Teri Deewani By Zeenia Sharjeel Readelle 50387 Teri Deewani (Episode 10)
Rate this Novel
Teri Deewani (Episode 10)
Teri Deewani By Zeenia Sharjeel
“بیٹا آپ نے انکار کیوں کردیا اپنی آنٹی کی طرف جانے سے وہ آپ کا ویٹ کررہی ہوگیں”
ناشتے کی ٹیبل پر عالم ہاؤس کے تمام افراد بیٹھے ناشتہ کررہے تھے تب جبران مہرماہ کو مخاطب کرتا ہوا پوچھنے لگا تو محب ناشتے سے ہاتھ روک کر مہرماہ کو دیکھنے لگا
“جی بس میں نے سوچا آج کا دن آپ سب کے ساتھ گزار لوں رات میں ریسیپشن کے بعد چلی جاؤ گیں”
مہرماہ مسکرا کر جبران کو وہی بات بتانے لگی جو تھوڑی دیر پہلے بیڈروم میں محب نے اسے سمجھائی تھی، اس وقت مہرماہ نے محب کی طرف دیکھنے سے مکمل گریز کیا تھا اور محب بھی مہرماہ کے جواب سے مطمئن ہوکر دوبارہ اپنا ناشتہ کرنے لگا۔۔۔ بیڈروم سے باہر نکلنے سے پہلے وہ مہرماہ کو ستارہ کے پاس جانے سے منع کرچکا تھا اس کا خیال تھا کہ آج شادی کا پہلا دن مہرماہ اس کی فیملی کے ساتھ گزارے۔۔۔ مہرماہ نے فون کرکے ستارہ کو اپنے آنے کا انکار کیا جس کے بدلے میں رومان مہرماہ کے نہ آنے پر اس سے دوبارہ خفا ہوچکا تھا
“کیا آپ آج رات میں اپنے گھر چلی جاۓ گیں بھابھی ایک نظر ذرا محب بھائی کے چہرے کو دیکھے آپ کے جانے کا سن کر کیسے ان کا منہ اتر گیا”
موحد کی بات پر مہرماہ کے ساتھ سب کی نظریں محب کی طرف اٹھیں محب نے سخت نظروں سے موحد کو گھورا
“لگتا ہے کل رات کی ڈانٹ کا اثر اب تک ختم ہوچکا ہے بتاؤ میں تمہیں ابھی”
محب نے صرف گھورنے پر ہی انحصار نہیں کیا بلکہ موحد کا وارننگ بھی دی،، محب کے وارن کرنے پر مغیث نے بھی باتوں میں حصہ لیا
“میں تو چند دنوں سے نوٹ کررہا ہوں اب اسے اپنی نازک اور کمزور ہڈیوں کی پرواہ بھی نہیں رہی،، آج صبح یہ میرے کمرے میں آکر نفسیاتی محبوباؤں کی طرح میرے موبائل کی تلاشی لے رہا تھا جب رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو روتی شکل بناکر مجھ سے معافیاں مانگنے لگا،، میں نے تو آج اس کا لحاظ تمہاری بیوی کی وجہ سے کیا ہے ورنہ کب کا اس کو توڑ پوڑ کر گھر کے کسی کونے میں ڈال دیتا”
مغیث ناشتہ کرنے کے ساتھ آج صبح کا موحد کا کارنامہ بتانے لگا یہ سچ تھا آج اس نے واقعی مہرماہ کا لحاظ کیا تھا جبھی ناشتے پر چاہے کا کپ یا پلیٹ بھی ثابت نظر آرہے تھے
“مجھے کوئی شوق نہیں چڑھا ہے آپ کی نفسیاتی محبوبہ بن کر موبائل میں گھسنے کا،، یہ کام میں نے آپ کی مستقبل کی بیوی کے کہنے پر کیا تھا۔۔۔ صوفی کو شک ہوا کہ آپ کی کوئی گرل فرینڈ تو نہیں بن گئی ہے جس کی وجہ سے کل آپ نے نہ اس کی طرف دیکھا نہ اس کی تعریف کی”
موحد نے جس انداز میں سب کے سامنے اپنا منہ کھولا سب حیرت بھرے تاثرات لیے مغیث اور صوفیہ کو دیکھنے لگے جبکہ صوفیہ جو آج توقع کے خلاف خاموش بیٹھی تھی خونخوار نظروں سے موحد کو دیکھنے لگی
“تم اسے کیا غصے میں گھور رہی ہو یہاں میری طرف دیکھو”
مغیث غصے میں صوفیہ کو دیکھتا ہوا بولا تو مہرماہ پریشان ہوکر محب کو دیکھنے لگی جو بناء ٹینشن لیے آرام سے ناشتہ کررہا تھا جیسے یہ سنگین مسلئے ان کے گھر کے زور کے ہی معمول ہو
“آپ کی طرف کیوں دیکھو،، میں تو جابی کی طرف دیکھو گی، جابی آپ کو معلوم ہے انہوں نے کل مجھ سے کہا کہ ہم دونوں کی شادی نہیں ہوسکتی۔۔۔۔ مطلب کتنی آسانی سے انہوں نے اتنی بڑی بات بول کر میرا دل توڑ دیا جبکہ میں نے فون پر خود سنا تھا آپ اپنے دوست کو بتارہے تھے کہ آپ نے اپنے دوسرے بیٹے کے لیے اپنی بھانجی کا سوچ رکھا ہے بتائے ذرا انہیں آپ”
صوفیہ کی جرت پر سب حیرت سے منہ کھولے اسے دیکھنے لگے یہاں تک کہ جبران بھی جبکہ مغیث کا غفے سے برا حال ہوگیا وہ کرسی کو پیچھے کی طرف دھکیل کر ایک دم اٹھا
“میں تم سے شادی نہیں کرو گا سنا تم نے”
مغیث نے غصے میں صوفیہ کو بولتے ہوۓ اپنا رخ دوسری سمت جبران کی طرف کیا
“جابی میں بالکل سچ بول رہا ہوں اگر آپ نے ہم دونوں کے متعلق ایسا کچھ سوچ رکھا ہے تو یہ خیال اپنے دل سے نکال دیں میں واقعی اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے”
مغیث غصے میں بولا تو ڈائیننگ ہال میں موجود تمام افراد کو سانپ سونکھ گیا۔۔۔ ایک دم سے ماحول ٹینشن ذدہ ہوگیا محب بھی ناشتے سے ہاتھ کھینچتا ہوا مغیث کو دیکھنے لگا جو غصے میں صوفیہ کو سکتے کی کیفیت میں دیکھ کر اب گھر سے باہر نکل گیا تھا
“گڑیا وہ اس وقت غصے میں ہے تبھی ایسا بول رہا ہے،، میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے اس طرح سب کے سامنے منہ کھول کر کچھ بھی نہیں بول دیتی اچھی لڑکیاں، چلو واپس کرسی پر بیٹھو اور ناشتہ کرو”
محب صوفیہ کو دیکھ کر بولا جو بالکل سیریس اپنی کرسی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی
“صوفیہ کیا ہوگیا ہے بیٹا محب بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے”
جب صوفیہ کی طرف سے کوئی عمل نہ ہوا بلکہ اس کی آنکھیں نم ہونا شروع ہوئی تو جبران بھی بولا
“وہ مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے”
صوفیہ آئستہ آواز میں بڑبڑاتی ہوئی بھاگ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی
“صوفی”
موحد صوفیہ کو پکارتا ہوا اس کے پیچھے گیا
“ایسا کیوں بولا مغیث نے جبکہ یہ بات تو بہت پہلے سے طے ہے کیا وجہ ہوسکتی ہے انکار کرنے کی”
جبران محب سے مخاطب ہوا اس کے لہجے میں افسوس شامل تھا مہرماہ کو اپنا وہاں بیٹھنا عجیب سا لگنے لگے اس سے پہلے محب کوئی جواب دیتا موحد بھاگتا ہوا واپس آیا
“جابی صوفی نے اپنے آپ کو کمرے میں لاک کرلیا ہے،، وہ کتنی بےوقوفوں والی حرکتیں کرتی ہے آپ جانتے ہیں ناں وہ بہت زیادہ رو رہی ہے اس کی رونے کی آواز کمرے سے باہر آرہی ہے وہ دروازہ بھی نہیں کھول رہی ہے اپنے کمرے کا”
موحد پریشان سا جبران کو بتانے لگا تو جبران بھی پریشان ہوکر محب کو دیکھنے لگا محب کرسی سے اٹھ کر صوفیہ کے کمرے کی طرف بڑھا تو جبران اور موحد کے ساتھ مہرماہ بھی صوفیہ کے کمرے کی طرف چل دی
****
وہ بےمقصد کار کو نہ جانے کب سے ڈرائیو کیے جارہا تھا اسے صوفیہ کے اوپر اس وقت شدید غصہ آیا تھا جبھی وہ غصے میں صوفیہ کے منہ پر سب کے سامنے شادی سے انکار کرکے گھر سے نکل آیا تھا مگر اب اس کا غصے آئستہ آئستہ ختم ہورہا تھا تو اپنے ادا کیے ہوۓ لفظوں پر مغیث کا اپنا دل ٹوٹنے لگا تھا۔۔۔۔ لیکن یہ صحیح بھی تھا ایک نہ ایک دن اس کو یہ قدم اٹھانا تھا یعنی گھر میں موجود سب افراد کو اس بات سے اگاہ کرنا تھا کہ وہ صوفیہ سے شادی نہیں کرسکتا
جن کاموں کو شوقیہ تفریح کا حصہ سمجھ کر اس نے ہاتھ ڈالا تھا اب آئستہ آئستہ اس کو سمجھ آرہا تھا ان سب سے نکلنا اتنا آسان نہیں،، پولیس کی نظروں میں وہ اور اس کے دونوں دوست بہت پہلے سے آچکے تھے۔۔۔۔ ایک خطرناک کینگ سے ان لوگوں کی منہ ماری ہوچکی تھی۔۔۔۔ اور اس دن بینک رابری کے بعد موحد اور صوفیہ کے خیالات سن کر وہ اندر سے ڈر گیا تھا کیوکہ بہت حد تک ان کےخیالات سچ کی عکاسی کررہے تھے وہ خود بھی جانتا تھا اپنے مستقبل کا سوچتے ہوئے وہ صوفیہ کی زندگی برباد اس سے شادی برباد نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مغیث اس ہنستی مسکراتی خوش رہنے والی لڑکی کی زندگی کو غموں کی نظر نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اپنے دل میں صوفیہ کی خواہش رکھنے کے باوجود وہ اس کو اپنا کر خود غرضی سے کام نہیں لےسکتا تھا کار ڈرائیو کرتے ہوۓ مغیث یہ ساری باتیں سوچ رہا تھا جب اسے موحد کا میسج موصول ہوا
“آپ کی دیوانی آپ کو اور ہمہیں اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جاچکی ہے۔۔۔۔ آخری بار اس کا چہرہ دیکھنا ہے تو شفا ہاسپٹل میں آجائیں”
یہ موحد کا میسج نہیں کوئی بم تھا جو مغیث کو اپنے اوپر پھٹتا ہوا محسوس ہوا
“صوفیہ”
کار کو ایک دم بریک لگاتا ہوا وہ زیرلب بڑبڑایا اسے لگا کہ وہ اب خود بھی نہیں جی پاۓ گا
*****
اس میں اتنی طاقت اور ہمت نہ جانے کہاں سے آئی تھی کہ وہ کار ڈرائیو کرتا ہوا اسپتال تک لے آیا تھا، دور سے آتے ہوۓ محب اور موحد کو دیکھ کر مغیث کا حوصلہ جواب دینے لگا یہ آج کون سی قیامت اس کے سر پر ٹوٹ چکی تھی
“صوفیہ”
آنکھوں میں نمی لیے لڑکھڑاتی ہوئی آواز بہت مشکل سے اپنے حلق سے نکال پایا تھا اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ محب صوفیہ کے بارے میں پوچھتا وہ نم آنکھوں کے ساتھ محب کا ناراض چہرہ دیکھنے لگا
“جب اتنا تڑپ رہے ہو اس کے لئے، تو وہاں سب کے سامنے شادی سے انکار کرکے بکواس کیوں کی تھی جاؤ مل لو گڑیا سے،، سلیپنگ پلز کھاکر اس نے سو سائیڈ کرنے کی کوشش کی تھی بروقت ہم نے اس کو یہاں کر بچالیا ہے” محب کی بات پر جہاں مغیث کو اپنے زندہ رہنے کی نوید ملی وہی محب کے برابر میں کھڑے موحد پر اسے شدید غصہ آیا تھا جس نے اس سے غلط بیانی کی کہ مغیث کا دل چاہا وہ موحد کا سر توڑ ڈالے اسی وجہ سے اس نے زوردار تپھڑ موحد کے منہ پر مارا جس کی وجہ سے وہ لڑکھڑا کر فرش پر جاگرا۔۔۔۔ محب حیرت زدہ سا ہوگیا جبکہ آس پاس کے لوگ مغیث کو دیکھنے لگے
“کیا کررہے ہو مغیث یہ ہمارا گھر نہیں ہے جو اس طرح ری ایکٹ کررہے ہو اس بےچارے کا کیا قصور ہے بیوقوفی تو گڑیا نے کی ہے”
محب مغیث کے غضب ناک تیور دیکھ کر اس کو ٹوکتا ہوا بولا
“پہلے پوچھو اس سے کیا بیہودہ قسم کا میسج کیا تھا اس نے مجھے صوفیہ کے بارے میں،، یہ گھر نہیں ہے جبھی میں اس کا لحاظ کرگیا ورنہ اس کو اچھی طرح میں اس وقت بتاتا”
مغیث غصے میں محب کو بولتا ہوا وہاں سے چلاگیا جبکہ محب چکنے ماربل کے فرش سے موحد کو اٹھانے لگا جس نے مغیث کے سامنے ڈر کے مارے خود اٹھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی کہ کہیں مغیث اسے دوبارہ نہ مارے
“جب پیار کرتے ہیں صوفی سے تو پھر اتنی اوور ایکٹنگ کرکے گھر سے کیوں نکلے تھے کہ میں شادی نہیں کروں گا،، میرا جبڑا ہی توڑ ڈالا میں تو اب ان کی شادی میں بھنگڑا بھی نہیں ڈالوں گا” موحد اٹھنے کے ساتھ برا مناتا ہوا محب سے بولا
****
“بیٹا میں کہہ رہا ہو، وہ کرے گا تم سے شادی میں بھی دیکھتا ہوں وہ عالم ہاؤس میں میری زندگی میں کیسے کسی دوسری لڑکی کو لےکر آتا ہے۔۔۔۔ میں صرف اسے چھ ماہ کا وقت دوں گا اگر اس نے چھ ماہ کے بعد تم سے شادی نہیں کی تو میں اس کو عاق کر ڈالوں گا جائیداد سے”
جبران ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹی ہوئی صوفیہ کو دیکھ کر بچوں کی طرح بہلاتا ہوا بولا مگر صوفیہ کی نظریں جبران کی بجائے ہاسپٹل کے کمرے کے دروازے پر کھڑے مغیث کو دیکھ رہی تھی جو اسے اس کی حرکت پر غصے میں بری طرح گھور رہا تھا
“چھ ماہ بعد نہیں جابی مجھے آج ہی مغیث عالم سے نکاح کرنا ہے، محب بھائی کے ریسپشن میں ہی”
صوفیہ مغیث کے چہرے پر غصے کے تاثرات دیکھنے کے باوجود بےخوفی سے بولی
“کیا ارادہ ہے تمہارا، میرے ہاتھوں مرنا چاہتی ہوں تم آج ہی”
مغیث صوفیہ کی ڈیمانڈ سن کر کمرے کے اندر آتا ہوا بولا تو جبران پلٹ کر اسے غصے میں دیکھنے لگا
“اسے مارو گے تم، جواب دو مجھے یہ تم سے محبت کرتی ہے اور اس کی محبت کی یہ قدر ہے تمہارے دل میں۔۔۔ مغیث اگر تمہاری زندگی میں کوئی دوسری لڑکی ہے تو آج ہی اسے میرے سامنے لاؤ،، میں آج ہی تمہارا اس لڑکی سے نکاح پڑھوا دوں گا لیکن اگر تمہاری زندگی میں کوئی دوسری لڑکی موجود نہیں ہے تو تمہارا آج ہی صوفیہ سے نکاح ہوگا اب اسے اپنے باپ کا حتمی فیصلہ سمجھو”
جبران کو یہ تو معلوم نہیں تھا کہ اس کی بھانجی کو اس کا بیٹا پسند کرتا ہے یا نہیں لیکن اسے یہ ضرور اندازہ تھا کہ مغیث کی زندگی میں کوئی دوسری لڑکی نہیں تھی وہ اپنا فیصلہ سناتا ہوا کمرے سے باہر چلا گیا۔۔۔۔ مغیث اپنا غصہ ضبط کرتا ہوا صوفیہ کے پاس آیا تو صوفیہ نے ہمت کرکے بیڈ پر بیٹھنا چاہا مغیث نے اسے دونوں کندھوں سے تھام کر واپس بیڈ پر لٹادیا
“جابی صرف غصے میں جذباتی ہوکر ایسا بول کرگئے ہیں، تم جابی کے سامنے ابھی ہمارے نکاح کا انکار کرو گی ورنہ میں تمہارا بہت برا حشر کردو گا سمجھ میں آیا تمہیں”
مغیث سنجیدہ انداز میں صوفیہ کو دھمکاتا ہوا بولا
“برا حشر تو کرچکے ہیں آپ میرا، دیکھ نہیں رہے۔۔۔ آپ کی محبت میں کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہوں میں۔۔۔ اور آپ چاہ رہے ہیں کہ میں نکاح سے انکار کردو، خوش فہمی ہے آپ کی کہ میں جابی کے سامنے سے نکاح سے انکار کرو گی”
صوفیہ اس کے غصے کی پرواہ کیے بغیر بولی واقعی اس کی محبت میں وہ دیوانی ہسپتال کے بیڈ تک پہنچ گئی تھی۔۔۔ صوفیہ کی بات پر مغیث ضبط سے اپنے لب بھینچ کر رہ گیا
“آگ سے مت کھیلو صوفی میں نہیں چاہتا تمہاری زندگی برباد ہو، میرا زندگی بھر کا ساتھ تمہیں کچھ نہیں دے پاۓ گا سواۓ آنسؤوں کے۔۔۔ جابی میری بات نہیں مانیں گیں اور ان کے سامنے تم خود نکاح سے انکار کرو گی۔۔۔ دیکھو میں تمہیں اس وقت بہت پیار سے سمجھا رہا ہوں مان لو میری بات”
مغیث صوفیہ کے چہرے کے قریب اپنا چہرا لاکر اب کی بار سچ میں نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا
“آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں مغیث عالم جبکہ آپ خود بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں”
صوفیہ کو مغیث کی بات سے تکلیف ہونے لگی احتجاجا اس نے چیخنا چاہا مگر کمزوری اور نقاہت کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکی
“میں تم سے محبت نہیں کرتا۔۔۔ نہیں ہے مجھے تم سے محبت۔۔۔ سنا تم نے”
غصے میں اس نے صوفیہ کا ہاتھ سختی سے پکڑا تو صوفیہ نے درد سے اپنی آنکھیں زور سے بند کی ساتھ ہی اس کے منہ سے سسکی نکلی،، مغیث نے جلدی سے اپنا ہاتھ صوفیہ کے کلولہ لگے ہاتھ سے دور کیا
“جھوٹ، بالکل جھوٹ۔۔۔ میں نہیں مانتی۔۔۔ آپ نے میرے سامنے خود مجھ سے اپنی محبت کا اعتراف کیا تھا”
اگر مغیث بحث اور ضد پر اتر چکا تھا تو وہ کیوں پیچھے رہتی۔۔۔ صوفیہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی مغیث کو وہ دن یاد دلانے لگی جب مغیث نے بےخودی کے عالم میں اس کے سامنے اپنی محبت کا اس سے اعتراف کیا تھا
“بکواس کی تھی میں نے اس دن۔۔۔ صوفیہ اگر تم نے نکاح سے انکار نہیں کیا تو ابھی تم خود اپنی بےوقوفی سے ہسپتال پہنچی ہو۔۔۔ اگر ہمارا نکاح ہوگیا تو اس کے بعد میں خود تمہیں یہاں پھینک کر جاؤ گا”
مغیث نے صوفیہ کو آخری بار سنگین نتائج سے آگاہ کرتے ہوۓ دھمکانا چاہا
“وجہ کیا ہے آخر نکاح سے انکار کرنے کی خدا نخواستہ کسی موذی مرض میں مبتلا ہیں آپ یا پھر نامرد ہوچکے ہیں جو شادی نہیں کرنا چاہتے”
صوفیہ کی بات مغیث کو بری طرح آگ لگا گئی تھی اگر وہ ہسپتال کے بیڈ پر نہ لیٹی ہوتی تو مغیث آج اس کی اچھی طرح طبعیت صاف کردیتا
“اب ہمارا نکاح ہوجانے دو پھر میں تمہیں اچھی طرح بتاؤ گا آخر مسلئہ کیا ہے میرے ساتھ”
وہ صوفیہ کو بولتا ہوا ہسپتال کے کمرے سے جانے لگا
“بلیک کرتا شلوار پہنیئے گا آج کی تقریب میں، معلوم ہے ناں اس میں آپ کافی ہاٹ اور ہینڈسم لگتے ہیں”
صوفیہ کی بات پر وہ مڑ کر صوفیہ کو خونخوار نظروں سے گھورنے لگا جس پر وہ مغیث کو آنکھ مار کر اسمائل دینے لگی مغیث گھور کر اس کو دیکھتا ہوا ہسپتال کے کمرے سے باہر نکل گیا
*****
“جی آنٹی اب تو صوفیہ ٹھیک ہے موحد کی ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی مجھ سے بات ہوئی تھی، ایک پل کے لیے صوفیہ کو بےہوش دیکھ کر میں تو بہت بری طرح ڈر گئی تھی مغیث تو اسی وقت گھر سے باہر نکل گیا تھا معلوم نہیں اسے صوفیہ کے بارے میں معلوم بھی ہے کہ نہیں۔۔۔۔۔ اس کے بارے میں تو آنٹی مجھے کچھ نہیں معلوم کے شام میں فنگشن ہوگا یا پھر کینسل کردیا جائے گا۔۔۔۔۔ جی محب تو ٹھیک ہے میرے ساتھ۔۔۔ شروع میں ایک دوسرے کو سمجھنے میں تھوڑا وقت تو لگتا ہے اتنی جلدی دو اجنبی انسان ایک دم سے بےتکلف نہیں ہوسکتے ناں”
ابھی مہرماہ ستارہ کو اپنے اور محب کے بارے میں بتارہی تھی جبھی اس کی نظریں کمرے کے دروازے تک گیئں جہاں محب کھڑا تھا اسے ستارہ سے بات کرتے ہوئے خبر تک نہیں ہوئی تھی کہ وہ کب کا گھر آچکا تھا
“محب واپس آگئے ہیں میں بعد میں بات کروں گی آپ سے”
مہرماہ محب کی سنجیدہ تاثرات دیکھ کر موبائل پر ستارہ سے بولی اور بات ختم کرکے موبائل ایک طرف رکھ دیا
“کیا باتیں بتارہی تھی تم اپنی آنٹی کو”
وہ سنجیدہ تاثرات لیے چلتا ہوا مہرماہ کے پاس آیا اور اس سے سوال کرنے لگا مہرماہ محب کی بات سن کر صوفے سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی
“کچھ خاص نہیں بس آنٹی آپ کے بارے میں پوچھ رہی تھی،،، جیسے ہر ماں اپنی بیٹی سے پوچھتی ہے کہ کیسا رویہ رہا اس کے شوہر کا اس کے ساتھ”
مہرماہ محب کے چہرے کے تاثرات دیکھتے ہوئے تھوڑا جھجھکتی ہوئی بولی محب کی آنکھوں میں واضح ناگواری دیکھ کر وہ اندر سے ڈر گئی تھی
“صرف ہمارے بارے میں تو بات نہیں ہورہی تھی تم نے گڑیا اور مغیث کے بارے میں بھی بات کی تھی۔۔۔ میں پوچھ سکتا ہوں آخر تم نے کس حیثیت سے میرے گھر کی پرائیویٹ باتیں اپنی آنٹی سے شئیر کیں”
بولتے ہوئے محب کے چہرے کے تاثرات اور لہجے میں مزید سخت در آئی تو مہرماہ چاہ کر بھی یہ نہیں بھول پائی کہ اس کی آنٹی کوئی غیر نہیں بلکہ اسی گھر کے فرد میں سے ہیں
“سوری محب میں نے بس یونہی آنٹی کو سرسری سے بتادیا تھا کہ آج صبح۔۔۔۔
مہرماہ نے بولنا چاہتا تو محب نے مہرماہ کو واپس صوفے پر بٹھا دیا اور خود اس کے سامنے جاکر بیڈ پر بیٹھا
“میری ایک بات یاد رکھنا مہرماہ مجھے ایسی عورتوں سے سخت قسم کی چڑ ہے جو اپنے سسرال کی خبروں کو بریکنگ نیوز یا چٹخارے دار بناکر اپنی دوستوں یا گھر والوں سے شیئر کرتی ہیں۔۔۔۔ اب تمہیں میرے اس گھر کو اپنا سسرال نہیں بلکہ اپنا گھر سمجھ کر یہاں رہنا ہوگا آئندہ میں تم سے امید کروں گا کہ تم یہاں کی کوئی بھی بات یا پھر مسئلہ کسی دوسرے ایرے غیرے سے ڈسکس نہیں کرو”
محب چہرے پر سنجیدگی لیے مہرماہ کو بولا تو مہرماہ کا سر شرمندگی سے جھک گیا مگر اسے لفظ ایرے غیرے پر افسوس ہوا جو اس کا شوہر اس کی فیملی کے لیے استعمال کررہا تھا جبکہ دوسری طرف محب کو مہرماہ کی آج کی فون پر باتیں بتانے والی حرکت بےانتہا ناگوار گزری تھی وہ مہرماہ کے جھکے ہوئے سر کو دیکھ کر مزید اس سے پوچھنے لگا
“ہم دونوں کے متعلق تم نے اپنی آنٹی کو کیا بتایا”
محب کے پوچھنے پر مہرماہ نے سر اٹھا کر سامنے بیٹھے محب کو دیکھا وہ ابھی بھی چہرے پر سنجیدگی لیے اس کو ایسے دیکھ رہا تھا کہ مہرماہ کو اپنا آپ مجرم تصور ہونے لگا
“کک کیا بتاؤ گی میں بھلا آنٹی کو آپ کے اور اپنے بارے میں، آپ پلیز مجھے یوں شرمندہ مت کریں”
جواب دیتے ہوئے مہرماہ کی آنکھیں نم ہونے لگی کیوکہ رات کی بانسبت صبح محب کا رویہ اس سے عجیب ہوگیا تھا پہلے اس نے اسے ستارہ اور رومان کے پاس جانے سے روکا اور اس وقت وہ ناجانے کیسے سوالات کررہا تھا۔۔۔ مہرماہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر محب مزید تلخ ہوا
“شرمندہ تو تم مجھے کررہی ہو اپنے گھر والوں کے سامنے، تم نے یہ کیوں بولا اپنی آنٹی سے کہ دو اجنبی انسان اتنی جلدی بےتکلیف نہیں ہوسکتے اس بات سے کون کیا، مطلب اخذ کرے گا کسی کے دماغ کا کیا اندازہ لگاسکتے ہیں۔۔۔ تم اپنی آنٹی کو یہ بتانا چاہ رہی تھی کل رات میں نے تم سے اجنبی رویہ رکھا جبکہ تم خود کمفرٹیبل نہیں تھی اور اپنی آنٹی کے سامنے سارا بلیم تم نے مجھ پر ڈال دیا”
محب غصے میں مہرماہ سے بولا تو مہرماہ اٹھ کر ایک دم کھڑی ہوگئی
“آپ کون سی بات کو کہا جاکر ملارہے ہیں محب میں نے ایسا کچھ نہیں بولا آنٹی کو،، میں ایسی بات شئیر کروں گی انٹی سے”
مہرماہ کو اپنی صفائی دیتے ہوئے رونا آنے لگا
“شٹ اپ میرے آگے زبان چلانے کی ضرورت نہیں ہے نہ ہی زیادہ مظلوم بننے کی”
محب اس کے احتجاج کرنے پر مہرماہ کو ڈانٹتا ہوا بولا
“محب بھائی جابی بول رہے تھے کہ آپ ان سے۔۔۔۔
موحد ایک دم کمرے میں آتا ہوا بولا مگر مہرماہ کو روتا ہوا دیکھ کر اور محب کو غصے میں دیکھ کر اس کے قدم اور زبان وہی رک گئی۔۔۔ مہرماہ جلدی سے اپنے آنسو صاف کرنے لگی جبکہ محب غصے میں موحد کو دیکھ کر مزید بھڑکا
“یہ کون سا طریقہ سیکھا ہے تم نے کسی کے بیڈروم میں داخل ہونے کا انسان پہلے دروازہ ناک کرتا ہے یا اندر آنے کی اجازت لیتا ہے۔۔۔ کیا ساری تمیز بھولتے جارہے ہو تم”
محب موحد کو آنکھیں دکھاتا ہوا جھڑک کر بولا
“سوری بھائی مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا”
وہ شرمندہ ہوکر بولا اور کمرے سے واپس چلا گیا
“ساری زندگی ایسے ہی کھڑے ہوکر اس بات کا سوگ منانا ہے کہ شادی کے دوسرے دن ہی شوہر نے ڈانٹ دیا جاؤ جاکر منہ ہاتھ دھؤ،، ایک گھنٹے بعد موحد پالر لےجائے گا تمہیں”
محب کا آرڈر ملتے ہی مہرماہ فورا واش روم چلی گئی وہ اس وقت خود بھی محب کی نظروں کے سامنے نہیں رہنا چاہتی تھی جبکہ محب سر جھٹک کر بیڈ پر لیٹ گیا
