354K
32

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Deewani (Episode 15)

Teri Deewani By Zeenia Sharjeel

“میرا نشانہ چونکا نہیں ہے اس پستول کی گولی سے کہی لوگ اپنی جان سے گئے ہیں اگر تم اپنی زندگی کی سلامتی چاہتے ہو شرافت سے جاکر اپنی جگہ پر بیٹھ جاؤ”

مغیث نے زاہد کا گریبان پکڑ کر تیز آواز میں باقی سب میں دہشت پیدا کرنے کے لیے ڈائیلاگ بولا زاہد کو گریبان سے پکڑ کر باقی سب لوگوں کی طرف دھکا دیا، وہ دوبارہ شارف کی طرف مڑا جب چیخ کر روتی ہوئی لڑکی کی آواز پر وہ دوبارہ پلٹنے پر مجبور ہوا۔۔۔

ان تمام افراد کے بیچ میں بیٹھی ہوئی اس لڑکی کو دیکھ کر مغیث کے پیروں تلے زمین نکل گئی بےیقینی کی کیفیت میں صوفیہ کو دیکھ کر مغیث کا دل کیا کے وہ اپنے آپ کو چھپالے یا پھر اپنے وجود کو لےکر کہیں غائب ہوجائے صوفیہ خوف سے زیادہ صدمے کی کیفیت میں مغیث کے اس روپ کو دیکھ کر رو رہی تھی،،

صوفیہ کی وہاں موجودگی خود مغیث کے لیے بھی کسی شاک سے کم نہیں تھی اس کی آنکھوں میں اپنے لیے خوف دیکھ کر مغیث کا دل کیا وہ شرمندگی سے زمین میں گڑھ جائے۔۔۔ وہ یہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ صوفیہ یا پھر اس کے گھر کا کوئی بھی فرد اس کا یہ روپ دیکھے

“صوفیہ خاموش ہوجاؤ سنا نہیں اس نے ابھی کیا کہا ہے یہ خطرناک لوگ ہیں یہ ہماری جان بھی لے سکتے ہیں پلیز چپ کرجاؤ بیٹا”

برابر میں بیٹھی ہوئی فی میل ٹیچر صوفیہ کو خاموش کرواتی ہوئی بولیں تو صوفیہ نے روتے ہوۓ انکے کندھے پر اپنا سر رکھ لیا،، آج جو اس پر انکشاف ہوا تھا وہ یقینا اس کے لیے بہت تکلیف دہ تھا وہ ابھی بھی بلک بلک کر رو رہی تھی صوفیہ کی حالت دیکھ کر مغیث غصے میں نادر کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے ایک سائیڈ پر لے آیا

“دماغ ٹھیک ہے تم دونوں کا یہ کیا کردیا ہے آج تم دونوں نے”

مغیث غصے میں نادر کو دیکھتا ہوا بولا

“او بھائی ہم نے دور سے اس کوسٹر کو ٹارگٹ کیا تھا ہمہیں کیا معلوم کہ اندر کون موجود ہے دیکھ میں اور شارف اس بات کو سمجھتے ہیں، اس وقت تیری پوزیشن اپنی کزن کے سامنے کافی اکورڈ ہوچکی ہے مگر اب تجھے اس صورتالحال کو دیکھ کر کمزور نہیں پڑنا ہے بلکہ عقل سے کام لینا ہے ورنہ آج کا پورا پلان خراب ہوجائے گا، تیری کزن سے متعلق ہم تینوں بعد میں ڈیسائیڈ کرلیں گے کہ کیا کرنا ہے۔۔۔ باقی ان سب لوگوں سے سب کچھ وصول کرکے انہیں فارغ کرتے ہیں پہلے”

نادر کی بات سن کر مغیث نے اپنا سر پکڑ لیا وہ نادر کو یہ نہیں بتاسکا یہ لڑکی صرف اس کی کزن نہیں بلکہ منکوحہ بھی تھی کاش یہاں پہنچنے سے پہلے شارف یا نادر میں سے کوئی اس کو ساری معلومات سے آگاہ کردیتا تھے تو وہ اسطرح صوفیہ کا سامنا کبھی نہ کرتا بلکہ کچھ بھی پلان کر کے وہ یہاں سے صوفیہ کو نکال لیتا

“تم دونوں کو جو بھی کچھ کرنا ہے وہ کرو،، کیوکہ میرا دماغ اس وقت بالکل کام نہیں کررہا میں جلد سے جلد اسے یہاں سے اپنے ساتھ لےکر نکلنا چاہتا ہوں بس”

ہمیشہ سے پورا پلان اور جو بعد میں کرنا ہو وہ مغیث ڈیسائیڈ کرتا آیا تھا، اور ان دونوں کو گائیڈ بھی وہی کرتا تھا لیکن آج واقعی اس کی عقل صوفیہ کو دیکھ کر اس کا ساتھ نہیں دے پارہی تھی۔۔۔ اس کے ہاتھ میں موجود پستول کو دیکھ کر صوفیہ کا بار بار رونا۔۔۔ مغیث اپنے ہاتھ میں موجود پستول بھی واپس رکھ چکا تھا

“دیکھو ہم تینوں کی تم لوگوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے اگر تم سب ہمارے ساتھ تعاون کروگے اور ہماری بات مانو گے تو تم سب یہاں سے بہت جلد اور باحفاطت طریقے سے جاسکتے ہو”

مغیث ان تمام لوگوں کے پاس پہنچ کر صلح جو انداز میں بولنے لگا شاید اس نے ایسا لاشعوری طور پر صوفیہ کو ریلکس کرنے کے لیے کیا تھا کیوکہ صدمے کے ساتھ وہ اسے کافی سہمی ہوئی دکھ رہی تھی

“لیکن اگر تم میں سے کسی نے بھی کسی قسم کی ہوشیاری دکھائی تو میں قسم کھاکر کہتا ہوں اس کو زندہ نہیں چھوڑوں گا”

نادر کے بلند آواز میں بولنے پر مغیث ماتھے پر بل لیے نادر کو دیکھنے لگا مگر نادر مغیث کو دیکھنے کی بجاۓ اپنی پستول کی گولیاں چیک کرنے لگا

“تم سب یہاں ایک ایک کرکے باری باری آؤ اپنے پاس موجود سارا قیمتی سامان اس میز پر رکھتے جاؤ۔۔۔ چل بے سب سے پہلے تو اٹھ اور یہاں آکر اپنی جیبیں خالی کر”

شارف نے سب سے پہلے ڈرائیور کو مخاطب کیا وہ اٹھ کر شارف کے پاس آیا اور اپنی جیب میں موجود والٹ اس ٹوٹی ہوئی ٹیبل پر رکھنے لگا جس پر شارف نے اشارہ کیا تھا، شارف کے اشارہ پر اس نے اپنے ہاتھ میں بندھی ہوئی گھڑی اور انگوٹھیاں بھی اتار کر ٹیبل پر رکھ دی

“آنٹی جی اب آپ کی باری ہے اپنے ہاتھ میں موجود بیگ لےکر یہاں تشریف لے آئیے”

ڈرائیور کو واپس جگہ پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے شارف مس زیبا سے بولا جو ان سب میں سے کافی عمر دار تھی اور سب سے سینئر ٹیچر تھی، صوفیہ ابھی تک مس انیلا کے کندھے پر اپنا گال ٹکاۓ باری باری سب کو ٹوٹی ہوئی میز پر ایک ایک کر کے آتا ہوا اور چیزیں رکھتا ہوا دیکھ رہی تھی،، اس نے چیخنا اور زور زور سے رونا بند کردیا تھا مگر اس کی آنکھوں سے ابھی تک آنسو گررہے تھے، ان آنسوؤں میں درد تکلیف صدمے کی کیفیت موجود تھی جبکہ دوسری جانب مغیث بالکل خاموش کھڑا ہوا تھا وہ سب لوگوں کی کاروائی بالکل خاموشی سے دیکھ رہا تھا اور ساتھ ساتھ شرمندہ سی نگاہ وہ صوفیہ کے اوپر بھی ڈال لیتا

“او بھائی صاحب تمہیں کیا الگ سے بولنا پڑے گا اپنا اے ٹی ایم کارڈ نکال کر یہاں پر رکھو اور پاسورڈ اس پیپر پر لکھو،، یاد رکھو تم سب لوگ، اگر کسی نے پاسورڈ غلط لکھا تو میں یہاں سے اسے واپس زندہ نہیں جانے دوں گا”

شارف سب کی طرف دیکھتا ہوا ایک بار پھر ان سب کو تنبیہی کرتا ہوا یاد دلانے لگا۔۔۔ نادر کی پستول کار رخ ابھی تک ان سب کی طرف موجود تھا وہ مغیث کی طرح خاموش مگر الرٹ کھڑا پوری کاروائی دیکھ رہا تھا

“آجائیے مس اب آپ کی ہی باری ہے”

شارف غور سے صوفیہ کے ساتھ موجود دوسری اسٹوڈنٹ کو دیکھ کر بولا تو اقراء گھبراتی ہوئی اٹھ کر کھڑی ہوگئی اور شارف کے پاس آئی

“مال ٹائٹ ہے”

اقراء اپنے گلے میں موجود گولڈ کی چین اتار رہی تھی تبھی نادر بڑبڑایا، اس کی بڑبڑاہٹ اقراء کے ساتھ مغیث اور شارف نے بھی سنی

ان دونوں نے ہی نادر کی بات پر توجہ نہیں دی اب کی بار شارف نے انیلا کی طرف دیکھا صوفیہ کو انیلا کے کندھے سے اپنا سر اٹھانا پڑا

“میرے پاس کوئی بھی خاص یا قیمتی چیز موجود نہیں ہے یہ دو چوڑیاں بھی آرٹیفیشل ہیں اس کے علاوہ بس ایک موبائل تھا جو آپ لوگ پہلے ہی لے چکے ہیں”

مس انیلا شارف کو بتانے لگیں

“یہ پرس کھولو”

شارف مس انیلا کے ہاتھ میں موجود چھوٹے سے پرس کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا

“میرا یقین کرو اس میں کوئی خاص چیز موجود نہیں ہے”

مس انیلا کے بولنے پر شارف نے پستول کا رخ جیسے ہی مس انیلا کی طرف کیا وہاں موجود مغیث اور نادر کے علاوہ تمام افراد سہم گئے۔۔۔ مس انیلا نے فورا ہی اپنے ہاتھ میں موجود پرس کھول کر شارف کی طرف بڑھایا، شارف پرس میں جھانک کر کمینگی سے مسکرایا اور مس انیلا کو پستول سے واپس بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا

“اے میڈم وہی کھڑی رہو۔۔۔ شارف پرس میں جو بھی چیز موجود ہے باہر نکال ذرا ہمیں بھی تو معلوم ہو آنٹی جی ہم سب سے آخر کیا چھپارہی تھی”

نادر ایک دم بولا

“فضول کی باتیں چھوڑو، جس کام کے لیے ان سب کو یہاں روکا ہے وہ کرو۔۔۔۔ پھر ہمیں جلد سے جلد یہاں سے نکلنا ہے”

مغیث بیچ میں مداخلت کرتا ہوا بولا

“برادر آج تو تیری سٹی سب سے زیادہ گم ہے،،۔۔۔ اے شارف کیا بولا میں نے پرس کھول”

نادر مغیث سے بولنے کے بعد دوبارہ شارف سے بولا

“جانے دے یار کیوں شرمندہ کررہا ہے آنٹی کو، ان کے اپنے کام کی چیز ہے پرس میں،، آنٹی جی تشریف لے جائیے، خوش رہیں آلویز”

شارف بےغیرتی سے انیلا کو دیکھتا ہوا بولا جس پر وہ بری طرح شرمندہ ہوگئی۔۔۔ جبکہ نادر اور شارف جاہلوں کی طرح قہقہہ لگاکر ہنسنے لگے مغیث بےذاری کے عالم میں وہاں کھڑا تھا، وہ جلد سے جلد صوفیہ کو یہاں سے لےکر نکل جانا چاہتا تھا۔۔۔ مس انیلا کے واپس بیٹھنے پر مغیث، نادر، اور شارف کی نظریں بیک وقت صوفیہ پر پڑی اب اسی کا نمبر تھا،، اس سے پہلے مغیث کچھ بولتا صوفیہ کو اٹھتا ہوا دیکھ کر، اس سے پہلے شارف بول اٹھا

“نہیں تم نہیں تم واپس بیٹھو اپنی جگہ،، انکل تم آجاؤ یہاں”

شارف نے مغیث کا لحاظ کرکے صوفیہ کو منع کرنا چاہا اور اس کے برابر میں بیٹھے سر کمال کو پستول کے اشارے سے اپنے پاس آنے کو کہا

“مگر میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ خاص ہے”

صوفیہ بولتی ہوئی شارف کے پاس آنے لگی

“سنا نہیں تم نے اس نے تمہیں واپس اپنی جگہ پر بیٹھنے کو کہا ہے”

مغیث بولتا ہوا اپنی جگہ سے چل کر صوفیہ کے پاس آنے لگا مگر وہ مغیث کو نظر انداز کرتی ہے شارف کے پاس چلی آئی تو مغیث بھی شارف کے پاس آکر ٹھہر گیا،، اس وقت صوفیہ کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا اس لیے مغیث کو دھڑکا لگا ہوا تھا کہ وہ کوئی حماقت نہ کر ڈالے

صوفیہ نے اپنے گلے میں پڑا ہوا “ایس” کا پینڈینٹ اتار کر میز پر رکھا جسے نادر اور شارف دونوں پہچان چکے تھے اور کچھ کچھ سمجھنے بھی لگ گئے تھے

“صوفی پلیز”

صوفیہ کو اپنی دی ہوئی ڈائمنڈ رنگ اتارتا دیکھ کر مغیث بہت ہی آہستہ آواز میں بولا جو صوفیہ کے علاوہ صرف شارف سن سکا تھا صوفیہ نے خاموشی سے وہ رینگ میز پر رکھ دی اور شارف کی طرف دیکھنے لگی

“مس انیلا نے تم سے غلط بولا تھا کہ ان کے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے مس انیلا کو تمہیں یہ ضرور دینا چاہیے تھا”

صوفیہ نے بولتے میں بغیر سوچے سمجھے یا اپنے انجام کی پرواہ کئے بغیر اپنا ہاتھ اٹھایا اور پوری شدت سے زوردار تھپڑ شارف کے گال پر مارا۔۔۔ جس سے ایک پل کے لئے شارف نادر اور مغیث سمیت وہاں پر موجود پر افراد سناٹے میں آگئے

“اے لڑکی ہمت کیسے کی تم نے اس کو مارنے کی۔۔۔۔ ٹہرو، اس تھپڑ کا مزا تو اب میں تمہیں چکاتا ہوں”

سب سے پہلے نادر ہوش میں آیا اور غصے میں بولتا ہوا صوفیہ کے پاس جانے لگا مگر اس سے پہلے مغیث صوفیہ کی ڈھال بن کر بیچ میں کھڑا ہوگیا

“نادر پلیز اس کو کچھ مت کہنا یہ بےوقوف ہے اس میں صرف بچپنا بھرا ہوا ہے شارف سے میں ایکسکیوز کرلیتا ہوں”

مغیث نادر کا پارہ ہائی دیکھ کر مصلحتا جھکتا ہوا اس سے آہستہ آواز میں بولا کیوکہ پچھلی بار غصے میں وہ ایک لڑکے پر گولی چلاکر اسے زخمی کرچکا تھا

“نہیں تو اپنی اس کزن سے بول کے یہ شارف سے سب کے سامنے معافی مانگے”

نادر مغیث کو غصے میں دیکھ کر اسی کی طرح آہستہ آواز میں بولا،، ان کی باتیں دس قدم کے فاصلے پر بیٹھے ہوئے دوسرے لوگ نہیں سن رہے تھے جبکہ سامنے ہوتا تماشہ وہ سب دیکھ رہے تھے۔۔۔ نادر کی بات سن کر مغیث صوفیہ کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔ سنگین صورتحال کے پیش نظر اس سے پہلے کے مغیث صوفیہ سے معافی مانگنے کو کہتا صوفیہ اس سے پہلے بول اٹھی

“اگر آپ نے مجھ سے اس کو سوری کہنے کو بولا تو میں اس سے معافی مانگنے کی بجائے اس کے غلیظ چہرے پر تھوکنا پسند کروگی”

صوفیہ نڈر انداز میں نادر کی چہرے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی مغیث کا غصے اور ضبط سے اپنا سر پکڑنے کا دل کیا

“یہ صرف تیری شے ملنے پر اتنی بکواس کررہی ہے ورنہ ابھی سب کے سامنے دو منٹ میں اس کی وہ حالت کرتا کے اس کا باپ بھی یہاں آکر معافی مانگتا”

نادر کے بولنے کی دیر تھی مغیث غصے میں موقع دیکھے بغیر نادر کا گریبان پکڑ چکا تھا

“اب اگر تم نے اس کے لئے ایک بھی غلط لفظ اپنے منہ سے نکالا تو میں تمہیں یہی شوٹ کردو گا نادر”

مغیث اپنے اوپر امڈ آنے والے غصے کو کنٹرول کرتا ہوا بولا تو شارف بیچ میں بول اٹھا

“تم دونوں کو کیا ہوگیا ہے دماغ سیٹ ہے تم دونوں کا، بےکار کی بحث میں پڑ کر تم لوگ آج ضرور کوئی بےوقوف کر ڈالو مجھے نہیں پھنسنا تم لوگوں کی وجہ سے۔۔۔ اے نادر مجھے اس لڑکی کی سوری نہیں چاہے سامنے بیٹھے لوگوں پر توجہ دے اور مغیث تم اس لڑکی سے بول دو یہ واپس جاکر بیٹھ جاۓ”

شارف ان دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کرواتا ہوا بولا تو مغیث نادر کا گریبان چھوڑ کر صوفیہ کا بازو دبوچے اسے ایک سائیڈ پر لےگیا

“اگر اب تمہاری ان دونوں کے سامنے زبان چلی تو یا تم نے کوئی ایسی حرکت کی تو صوفیہ یاد رکھنا میں تمہیں یہاں سے گھر لے جانے کی بجاۓ زندہ گاڑھ کر چلا جاؤ گا”

مغیث جو تھوڑی دیر پہلے صوفیہ کے سامنے شرمندہ تھا اس وقت صوفیہ کی حرکت کی وجہ سے اسے غصے میں دھمکی دیتا ہوا بولا کیونکہ صوفیہ نہ ہی وہاں موجود حالات کو دیکھ رہی تھی اور نہ ہی صورتحال کی سنگینی سمجھ رہی تھی

“بالکل صحیح فیصلہ لیا ہے آپ نے مغیث عالم آپ کے لئے یہی بہتر ہے کہ مجھے یہی گاڑھ کر جائیے گا کیونکہ مجھ سے بالکل یہ توقع مت رکھیے گا کہ میں گھر پہنچ کر خاموش رہو گی میں آپ کا اصل چہرا سب کے سامنے دکھاؤں گی بتاؤ گی سب کو آپ کی اصلیت کہ آپ باہر کیا کرتے پھررہے ہیں”

صوفیہ مغیث کو دیکھتی ہوئی بولی۔ ۔۔۔ کچھ تھا صوفیہ کے اندر جو مغیث کو بری طرح ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا شاید اس کا دل،، مگر اب وہ اپنی آنکھوں میں آنسو لاکر اپنے آپ کو کمزور نہیں کرنا چاہتی تھی

“ٹھیک ہے جس کو جو چاہے بتانا، مگر یہاں کوئی الٹی سیدھی حرکتیں نہیں کروں گی تم”

مغیث صوفیہ کو وارننگ دیتا ہوا بولا اور اس کو وہاں موجود دوسرے لوگوں کے پاس لے جانے لگا

*****

شارف کو وہاں سے نکلے ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی وہ تمام افراد کے اے ٹی ایم کارڈز لےکر گیا تھا تاکہ مذید رقم حاصل کرسکے۔۔۔ ان تینوں میں یہی ڈیسائیڈ ہوا تھا کہ شارف کے واپس آنے کے بعد وہ تینوں ان تمام لوگوں کو یہاں سے واپس جانے دیں گے، لیکن اب نادر کچھ اور ہی سوچ کر بیٹھا تھا۔۔۔۔ باقی تمام افراد خاموش بیٹھے ہوئے تھے مغیث اور نادر نے ان سب پر نظر رکھی ہوئی تھی مغیث نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا کہ صوفیہ نے مزید کوئی بچکانہ حرکت نہیں کی تھی وہ بھی تمام لوگوں کے ساتھ خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ مغیث چاہتا تھا شارف کے واپس آنے کے بعد وہ جلد سے جلد صوفیہ کو یہاں سے لےکر نکل جائے، آگے جو بھی ہوتا ہے وہ فی الحال سوچتا نہیں چاہتا تھا

“کیا تم نے اپنی اس کزن کے بارے میں کچھ سوچا میرا مطلب ہے مجھے نہیں لگتا کہ یہ یہاں سے جانے کے بعد خاموش بیٹھے گی یہ لازمی تمہاری فیملی کو تمہارے بارے میں ضرور بتائے گی”

نادر کی بات سن کر مغیث اسے دیکھنے لگا

“آج جو کچھ ہوا بالکل بھی اچھا نہیں ہوا میں ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ اسے یا پھر میری فیملی کو میرے بارے میں پتہ چلے،، مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ گھر جاکر کیا کرتی ہے مگر اس کو گھر لے جانے کے علاوہ اور کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں،، دیکھو اب کیا ہوتا ہے”

مغیث گہری سانس کھینچتا ہوا نادر سے بولا

“ایک آئیڈیا ہے میرے پاس کیا ایسا ضروری ہے کہ تمہاری کزن یہاں سے واپس تمہارے ساتھ گھر جائے، اس کے گھر نہ پہنچنے پر ہی تمہارا راز راز رہ سکتا ہے”

نادر کی بات پر مغیب کی پیشانی پر بل پڑے

“وہ اگر گھر نہیں پہنچے گی تو کہاں لےکر جاؤں گا میں اسے اس طرح اپنی فیملی سے چھپا کر کتنے دنوں تک اسے دور رکھ سکتا ہوں میں،، میری فیملی اس کے لاپتہ ہونے پر پریشان ہوگی میں اتنا خود غرض ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اپنے آپ کو سیف رکھنے کے لیے اسے مشکل میں ڈالو یا پھر اپنی فیملی کو پریشان کرو”

مغیث کی بات نادر اب عدم دلچسپی سے سن رہا تھا اس کی ساری دلچسپی صوفیہ کے برابر میں بیٹھی ہوئی دوسری لڑکی پر تھی

“شارف کے واپس آنے میں ابھی کافی دیر ہے میں سوچ رہا ہوں تب تک کیو نہ اپنا دل بہلالیا جائے”

نادر کے بولنے پر مغیث نے اس کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے اس لڑکی کو دیکھا جو نادر کی نظروں سے گھبراتی ہوئی اپنے دوپٹے سے خود کور کررہی تھی

“نادر ان لوگوں میں سے کسی کو بھی ہماری وجہ سے نقصان نہیں پہنچنا چاہیے ان سب کو یہاں سے باحفاظت جانے دو اس کے بعد تمہیں جیسے بھی اپنا دل بہلانا ہو بہلا لینا”

مغیث کا انداز بالکل سنجیدہ تھا کیوکہ وہ نادر کی نظروں کا مفہوم اور اس کی بات کا مطلب اچھی طرح جان گیا تھا،، لیکن مغیث کو نادر پر اس لیے بھی حیرت ہورہی تھی آج سے پہلے اس نے کبھی بھی نہ ایسا ارادہ ظاہر کیا تھا اور نہ ہی کبھی کوئی ایسی اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا

“مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں یہ تمہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے دیکھ بھائی سیدھی سی بات ہے ان بوڑھی عورتوں میں مجھے ذرا بھی دلچسپی نہیں ہے باقی بچتی ہیں یہ دو لڑکیاں جن سے آدمی اپنا دل بہلانے کا سوچ سکتا ہے ایک تو تیکھی مرچ یعنی تیری کزن ہے اور دوسری جو اس کے برابر میں ڈری سہمی سے بیٹھی ہے”

نادر کی بات سن کر مغیث کا دل چاہا کہ وہ نادر کے منہ کا نقشہ بگاڑ کر رکھ مگر مغیث کے تیور دیکھ کر نادر دوبارہ بول پڑا

“اتنے غصے میں مت دیکھ مجھے، میں تیری کزن کے میرے میں ویسا کچھ نہیں سوچ رہا ہوں جبکہ بدتمیزی سے وہی پیش آئی ہے مجھ سے بھی اور شارف سے بھی۔۔۔ لیکن تیری کزن ہونے کی وجہ سے سمجھ لے اس کو بخش دیا اب رہ گئی وہ لڑکی جو اس کے برابر میں بیٹھی ہے،، اس لڑکی اور میرے بیچ میں مت آنا ورنہ بات بہت زیادہ بگڑ جائے گی پھر، کہیں یہ نہ ہو کہ بیٹھے بیٹھے اس کے بعد تیری کزن کے لیے کوئی ٹینشن بن جائے۔۔۔ چل ابھی اپنا غصہ کنٹرول کر،، جب تک میں اس لڑکی کو دیکھ لو پھر بعد میں تجھے بھی چانس دوں گا تب تک تو یہاں سب لوگوں پر نظر رکھ”

نادر اس کو بولتا ہوا آٹھ گیا

“اے لڑکی تم یہاں آؤ”

نادر بولنے کے ساتھ صوفیہ کے برابر میں بیٹھی ہوئی اقراء کو اشارہ کر کے اپنے پاس بلانے لگا وہ نادر کے بلانے پر خوفزدہ ہوگئی۔۔ ٹینشن ذدہ ماحول میں اچانک مزید ٹینشن بڑھ گئی سب لوگ خاموشی سے اقراء کو دیکھنے لگے اقرا ڈر کے مارے نادر کو دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی جس پر نادر غصے میں اقراء کے پاس آیا اور اس کو زبردستی اٹھانے لگا

“پلیز مجھے چھوڑ دو”

اقراء روتی ہوئی نادر سے بولی صوفیہ امید بھری نظروں سے مغیث کی طرف دیکھنے لگی جو چند قدم کے فاصلے پر خاموش کھڑا تماشا دیکھ رہا تھا

“ظالم مت بنو کچھ تو خدا کو خوف کھاؤ چھوڑ دو اس بچی کو اس نے تمہارا کیا بگاڑا ہے”

سر کمال ہمت کرتے ہوئے کھڑے ہوکر نادر سے بولے مگر نادر اقراء کے رونے کی پرواہ کئے بغیر اسے گھسیٹتا ہوا لےکر وہاں سے جانے لگا۔۔ سر کمال کی بات سن کر نادر نے زور دار تھپڑ ان کے گال پر رسید کیا

“تمہیں کس نے مشورہ دیا ہے یہاں کھڑے ہوکر اس کی وکالت کرنے کے لیے، بیٹھ جاؤ اپنی جگہ پر نہیں تو یہی ٹھوک ڈالوں گا۔۔۔ او آنٹی تمہیں کیوں رونا آرہا ہے آنسوں صاف کرو اپنے اگر کسی کی بھی آواز یا آنسو نکلے تو مار ڈالوں گا میں اسے”

نادر سب کی طرف دیکھ کر دھمکاتا ہوا سر کمال کو دھکا دے کر اقراء کو چار دیواری کے اطراف سے باہر لےگیا۔۔۔ خوف کے مارے کسی نے بھی کچھ بھی بولنے کی ہمت نہیں کی،، صوفیہ ایک بار پھر روتی ہوئی مغیث کو بےحد افسوس سے دیکھنے لگی جو اس وقت بناء کسی تاثر کے پتھر بنا خاموش کھڑا کسی گہری سوچ میں گم تھا۔۔۔ فضا میں یکدم اقرا کی چیخ کی آواز سنائی دی تو مغیث ایک دم ہوش میں آیا اور تیزی سے بھاگتا ہوا چار دیواری کے اطراف سے باہر نکلا

“سوچ کیا رہے ہو تم سب، یہی موقع ہے یہاں سے بھاگنے کا ورنہ یہ وحشی لوگ دوبارہ یہاں آگئے تو ایک ایک کرکے ہم سب کو مار ڈالیں گے اٹھو اور بھاگو”

ڈرائیور نے وہاں بھاگنے سے پہلے سب لوگوں کو بولا تو صوفیہ کے علاوہ سب نے بھاگنا شروع کردیا

*****

“خاموش ہو جاؤ ورنہ مار ڈالوں گا تمہیں یہی”

نادر اقراء کے رونے اور احتجاج کرنے پر اس کو دھکا دیتا ہوا بولا جس سے وہ نیچے زمین پر گری، سر پہ پتھر لگنے کی وجہ سے دلخراش چیخ اس کے منہ سے بلند ہوئی،، اس کے سر سے خون جاری ہونے لگا جو وہ اپنے دوپٹے کو سر پر رکھ کر روکنے لگی

“نادر اس لڑکی کو چھوڑدو ورنہ میں تمہارا ذرا بھی لحاظ نہیں کروں گا، اگر تمہیں یہی بےغیرتی دکھانی ہے تو ان لڑکیوں کے سامنے دکھاؤ جو اپنی مرضی سے خوش ہوکر تمہاری بغیرتی کو برداشت کرلیں اس لڑکی کو یہاں سے جانے دو”

اپنے پشت پر مغیث کی آواز پر نادر ایک دم مڑا

“تو یہاں کیا کررہا ہے،، ابے وہ سب لوگ۔۔۔۔ تو انہیں ایسے ہی چھوڑ کر یہاں آگیا مغیث”

نادر غصے میں مغیث کو دھکا دیتا ہوا وہاں سے دوڑا

“پلیز خدا کا خوف کھاؤ تم لوگ،، میں نے کیا بگاڑا ہے تم لوگوں کا۔۔۔ مجھے یہاں سے جانے دو”

اقراء روتی ہوئی مغیث کے آگے ہاتھ جوڑنے لگی

“اٹھو نیچے سے یہاں سے سیدھا چلتی ہوئی جاؤ تھوڑی دور جاکر لیفٹ سائیڈ پر شلٹر کے پاس میری کار موجود ہے اس میں جاکر بیٹھو میں صوفیہ کو لےکر آتا ہوں”

مغیث اس لڑکی سے بولا مگر سر پر چوٹ لگنے کی وجہ سے یا خوف کی وجہ سے وہ لڑکی بےہوش ہوچکی تھی