354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 22)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“اب یہاں بیٹھی تم اپنے نصیبوں پر رو رہی ہو، میں تمہارا یہ ماتم ساری رات دیکھنے کے موڈ میں نہیں ہوں بند کرو اسے”

محب اپنے کمرے میں آیا تو اس نے مہرماہ کو صوفے پر بیٹھے روتا پایا وہ دبی ہوئی آواز میں مہرماہ کو ڈانٹتا ہوا بولا مہرماہ اپنے آنسو صاف کیے بغیر محب کے سامنے آکر کھڑی ہوئی

“یہ ماتم ایک رات کا نہیں ہے محب، آپ کی شکی طبیعت دیکھ کر تو شاید اب میری ساری زندگی ماتم میں ہی گزرے گی۔۔۔ کیا سوچتے ہیں آپ میرے بارے میں، کس قسم کی لڑکی سمجھا ہوا ہے آپ نے مجھے۔۔۔۔ محب میں ایک صاف اور کھرے کردار کی لڑکی ہو، میرے کردار میں کوئی جھول نہیں ہے، آپ سے شادی سے پہلے کوئی مرد میری زندگی میں نہیں آیا نہ کسی مرد کے بارے میں نے کبھی سوچا لیکن اس وقت اپنے شوہر کے سامنے اپنے کردار کی وضاحت دیتے ہوئے مجھے بہت تکلیف پہنچ رہی ہے کیونکہ میں بدکردار لڑکی نہیں ہوں محب، وہاں کھڑی ہوکر میں کوئی بےغیرتی نہیں کررہی تھی۔۔۔ یہ میرے ہاتھ دیکھ رہے ہیں آپ جو اس وقت آپ کے سامنے جڑے ہیں خدا کا واسطہ ہے محب، میری زندگی اپنی زہریلی باتوں سے مجھ پر اتنی تنگ مت کریں، آپکی یہ باتیں، آپ کا یہ رویہ، یہ لہجہ مجھے اندر تک گھائل کردیتا ہے مجھ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ میں یہ سب برداشت کرسکو”

مہرماہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر روتی چلی گئی

محب خاموشی سے اسے دیکھنے لگا یہ سچ تھا آفس میں اُس نے کبھی بھی اسے کسی مرد سے بےتکلف ہوتا نہیں دیکھا تھا مگر آج شہاب کے ساتھ مہرماہ کو کھڑا دیکھ کر وہ برداشت نہیں کر پایا

لاشعور میں کہیں شاید اس کے یہ خوف بیٹھ گیا تھا کہ کوئی مرد اس کی بیوی کو اپنی جانب متوجہ نہ کرلے۔۔۔ یا پھر اس کی بیوی اس سے ناخوش ہوکر کسی دوسرے مرد کی طرف راغب نہ ہوجائے۔۔۔ یہ سوچیں خود اس کے لیے کتنی اذیت کا باعث تھی وہ چاہ کر بھی اپنے اس خوف کو کسی سے شیئر نہیں کرسکتا تھا

اس وقت مہرماہ کو اپنے آگے ہاتھ جوڑے روتا ہوا دیکھ کر محب کو اس پر ترس آنے لگا اور اپنے خود کے اوپر شرم آنے لگی اس نے مہرماہ کے اپنے سامنے جڑے ہاتھ پکڑے اور اس کے روتے ہوئے وجود کو سہارا دے کر اسے بیڈ پر لاکر بٹھا دیا،

تسلی یا معظرت کے دو حرف بھی اس کے پاس موجود نہیں تھے وہ گلاس میں بھرا پانی مہرماہ کے منہ سے لگانے لگا کیونکہ روتے روتے اب اس نے سسکنا شروع کردیا تھا، چند منٹ وہ مہرماہ کو بیڈ پر لیٹ کر آنسو بہاتے دیکھتا رہا پھر خود بھی لائٹ آف کرکے اپنی جگہ پر لیٹ گیا

محب کے برابر میں لیٹتے ہی مہرماہ نے سر تک کمفرٹر لےلیا وہ جان گئی تھی اپنے شوہر کی شخصیت کو، ان سب کے پیچھے کیا وجوہات ہیں جس کے سبب وہ اس کے ساتھ ایسا برتاؤ رکھتا ہے مگر اس سارے قصے میں اس کا بھلا کیا قصور تھا مہرماہ سسکتی ہوئی سوچنے لگی

****

“اب میں فون پر تو تمہیں تمہاری حرکت پر ملامت نہیں کروں گا پھر یہ نہ وہ تم دوبارہ اپنا نمبر تبدیل کرلو، خیر آج شام کے وقت میں آیا تھا گڑیا سے ملنے پر تم گھر پر موجود نہیں تھے کیا تم گھر پہنچ چکے ہوں یا گڑیا ابھی بھی اکیلی گھر پر موجود ہے”

اپنے موبائل پر محب کی کال اس نے یہی سوچ کر رسیو کی تھی کہ اب اسے ڈھیر ساری صلاوتیں اور نصیحت سننے کو ملیں گی

“بس گھر پہنچنے ہی والا ہوں تم اپنی طرف کے حالات بتاؤ سب سیٹ ہے ناں”

مغیث اس کے طنزیہ لہجے کو تحمل سے پیتا ہوا ڈرائیونگ کرنے کے ساتھ محب سے موبائل پر پوچھنے لگا

“سب خیریت ہے مگر جابی تمہیں اور گڑیا کو یاد کررہے ہیں میرے خیال میں اب ان کا غصہ کم ہوچکا ہے اگر تم اپنی حرکتوں سے باز رہنے کا وعدہ کرتے ہو تو ممکن ہے کہ وہ تمہیں معاف کردیں،، میرے خیال میں تمہیں گڑیا کو لےکر واپس عالم ہاؤس آجانا چاہیے۔۔۔۔ ایسا ممکن تو نہیں ہے کہ تم اپنی پرانی روش چھوڑ کر شرافت سے میری بات مان جاؤ لیکن کم ازکم گڑیا عالم ہاوس میں ہمارے پاس رہے گی تو وہ سیف رہے گی ورنہ جس طرح کے تمہارے کام ہیں اس میں دشمن بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی”

محب مغیث کی ڈھٹائی سے اچھی طرح واقف تھا لیکن پھر بھی وہ اس کو بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے سمجھاتا ہوا بولا

“اسے گڑیا بول بول کر بچہ بنانے میں تمہارا اور جابی کا بہت بڑا ہاتھ ہے اب وہ بچی نہیں ہے میری بیوی ہے اس کی حفاظت میں خود اچھے طریقے سے کرسکتا ہوں تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے تم یہ بتاؤ ابھی کچھ طنز کرنا باقی رہ گئے ہیں یا میں کال رکھ دو”

مغیث بناء مروت کے محب سے پوچھنے لگا

“میں جانتا تھا تمہیں سمجھاکر میں اپنا وقت ضائع کررہا ہوں ویسے بھی تمہاری سمجھنے والی عمر تو اب نکل چکی ہے اور جن کاموں کو تم بنیاد بناکر انجام دے رہے ہو، تم خود بھی بخوبی جانتے ہوکہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے میری نصیحت تمہیں طنز لگ رہی ہیں تو میں کیا کہہ سکتا ہوں بہرحال اتنا ضرور کہوں گا کہ کل سے تم آفس دوبارہ جوائن کرلو، تمہیں آفس میں دیکھ کر مجھے خوشی ہوگی کہ تم نے میری کسی بات کا بھرم رکھ لیا باقی تمہاری مرضی”

محب بولتا ہوا خود کال کاٹ چکا تھا وہ چاہتا تھا تو آج صوفیہ کو واپس اپنے ساتھ عالم ہاؤس لے جاسکتا تھا مگر اس طرح کرنے سے وہ مغیث کو بالکل اکیلا بھی نہیں کرنا چاہتا تھا اسے ڈر تھا اس عمل سے کہیں مغیث کا دماغ مزید بےراہ روی کا شکار نہ ہوجائے کم از کم وہ اس وقت صوفیہ کی وجہ سے واپس گھر تو جارہا تھا اس کو آفس بلانے کا مقصد بھی محب کا یہی تھا کہ مغیث زیادہ سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور فالتو کی بری دوستی اور غلط سرگرمیوں سے دور رہے

****

کار ڈرائیو کرتا ہوا وہ ابھی گھر سے چند منٹ کی دوری پر تھا تب اسے رومان کو دیکھ کر گاڑی روکنا پڑی کیونکہ اسی کے عمر کے دو لڑکے رومان کو بری طرح مار رہے تھے

“کیوں مار رہے ہو اسے چھوڑو اس کا گریبان” مغیث گاڑی سے اترتے ہی گرج دار آواز میں بولا تو رومان اور وہ دونوں لڑکے بھی مغیث کی طرف متوجہ ہوئے

“کیوں بھائی صاحب کچھ زیادہ ہی بھائی چارے کا شوق چڑھا ہے آپ کو،، تو جاکر کہیں اور بھائی کا کردار ادا کرو اسے تو آج ہم دونوں سے کوئی نہیں بچاسکتا”

ان میں سے ایک لڑکا مغیث سے بدتمیزی سے بولا

“میں بڑا بھائی ہوں اس کا اور اگر اب تم نے اس کا گریبان نہیں چھوڑا تو میں وقت ضائع کئے بغیر تمہارا منہ توڑ دوں گا” مغیث اس لڑکے سے بولتا ہوا اس لڑکے کی طرف تیزی سے اپنے قدم بڑھانے لگا تو اس نے جلدی سے رومان کا گریبان چھوڑ دیا دوسرا لڑکا جو اس کے ساتھ کھڑا تھا فورا بول اٹھا

“دیکھیے غلطی ہم دونوں کی نہیں تھی بلکہ اس نے پہلے۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ لڑکا کچھ بولتا مغیث نے زور دار طمانچہ اس لڑکے کے گال پر رسید کیا کیونکہ رومان کا گال بھی بری طرح سوجھا ہوا تھا جو ان دونوں لڑکوں کا ہی کارنامہ تھا

“آئندہ اگر تم دونوں میں سے کسی نے بھی اس کو ہاتھ لگایا تو میں صرف ماروں گا نہیں بلکہ جان سے مار ڈالوں گا تم دونوں کو”

مغیث ان دونوں کو دیکھ کر دھمکی دیتا ہوا بولا وہ دونوں لڑکے ہی سہم گئے اور ایک دوسرے کو آنکھوں کی آنکھوں میں دیکھ کر وہاں سے چلنے کا اشارہ کرنے لگے پھر مغیث نے رومان کی طرف دیکھا جو خاموشی سے چپ چاپ کھڑا اسی کو دیکھ رہا تھا

دو دن پہلے ہی وہ صوفیہ کو لےکر ستارہ کے پاس ملنے گیا تھا مگر رومان اس سے اور صوفیہ سے بہت لیے انداز میں ملا تھا شاید ستارہ کے کہنے پر ہی وہ ان دونوں سے زبردستی ملا تھا رومان یہ بات اپنے انداز سے صاف ظاہر کر رہا تھا، دو دن پہلے مغیث کو اس کا ایٹیٹیوڈ دکھانا ذرا پسند نہیں آیا تھا اس نے سوچ رکھا تھا وہ کبھی بھی خود سے اس لڑکے کو منہ نہیں لگائے گا جو رشتے میں اس کا سب سے چھوٹا سگا بھائی تھا مگر آج اسے کسی دوسرے سے مار کھاتا ہوا دیکھ کر مغیث کا خون کھول اٹھا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اس کے خون نے جوش مارا دکھایا تھا

“اب تم یہاں کھڑے میری شکل تکتے رہوگے چل کر کار میں بیٹھو”

ان لڑکوں کے جانے کے بعد مغیث رومان سے بولا اور خود اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا

“تھینکس ان دونوں سے مجھے بچانے کے لیے وہ دو تھے اس لئے میں اپنا بچاؤ صحیح طریقے سے نہیں کر پایا”

رومان گاڑی میں بیٹھتا ہوا مغیث سے بولا

“تمہیں تھینکس کہنے کی ضرورت نہیں ہے، ان لڑکوں سے میں نے تمہیں اس لیے نہیں بنایا کہ تم مجھے تھینکس کرو”

مغیث ابھی بھی اس کا ایٹیٹیو دیکھ رہا تھا اس لیے رومان کو جتاتا ہوا بولا

“تو پھر کس وجہ سے یہ احسان کیا آپ نے مجھ پر”

رومان مغیث کو دیکھتا ہوا پوچھنے لگا تو مغیث کا دل چاہا وہ ایک تھپر اس کو بھی مار کر اسے اپنی گاڑی سے اتر جانے کے لیے کہے مگر جو الفاظ اس کے منہ سے نکلے وہ اتنے بےساختہ تھے کہ مغیث خود بھی اپنے لفظوں پر حیران رہ گیا

“کیونکہ بڑا بھائی ہوں میں تمہارا”

مغیث کے بولتے ہی تھوڑی دیر گاڑی میں خاموشی ہوگئی اس کے بعد مغیث نے گاڑی اسٹارٹ کردی

“تو آپ نے مجھے اپنا چھوٹا بھائی تسلیم کرلیا”

رومان نے طنز نہیں کیا تھا صرف مغیث سے پوچھا تھا

“تسلیم نہ کرنے والی کون سی بات ہے جو حقیقت ہے اسے نہ تم جھٹلا سکتے ہو نہ ہی میں”

مغیث کار ڈرائیو کرتا ہوا بغیر رومان کو دیکھے اسے بولا تو رومان خاموش ہوگیا

“ویسے مار کیوں رہے تھے وہ دونوں لڑکے تمہیں،، کون تھے وہ دونوں”

مغیث خود ہی بات کا آغاز کرتا ہوا رومان سے پوچھنے لگا،، وہ جو اپنی پاکٹ سے چیوگم نکال رہا تھا جسے ریپر سے نکالنے کے بعد اس نے چیوگم مغیث کی طرف بڑھائی چیوگم چبانا اسے زہر کام لگتا تھا مگر اس احساس سے اس نے رومان چیوگم لی کہ پہلی دفعہ اسے اس کے چھوٹے بھائی نے کچھ دیا تھا اور رومان کو انکار کرنے پر اسے برا نہ لگے،،، اس سے چیوگم لے کر مغیث نے منہ میں ڈال لی

“وہ دونوں کالج میں ہوتے ہیں میرے،، غلطی ان دونوں کی نہیں تھی مطلب کل کالج میں، میں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ان دونوں کو خوب بری طریقے سے پیٹا تھا اس لئے آج وہ مجھے اکیلا دیکھ کر اپنا بدلہ لے رہے تھے”

رومان مزے سے خود بھی چیوگم چباتا ہوا مغیث کو بتانے لگا تو مغیث نے گھور کر گردن موڑ کر اسے دیکھا وہ شکل سے اتنا دلیر لگتا نہیں تھا مگر مغیث کو اب اندازہ ہورہا تھا یہ لڑکا کافی پہنچی ہوئی شے ہے جو اس کے گھورنے پر بنا ڈرے پرسکون انداز میں مغیث کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے جاننا چاہتا ہوں وہ اسے آخر کیوں گھور رہا ہے، اس ڈھیٹ بچے میں اسے محب کی بہت مشابہت محسوس ہوئی جس پر پہلے کبھی اس نے غور نہیں کیا تھا

“کالج تم پڑھنے جاتے ہو یا دوسروں سے پنگے لینے”

مغیث بڑے بھائی والا روعب جماکر آنکھیں دکھاتا ہوا اس سے پوچھنے لگا ایسے ہی اکثر وہ موحد کو بھی بری طرح لتاڑ دیا کرتا تھا

“پنگا میں نے نہیں لیا تھا بلکہ عینی کو چھیڑ کر ان دونوں نے مجھ سے لیا تھا”

رومان لاپرواہ انداز میں مغیث کو بتانے لگا اس کی بات پر مغیث کی آنکھیں مذید پھیلی

“اب یہ مت بولنا کہ عینی تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے”

مغیث نے سیدھا جانے کی بجائے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ لی، رومان اس کی بات پر کندھے ایسے آچکاۓ جیسے اگر وہ گرل فرینڈ ہے تو اب کیا کیا جاسکتا ہے مغیث اس کو گھور کر رہ گیا۔۔۔ ڈھٹائی میں شاید وہ اسی کے جیسا تھا

“تمہارے ان کارناموں کے بارے میں جان کر ماما کو کتنا دکھ ہوگا تم جانتے ہو یہ بات”

مغیث نے اسے شرمندہ کرنا چاہا

“اسی وجہ سے تو میں نہیں چاہتا کہ ماما یا بجو میں سے کسی کو بھی کچھ معلوم ہو”

رومان شرمندہ ہونے کی بجائے مغیث سے بولا

“اور مجھے جو تم یہ اپنے کارنامے کھل کر بتارہے ہو تو اس کے پیچھے کیا مقصد ہے ذرا وہ بھی جلدی سے بتادو”

مغیث اپنے گھر کے پاس گاڑی روکتا ہوا رومان سے پوچھنے لگا وہ جان گیا تھا یہ لڑکا جو اتنے آرام سے اس سے اپنی پرسنل باتیں شیئر کررہا ہے، بڑے بھائی سے تعلقات یا رشتہ استوار کرنے کی بنیاد پر ہرگز نہیں کررہا ہوگا اس لیے مغیث نے اس سے اصل وجہ جاننا چاہی

“کل میرے ساتھ کالج چل کر آپ کو میرے پرنسپل سے ملنا ہوگا، کالج میں لڑائی کرنے کی وجہ سے پرنسپل صاحب نے ان تمام لڑکوں کے پیرنٹس کو بلایا ہے جو اس وقت کالج میں فساد برپا کررہے تھے۔۔۔ میں نے موحد سے اس مسئلہ میں اس لیے ہیلپ نہیں لی کیونکہ اسکی پرسنیلٹی اجازت نہیں دیتی اسے بڑے بھائی کی حیثیت سے پرنسپل صاحب کے پاس لےکر جایا سکے”

رومان نے ساری بات بتاتے ہوئے موحد سے ہیلپ نہ لینے کی وجہ بھی بتائی۔۔۔۔ نہ جانے وہ کون سی صدی کے لوگ ہوگیں جو بےچارے موحد کو عزت بخشیں گیں یہ اس صدی میں تو مشکل ہی لگتا تھا

“اچھا تو تم چاہتے ہو اب تمہارے کالج کے پرنسپل صاحب اپنے منہ سے مجھے تمہارے کارنامے بتاکر شرمندہ کریں”

مغیث غصہ کرتا ہوا رومان سے بولا تو رومان کے سکون میں ابھی بھی فرق نہیں آیا

“ابھی آپ ہی نے تو مجھے تھوڑی دیر پہلے بتایا ہے کہ آپ میرے بڑے بھائی ہیں تو یہ سب آپ کو بڑے بھائی کی حیثیت سے سننا پڑے گا”

رومان کی ڈھٹائی دیکھ کر مغیث کو اس میں اپنا عکس چھلکتا ہوا نظر آیا، گرل فرینڈ والا کارنامہ چھوڑ کر وہ بھی اپنی کالج لائف میں ایسا ہی تھا اور پرنسپل کے پاس اکثر اپنے دوستوں کے بڑے بھائی کو لے جایا کرتا تھا کیوکہ محب سے اس کو توقع نہیں تھی کہ وہ ان معاملات میں اس کی مدد کرے

“ٹھیک ہے صبح تمہیں پک کرلو گا تم میرے ساتھ ہی کالج چلنا ابھی صوفی سے مل لو پھر میں تمہیں گھر چھوڑ دیتا ہوں تاکہ ماما پریشان نہ ہو”

مغیث کے بولنے پر رومان فورا بولا

“ماما تو موحد کے ساتھ آپ کے گھر پر ہی موجود ہیں کیا آپ کو نہیں معلوم”

رومان کی بات پر وہ چونکا مگر ستارہ کی آمد پر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی

“آ ہاں صوفیہ نے بتایا تھا مجھے جبھی تو میں تمہیں یہاں لےکر آیا ہوں، چلو گاڑی سے اترو یہی والا گھر ہے”

مغیث رومان سے بولتا ہوا خود بھی گاڑی سے باہر نکل گیا

****

جب وہ ستارہ کو سینے سے لگائے مسکرا کر اسے مل رہا تھا تب ستارہ کے پیچھے کھڑی صوفیہ نے مغیث کے اپنی طرف دیکھنے پر ہونٹوں سے پاؤٹ بناتے ہوۓ کس کی مگر جیسے ہی اس کی نظریں رومان پر گئی جو اس کی حرکت کو غور سے دیکھ رہا تھا تو صوفیہ نے شرمندہ ہوکر اپنے چہرے کے زاوئیے جلدی سے درست کیے جبکہ مغیث صوفیہ کو اس کی بےباک حرکت پر گھورتا رہ گیا

“یہ موحد کہا پر غائب ہے، اور تم نے ماما کو کچن میں کیوں کھڑا کر رکھا ہے یقینا کھانا تم نے ماما سے ہی بنوایا ہوگا”

مغیث ستارہ سے الگ ہوکر صوفیہ پر روعب جماتا ہوا بولا

“موحد کو میں نے صبح ناشتے کے لیے بریڈ اور انڈے لینے کے لیے بھیجا ہے اور بالکل بجا فرمایا آپ نے میں نے سارا کھانا ممانی سے بنوایا ہے اور اب کھانے کے جھوٹے برتن بھی انہی سے دھلواؤں گی، معلوم نہیں آپ کو کتنی ظالم بہو ثابت ہونے والی ہوں میں آگے جاکر”

صوفیہ چڑتی ہوئی تپے ہوۓ انداز میں مغیث سے بولی تو مسکرا دیا

“ہمارے لیے ڈنر پر اتنا اہتمام دیکھ کر مجھے افسوس ہورہا تھا بےچاری بچی نہ جانے پورا دن کھانا بناتی رہی ہوگی۔۔۔ اللہ پاک تم دونوں کو سدا ایک ساتھ خوش رکھے تمہارے آگن میں ننھا منا مہمان جلد سے جلد آئے”

ستارہ نے صوفیہ کی تعریف کرتے ہوئے اسے دعا دی جس پر مغیث کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری تو صوفیہ ستارہ کی دعا پر بری طرح شرما گئی

“یعنی آپ سب لوگ کھانا کھاچکے ہیں آجاۓ ماما روم میں چلیں، چلو رومان تم بھی روم میں آجاؤ”

مغیث صوفیہ کو شرماتا ہوا دیکھ کر ستارہ اور رومان کو لیے روم میں چلاگیا جبکہ صوفیہ مغیث اور رومان کے لیے کھانا نکالنے لگی، مغیث اور رومان کا ایک دوسرے سے بات چیت کرنا ستارہ صوفیہ اور موحد نوٹ کرچکے تھے کھانے کے دوران وہ دونوں باتیں کررہے تھے پھر مغیث ستارہ کے ساتھ ٹیرس میں موجود کرسیوں پر بیٹھ گیا۔۔۔ صوفیہ اور موحد باتیں کرنے لگے صوفیہ نے رومان کو اکیلا دیکھ کر اپنے اور موحد کے پاس بلالیا یوں آج کا دن ستارہ کا اپنے تینوں بیٹوں کے ساتھ گزرا

****

“مغیث عالم میں بہت زیادہ تھک چکی ہو اور اب آرام کرنا چاہتی ہو”

ستارہ، رومان اور موحد کے جانے کے بعد وہ سارے کام نمٹاکر بیڈ پر آکر لیٹی تو مغیث کو چھوٹی چھوٹی شرارتوں کے بعد پٹری سے اترتا ہوا دیکھ کر گھورتی ہوئی بولی

“پھر کیا کرو ہاتھ پاؤں دباؤ تمھارے۔۔۔ سب کے سامنے فلائنگ کس کرکے چابی تم ہی مجھے دے رہی تھی”

مغیث صوفیہ کی گردن سے ہونٹ ہٹاتا ہوا صوفیہ کو یاد دلانے لگا

“چابی نہیں دے رہی تھی صرف چھیڑ رہی تھی اب دور ہوکر لیٹے ناں سونا ہے مجھے”

وہ مکمل صوفیہ پر جھکا ہوا تھا صوفیہ نے مغیث کو پیچھے کرنا چاہا ساتھ ہی وہ بولی

“جب تم مجھے سب کے سامنے اس طرح چھیڑوں گی تو پھر بعد میں مجھ سے کیا توقع رکھتی ہو، تمہارے چھیڑنے کے بعد، پھر میں شرافت سے دور ہوجاؤں گا۔۔۔ ہاں یاد آیا رخسار بھابھی کے ساتھ اب ماما بھی انتظار میں ہے کہ جلد سے جلد ہم دونوں کا بےبی دنیا میں آجائے مگر تمہاری تھکن سارا کام اور میرا موڈ خراب کرنے پر تلی ہے، کل بھی تم نے مجھے زیادہ گہرائی میں جاکر رومینس نہیں کرنے دیا تھا آج تو فارم میں آنے دو”

مغیث بولتا ہوا اس کے ہونٹوں پر جھکا اور مکمل استحقاق سے صوفیہ کے ہونٹوں پر محبت بھرا لمس چھوڑ کر پیچھے ہوا، وہ خمار آلود نگاہوں سے صوفیہ کا چہرہ دیکھنے لگا

“کیا آپ سچ میں چاہتے ہیں مغیث عالم کہ ہمارا بےبی جلد آجائے”

صوفیہ نظریں جھکاکر مغیث سے پوچھنے لگی

“تو اس میں مسئلہ کیا ہے، اب تو تمہیں پالنے میں اتنی محنت بھی نہیں کرنا پڑے گی ماما ہیں رخسار بھابھی بھی اپنی خدمات کے لئے پیش پیش ہیں”

مغیث سیریس انداز میں صوفیہ کو چھیڑتا ہوا بولا تو صوفیہ ہلکے سے مسکرا دی

“کیا ہوا تم ابھی تیار نہیں ہو”

مغیث اس کی پھیکی سی مسکراہٹ کو محسوس کرتا ہوا صوفیہ سے پوچھنے لگا اگر وہ بچے کی ذمہ داری نبھانے کے لیے فی الحال تیار نہیں تھی تو مغیث نے سوچ لیا تھا وہ صوفیہ کو فورس نہیں کرے گا

“بات وہ نہیں ہے مغیث، میں چاہتی ہوں پہلے سب کچھ ٹھیک ہوجائے تو پھر ہم اس طرف سوچیں گے”

صوفیہ تھوڑا ہچکچاتی ہوئی بولی تو مغیث اس کے پاس سے اٹھ کر بیڈ پر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا

“کیا ٹھیک کرنا چاہتی ہو تم، جو بھی بات ہے وہ کھل کر کہو” مغیث کے سنجیدہ انداز پر بولنے پر صوفیہ مغیث کا چہرہ دیکھنے لگی یعنی وہ خود بھی سمجھ گیا تھا صوفیہ اس سے کیا کہنا چاہ رہی تھی

“آپ جابی سے جاکر ایکسکیوز کرلیں مغیث اور انہیں یقین دلائیں کہ آپ یہ سب کام چھوڑ دیں گے تو آپ کو معاف کردیں گے، میں چاہتی ہوں جب ہمارے گھر اولاد ہو تو اسے ماں باپ کے علاوہ سارے رشتوں کی توجہ اور پیار ملے،، اور یہ جبھی ممکن ہے کہ جب ہم دونوں عالم ہاؤس میں جائیں اور وہاں جاکر کوشش کریں کہ ممانی اور رومان بھی ہمیشہ کے لیے عالم ہاؤس میں آجائیں،، سوچیں مغیث اگر ایسا ہوگیا تو کتنا اچھا لگے گا جب ہم پوری فیملی اکٹھا ہوکر ایک مکمل فیملی بن کر ایک ساتھ رہے گی”

صوفیہ نے اپنی سوچ مغیث کے سامنے رکھی اور اسے سمجھانا چاہا تو اس نے ناراض نظر صوفیہ کے چہرے پر ڈالی

“میں بھی چاہوں گا کہ ماما اور رومان عالم ہاؤس کا حصہ بنے مگر تم مجھے بیچ میں مت گھسیٹو صوفی کیوکہ جابی سے معافی مانگنے کا مطلب ہے اور سارے کاموں کو ہمیشہ کے لئے چھوڑ دینا جو میں ابھی فوری طور پر نہیں کرسکتا سیدھی سی بات ہے”

مغیث نے بھی اپنے خیالات کا اظہار صاف لفظوں میں کیا تو صوفیہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئی

“کیوں، آخر کیوں نہیں چھوڑ سکتے یہ برے کام۔۔۔ ڈرگز کی عادت بھی تو چھوڑی یہ بھی چھوڑ دیں پلیز”

صوفیہ مغیث کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی رسانیت سے اسے سمجھانے لگی

“وہ عادت نہیں تھی اس لیے آسانی سے ختم ہوگئی،، عادت یہ بھی نہیں ہے مگر اس کے باوجود یہ کام میں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتا اور تم مجھے اس کے لیے فورس نہیں کروں گی صوفیہ”

مغیث صوفیہ کا ہاتھ ہٹاتا ہوا سختی سے بولا اور بیڈ پر اپنی جگہ پر لیٹ گیا تو صوفیہ خاموشی سے اس کو دیکھتی رہی پھر خود بھی چپ کرکے اس کے برابر میں لیٹ گئی۔۔۔ اس بات کو لےکر دونوں کا ہی اچھا موڈ خراب ہوچکا تھا

“میرے متعلق یہ بات کیا مہرماہ نے ماما کو بتائی ہے؟ کیا ماما کو اس بات کا علم ہے”

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد کچھ سوچ کر وہ صوفیہ سے پوچھنے لگا۔۔۔ صوفیہ جو دوسری سمت کروٹ لےکر لیٹ چکی تھی اسے مغیث کی آواز سنائی دی

“بھابی نے ممانی کو صرف یہی بولا ہے آپ کے اور جابی کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی تھی جس کی وجہ سے جابی نے غصے میں آپ کو گھر سے نکل جانے کا حکم دیا اور آپ گھر چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ مہرماہ بھابھی نے ممانی کو اصل بات اس لئے نہیں بتائی کیونکہ وہ نہیں چاہتی کہ ممانی آپ کی ٹینشن لےکر اپنی طبیعت خراب کریں”

صوفیہ مغیث کی طرف دیکھے بغیر ویسے ہی کروٹ لئے اس کی بات کا جواب دینے لگی۔۔۔ مغیث کو خود بھی انداز تھا ستارہ اور رومان اس کے متعلق نہیں جانتے ہوگے کیونکہ آج باتوں ہی باتوں میں ستارہ نے اس سے جبران اور اس کے متعلق ناراضگی کی وجہ جاننی چاہی تھی جو مغیث دوسری بات کرکے ٹال گیا تھا

“صوفی یہاں میری طرف دیکھو تمہارے کہنے پر میں نے ایک بار میں ڈرگز کا استعمال چھوڑ دیا تھا اس کے بعد سے آج کا دن ہے اس چیز کا استعمال میں نے ایک بار بھی نہیں کیا، تم نے کہا تھا ناں کہ میں ڈرگز کا یوز چھوڑ دوں تو اس کے بعد تم مجھ سے کوئی بھی ڈیمانڈ نہیں کروگی اور نہ ہی کچھ طلب کرو گی تو پھر اب اس موضوع کو زیر بحث مت لاؤ کہ میں یہ کام چھوڑ دو۔۔۔ میں تمہیں یہاں اپنے پاس نہ ہی غصہ کرنے کے لئے لایا ہوں نہ ہی تمہاری ناراضگی سہنے کے لیے، اس لیے یہاں آجاؤ میرے پاس”

مغیث صوفیہ کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کے اسے سمجھاتا ہوا بولا

“میں سونا چاہتی ہوں نیند آرہی ہے مجھے” صوفیہ اس کی جانب دیکھے بغیر اپنے کندھے سے مغیث کا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی تو مغیث بھی خاموش ہوکر لیٹ گیا