Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 13)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 13)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
ہفتے بھر سے محب نے ہی نہیں جبران اور موحد نے بھی محسوس کیا تھا صوفیہ نکاح والے دن کے بعد سے بالکل خاموش ہوگئی تھی نہ ہی وہ پہلے کی طرح خوش باش تھی نہ ہی کسی سے زیادہ بات کررہی تھی اس کے برعکس مغیث کا رویہ بالکل نارمل تھا جبکہ محب اور جبران کو لگ رہا تھا اسے نکاح کے بعد سے اب زیادہ غصہ آیا کرے گا مگر ایسا بالکل نہیں تھا رات میں وہ بےشک اپنے دوستوں کے پاس سے کتنی دیر وقت گزارتا لیکن اس نے باقاعدگی سے آفس جانا شروع کردیا تھا اور گھر میں بھی وہ بناء غصے کے بالکل نارمل رہتا
محب تھوڑی دیر پہلے ہی آفس سے گھر آیا تھا مہرماہ حسب معمول اس وقت کچن میں موجود تھی، محب نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے صوفیہ کو لان میں ٹہلتا ہوا دیکھا تو وہ خود بھی لان میں چلا آیا صوفیہ نے محب کو اپنے پاس آتا دیکھ کر ہلکی سی اسمائل دی
“یہ تمہاری ہنسی کہاں غائب ہوگئی ہے نکاح کے بعد سے”
محب صوفیہ کو دیکھ کر پوچھنے لگا تو صوفیہ دوبارہ مسکرا دی
“آپ ہی تو کہتے ہیں کہ اچھی لڑکیاں زیادہ ہستی ہوئی اچھی نہیں لگتی بلکہ سنجیدہ اچھی لگتی ہیں”
صوفیہ محب کو اس کی بات یاد دلاتی ہوئی بولی
“اور تم نے میری بولی ہوئی بات اب سنجیدگی سے مان لی،، ہنسنے اور ناخوش ہونے میں بہت واضح فرق ہوتا ہے جوکہ مجھے نظر آرہا ہے، میں نے محسوس کیا ہے کہ تم اپنے نکاح کے بعد سے بجھی بجھی سی کچھ ناخوش سی ہو،، ایسا میں نے ہی نہیں بلکہ جابی نے بھی محسوس کیا ہے”
محب جانچتی ہوئی نظروں سے صوفیہ کو دیکھتا ہوا اس سے بولا
“آپ ہی بتائیں ایسا ممکن ہوسکتا ہے بھلا میرا نکاح میری خوشی اور رضامندی سے ہوا ہے تو پھر میں ناخوش کیوں ہوگیں”
صوفیہ محب کی بات سے انکار کرتی ہوئی بولی
“یہی تو میں تم سے پوچھنا چاہ رہا ہوں تمہارے نکاح میں تمہاری خوشی اور رضامندی دونوں شامل تھی پھر کیا وجہ ہے اس طرح اداس رہنے کی۔۔۔ دیکھو گڑیا جو بھی کوئی بات ہے وہ تم مجھے بتادو ورنہ پھر مجھے تمہارے اداسی کی وجہ خود مغیث سے پوچھنا پڑے گی”
محب اسٹریٹ فارورٹ صوفیہ سے کام کی بات پوچھنے لگا جس پر صوفیہ خاموشی سے اور بےبسی سے محب کو دیکھنے لگی پھر آہستہ آہستہ اس کی آنکھیں نم ہونے لگی
“میں خوش ہوں محب بھائی بہت خوش ہوں آپ کو کیسے یقین دلاؤں، کیا ثبوت دوں میں آپ کو اپنی خوشی کا”
وہ چاہ کر بھی محب سے مغیث کے بارے میں کچھ بھی شئیر نہیں کرپائی۔۔۔ مغیث کی دھمکی نے اسے ڈرا دیا تھا اس سے پہلے محب صوفیہ سے کچھ بولتا مغیث جوکہ ابھی آفس سے گھر آیا تھا ان دونوں کو گھر کے لان میں موجود دیکھ کر چلتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا۔۔۔ صوفیہ کی آنکھوں کی نمی اس کی آنکھوں سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی اور ساتھ ہی اس نے ایک دم محب کا چپ ہوجانا بھی محسوس کرلیا تھا
“کیا کوئی خاص بات ہورہی تھی تم دونوں کے درمیان، کہیں میں نے یہاں آکر تم دونوں کو ڈسٹرب تو نہیں کردیا”
مغیث صوفیہ پر نظر ڈال کر محب سے سرسری سے انداز میں پوچھنے لگا
“ہاں خاص بات ہی سمجھ لو میں گڑیا سے اس کے چپ رہنے کی وجہ جاننا چاہ رہا تھا،، تم دونوں کے نکاح کے بعد سے اس کی طبیعت میں کافی تبدیلی آئی ہے جوکہ میرے ساتھ جابی نے بھی محسوس کی ہے اس سے یہی پوچھ رہا تھا یہ اتنی چپ کیوں رہنے لگی ہے اگر کوئی خاص وجہ ہے تو وہ پھر یہ بتائے”
محب مغیث کو دیکھتا ہوا بولا جس پر مغیث مسکرایا
“طبیعت میں تبدیلی نہیں بلکہ ہمارے نکاح کے بعد سے اس میں عقل آگئی ہے اس لیے اس نے سب کے سامنے بچپنا کرنا چھوڑ دیا ہے اگر تم اب بھی اس کو اکیلے میں میرے سے بات کرتے ہوئے دیکھو گے تو تمہاری یہ غلط فہمی بالکل دور ہوجائے گی”
مغیث نے محب کو بولتے ہوۓ صوفیہ کے کندھے کے گرد اپنائیت سے اپنا بازو پھیلایا، جس پر صوفیہ اپنے چہرے پر اسمائل لاکر مغیب کو دیکھنے کے بعد اپنے کمرے کی کھڑکی دیکھنے لگی جیسے وہ یہاں سے اپنے کمرے میں جانا چاہتی ہو
“اگر ایسا ہے تو پھر تو اچھی بات ہے”
محب صوفیہ کو مسکراتا ہوا دیکھ کر اطمینان کرتا ہوا وہاں سے جانے لگا تو صوفیہ نے بھی اپنے کمرے میں جانے کے لئے پر تولے مگر اسے وہاں سے جاتا دیکھ کر مغیث نے اس کی کلائی پکڑی
“میں اپنے کمرے میں جانا چاہتی ہوں مغیث اپنا اسائنمنٹ مکمل کرنا ہے مجھے”
صوفیہ مغیث سے اپنی کلائی چھڑواتی ہوئی بولی اس دن کے بعد سے صوفیہ نے مغیث سے نہ ہی کوئی بات کی تھی نہ ہی اس کو خود سے مخاطب کیا تھا
“بعد میں کرلینا پہلے میرے کمرے میں آؤ فورا”
تھوڑی دیر پہلے وہ محب کے سامنے جیسے مسکرا کر بات کررہا تھا اب محب کے جانے کے بعد اس کے چہرے کے تاثرات بالکل سنجیدہ ہوگئے تھے وہ صوفیہ کو اپنے کمرے میں آنے کا کہہ کر خود اپنے کمرے میں چلا گیا تو صوفیہ بھی سست قدم اٹھاتی ہوئی مغیث کے پیچھے اس کے کمرے میں چل دی۔۔۔۔ وہ صوفیہ کو اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر وہ اپنے کمرے کا دروازہ لاک کرتا ہوا صوفیہ کے پاس آیا
“پہلے تو یہ بتاؤ کہ میری پہنائی ہوئی انگوٹھی کیوں اتار دی تم نے اپنے انگلی سے”
مغیث صوفیہ کا ہاتھ تھام کر اس سے رینگ کے متعلق سوال کرنے لگا جو وہ لان میں ہی دیکھ چکا تھا کہ صوفیہ کی انگلی میں موجود نہیں تھی
“شاور لیتے ہوئے اتاری تھی تو دوبارہ پہننا بھول گئی”
صوفیہ مغیث کو دیکھتی ہوئی بتانے لگی مغیث خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا صوفیہ کا ہاتھ اب بھی اس کے ہاتھ میں موجود تھا
“وہ انگوٹھی اب مجھے ہمیشہ تمہاری انگلی میں نظر آنی چاہئے کیونکہ وہ پہلا ایسا تحفہ ہے جو میں نے بہت محبت سے تمہارے لیے لیا تھا”
وہ صوفیہ کو دیکھتا ہوا بولا تو صوفیہ نے اس کی بات پر اپنا سر ہلایا
“محب کیا پوچھ رہا تھا تم سے”
مغیث صوفیہ کا ہاتھ تھامے نرمی سے اب محب کے بارے میں پوچھنے لگا
“وہ وہی پوچھ رہے تھے جو انہوں نے آپ کے سامنے بیان کیا” صوفیہ مغیث کو دیکھ کر بتانے لگی ساتھ ہی اس نے مغیث سے اپنا ہاتھ چھڑوانے چاہا جسے مغیث چھوڑے بغیر صوفیہ کو دیکھتا ہوا بولا
“تو یعنی میں یہ سمجھو کے میرے بارے میں جاننے کے بعد تمہاری مجھ سے محبت ختم ہوگئی ہے یا تمہیں اپنے نکاح والے فیصلے پر اب پچھتاوا ہونے لگا ہے جبھی دوسرے لوگ تمہارا رویہ محسوس کرکے تم سے سوال کررہے ہیں”
مغیث صوفیہ کو دیکھتا ہوا سنجیدہ لہجے میں اس سے پوچھنے لگا تو صوفیہ نے تڑپ کر اسے دیکھا
“میری آپ سے محبت جبھی ختم ہوسکتی ہے جب میری سانسیں ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں لیکن میں آپ کو یوں خود کو اذیت پہنچاتا ہوا نہیں دیکھ سکتی مغیث عالم،، مجھے ہر لمحہ یہ سوچ کر تکلیف ہورہی ہے کہ آپ نے جس قسم کی عادت اپنائی ہے وہ بہت خطرناک ہے وہ آپ کو مجھ سے، اپنی فیملی سے، ساری خوشیوں سے، آپ کو اپنی زندگی سے دور کردے گی۔۔۔ آپ مجھے بتائیں مغیث میں کیسے خوش رہ سکتی ہوں یہ جان کر کہ آپ خود کو اس راستے پر لے جارہے ہیں جہاں طرف اور طرف نقصان ہے میں ایسے خوش نہیں رہ سکتی مغیث بالکل خوش نہیں رہ سکتی”
صوفیہ بولتی ہوئی اچانک مغیث کے سینے پر سر رکھ کر رونے لگی تھوڑی دیر مغیث نے اسے رونے دیا تاکہ ہفتے بھر کا اس کے اندر بھرا ہوا غبار نکل جاۓ
“تھوڑے دنوں پہلے تک مجھے تم پر غصہ آرہا تھا لیکن اس وقت تمہاری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر مجھے خود پر لعنت بھیجنے کا دل کررہا ہے۔۔۔ اپنی اتنی پیاری سی بیوی کو ایک بےکار سی چیز کے پیچھے اتنا پریشان کردیا میں نے”
مغیث صوفیہ کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولا پھر اس کی آنکھوں سے آنسو صاف کرنے لگا ہوا صوفیہ غور سے مغیث دیکھتی ہوئی بولی
“آپ اپنی اس عادت سے پیچھا چھڑالیں مغیث اس کے بعد میں آپ سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کروں گی کچھ طلب نہیں کروں گی بس آپ یہ بری عادت چھوڑ دیں میری خاطر پلیز”
صوفیہ مغیث کا چہرہ دیکھتی بھی سنجیدگی سے بولی اس وقت یہ مسلئہ اس کی زندگی کا سب سے سنگین مسئلہ بنا ہوا تھا، صوفیہ کی بات سن کر مغیث کے چہرے پر مسکراہٹ آئی وہ صوفیہ کی پیشانی پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا اس کا چہرہ تھام کر بولا
“اچھی طرح سوچ لو یہ آپشن تم مجھے خود ہی دے رہی ہوں اس کے بعد تم مجھ سے کوئی بھی ڈیمانڈ نہیں کرسکتی نہ ہی میں تمہاری کوئی بھی دوسری بات مانوں گا۔۔۔ ڈرک میرے لیے کوئی ایسی شے نہیں جو مجھے بار بار اکساۓ یا مجبور کرے کہ میں اس کا استعمال کرو،، میں اس کا عادی نہیں ہوا اسلیے باآسان اسے تمہارے کہنے پر چھوڑ سکتا ہوں۔۔۔ آج کے بعد تم مجھے اس کا استعمال کرتے کبھی نہیں دیکھ گی یہ وعدہ ہے میرا تم سے”
مغیث کے بولنے پر صوفیہ خوش ہوگئی اس نے کمرے میں موجود وارڈروب کے پاس جاکر جلدی سے اس وارڈروب میں موجود دراز کھولی دراز میں موجود سرنج اور چھوٹی چھوٹی تھیلیاں جن میں سفید سفوف بھرا ہوا تھا واش روم کی طرف لے جانے لگی مغیث خاموشی سے اس کی ساری کاروائی دیکھنے لگا مغیث کو علم تھا وہ یہ سارا سامان ضائع کرنے جارہی ہے صوفیہ جب واپس آئی تو وہ ویسے ہی کھڑا صوفیہ کا منتظر تھا اسی کو دیکھ کر بولا
“تو یعنی میرے پیچھے میرے کمرے میں میری چیزوں کی تلاشی لی جاتی ہے ہمارے نکاح کے بعد تم اب میری چیزوں پر نظر رکھو گی۔۔۔ مطلب بیوی بن کر یہ حرکتیں کرنے والی ہو تم”
مغیث مصنوعی انداز میں صوفیہ کو گھورتا ہوا بولا جس پر صوفیہ مسکرا دی وہ بہت دنوں بعد اس طرح مسکرائی تھی،، مغیث سمجھ چکا تھا اسے اب آگے کافی احتیاط سے اپنی دوسری چیزوں کا خیال رکھنا پڑے گا یہ شکر تھا کہ وہ اپنا پستول کمرے کی بجاۓ اپنی گاڑی میں ہی چھپاکر رکھتا تھا مغیث صوفیہ کو مسکراتا ہوا دیکھ کر اپنی انگلی سے صوفیہ کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کرنے لگا وہ تابعداری سے بات مانتی ہوئی مغیث کے پاس چلی آئی
“تمہاری یہ مسکراہٹ تمہارے چہرے پر بہت خوبصورت لگتی ہے صوفی، میں نہیں چاہو گا کہ یہ کبھی بھی تمہارے ہونٹوں سے جدا ہو”
مغیث صوفیہ کا چہرہ تھام کر اسے بولا اپنی بات مکمل کرنے کے بعد وہ صوفیہ کے ہونٹوں پر جھکتا ہوا اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ چکا تھا جس سے صوفیہ کی دھڑکنوں کی رفتار میں اضافہ ہوگیا صوفیہ کا چہرہ تھامے وہ اپنی پوری شدتیں دکھاتا ہوا اپنی اور صوفیہ کی سانسوں کو ایک کرنے لگا صوفیہ نے اس کے شدت بھر انداز پر بوکھلا کر دور ہٹنا چاہا مگر اس سے پہلے مغیث صوفیہ کے گرد اپنا حصار مضبوط کرچکا تھا۔۔۔ جب اس نے صوفیہ کو آزادی کا پروانہ بخشا تب صوفیہ اس سے نظریں ملائے بغیر تیزی سے کمرے سے نکلنے لگی مگر اس سے پہلے مغیث صوفیہ کو اس کی پشت سے تھام کر دوبارہ اسے اپنے حصار میں قید کرچکا تھا، صوفیہ کی کمر مغیث کے سینے سے لگی ہوئی تھی اس کی ڈھڑکنیں نارمل اسپیڈ سے کافی تیز چل رہی تھی وہ مغیث کی بےباکی پر آنکھیں بند کیے گہرے سانس لینے لگی، مغیث اپنا چہرہ صوفیہ کے کان کے قریب لاتا ہوا اس سے بولا
“مجھے ڈرگس کا نشہ اتنا مدہوش نہیں کرتا جتنا تمہاری یہ قربت مدہوش کردیتی ہے، تمہاری قربت کا نشہ ایسا ہے جو سر چڑھ کر بولنے لگا ہے جو مجھے مجبور کردیتا ہے کہ میں ان لمحات میں پوری دنیا کو حتیٰ کہ خود اپنی ذات کو بھی فراموش کر بیٹھو، اب جب تم میرے قریب ہو تو میرا دل کررہا ہے ہر وقت تمہیں اسی طرح اپنی قید میں رکھو مجھے بالکل بھی نہیں لگتا تمہارے قربت کا نشہ وقتی ہے”
مغیث بولتا ہوا ایک بار پھر مدہوش ہوا وہ صوفیہ کے کان کی لو کو چومتا ہوا اس کے پیٹ پر اپنے دونوں باندھے ہوۓ بازوؤں کا حصار مزید سخت کرنے لگا، صوفیہ کو محسوس ہوا جیسے وہ مکمل طور پر اسے اپنے سینے میں چھپانا چاہتا ہو، صوفیہ نے اپنی آنکھیں بند کر مغیث کے دونوں ہاتھ کلائیوں سے پکڑے تو مغیث اس کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھتا ہوا مذید جھک کر صوفیہ کی گردن کو چومنے لگا جس سے مزید صوفیہ کی دھڑکنیں منتشر ہونے لگیں
“مغیث عالم ڈور لاک نہیں ہے دروازہ کھول کر اندر کوئی بھی آسکتا ہے پلیز خیال کریں کچھ”
صوفیہ اسے مدہوش دیکھ کر بری طرح بوکھلا گئی،، وہ تھا کہ اس وقت اس سے دور ہٹنے کو تیار نہیں تھا اور اس کی گردن پر جھکا اپنی محبت کی گہری چھاپ چھوڑے جارہا تھا صوفیہ کی بات سن پر وہ جھٹکے سے صوفیہ کا رخ اپنی طرف کرتا اسے وارڈروب کے دروازے کے ساتھ لگاتا ہوا بولا
“جو بھی آئے گا وہ شرمندہ ہوکر خود ہی واپس چلا جائے گا، جو اس وقت کمرے سے باہر ہیں تمہیں ان پر توجہ دینے کی بجائے اپنے سامنے کھڑے اپنے مغیث عالم پر توجہ دینا چاہیے”
مغیث اپنے دونوں ہاتھ صوفیہ کے دائیں اور بائیں جانب وارڈروب پر رکھتا ہوا دوبارہ اس کی گردن پر جھکا۔۔۔ لو بائٹ پر صوفیہ کے منہ سے اچانک سسکی نکل گئی مغیث کو اس قدر جذباتی ہوتا دیکھ کر صوفیہ اسے پیچھے ہٹاتی ہوئی بولی
“مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے مغیث عالم اب پلیز مجھے جانے دیں”
اس کی گردن کے ساتھ شرم سے چہرہ بھی سرخ ہوچکا تھا صوفیہ کو لگا اگر وہ مذید مغیث کے کمرے میں رہی تو وہ آج ہی ساری لمٹ کراس کردے گا جبکہ دوسری طرف مغیث کو صوفیہ کا یوں اپنے سے دور کرنا ذرا پسند نہیں آیا وہ پیچھے تو ہوا تھا مگر اس کے دونوں ہاتھ ابھی تک وارڈروب پر ہی ٹکے ہوۓ تھے اپنے ماتھے پر بل لیے صوفیہ سے بولا
“اگر تم اس وقت میرے کمرے سے گئی تو یاد رکھنا آئندہ تمہیں اپنے کمرے میں گھسنے نہیں دوگا”
مغیث صوفیہ کو دھمکی دیتا ہوا بولا ساتھ ہی وہ اس کے ہونٹوں پر جھکنے لگا تو صوفیہ نے تیزی سے اپنے چہرے کا رخ دوسری جانب کیا
“کہاں تو آپ نکاح کے لیے راضی نہیں تھے اور اب ایسی بےتابی دکھا رہے ہیں کہ فلموں کے رومینٹک ہیروز کو بھی شرم آجاۓ”
صوفیہ آنکھیں بند کیے بولی مغیث کا یہ انداز دیکھ کر اس کی حالت غیر ہورہی تھی اس کی بات پر مغیث ایک دم بولا
“ان ہیروز سے تھوڑی سی شرم تم بھی ادھار لےلو اور اپنا منہ بند کرلو، تم سے گرہز برتنے کی یہی وجہ تھی کیوکہ میں جانتا تھا میرے نکاح میں آکر میری دسترس میں تمھاری یہی حالت ہونی ہے”
مغیث نے بولتے ہوۓ ٹھوڑی سے صوفیہ کا چہرہ تھام کر اس کے چہرے کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا صوفیہ کی بند آنکھیں دیکھ کر مغیث اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اب کی بار صوفیہ اسکی شدتوں کی تاب نہ لاتے ہوۓ تڑپ اٹھی اور مغیث کو پیچھے کی طرف دھکیل کر شرم کے باوجود غصے میں اسے دیکھنے لگی جو بناء شرمندہ ہوۓ اپنے ہونٹ پر لگا صوفیہ کے ہونٹ کا خون صاف کرنے لگا
“یہ کون سی محبت ہے آپ کی، بالکل ہی خونخوار درندے بن گئے ہیں آپ تو، اگر اب آپ نے اپنے دانتوں کا استعمال کیا تو توڑ دو گی میں آپ کے سارے دانت”
صوفیہ جو تھوڑی دیر پہلے اپنی گردن پر جلن محسوس کررہی تھی اب اپنے زخمی ہونٹ سے رستا ہوا خون صاف کرکے مغیث کو دھمکی دیتی ہوئی بولی جس کا اثر لیے بغیر مغیث نے اسے اپنی جانب کھینچا وہ جو پھلجڑی بنی ہوئی کھڑی تھی مغیث کے کھینچنے پر ایک دم اس کے سینے سے ٹکرائی
“تمہاری یہ فراٹے بھر کر چلتی ہوئی زبان تو میں بعد میں بند کرو گا لیکن پہلے تمھارے شک وشبہات دور کرکے تمہیں یہ سمجھادو کہ میں کس قسم کا مرد ہوں تاکہ آئندہ تم میری مردانگی کو چیلنج نہ کرسکو”
مغیث نے سنجیدگی سے بولتے ہوۓ گلے سے صوفیہ کا دوپٹہ کھینچنا چاہا ویسے ہی صوفیہ نے مغیث کی کلائی پکڑلی
“وہ سب میں نے آپ کو ہمارے نکاح پر راضی کرنے کے لیے بولا تھا مغیث آپ یہ بات خود بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں”
صوفیہ مغیث کا چہرا دیکھتی ہوئی بولی
“اب جبکہ ہمارا نکاح ہوچکا ہے تو تم بھی راضی ہوجاؤ جو میں اس وقت چاہ رہا ہوں اس کے لیے”
مغیث قریب سے صوفیہ کا چہرا دیکھتے ہوۓ سنجیدگی سے بولا اس وقت اسے صوفیہ کی بلاوجہ کی مداخلت ذرا اچھی نہیں لگ رہی تھی
“جب تک باقاعدہ رخصتی نہیں ہوجاتی تب تک آپ کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا پڑے گا”
مغیث کی خود پر گرفت کمزور دیکھ کر وہ اس سے دور ہوتی ہوئی بولی
“اب جب ہماری رخصتی ہوگی تبھی مجھے سے بات کرنا ورنہ اپنا چہرا دکھانے کی بھی ضرورت نہیں ہے مجھے”
مغیث صوفیہ سے بولتا ہوا جوتوں سمیت بیڈ پر لیٹ گیا تو صوفیہ اس کو ناراض دیکھ کر گھور کر رہ گئی
“ایسا تو بالکل ممکن نہیں ہے مغیث عالم آپکی یہ دیوانی آپ سے بات کیے بغیر یا آپ کو دیکھے بغیر نہیں رہ سکتی”
صوفیہ مغیث کی ناراضگی پر مسکراتی ہوئی اسے بولی
“ہاں ٹھیک کہا، اور خون جلاۓ بغیر بھی نہیں رہ سکتی یہ بھی ساتھ میں بولو”
مغیث بیڈ پر لیٹا ہوا اس سے شکوہ کرتا ہوا بولا جس پر صوفیہ مسکراتی ہوئی اس کے کمرے سے باہر چلی گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مغیث اس سے زیادہ دیر تک ناراض نہیں رہ سکتا۔۔ یہ بات خود مغیث بھی اچھی طرح جانتا تھا اس لئے صوفیہ کو جاتا ہوا دیکھ کر اپنی مسکراہٹ چھپاتا ہوا پاکٹ سے موبائل نکال کر نادر کا میسج دیکھنے لگا جس میں نادر نے آج کا پروگرام اور لوکیشن سینڈ کی ہوئی تھی، صوفیہ کے بارے میں سوچتے ہوۓ مغیث نے یہی ارادہ کیا تھا اب وہ نادر سے ڈرگ کا دوبارہ نہیں بولے گا صوفیہ کو اپنانے کے بعد وہ کم سے کم اس پر اتنا حق تو رکھتی ہے کہ مغیث اس کی خوشی کے لیۓ حقیقت میں نشے کی عادت چھوڑ دے
****
“او نو”
اپنی شرٹ کا سب سے آخری بٹن بند کرتا ہوا محب بےزار لہجے میں بولا کیوکہ شرٹ کا بٹن ٹوٹ کر نیچے گرگیا تھا۔۔۔ ویسے ہی کمرے میں داخل ہوتی مہرماہ نے نے نیچے جھک کر فرش سے بٹن اٹھایا اور محب کی شکل پر چھائی بےزاریت دیکھی
“کوئی بات نہیں دو منٹ لگیں گے میں لگادیتی ہوں یہ بٹن واپس آپ کی شرٹ میں”
مہرماہ ابھی کچن سے عبدل کے ساتھ ناشتہ تیار کرکے آرہی تھی محب کو دیکھ کر بولی۔۔۔ جبران اور صوفیہ نے اسے گھر کے کاموں کو ہاتھ لگانے سے منع کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ مسکرا کر “عادت ہے” بول کر عبدل کا ہاتھ بٹا دیتی جسکی وجہ سے آج کل عبدل بھی پورے عالم ہاؤس میں نئی بھابھی کے گن گاتا ہوا دکھ رہا تھا
“نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ویسے بھی کونسا شرٹ ان کرنی ہے کام چل جائے گا ایسے ہی”
محب نے اس وقت مہرماہ کی خدمت لینا ضروری نہیں سمجھا اس لیے اسے منع کرتا ہوا ڈریس پینٹ میں اپنی شرٹ اوڑسنے لگا مگر مہرماہ نے اس کے پاس آکر محب کا ہاتھ پکڑلیا
“یہ بٹن میں بغیر کسی غلطی کے لگاسکتی ہوں محب بیٹھ جائیے صوفے پر”
مہرماہ کے لہجے پر وہ اسے دوبارہ انکار نہیں کرپایا جبکہ وہ آرام سے بناء بحث کیے دوسری شرٹ بھی پہن سکتا تھا
“اوکے مگر یہ کام دو منٹ میں فنش ہونا چاہیے، جلدی جاکر سوئی اور دھاگہ لے آؤ”
وہ مہرماہ کے گال پر پیار سے تھپکی دے کر بولا اور صوفے پر نیم دراز ہوکر اپنا موبائل دیکھنے لگا
شادی کے ہفتے بعد ہی محب نے مہرماہ کی چند عادتوں میں تبدیلی کا نوٹس لیا تھا وہ گھر کے دوسرے افراد کے سامنے بہت زیادہ نہیں بولتی کسی کے کچھ بولنے پر خاموشی سے مسکرا دیتی یا مختصر سا جواب دے دیتی
کل ہی اس نے مغیث کو مہرماہ سے کہتے سنا تھا کہ انہوں نے اپنے بھائی کے لیے زبان رکھنے والی لڑکی کو ڈھونڈا تھا کیا وہ اپنی زبان اپنے میکے میں بھول آئی ہے۔۔۔۔ مغیث کے بولنے پر مہرماہ مسکرا کر خاموش ہوگئی۔۔۔ تبھی جبران بھی مہرماہ کو خوش رہنے اور سب سے باتیں کرنے گھلنے ملنے کا بول رہا تھا یہ بات محب کو بہت زیادہ محسوس ہوئی تھی،، تبھی رات میں کمرے میں آنے کے بعد اس نے مہرماہ کو پیار سے سمجھایا وہ صوفیہ کی طرح سب سے بات کیا کرے ہنسا بولا کرے۔۔۔ اسے مہرماہ کا اپنے گھر کے افراد سے بات کرنا ہرگز برا نہیں لگتا مگر بےتکا بولنا پسند نہیں جو شرمندگی کا باعث بنے
محب نے موبائل سے نظریں ہٹاکر مہرماہ کو دیکھا تو مہرماہ اس کا گھٹنہ پکڑ کر صوفے سے نیچے اس کا ایک پاؤں سائیڈ پر کرتی فرش پر بیٹھنے کے بعد مگن انداز میں سوئی میں دھاگہ ڈال رہی تھی، محب جو اس وقت ریلکس انداز میں بیٹھا ہوا تھا مہرماہ کو دیکھ کر سیدھا ہوکر بیٹھنے لگا
“ویسے ہی بیٹھیں ناں ویسے آرام سے لگے کا بٹن”
مہرماہ نے بولنے کے ساتھ ہی محب کے سینے پر ہاتھ رکھ کر ہلکے سے اسے پیچھے دھکیلا اور خود سوئی کو دانتوں میں دباتی ہوئی پہلے اپنے دونوں ہاتھوں کو پیچھے کرکے اپنے بالوں کو باندھنے لگی تاکہ بٹن ٹانکتے وقت بال اس کے چہرے پر نہ آۓ۔۔۔۔ محب کو اپنی اور مہرماہ کی پوزیشن کے ساتھ بٹن ٹانکنے کا تصور کرکے ہنسی آنے لگی
“مہر ایسا ہے کہ میں ابھی آفس دوسری شرٹ پہنچ جاتا ہوں جب آفس سے واپس آؤں گا تب رات میں یہ شرٹ دوبارہ پہن لوں گا، پھر تم شوق سے میری شرٹ کا بٹن لگالینا اور میں تمہارے بٹن لگانے کو صحیح طریقے سے انجوائے بھی کروں گا،، اگر تم ابھی ایسا کرو گی تو میں آفس سے لیٹ ہوجاؤں گا سمجھو میری بات کو”
محب کافی سنجیدہ انداز میں ذو معنی بات بول کر اسے سمجھانے لگا اس کی آنکھوں میں شوخی دیکھ کر بھی مہرماہ اس کی بات کو سمجھ نہیں پائی تھی
“مطلب آپ آفس سے آنے کے بعد رات میں دوبارہ یہ آفس والی شرٹ صرف اس لیے پہنیں گے تاکہ میں اس پر بٹن لگاؤ، باؤلی سمجھ لیا ہے شاید آپ نے مجھے۔۔۔۔ بٹن ٹاکنے کا کوئی ایسا بھی شوق نہیں ہے مجھے۔۔۔۔ اور میرے بٹن ٹانکنے پر آپ کیوں انجوائے کریں گے مطلب کوئی سینس بنتا ہے اس بات کا”
مہرماہ خفگی سے بولتی ہوئی اٹھنے لگی تبھی محب نے اس کی کلائی پکڑی مطلب وہ مہرماہ کو ناراض دیکھ کر اب چاہتا تھا کہ مہرماہ اس کی شرٹ کا بٹن لگاۓ، مہرماہ بنا کچھ بولے واپس بیٹھ کر محب کی شرٹ کا بٹن لگانے لگی۔۔۔۔ اس سارے وقت میں محب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جس سے مہرماہ بالکل بےخبر تھی جب مہرماہ بٹن ٹانکنے کے بعد نیچے سے اٹھنے لگی تب محب نے اس کی کلائی پکڑ کر مہرماہ کو اپنی تائی پر بٹھالیا
اب وہ مہرماہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا محب کے مسکرانے کی وجہ مہرماہ کو سمجھ نہیں آئی
“کیا ہوا آپ کو اس طرح کیوں مسکرا رہے ہیں”
اس کا شوہر بلاوجہ مسکرانے کا عادی نہیں تھا اس لیے مہرماہ محب سے اس کے مسکرانے کی وجہ پوچھنے لگی
“ابھی تم نے خود کے لئے “باؤلی” لفظ استعمال کیا ہے ناں تو اس میں سمجھنے والی بات نہیں ہے، تم واقعی میں باؤلی ہو مگر موحد بھی تمہارے لیے “کیوٹ” کا لفظ استعمال کرتا ہے وہ بالکل غلط نہیں بولتا”
محب اب بھی مسکراتا ہوا مہرماہ کا چہرہ دیکھ کر اس سے بولنے لگا
“یعنی کہ آپ مجھے باؤلی بول رہے ہیں” مہرماہ افسوس بھرے لہجے میں محب سے پوچھنے لگی اس نے کس قدر اپنے آپ میں بدلاؤ لایا تھا تب بھی اس کو یہی سننے کو مل رہا تھا
“باؤلی کے ساتھ کیوٹ بھی تو بولا ہے تمہیں، میرے پورے جملے پر دھیان دو نادان لڑکی”
محب بادستور مسکراتا ہوا مہرماہ سے بولا۔۔۔ مہرماہ اس کی بونگی سی بات کو جس کا کوئی سر پیر نہیں اگنور کرتی ہوئی اٹھنے لگی تبھی محب نے نرمی سے اسے اپنی باہوں میں بھرکر صوفے پر لٹادیا
“ہیں یہ اچانک کیا ہوگیا آپ کو، ابھی رات میں ہی تو۔۔۔ اب پھر سے دوبارہ۔۔۔ مطلب آپ تو آفس جانے کے لئے تیار تھے محب، اور ناشتہ بھی تیار ہے آپ کا”
مہرماہ صوفے پر لیٹی ہوئی محب کو شرٹ کے بٹن کھولتا دیکھ کر بوکھلاتی ہوئی بولی آفس جاتے وقت وہ بالکل ہی دوسرے موڈ میں ہوتا تھا آج صبح ناجانے اس کو کیا ہوگیا تھا
“تم چاہ کررہی ہو میں تم سے ناراض ہوکر چلا جاؤ آفس” محب مہرماہ کی بات پر برا مانتا ہوا اس سے پوچھنے لگا۔۔۔ ناراض ہونے کا سن کر مہرماہ نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا تو محب اپنے چہرے کے زاویے درست کرتا ہوا مہرماہ کے اوپر جھکا۔۔۔ وہ باری باری مہرماہ کے دونوں گالوں کو چوم رہا تھا جو شرم سے لال ہوچکے تھے محب مہرماہ کا چہرہ دیکھنے لگا اس نے ہمیشہ کی طرح اپنی دونوں آنکھیں زور سے میچی ہوئی تھی اور ہونٹوں کو بھی سختی سے آپس میں دبایا ہوا تھا
“یہ بات مجھے پہلے دن کنفیوز کرتی ہے میرے قریب آنے پر تم ایسی شکل کیوں بنالیتی ہو”
محب کے سوال کرنے پر مہرماہ نے اپنی آنکھیں کھولیں اور بمشکل بول پائی
“آپ میرے پیٹ پر ہاتھ مت رکھا کریں ناں محب مجھے بہت زیادہ گدگدی ہوتی ہے پلیز اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر سے ہٹالیں”
مہرماہ بہت بےچارگی سے محب کو بتانے لگی مہرماہ کی بات پر ناچاہتے ہوئے بھی محب کے ہونٹوں پر ہنسی آگئی
“تمہیں معلوم ہے مہر اس پوری دنیا میں تم ایک اینٹک پیس ہو جو میرے حصے میں آیا ہے”
محب نے مہرماہ کو بتانے کے ساتھ اپنا ہاتھ مہرماہ کے پیٹ سے ہٹایا مگر محب کی بات پر مہرماہ دوبارہ برا مناتی ہوئی محب کو دیکھنے لگی
“کیوٹ”
محب کو اس کے برا منانے پر کوئی فرق نہیں پڑا، وہ اب بھی اپنے چہرے پر مسکراہٹ لئے مہرماہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ مہرماہ کے پلکیں جھکانے پر محب اس کی گردن پر جھک گیا۔۔۔۔اس کی گردن کو چومتا ہوا محب اپنے ہونٹ گردن سے نیچے لے جانے لگا تب مہرماہ کو ہچکیاں آنا شروع ہوگئی ایسا بھی شروع دن سے ہوتا آیا تھا اس کے پیچھے بھی یقینا کوئی نہ کوئی کہانی ہوگی جو محب مہرماہ سے بعد میں کسی وقت جاننے کا ارادہ رکھتا تھا ابھی تو اس کو اپنے کام میں مدخلت بالکل گنوارہ نہیں تھی
*****
“بھابھی ڈرائی کلین ہوکر سب کپڑے آچکے ہیں”
مہرماہ سکھی سے صفائی کروا کر اپنے روم کی طرف جارہی تھی تب عبدل کپڑے اٹھائے ڈائینگ ہال میں آتا ہوا بولا
“یہ آف وائٹ شرٹ اور گرے شرٹ تو محب کی ہے، اور یہ والی تین مغیث کی، ایسا کرو عبدل موحد کے کپڑے مجھے دےدو، جابی اور مغیث کے کپڑے ان کے رومز میں رکھ دو”
مہرماہ محب اور موحد کی شرٹس اٹھاتی ہوئی عبدل سے بولی اور موحد کے کمرے کی طرف بڑھ گئی
“شاید تم بزی تھے میں تمھاری شرٹس لائی ہوں جو ڈرائی کلین کے لیے بھجوائی تھیں”
ناک کرنے کے باوجود جب موحد نے دروازہ نہیں کھولا تو مہرماہ خود ذرا سا دروازہ وا کرتی اندر کمرے میں جھانکتی ہوئی بولی
“سوری یار مجھے محسوس ہی نہیں ہوا کب آپ نے ڈور ناک کیا میں بالکل بھی بزی نہیں ہوں آپ پلیز اندر آجائیے”
موحد بڑا سا البم بند کرتا ہوا مہرماہ سے بولا وہ عام دنوں کی بانست اسے تھوڑا خاموش اور اداس بھی لگا مہرماہ کمرے میں آئی تو موحد البم ہاتھ میں پکڑے اٹھ گیا شاید وہ البم واپس رکھنا چاہتا تھا تبھی مہرماہ موحد سے بولی
“کچھ خاص ہے اس البم میں کیا میں اسے دیکھ سکتی ہوں”
مہرماہ کی بات سن کر موحد کے قدم تھمے وہ مہرماہ کو دیکھنے لگا کچھ سوچ کر اس نے البم دوبارہ اسٹڈی ٹیبل پر رکھ دی
“یہ البم عالم ہاؤس کے کسی دوسرے فرد کے لیے خاص نہیں ہے صرف میرے لیے خاص ہے آپ دیکھنا چاہیں گیں میری ماما کو،، اس میں ان کی تصویریں ہیں جن سے میں کبھی کبھار باتیں کرلیتا ہوں جب میرا دل اداس ہوتا ہے یا مجھے ان کی کمی محسوس ہوتی ہے”
موحد البم کو دوبارہ کھولتا ہوا مہرماہ سے اداسی سے بولا تو مہرماہ موحد کی بات پر بری طرح چونکی اتنے دنوں میں آج پہلی بار عالم ہاؤس کے کسی فرد کے منہ سے وہ ستارا کا ذکر سن رہی تھی مہرماہ موحد کی ساری شرٹس بیڈ پر رکھتی موحد کے پاس چلی آئی اور ٹیبل پر رکھی ہوئی البم دیکھنے لگی
وہ سب پرانی تصویریں تھیں جن میں ستارہ اور جبران ایک ساتھ موجود تھے کہی تصویروں میں محب اور مغیث بھی دکھائی دے رہے تھے
“مجھے پوری امید ہے محب بھائی نے آپ سے ماما کے بارے میں کبھی کوئی ذکر نہیں کیا ہوگا محب بھائی اور مغیث بھائی دونوں ہی کی نظر میں اس موضوع پر بات کرنا بالکل بےمعنی ہے جسے ان دونوں کی نظر میں ماما کی ذات بےمعنی ہے”
موحد کی بات پر مہرماہ نے ستارہ اور محب کی تصویر سے نظر ہٹاکر موحد کا اداس چہرہ دیکھا
“شاید جابی سمیت محب بھائی اور مغیث بھائی تینوں ہی ماما سے اپنا دل خفا کر بیٹھے ہیں تینوں کو ہی ماما کی ذات سے لا تعداد شکویں لاحق ہیں جنھیں محب بھائی اور مغیث بھائی نے اپنے دلوں میں رکھا ہے وہ ماضی کی تلخ یادوں کو کسی دوسرے پر ظاہر نہیں کرتے اور نہ ہی کبھی کریں گے،، بچپن ہی سے ان دونوں نے اپنے اندر مختلف باتوں کو لےکر غصہ پالا ہوا ہے جو ان دونوں کی ذات کے اندر رچ بس گیا ہے اور اب ان دونوں کی شخصیت کا حصہ بن کر ظاہر ہونے لگا ہے،، ماضی میں ناانصافی کس کے ساتھ ہوئی ہے یہ مجھے علم نہیں ہے مگر اس کے باوجود میں اپنے دونوں بڑے بھائیوں کو اپنے سے زیادہ خوش نصیب تصور کرتا ہوں جنہوں نے ماما کو دیکھا ان کے ساتھ وقت گزارا مگر میرے حصے میں ماما کی تصویریں آئی ہیں جن کے ساتھ میں وقت گزارتا ہوں”
موحد کے لہجے کی اداسی مہرماہ کو اپنے دل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی،، کتنی عجیب بات تھی آج صبح ہی اس نے ستارہ کو برتھ ڈے وش کیا تھا اور موحد بھی آج ہی کے دن اداس ہوکر ستارہ کو یاد کررہا تھا۔۔۔۔ اس سے پہلے مہرماہ موحد سے کچھ بولتی اپنے بجتے ہوئے موبائل فون کی آواز مہرماہ کو قریب سے سنائی دی جس سے موحد اور مہرماہ دونوں کے درمیان باتوں کا سلسلہ ٹوٹا
“بھابھی آپ کا موبائل کافی دیر سے بج رہا ہے”
عبدل موحد کے کمرے میں آکر مہرماہ کو اس کا موبائل تھماتا ہوا بولا
“ہاں رومی بولو سب خیریت ہے ناں”
صبح ہی ستارہ کے ساتھ اس کی رومان سے بھی بات ہوئی تھی عموما صبح موبائل پر بات ہوجانے کے بعد ستارہ یا رومان اس سے بات نہیں کرتے تھے خود مہرماہ کی بھی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ محب کی موجودگی میں زیادہ ان لوگوں سے بات نہ کرے
“خیریت نہیں ہے بجو ماما کی طبیعت بالکل ٹھیک نہیں ہے میں انہیں اسپتال لےکر جانا چاہتا ہوں مگر وہ میرے ساتھ جانے کے لیے راضی نہیں ہیں آپ پلیز ابھی اور اسی وقت کسی طرح سے گھر پہنچ جائیں”
رومان کافی عجلت میں لگ رہا تھا وہ اپنی بات مکمل کرکے کال کاٹ چکا تھا مگر میں اس وقت مہرماہ کے لیے مسئلہ پیدا ہوچکا تھا کیوکہ محب کے بھی آفس سے گھر آنے کا وقت ہوچکا تھا
“کیا ہوا بھابھی سب خیریت تو ہے ناں”
موحد مہرماہ کو پریشان دیکھ کر پوچھنے لگا
*****
“رومان کیوں جھوٹ بولا تم نے مہرو سے جانتے ہو ناں وہ کتنی پریشان ہوجائے گی اور اس وقت محب کے بھی گھر پہنچنے کا ٹائم ہوگا، تم میں عقل نام کی ذرا بھی کوئی چیز نہیں ہے۔۔۔ معلوم نہیں اب مہرو میرا فون کیوں نہیں اٹھا رہی ہے”
ستارہ کو جب رومان کی حرکت کا معلوم ہوا تو وہ رومان پر بری طرح برس پڑی، وہ کافی دیر سے مہرماہ کے نمبر پر کال ملا رہی تھی تاکہ بتاسکے اس کی طبعیت بالکل ٹھیک ہے مگر مہرماہ اس کی کال ریسیو نہیں کررہی تھی
“دو دن سے آپ خود ہی بجو کو یاد کررہی تھیں، میں نے آج آپ کی برتھڈے والے دن سرپرائیز کا سوچ کر انہیں یہاں بلایا ہے تو آپ مجھے ڈانٹ رہی ہیں۔۔۔ بجو کے یہاں آنے پر کھا نہیں جاۓ گیں بجو کو ان کے شوہر”
رومان بول ہی رہا تھا تب ڈور بیل بجی
“رومی کیا ہوا آنٹی کو”
مہرماہ بولتی ہوئی تیزی سے گھر کے اندر داخل ہوئی سامنے کھڑی ستارہ کو دیکھ کر اچانک اس کے قدم رک گئے ستارہ مہرماہ کے پیچھے موحد کو دیکھ کر جلدی سے اپنا چہرہ دوپٹے سے چھپا چکی تھی
“بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں اس بدتمیز نے تمہیں فون کرکے ایسے ہی پریشان کیا تھا۔۔۔۔ موحد بیٹا آپ رک کیوں گئے ہیں اندر آجائیے”
ستارہ مہرماہ کو اطمینان دلانے کے ساتھ دروازے پر کھڑے موحد کو دیکھ کر بولی۔۔۔ مہرماہ رومان کی حرکت پر خفا ہوکر اسے دیکھ رہی تھی جبکہ موحد چلتا ہوا ستارہ کے پاس آکر کھڑا ہوگیا
“اتنے سالوں بعد مجھے دیکھ کر ایک بار بھی آپ کا دل نہیں کیا کہ آپ مجھے اپنے سینے سے لگالیں”
موحد نے بولنے کے ساتھ ہی روتے ہوئے ستارہ کو دیکھا تو وہ غور سے موحد کے بعد مہرماہ کو دیکھنے لگی۔۔۔ مہرماہ اور رومان دونوں کی ہی نظریں موحد پر ٹکی ہوئی تھی جو اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کررہا تھا
“محب بھائی اور مغیث بھائی دونوں کو ہی شروع سے لگتا تھا آپ کو اپنے بیٹوں سے محبت نہیں ہے مگر میں نے بچپن سے ان دونوں کی بات کی مخالفت کی لیکن آج مجھے ایسا لگ رہا ہے آپ کو واقعی ہم سے محبت نہیں ہے”
بولتے ہوئے اس کی آنکھوں سے دوبارہ آنسو جاری ہوئے وہ واپس جانے کے لیے پلٹا۔۔۔ مہرماہ اور رومان ابھی تک سکتے میں کھڑے تھے
“موحد”
تبھی ستارہ روتی ہوئی آگے بڑھی اور موحد کے سینے سے لگ کر زاروقطار رونے لگی
