354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 23)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“نائٹ ڈریس کہاں پر رکھا دیا ہے تم نے میرا”

پیشانی پر ہلکا سا بل سجائے کمرے کے اندر داخل ہوتی ہوئی وہ مہرماہ سے پوچھنے لگا

“میرے خیال میں آپ کو فروز انکل کی بیٹی سے شادی کرلینا چاہیے تھی”

مہرماہ محب سے بولتی ہوئی وارڈروب میں سے دھلا ہوا سلیپنگ ڈریس نکال کر اس کی طرف بڑھاتی ہوئی کمرے سے جانے لگی مگر تبھی محب نے مہرماہ کا کلائی پکڑی

“کیا مطلب ہے تمہاری اس فضول بات کا جواب دے کر کمرے سے جاؤ”

پرسوں والے واقعے کے بعد سے ان دونوں کے بیچ بول چال کا سلسلہ بند ہوچکا تھا آج آفس آنے کے بعد اتفاق سے جبران کا دوست فروز اپنی بیٹی کی ہمراہ جبران سے ملنے آیا تھا محب نے فیروز کے ساتھ ساتھ اس کی بیٹی وانیہ کو بھی اچھی کمپنی دی کیونکہ بقول محب کہ وانیہ ایک سنجیدہ اور ڈیسنٹ لڑکی تھی۔۔۔

اس میں شک کی بات بھی نہیں تھی کہ وانیہ واقعی ڈینسٹ لڑکی ہے مگر اس کے باوجود محب کا وانیہ سے مسکرا مسکرا کر بات کرنا مہرماہ کو برا لگا کیوکہ پرسوں اس کی غلطی نہ ہونے کے باوجود محب نے صرف اسے شہاب کے سامنے شرمندہ کیا بلکہ گھر آنے کے بعد وہ مہرماہ سے بات نہیں کررہا تھا

“جانے دیں محب میری بات کو بھی اور مجھے خود بھی اپنے کمرے سے۔۔۔ وانیہ کی کمپنی میں جو آپ کا موڈ کافی خوشگوار ہوا ہے کہیں میری شکل دیکھ کر برباد نہ ہوجائے”

مہرماہ محب سے اپنی کلائی چھڑواتی ہوئی بولی

“اچھا تو تمہیں اس بات کی آگ لگی ہوئی ہے کہ میں وانیہ سے ہنس ہنس کر بات کررہا تھا، ویسے کس کریکٹر کا مرد سمجھ لیا ہے تم نے مجھے”

محب مہرماہ سے پوچھتا ہوا دوبارہ اس کی کلائی پکڑ چکا تھا محب کا لہجہ سلگانے والا تھا اور مہرماہ سلگ کر ہی رہ گئی تھی

“آپ کو پرسوں کیوں آگ لگی تھی مجھے شہاب کے ساتھ بات کرتا دیکھ کر،، اس سے بات ہی تو کررہی تھی اور ایسا کیا کررہی تھی اس کے ساتھ۔۔۔ آپ نے مجھے کس کریکٹر کی لڑکی سمجھا ہوا ہے بتانا پسند کریں گیں آپ”

مہرماہ اب کی بار اپنی کلائی چھڑاۓ بغیر محب سے سوال کرنے لگی

“اگر تمہارا کریکٹر اچھا نہیں ہوتا تو تم کبھی بھی مسز محب عالم نہیں کہلاتی لیکن ایک شوہر ہونے کی حیثیت سے مجھے یہ بات پسند نہیں کہ میری بیوی کسی غیر مرد سے ہنس کر بات کرے،، آج یہ بات تمہیں خود سے سمجھا رہا ہوں آئندہ سمجھانی نہ پڑے”

محب نے بولتے ہوئے مہرماہ کی کلائی خود سے چھوڑ دی تو مہرماہ کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی

“یعنی جو چیز آپ کو میرے لئے پسند نہیں مگر جب وہی کام آپ خود کریں تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔۔۔ واہ کیا بات ہے آپ کی مسٹر محب عالم”

مہرماہ طنزیہ لہجہ اختیار کرتی ہوئی بولی ساتھ نہیں اس نے سر جھٹکا اس کی بات سن کر محب نے گھور کر اسے دیکھا

“بس بہت ہوگیا اب زبان نہیں چلانا میرے آگے تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے زبان۔۔۔۔

محب نے ابھی پورا جملہ بھی ادا نہیں کیا تھا مہرماہ اس کی بات کاٹتی ہوئی بولی

“زبان چلانے والی عورتیں آپ کو زہر لگتی ہیں اور سب سے زیادہ زہر آپ کو اپنی بیوی لگتی ہے یہی کہنا چاہتے ہیں ناں آپ”

مہرماہ محب سے بولتی ہوئی وہاں سے جانے لگی۔۔۔ وہ جو آج خوشی کی خبر اس کو سنانا چاہتی تھی مہرماہ کا دل نہیں کیا کہ محب سے اپنی اس خوشی کو شیئر کرے

“نہیں اپنی بیوی اتنی زہر نہیں لگتی کہ اسے برداشت کرنا مشکل ہوجائے یہ زہر کا پیالہ تو میں نے تم سے شادی کرکے خوشی خوشی پیا تھا”

محب کے بولنے پر کمرے سے باہر جاتی مہرماہ پلٹ کر محب کو دیکھنے لگی اسے محسوس ہوا جیسے محب انہیں اپنے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ کو روکا ہوا ہے وہ مہرماہ کی طرف بڑھا مگر مہرماہ سے کچھ بولے بغیر کمرے کا دروازہ بند کرتا ہوا مہرماہ کی کلائی پکڑ کر اسے بیڈ کے پاس لے آیا

“تمہیں جلانے کے لیے وانیہ سے بات نہیں کررہا تھا میں،،، وہ کافی دنوں بعد گھر آئی تھی تبھی اس سے بات کررہا تھا کیوکہ وہ ایک شریف لڑکی ہے لیکن اگر تمہیں میرا اس سے بات کرنا پسند نہیں آیا تو میں آئندہ کبھی اس سے بات نہیں کروں گا، اب اس بات کو لےکر اپنا خون مت جلاؤ”

محب مہرماہ کے ساتھ بیڈ پر اس کے برابر میں بیٹھتا ہوا نرمی سے بولا تبھی مہرماہ کا دل چاہا وہ بھی محب کو بتاۓ کہ شہاب بھی ایک شریف لڑکا ہے اگر وہ اس سے مسکرا کر بات کررہی تھی تو اس کا مطلب ہرگز نہیں تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ مخلص نہیں۔۔۔

محب مہرماہ کا چہرہ دیکھ کر اس کے گرد اپنا بازو حمائل کرتا دوبارہ اس سے بولا

“شہاب اچھا لڑکا نہیں ہے مہر، میں نے اسے خود ایک بار علوی کی وائف کے ساتھ دیکھا۔۔ پھر اس کے بعد رضوان صاحب نے بھی مجھے سرسری سے انداز میں اس کے اسکینڈل کے بارے میں بتایا کہ وہ علوی کی وائف کے ساتھ انولو ہے۔۔۔ بس مجھے اچھا نہیں لگا اس کا تمہارا ساتھ کھڑے ہوکر بات کرنا۔۔۔ غصہ آگیا تھا مجھے شدید اس کو اور تمہیں ایک ساتھ دیکھ کر”

محب مہرماہ کو اس دن اپنے غصے کی وجہ بتانے لگا مگر مہرماہ جانتی تھی وجہ صرف یہی نہیں تھی اس کا شوہر واقعی پسند نہیں کرتا تھا کہ اس کی بیوی کسی غیر مرد سے بات کرے اس معاملے میں شاید محب کافی اسٹرک تھا۔۔۔ آگے اب اسے اس بات کا خیال رکھنا تھا

“یہ بھی تو ہوسکتا ہے محب شہاب اور وہ لڑکی ایک دوسرے سے سیریس ہو یا ہم جو کبھی کھبار دیکھ رہے ہو حقیقت اس کے الٹ ہو”

مہرماہ نے کسی خیال کے تحت محب سے بولا تھا تو محب نے اس کی بات پر مہرماہ کے گرد حمائل اپنا بازو ہٹالیا مہرماہ محب کے سینے سے سر ہٹاکر محب کا چہرہ دیکھنے لگی تو وہاں اس کے لئے نرمی کا کوئی آثار نہیں تھے

“تو تمہارا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ اگر وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ سیریس ہوں تو کیا یہ بات اچھی ہے، وہ لڑکی شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی غیر مرد سے تعلق رکھے ہوئی ہے،،، کیا علوی کی بیوی کا یہ عمل کیا تمہاری نظر میں ٹھیک ہے۔۔۔ مجھے تو علوی سے ہمدردی ہے اور میری نظر میں شہاب اور علوی کی بیوی دونوں ہی غلط ہیں بلکہ بدکردار بھی ہیں۔۔۔۔ میری نظر میں ہر وہ مرد ترس کھانے کے قابل ہے جس کی بیوی اس کے ساتھ مخلص نہیں”

بات کرتے ہوئے نہ جانے کیوں محب کے لہجے میں سنجیدگی کے ساتھ تلخی بھی سمٹ آئی تھی وہ شاید مہرماہ کی باتوں کو غلط معنوں میں لے گیا تھا مہرماہ اس کو سمجھانے کے غرض سے بولی

“میری بات کا وہ مطلب نہیں تھا محب یہ بھی تو ہوسکتا ہے ناں علوی خود بھی اپنی بیوی کے ساتھ ٹھیک نہ ہو جبھی اس کی بیوی شہاب کی طرف۔۔۔۔ خیر چھوڑیں اس بات سے ہمارا کیا لینا دینا” کہیں بات بڑھ نہ جاۓ مہرماہ نے اس اندیشے سے بات ادھوری چھوڑ کر اس ٹاپک کو کلوز کرنا چاہا کیوکہ وہ جانتی تھی محب کو اپنا پوائنٹ آف ویو ہی ٹھیک لگتا۔۔۔ مہرماہ بیڈ سے اٹھنے لگی تبھی محب نے اس کی کلائی پکڑ کر مہرماہ کو واپس بٹھا دیا شاید وہ بات ختم کرنے کے موڈ میں نہیں تھا

“ہمارا بھلے اس بات سے کوئی لینا دینا نہ مگر تمہاری سوچ تمہارا نظریہ بالکل غلط ہے مہر، اگر علوی اپنی بیوی کے ساتھ ٹھیک نہیں ہے تب بھی اس کی بیوی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی غیر آدمی کے پیچھے علوی کو دھوکا دے کیوکہ وہ علوی کے نکاح میں موجود ہے اسی کے ساتھ رہتی ہے۔۔۔ شاید عورت ذات ہوتی ہی ایسی ہے وہ کبھی اپنے آپ کو برا نہیں سمجھتی، نہ خود کی غلطی تسلیم کرتی ہے۔۔۔ اگر کچھ غلط کرے تب بھی وہ اپنے آپ کو مظلوم کہلانا ہی پسند کرتی ہے”

محب مہرماہ سے بولا تو مہرماہ اپنا سر پکڑ کر رہ گئی

“میں آپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں محب علوی کی وائف اور شہاب غلط ہیں۔۔۔ لیکن آپ پلیز عورت ذات کے بارے میں ایسی بات مت بولئے جیسے ہر مرد شہاب کی طرح نہیں ہوتا ویسے ہی ہر عورت بھی بری نہیں ہوتی”

مہرماہ کی بات پر محب خاموش ہوگیا پھر لمبا سانس کھنچ کر بولا

“شاید”

اتنی بدگمانی مہرماہ حیرت سے اپنے ساتھ بیٹھے اپنے شوہر کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔

“میاں بیوی کے رشتے میں بےاعتباری اچھی نہیں ہوتی محب آپ کی مہر آپ سے مخلص ہے اور ہمیشہ آپ کے اور اپنے رشتے سے مخلص رہے گی”

مہرماہ نے محب کے دائیں گال پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے اپنا یقین دلانا چاہا کیونکہ مہرماہ کو محسوس ہوا محب اس کی باتیں سن کر اس کے یا خیالات جان کر کچھ ڈسٹرب سا ہوچکا تھا جبکہ مہرماہ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ محب پریشان ہو

“رات ہوگئی ہے ہمہیں سونا چاہیے”

محب اس کی بات کے جواب میں بولا اور آہستہ سے مہرماہ کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹاکر بیڈ پر لیٹ گیا مہرماہ چینج کرکے آئی تو اس نے محب کو بیڈ پر لیٹے مگر جاگتا ہوا پایا وہ کسی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا مہرماہ نے بیڈ پر آکر لیٹتے ہوئے آہستہ سے محب کے سینے پر اپنا سر رکھا تو وہ چونکا

“آپ اکثر بولتے ہیں ناں محب کے اچھی بیوی وہ ہوتی ہے جو اپنے شوہر کی ہر بات مانے،، میں اپنی پوری کوشش کرتی ہوں کہ ایک اچھی بیوی ثابت ہوں”

مہرماہ محب کے سینے پر سر رکھے اسے بتانے لگی تو محب نے اپنا چہرہ جھکا کر اس کے بالوں پر اپنے ہونٹ رکھے وہ مہرماہ کے گرد اپنے دونوں بازو حمائل کرتا ہوا بولا

“تم اچھی بیوی ہو مہر”

محب کے بولنے پر مہرماہ نے سر اٹھاکر محب کا چہرہ دیکھا تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جیسے دیکھ کر مہرماہ مطمئن ہوگئی اس نے دوبارہ اپنا سر محب کے سینے پر رکھ دیا

“جابی بتارہے تھے کہ آج شام وہ تمہیں ڈاکٹر کے پاس لےکر گئے تھے خیریت کیا ہوا تمہیں”

اتنی ضروری بعد محب اس سے پوچھنا چاہ رہا تھا مگر دوسری باتوں میں لگ وہ کام کی بات پوچھ ہی نہیں پایا تھا ایک دم محب کو خیال آیا تو وہ مہرماہ سے پوچھنے لگا

“شام میں ہلکا سا چکر آیا تھا تو جابی فکرمند ہوگئے میرے منع کرنے کے باوجود قریبی کلینک لےکر چلے گئے”

مہرماہ ڈھرکتے دل کے ساتھ محب کو بتانے لگی

“تو ڈھنگ سے کھایا پیا کرو ناں کتنی بار تو بولا ہے تمہیں”

محب فکرمند لہجے کے ساتھ اس کو ڈانٹتا ہوا بولا

“جی اب اپنی ڈائیٹ کا خیال رکھوگی کیوکہ ڈاکٹر نساء کہہ رہی تھی کہ فرسٹ بےبی ہے اس لیے ذرا احتیاط کرنا چاہیے ہر معاملے میں”

مہرماہ جھجھکتی ہوئی محب کو بتانے لگی اس کی بات سن کر محب کو جیسے کرنٹ لگا۔۔۔ وہ مہرماہ کے اوپر سے اپنے ہاتھ ہٹاتا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا تو مہرماہ بھی بیڈ پر بیٹھ گئی، زیرو بلب کی مدھم روشنی میں وہ محب کے چہرے کے تاثرات دیکھنے لگی جو اس وقت بےحد سنجیدہ تھے جس سے مہرماہ یہ اندازہ نہیں لگا پائی کہ محب بچے کی خبر سن کر خوش ہے یا نہیں

“کیا ہوا محب”

محب کو اتنا خاموش دیکھ کر مہرماہ کو ٹینشن ہونے لگی جبھی وہ محب سے پوچھنے لگی

“جابی کو معلوم ہے”

وہ مہرماہ کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا تو مہرماہ نے نفی میں سر ہلایا ڈاکٹر نے چیک اپ کرتے وقت جبران کو روم سے باہر جانے کے لیے کہا تھا اور جب یہ خبر ڈاکٹر نے مہرماہ کو بتائی تو مہرماہ نے کچھ شرما شرمی میں کچھ ایکسائیڈ ہوکر ڈاکٹر سے ریکویسٹ کی تھی کہ وہ یہ خبر سب سے پہلے اپنے ہسبنڈ کو بتانا چاہتی ہے اس لئے ڈاکٹر نے جبران کو نہیں بتایا

“آپ خوش تو ہیں ناں محب”

مہرماہ محب کو اتنا سیریس دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی

“ہہمم سوجاؤ رات کافی ہوچکی ہے” محب جواب دیتا ہوا کروٹ لےکر لیٹ گیا تو مہرماہ بھی بےدلی سے اس کے برابر میں تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گئی

*****

“فی الحال تو مجھے ابھی بچہ نہیں چاہیے اس لیے اس بارے میں کسی کو کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے شام میں میرے ساتھ چلنا تمہارے لئے لیڈی ڈاکٹر سے اپوائنمنٹ لے لوں گا آج کا، اس مسئلے سے فی الحال تو جان چھڑاؤ”

صبح آفس جانے سے پہلے تیار ہوتے وقت اسے محب کے بولے گئے الفاظ یاد آنے لگے وہ محب کی بات سن کر کتنی دیر تک کچھ بول نہیں پائی تھی بس خاموشی سے محب کو دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔ اسے اپنا بچہ مسئلہ لگتا تھا جس سے وہ جان چھڑانا چاہا تھا۔۔۔ مہرماہ کو چپ چاپ خاموشی سے اپنی جانب دیکھتا پاکر محب مہرماہ کے پاس صوفے پر آکر بیٹھا اور اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا

“دیکھو مہر تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو یہ بچے وچے کی جھنجھٹ ابھی پالنے کی ضرورت نہیں ہے، پہلے ضروری یہ ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھ لیں ہمارے خیالات ایک جیسے ہو، جو کہ بالکل ہی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔۔۔ کیا یہ اچھا لگے یا کہ ہم بچہ پیدا کرنے کے بعد اپنے بچے کے سامنے جانوروں کے جیسے ایک دوسرے سے لڑتے رہے سوچو اس بچے کے ذہن پر کیا اثر پڑے گا اس لیے ہمیں چند ماہ یا پھر ایک دو سال بعد ہی اس بارے میں سوچنا چاہیے”

وہ مہرماہ کو دیکھتا ہوا بہت آرام سے اس کو سمجھا رہا تھا

“محب ہمارے کیا خیالات آپس میں نہیں ملتے ہیں آپ مجھے بتائیں۔۔۔ کیا میں آپ کی ہر بات نہیں مانتی،، میں کوشش کرتی تو ہوں محب آپ کو کچھ بھی برا نہ لگے میں آگے بھی آپ کی ہر بات مانو گی آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گی مگر آپ پلیز اس بچے کے لئے اس طرح مت سوچیں یہ ہمارا بچہ ہے ہم دونوں کی پہلی اولاد”

محب کی باتیں سن کر مہرماہ کو افسوس ہورہا تھا شاید وہ اپنا بچپن، اپنا ماضی اپنے آنے والے بچے میں دیکھ رہا تھا۔۔۔ مہرماہ اسے یقین دلاتی بولی کہ وہ آئندہ اس کی ہم خیال رہے گی اس کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملاے گی مگر مہرماہ کی بات سن کر محب کے ماتھے پر شکنوں کا جال بجھ گیا

“ابھی جو میں تم سے بول رہا ہوں وہ تم جیسے بڑی میری بات مان رہی ہو جو آگے بھی مانو گی، دیکھو یہی تو تمہارا اصل مسئلہ ہے تم میری بات کو سمجھتی نہیں ہو مہر، کتوں جیسی زندگی ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا میں اپنی اولاد کی تم شاید اس بات سے واقف نہیں ہو چھوٹے بچے بہت حساس ہوتے ہیں وہ اپنے ماں باپ کو جانوروں کے جیسے ایک دوسرے پر چیختے چلاتے دیکھتے ہیں تو ان کے معصوم ذہنوں پر اثر پڑتا ہے۔۔۔ اس بچے کی تکلیف،، اس کی ذہنی اذیت سے تم شاید کبھی واقف نہیں ہوسکتی جو بچہ اپنے ماں باپ کی لڑائی جھکڑے کو دیکھ کر محسوس کرتا ہے۔۔۔ مہر میری بات سمجھنے کی کوشس کرو دیکھو تم میری بیوی ہو ناں، میں پیار کرتا ہو تم سے۔۔۔ کوشش کرتا ہوں تمہیں خوش رکھنے کی مگر ایسا ممکن نہیں ہو پاتا،، نہ چاہتے ہوۓ بھی میں تمہیں ہرٹ کردیتا ہوں میرے رویہ سے،، بولے گئے جملوں کے سسب تمہاری آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں۔۔۔ قسم سے مجھے تمہارے آنسو دیکھ کر کوئی خوشی یا تسکین نہیں ملتی دکھ ہوتا ہے۔۔۔ میں سوچتا ہوں چاہتا ہوں اگلی بار ایسا نہ مگر پھر بھی ایسا ہوجاتا ہے۔۔ میں نہیں چاہتا مہر یہ سب ہماری اولاد کے سامنے ہو پہلے ہماری ذہنی ہم آئنگی ضروری ہے بعد میں بچہ۔۔۔ میں نے تمہیں بہت اچھی طرح کھل کر سمجھا دیا ہے اب مجھے تم سے امید ہے کہ تم ایک اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دوگی”

محب اس کے آنسوؤں کی پرواہ کیے بغیر بولتا چلاگیا پھر مہرماہ کو صوفے پر بیٹھا چھوڑ کر آفس چلا گیا

“سوری محب میں نے بہت کوشش کی کہ میں آپ کو ایک اچھی بیوی بن کر دکھاؤ لیکن اگر آج آپ کی بات مان کر میں نے اچھی بیوی ہونے کا ثبوت دیا تو زندگی بھر میری ممتا مجھ پر ملامت کرے گی”

مہرماہ محب کی تصویر کو دیکھ کر بولی صبح والی محب کی باتوں کو یاد کرکے ایک بار پھر اسے رونا آیا وہ محب کی تصویر کو دیکھ کر اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی کمرے سے اپنا بیگ لےکر باہر نکل گئی