غلطی میری تھی بھابھی مجھے مغیث پر کتنا ہی غصہ آتا مگر مجھے ان سے بدتمیزی نہیں کرنا چاہیے تھی بےشک وہ غلطی پر ہو پر مجھے ان کے اگے زبان نہیں چلانی چاہیے تھی”
صوفیہ اپنی غلطی تسلیم کرتی ہوئی رخسار سے بولی
“یہ تو اچھی بات ہے کہ تم نے اپنی غلطی کو تسلیم کرلیا۔۔۔ تم نے شوہر کے آگے زبان چلائی، غصے میں تمہاری شوہر نے اس سے بھی زیادہ غلط ری ایکشن دیا جس کے بدلے میں تم گھر چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔ اب وہ بھی پچھا رہا ہے اس کا اترا ہوا چہرا دیکھا ہے میں نے۔۔۔۔ تم بھی وہاں بیٹھ کر اس کے لیے فکرمند ہو وہ یہاں منہ لٹکاۓ پھر رہا ہے۔۔۔ اس ساری صورت حال کو دیکھ کر میں تمہیں مشورہ دوگی مغیث کو معاف کرکے واپس چلی آؤ”
رخسار نے صوفیہ کو مشورہ دیتے ہوۓ کال بند کر دی تبھی اسکرین پر مغیث کا نمبر چمکتا ہوا دیکھ کر صوفیہ کا دل دھڑکنے لگا اس نے سوچے سمجھے بغیر جلدی سے مغیث کی کال ریسیو کی
“کیسی ہو”
تھوڑی دیر خاموشی کے بعد اسے مغیث کی آواز سنائی دی
“جیسی بھی ہوں آپ کو اس سے کیا فرق پڑتا ہے”
صوفیہ آئستہ آواز میں بولی ایک دم سے اس کا دل مچل اٹھا مغیث کا چہرا دیکھنے کے لیے، مگر وہ اپنی تڑپ مغیث پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے روکھے لہجے میں بولی
“اگر مجھے فرق نہیں پڑتا تو تمہیں کال کیوں کرتا”
مغیث کی بات پر وہ آگے سے کچھ نہیں بولی بس آنکھیں بند کرکے اس کے لہجے میں بسی اداسی محسوس کرنے لگی
“آپ کیسے ہیں”
صوفیہ مغیث کی بات کو نظر انداز کرتی اس سے اس کا حال پوچھنے لگی
“تمہیں کیا فرق پڑتا ہے تم تو مجھے چھوڑ کر چلی گئی”
وہ روکھے پن سے بولتا ہوا اس سے شکوہ کرنے لگا تو صوفیہ خاموش رہی
“بات کرنا چاہتا ہوں میں تم سے”
تھوڑے وقفے کے بعد اسے دوبارہ مغیث کی آواز سنائی دی
“آپ بولیں میں سن رہی ہوں”
صوفیہ مغیث سے بولی جس پر فوراً اس کا جواب آیا
“ایسے نہیں روبرو تم سے مل کر بات کرنا ہے مجھے”
مغیث ایسے سمجھاتا ہوا بولا
“ایسا ممکن نہیں ہے”
صوفیہ نے دل پر پتھر رکھ کر جواب دیا
“کیوں۔۔۔ آخر کیوں ممکن نہیں ہے”
اب کی بار وہ ترش لہجے میں صوفیہ سے پوچھنے لگا
“جابی کو آپ کے اوپر بہت غصہ ہے مغیث، وہ مجھے آپ سے ملنے کی اجازت نہیں دیں گیں”
یہ حقیقت تھی رات میں جب موحد اسے اپنے ساتھ گھر لایا تھا تب سے جبران کو مغیث پر شدید تھا
“صوفیہ میں کچھ نہیں جانتا تم ابھی مجھ سے ملنے آرہی ہو میں گھر سے باہر تمہارا انتظار کررہا ہوں اور اگر دس منٹ کے اندر تم میرے پاس نہیں پہنچی تو پھر میں عالم ہاوس آجاتا ہوں اس کے بعد جو بھی ہوگا اس کی ذمہ داری تم ہوگی”
مغیث کی بات سن کر وہ اچھی خاصی پریشان ہوچکی تھی، اس نے تیزی سے کھڑکی کی جانب نے آکر پردے ہٹاکر دیکھا تو سچ میں مغیث گھر کے گیٹ سے باہر اپنی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ وہ رابطہ منقطع کرچکا ہے صوفیہ کو گھبراہٹ ہونے لگی اگر وہ مغیث سے ملنے نہیں جاتی تو لازمی مغیث غصے میں یہاں آجاتا، جبران بھی غصے میں، مغیث بھی غصے میں۔۔۔ یقینا پھر جو بھی ہوتا وہ بہت برا ہوتا تھا اس کا رشتہ تو داؤ پر لگ چکا تھا وہ مغیث سے لاکھ شکوے رکھنے کے باوجود اس سے رشتہ ختم نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے شال سے خود کو اچھی طرح لپیٹتی اپنے کمرے سے باہر نکلی تو محب سے اس کا سامنا ہوا
“اگر تم مغیث سے ملنے جارہی ہو گڑیا تو یاد رکھنا تمہارے اس قدم پر جابی تم سے بھی ناراض ہوگیں”
محب بھی شاید مغیث کو دیکھ چکا تھا اس لئے صوفیہ کو کمرے سے نکلتا ہوا دیکھ کر بولا
“محب بھائی پلیز وہ صرف مجھ سے بات کرنا چاہتے ہیں میں ان کی بات سن کر دس منٹ میں واپس آجاؤں گی اگر وہ غصے میں یہاں آگئے تو آپ جانتے ہیں پھر جو بھی ہوگا وہ بہت برا ہوگا،، پلیز مجھے مجھے ان کی بات سننے دیں میں جلدی سے واپس آجاؤں گی، جابی کو معلوم بھی نہیں ہوگا”
صوفیہ محب کے آگے منت سماجت کرتی ہوئی بولی تو وہ محب کو صوفیہ پر ترس آنے لگا وہ راستے سے ہٹ کر دوبارہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔ صوفیہ گیٹ سے باہر نکلتی ہوئی جلدی سے مغیث کی گاڑی میں بیٹھ گئی
“جو بھی بولنا ہے جلدی بولیں مغیث عالم اگر جابی کو معلوم ہوگیا کہ میں آپ سے ملنے آئی ہوں وہ مجھ سے بھی شدید خفا ہوگیں”
صوفیہ گاڑی میں بیٹھنے کے ساتھ پریشانی سے مغیث سے بولی جبکہ مغیث اطمینان سے اس کا گھبرایا ہوا چہرہ دیکھ رہا تھا
“اب خاموش کیوں ہیں بولے ناں جو بولنا ہے”
مغیث کے خاموشی سے دیکھنے پر صوفیہ جھنجھلا کر دوبارہ بولی اس کی جان پر بنی ہوئی تھی اور ان موصوف کا سکون دیکھنے لائق تھا جو دنیا بھلاۓ گاڑی میں بیٹھے اسے دیکھنے کا شغل کتنے آرام سے فرما رہے تھے
“آئی لو یو”
مغیث صوفیہ کا جھنجھلایا ہوا روپ دیکھ کر بےحد سنجیدگی اور نہایت آرام سے بولا تو صوفیہ حیرت ذدہ سی اس کو دیکھنے لگی
“یہ ضروری بات کرنا تھی آپ کو مجھ سے۔۔ یہ کہنے کے لیے آپ نے مجھے یہاں بلایا تھا”
وہ ہونق بنی مغیث سے پوچھنے لگی جو بناء کسی ڈر کے ریلکس انداز میں کار میں بیٹھا صوفیہ کو دیکھ رہا تھا
“محبت کرتی ہو ناں مجھ سے صوفی”
مغیث کے اچانک پوچھنے پر صوفیہ دانت پیس کر رہ گئی وہ اب پھر اس کو ایموشنلی بلیک میل کررہا تھا
“آپ کے ہاتھ سے کرارا تپھڑ کھانے کے بعد تو بالکل نہیں”
صوفیہ غصے سے بولتی ہوئی گاڑی سے باہر نکلنے لگی مگر اس سے پہلے مغیث گاڑی اسٹارٹ کرچکا تھا
“پھر رخسار بھابھی کو بولنے کی کیا ضرورت تھی کہ وہ میرے کھانے پینے کا خیال رکھیں۔۔۔۔ محبت نہیں ہے کیوں میری کال ریسیو کی، کیوں مجھے جابی کا سامنا کرنے سے روکا”
مغیث ڈرائیونگ کرتا ہوا اس سے پوچھنے لگا
“مغیث یہ کیا کر رہے ہیں کار روکیں پلیز۔۔۔ یہ بہت غلط حرکت ہے مغیث میں آپ پر ٹرسٹ کر کے آپ کے پاس آئی تھی۔۔۔۔ میں کہتی ہوں کار روکیں ورنہ میں”
وہ مغیث کی ساری باتوں کو نظر انداز کرتی اس سے بولی مگر اس کے بولنے پر مغیث کو کوئی فرق نہیں پڑا وہ اب سکون سے کار ڈرائیو کئے جارہا تھا صوفیہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی
*****
“رومان کہاں پر ہے یہ لڑکا، کیوں اسے کچن میں کھڑا کیا ہوا ہے جانتے نہیں ہو اس کی کنڈیشن کو”
ستارہ مہرماہ کو کچن میں کھڑا دیکھ کر وہی سے تیز آواز میں رومان کے کمرے کے بند دوروازے کو دیکھ کر بولی
“آنٹی مجھے رومان نے کچھ نہیں کہا تھا میں خود اس کے لئے کٹلس بنارہی ہوں” مہرماہ ستارہ کو بتاتی ہوئی دوبارہ کام میں مشغول ہوگئی آخر کب تک وہ روگ لگاۓ اپنے کمرے میں بیٹھی رہتی
“بیٹا کیا ضرورت ہے کام کرنے کی ابھی تمہیں ریسٹ کرنا چاہیے” ستارہ مہرماہ کو دیکھتی ہوئی بولی جو فرائی پین میں خاموشی سے کٹلس فرائی کررہی تھی
“کل کیا بات ہوئی تھی آپ کی محب سے” تھوڑی دیر بعد ستارہ کو دیکھے بغیر اپنے کام میں مشغول مہرماہ ستارہ سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
کل ستارہ عالم ہاوس گئی تھی مگر واپس آنے کے بعد اس کی طبیعت خرابی کی وجہ سے وہ جان نہیں سکی کہ وہاں ستارہ کی محب سے کیا بات ہوئی تھی اور نہ ہی ستارہ نے گھر آکر اس بات کا ذکر کیا
“چھوڑو محب کو عقل ٹھکانے آئے گی تو خود ہی لینے آجائے گا اس سے پہلے تو میں تمہیں اس کے پاس جانے بھی نہیں دوں گی۔۔۔ موحد رات میں یہی کھانا کھائے گا ابھی اس کا میسج آیا ہے،، مغیث کو بھی کال کرکے بول چکی ہوں کہ وہ بھی یہی آجاۓ، پھر اسے بھی جانے نہیں جانے دوں گی، معلوم نہیں کس بات پر صوفیہ کو خفا کرکے بیٹھا ہے آجائے گا تو سمجھ جاؤ گی اسے”
ستارہ اپنے دھیان میں مہرماہ سے بولتی ہوئی فرج سے بون لیس چکن نکالنے لگی تبھی ڈور بیل ہوئی
“میں دیکھتی ہوں”
مہرماہ پلیٹ میں کٹلس نکال کر دروازہ کھولنے کے لیے جانے لگی
“نہیں جاؤ تم اپنے کمرے میں جاکر آرام کرو میں دیکھتی ہوں یہ رومان بھی معلوم نہیں اس وقت کیوں شاور لینے چلا گیا”
ستارہ مہرماہ کو اس کے کمرے میں بھیج کر خود دوپٹے سے اپنا چہرہ چھپاتی ہوئی دروازہ کھولنے چلی گئی
“آپ”
دروازے پر موجود جبران کو دیکھ کر وہ بری طرح چونکی آگے سے اس سے کچھ نہیں بولا گیا
جبران جس انداز میں اس کو غور سے دیکھ رہا تھا ستارہ نظریں چرانے پر مجبور ہوگئی جبران نے اندر آنے کی اجازت نہیں مانگی تھی اس کو فلیٹ کے اندر آتا ہوا دیکھ کر ستارہ کو راستہ دینے کے لیے سائیڈ پر ہونا پڑا، آج جبران کا انداز اس کے تیور ستارہ کو کچھ بدلے بدلے لگ رہے تھے۔۔۔ ستارہ نے لرزتے ہاتھوں سے اپنے چہرے کو مزید اچھی طرح ڈھانپا اور جبران کے پیچھے ڈرائنگ روم میں چلی آئی۔۔۔۔ جبران ابھی بھی خاموش نظروں سے ستارہ کو غور سے دیکھ رہا تھا ستارہ اس کے دیکھنے سے نروس ہونے لگی
“کہیے کس سلسلے میں آئے ہیں آپ”
چند سیکنڈ کے بعد ستارہ اپنا اعتماد بحال کرکے جبران کے سامنے صوفے پر بیٹھ کر پوچھنے لگی، آخر کو بات کا آغاز تو کرنا تھا
“بیس سال کا عرصہ کیا کم ہے کسی کو سزا دینے کے لیے، جو تم اب بھی اپنا چہرہ چھپاکر اس نقاب کا سہارا لےکر مجھے اذیت میں مبتلا کررہی ہو”
جبران سنجیدہ لہجے میں بولا اس کی بات پر ستارہ خود بھی پریشان ہوگئی وہ اسے بیس سال کے بعد پہلی ملاقات میں نہیں پہچانا تو اب کیسے پہچان سکتا تھا کہیں اسے کچھ سننے میں کوئی غلط فہمی تو نہیں ہوئی ستارہ گھبراتی ہوئی سوچنے لگی پھر ہمت جمع کرکے بولی
“آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں میں سمجھی نہیں آپ کی بات کا مطلب”
ستارہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتی ہوئی بولی مگر اگلے ہی پل اس نے جبران صوفے سے اٹھتے دیکھا وہ قدم بڑھاتا ہوا اس کی جانب آرہا تھا تو ستارہ کو بھی اٹھ کر کھڑا ہونا پڑا
